Friday, 7 April 2017

فرائض، سنتیں یا نوافل


فرائض، سنتیں یا نوافل



میرے عزیز اگر خواہش اور کوشش کے باوجود نماز کا اہتمام نہیں کر پاتے تو صرف فرائض ادا کرلو. فرائض کی پابندی ہونے لگے تو پھر سنتیں یا نوافل بھی پڑھ لیا کرنا. یاد رکھو کہ مواخذہ صرف فرائض کی عدم ادائیگی پر ہوگا. باقی نوافل یا اضافی نمازیں لازمی نہیں ہیں. ایک صحیح حدیث کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ ایک بدو نے کہا کہ وہ صرف اور صرف فرض عبادات کا اہتمام کرے گا جیسے فرض نماز، روزہ اور زکوٰۃ. اس کے علاوہ کوئی نفل نہ پڑھے گا تو اس کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ اکرام کے سامنے یہ تبصرہ فرمایا کہ "جسے یہ بات بھاتی ہو کہ وہ اہل جنت میں سے ایک آدمی کو  دیکھے تو وہ اسے دیکھ لے۔‘‘ سوچو فرض پڑھنے میں صرف پانچ منٹ مشکل سے لگیں گے. اگر کوشش کے باوجود فجر یا کوئی اور نماز رہ جاتی ہے تو دن میں وقت ملتے ہی اسکی قضاء ضرور پڑھ لیا کرو. اگر یہ بھی نہیں ہو پارہا تو چار وقت کی نماز پڑھ لو. تین، دو یا ایک وقت کی جو بھی ممکن ہو وہ نماز پڑھ لو. چاہے ایک وقت ہی کی نماز کیوں نہ ہو مگر پڑھنا شروع کرو اور مکمل ترک نہ کرو. بس اس ایک وقت کی روز پابندی کرلو. باقی کیلئے کوشش اور دعا کرتے رہو مگر جب تک نہ ہو تب تک جتنا پڑھ پارہے ہو، اتنا ضرور پڑھو. اگر میرے بھائی اتنا بھی ممکن نہیں ہو پارہا تو قران حکیم کی تلاوت و ترجمہ پڑھتے رہو کہ قران کا پیغام خود دل کی دنیا بدل دیتا ہے. یہ بھی نہیں تو زبان سے کوئی آسان سا ذکر کرتے رہو جو تمھیں تمھارےرب سے جوڑے رکھے. ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض کی کہ اسلام کے احکام میرے لئے بہت زیادہ ہیں مجھ کو ایسا عمل بتائیں جس پر میں پابندی سے عمل کروں،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
.
لا يزال لسانك رطبا من ذكر اللہ
یعنی تمہاری زبان ہمیشہ اللہ کے ذکر سے تر بہ تر رہے۔
(جامع الترمذی صفحہ 372)
.
 یاد رکھو کہ تم تھوڑی سی کوشش یا عزم دیکھاؤ گے تو ان شاء اللہ رب تعالیٰ تمہارے لئے باقی عمل آسان کرتے جائیں گے. شیطان کے جھانسے میں نہ آؤ جو تمہیں منافقت کا طعنہ دے کر سمجھاتا ہے کہ اتنی سی نیکی کا کیا فائدہ؟ سورہ زلزال کی اس آیت کو یاد رکھو ".. جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہو گی وہ اسے دیکھ لے گا۔ اور جس نے ذرا بھر برائی کی ہو گی وہ اسے دیکھ لے گا". یقین کیجیئے کہ آپ کا رب آپ کو ہرگز ہرگز جہنم میں نہیں ڈالنا چاہتا. وہ تو معاف کرنے کو پسند کرتے ہیں، وہ تو کسی بہانے تمہیں معاف کردینا چاہتا ہے. بس تم بھی سرکش نہ بنو اور رجوع کی جتنی ممکن ہو کوشش و دعا کرتے رہو. سفر اگر ہزار میل کا بھی ہو تو آغاز ایک قدم ہی سے ہوتا ہے اور سفر کیلئے نکل پڑنا یعنی پہلا قدم اٹھانا ہی سب سے اہم ہے. اللہ پاک ہم سب بھائی بہنوں کو تمام فرائض ادا کرنے والا بنائے اور پھر نوافل کا بھی شوق عطا کرے. آمین
.
 نوٹ: دھیان رہے کہ اس تحریر کا مقصد یہ نہیں کہ آپ فرائض یا نوافل کی اہمیت کو کم سمجھنے لگیں یا فرائض کی عدم ادائیگی کو قابل مواخذہ نہ سمجھیں بلکہ مقصود اتنا ہے کہ آپ کم از کم فرائض کی بجاآوری کا آغاز کردیں اور پھر اپنے رب کی رحمت سے پرامید رہیں. 
.
 ====عظیم نامہ====

No comments:

Post a Comment