Thursday, 27 April 2017

دو اقوال


دو اقوال



جو عبادت عابد کو اطاعت پر مجبور نہ کرے وہ دھوکہ ہے .. اور جو اطاعت مطیع کو عبادت کا شوق نہ دے وہ سراب 
.
====عظیم نامہ====
.
 نوٹ: یہاں عبادت سے مراد نماز، روزے وغیرہ کے ظاہری مظاہر کو لیا گیا ہے. اپنی اصل میں لفظ عبادت کے معنی بہت وسیع ہیں جو مومن کی چوبیس گھنٹے پر محیط ہوتے ہیں.





سلیم المزاج اور حکیم العقل وہی ہے جو فطرت سلیمہ کی روشنی باطن سے اور وحی الٰہی کا نور خارج سے کشید سکے. 
.
 ====عظیم نامہ====


ورکنگ انوائیرومننٹ

ورکنگ انوائیرومننٹ



گزرتے زمانے نے جہاں انسان کی زندگی کے اٹھنے بیٹھنے، رہنے سہنے، مشاغل و مصروفیات کو بدل ڈالا ہے. وہاں جاب یا 'ورکنگ انوائیرومننٹ' میں بھی بڑی نمایاں تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں. پرانی نسل جن عادات و اطوار کو جاب پر کامیابی کی ضمانت سمجھتی تھی یا جن باتوں کے حصول کو مضبوطی کا معیار مانا کرتی تھی، اب تیز زمانے کے سرد و گرم میں وہ عوامل یکسر بدل چکے ہیں. ان ہی بدلتے معیارات میں سے دو اہم نکات درج ذیل ہیں:
.
١. وہ زمانہ چلا گیا جب ایک ہی جگہ نوکری پر ساری زندگی گزار دینے کو مضبوطی سمجھا جاتا تھا. اب مزاج یہ ہے کہ چند سال ایک جگہ گزار کر دوسری نوکری پر بہتر کیرئر اور پیسوں کے حصول کیلئے سوئچ کیا جائے. اس طرح نہ صرف تنخواہ میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے بلکہ نئی چیزیں سیکھنے کو ملتی ہیں جس سے تجربہ وسیع تر ہوتا جاتا ہے. یاد رکھیں کہ ایک ہی کمپنی میں رہتے ہوئے تنخواہ اور عہدے میں ترقی نہایت سست ہوتی ہے.
.
٢٢. وہ دن چلے گئے جب ایک محنتی انسان یہ سوچتا تھا کہ زیادہ محنت کروں گا تو باس خود ہی اسے سراہے گا اور مجھے ترقی دے گا. نئے ورکنگ انوائرنمنٹ میں اصول یہ ہے کہ "اگر حق مانگو گے نہیں تو ملے گا بھی نہیں". گویا ضروری ہے کہ ایک عقلمند ورکر اگر یہ دیکھے کہ اسے اپنے حق کی ترقی نہیں مل رہی تو خود آگے بڑھ کر اپنے باس سے ترقی، اضافہ یا بونس کا تقاضہ کرے. جواب میں یا تو آپ کا تقاضہ کسی درجے پورا ہو جائے گا. نہیں تو دوسری جاب کے آپشنز پر نظر رکھیں. 
.
 ====عظیم نامہ====

احسان اللہ احسان


 احسان اللہ احسان



سوال:
 آپ کا کیا خیال ہے کہ احسان اللہ احسان کو معاف کردینا چاہیئے؟ میری نظر میں تو بلکل معاف کردینا چاہیئے کیونکہ طریقہ غلط ہو سکتا ہے مگر ان کا جذبہ قابل قدر ہے. آپ کا کیا خیال ہے؟
.
جواب:
 کسی ایک معصوم کے قتل کو بھی اسلئے معاف نہیں کیا جانا چاہیئے کہ قاتل کا اپنی دانست میں ارادہ اچھا تھا. پھر یہاں تو معاملہ سینکڑوں ہزاروں کا ہے.
.
 لہٰذا مکمل معافی کو تو خارج از امکان ہونا چاہیئے. گو یہ عدالتی اور حکومتی اداروں کی صوابدید پر منحصر ہے کہ وہ احسان کو سب سے آخری قانونی سزا یعنی سزائے موت دیتے ہیں (جس کا اصولی طور پر وہ مستحق ہے) یا احسان کو عمر سزا سنا کر دوسرے تحریک طالبان پاکستان کے لیڈروں کو سرینڈر کیلئے ابھارتے ہیں. احسان کو زندہ رکھ کر اس سے طالبانی نفسیات اور ان کی مستقبل کی ممکنہ اسٹریٹجیز کو بھی بہتر طور پر سمجھا جاسکتا ہے. جس سے مستقبل میں ان کے خلاف کاروائی کو مزید مؤثر بنایا جاسکے. گو کون سی سزا دی جائے؟ اس کا بہترین فیصلہ وہی ادارے کرسکتے ہیں جو مجھ سے اور آپ سے کہیں بہتر صورتحال کا ادراک رکھتے ہیں. واللہ اعلم بلصواب 
.
 ====عظیم نامہ====

Tuesday, 25 April 2017

منٹو ایک فحش گو یا حقیقت نگار


منٹو ایک فحش گو یا حقیقت نگار



سوال : سعادت حسن منٹو، کرشن چندر، عصمت چغتائی وغیرہ صرف پیسے کمانے کے لیے فحش گوئی کرتے تھے؟ ان کے کیا مقاصد تھے؟
.
 جواب : ان نثر نگاروں نے جھوٹ نہیں لکھا سچ لکھا ہے مگر مجھ جیسے افراد کو ان کے بیان کا طریق پسند نہیں. جس طرح حسن نثار بھی اکثر سچ کہتے ہیں مگر وہ حالات کو صرف ایک مایوس زاویئے ہی سے دیکھنے پر قادر ہیں. اسی طرح منٹو جیسے نثرنگاروں نے زندگی کو غسل خانے کی روزن سے دیکھا ہے لہٰذا انہیں جو بھی نظر آتا ہے، بناء کپڑوں کے ہی نظر آتا ہے. 
.
 گو یہ میرا ذاتی زاویہ نظر ہے، جس سے بہت سے لوگ یقینی اختلاف رکھتے ہیں. ان اذہان کی بھی کمی نہیں جو حسن نثار صاحب کی اپروچ کو ہی درست سمجھتے ہیں اور نہ ہی ان احباب کی قلت ہے جو منٹو کے اسلوب تحریر کو اصلاح کیلئے بہترین مانتے ہیں.
.
 ====عظیم نامہ====

Thursday, 20 April 2017

بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی بداخلاقی


بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی بداخلاقی



یہ افسوسناک امر ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ایک تعداد ایسی بھی ہے جو مغربی ممالک میں ہر جائز و ناجائز قانون کی تو مسکرا مسکرا کر پاسداری کرتے ہیں. مگر جیسے ہی پاکستان جانے کیلئے 'پی آئی اے' کے جہاز میں داخل ہوتے ہیں یا پاکستانی ایئر پورٹ پر اترتے ہیں تو لگتا ہے ان سے بڑی نواب کی اولاد کوئی نہیں. بدتمیزی سے پاکستانی اسٹاف کے ساتھ بات کرنا، بلاوجہ انگریزوں سے زیادہ انگریزی جھاڑنا، نظم و ضبط کی شکایت کر کے پھنکاریں مارتے رہنا (جیسے کبھی پاکستان میں رہے ہی نہ ہوں)، بات بات پر عملے سے الجھنا اور اچانک اپنی صفائی پسندی بھول کر گند پھیلانا ان کی حرکات  سے صاف ظاہر ہوتا ہے. یہی افراد جب ملک پہنچ جاتے ہیں تو ہر قانون اور سگنل توڑتے ہوئے تیز گاڑی چلاتے ہیں، اپنے مختلف کاموں کیلئے دو نمبر ڈاکومینٹس بنواتے ہیں اور پھر اپنے احباب میں بیٹھ کر عالمانہ تجزیئے کرتے ہیں کہ کیسے فلاں ملک زبردست ہے؟ اور کیوں پاکستان کا کچھ نہیں ہوسکتا؟ 
.
 بحیثیت ایک بیرون ملک مقیم پاکستانی کے جب میں یا میرے جیسے دوسرے محب وطن پاکستانی ان جیسے افراد کے رویوں کو دیکھتے ہیں، جن کا ذکر پوسٹ میں ہوا ہے تو خون کھول اٹھتا ہے. آج 'ایف آئی اے' کی جانب سے ریلیز کردہ اس ویڈیو کو دیکھنے کا اتفاق ہوا. جس میں ناروے سے آنے والی کچھ پاکستانی نژاد نارویجین عورتیں آخری درجے میں عملے سے بدتمیزی کررہی ہیں اور ان کی ایک سننے کو تیار نہیں ہیں. بلکہ اگر بڑھ کر کبھی ضبط کردہ موبائل چھین رہی ہیں اور کبھی ایک خاتون اسٹاف کے ہاتھ پکڑ کر جھٹک رہی ہیں. میں آپ کو اطمینان دلاتا ہوں کہ اگر یہی حرکت ان عورتوں نے کسی مغربی ملک میں کی ہوتی تو ان کی ایسی کی تیسی کر کے پولیس لے جاتی. امریکہ ہوتا تو الیکٹرک شاک مار کر گرایا جاتا اور یورپ ہوتا تو فرش پر منہ کے بل پھینک کر ہاتھ باندھ دیئے جاتے. بہت ممکن ہے کہ سفر پر پابندی لگتی، جیل ہوتی یا تگڑا جرمانہ لگتا. یہاں یہ غلط فہمی بھی دور کرلیں کہ امریکہ اور یورپ وغیرہ میں ہمیشہ مسافروں کے ساتھ درست وجوہات کی بنیاد پر ہی کاروائی ہوتی ہے. ہرگز نہیں بلکہ بلاوجہ شک یا کسی بھی بیکار بات کو وجہ بنا کر آپ کو روکا بھی جاسکتا ہے، آپ کا کوئی سامان عارضی یا مستقل ضبط بھی ہوسکتا ہے اور آپ کو گھنٹوں انتظار بھی کروایا جاسکتا ہے. کسی بھی صورت میں مسافر یہ حماقت نہیں کرتا کہ عملے پر چڑھائی کردے. اسے خوب معلوم ہوتا ہے کہ ایسا کرنے پر اس کا کیا حشر ہونا ہے. اس سے قطع نظر کہ غلطی اس کی ہے یا اسٹاف کی. 
.
 ====عظیم نامہ====

درود پر اعتراض


درود پر اعتراض



سوال:
 سر، غیر مسلموں کی جانب سے درود شریف پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ جب ابراہیم علیہ السلام و آل ابراہیم پر رحمت و برکت کی دعا کر دی گئی تو اس میں رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی آل ازخود آ جاتی ہے. اس کا الگ سے ذکر ظاہر کرتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آل ابراہیم سے نہیں ہیں. براہ مہربانی جواب عنایت فرمائیں.
.
جواب:
 یہ خصوصیت کا بیان ہے. جیسے میں دعا کروں کہ اللہ پاک تمام امت مسلمہ کے گناہوں کو معاف فرمادیں اور پھر خصوصیت سے یہ بھی کہوں کہ یا اللہ مجھ گنہگار کے گناہ بھی معاف کردیں اور میرے گھر  والوں کو بھی بخش دیں.
اب ایسے میں کوئی عقلمند اٹھے اور فرمانے لگے کہ جب امت مسلمہ کے گناہوں کی معافی مانگ لی تھی تو آپ اور آپ کا گھر اس میں شامل تھا. پھر اپنا یا گھر والو کا ذکر خصوصیت سے کیوں کیا؟ .. ایسے اعتراض پر سر پکڑنے کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے؟ 
.
 یہ پہلو بھی ملحوظ رہے کہ اسلام کو دین ابراہیمی سے تعبیر کیا جاتا ہے. حج ہو یا قربانی ہم مختلف طریق سے سنت ابراہیمی سے اپنا تعلق جوڑتے ہیں، انہیں یاد کرتے ہیں. درود ابراہیمی میں اسی نسبت اور تعلق کا اظہار ہوتا ہے. 
.
 ====عظیم نامہ====

Wednesday, 19 April 2017

درود ابراہیمی پر سوال و جواب

درود ابراہیمی پر سوال و جواب




١. درودِ ابراہیمی قرآن شریف کی کس سورت میں ہے؟
.
جواب: احادیث کریمہ تو اس باب میں بکثرت مروی ہیں اور قرآن کریم میں ارشادِ ربانی ہے:
.
ان اللہ وملٰٓئکتہٗ یصلون علی النبی یآ یھا الذین اٰمنو ا صلو ا علیہ وسلمو ا تسلیماo
.
ترجمہ: بے شک اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اس غیب بتانے والے (نبی) پر، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود اور خوب سلام بھیجو‘‘۔
.
درود ابراہیمی سمیت کوئی دوسرا درود قران حکیم میں بیان نہیں کیا گیا بلکہ اس کا مفصل بیان احادیث مبارکہ میں ملتا ہے. یہ ایسا ہی ہے جیسے قران حکیم میں قیام، رکوع و سجود کا اصولی حکم دیا گیا ہے مگر یہ تینوں افعال کرتے کیسے ہیں؟ اس کا بیان احادیث یا سنت سے حاصل ہوتا ہے. 
.
٢. درودِ ابراہیمی صحاحِ ستہ میں سے کس کتاب میں ہے؟ کیا درودِ ابراہیمی بخاری شریف میں موجود ہے؟
.
جواب: صحیح بخاری اور صحیح مسلم دونوں میں موجود ہے. گویا صرف صحیح حدیث ہی نہیں ہے بلکہ اسے متفق علیہ کا مقام بھی حاصل ہے. تفصیل کیلئے دیکھیئے 
.
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى، قَالَ لَقِيَنِي كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ فَقَالَ أَلاَ أُهْدِي لَكَ هَدِيَّةً، إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ عَلَيْنَا فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ عَلِمْنَا كَيْفَ نُسَلِّمُ عَلَيْكَ، فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ قَالَ ‏"‏ فَقُولُوا اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ ‏"‏‏.‏ بخاری ٦٣٥٧
.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے بیان کیا ، کہا ہم سے حکم بن عتبہ نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے سنا ، کہا کہ کعب بنعجرہ رضیاللہعنہ مجھ سے ملے اور کہا کہ
میں تمہیں ایک تحفہ نہ دوں ؟ ( یعنی ایک عمدہ حدیث نہ سناؤں ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم لو گوں میں تشریف لائے تو ہم نے کہا یا رسول اللہ ! یہ تو ہمیں معلوم ہو گیا ہے کہ ہم آپ کو سلام کس طرح کریں ، لیکن آپ پر درود ہم کس طرح بھیجیں ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس طرح کہو ۔ اللهم صل على محمد ، ‏‏‏‏ وعلى آل محمد ، ‏‏‏‏ كما صليت على آل إبراهيم ، ‏‏‏‏ إنك حميد مجيد ، ‏‏‏‏ اللهم بارك على محمد ، ‏‏‏‏ وعلى آل محمد ، ‏‏‏‏ كما باركت على آل إبراهيم ، ‏‏‏‏ إنك حميد مجيد ‏ ” اے اللہ ! محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر اپنی رحمت نازل کر اور آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ، جیسا کہ تو نے ابراہیم پر رحمت نازل کی ، بلاشبہ تو تعریف کیا ہوا اور پاک ہے ۔ اے اللہ ! محمد پر اور آل محمد پر بر کت نازل کر جیسا کہ تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر برکت نازل کی ، بلاشبہ تو تعریف کیا ہوا اور پاک ہے ۔
.
یہاں یہ بھی یاد رہے کہ آیت مبارک میں درود کے ساتھ ساتھ سلام پڑھنے کا بھی حکم ہے. جس کا بیان قران مجید نے خود کردیا ہے (التحیات ..). لیکن کس وقت پڑھنا ہے؟ اس کا بیان بھی بخاری کی حدیث میں موجود ہے. 
.
٣. کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں درودِ ابراہیمی پڑھا ہے؟ جواب اگر ہاں ہے تو اس کا حوالہ دیجیے۔
.
جواب: اس کا بیان نسائی اور مسند ابو عوانہ کے حوالے سے بیان ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی دوران نماز سلام پھیرنے سے قبل خود پر درود بھیجتے تھے (دعا کرتے تھے). گو مجھے اس کا ریفرنس حاصل نہیں. اگر اس سے تشفی نہ ہو تو یہاں یہ یاد کیجیئے کہ آیت میں کہا گیا ہے "بے شک اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں" جس طرح اللہ رب العزت کا درود بھیجنا ہمارے درود بھیجنے سے مختلف ہے، اسی طرح رسول صلی اللہ علیہ وسلم اگر کچھ مختلف الفاظ سے اپنے لئے درود یعنی دعا کرتے ہوں تو کوئی حیرت کی بات نہیں. وہ الفاظ اگر مختلف بھی ہوں اور ہمارے علم میں نہ ہوں تب بھی اس سے ہمارا درود پڑھنا متاثر نہیں ہوسکتا. ہم مسلمانوں کو تو درود کےالفاظ سیکھا دیئے گئے ہیں 
.
٤. کس کس صحابی نے نماز میں درودِ ابراہیمی پڑھا ہے؟
.
جواب: یہ عملی و قولی تواتر سے ہم تک پہنچا ہے جو ازخود دین میں ایک قطعی حجت ہے. گویا تمام صحابہ رضی اللہ اجمعین نے اس کا اہتمام کیا. اگر کسی کو لگتا ہے کہ صحابی یہ نہیں کرتے تھے تو اسے ثبوت پیش کرنا ہوگا. ہم نے تو صحیح بخاری و مسلم کی متفقہ علیہ حدیث کو پیش کردیا ہے، جس میں صحابہ کو تلقین کردی گئی ہے کہ وہ درود کن الفاظ سے پڑھیں. دیگر کتب کا بیان اس کی تصدیق میں اضافی موجود ہے. 
.
٥. درودِ ابراہیمی سب سے پہلے کس کتاب میں لکھا گیا؟
.
جواب: جب اجماع علماء و امت کے حساب سے احادیث صحیحہ کی مستند ترین کتب میں موجود ہے تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ سب سے پہلے کس کتاب میں ذکر ہوا؟ اس کے لئے صحیفہ ہمام بن منبہ یا موطا ابن مالک وغیرہ کو دیکھنا ہوگا. مگر چونکہ یہ سوال ہی عبث ہے لہٰذا میں مشقت نہیں کرنا چاہوں گا 
.
٦. درودِ ابراہیمی نماز میں کب شامل کیا گیا اور کس نے شامل کیا؟
.
جواب: رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے شامل کیا. انہوں نے ہی مکمل نماز مسلمانوں کو سکھائی ہے. صراحت اپر کے جوابات میں موجود ہے.
.
====عظیم نامہ====

Thursday, 13 April 2017

مشعل خان


 مشعل خان



اسے درندگی کہوں؟ ... نہیں یہ الزام میں انہیں کیسے دے سکتا ہوں ؟ .. درندے تو اتنے سفاک نہیں ہوا کرتے. کسی انسان کو گستاخ قرار دے کر اسے ڈنڈوں سے مار مار کر قتل کردیا جاتا ہے. اس کا سر ضربوں سے کچل دیتے ہیں. جسم کے ہر ایک حصے کو لہولہان کردیتے ہیں. پھر اس کے کپڑے پھاڑ دیتے ہیں مگر دل ابھی بھی نہیں بھرتا، جذبہ ایمانی کی تسکین ابھی بھی نہیں ہوتی لہٰذا مجمع میں گھسیٹ لاتے ہیں. پھر اس کی لاش کو پیروں سے روندتے ہیں اور باجماعت نعرے لگاتے ہیں اللہ اکبر ! اللہ اکبر ! 
 کیا کہوں اسے؟ حب رسول؟ اسلام؟ .. نہیں یہ میں نہیں کہہ سکتا. میں اسے اسلام نہیں مان سکتا. قطعی نہیں. اول تو آج کی تاریخ میں اس کا کوئی ثبوت نہیں مگر اگر مشعل خان گستاخ تھا تب بھی میری آنکھ آج اس نوجوان کے دردناک سفاکانہ قتل پر اشکبار ہے. کیا ان متقین کی نظر میں مجھے بھی گستاخ قرار دے دیا جائے گا؟ عدالت جانے کی بجائے اس مجمع نے کسی کی جان اتنی سفاکیت سے تلف کرکے اور اسکی لاش کی ایسی بے حرمتی کرکے بدترین جرم کا ارتکاب کیا ہے. اس افسوسناک بلکہ شرمناک واقعہ پر تین اقدامات لازمی کرنے چاہیئے
.
١١. اس سفاکیت کے ذمہ دار ایک ایک مجرم کو سخت ترین سزا دی جائے. 
.
٢٢. اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ کسی گروہ کو یہ اجازت نہ دی جائے کہ وہ ان مجرمین کو عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم بنا کر پیش کرنے لگیں. 
.
٣٣. علماء آگے بڑھ کر ایسے شدت پسند بلکہ نفسیاتی رویوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کریں اور صرف مذمت تک محدود نہ رہیں بلکہ مسلسل منبروں اور میڈیا کے ذریعے قوم کی تربیت کریں کہ ایسا کوئی بھی اقدام شدید جرم ہے. 
.
 ====عظیم نامہ====

Wednesday, 12 April 2017

فارن کوالیفائڈ


فارن کوالیفائڈ 



یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں کراچی کی ایک یونیورسٹی میں کمپیوٹر انجینئرنگ کا طالبعلم تھا. میرا ایک دوست، طالبعلم ہونے کے ساتھ ساتھ آئی ٹی کے معروف کالج میں ایک مخصوص مضمون کو پڑھاتا بھی تھا. ایک روز ہم دونوں کسی تقریب میں شرکت کو جارہے تھے جب اس نے مجھ سے کہا کہ دس منٹ کیلئے اسے کالج لے جاؤں تاکہ وہاں سے وہ اپنا کچھ سامان اٹھالے. چانچہ ہم دونوں کالج پہنچے اور جیسے ہی اندر داخل ہوئے تو دیکھا کہ کالج کا ڈائریکٹر اور دیگر منتظمین انتہائی پریشان بیٹھے ہوئے ہیں. پوچھنے پر معلوم ہوا کہ آج ایک مشکل کمپیوٹر کے مضمون کی انتہائی اہم کلاس تھی. جسے ملتوی کرنا کسی طور درست نہیں ہے. سب اسٹوڈنٹس کلاس میں موجود ہیں مگر استاد کسی وجہ سے نہیں آپایا ہے. اب سمجھ نہیں آرہا کہ کیسے سنبھالیں؟ دوست نے اس مضمون کی کتاب اٹھائی، وہ خاص سبق نکالا جو اس دن پڑھایا جانا تھا. کوئی دس سے پندرہ منٹ منہمک ہو کر اسے پڑھا اور کلاس میں پڑھانے کو داخل ہونے لگا. میں نے گھبرا کر اسے روکا کہ کیسے کرو گے؟ تو اس نے کھلکھلاتے ہوئے کہا کہ 'عظیم میں فارن کوالیفائڈ انسان ہوں، تم مجھے ہلکا لے رہے ہو.' یہ کہہ کر وہ کلاس میں داخل ہوگیا. میں بھی دبک کرایک کونے میں بیٹھ گیا. یہ سوچتے ہوئے کہ اب شامت ہے. یہ کوئی اسکول کے بچے نہیں تھے جنہیں کوئی بھی پڑھا کر بیوقوف بنا دے. کلاس شروع ہوئی تو دوست نے اعتماد سے سبق پڑھانا شروع کیا. کلاس نہایت دھیان سے اسے سن رہی تھی. میں سارا وقت جائزہ لیتا رہا کہ کہاں وہ اسٹوڈنٹس کو بیوقوف بناتا ہے؟ مگر حیرت انگیز طور پر اس نے عمدگی سے اسے سبق کو پوری طرح سمجھا دیا. کلاس برخواست ہوئی اور دوست مسکراتا ہوا میرے پاس آگیا.
.
 میں نے بھی مسکرا کر اسکی پیٹھ تھپتھپائی اور سرگوشی کی کہ باقی سب تو ٹھیک ہے مگر یہ بتاؤ کہ تم کب سے فارن کوالیفائڈ ہوگئے؟ ... اس نے چٹکی بجاتے ہوئے آنکھ ماری اور جواب دیا "فارن کوالیفائڈ نہیں ! فوراً کوالیفائڈ .. فوراً فوراً کوالیفائڈ " ہم دونوں نے قہقہہ مارا اور کالج سے باہر آگئے. آج سوچتا ہوں کہ اس نے اتنے پروفیشنل اسٹوڈنٹس کو بناء تیاری اسلئے پڑھا لیا تھا کہ کمپیوٹرز کی تعلیم میں اسکی بنیاد مظبوط تھی. یہی وجہ تھی کہ اس نے اس سبق کو بھی نہایت تیزی سے سمجھ لیا جسے فقط دس منٹ پڑھا تھا. کم و بیش یہی معاملہ علم کے ہر شعبے میں ہے. جو احباب ادب کی کسی ایک بھی صنف کی تعلیم یا اس سے شغف رکھتے ہیں. ان کے لئے ادب کی دیگر اصناف کو سمجھنا آسان ہوجاتا ہے. اسی طرح جب آپ دین کی بنیادی تعلیم میں پختہ ہوجاتے ہیں تو دیگر دینی مسائل کو سمجھنا اور اس پر موجود آراء کا تقابل بھی نسبتاً آسان ہوجاتا ہے. میں یہ ہرگز نہیں کہہ رہا کہ آپ کوئی مجتہد بن جائیں گے. ایسا سمجھنا تو سراسر حماقت ہے. مگر ہاں یہ ضرور ہے کہ اگر قران حکیم، اصول الفقہ، اصول الحدیث وغیرہ کی بنیادی تعلیم آپ کو حاصل ہو تو کسی عام فرد سے دس گنا زیادہ تیزی و گہرائی سے آپ دین کے تفصیلی موضوعات کو سمجھ پاتے ہیں اور مجتہدین یا فقہاء کی آراء کا فہم حاصل کرپاتے ہیں. میرا احساس ہے کہ اگر اخلاص نیت ہو تو جس بنیادی تعلیم کا میں ذکر کررہا ہوں وہ چھ مہینے یا سال میں حاصل کی جاسکتی ہے. ہم سب جو ساری زندگی پوری تگ و دو سے سائنس، فلسفے، لسانیات، معاشیات وغیرہ کی تعلیم حاصل کرتے ہیں. کاش کہ ہمیں یہ توفیق بھی ہو کہ زندگی کا ایک سال یا چھ مہینہ ہی پورے اخلاص سے دین کی بنیادوں کو سیکھنے میں صرف کرسکیں. 
.
 ====عظیم نامہ====

Monday, 10 April 2017

فیس بک ری ایکشن


فیس بک ری ایکشن



ایک آدمی تھا جو کسی کے جنازے پر جاتا تو زور زور سے ہنسنے لگتا. 
ایک عورت تھی جو کسی کی اولاد پیدا ہونے پر جاتی تو مبارکباد کی بجائے صدمے سے رونے لگتی. 
ایک لڑکا تھا جو کسی کو اچھی بات کہتے سنتا تو غصہ سے آگ بگولہ ہوجاتا.
ایک لڑکی تھی جو کوئی ناپسندیدہ چیز دیکھتی تو اس پر خوب واہ واہ کرتی. 
.
 یہ پڑھ کر کچھ عجیب سا محسوس ہوا؟ کچھ احمقانہ سا لگا؟ تھوڑی حیرت سی ہوئی؟ مذکورہ افراد کچھ نفسیاتی سے لگے؟
.
 بلکل ایسا ہی ایک فیس بک کے لکھاری کو محسوس ہوتا ہے، جس کی کسی تکلیف دہ تحریر پر کوئی قاری ہنسنے والا تاثر (فیس بک ری ایکشن) دیتا ہے. یا اس کی کسی مزاح سے مزین تحریر پر رونے والا تاثر (فیس بک ری ایکشن) دے جاتا ہے. یا اس کی کسی اصلاحی تحریر پر غصہ والا تاثر (فیس بک ری ایکشن) چھوڑ جاتا ہے. یا پھر کسی ناپسندیدہ شے کے بیان والی تحریر پر واہ واہ کرنے والا تاثر (فیس بک ری ایکشن) دے ڈالتا ہے. 
.
 فیس بک نے یہ تاثرات لائیک کے ساتھ ساتھ اسلئے شامل کئے تھے کہ لوگ اسکے ذریعے اپنے جذبات کا درست اظہار کرسکیں مگر کچھ سجن ساتھی ایسے بھی ہیں جو ان کا ایسا الٹا استعمال کرتے ہیں کہ بندہ ورطہ حیرت میں غرق ہوئے سر پکڑ کر بیٹھ جائے. 
.
او کون لوگ ہو تسی ؟ ! 😎
.
 ====عظیم نامہ====

Sunday, 9 April 2017

ذرا مشکل


ذرا مشکل



تنقید بہت آسان ... تعریف ذرا مشکل
تکفیر بہت آسان ... اصلاح ذرا مشکل
۔
باتیں بنانا بہت آسان .. عملی اقدام ذرا مشکل 
مسائل پر رونا بہت آسان .. انہیں حل کرنا ذرا مشکل
۔
غلط کیا ہے؟ صرف یہ جان لینے سے کچھ نہیں ہوتا۔ 
غلط کو صحیح کرنے کی کوشش سے کچھ بدلتا ہے۔ 
روشنی کی ایک ننھی سی کرن اندھیرے کی دبیز چادر کو چاک کرسکتی ہے۔ 
کہتے ہیں کہ اک روز سورج نے اہل زمیں سے پوچھا "میرے بعد اس جہان کو کون روشن کرے گا؟" 
ایک ٹمٹماتا چراغ بولا "میں کوشش کروں گا"
۔
شکوہ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصہ کی کوئی شمع جلاتے جاتے ۔۔
۔
 ====عظیم نامہ====

Saturday, 8 April 2017

ونود کھنا



ونود کھنا




وہ جوانی بھی کیا جوانی جسے بڑھاپا کھا جائے؟ وہ صحت بھی کیا صحت جو بیماری سے زیر ہوجائے؟ وہ طاقت بھی کیا طاقت جو نقاہت سے ختم ہوجائے؟ وہ حسن بھی کیا حسن جو جھریوں سے تباہ ہوجائے؟ وہ شہرت بھی کیا شہرت جو کل گمنام ہوجائے؟ وہ مال بھی کیا مال جسے انسان ساتھ نہ لے جا پائے؟ ۔۔ فلمی دنیا میں نامور، وجیہہ ترین شخصیت کا مالک اور اپنے وقت کا سپراسٹار 'ونود کھنہ' آج اپنے آخری ایام کی جانب۔ 
 دعا ہے کہ رب کریم اپنے اس بندے کو موت سے قبل سچی توبہ اور ایمان کا نور عطا فرمائیں۔ آمین

ملے خاک میں اہل شاں کیسے کیسے
مکیں ہو گئے لامکاں کیسے کیسے
۔
ہوئے نامور بےنشاں کیسے کیسے
زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے
۔
جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جا ہے، تماشا نہیں ہے
۔ 
 ====عظیم نامہ====

Friday, 7 April 2017

فرائض، سنتیں یا نوافل


فرائض، سنتیں یا نوافل



میرے عزیز اگر خواہش اور کوشش کے باوجود نماز کا اہتمام نہیں کر پاتے تو صرف فرائض ادا کرلو. فرائض کی پابندی ہونے لگے تو پھر سنتیں یا نوافل بھی پڑھ لیا کرنا. یاد رکھو کہ مواخذہ صرف فرائض کی عدم ادائیگی پر ہوگا. باقی نوافل یا اضافی نمازیں لازمی نہیں ہیں. ایک صحیح حدیث کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ ایک بدو نے کہا کہ وہ صرف اور صرف فرض عبادات کا اہتمام کرے گا جیسے فرض نماز، روزہ اور زکوٰۃ. اس کے علاوہ کوئی نفل نہ پڑھے گا تو اس کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ اکرام کے سامنے یہ تبصرہ فرمایا کہ "جسے یہ بات بھاتی ہو کہ وہ اہل جنت میں سے ایک آدمی کو  دیکھے تو وہ اسے دیکھ لے۔‘‘ سوچو فرض پڑھنے میں صرف پانچ منٹ مشکل سے لگیں گے. اگر کوشش کے باوجود فجر یا کوئی اور نماز رہ جاتی ہے تو دن میں وقت ملتے ہی اسکی قضاء ضرور پڑھ لیا کرو. اگر یہ بھی نہیں ہو پارہا تو چار وقت کی نماز پڑھ لو. تین، دو یا ایک وقت کی جو بھی ممکن ہو وہ نماز پڑھ لو. چاہے ایک وقت ہی کی نماز کیوں نہ ہو مگر پڑھنا شروع کرو اور مکمل ترک نہ کرو. بس اس ایک وقت کی روز پابندی کرلو. باقی کیلئے کوشش اور دعا کرتے رہو مگر جب تک نہ ہو تب تک جتنا پڑھ پارہے ہو، اتنا ضرور پڑھو. اگر میرے بھائی اتنا بھی ممکن نہیں ہو پارہا تو قران حکیم کی تلاوت و ترجمہ پڑھتے رہو کہ قران کا پیغام خود دل کی دنیا بدل دیتا ہے. یہ بھی نہیں تو زبان سے کوئی آسان سا ذکر کرتے رہو جو تمھیں تمھارےرب سے جوڑے رکھے. ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض کی کہ اسلام کے احکام میرے لئے بہت زیادہ ہیں مجھ کو ایسا عمل بتائیں جس پر میں پابندی سے عمل کروں،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
.
لا يزال لسانك رطبا من ذكر اللہ
یعنی تمہاری زبان ہمیشہ اللہ کے ذکر سے تر بہ تر رہے۔
(جامع الترمذی صفحہ 372)
.
 یاد رکھو کہ تم تھوڑی سی کوشش یا عزم دیکھاؤ گے تو ان شاء اللہ رب تعالیٰ تمہارے لئے باقی عمل آسان کرتے جائیں گے. شیطان کے جھانسے میں نہ آؤ جو تمہیں منافقت کا طعنہ دے کر سمجھاتا ہے کہ اتنی سی نیکی کا کیا فائدہ؟ سورہ زلزال کی اس آیت کو یاد رکھو ".. جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہو گی وہ اسے دیکھ لے گا۔ اور جس نے ذرا بھر برائی کی ہو گی وہ اسے دیکھ لے گا". یقین کیجیئے کہ آپ کا رب آپ کو ہرگز ہرگز جہنم میں نہیں ڈالنا چاہتا. وہ تو معاف کرنے کو پسند کرتے ہیں، وہ تو کسی بہانے تمہیں معاف کردینا چاہتا ہے. بس تم بھی سرکش نہ بنو اور رجوع کی جتنی ممکن ہو کوشش و دعا کرتے رہو. سفر اگر ہزار میل کا بھی ہو تو آغاز ایک قدم ہی سے ہوتا ہے اور سفر کیلئے نکل پڑنا یعنی پہلا قدم اٹھانا ہی سب سے اہم ہے. اللہ پاک ہم سب بھائی بہنوں کو تمام فرائض ادا کرنے والا بنائے اور پھر نوافل کا بھی شوق عطا کرے. آمین
.
 نوٹ: دھیان رہے کہ اس تحریر کا مقصد یہ نہیں کہ آپ فرائض یا نوافل کی اہمیت کو کم سمجھنے لگیں یا فرائض کی عدم ادائیگی کو قابل مواخذہ نہ سمجھیں بلکہ مقصود اتنا ہے کہ آپ کم از کم فرائض کی بجاآوری کا آغاز کردیں اور پھر اپنے رب کی رحمت سے پرامید رہیں. 
.
 ====عظیم نامہ====

سوشل میڈیا اور مسجد کا منبر


سوشل میڈیا اور مسجد کا منبر



فیس بک کی وال ہو یا مسجد کا منبر. دونوں ہی کے مخاطب عام افراد ہوا کرتے ہیں. ہمارے مخاطبین میں اکثریت ان مسلمانوں پر مشتمل ہے جو دین پر چلنا تو چاہتی ہے مگر دنیا کے بکھیڑوں میں پھنس کر فرائض کو بھی پورا نہیں کرپاتی. ضروری ہے کہ واعظ و خطیب ان کا حوصلہ بڑھائیں، ان سے آسان بات کریں، ان کیلئے دین کو مشکل نہ بننے دیں. صحیح بخاری کی حدیث میں الفاظ آئے ہیں 'ان الدین یسرٌ' یعنی دین آسان ہے. مانا کہ مسلمان خوف اور امید دونوں کے درمیان ہوا کرتا ہے مگر یہ کیفیت انسان کے ذاتی احتساب کا نتیجہ ہے. دعوت دین کا طریقہ نہیں ہے. دعوت نبوی ﷺ کا طریق یہی ہے کہ امید کا پہلو خوف سے زیادہ غالب ہو. بخاری و مسلم کی متفقہ علیہ حدیث میں سیدنا انسؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا:’’دین میں آسانی کرو اور سختی نہ کرو اور لوگوں کو خوش خبری سناؤ اور زیادہ تر ڈرا ڈرا کر انہیں متنفر نہ کرو۔‘‘ عجیب بات یہ ہے کہ ہماری عوامی محافل میں خطیب اور کتب یا سوشل میڈیا پر لکھاری بزرگان دین کے ایسے معمولات کو سنانے پر زیادہ زور دیتے ہیں. جنہیں سن یا پڑھ کر ایک بے عمل انسان پر دھاک تو بیٹھ جاتی ہے مگر شائد عمل کی ہمت بھی ٹوٹنے لگتی ہے. صحابہ اکرام رضی اللہ عنہ اجمعین میں بھی کبائر صحابہ کے ان واقعات تک وعظ محدود رہتا ہے جن کے درجے تک پہنچنا بقیہ صحابہ کے لئے بھی ممکن نہ ہوسکا. جیسے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا بدر کے وقت تمام گھر کا سامان پیش کردینا. ان واقعات کو بعض اوقات ایسے سنایا جاتا ہے کہ گویا یہی دین کا ایک عام مسلمان سے لازمی تقاضہ ہے. 
.
 دیکھیں میری بات کو غلط نہ سمجھیں. میں یہ قطعی نہیں کہہ رہا کہ ان واقعات پر یکسر بات نہ ہو. اس سے کس کو انکار ہوسکتا ہے؟کہ صحابہ و صالحین ہمارے رول ماڈل ہیں. کہنا یہ چاہتا ہوں کہ کم از کم عوامی محافل جیسے خطبہ جمعہ یا سوشل میڈیا پر ان واقعات کے ساتھ مخاطب کو وہ ہمت بھی دیں، جس سے وہ مایوسی سے نکل کر کوشش شروع کرسکے. اسے سمجھائیں کہ دین کے بنیادی تقاضے جن سے اسکی نجات مشروط ہے، وہ بہت آسان ہیں. البتہ ایک مومن ہمیشہ اپنے کردار و عمل کو ہمیشہ بہتر بنانے کی کوشش کرتا رہتا ہے. جس کی منتہا کمال انبیاء کے بعد صحابہ ہیں. عوامی پلیٹ فارمز پر دین کی بنیادی باتوں جیسے ارکان اسلام اور اخلاقیات پر زیادہ زور دینا چاہیئے. البتہ وہ محافل یا کلاسز جو دین کے سنجیدہ طالبعلموں اور فرائض پر کاربند مسلمانوں کیلئے منعقد کی جاتی ہیں. ان میں حصول تقویٰ کیلئے ایسے واقعات کے ذریعے ترغیب دینا احسن ہے. عوام و خواص کے مزاج کا یہی وہ فرق ہے جو آپ کو کبائر صحابہ اور سادہ طبعیت بدوؤں میں نظر آتا ہے. ایک جانب صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ہیں جو صحابہ میں افضل ترین ہیں. وہ عالم خشیت میں پکارتے ہیں کہ ”کاش میں سرراہ ایک درخت ہوتا، اونٹ گذرتا تو مجھ کو پکڑتا، مارتا، چباتا اور میری تحقیر کرتا اور پھر مینگنی کی صورت میں نکال دیتا۔ یہ سب کچھ ہوتا مگر میں بشر نہ ہوتا“ اور دوسری جانب وہ صحرائی بدو ہے جس ﻧﮯ ﻧﺒﯽ ﭘﺎﮎ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﺣﺸﺮ ﻣﯿﮟ ﺣﺴﺎﺏ ﮐﻮﻥ ﻟﮯ ﮔﺎ ؟ ﺁﭖ ﷺ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ " ﺍﻟﻠﮧ " ﺑﺪﻭ ﺧﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﺟﮭﻮﻡ ﺍﭨﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﭼﻠﺘﮯ ﭼﻠﺘﮯ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﺑﺨﺪﺍ ﺗﺐ ﺗﻮ ﮨﻢ ﻧﺠﺎﺕ ﭘﺎ ﮔﺌﮯ ﺁﭖ ﷺ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﯾﮧ ﮐﯿﺴﮯ ؟ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ " ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺮﯾﻢ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﺮﯾﻢ ﺟﺐ ﻗﺎﺑﻮ ﭘﺎ ﻟﯿﺘﺎ ہے ﺗﻮ ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ" ﺑﺪﻭ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ ﻣﮕﺮ ﺟﺐ ﺗﮏ ﻧﻈﺮ ﺁﺗﺎ ﺭﮨﺎ ﺣﻀﻮﺭ ﷺ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺟﻤﻠﮧ ﺩﮨﺮﺍ ﮐﺮ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ رہے 'ﻗﺪ ﻭﺟﺪ ﺭﺑﮧ..ﻗﺪ ﻭﺟﺪ ﺭﺑﮧ!!' ﺍﺱ ﻧﮯ ﺭﺏ ﮐﻮ ﭘﮩﭽﺎﻥ ﻟﯿﺎ. 
.
 ====عظیم نامہ====

Wednesday, 5 April 2017

دل میں ایمان کا نور


دل میں ایمان کا نور



سابقہ نوکری پر ایک شخص سے شناسائی ہوئی، جس کا وزن خاصہ زیادہ تھا اور جو کھانے پینے کا انتہائی شوقین تھا. دوست یار اسے چھیڑتے مگر مجال ہے جو اس پر کوئی اثر ہو. وہ اسی شوق اور جوش سے طرح طرح کے کھانے تناول کرتا. ان ہی دنوں رمضان آیا تو یہ دیکھ کر سب حیران رہ گئے کہ وہ شخص جو ہر تھوڑے تھوڑے وقفے میں کھائے بناء رہ ہی نہیں سکتا تھا، اس نے نہ صرف پورے روزے رکھے بلکہ تراویح سمیت دیگر عبادات کا بھی بھرپور اہتمام کیا. دھیان رہے کہ ان دنوں انگلینڈ میں روزوں کا کم و بیش اٹھارہ سے بیس گھنٹے کا دورانیہ ہوا کرتا تھا. کئی مسلم ایسے تھے جنہوں نے گھبرا کر روزے قضاء کیئے مگر میرے اس بھائی کے ماتھے پر ایک شکن نظر نہ آئی. ایک دن کسی نے اس کے طویل روزے رکھنے پر حیرت کا اظہار کیا اور چھیڑا کہ چھپ کر تو نہیں کھاتے؟ اس نے خلاف عادت قدرے غصے سے جواب دیا کہ .. 'مجھے کھانے کا بہت شوق ہے اور میں کھانا صرف اللہ ہی کے کہنے پر چھوڑ سکتا ہوں. ورنہ کسی کے باپ میں اتنی ہمت نہیں کہ مجھے کھانے سے روک سکے.' میں اس کا یہ جواب سن کر بے اختیار مسکرا دیا. کیسا دلچسپ مگر مظبوط تعلق تھا اس کا اپنے معبود سے؟
.
 انگلینڈ ہی میں مقیم ایک صاحب علم دوست مجھے بتانے لگا کہ کسی زمانے میں وہ کمیونزم سے بہت قریبی اور فعال تعلق رکھتا تھا. آپ جانتے ہی ہیں کہ خالص کمیونزم میں مذاہب کو پابند کیا جاتا ہے اور اسے مذموم سمجھا جاتا ہے. کمیونزم کی کسی بڑی کانفرنس میں ایک دن یہ دوست شریک تھا. جہاں مقرر نے رسول اکرم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا نام بناء درود و احترام کے صرف محمد کہہ دیا. (صلی اللہ علیہ وسلم). یہ بھائی اس وقت مذہب سے دور تھا اور اسکی عملی و علمی وابستگی فقط کمیونزم کے ساتھ تھی. اس کے باوجود جب اس نے رسول اللہ کا نام بناء درود کے سنا تو بے اختیار باآواز بلند پکارا ... "صلی اللہ علیہ وسلم" ... کمیونزم جیسے مذہب مخالف فلسفے کی فکری نشست میں ایسا اظہار ایک بڑی جسارت تھی. اب اس مقرر نے غصہ سے جان کر دوبارہ نام لیا، اس بار دوست نے پھر زور دار انداز میں کہا "صلی اللہ علیہ وسلم". بعد میں شرکاء اس سے خفگی کا اظہار کرتے رہے مگر یہ اپنے موقف پر قائم رہا. ذہن و فکر پر کمیونزم کے بھرپور غلبے کے باوجود میرے اس بھائی کے دل میں محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شمع روشن تھی. میں دل ہی دل مسکراتے اپنے اس دوست کا چہرہ دیکھ رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ کیسا عجیب رشتہ تھا اس مسلمان کا کہ اسکی غیرت ایمانی نے عین معصیت اور مخالفت مذہب کے وقت بھی یہ گوارا نہ کیا کہ اس کے رسول کا نام بناء توقیر کے لئے لیا جائے؟
.
 دوستو ہم سب مسلمان ایک دوسرے سے بڑھ کر گنہگار ہیں، خطاکار ہیں، مجرم ہیں. بس ہمارے جرائم اور کوتاہیاں ایک دوسرے سے مختلف ہیں مگر اب مجھے سمجھ آچکا ہے کہ اعمال و افکار سے قطع نظر ہر مسلمان بہت قیمتی ہے. ہر مسلم کے دل میں کہیں نہ کہیں ایمان کا نور ہے. حب اللہ اور محبت رسول کی شمع روشن ہے. الحمدللہ
.
 ====عظیم نامہ====

Tuesday, 4 April 2017

حاضری


حاضری


پانچ وقت نماز قائم کرنے والا مسلمان دراصل اپنے عمل سے یہ ثابت کرتا ہے کہ خدا اسکی زندگی میں فی الواقع ترجیح اول کا درجہ رکھتا ہے. وہ خطاکار تو ہوسکتا ہے مگر سرکش نہیں ہوسکتا. نیند کس انسان کو عزیز نہیں ہوتی؟ مگر منہ اندھیرے اس نیند کو توڑ کر اور گرم بستر کو چھوڑ کر وہ فجر کیلئے وضو کرنے کھڑا ہوجاتا ہے. صرف اسلئے کہ اسے اپنے رب کا حکم اپنے آرام سے زیادہ عزیز ہے. نوکری یا کاروبار کرنے کی اہمیت سے کون انکاری ہوسکتا ہے؟ ایسے میں عین کام کے دوران جب طرح طرح کی ذمہ داریوں نے اسے جکڑ رکھا ہوتا ہے، وہ نماز ظہر کیلئے ان سب کو یکلخت ترک کردیتا ہے اور اور اپنے رب کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑا ہوجاتا ہے. صرف اسلئے کہ مالک کے سامنے حاضری اسے کسی بھی مصروفیت سے زیادہ پیاری ہے. دن ڈھلتے جب اپنا کاروبار سمیٹ رہا ہوتا ہے، نوکری نمٹا رہا ہوتا ہے تو ذہن پر یہی دھن سوار ہوتی ہے کہ بچے ہوئے کاموں کو ختم کرسکے. ایسے میں اس کے کان میں نماز عصر کی اذان گونجتی ہے اور وہ نفس پر پیر رکھ کر اپنے پروردگار کے سامنے رکوع کرنے چل پڑتا ہے. صرف اسلئے کہ اسے کسی بھی مالی فائدے سے زیادہ اہم حکم الہی کو ماننا نظر آتا ہے. سارا دن مشقت کے بعد جب گھر جانے کا وقت ہوتا ہے تو دل چاہتا ہے کہ بس جلدی سے اپنے ٹھکانے پہنچ جاؤں مگر ایسے میں نماز مغرب کا وقت اسے کھینچ کر پھر اپنے معبود کے سامنے لا کھڑا کرتا ہے. صرف اسلئے کہ اسکی ترجیح تسکین نفس نہیں بلکہ خدا ہے. رات میں تھکن سے چور جب سونے کا وقت قریب آتا ہے تو وقت عشاء میں ایک بار پھر اپنے رب کی بارگاہ میں عاجزی سے سجدہ ریز ہوجاتا ہے. صرف اسلئے کہ اسکے لئے آرام سے برتر اپنے رب کے حکم پر لبیک کہنا ہے. غرض یہ کہ وہ چوبیس گھنٹے کے دن میں پانچ مرتبہ نماز نہیں پڑھتا بلکہ پانچ وقت کی نماز کے دوران چوبیس گھنٹے کا دن گزارتا ہے.
.
یہ حقیقت ہے کہ ایک مسلمان کو نماز سمجھنے سے لے کر خشوع و خضوع کے حصول تک کی ہر ممکن کوشش کرنا ضروری ہے مگر نماز کی یہ پابندی جس کا بیان راقم نے کیا ہے، اپنے آپ میں ایک بہت بڑی سعادت ہے. جس طرح شفیق استاد اپنی جماعت کے کمزور ترین طالبعلم کو بھی اکثر رعایتی نمبرز دے کر اسلئے پاس کردیتے ہیں کہ وہ کم از کم کلاس میں آتا رہا، ٹوٹی پھوٹی کوشش کرتا رہا. اسی طرح 'کم از کم' اتنا تو ہو کہ پانچ وقت رب کے حضور حاضری لگتی رہے؟ کل اتنا تو وہ کہیں کہ بندہ نالائق ضرور تھا مگر کلاس میں آتا رہا. حاضری لگاتا رہا. کیا معلوم کچھ رعایتی نمبرز ہمیں بھی عطا ہوجائیں؟
.
====عظیم نامہ====

Monday, 3 April 2017

ایک اچھوت پاکستانی



ایک اچھوت پاکستانی 


.
 کیا آپ کبھی کسی بے ہنگم ہجوم کا حصہ بنے ہیں؟ جہاں رش ایسا ہو کہ کندھے سے کندھا ٹکراتا ہو. کسی کو آپ کی فکر نہ ہو. ہر انسان آپ کو دھکا مار کے بس اپنا رستہ بنانے میں دلچسپی رکھتا ہو. دائیں جانب والا بائیں جانب جا رہا ہو. بائیں جانب والا دائیں جانب آرہا ہو. کوئی غصے سے پھنکار رہا ہو، کوئی آستینیں چڑھائے لڑنے کو تیار ہو اور کوئی اپنا جرم ماننے کی بجائے آپ ہی کو مجرم بنانے کے درپے ہو. ایسی صورتحال کا سامنا کم از کم ایک پاکستانی کسی نہ کسی درجے جلوسوں میں، سڑکوں پر، بازاروں میں ضرور کر چکا ہوتا ہے. آپ کتنے ہی خوش اخلاق اور تحمل مزاج کیوں نہ ہوں؟ زیادہ دیر نہیں لگتی کہ آپ کی شخصیت پر بھی ایک جھنجھلاہٹ، ایک الجھن اور ایک غصہ حاوی ہوجاتا ہے. پھر یوں ہوتا ہے کہ آپ، آپ نہیں رہتے بلکہ اسی بے ہنگم ہجوم کا ایک بے ہنگم حصہ بن کر رہ جاتے ہیں. ایسے میں کچھ سمجھ نہیں آتا کہ کون غلط ہے اور کون صحیح؟ اپنے سوا سب ہی غلط نظر آنے لگتے ہیں اور حالات اتنے ابتر محسوس ہوتے ہیں کہ ان کے درست ہونے کی کوئی امید رکھنا بھی آپ چھوڑ دیتے ہیں. ایسے میں اگر کسی طرح آپ اس ہجوم سے نکل کر کسی بلند کشادہ مقام پر پہنچنے میں دانستہ یا نا دانستہ کامیاب ہو جائیں جہاں آپ نسبتاً سکون سے سفر بھی کرنے لگیں اور اس مقام سے ہجوم کا بھی جائزہ لے رہے ہوں. اس صورت میں کچھ وقفے کے بعد آپ کے حواس بحال ہوجائیں گے. وہی تحمل مزاجی اور خوش اخلاقی واپس لوٹ آئے گی جو آپ کا اصلاً حصہ تھی. اب آپ کو ان حماقتوں کا بھی ادراک ہوگا جو آپ نے ہجوم کا حصہ ہوتے ہوئے کی تھی اور بلندی سے جائزہ لے کر یہ بھی جان پائیں گے کہ اس ہجوم کو کس طرح واپس منظم کیا جائے؟ ہجوم کا حصہ رہ کر جو الجھنیں آپ کو بہت بڑی لگ رہی تھیں، اب وسیع نظر سے ان کے معمولی ہونے کا احساس ہوگا اور حقیقی مسائل کی جانب نظر مرکوز ہوگی. اب آپ کو اس ہجوم میں شامل افراد پر غصہ نہیں آئے گا بلکہ ان کی تکلیف کا احساس کرتے ہوئے ان سے ہمدردی ہوگی. یہ احساس ہوگا کہ اس ہجوم میں موجود لوگ میری ہی طرح اچھے لوگ ہیں بس بدنظمی کا شکار ہوکر اپنی ہی اذیت کا سبب بن گئے ہیں.
.
 ہمیں پسند آئے یا نہ آئے لیکن ہم پاکستانیوں کی کیفیت بحیثت قوم اسی بے ہنگم ہجوم کی سی ہے اور بیرون ملک مقیم محب وطن پاکستانیوں کی مثال شائد ان افراد کی جو دانستہ یا نادانستہ اس ہجوم سے نکل کر قدرے اونچے یا کشادہ مقام پر آگئے ہیں. آپ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے مسائل کا ادراک پاکستان میں بیٹھے افراد ہی کرسکتے ہیں. ہم کہتے ہیں کہ یہ گمان ایک درجے تک تو درست ہے مگر مسائل کی بھول بھلیوں سے نکلنے کا راستہ وہ شخص زیادہ بہتر بتا سکتا ہے جو خود ان بھول بھلیوں سے باہر ہو مگر اس کا مشاہدہ بلندی سے کرپارہا ہو. مسلمانوں کی قیادت کیلئے کیوں علامہ اقبال کی نظر کروڑوں کی آبادی والے ہندوستان میں موجود سینکڑوں رہنماؤں کو چھوڑ کر صرف جناح پر جا ٹکی؟ وہ جناح جو ملک چھوڑے بیٹھے تھے؟. مجھ سمیت دیگر محب وطن پاکستانیوں کو جو بیرون ملک اپنی مرضی یا کسی مجبوری کی وجہ سے آباد ہیں، مسلسل یہ طعنہ سننا پڑتا ہے کہ تم کون ہوتے ہو پاکستان کے حالات پر بولنے والے؟ اسکی کسی پالیسی یا نظام پر تنقید کرنے والے؟ شائد وہ افراد یہ چاہتے ہیں کہ ہم سب بھی ان چند پاکستانیوں جیسے ہو جائیں جو خود کو پاکستانی کہلانا ایک گالی تصور کرتے ہیں. جنہیں پاکستان کے سود و زیاں سے کوئی غرض نہیں. کیوں نہیں سوچتے یہ لوگ؟ کہ ہمارے دل آج بھی پاکستان ہی کے لئے دھڑکتے ہیں. آج بھی میز پر ٹائمز میگزین لندن اور جنگ اخبار پاکستان رکھا ہو تو میں جنگ اخبار ہی لپک کر اٹھاتا ہوں. آج بھی ہم پوری دنیا چھوڑ کر پاکستان ہی میں سرمایہ کاری کرتے ہیں، اسی کی زمین پر فلاحی ادارے قائم کرتے ہیں، اسی کی سیاست و صحافت سے دلچسپی رکھتے ہیں، اسی کی فوج کو اپنی فوج مانتے ہیں، اسی کو کھیل سے لے کر سیاست تک میں سپورٹ کرتے ہیں. اگر آپ معاشی اعداد و شمار نکالیں تو بیرون ملک بسے پاکستانی ملکی معیشت کیلئے ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کررہے ہیں. کیوں آپ مجھے اور میرے جیسے بیرون ملک بسے پاکستانیوں کو اچھوت بنا دینا چاہتے ہیں؟ کیوں آپ میں سے کچھ کی طبیعت ناگفتہ پر یہ گراں گزرتا ہے کہ ایک شخص بیرون ملک میں رہ کر بھی محب وطن ہوسکتا ہے؟ اپنے ملک کیلئے بات کرسکتا ہے؟ کون سا ترقی پذیر یا ترقی یافتہ ملک ایسا ہے جس کے ان گنت شہری دنیا کے دوسرے ملکوں میں آباد نہیں؟ کیا وہ بھی اپنے ان شہریوں کو یونہی ملکی معاملات سے دور رہنے کی تلقین کرتے ہیں؟ اور ان کی حب الوطنی پر سوال اٹھاتے ہیں؟ ہرگز نہیں بلکہ انہیں مساوی تکریم حاصل ہوا کرتی ہے. ضروری ہے کہ ہم پردیس میں بسے پاکستانیوں سے خار کھانے کی بجائے انہیں اپنا سمجھ کر ان کے تجربات و صلاحیتوں سے استفادہ کریں. 
.
 ====عظیم نامہ====

Sunday, 2 April 2017

ابلیس لبرل یا مذہبی


ابلیس لبرل یا مذہبی



بہت سے ایسے نوجوان جو باڈی بلڈنگ یا ورزش کے ذریعے اپنے اجسام کو مظبوط و کسرتی بناتے ہیں. ان کی چال میں کئی بار ایک عجیب سی اکڑ آجاتی ہے. چہرے پر ایک خاص سختی اور آنکھوں میں ایک عجیب سی مصنوعی شان وہ سجا لیا کرتے ہیں. 
.
 بہت سے ایسے احباب جو سائنسی یا فلسفیانہ موضوعات میں آگے بڑھ گئے ہیں. ان کے انداز فکر میں بھی کئی بار تکبر کی بو آتی ہے. خود کو عقل کل سمجھنا اور عوام کو تحقیر کی نظر سے دیکھنا ان کا مزاج بن جاتا ہے. 
.
بہت سے ایسے حضرات جو دینی علوم میں ماہر ہو جاتے ہیں. ان میں سے بھی کئی کے لب و لہجے میں عجیب سی رعونت در آتی ہے. اپنے پیش کردہ دلائل پر واہ واہ کرنے والو کا ٹولہ ان کے ساتھ ساتھ رہتا ہے. ایک خاص قسم یا خاص رنگ کا جبہ اور مخصوص حلیہ وہ اپنی ذاتی شناخت کے طور پر اپنا لیتے ہیں. جس میں ممکن ہے کہ سنت کا معمولی سا شائبہ تو ہو مگر اس کی سادگی کا عکس نہ ہو. 
.
 بہت سے ایسے اشخاص جو تصوف کے سفر میں مہارت حاصل کرلیتے ہیں. ان میں سے بھی کئی متقی ہونے کے کبر میں مبتلا ہوجاتے ہیں. ہاتھ چوموانا، مریدوں سے پیر دبوانا اور اپنے نام سے پہلے پیران پیر یا قطب الاقطاب جیسے القاب لگوانا انہیں عزیز ہوجاتا ہے. 
.
 سوچتا ہوں کہ جب ابلیس نے حکم خداوندی کو ٹھکرایا تھا تو اس کے اس عمل کے پیچھے شائد اپنی طاقت کی اکڑ بھی تھی، صلاحیتوں کا غرور بھی، علم کا زعم بھی اور ذہد و تقویٰ کا کبر بھی. فضول کی وہ بحث جو آج فیس بک پر جاری ہے کہ ابلیس کا سجدے سے انکار کرنا اسکے لبرل ہونے کی وجہ سے تھا یا مذہبی ہونے کے سبب سے، اس کا چنداں کوئی مصرف نہیں. اس سے کہیں بہتر ہے کہ بحیثیت اولاد آدم علیہ السلام ہم اپنا احتساب کریں کہ ابلیسیت کی کوئی جھلک آج ہمارے کردار کا حصہ تو نہیں.
.
 ====عظیم نامہ====