Friday, 31 March 2017

دو تلخ ترین سوالات



دو تلخ ترین سوالات



.
وجود خالق سے لے کر دلائل رسالت تک اور  پیغام دین سے لے وحی الہی کے اثبات تک. مشکل سے مشکل سوال کا شافی جواب الحمدللہ موجود ہے. 
 مگر غیر مسلموں کو دعوت دین کے دوران جو سوال سب سے زیادہ شاق گزرتا ہے، وہ یہ ہے کہ اگر اسلام فی الواقع 'امن' کا دین ہے تو اسلامی ممالک میں سب سے زیادہ بے امنی کیوں؟ اگر اسلام واقعی ایک انسان کے قتل کو انسانیت کا قتل کہتا ہے تو پھر کلمہ گو مسلمان اسلام کا نام لے کر معصوم انسانوں پر خودکش حملہ کیسے کردیتے ہیں؟ --
 (میں اس سوال کا بہترین ممکنہ جواب سائل کو دے دیتا ہوں جس سے وہ بڑی حد تک مطمئن بھی ہوجاتا ہے مگر یہ سچ ہے کہ یہ سوال مجھے بحیثیت مسلمان امت ہمیشہ افسردہ ضرور کردیتا ہے)
.
 عبادات سے لے کر معاملات تک ایک مسلمان کے جتنے سوالات ہوسکتے ہیں، ان سب کے بھی الحمدللہ شافی جوابات حاصل ہیں. 
 مگر ایک اعتراض یا سوال جو ہمیشہ میرے دل کو چوٹ پہنچاتا ہے وہ یہ کہ کوئی مدرسہ سے پڑھا ہوا انسان اپنے ذاتی تجربے سے مدارس میں ہونے والے جسمانی یا جنسی تشدد کی داستان بیان کرے. میں اسے سمجھاتا ہوں کہ کچھ واقعات یا ذاتی تجربہ کو بنیاد بنا کر تمام مدارس سے متنفر ہونا کسی صورت درست نہیں ہے --
.
 (اس ضمن میں مخاطب کی تشفی کیلئے جو دلائل ممکن ہیں، میں دیا کرتا ہوں. جس سے اکثر وہ مخاطب کسی حد تک پرسکون ہوجاتا ہے مگر یہ سچ ہے کہ کوئی بھی ایسی داستان میرے دل کو زخمی ضرور کردیتی ہے)
.
 غور کریں تو یہ دونوں سوالات دراصل اسلام کی کمزوری نہیں بلکہ ہماری اپنی کمزوری و نالائقی کا شاخسانہ ہیں. جارج برنارڈ شاء نے غالباً اسی لئے کہا تھا کہ "میں نے اسلام سے بہتر کوئی مذہب نہیں دیکھا اور مسلمانوں سے بدتر کوئی قوم نہیں دیکھی". بہت آسان ہے کہ ہم ان تلخ مسائل کو مسائل ماننے سے ہی انکار کردیں اور امت مسلمہ کے مجموعی رویئے یا مدارس پر مسلسل لگتے ان الزامات سے چشم پوشی اختیار کریں. مگر اس سے کیا درپیش مسلہ ختم ہو جائے گا؟ ہمیں کھلے دل سے ان مسائل کو مسائل تسلیم کرنا ہوگا اور اس کیلئے ہر ممکنہ اصلاحات کی سعی کرنا ہوگی. جب کوئی امت مسلمہ کو دہشت گرد یا جنونی کہتا ہے تو دراصل وہ مجھے یعنی عظیم کو گالی دیتا ہے. جب کوئی شخص میرے دینی مدارس پر انگلی اٹھاتا ہے تو درحقیقت وہ میری عصمت دری کرتا ہے. امت مسلمہ صرف داڑھی والے کی نہیں ہے بلکہ ہر کلمہ گو کی ہے. مدارس صرف اس میں پڑھنے والو کے نہیں ہیں بلکہ ہم سب مسلمانوں کے سر کا تاج ہیں. اسکول کالجز میں بھی بہت کچھ غلط ہورہا ہے بلکہ شائد کئی حوالوں سے ان کا حال مدارس سے زیادہ خستہ ہے. مگر یہ اسکول و کالج دین اسلام کے ترجمان نہیں. مدارس ترجمان ہیں. اور جو دین کا ترجمان ہوگا اس کے نقائص کو زمانہ مائیکرواسکوپ لگا کر دیکھے گا. مجھے ڈر ہے کہ میری یہ تحریر بہت سے دوستو کی خفگی و غصہ کا سبب بن سکتی ہے. مگر پھر بھی یہ تحریر دست بدستہ ہاتھ جوڑ کر لکھ رہا ہوں. اس مدہم امید پر کہ اسے مخالف کی تنقید نہیں بلکہ حمایتی کا اصلاحی جذبہ سمجھا جائے گا.
.
 ====عظیم نامہ====

Thursday, 30 March 2017

آپ کون ہیں؟



آپ کون ہیں؟



.
 میرے ایک عزیز جو پاکستان میں مقیم ہیں، انہیں اپنے بوڑھے والدین کی خدمت کا موقع میسر ہے جسے وہ پوری خوش اسلوبی سے نباہ رہے ہیں. نہ صرف ان کے والدین اس خدمت سے بہت خوش ہیں بلکہ دیگر احباب بھی ان کی اس ضمن میں مثال دیا کرتے ہیں. یہ صاحب بھی اپنے والدین کے ساتھ ساتھ دوسرے بزرگ افراد کی خدمت کا بھی کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے. کچھ عرصہ قبل مجھ سے کہنے لگے کہ میرا ایک خواب ہے عظیم اور وہ یہ کہ میں پاکستان میں ہی ایک اولڈ ایج ہوم یعنی بوڑھوں کا آسائشوں سے مزین گھر بناؤں. جہاں ان بزرگوں کا خیال رکھ سکوں جو کسی حادثے یا نافرمان اولاد کے سبب تنہا رہ گئے ہیں. بے یار و مددگار ہیں. انہیں ایسی ہی محبت دوں جیسی ایک فرمانبردار اولاد اپنے شفیق والد اور دلعزیز والدہ کو دیا کرتی ہے. یہ کہتے ہوئے ان صاحب کی آواز میں سچائی، لہجے میں درد اور آنکھوں میں ایسا عزم موجزن تھا، جس سے مجھے پوری امید ہے کہ یہ اپنے خواب کو ایک دن ضرور عملی شکل دے پائیں گے. ان شاء اللہ 
.
 برطانیہ میں مقیم میرے ایک دوست جن کی بیٹی کو پیدائشی طور پر ایک جزوی ذہنی بیماری یعنی 'مینٹل ڈس ایبلیٹی' لاحق ہے. اپنی زوجہ کے ساتھ مل کر اس بچی کا ہر طرح سے خیال رکھتے ہیں. بہت سی مشکلات کے باوجود وہ روز ایک نئی انرجی کے ساتھ اپنی بیٹی کی ذہنی و اخلاقی تربیت میں مشغول رہتے ہیں. آج مجھ سے کہنے لگے کہ عظیم میں نے فیصلہ کرلیا ہے کہ میں تمام 'مینٹل ڈس ایبل' بچوں کیلئے بلعموم اور مسلمان بچوں کیلئے بلخصوص ایک 'کیئر سینٹر' کھولوں گا. جہاں دیگر سرگرمیوں کے ساتھ ان مسلمان بچوں کو جو ذہنی معذوری یا ڈس ایبیلٹی کے باوجود بڑی حد تک سمجھ بوجھ رکھتے ہیں، انہیں اسلام کے کچھ آسان بنیادی احکام کی تربیت دی جائے. جیسے نماز پڑھنا یا تلاوت سننا وغیرہ. اسی طرح ان کی اخلاقیات کو بھی دینی تناظر میں بہتر بنایا جائے اور اس کا طریق نہایت آسان و دلپسند اختیار کیا جائے. یہ صاحب اپنے اس نیک ارادے میں اٹل نظر آتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ میں معلومات کے حصول میں ان کا دست بازو بنوں. ان شاء اللہ 
.
 میں خود ایک لمبے عرصے سے انگلینڈ میں مقیم ہوں. مجھے انفرادی طور پر یہاں الحاد سمیت مختلف مذہبی و غیر مذہبی فلسفوں کی ایک یلغار کا سامنا رہا ہے. یہ احساس مجھ میں اور میرے یہاں رہائش پذیر کئی دوستوں میں عرصہ ہوا تقویت پکڑ چکا کہ ہمیں غیرمسلوں کیلئے دین کی ترویج و تبلیغ کا اہتمام کرنا ہے اور ان مسلمان اذہان کو واپس دین سے جوڑنا ہے جو مغربی افکار کے سیلاب میں ارتداد کی سرحد پر جاپہنچے ہیں. لہٰذا تفرقہ سے پاک ہوکر مختلف پلیٹ فارمز کے ذریعے سڑکوں سے لے کر یونیورسٹیوں تک اور الیکٹرانک میڈیا سے لے کر سوشل میڈیا تک کسی نہ کسی درجے میں ہم دعوت دین کا کام انجام دیتے ہیں. اسلام کی نظریاتی سرحدوں پر ہونے والے الحاد و دیگر فلسفوں کے حملوں کا موثر جواب دیتے ہیں. دین پر لگے الزامات کو اپنی بساط بھر کوشش سے دفاع فراہم کرتے ہیں. اسی حوالے سے ہم کئی اہم پروجیکٹس سے منسلک ہیں اور مستقبل میں انہیں عملی شکل دینے کا خواب رکھتے ہیں. ان شاء اللہ 
.
 مختلف افراد کے ان متفرق ارادوں کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آپ اس حقیقت کو سمجھیں کہ ہر انسان کچھ مختلف اور مخصوص حالات و واقعات سے گزرتا ہے. جو اس کے قلب و فکر پر کچھ اثرات مرتب کرتے ہیں. یہ حالات کبھی آسانی اور اکثر سختی کے ساتھ انسان کو درپیش آتے ہیں. اعلان نبوت سے قبل حضرت ابراہیم علیہ السلام پر وارد ہونے والے سخت ترین حالات و واقعات کو سوچیئے، نبوت سے پہلے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے نامساعد اور دہشت انگیز حالات زندگی پر غور کیجیئے، حضرت یوسف علیہ السلام کے اذیت ناک تربیتی مراحل پر نظر کیجیئے، رسول اکرم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کی آمد سے پہلے بچپن کی یتیمی سے لے کر غار حرا تک کے حالات زندگی کا جائزہ لیجیئے. آپ کو اندازہ ہو گا کہ کس طرح ان برگزیدہ ہستیوں کو مختلف مراحل سے گزار کر نبوت کے مشن کے لئے تیار کیا گیا. یہی حال آپ کو صحابہ اکرام رضی اللہ اجمعین اور بزرگان دین کی زندگیوں میں نظر آئے گا. گویا ہر عبداللہ کو حالات و واقعات کی بھٹی سے گزار کر اللہ کے ماسٹر پلان میں تعمیری حصہ بننے کا امیدوار بنایا جاتا ہے. اب بہتراور عقلمند انسان وہ ہے جو نہ صرف ان حالات کا خوبی سے سامنا کرے بلکہ ان حالات سے سیکھ کر معاشرے کے سدھار میں اپنا بھرپور کردار بھی ادا کرے. چنانچہ اپنی زندگی کا جائزہ لیجیئے اور جانیئے کہ آپ کون ہیں؟ اور آپ کس مشن کیلئے موزوں ہیں؟
.
 ====عظیم نامہ====

Tuesday, 28 March 2017

غیرمسلم اذہان

 

غیرمسلم اذہان


غیرمسلم اذہان میں میرے دو پسندیدہ ترین نام جو اب فوت ہوچکے ہیں 
.
١. سقراط (فلسفی)
٢. البرٹ آئن اسٹائن (سائنسدان)
. 
غیرمسلم اذہان میں میرے دو پسندیدہ ترین نام جو ابھی حیات ہیں
.
١. سدھ گرو (یوگی)
٢. مشیو کاکو (سائنسدان) 

.
 ان چاروں کے علمی قد کے بھرپور اعتراف کے ساتھ اور اپنی ناقص العلمی کے مکمل ادراک کے ساتھ مجھے ان سب سے ہی کسی نہ کسی درجے اختلاف ہے. مگر اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ رب تعالیٰ نے ان استادوں کو غیر معمولی ذہانت سے نوازا ہے. جس سے نہ صرف یہ اپنے اپنے شعبوں میں بہترین پیش رفت کرپائے بلکہ انسانی زندگی کے دیگر شعبوں پر بھی ان کی رائے مجھے سوچنے پر مجبور کردیتی ہے. 
.
====عظیم نامہ====

.
 نوٹ: دھیان رہے کہ یہ راقم کا ذاتی احساس ہے، جس سے متفق ہونا قطعی ضروری نہیں. ان چاروں کے کچھ عقائد و نظریات فی الواقع ایسے ہیں جو دین کی رو سے یکسر باطل قرار پاتے ہیں. گو یہ چاروں بھی آپس میں متفق نہیں. ان فاسد نظریات کو بنیاد بناکر، باقی پیش کردہ تحقیقات و خیالات سے گریز ایک طالبعلم کے لئے محرومی ہے. جہاں تک ان چاروں کے اپنے اپنے شعبوں میں بیان کا ذکر ہے تو اسے سننے یا پڑھنے میں کوئی قباحت نہیں لیکن جب بات خدا اور اسکے پیغام کی ہو تو ایک مسلمان کیلئے لازم ہے کہ پہلے قران حکیم کو خوبی سے سمجھے پھر ان سمیت کسی اور مفکر کو پڑھے یا سنے
.

ایاز نظامی

 

 

ایاز نظامی

.
 سوشل میڈیا اور حقیقی دنیا میں اب تک میں کتنے ملحدین سے مکالمہ کرچکا ہوں؟ سچ پوچھیئے تو اتنی بڑی تعداد ہے کہ یاد رکھنا ممکن نہیں. یہ اور بات کہ میں کسی بھی ایسے فیس بک گروپ یا پیج کا حصہ بننے کا مخالف رہا ہوں جہاں رب العالمین یا رحمت العالمین کیلئے توہین آمیز الفاظ کا استعمال ہو. انکار خدا سے لے کر انکار رسالت تک جو شکوک و سوالات ہوں، میں ہمیشہ اپنی بساط بھر کوشش سے مسکرا کر ان کا جواب دیتا آیا ہوں. مگر کوئی سوال پوچھنے کی آڑ میں توہین رسالت کرے؟ تحقیق کا نام لے کر غلیظ الفاظ استعمال کرے؟ تو اسے برداشت کرنا میری غیرت ایمانی کی موت ہے. یہ میں ہرگز برداشت نہیں کرتا. میں نے پچھلے دس برسوں میں ان ملحدین کے بہت سے نام نہاد رہنماؤں سے گفتگو کی اور قریب قریب سب کو سطحی سوچ کا حامل پایا. ایک وقت تھا جب میں نے چن چن کر نمائندہ ملحدین لکھاریوں کی پوسٹوں پر ان سے شائستہ انداز میں استدلال سے تنقید کرنا شروع کی. ان ہی دنوں تین چار بار ایسا ہوا کہ جب کوئی مخاطب ملحد دلیل سے بلکل بے بس ہوگیا تو اس نے پوسٹ پر کسی 'ایاز نظامی' کو ٹیگ کیا. اسی طرح اس ایاز نظامی کے ہاتھوں کچھ مسلمان جب پھنستے تو وہ مجھے ٹیگ کرکے اسے جواب دینے پر ابھارتے. یہ میرا اس شخص سے پہلا تعارف تھا. پہلی بار ایک ایسا ملحد سوشل میڈیا پر ملا جو واقعی کسی حد تک دلیل سے بات کرتا اور عام ملحدین کے ٹریڈ مارک گھٹیا لب و لہجے سے اجتناب کرتا. گفتگو پوسٹوں سے نکل کر میسجز پر ہونے لگی. میرے لئے یہ حقیقت صدمہ کا سبب تھی کہ اس نے درس نظامی کے بعد بھی ارتداد کی لعنت کو اپنایا تھا. میری دلی خواہش تھی کہ یہ شخص واپس لوٹ آئے. اس لئے میں نے اسے اسکائپ پر گفتگو کی دعوت دی جو اس نے قبول کرلی. دونوں نے ایک دوسرے کو ایڈ کیا مگر وقت کے فرق کی وجہ سے گفتگو نہ ہو پائی. البتہ اب اس کی سرگرمیوں پر میری نظر تھی اور شائد اسکی مجھ پر؟
.
 کچھ عرصہ گزرا تو احترام کا وہ جذبہ جو میرے دل میں ایاز کیلئے پیدا ہوا تھا دم توڑنے لگا. وجہ یہ تھی کہ مجھے اس کی پالیسی سمجھ آنے لگی. اب میں دیکھ پارہا تھا کہ بھلے دوران مکالمہ یہ گندے الفاظ نہیں لکھتا مگر ایسی گندگی پھیلانے والو کی پشت پر یہی سب سے آگے کھڑا ہے. وہ پیجز جو سراسر توہین اور تخریب پر مبنی ہیں، ان کے چلانے والو میں نہ صرف یہ شامل ہے بلکہ ان کی فکری بنیاد یہی رکھ رہا ہے. میں نے اپنے کچھ دوستوں سے اس کا ذکر کیا اور ایک بار پھر پورا ارادہ کیا کہ اس کی فکر کو باقاعدہ للکارا جائے. گو عربی نہ جاننے یا مقابل سے کم جاننے کی وجہ سے مجھے ایک جھجھک سی ضرور تھی. یہ خواہش عملی جامہ پہنتی، اس سے پہلے ہی وہی کام مولانا مرزا احمد وسیم بیگ کی جانب سے ہوا. جنہوں نے نہ صرف ایاز نظامی سے ایک طویل بہترین مکالمہ کیا بلکہ فی الواقع اس پر دلیل کی برتری ثابت کی. گو ظاہر ہے ایسی بحثوں میں نتیجہ مانتا کوئی فریق نہیں ہے. مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں ہے کہ آج ایاز نظامی کی گرفتاری پر میں دل سے خوش ہوں. حکومتی اداروں کو مبارکباد دیتا ہوں اور خواہش کرتا ہوں کہ ایاز یعنی عبد الوحید جیسے فتنہ پرور افراد کو سخت ترین سزا بذریعہ عدالت دی جائے. میں آپ دوستو سے بھی کہتا ہوں کہ ہم مکالمہ و سوالات کا خیر مقدم کرنے والے لوگ ہیں. لہٰذا کوئی سخت ترین سوال بھی تہذیب سے پوچھا جائے گا تو ہم اس کا علمی جواب دیں گے. اسے دھتکاریں گے نہیں. لیکن کوئی بدبخت سوال یا تحقیق کا راگ آلاپ کر سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم پر زبان دراز کرے (یعنی گالی دے) تو پھر ہم ہر ممکن اقدام کریں گے کہ اسے حوالات تک پہنچایا جائے. اسکے لئے "آئی پیز" ٹریس کرنے سے لے کر جیمز بانڈ بننے تک جو کرنا پڑے، کیا جائے.
.
 ====عظیم نامہ

Tuesday, 21 March 2017

فحش مقرر


فحش مقرر



آج سے کوئی پندرہ سولہ سال قبل پشاور یونیورسٹی میں ایک بہت بڑا تقریری مقابلہ منعقد کیا گیا جس میں سارے پاکستان کے تعلیم اداروں سے مقررین نے شرکت کی.کئی مراحل جیتنے کے بعد آخری یعنی فائنل میں دس بہترین مقررین کو منتخب کیا، جنہیں اسٹیج پر بٹھایا گیا. میں بھی ان مقررین میں سے ایک تھا. صوبہ کےگورنر سامنے مہمان خصوصی تھے. پشاور ہی کے ایک دوسرے تعلیمی ادارے سے منتخب ایک مقرر کو مزاحیہ تقریر کی دعوت دی گئی. ان صاحب کو معلوم نہیں کیا سوجھی؟ کہ انہوں نے اپنی تقریر کو فحش جملے بازی کا نمونہ بنا دیا. جب گھٹیا جملے زیادہ بڑھے تو غیور پٹھان طالبات نے خاموش بائیکاٹ کیا اور آڈیٹوریم چھوڑ کر جانے لگی. انہیں جاتا دیکھ کر ان مقرر صاحب نے ایک انتہائی نامناسب جملہ جو میں یہاں ازراہ شرم نہیں لکھ سکتا دوران تقریر کہہ دیا. اس کا یہ جملہ کہنا تھا کہ پیچھے بیٹھے ناظرین میں سے ایک پٹھان بھائی نے اپنی شال شانے سے ہٹائی جس کے نیچے سے ایک کلاشنکوف برآمد ہوئی جو اس نے اسٹیج پر موجود مقرر پر تان لی. ایک افراتفریح مچ گئی. اسٹیج پر موجود ہم سب مقررین کو موت سامنے نظر آنے لگی کہ اگر اس نے کلاشنکوف کا برسٹ مار دیا تو گولی پتہ پوچھے بناء ہم سب کو لقمہ اجل بنادے گی. میری برابر دائیں بائیں والی کرسیوں پر لاہور اور اسلام آباد کی طالبات مقررہ تھیں جو فوری چیخ مار کر میرے پیچھے چھپ گئیں اور مجھے گولی کھانے کیلئے مزید آگے کردیا. خیر اس لڑکے کو اس کے ساتھیوں نے زبردستی جکڑا. اسی دوران باقی بہت سے پٹھان طالبعلم اسٹیج پر کود کر آگئے اور اس مقرر کو بری طرح سے پٹخ پٹخ کر مارا. 
.
 بڑی مشکل سے پولیس نے اسے چھڑایا اور پنڈال سے باہر لے گئے مگر ہر طرف سے یہ دھمکی دی جارہی تھی کہ اس مقرر کو ہم آج کی تاریخ میں قتل کردیں گے. میں یہ سب منظر بہت قریب سے دیکھ رہا تھا اور ایک شاک کی سی کیفیت میں تھا. میری نظر پشاور کالج کے ان پروفیسر پر پڑی جو مجھ سے بہت شفقت فرماتے تھے اور مجھے بحیثیت مقرر بہت پسند کرتے تھے. بلاشبہ میری نظر میں وہ ایک انتہائی نفیس اور شفیق انسان تھے. میں ان کے پاس پہنچا اور پرتشویش انداز میں انہیں بتایا کہ پروفیسر صاحب یہ اسٹوڈنٹس تو دھمکی دے رہے ہیں کہ آج کی تاریخ میں اس مقرر کو قتل کردیں گے. پروفیسر صاحب نے اپنے مخصوص لہجے میں مجھ سے ایک ایسا جملہ کہا جو آج بھی سماعتوں میں گونج رہا ہے. "عظیم بھائی ! آپ فکر نہ کریں ہم اس مقرر کو زندہ چھوڑیں گے نہیں" . یہ اور ایسے کئی واقعات پشاور کے دو مختلف دوروں میں مجھے پیش آئے جس نے پشاور کی نفسیات کے مثبت و منفی دونوں پہلوؤں کو قریب سے دیکھنے کا موقع فراہم کیا. اکثر پہلوؤں سے پشاور کی اخلاقی اقدار پاکستان کے دیگر شہروں کی عمومی نفسیات سے بہت عمدہ اور بلند ہیں. مگر کچھ زاویئے ایسے بھی ہیں جو نہ سمجھ آنے والے ہیں اور شائد قابل اعتراض ہیں. یہ واقعہ اسی دوسرے زاویئے کا ایک ٹریلر ہے.
.
====عظیم نامہ====
.
 (نوٹ: میری آخری اطلاعات تک اس مقرر کو کسی محفوظ مقام بھیج دیا گیا تھا)

دوست سے ہنسی مذاق



دوست سے ہنسی مذاق


اپنے دوست سے ہنسی مذاق کرنا، اسے تنگ کرنا یا کبھی اس کا کسی بات پر مذاق اڑانا دوستی کا حصہ ہے بلکہ کچھ صورتوں میں اس تعلق کی خوبصورتی بھی ہے. لیکن اس بے تکلف رشتے میں بھی یہ احتیاط لازمی ہے کہ کسی صورت مخاطب کا دل نہ دکھے. قریبی ترین دوست کی بھی کبھی کسی ایسی کمی کو نہ اچھالیں جس کے بارے میں وہ غیر معمولی طور پر حساس ہو یا جو اس میں مستقل موجود ہو یا جسے دور کرنا باوجود کوشش اس کے بس میں نہ ہو. جیسے کسی شخص کے چھوٹے قد کا مذاق بنانا یا کسی کی سیاہ رنگت پر ہنسنا یا کسی کے زیادہ وزن پر جملے کسنا وغیرہ. ممکن ہے آپ کا دوست آپ کے سامنے اس مذاق پر ہنس بھی لے مگر قوی امکان ہے کہ ایسی جملے بازی اس کے دل کو چوٹ ضرور پہنچائے گی اور گناہ کا موجب بنے گی. پھر قریبی دوستوں کے مابین تو یہ معاملات کم تر حد میں چل بھی سکتے ہیں، مگر فیس بک کی فرینڈ لسٹ میں شامل افراد سے تو اکثر آپ زندگی میں کبھی نہیں ملے ہوتے. پھر اتنی ہمت کیسے آجاتی ہے؟ کہ کسی لنگوٹی دوست کی طرح ایک شخص کی تصویر پر کمنٹس میں اس کی شکل و صورت کا مذاق اڑا رہے ہوتے ہیں، اس کے رنگ پر فقرے کس رہے ہوتے ہیں یا اس کے زیادہ یا کم وزن پر اسکی تذلیل کرہے ہوتے ہیں؟ سورہ الحجرات میں مومنین کو اس ضمن میں یہ تلقین کی گئی ہے کہ
"اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، نہ مرد دوسرے مردوں کا مذاق اڑائیں، ہوسکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں، اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں ، ہوسکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔ آپس میں ایک دوسرے پر طعن نہ کرو اور نہ ایک دوسرے کو بُرے القاب سے یاد کرو۔ ایمان لانے کے بعد فسق میں نام پیدا کرنا بہت بری بات ہے۔ جو لوگ اس روش سے باز نہ آئیں وہی ظالم ہیں ۔"
.
چاہیئے کہ میں اور آپ اپنا محاسبہ کرلیں کہ  اس آیت کی روشنی میں کہیں ہم فاسق تو نہیں ہیں؟ ظالم تو نہیں ہیں؟
.
 ====عظیم نامہ====

مجرم آپ



مجرم آپ


اگر کوئی لکھاری صرف مایوسی پھیلانے کا عادی ہے اور آپ اسے باقائدگی سے پڑھ رہے ہیں تو مجرم آپ ہیں.


 اگر کوئی لکھاری انبیاء، صحابہ یا اولیاء کے خلاف مغلظات بکنے کا عادی ہے اور آپ اسے اپنی ریڈنگ لسٹ میں رکھے ہوئے ہیں تو مجرم آپ ہیں.
.
 اگر کوئی لکھاری اپنی پوسٹوں سے تفرقہ، نفرت اور اشتعال پھیلاتا ہے اور آپ اسے پھر بھی پڑھتے ہیں تو مجرم آپ ہیں.
.
 اگر کوئی لکھاری سوشل میڈیا پر سرٹیفائد ٹھرکی کے طور پر مقبول ہے اور آپ پھر بھی اس کی پوسٹ کو ضرور دیکھتے ہیں تو مجرم آپ ہیں.
.
 یاد رکھیں کہ آپ ویسے ہی ہیں جیسے لوگو کے ساتھ رہنا پسند کرتے ہیں. فیس بک پر موجود ہر اس شخص کو جسے آپ تخریبی سمجھتے ہیں، 'ان فرینڈ' کیجیئے یا اگر اسے فرینڈ لسٹ میں رکھنا ضروری ہے تو اسے 'ان فالو' کردیجیئے تاکہ اس کی پوسٹیں آپ کی فیس بک وال پر نظر نہ آئیں. اسی طرح جن لکھاریوں کی تحریروں سے آپ سیکھتے ہیں یا آپ کو مثبت پیغامات ملتے ہیں انہیں 'سی فرسٹ' پر رکھیئے تاکہ ان ہی کی پوسٹیں آپ کو اپنی وال پر ترجیحی بنیادوں پر حاصل ہوسکیں. 
.
 ====عظیم نامہ====

شدید بخار اور بڑھاپا




شدید بخار اور بڑھاپا



شدید بخار میں جب جسم کا جوڑ جوڑ دکھ رہا ہو، مسلسل نقاہت بدن پر طاری ہو اور ذہن بھی ایک نامعلوم سی الجھن کا شکار ہو۔ ایسے میں نماز میں قیام کرنا اور تکلیف سے سجدہ ریز ہونا اپنے بڑھاپے کی یاد دلاتا ہے۔ اگر بڑھاپے تک جیئے تو کیا معلوم ہمارا کیا حشر ہوگا؟ جسم میں اتنی طاقت بھی ہوگی کہ قیام کرسکیں؟ سجدہ ریز ہوسکیں؟ شائد اسی لئے سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تلقین کی ہے کہ
۔
 "پانچ چیزوں سے پہلے پانچ چیزوں کو غنیمت شمار کرو۔ اپنی جوانی کو اپنے بڑھاپے سے پہلے، اپنی صحت کو اپنی بیماری سے پہلے، اپنی مالداری کو اپنی تنگدستی سے پہلے، اپنی فراغت کو اپنی مشغولیت سے پہلے اور اپنی زندگی کو اپنی موت سے پہلے ۔''
۔
 ====عظیم نامہ====

کراچی میں حقیقی امن کیسے قائم ہو؟



کراچی میں حقیقی امن کیسے قائم ہو؟



.
 یوں تو وطن عزیز کا ہر شہر آج دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے مگر کراچی وہ واحد بدنصیب شہر ہے جو اپنی تمام تر رونق و خوبصورتی کے باوجود خراب سے خراب تر حالات کا شکار رہا ہے. گو ایک عرصے سے میں انگلینڈ میں مقیم ہوں مگر میں نے آنکھ اسی خوبصورت شہر میں کھولی ہے اور اسی میں اپنا بچپن و جوانی گزارے ہیں. مجھے اس شہر کی ہر ہر ادا سے محبت ہے اور میرے سینے میں کراچی دل بن کر دھڑکتا ہے. میں اس شہر کے ساتھ ہنستا اور ساتھ روتا آیا ہوں. لہٰذا میرے اس دعویٰ میں کوئی مبالغہ نہ ہوگا کہ میں کراچی کے مسائل و مشکلات کا قریبی ادراک رکھتا ہوں. ویسے تو ہر انسان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کراچی سمیت کسی بھی جگہ کے متعلق اپنا تجزیہ دے مگر یہ حقیقت ہے کہ اس شہر کے حالات کو سمجھنے کیلئے لازم ہے کہ انسان ایک لمبا عرصہ ان حالات و واقعات کے بیچ رہے جن سے شہر قائد لہو لہو ہے. اس شہر کی غیرمعمولی حیثیت کا اندازہ اس امر سے کیجیئے کہ ایک اعدادوشمار کے مطابق یہ شہر تنہا پورے ملک کا ستر فیصد ریوینیو یعنی آمدنی کما کر دیتا ہے. جب کے دوسرے اعدادوشمار کے مطابق یہ پینتالیس سےپچپن فیصد آمدن مہیا کرتا ہے. مگر بدلے میں بجٹ کے نام پر جو چلڑ اسے دیا جاتا ہے وہ ملک کے اس فائننشیل کیپیٹل سے صریح زیادتی کے مترادف ہے. یہ ثابت کرنے کی کوئی خاص حاجت نہیں ہے کہ صرف اس ایک شہر کے حالات کا قابو آجانا اور ترقی کرنا پورے ملک کی معیشت کو سنبھال سکتا ہے. ایسا نہیں ہے کہ شہر میں امن و امان کیلئے کبھی کوئی اقدامات نہیں کئے گئے مگر کڑوا سچ یہ ہے کہ یہ اقدامات کبھی بھی کوئی دور رس نتائج نہ حاصل کرسکے بلکہ ان اقدامات کی آڑ میں ایسی ایسی زیادتیاں اور حماقتیں کی گئیں جنہوں نے تعمیر کی بجائے مزید تخریب کو جنم دیا. اس وقت بھی گزشتہ ایک ڈیڑھ سال سے شہر میں شدید فوجی آپریشن جاری ہے. جس کا ہونا خوش آئند ہے مگر کیا اس سے امن کی بحالی کے پائیدار نتائج حاصل ہوسکیں گے؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب ہر صاحب ادراک کی نظر میں نفی میں ہے. اس آپریشن کا آنکھوں دیکھا حال میں نومبر ٢٠١٥ میں تحریر کرچکا ہوں جو نیچے پہلے کمنٹ میں ویب لنک کی صورت میں موجود ہے. اس شہر کے حالات قیام پاکستان سے لے کر اب تک اتنے بگڑ چکے ہیں اور مسائل اتنے گنجلک ہوگئے ہیں کہ سلجھانے کا کوئی سرا ہاتھ نہیں آتا. بقول شاعر:
غیر ممکن ہے کہ حالات کی گتھی سلجھے
اہل دانش نے بہت سوچ کے اُلجھائی ہے
.
 راقم کی احقر رائے میں مندرجہ ذیل تجاویز پر عمل کئے بناء کراچی میں پائیدار امن کا خواب ایک سراب سے زیادہ کچھ نہیں. میں جانتا ہوں کہ ان تجاویز میں بہت سو کی دل آزاری کا سامان بھی ہوسکتا ہے مگر میں دیانتداری سے اپنا احساس درج کررہا ہوں جسے آپ اپنی سمجھ سے رد یا قبول کرسکتے ہیں. امید ہے کہ آپ اسے اپنے بھائی کی رائے ہی سمجھیں گے اور اسے پڑھ کر راقم کی جانب بغض و بدگمانی کا شکار نہ ہونگے.
.
١١. کالج، یونیورسٹیوں سمیت ہر تعلیمی ادارے سے تمام سیاسی سرگرمیوں کا بلاتفریق خاتمہ کردیا جائے. وہ دن ہوا ہوئے جب یہ کہا جاتا تھا کہ طلباء کو سیاسی دھارے میں شامل کرکے پڑھی لکھی قیادت سامنے لائی جائے گی. آج کی حقیقت یہ ہے کہ کالج اور یونیورسٹیاں اب سیاسی غنڈے پیدا کرنے کی فیکٹریاں ہیں. یہی وہ جگہ ہے جہاں مختلف سیاسی جماعتیں جذباتی نوجوانوں کے اذہان کو اپنے اپنے نظریات کا اسیر کرتی ہیں. اسلحے کا آزادانہ استعمال ہو یا مخالف گروہوں کے افراد پر بدترین تشدد ، تعلیمی اداروں میں جبری داخلے ہوں یا اساتذہ کو زدوکوب کرنا. یہ سب سیاسی جماعتوں کی ایماء پر اکثر تعلیمی اداروں میں جاری ہے. میں نے چونکہ اسی شہر کے اسکول، کالج اور یونیورسٹی سے انجینئرنگ تک تعلیم لی ہے، اسلئے پوری شدومد سے اس کا گواہ ہوں. میں جانتا ہوں کہ یہی کام کمتر درجے میں دیگر شہروں میں بھی ہورہا ہے مگر کراچی کے تعلیمی اداروں کا جو اس ضمن میں حال ہے وہ تباہ کن ہے.
.
٢٢. غیر سیاسی پولیس کا ایک نیا اور بااختیار ادارہ قائم کیا جائے جس کی تنخواہ و مراعات کم از کم اسلام آباد کی پولیس جتنی ہوں اور جہاں پڑھے لکھے کراچی ہی کے اہلکاروں کو بھرتی کیا جائے. یہ جہاں رشوت و سفارش کے کلچر کو روک لگائے گا اور عوام کا پولیس پر اعتماد بحال کرے گا وہاں بے روزگار پڑھے لکھے نوجوانوں کی محرومی بھی دور کرسکے گا. 
.
٣٣. آئی ایس آئی اور دیگر قانونی اداروں کی مدد سے شہر میں مزید اسلحے کو داخل ہونے سے روکا جائے. مجھے یقین ہے کہ اگر ادارے چاہیں تو اگر مکمل نہیں تو بڑی حد تک اسلحے کی تازہ سپلائی کو روک سکتے ہیں. 
.
٤٤. اعلان کیا جائے کہ ایک ماہ کے اندر تمام سیاسی و غیر سیاسی جماعتیں اپنا اسلحہ جمع کروا دیں ورنہ شدید سزا کا نفاز کیا جائے گا. اس کے نتیجے میں ماضی کی طرح بہت تھوڑا سا اسلحہ جمع کروایا جائے گا اور باقی اسلحہ یہ جماعتیں اپنے پاس ہی کہیں دفنا کر رکھیں گی. مگر اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ اسلحہ رکھنے پر ایک اضافی خوف پیدا ہوگا جو کمتر حد میں معاون ہوگا. اس مدت کے بعد اسلحہ رکھنے والو کو پکڑا جائے اور کم از کم آٹھ دس کیسز کو عبرت کی مثال بنادیا جائے. 
.
٥٥. دیگر قومیتوں سے وابستہ دہشت گرد گروہوں کے قابض علاقوں پر سب سے پہلے زبردست آپریشن کیا جائے. جیسے 'کٹی پہاڑی' اور 'الآصف اسکوائر' پٹھان غنڈوں کی آماجگاہیں ہیں. یا 'لیاری' کے وہ بدنام علاقے جو پیپلز پارٹی کے پالے ہوئے بدمعاشوں کی جائے پناہ ہیں. ایسے علاقوں پر آپریشن اسلئے ضروری ہے کہ صرف اسی طرح یہ پیغام پہنچ سکتا ہے کہ یہ آپریشن صرف ایم کیو ایم کیلئے نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد بلاتفریق غنڈوں کا صفایا ہے. ایم کیو ایم کو تو ہر کوئی گالی دے لیتا ہے مگر دیگر شہروں میں بسنے والے یہ تصور بھی نہیں کرپاتے کہ دیگر تنظیموں کے غنڈے اور ملٹری ونگ کس درجے کی خباثت پھیلا رہے ہیں. آپ مجھ پر یقین نہ کریں مگر کراچی میں رہنے والے اپنے عزیزوں سے پوچھیں کہ جب ان سے یا ان کے پیاروں سے موبائل، گاڑی، پیسہ وغیرہ چھینا گیا تو چھیننے والا کس قومیت کا تھا؟ مجھے یقین ہے کہ نوے فیصد لوگ آپ کو بتائیں گے کہ وہ پٹھان یا اندرون سندھ کا فرد تھا. میرا یہ یقین اسلئے ہے کہ میں بیشمار افراد سے جو ایم کیو ایم سے منسلک نہیں ہیں، یہی سوال پوچھ چکا ہوں. یہاں ہرگز یہ غلط فہمی نہ پالیں کہ میں ایم کیو ایم کا حامی ہوں. ہرگز نہیں. مجھے جاننے والے جانتے ہیں کہ میں ان کا شدید ناقد ہوں اور ان کے خلاف بھی اسی قوت سے آپریشن کے حق میں ہوں. بتانا صرف اتنا مقصود ہے کہ اس حمام میں ایک نہیں بلکہ سب ننگے ہیں. 
.
٦٦. عوام کی منتخب کردہ جماعتوں پر چیک اینڈ بیلنس رکھتے ہوئے ترقیاتی کاموں میں فری ہینڈ دیا جائے. البتہ کسی بھی جماعت کو نفاز قانون کے عمل میں شریک نہ کیا جائے. 
.
٧٧. مذہبی جماعتوں اور ایسے مدارس و مساجد کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے جو منبر کو نفرت و دہشت گردی کے ترویج کیلئے استعمال کر رہے ہیں. بہتر ہوگا کہ ان کے خلاف چارج شیٹ بمع ٹھوس ثبوتوں کے میڈیا پر دیکھا دی جائے تاکہ ان کا ردعمل عوام کی تائید نہ پاسکے. یہ ثبوت حاصل کرنا نہایت آسان ہیں کہ ان کے زہر آلود بیانات ریکارڈ کئے جاسکتے ہیں اور ان کے مسلح ٹھکانوں سے عام لوگ تک آگاہ ہیں.
.
 یہ وہ چند تجاویز ہیں جو احقر کی سمجھ میں ناگزیر ہیں. ان کے علاوہ بھی بہت سی اہم اصلاحات کی گنجائش ہے مگر طوالت کی وجہ سے اتنے پر ہی اکتفاء کرتا ہوں 
.
 ====عظیم نامہ====

Thursday, 16 March 2017

پرانے و ناپسندیدہ کپڑے خیرات کرنا


پرانے و ناپسندیدہ کپڑے خیرات کرنا 



 سوال
السلام علیکم۔ جناب میں ایک مغربی ملک میں مقیم ہوں۔ حال ہی میں ہم نے جب اپنے گھر کی بڑے پیمانے پر صفائی کا فیصلہ کیا تو یہ بھی چاہا کہ تمام اضافی و ناپسندیدہ کپڑے نکال دیئے جائیں۔ لہذا کپٹروں کا ایک بڑا ڈھیر اکٹھا ہوگیا ہے۔ جن میں وہ کپڑے شامل ہیں جو یا تو ہمیں پسند نہیں یا پھر پرانے یعنی آوٹ آف فیشن ہیں۔ ہم نے ابتدا میں یہ سوچا کہ ان کپڑوں کو دور موجود ایک ایسی مستند چیرٹی آرگنائزیشن تک پہنچا دیں جو دیگر غریب ممالک میں ضرورت مندوں کو یہ پہنچادیتے ہیں۔ لیکن اب دل کو یہ خیال تنگ کررہا ہے کہ اپنے لئے نئے مہنگے کپڑے لینا اور اللہ کی راہ میں پرانے و ناپسندیدہ کپڑے دینا تو شائد بہت غلط ہے۔ اس سے بہتر تو ان کپڑوں کو دیگر غیر ضروری سامان کے ساتھ تلف کردیا جائے۔ آپ کا کیا مشورہ ہے؟
۔
جواب:
 وعلیکم السلام۔ دیکھیئے میرے بھائی۔ شیطان اپنے کام میں بہت ماہر و تجربہ کار ہے۔ وہ غلط فیصلے کو خوشنما بنا کر دیکھاتا ہے اور انسان کو پارسا بن کر غلط بات کی ترغیب دیتا ہے۔ جہاں یہ ایک حقیقت ہے کہ راہ خدا میں پرانا و ناپسندیدہ نہیں بلکہ اچھا اور من پسند مال دینا چاہیئے۔ وہاں دوسری حقیقت یہ بھی ہے کہ دنیا میں بیشمار لوگ ایسے ہیں جنہیں سخت سردی میں بھی پہننے کو کپڑے میسر نہیں۔ ایسے میں آپ کا اتنے سارے کپڑوں کو ان تک پہچانے کی بجائے تلف کردینا صریح ظلم ہے۔ چنانچہ بناء تامل ان کپڑوں کو اس قابل بھروسہ فلاحی ادارے تک پہنچائیئے اور بھروسہ رکھیئے کہ ان کپڑوں کو گھر کے کوڑے دان میں باآسانی ڈال دینے کی بجائے، دور قائم اس فلاحی ادارے تک لے جانے کیلئے آپ کو جو سفر کرنا ہوگا یا مشقت اٹھانی ہوگی، اس سب کا بہترین اجر آپ اپنے رب سے پائیں گے۔ ان شاء اللہ۔ ساتھ ہی اپنے اس احساس جرم کو زائل کرنے کیلئے اور شیطان کی اس چال کو الٹ دینے کیلئے فوری طور پر کم از کم دو چار نئے اور عمدہ کپڑوں کے جوڑے خریدیئے اور انہیں بھی ان بقیہ پرانے کپڑوں کیساتھ ساتھ مستحقین تک پہنچانے کا اہتمام کیجیئے۔ مجھے یقین ہے کہ آپ اسکی مالی استطاعت رکھتے ہونگے۔ میری دعا ہے کہ اللہ پاک آپ کے اس عمل اور صدقے کو بھرپور قبولیت عطا فرمائیں۔ آمین۔
۔
 ====عظیم نامہ====

Tuesday, 14 March 2017

روزمرہ کے واقعات اور الله کا گرینڈ پلان


روزمرہ کے واقعات اور الله کا گرینڈ پلان



آج سے کوئی دس برس قبل میرا واسطہ کچھ ایسے افراد سے ہوا جو علم میں مجھ سے کہیں زیادہ تھے. انہوں نے اپنے استدلال اور جاذب طرز گفتگو سے میرے ذہن میں طرح طرح کے شکوک پیدا کردیئے. وقت کیساتھ ان تمام اشکالات کا جواب مجھے کتاب اللہ سے حاصل ہوا مگر پھر بھی کبھی ایسا وقت آجاتا تھا جب ذہن زچ ہوجاتا اور ہمت ٹوٹنے لگتی. وجود خدا سے متعلق ان ہی دنوں ایسے ہی ایک سوال نے میرے ذہن کو بری طرح جکڑ لیا. اسی سوال کو ایک رات سوچتے ہوئے میں اپنے روزمرہ کے راستے سے گزر رہا تھا. دل اس اشکال سے شدید مضطرب تھا اور آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے. اچانک مجھے کچھ فاصلے پر ایک پتھر پر سے روشنی نکلتی ہوئی محسوس ہوئی. ایک لمحے کو میں اپنا اضطراب بھولا اور متجسس ہو کر اس روشنی کی طرف لپکا تو معلوم ہوا کہ ایک پتھر پر ایک 'سی ڈی' الٹی رکھی ہوئی ہے. اس کا چمکیلا حصہ اپر کی جانب ہے جس پر اسٹریٹ لیمپ کی روشنی پڑ کر منعکس ہو رہی تھی. میں نے 'سی ڈی' اٹھائی تو یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ وہ کسی اسلامی لیکچر کی ریکارڈنگ تھی. گھر جاکر اسے سنا تو اس میں موجود باتوں سے اپنے اس اشکال کا جواب حاصل ہوگیا اور دل کو قرار آگیا. 
.
 کوئی سال بھر پہلے میری طبیعت بگڑنے لگی. ڈاکٹر کے پاس ٹیسٹ کروائے تو سب نارمل آئے لیکن ذہن اور جسم دونوں جیسے نیم مفلوج سے رہنے لگے. دو بار ایسا ہوا کہ کسی دوست نے مجھے باہر چلتے دیکھا تو فون کرکے خیریت دریافت کی کہ آپ بہت بیمار لگ رہے ہیں. جو ان دنوں چہرہ دیکھتا وہ فکرمند ہو کر میری خیریت دریافت کرتا. ڈاکٹرز مجھ سے پوچھتے کہ کیا تمھیں کوئی اسٹریس لاحق ہے؟ کوئی پریشانی ہے؟ میں انہیں بتاتا کہ ہرگز نہیں بلکہ میں تو اپنے رب کی نعمتوں سے الحمدللہ سرشار ہوں اور اتنا پرسکون ہوں کہ خود ہی حیرت ہوتی ہے الحمدللہ. مجھے طرح طرح کے وٹامنز دیئے جانے لگے لیکن طبیعت نے نہ سنبھلنا تھا تو نہ سنبھلی. اللہ پاک سے دعا گو رہا. ایک روز اچانک میرا نیا موبائل شدید گرم ہوگیا. اتنا گرم جیسے اس میں ابھی آگ لگ جائے گی. اسے بند کیا اور کچھ دیر بعد دوبارہ چلایا تو ٹھیک ہوگیا. پھر چند روز بعد یہی ماجرا ہوا اور موبائل دوبارہ گرم ہو کر انگارہ بن گیا. مجھے لگا کہ میرا یہ نیا 'سام سنگ ایس سکس ایج' موبائل ناکارہ ہونے والا ہے. آخری کوشش کے طور پر میں نے اس کی گہری جانچ کی تو معلوم ہوا کہ کچھ ایسی 'ایپلی کیشنز' اس میں انسٹال ہوگئی ہیں جو نہ صرف موبائل کی کارکردگی پر شدید بوجھ ڈال رہی ہیں بلکہ ایک دوسرے سے 'کونفلکٹ' یعنی ٹکرا بھی رہی ہیں. میں نے فوری طور پر انہیں ہٹایا تو موبائل واپس ٹھیک ہوگیا اور اس کے بعد آج تک بلکل ٹھیک ہے. میں نے حسب عادت اس واقعہ پر غور کیا کہ کہیں اسمیں میرے لئے رب کی جانب سے کوئی پیغام تو نہیں؟ احساس ہوا کہ یہی معاملہ میرے اپنے ذہن کے ساتھ بھی ہورہا ہے. ان دنوں میں دو مخالف مکاتب فکر کی اصولی بحث کو بیک وقت تقابلی انداز میں پڑھ رہا تھا. ساتھ ہی دونوں کے نمائندہ استادوں سے گفتگو بھی کررہا تھا. اصول الفقہ کو اس سے قبل میں نے نہیں پڑھا تھا اور اب اچانک میں دو مخالف نقطہ نظر کے انتہائی 'ایڈوانس کانسپٹس' کو اپنے ذہن پر زبردستی لاد رہا تھا، جس سے میرے ذہن کی 'ہارڈ ڈسک' کریش ہورہی تھی. جیسے ہی بات سمجھ آئی تو ڈاکٹر کو بتایا. اس نے مثالیں دے کر ثابت کیا کہ یہی اصل جڑ ہے. چانچہ کچھ عرصہ کیلئے میں نے ہر طرح کی تحقیق ترک کرکے ذہن کو ہنسنے بولنے والی تفریحات میں مصروف کرلیا. کچھ ہفتوں تک فیس بک سے بھی واجبی سا تعلق رکھا. نتیجہ یہ ہوا کہ طبیعت الحمدللہ پوری طرح سے سنبھل گئی.
.
 ایسے ان گنت واقعات میرے پاس ہیں جو طوالت کے سبب نہیں درج کررہا. مگر دوستو ان واقعات کو آپ کے گوش گزار کرنے کا مقصد یہ سمجھانا ہے کہ مومن کی زندگی میں 'انہونی' یا 'حسن اتفاق' نام کی کوئی شے نہیں ہوتی. وہ اس حقیقت کی معرفت پاچکا ہوتا ہے کہ زندگی کے خارج و باطن میں ہونے والی ہر واردات، ہر حادثہ، ہر واقعہ دراصل قادر المطلق کے 'گرینڈ پلان' ہی کا ایک چھوٹا سا جزو ہے. اس کا ہونا یا تو خالص 'امر الہی' کا ظہور ہے یا پھر 'اذن خداوندی' کا تقاضہ. سادہ الفاظ میں ہمارے اردگرد ہونے والے واقعات کے ذریعے رب العزت ہمیں مختلف پیغامات منتقل کرتے ہیں. اگر ہم روزمرہ کے ان واقعات میں غور و فکر کرکے منشاء خداوندی کھوجنے اور دیکھنے کی صلاحیت حاصل کرلیں تو پھر یہ پیغامات کبھی ہماری الجھنوں کا حل ثابت ہوتے ہیں، کبھی ہماری بداعمالی پر سرزنش کا کام کرتے ہیں، کبھی کسی غلط روش پر تنبیہہ کرتے ہیں اور کبھی ہماری تحقیق میں معاونت فراہم کرتے ہیں. یوں تو قران حکیم کے طالبعلم کو جابجا کتاب اللہ میں اسکی ترغیب ملتی ہے مگر سورہ یوسف تو مانیئے اسی ترغیب کا شاہکار معلوم ہوتی ہے. جس میں یوسف علیہ السلام کی زندگی کا ایک ایک واقعہ بیان کیا جاتا ہے جن کی مجموعی حکمت جب یوسف علیہ السلام پر سورہ کے آخر میں آشکار ہوتی ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ تمام بظاہر غیر متعلق واقعات درحقیقت تسبیح کے دانوں کی طرح ایک ہی لڑی میں پروئے ہوئے تھے اور جن سب نے مل کر انہیں اس منزل تک پہنچایا ہے جو مطلوب تھی. وہ بے اختیار پکار اٹھتے ہیں کہ 
.
 "... واقعہ یہ ہے کہ میرا رب غیر محسوس تدبیروں سے اپنی مشیت پوری کرتا ہے، بے شک و ہ علیم اور حکیم ہے. اے میرے رب، تو نے مجھے حکومت بخشی اور مجھ کو باتوں کی تہ تک پہنچنا سکھایا زمین و آسمان کے بنانے والے، تو ہی دنیا اور آخرت میں میرا سرپرست ہے، میرا خاتمہ اسلام پر کر اور انجام کار مجھے صالحین کے ساتھ ملا"
.
 ====عظیم نامہ====

Monday, 13 March 2017

طرز اختلاف یا تذلیل


طرز اختلاف 
یا تذلیل 



آج سارا دن کے بعد فیس بک کھولا تو یہ دیکھ کر شدید کوفت ہوئی کہ کچھ مذہبی رجحان رکھنے والے دوست رائے سے اختلاف کرتے ہوئے ایک دوسرے کو گالیاں دے رہے ہیں، پھبتیاں کس رہے ہیں، تذلیل کر رہے ہیں. ان میں سے ایک طرف کچھ صاحبان مولانا ابو الاعلیٰ مودودی رح کے معتقدین ہیں اور دوسری جانب وہ حضرات ہیں جو مولانا وحید الدین خان صاحب کی محبت میں فنافی الشیخ کی منازل سر کرچکے ہیں. پہلے قبیل کو اہل مدارس کا بیانیہ سپورٹ کررہا ہے اور دوسرے گروہ کو غامدی صاحب کا جوابی بیانیہ. دھواں دھار لڑائی جاری ہے اور تاحال دونوں جانب سے مغلظات کا اسکور قریب قریب برابر ہے.
.
 سوچتا ہوں اگر مولانا ابو الاعلیٰ مودودی رح اس طرز اختلاف کو اپنے نام پر ہوتا دیکھ لیں تو شائد اپنا دل تھام کر بیٹھ جائیں. تصور کرتا ہوں اگر مولانا وحید الدین خان اپنے نام لیواؤں کو ایسی تحقیری زبان استعمال کرتا دیکھ لیں تو شائد اپنا سر پیٹ لیں. ڈاکٹر اسرار احمد رح نے اپنی پوری زندگی قران حکیم کی تعلیم اور خلافت کی جدوجہد میں بسر کی مگر اس کے باوجود مولانا امین احسن اصلاحی رح کو اپنے اساتذہ میں شمار کرکے ویسی ہی عزت دیتے رہے. جاوید احمد غامدی صاحب سے جب میری اپنی ملاقات ہوئی تو میں نے محسوس کیا کہ وہ جب جب مولانا ابو الاعلیٰ مودودی رح کا ذکر کرتے ہیں تو ایک اضافی ادب ان کا احاطہ کرلیتا ہے. وہ بتاتے ہیں کہ علمی اختلاف کیسے کیا جاتا ہے؟ یہ مولانا مودودی رح سے سیکھا.
.
 افسوس کہ آج ان ہی صاحبان علم کا نام لے کر ایسا غیر علمی انداز اختیار کیا جارہا ہے جسے دیکھ کر غصہ بھی آتا ہے اور افسوس بھی ہوتا ہے. غصہ اسلئے کہ یہ غیر شائستہ انداز اپنانے والے جاہل نہیں بلکہ مجھ جیسے سے کہیں زیادہ علم رکھتے ہیں اور افسوس اسلئے کہ دونوں طرفین تعمیر سمجھ کر تخریب کا حصہ بن رہے ہیں. میں آپ دونوں مکاتب فکر سے ہاتھ جوڑ کر التجا کرتا ہوں کہ صبر و شائستگی کا دامن تھامیں. اگر ایک جانب سے گالی دی جائے تو دوسری جانب بردباری کا مظاہرہ کرے. اگر دوسری جانب سے دل دکھایا جائے تو پہلی جانب حکمت سے کام لے. اگر میری اس تحریر سے آپ میں سے کسی کو چوٹ پہنچے تو میں پیشگی معافی مانگتا ہوں اور یقین دلاتا ہوں کہ میرا مقصد آپ کی تذلیل ہرگز نہیں بلکہ اخوت و مروت ہے.
.
 ====عظیم نامہ====

Saturday, 11 March 2017

استغفار کی اہمیت


استغفار کی اہمیت



تمام اللہ والو میں ایک قدر مشترک نظر آتی ہے اور وہ یہ کہ وہ استغفار کا کثرت سے اہتمام کرتے ہیں. احادیث مبارکہ میں استغفار کے ایسے ایسے فضائل بیان کئے گئے ہیں جن کے حصول کیلئے اصولی طور پر ایک سچا مسلمان دن رات تگ و دو کرسکتا ہے. گناہ سے خلاصی ہو، قلب کی صفائی ہو، رزق کی کشادگی ہو یا پھر مصیبتوں سے نجات - استغفار کی کثرت ہمیشہ مومن کا لازمی ہتھیار ہوتی ہے. ایک حدیث کے مطابق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم دن میں ستر بار اور دوسری صحیح حدیث کے مطابق دن میں سو بار استغفار کیا کرتے تھے. دوستو کیا آپ جانتے ہیں کہ سو بار استغفار پڑھنے کیلئے مشکل  سے پانچ منٹ درکار ہوتے ہیں؟ نہ ہی اس کے پڑھنے کیلئے کسی خاص وقت یا جگہ کی کوئی قید ہے. گویا آپ چاہیں تو کسی خاص وقت یا خاص نماز کے بعد پڑھیں ورنہ چاہیں تو اٹھتے بیٹھتے، چلتے پھرتے اپنے گناہوں کو اور رب کی رحمت کو سوچتے ہوئے استغفار کر سکتے ہیں. پھر کیسی محرومی کی بات ہے کہ میں اور آپ اس پانچ منٹ کے ذکر کو ترک کرکے استغفار کے لاتعداد فضائل سے خود کو محروم کرلیں؟ کیوں نا کم ازکم ہم سو مرتبہ استغفار پڑھنے کو اپنا روز کا معمول بنالیں؟ آپ زیادہ سے زیادہ بھی استغفار پڑھ سکتے ہیں کہ یہ اور بھی سعادت کا موجب ہوگا مگر یہ نہ ہو کہ جوش میں دو چار روز تو دس ہزار مرتبہ استغفار کی تسبیح پڑھ لی اور اس کے بعد اکتا کر ترک کردیا. بہتر و افضل یہی ہے کہ عمل یا ذکر بھلے کم ہو مگر اپنی روح کے ساتھ ہو اور مسلسل ہو. پھر یہاں تو صرف سو مرتبہ پڑھ لینا سنت بھی ہے. 
.
 ====عظیم نامہ====

شریعت اور ساس سسر کے حقوق


شریعت اور ساس سسر کے حقوق




"شریعت نے ساس سسر کی خدمت کی ذمہ داری عورت پر نہیں ڈالی ہے"

.
 یہ وہ جملہ ہے جسے آج کل ہر دوسری لڑکی نے حفظ کررکھا ہے. کچھ بڑے مولانا حضرات نے بھی سسرال میں بہو پر ہونے والی زیادتیوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس جملے کو خوب تعلیم کیا ہے. مگر جہاں اس سے سے ایک خیر برآمد ہوا کہ مرد یعنی شوہر کو ایسی توقعات نہ رکھنے کا احساس ہوا. وہاں اس سے دوسرا کریہہ تر شر بھی برآمد ہوا اور وہ یہ کہ آج کی عورت یعنی بیوی نے اس رخصت کو بہانہ بنا کر اپنے ساس سسر کی خدمت یا ان کی فرمانبرداری سے منہ پھیر لیا. محترمہ شریعت نے تو آپ کو اس بات کا بھی مکلف نہیں کیا کہ آپ لازمی راہ گیروں، مسافروں، دور کے رشتہ داروں وغیرہ کے کام آئیں. لیکن ہر عملی مسلمان اس سب کا لازمی اہتمام کرتا ہے کیونکہ دین یہی مزاج ہمیں دیتا ہے. یہی تربیت ہمیں فراہم کرتا ہے کہ ہر بوڑھے ہر بچے سے محبت و احترام کا معاملہ کریں. پھر یہ کیسی منطق ہے؟ کہ شوہر کا رشتہ جسے کسی مرد نے نہیں بلکہ آپ کے رب نے اونچے ترین مقام پر رکھا تھا، جس کی اطاعت و موافقت کو بطور بیوی آپ کی پہلی ذمہ داری بنایا تھا .. اسی کے بوڑھے والدین کی خدمت سے آپ یہ کہہ کر انکار کردیں کہ شریعت مجھے اس کا مکلف نہیں کرتی؟ اسی کے والدین سے آپ بدتہذیبی سے پیش آئیں اور ان کے جائز مطالبوں کو بھی جوتے کی نوک پر رکھ لیں؟ کیسے بھول جاتی ہیں آپ ؟ کہ آپ کا شوہر اپنے ماں باپ کا بیٹا بھی ہے، جن کی رضا میں اسکی جنت و جہنم کا فیصلہ چھپا ہے.  جس دین میں پڑوسی کے حقوق اتنے زیادہ ہوں کہ صحابہ رض کو لگنے لگا کہیں وراثت میں بھی ان کا حصہ مقرر نہ کردیا جائے، اس میں ساس سسر کے حقوق نہ ہوں؟عجیب بات ہے. مانا کہ اس مرد کو بطور شوہر آپ کے حقوق کا پورا خیال رکھنا ہے مگر بحیثیت انسان فطری طور پر وہ آپ سے کیسے خوش رہ پائے گا یا آپ کو عزت کیسے دے پائے گا اگر آپ اسکے والدین کو ناراض رکھیں گی اور انکی عزت نہ کریں گی؟ یہ ناممکن ہے. 
.
 ایک عورت اپنے آنسو دیکھا کر بہت جلد مظلومیت کا میڈل خود پر سجا لیتی ہے مگر ایک مرد شدید ذہنی کرب سے گزرتے ہوئے بھی اپنی داخلی کیفیت کے درست اظہار سے محروم رہتا ہے. مجھے غلط نہ سمجھیں، میں سسرال میں کیئے جانے والے مظالم اور حق تلفیوں سے بھی بخوبی آگاہ ہوں اور اس بات کا قائل ہوں کہ اگر والدین گھر کی بہو پر زندگی تنگ کردیں تو مرد پر لازم ہے کہ وہ اپنی بیوی کو الگ گھر فراہم کرے. مگر ساتھ ہی میں پاکستانی معاشرے میں بڑھتے ہوئے اس رجحان سے بھی خوب آگاہ ہوں جہاں ماں باپ کا درجہ دینا تو دور کی بات، ایک لڑکی اپنے ساس سسر کی بات کو اہمیت دینے کو بھی ذہنی طور پر تیار ہی نہیں ہوتی. ساس سسر کا کوئی جائز مطالبہ بھی اسے اپنے 'فریڈم' کے خلاف نظر آتا ہے اور ساس سسر کا اپنی اولاد کو کوئی مشورہ دینا اسے اپنی 'پرائیویسی' کی موت محسوس ہوتا ہے. ہمارے معاشرے میں طلاقوں کی بڑھتی ہوئی شرح میں یہ جدید رجحان بنیادی وجوہات میں سے ایک ہے. اپنے ماں باپ کے زمانے میں جھانک کر دیکھیئے تو جو زیادتیاں یا حق تلفیاں اس زمانے میں ایک عورت کے ساتھ سسرال کی جانب سے ہوتی تھی اس کا عشر عشیر بھی آج نہیں ہوتی مگر ان عورتوں نے ان زیادتیوں کو سہہ کر گھر بنائے اور آج اکثر گھرانوں میں یہی مائیں .. باپوں سے زیادہ مستحکم و زورآور نظر آتی ہیں. لیکن شائد آج کی لڑکیاں کچھ زیادہ عقلمند ہوگئی ہیں ، اسی لئے اپنے مزاج کے خلاف معمولی بات پر بھی ایسا تلملاتی ہیں کہ مانو ان سے جینے کا حق ہی چھین لیا گیا ہو. آخری بات، فی زمانہ آپ کو ایسے بہت سے 'دانشور' مل جائیں گے جو آپ کے ہم آواز ہو کر عورت کی مظلومیت اور مرد کے مظالم کے نعرے لگائیں گے. اب یہ آپ پر ہے کہ آپ کو اپنے مطلب کا 'آدھا سچ' قبول ہے یا پھر تکلیف دہ 'پورا سچ'. 
.
 ====عظیم نامہ====

Thursday, 9 March 2017

دی لائن کنگ

دی لائن کنگ

میں کارٹون موویز آج بھی اتنے انہماک سے دیکھتا ہوں کہ ادرگرد کی کوئی خبر نہیں ہوتی. میرا احساس ہے کہ ان کارٹون موویز میں انٹرٹینمنٹ کے ساتھ ساتھ عام موویز یا ڈراموں سے کہیں زیادہ مثبت پیغامات چھپے ہوتے ہیں. 'دی لائن کنگ' ان کارٹون موویز میں میری پسندیدہ رہی ہے. کل یوٹیوب پر سالوں بعد اسے دوبارہ دیکھا تو لطف ہی آگیا. بہت ممکن ہے کہ آپ میں سے کئی دوست میری اس تحریر پر ہنسیں مگر کوئی بات نہیں ہنسنا صحت کیلئے برا نہیں ہے. کہانی کا آغاز 'موفاسہ' نامی ایک ببر شیر کی بادشاہت کے بیان سے ہوتا ہے. دیکھاتے ہیں کہ موفاسہ کے گھر بیٹا پیدا ہوتا ہے جس کا نام 'سمبا' رکھا جاتا ہے. ایک 'رافیکی' نام کا کاہن نما شاہی لنگور اسے گود میں اٹھا کر پورے جنگل کو دیکھاتا ہے اور سب جانور ادب سے سر جھکا لیتے ہیں. یہ اس بات کا اعلان تھا کہ 'سمبا' مستقبل کا بادشاہ بنے گا. 'موفاسہ' ایک نہایت طاقتور، حکیم اور انصاف پسند بادشاہ ہے. جو اپنے بیٹے 'سمبا' کی مختلف انداز سے تربیت کرتا ہے. ایک موقع پر وہ اسے جانوروں سے محبت اور انصاف کی تلقین کرتا ہے تو سمبا پوچھتا ہے کہ "..لیکن ہم تو انہیں شکار کرکے کھا جاتے ہیں؟". 'موفاسہ' سمجھاتا ہے کہ بیٹا آج تم ان چوپایوں کو کھا جاتے ہو، کل جب ہم شیر مر جائیں گے تو ہمارے جسم مٹی ہو کر گھاس اور چارہ بن جائیں گے، جنہیں یہ چوپائے کھائیں گے. یہی 'زندگی کا دائرہ' ہے جس کا احترام لازم ہے. اسی طرح 'موفاسہ' اپنے لاڈلے 'سمبا' کو غیر ضروری خطرات مولتے دیکھ کر سمجھاتا ہے کہ بہادر ہونے کا مطلب قطعی یہ نہیں کہ تم زبردستی خود کو خطرات میں ڈال لو۔ صرف اسی وقت بہادر بنو جب بہادری کی ضرورت پڑ جائے۔ 'موفاسہ' کا ایک حسد کرنے والا بھائی بھی ہے، جس کا نام 'اسکار' ہے اور جو اپنی شاطر و خبیث فطرت کی وجہ سے خونخوار لکڑبھگوں میں رہنا پسند کرتا ہے. اسکار چونکہ سمبا کا چچا ہے لہٰذا وہ 'سمبا' کو ہلاک کرنے کی سازش کرتا ہے مگر 'موفاسہ' عین وقت پر پہنچ کر اپنے بیٹے کو بچا لیتا ہے. 'اسکار' ایک بار پھر لکڑبھگوں کیساتھ مل کر بڑی سازش کرتا ہے اور 'موفاسہ' کو قتل کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے. چھوٹے سے 'سمبا' کو وہ یہ تاثر دیتا ہے کہ اس کا باپ 'موفاسہ' اسکی وجہ سے حادثاتی موت مرگیا ہے. وہ 'سمبا' کو بھاگ جانے کا مشورہ دیتا ہے اور اسکے جاتے ہی اسکے پیچھے لکڑبھگوں کو اسے ہلاک کرنے کیلئے بھیج دیتا ہے. یہ لکڑبھگے اسے ہلاک نہیں کر پاتے اور 'سمبا' بچ نکلتا ہے.
.
'سمبا' احساس جرم دل میں لئے دوسرے جنگل جاکر کچھ نئے دوست بناتا ہے جو اسے 'اکونو مٹاٹا' کا ایک نیا فلسفہ سکھاتے ہیں. جس کے مطابق بے حس ہو کر بناء کسی ٹینشن کے زندگی گزارنی چاہیئے. شکار کی بھی فکر نہ کرو، بلکہ بکھرے ہوئے کیڑے مکوڑے کھالو. 'سمبا' ان ہی کے ساتھ پل بڑھ کر جوان ہوجاتا ہے اور پھر ایک روز اچانک اسکی ملاقات اپنی بچپن کی منگیتر 'نالا' سے ہوجاتی ہے. وہ بتاتی ہے کہ سب کو یہی بتایا گیا ہے کہ تم مر چکے ہو. 'اسکار' نے لکڑبھگوں کیساتھ مل کر بادشاہت سنمبھال رکھی ہے. بربریت سے تمام جنگل تباہ ہوچکا ہے. 'نالا' اسے واپس جا کر اپنا تخت چھیننے کیلئے ابھارتی ہے، جواب میں 'سمبا' انکار کرکے اسے بھی 'اکونو مٹاٹا' کی تھیوری سمجھاتا ہے. 'نالا' غصہ کرکے کہتی ہے کہ بے فکری کا نام لے کر تم اپنی ذمہ داری اور حقیقت سے فرار حاصل نہیں کرسکتے. 'سمبا' تنہائی میں جاکر سوچنے لگتا ہے تو وہاں وہی شاہی کاہن لنگور 'رافیکی' آجاتا ہے جو اس سے اپنے ملنگ انداز میں پرمغز گفتگو کرتا ہے. 'سمبا' کہتا ہے کہ ماضی نے اسے جکڑ رکھا ہے. جواب میں لنگور اس کے سر پر اپنی لاٹھی سے ضرب لگاتا ہے. 'سمبا' تکلیف سے پوچھتا ہے کہ کیوں مارا؟ لنگور کہتا ہے فکر نہ کرو وہ ماضی تھا. 'سمبا' شکایت کرتا ہے مگر یہ تکلیف دہ تھا. اب لنگور اس کے گلے میں ہاتھ ڈال کر کہتا ہے کہ ہاں ماضی تکلیف دہ ہوسکتا ہے مگر تم دو رویئے اپنا سکتے ہو. یا تو ماضی سے بھاگتے رہو یا پھر ماضی سے سبق حاصل کرو. یہ جملہ کہتے ہی لنگور دوبارہ ضرب لگانے کی کوشش کرتا ہے مگر اس بار 'سمبا' سر جھکا کر خود کو بچا لیتا ہے. گویا 'سمبا' نے ماضی یعنی پہلی ضرب سے سیکھ کر دوسری ضرب سے خود کو بچالیا تھا. اسی دوران اس ملنگ لنگور کے ذریعے 'سمبا' پر کشف کی کیفیت طاری ہوتی ہے جس میں اسے اپنا باپ 'موفاسہ' یہ شکایت کرتا ہوا نظر آتا ہے کہ 'سمبا' تم نے مجھے بھلا دیا. 'سمبا' چیختا ہے کہ نہیں میں آپ کو کیسے بھلا سکتا ہوں بابا؟ 'موفاسہ' جواب دیتا ہے کہ تم نے اپنی حقیقت بھلا دی یعنی مجھے بھلادیا. اس کشف کے بعد 'سمبا' واپس اپنے آبائی جنگل جاتا ہے اور 'اسکار' سے اسکا خونی معرکہ ہوتا ہے. جس کے دوران 'اسکار' یہ اعتراف بھی کرلیتا ہے کہ 'موفاسہ' کا قاتل وہی ہے. 'اسکار' کا انجام دردناک ہوتا ہے کہ اس کے ساتھی سینکڑوں لکڑبھگے اس کی مطلب پرستی سے ناراض ہوکر اس پر حملہ کردیتے ہیں اور اسے کھا جاتے ہیں. 'سمبا' اپنے باپ کا تخت بلاخر سنبھال لیتا ہے اور ایک بار پھر جنگل میں خوشحالی اور انصاف لوٹ آتا ہے. مووی کا اختتام اس پر ہوتا ہے کہ 'سمبا' اور 'نالا' کے گھر بیٹی/بیٹا پیدا ہوا ہے. جسے وہی ملنگ شاہی لنگور 'رافیکی' گود میں اٹھا کر سارے جنگل کو دیکھاتا ہے اور سب جانور احترام سے گھٹنے ٹیک دیتے ہیں.
.
====عظیم نامہ====

Tuesday, 7 March 2017

میری ایک جذباتی سیاسی تحریر


میری ایک جذباتی سیاسی تحریر 


.
وہ احباب جو زرداری، نواز شریف، الطاف حسین یا کسی اور لیڈر کے دن رات گن گاتے رہتے ہیں. ان لیڈروں کی ہر جائز ناجائز بات کا دفاع کرنا خود پر فرض سمجھتے ہیں اور ان پر کسی بھی قسم کی تنقید سن کر آگ بگولہ ہوجاتے ہیں. دل چاہتا ہے کہ ان سے کہوں کہ اگر آپ اپنے لیڈر کو اتنا ہی پرفیکٹ اور نیک تسلیم کرتے ہیں تو دو رکعت نفل پڑھ کر یا صرف ہاتھ اٹھا کر دل سے  رب کریم سے دعا کریں کہ وہ آپ کی اولاد کو اسی لیڈر جیسا بنادے اور آپ کا حشر آخرت میں اسی لیڈر کے ساتھ کرے. اگر آپ ایسی دعا کر سکتے ہیں تو کم از کم آپ اپنے قول و فعل میں سچے ہیں. آپ اپنے کہے میں صحیح یا غلط تو ہوسکتے ہیں مگر جھوٹے نہیں. لیکن  اگر آپ ایسی کوئی دعا اس لئے نہیں کرتے کہ آپ جانتے ہیں کہ آپ کا من پسند لیڈر کرپٹ ہے یا اس کے ہاتھ خون سے رنگے ہوئے ہیں تو امکان ہے کہ روز قیامت آپ کو پیشانی کے بالوں سے پکڑا جائے اور آپ کو ایک مجرم کا دست بازو بننے پر اسی کا ساتھی شمار کیا جائے. 
.
میں جانتا ہوں کہ وطن عزیز میں ہر شاخ پر الو بیٹھا ہے لہٰذا ہمیں کسی بہتر الو کا ہی انتخاب کرنا ہوگا. مگر خدا کے لئے نواز ہو یا عمران، الطاف ہو یا فضل الرحمٰن کسی کی بھی شخصیت پرستی اختیار نہ کیا کریں. افسوسناک امر یہ ہے کہ فیس بک پر بھی کچھ ذہن ساز لکھاری اسی شخصیت پرستی میں مبتلا نظر آتے ہیں. اتنا حوصلہ رکھیں کہ جہاں کسی کی اچھی بات پر تعریف کرسکتے ہوں وہاں اسی کی کسی بری بات پر کھل کر تنقید بھی کرسکیں. عجیب ماحول بنالیا ہم نے کہ یہاں یا تو ایک لیڈر کو موسیٰ کی مسند پر بیٹھا دیا جاتا ہے یا پھر سیدھا فرعون کا تمغہ دیا جاتا ہے. بیچ کا کوئی امکان ہی نہیں .. یہاں ایسا کوئی تصور نہیں ہے کہ ایک شخص کی بیک وقت کچھ باتیں غلط اور کچھ صحیح تسلیم کی جایئں .. یہاں حق کو حق کہنے اور باطل کو باطل کہنے کا رواج نہیں ہے. یہاں حق و باطل کی کسوٹی انصاف نہیں عقیدت بن گئی ہے. یہاں اگر آپ نے کسی لیڈر کو حق کہنا ہے تو اسکے باطل کو بھی حق کہنا ہے، اور اگر کسی کو باطل پکارنا ہے تو اسکے حق کو بھی باطل پکارنا ہے. مجھ سے واقف لوگ یہ بات خوب جانتے ہیں کہ میں نے اگر آج تک کسی لیڈر کی کھل کر حمایت کی ہے، اسکے حق میں تحریریں لکھی ہیں تو وہ عمران خان ہے. ایک پرانی تحریر کا لنک نمونے کے طور پر پہلے کمنٹ میں درج کررہا ہوں. میں آج بھی خان صاحب کی کچھ باتوں سے ناراض ہونے کے باوجود ان سے محبت محسوس کرتا ہوں، ان سے امید رکھتا ہوں مگر کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی پے درپے حماقتوں کا وکیل بن کر دفاع کرتا رہوں؟ ان پر تنقید نہ کروں؟ خان صاحب نے کوئی ایک بیوقوفی نہیں کی ہے بلکہ سیاسی و شخصی حماقتوں کی ایک طویل فہرست مرتب کردی ہے. جن میں سے کوئی نہ کوئی ہر دوسرے روز اخبارات کی زینت بنتی رہتی ہے. جب آپ نے خود کو قومی لیڈر  بنا کر پیش کردیا تو اب آپ پبلک پراپرٹی ہیں. جس طرح کرپشن کرنے والے کو کرپٹ کہا جاتا ہے ویسے ہی بیوقوفیاں کرنے والے کو بیوقوف پکارا جائے گا. نواز لیگ، انصافی کارکنان اور تمام جماعتوں کے اراکین میں یہ جرأت ہونی چاہیئے کہ وہ اپنے من پسند لیڈر پر بھی جہاں وہ غلط ہے تنقید کرسکیں. ساتھ ہی اپنے مخالف کی تنقید کو کھلے ذہن سے سننے کی ہمت پیدا کریں. یہ ہوگا تو حقیقی شعور بیدار ہوسکے گا. یہ نہیں ہوگا تو شعور کے نام پر صرف دھینگا مشتی ہوگی. 
.
====عظیم نامہ====



Sunday, 5 March 2017

فیس بک کو ہلکا نہ لیں




فیس بک کو ہلکا نہ لیں


.
 فیس بک اپنی سوچ کے اظہار کیلئے ایک انتہائی طاقتور ذریعہ بنتا جا رہا ہے. پہلے عظیم نامہ کے عنوان سے میری تحریر کچھ احباب پڑھتے تھے، پھردیکھتے ہی دیکھتے سینکڑوں لوگ پڑھنے لگے، سینکڑوں سے تعداد ہزاروں تک چلی گئی، پھر معلوم ہوا کہ کچھ معروف فیس بک پیجز اور گروپس بھی ان تحریروں کو شیئر کررہے ہیں، پھر کچھ بڑی اردو ویب سائٹس نے تحریروں کو شائع کیا، پھر کچھ رسالوں نے تحریروں کو شامل کیا، پھر ملک کے نمائندہ اخبارات نے کئی تحریروں کو خود ہی چھاپ دیا، پھر سیک سیمینار لاہور میں مجھے بطور لکھاری خطاب کا موقع دیا گیا، پھر کچھ اخبارات نے مجھے مستقل کالم نگار بننے کی دعوت دی (جو تاحال میں نے قبول نہیں کی)، پھر بڑے صاحبان علم نے میری کچھ تحریروں کو اپنی کتب میں جگہ دی (جو منظر عام پر بہت جلد آرہی ہیں)، پھر میری تحریروں اور کچھ ویڈیوز کو دیکھ کر دو ٹی وی چینلز کے متعلقین نے خود رابطہ کیا (امید ہے کہ مستقبل قریب میں کوئی ترتیب بن جائے)
.
 یہ سب مجھے بناء کسی اضافی کوشش کے، صرف فیس بک پر تحریریں لکھنے سے حاصل ہورہا ہے. حالانکہ میں پوری دیانتداری سے اور بناء کسی انکساری کے یہ بات بخوبی جانتا ہوں کہ حد سے حد میں ایک اوسط درجے کا لکھاری ہوں اور مجھ جیسے بلکہ مجھ سے کہیں بہتر بہت سے لکھاری اسی فیس بک پر موجود ہیں. اس فیس بک نے عوام میں موجود ہر اس سوچنے والے ذہن کو ایک بہترین پلیٹ فارم مہیا کردیا ہے جو اظہار کی صلاحیت و قوت رکھتا ہے. اب یہ آپ پر ہے کہ اچھا لکھ کر اپنا لوہا منوائیں.
.
 ====عظیم نامہ====

ایک بزرگ کی دو نصیحتیں



ایک بزرگ کی دو نصیحتیں



۔
 کبھی تھوڑے سے مزہ کیلئے گناہ نہ کرنا ۔۔ کیونکہ مزہ جلد مٹ جائے گا مگر گناہ آخرت تک تمہارے ساتھ رہے گا۔
۔
 کبھی تھوڑی سی مشقت کیلئے ثواب نہ چھوڑنا ۔۔ کیونکہ مشقت جلد مٹ جائے گی مگر ثواب آخرت تک تمہارے ساتھ رہے گا۔
۔
 گویا ہر گناہ کے کرنے میں لطف ہے تب ہی تو ہم جانتے بوجھتے اس کا ارتکاب کر بیٹھتے ہیں۔ مگر یہ لطف بہت تھوڑا سا اور عارضی ہے جبکہ اس کے عیوض ملنے والا گناہ بناء توبہ کے دائمی ہے۔ لہذا میرے دوست بدنظری سمیت کسی بھی گناہ کو لطف کے سبب کبھی نہ کرنا۔ 
۔
 اس کے برعکس تہجد میں اٹھنا ہو، فجر میں مسجد کیلئے گھر سے نکلنا ہو یا پھر کسی عزیز کی عیادت کو جانا ہو۔ ہر نیکی میں ایک مشقت ہے۔ مگر یہ مشقت تھوڑی اور عارضی ہے جبکہ اسکے عیوض حاصل ہونے والا اجر دائمی ہے۔ لہذا میرے رفیق عبادات ہوں یا معاملات، کسی بھی نیکی کے موقع کو مشقت کے سبب کبھی نہ چھوڑنا۔ 
۔
 ====عظیم نامہ====

Friday, 3 March 2017

وہ 'ایک' صلاحیت


وہ 'ایک' صلاحیت 



ہم تین بھائی ہیں، جن میں سب سے چھوٹا میں ہوں. میرے سب سے بڑے بھائی اور میں اسپورٹس میں کم و بیش ایک ہی جیسے تھے مگر منجھلا یعنی مجھ سے بڑا بھائی اپنی نوجوانی میں غیرمعمولی کرکٹر تھا. کرکٹ کا شوق بلکہ جنون وہ لے کر پیدا ہوا تھا. گھر والے بتاتے ہیں کہ تمام کھلونے چھوڑ کر اسے اپنے پاس بیٹ بال چاہیئے ہوتا. بچے پہلا لفظ اللہ بولتے ہیں یا اماں بولتے ہیں یا ابا بولتے ہیں. میرے اس بھائی نے زندگی کا پہلا لفظ 'ٹی بال' یعنی ٹینس بال بولا تھا. سوتے ہوئے بھی کرکٹ بال اپنے ہاتھوں میں بھینچ کر رکھتا اور اگر کوئی ہاتھ سے نکالنا چاہے تو بیدار ہوجاتا. جب تھوڑا بڑا ہوا تو اپنی سے دگنی عمر کے لڑکے اسے بیٹنگ کیلئے ساتھ رکھتے. جوان ہوا تو اسے کھیلنے کے پیسے آفر ہونے لگے. ایک وقت ایسا بھی آیا کہ ایک دن میں پانچ مختلف ٹیموں کیلئے بیٹنگ کرتا. ایک جگہ بیٹنگ پوری ہو جائے تو دوسری ٹیم اسے لے جانے کیلئے منتظر ہوتی اور دوسری ٹیم کیلئے بیٹنگ کر لے تو تیسری انتظار کر رہی ہوتی. ٹیمیں اس سے صرف بیٹنگ کرواکر گیارہ کی جگہ دس کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنا گوارہ کرلیتی. اس کے برعکس میں کرکٹ کا شوقین ضرور تھا مگر چاہ کر بھی اس جیسا اسٹائلش کھیلنے سے قاصر تھا. میری اور بھائی کی شکلیں ان دنوں خاصی ایک سی لگتی تھیں، قد کاٹھ بھی ایک سا تھا لہٰذا اکثر ایسا ہوتا کہ کچھ اجنبی مجھے کھیلتا دیکھا کر میدان میں تماشائی بن کر بیٹھ جاتے کہ فہیم کا بھائی عظیم کھیل رہا ہے، ضرور اچھا کھیلے گا. پھر چاہے میں کتنا ہی اسکور کیوں نہ کرلوں؟ وہ یہ ہی کہتے نظر آتے کہ اس میں اپنے بھائی جیسی بات نہیں ہے.
 :)
.
 اخبارات جب کبھی کسی میچ کی روداد میں بڑے بھائی کی شاندار کارکردگی کا ذکر کرتے تو وہ مجھے دیکھا کر مجھے چھیڑتا کہ کبھی تمہارا نام بھی آیا ہے؟ خود کو ملنے والے میڈل اور ٹرافیاں بھی وہ مجھے دیکھا کر ایسے تنگ کرتا جیسے بڑے بھائی چھوٹے بھائیوں کو کیا کرتے ہیں. اس دوران میں خوب جان لگاتا رہا کہ اس جیسا کھیل سکوں لیکن نہیں کر پایا. پھر کچھ والدین کی ترغیب نے اور کچھ حالات کے الٹ پلٹ نے مجھے یہ بات سمجھائی کہ لازمی نہیں کہ بھائیوں میں ایک ہی جیسی صلاحیت ہو. مجھ پر یہ واضح ہونے لگا کہ غیرمعمولی صلاحیتیں تو مجھ میں بھی موجود ہیں مگر وہ مختلف ہیں. اللہ تعالیٰ نے مجھے انداز بیان کا سلیقہ عطا کیا تھا جس پر محنت کرکے میں نے جلد ہی اپنا مقام پیدا کرلیا. اسکول، کالج، یونیورسٹی لیول پر میرے ڈنکے بجنے لگے. شہری اور ملکی سطح پر قریب قریب تمام نمائندہ اعزازات میں نے اپنے نام کرلیئے. اخبارات اور ریڈیو پر کئی انٹرویوز ہوئے. ٹی وی پر کئی بار ذکر ہوا. یونیورسٹی نے فیسیں معاف کر دی اور چینلز طرح طرح کی آفرز دینے لگے. کمرہ ٹرافیوں، میڈلز اور انعامات سے بھر گیا. اب میں اپنے بھائی کو چھیڑتا کہ کبھی تمہارا بھی اتنا بڑا انٹرویو شائع ہوا ہے؟ اور وہ محبت سے ہنس دیتا. 
.
 اپنی اس روداد کو آپ سے بانٹنے کا مقصد فقط اتنا ہے کہ ہر انسان کوئی نہ کوئی ایسی صلاحیت ضرور رکھتا ہے جو اسے اکثریت سے ممتاز کرسکتی ہے مگر افسوس کہ ہم کبھی خود میں اس صلاحیت کو کھوجتے ہی نہیں. بلکہ کسی دوسرے شخص کی صلاحیت کا خود سے زبردستی تقابل کرتے رہتے ہیں. خود میں جھانک کر دیکھیئے کہ وہ کون سی 'ایک' چیز ہے جو قدرت کے تحفے کی طرح آپ میں ودیعت کی گئی ہے. اسی طرح میرے والد ایک انتہائی ٹیکنیکل ذہن والے انسان ہیں جو الیکٹرک سے لے کر پلمبنگ تک کا پیچیدہ ترین کام بڑی آسانی سے بناء کسی باقاعدہ ٹریننگ کے کرنے پر قادر ہیں. شائد میں نے اپنے دونوں بھائیوں سے زیادہ ان کے ساتھ کھڑے ہوکر کام کیا ہے مگر ان کی آدھی مہارت بھی حاصل نہیں کر پایا. آج بھی چھوٹا سا الیکٹرک کا کام بھی مجھے پریشانی میں ڈال دیتا ہے. اسکے بلکل برعکس جب میں کسی فلسفے، ادبی یا مذہبی نششت و کلاس میں ہوتا ہوں تو بقیہ حاضرین سے کہیں زیادہ تیزی سے بات کو سمجھ جاتا ہوں الحمدللہ. ایک بار کوئی اچھی نظم یا کلام سن لوں تو بناء کوشش مجھے حفظ ہوجاتا ہے. گویا وہ عظیم جو ٹیکنکل معاملات میں مشکل سے گزارا کررہا ہوتا ہے وہی عظیم ادبی و تحقیقی معملات میں باآسانی آگے نکل جاتا ہے. آپ بھی خود سے ملاقات کیجیئے اور اگر صاحب اولاد ہیں تو اپنی اولاد کو اسکی 'ایک' انمول صلاحیت ڈھونڈھنے میں مدد کیجیئے. شاعر غالب کو سائنسدان آئین اسٹائن اور باکسر محمد علی کو فلسفی سقراط بنانے کی کوشش حماقت ہے. 
.
 ====عظیم نامہ====

Thursday, 2 March 2017

پاکستان ایک ممکنہ سپر پاور



پاکستان ایک ممکنہ سپر پاور 


.
اللہ پاک مجھے بطور نعمت اولاد سے نوازتے ہیں. میں اس اولاد کی ٹھیک پرورش نہیں کرتا اور نتیجہ میں وہ بگڑ کر غنڈہ یا بدمعاش بن جاتی ہے. اب کیا یہ کہنا ٹھیک ہوگا کہ اولاد نعمت تھی ہی نہیں ؟ یا بات یوں ہوگی کہ اللہ نے تو نعمت سے نوازا تھا مگر میں نے کفران نعمت کیا جس کا نتیجہ تخریب میں نکلا. پاکستان اللہ کی ایک عظیم ترین نعمت ہے مگر ہم نے کفران نعمت کیا ہے، جس کا نتیجہ بھگت رہے ہیں. ہم نے ان کرپٹ حکمرانوں کو اپنے سر پر مسلط ہونے دیا ہے جو قیام سے لے کر اب تک باری باری اس ملک کی بوٹیاں بھنبھوڑ رہے ہیں. سیاستدان، وڈیرے، بیوروکریٹس، افواج، میڈیا، قانون ساز  ادارے سب نے ستر سالوں سے یہی کیا. جس کا جبڑا جتنا بڑا تھا، وہ اتنی ہی بڑی بوٹی اتارتا رہا. لیکن مجھے آپ جذباتی احمق کہیئے یا ذہنی مریض، میں آج بھی پورے اعتماد سے یہ دعویٰ کرتا ہوں کہ وقت قریب ہے جب ان شاء اللہ یہ ملک ترقی کی بلندیاں چھوئے گا. گو بحیثیت مسلمان ہم اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کرسکتے کہ مسلم ممالک میں پاکستان ہی وہ واحد ملک ہے جس کا قیام اسلام کے نام پر ماہ رمضان کی ستائیسویں شب کو ہوا مگر میری اس ملک سے وابستہ خوش گمانی کی بنیاد فقط روحانی پیشن گوئی نہیں بلکہ زمینی حقائق ہیں. کرپشن اور لاقانونیت اپنی جگہ سچ ہے مگر ایک سچ یہ بھی ہے کہ اس خطہ زمین اور اس میں بسنے والی قوم کو رب کریم نے ایسی خصوصییتوں سے مالامال کیا ہے جو اسے منفرد بنادیتے ہیں. پاکستان کی اسٹریٹجک لوکیشن ایسی ہے کہ دنیا میں طاقت کے توازن کو قابو میں کرنے کیلئے اسے ساتھ لے کر چلنا لازمی ہے. یہی وجہ ہے کا امریکہ، انگلینڈ وغیرہ کے اخبارات میں پاکستان کا ذکر اچھے برے انداز سے کسی نہ کسی بہانے ہوتا ہی رہتا ہے، حالانکہ بہت سے ممالک دنیا کے منظر نامے میں ایسے گمنام ہیں کہ وہاں ہوئے بڑے واقعات بھی ان اخبارات میں اپنی جگہ نہیں بنا پاتے. پاکستان کا جغرافیہ ایسا ہے کہ اگر کسی وقت تجارتی راستہ محفوظ ہو جائے تو وہ ترقی جسے حاصل کرنے میں دوسرے ممالک کو پچاس پچپن سال لگے ہیں، وہی ترقی یہ پانچ سے دس سال میں حاصل کرسکتا ہے.  پاکستان کی سرزمین لوہے، کوئلے، نمک سمیت معدنیات و دیگر وسائل سے بھرپور ہے اور امکان ہے کہ اگر صحیح طور پر کھدائی یا تحقیق کی جائے تو توقع سے کہیں زیادہ خزائن برآمد ہونگے. 
.
پاکستان اپنی کرپٹ و بزدل قیادت کی وجہ سے دنیا میں مغلوب و مجبور ضرور نظر آتا ہے مگر یہ ناقابل تردید سچ ہے کہ وہ دنیا کی ساتویں اور اسلامی ممالک کی پہلی ایٹمی قوت ہے، ایسی جدید فوج رکھتا ہے جس کی پوری دنیا معترف ہے، ایسی انٹلیجنس اجینسی کا مالک ہے جسے سی آئی اے، موساد وغیرہ سے بھی اپر پہلے مقام پر رکھا جاتا ہے، ایسی میزائل ٹیکنالوجی سے مزین ہے جو اکثر ترقی یافتہ ممالک کو بھی حاصل نہیں، ٹینک، آبدوز، جہاز سمیت ہر دفاعی ساز و سامان نہ صرف خود بنارہا ہے بلکہ دیگر ممالک کو بیچ بھی رہا ہے. گویا یہی فوج جس پر آج کچھ شہریوں کی جانب سے طنز و طعنہ کیا جاتا ہے، کل پاکستان کی معاشی ترقی کے ساتھ اسکے دفاع کی مظبوط ترین فوج بن سکتی ہے. جو نہ صرف ملک کی سرحدوں کی حفاظت کرے بلکہ دیگر ممالک پر بھی کسی زیادتی کے خلاف موثر زور ڈال سکے.  پاکستانی قوم کا شمار بجا طور پر دنیا کی ذہین ترین اقوام میں کیا جاسکتا ہے. یہ کوئی اتفاق نہیں ہے کہ ساری دنیا میں جہاں جہاں پاکستانی کمیونٹی موجود ہے وہاں نمائندہ ڈاکٹروں سے لے کر مہنگے ترین وکیلوں تک، کامیاب ترین تاجروں تک، زہین ترین سیاستدانوں تک دوسری اقوام سے کہیں زیادہ پاکستانی بیٹھے نظر آتے ہیں. یہ بھی درست ہے کہ دنیا بھر میں جہاں جہاں دو نمبر کام ہورہے ہیں ان میں بھی اکثر سب سے نمایاں کوئی نہ کوئی پاکستانی نام ہوتا ہے مگر اسکی وجہ بھی یہی غیر معمولی ذہانت ہے جو تعمیری و تخریبی دونوں کاموں میں ایک پاکستانی کو سب سے اپر لے آتی ہے. کتنے سارے مسلم مالک دنیا میں موجود ہیں مگر میں آپ کو دعوت دیتا ہوں کہ مغربی ممالک میں موجود مساجد، دعوتی مراکز، چیریٹی آرگنئزیشن اور مسلم فلاحی اداروں کا دورہ کیجیئے. آپ یہ دیکھ کر حیران رہ جائیں گے کہ قریب قریب تمام ادارے یا تو کوئی پاکستانی براہ راست چلا رہا ہے یا اس ادارے کی ٹاپ مینجمنٹ کا لازمی حصہ ہے. یہاں بھی وہی پاکستانی ذہانت کا کلیہ ہے کہ جہاں دینی مثبت کاموں میں پاکستانی نمایاں ہیں وہاں تفرقہ و دیگر منفی کاموں میں بھی پاکستانی ہی سب سے اپر نظر آئیں گے. حالانکہ کر سب رہے ہیں مگر ذہانت کی وجہ سے نظر پاکستانی سب سے زیادہ آتے ہیں. اسی طرح کس میں جرات ہے جو یورپ سے لے کر عرب ممالک تک پاکستانیوں کے جفاکش محنتی ہونے کی گواہی نہ دے؟ 
'
پاکستانی قوم کے بحیثیت مجموعی "اسپورٹس نیشن" ہونے میں کس کو شبہ ہوسکتا ہے؟ حکومتی سپورٹ نہ ہونے کے باوجود اسکواش میں تیس برٹش اور چودہ بار ورلڈ اوپن ٹائٹل جیتنے والے پاکستانی ہی ہیں، ہم ہی ہیں جنہوں نے چار بار ہاکی کا ورلڈ کپ جیتا، ١٩٩٢ میں کرکٹ کے ورلڈ چیمپئن بنے، اسنوکر کا ورلڈ کپ جیت لائے، شطرنج میں انٹرنیشنل ماسٹر کہلائے، ہمارے کوہ پیماؤں نے بلند ترین چوٹیاں سر کی، حال ہی میں باڈی بلڈنگ کا ورلڈ ٹائٹل جیتا، انسانی دوڑ اور باکسنگ وغیرہ کے مقابلوں میں تمغے جیتے. یہ سب ہم نے بناء ذرائع اور مناسب ٹریننگ کے حاصل کیا. سوچیئے جو کل ہمیں کچھ سپورٹ حاصل ہو تو کیا کریں گے؟ ہمارا تو حال یہ ہے کہ آج گراؤنڈز نہ ہونے کے سبب اگر عالمی مقابلوں میں فٹبال نہیں کھیل سکتے تو ورلڈ کپ میں استعمال ہونے والی فٹبال ہم ہی بناتے ہیں. اس کے علاوہ بھی کبڈی، باکسنگ، آرم ریسلنگ، نشانے بازی، پولو سمیت معلوم نہیں کون کون سے کھیل ایسے ہیں جن میں پاکستانیوں نے دنیا بھر میں نام پیدا کیا ہے. یہ سب کامیابیاں اس قوم میں موجود صلاحیتوں کی عکاس ہیں. 
.
یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ موجودہ دنیا میں پاور بننے کیلئے فوج یا دیگر کسی بھی شعبہ سے کہیں زیادہ اہم ہے کہ اس ملک کی معیشت مظبوط ہو. گوادر اور سی پیک معائدے کی صورت میں آج وطن عزیز کو قدرت نے ایک ایسا زبردست موقع دیا ہے جس سے صرف پاکستان ہی کا نہیں پورے خطے کا نقشہ بدل سکتا ہے. یہ کوئی دیوانے کا خواب نہیں بلکہ فی الواقع گیم چینجنگ پروجیکٹ ہے. عالمی سیاسی منظر نامے پر نظر رکھنے والے احباب بخوبی آگاہ ہیں کہ پچھلی ایک دہائی سے بھی زیادہ عرصہ سے امریکہ سمیت بہت سے ممالک اس پروجیکٹ کو روکنے کے لئے پورا زور لگا رہے ہیں. سب سے زیادہ اذیت میں اس وقت انڈیا ہے جو جلتے توے پر بیٹھا ہے. انڈین پرائم منسٹر اور صدر سے لے کر آرمی چیف تک ان گنت بار گوادر کو روکنے کا عندیہ دیتے رہے ہیں. وہ بخوبی جانتا ہے کہ گوادر اور سی پیک کی کامیابی دراصل اس کے ایشین ٹائیگر بننے کے خواب کو چکنا چور  کردے گی اور طاقت کے توازن کو پاکستان کے حق میں لے جائے گی. اب کبھی وہ امریکہ کو دہائیاں دیتا ہے، کبھی پروپیگنڈا کمپین چلاتا ہے، کبھی سرجیکل اسٹرائیک کے ڈرامے کرتا ہے اور کبھی پاکستان کو عالمی برادری میں تنہا کرنے کی سفارتی کوششیں کرتا ہے. حد تو یہ ہے کہ انڈیا نے تگڑا سرمایہ پیش کرکے ایران کے ساتھ چاھبار پورٹ بنانے کا اعلان کیا ہے، جس کا نمایاں مقصد گوادر کی اثر انگیزی کم کرنے کی کوشش ہے. دنیا کے کم و بیش تمام مبصرین چائنا کو مستقبل کی سپر پاور قرار دیتے ہیں اور گوادر کو 'چائنیز پرل' یعنی 'چین کا موتی' کہہ کر پکارتے ہیں. ظاہر ہے امریکہ یہ کبھی نہیں چاہے گا کہ چائنا مزید مظبوط ہو مگر باوجود کوشش اس کا بس چین پر نہیں چل پایا ہے اور وہ دن دگنی رات چوگنی ترقی کررہا ہے. امریکہ چائنا کو روکنے کیلئے انڈیا کو مظبوط کرتا آیا ہے تاکہ اسکی معاشی ترقی کو ممکنہ حد تک روک سکے مگر دوسری جانب چائنا بھی بیوقوف نہیں ہے وہ انڈیا پر روک لگانے اور اسے الجھائے رکھنے کیلئے ہمیشہ سے پاکستان کو زبردست مدد فراہم کرتا رہا ہے. امریکہ ویسے تو اپنے باپ کا بھی سگا نہیں رہا ہے مگر پاکستان کو وہ ہمیشہ کبھی طاقت کا رعب دیکھا کر اور کبھی امداد کا لالی پاپ دے کر اپنے اشاروں پر چلاتا آیا ہے. ٹرمپ جیسے جنونی کے آنے کے بعد امریکی منافقت کی چادر چاک ہوگئی ہے اور لیاقت علی خان کے دور کے بعد آج پہلی بار یوں محسوس ہورہا ہے کہ پاکستان امریکہ کی جھولی سے نکل رہا ہے. سونے پر سہاگہ یہ کہ ٹرمپ نے انڈیا کی محبت میں جو بیانات دیئے ہیں، اسکے بعد پاکستان کو امریکہ سے کوئی خاص امید باقی نہیں رہی ہے. 
.
سب واقف ہیں کہ امریکہ کو جن دو ممالک سے سب سے زیادہ خطرہ رہتا ہے ، وہ ہیں روس اور چائنا. لطف کی بات یہ ہے کہ پاکستان نے روس اور چین دونوں کے ساتھ مل کر اپنا کیمپ امریکہ سے الگ کرلیا ہے. سی پیک اسی کا حصہ ہے. افغانستان میں روس اپنی شکست کا ذمہ دار بجا طور پر پاکستان کو مانتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس نے پاکستان سے اپنی فوجی ہزیمت کے بعد کبھی مثبت تعلقات نہیں رکھے. یہ پہلی بار ہے کہ روس نے ماضی بھلا کر پاکستان سے ہاتھ ملا لیا ہے، اس کا ایک اور بڑا ثبوت حال ہی میں کی جانے والی روسی اور پاکستانی فوج کی پاکستان کی سرزمین پر مشترکہ مشقیں ہیں. روس کے اس اقدام نے انڈیا کا جس درجے میں دل توڑا ہے، اس کا اندازہ انڈین چینلز کے تجزیاتی پروگرامز دیکھ کر ہی کیا جاسکتا ہے. زرداری کے دور حکومت میں امریکہ اور انڈیا گوادر پروجیکٹ کو التواع میں ڈالنے میں کامیاب ہوگئے تھے مگر پچھلے سالوں میں پاکستان آرمی نے براہ راست چین کو گوادر کی تعمیر اور تعمیر کی یقین دہانی کرائی ہے. جس کے بعد اب اس پروجیکٹ کو سیاسی دباؤ سے روکنا ممکن نہیں رہا ہے. پاکستان ایران گیس پائپ لائن منصوبہ ابھی بھی التواع کا شکار ہے مگر اب ایران کی جانب سے اسے پایہ تکمیل تک پہنچانے کے اشارے دوبارہ مل رہے ہیں. اگر یہ منصوبہ بنا تو چائنا اور ایران کو جو فائدہ ہونا ہے وہ تو ہونا ہی ہے مگر پاکستان کی بھی انرجی کی تمام ضروریات مکمل ہوسکیں گی.  گوادر پورٹ کو چلانے کیلئے جب آغاز میں مختلف ممالک نے ٹینڈرز پیش کیئے تھے تو پاکستان نے دبئی پورٹ ورلڈ کو قبول کیا تھا مگر انڈیا نے دباؤ ڈال کر اسے پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیا تھا. اب چین نے اپنی ہی 'چائنیز اوور سیز پورٹ اتھارٹی' کو گوادر کی ذمہ داری سونپ دی ہے جسے چھیالیس بلین ڈالرز کی خطیر رقم سے کھڑا کیاجارہا ہے. لہٰذا انڈیا یا امریکہ اب اسے روکنے سے قاصر ہیں. گوادر پاکستان کی گہرے گرم پانی کی پہلی پورٹ ہوگا جو دنیا میں گنتی کے چند ممالک کو حاصل ہے اور جسے چائنا کو ٢٠٥٩ تک ٹھیکے پر سونپ دیا گیا ہے، اسکے بعد یہ پاکستان نیول بیس میں تبدیل کردینے کا امکان ہے. دھیان رہے کہ کراچی پورٹ گہرے پانی کی پورٹ نہیں ہے. گہرے پانی کی پورٹ میں جہاز کو پانی میں کھڑے رہتے ہوئے آف لوڈ کیا جاسکتا ہے، جس سے وقت و سرمایہ دونوں محفوظ ہوتے ہیں. گوادر کے ذریعے کیا کچھ کیا جا سکتا ہے؟ اسکے بارے میں عالمی سطح پر بہت سی قیاس آرائیاں موجود ہیں. مگر جو بات حتمی ہے وہ یہ کہ چائنا سمیت کئی دیوقامت تجارتی حجم والے ممالک گوادر کو تیل سمیت دیگر اشیاء کیلئے تجارتی روٹ کے طور پر استعمال کریں گے جس سے پاکستان کو کروڑوں ڈالرز کی مستقل کمائی حاصل ہوگی، لاکھوں نوکریاں اور کاروباری سرگرمیاں پیدا ہونگی. 
.
اب چونکہ امریکہ اور انڈیا یہ جان چکے ہیں کہ اس سی پیک کو روکنا ممکن نہیں ہے لہٰذا اب ان کا لائحہ عمل یہ ہے کہ پاکستان کے حالات جو پہلے ہی خستہ ہیں، انہیں آخری حد تک خراب کردیا جائے. انڈیا اب اپنے آقا امریکہ کے آشیرباد سے پانچ طریقوں سے پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے. پہلا طریقہ یہ کہ پاکستان کو اسکی ہندوستانی سرحد پر حالت جنگ یعنی ریڈ الرٹ میں کسی نہ کسی بہانے سے رکھا جائے تاکہ فوج کی توانائی ملک کے اندر دیگر سرگرمیوں میں اچھی طرح استعمال نہ ہوسکیں. دوسرا طریقہ انڈیا کا وہ خواب ہے کہ امریکہ کی طرح وہ بھی پاکستان میں سرجیکل اسٹرایکس کرسکیں، اس طریقے کو عملی جامہ پہنانے کی ہمت تو یہ نہ کرسکے البتہ اسی سرجیکل حملے کا ایک جھوٹا ڈرامہ رچا کر انڈیا پوری دنیا میں لطیفہ بن گیا. تیسرا طریقہ امداد اور انٹلیجنس کے ذریعے پاکستان مخالف جماعتوں کو ملک کے اندر مدد پہنچانا ہے. بلوچ لبریشن آرمی سمیت دیگر تنظیموں کو اس وقت انڈیا کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے اور ان کے لیڈر انڈیا میں بیٹھ کر بھی آپریٹ کررہے ہیں. امریکی سی آئی اے کا ریمنڈ ڈیوس ہو یا بلوچستان میں انڈین راء کا پکڑا جانے والا کلبھوشن یادو. سب کا مشن پاکستان کی 'پراکسی وار' کے ذریعے تباہی ہے. چوتھا طریقہ افغانستان کے راستے پاکستان میں دہشت گردی کا فروغ ہے. انڈیا اس وقت افغانستان میں جتنا مظبوط ہے، اس کا آدھا مظبوط بھی وہ تاریخی طور پر کبھی نہیں رہا. پھر پاکستان نے اپنی حماقتوں کے سبب بھی اپنے افغان بھائیوں کو اپنا دشمن بنالیا ہے. حامد کرزئی جیسے سکہ بند امریکی چمچے اسوقت طاقت میں ہیں جو پاکستان کے قبائلی علاقوں کی نفسیات سے بھی خوب واقف ہیں لہٰذا پاکستان کو مسلسل اس محاذ پر ہزیمت کا سامنا ہے. حالیہ بم دھماکوں سے یہ محاذ ایک بار پھر واضح ہوگیا ہے. پاکستان کی جانب سے حال ہی میں افغان بارڈر کو سیل کرنا اسی کے تدارک کی پاکستانی کوشش ہے. پانچواں طریقہ جو اپنایا گیا ہے اسے 'فورتھ جنریشن وار' کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے، جس میں دفاعی اداروں اور عوام کے مابین نفرت و دوری پیدا کی جاتی ہے. اس کے لئے سوشل میڈیا سمیت حقوق نسواں یا انسانی اداروں کی آڑ لے کر امریکہ اور انڈیا ان افراد کو فنڈ کررہا ہے جو عوام میں نفرت، غصہ اور مایوسی کو ہوا دے سکیں. افسوس یہ بھی ہے کہ بناء معاوضہ لئے بھی ایسے لوگ بکثرت دستیاب ہیں جو پاکستان کے خلاف دن رات زہر افشانی کرنے کو اپنا مشن بنائے ہوئے ہیں. ایک امکان یہ بھی ہے کہ ابھی حالیہ طور پر جن سوشل میڈیا پر متحرک افراد کو گرفتار یا غائب کیا گیا ہے ان کا شمار اسی فورتھ جنریشن وار کے متعلقین میں ہو. گو یہ فقط ایک امکان ہے. اسکے علاوہ بھی مذہبی منافرت کے فروغ اور ثقافتی یلغار سمیت کئی ایسے زاویئے ہیں جن پر دشمن پوری تندہی سے کام کر رہا ہے. گویا اس وقت پاکستان کو جتنے محاذوں کا سامنا ہے اس کا تصور بھی دیگر ممالک نہیں کرپاتے. یقینی طور پر ابتداء میں ہم نے وہ اقدام نہیں کیئے جو کرنے تھے اور جس سے دشمن کو اپنے پاؤں کسی حد تک جمانے کا موقع حاصل ہوا مگر خوش آئند بات یہ ہے کہ اب ہم کھل کر لڑرہے ہیں. قوم اب دشمن کو پہچان پارہی ہے. وزیرستان سے لے کر کراچی تک کیئے گئے آپریشن اگر مکمل نہیں تو بڑی حد تک دشمن کو کمزور کرنے میں کامیاب رہے ہیں. حالیہ بم دھماکوں سے یہ نتیجہ نکلنا کہ آپریشن ناکام رہے، ایک نہایت غلط اپروچ ہے. یہ ایک طویل جنگ ہے جو ہم بہت سے محاذوں پر ایک ساتھ لڑ رہے ہیں لیکن کامیابی ان شاء اللہ پاکستان کی قسمت ہے. 
.
ممکن ہے کہ میری اس تحریر کو پڑھ کر کچھ قارئین مجھ پر زید حامد ہونے کا گمان کریں مگر ایسا نہیں ہے. میں اپنے ملک کی ناکامیوں اور خامیوں دونوں سے اتنا ہی آگاہ ہوں جتنا کے آپ سمیت ہر پاکستانی مگر مجھے لگتا ہے کہ مسلسل مشکلات اور مایوسی کے مبلغ نام نہاد دانشوروں کی وجہ سے ہم آج بحیثیت قوم اپنی خوبیاں چاہ کر بھی نہیں دیکھ پاتے. ہم کسی نفسیاتی مریض کی طرح اپنی خوبی میں بھی زبردستی خامی تلاش کرنے لگے ہیں. ہم تو بس  کسی لٹی ہوئی بیوہ کی طرح ماتم کررہے ہیں، کوسنے دے رہے ہیں، صلواتیں سنارہے ہیں. میرا ماننا ہے کہ اپنی خامیوں کا ادرک جتنا ضروری ہے، اتنا ہی یا شائد اس سے بھی زیادہ لازمی اپنی خوبیوں کو جاننا ہے. خامیوں اور خوبیوں دونوں کا دیانت دارانہ تجزیہ ہی ہمیں درست سمت میں اپنا کردار ادا کرنے پر آمادہ کرسکتا ہے.  صرف خامیوں کی تسبیح پڑھتے رہنا مایوسی کی دلدل کے سوا اور کچھ نہیں پیدا کرسکتا. 
.
خدا کرے میری ارض پاک پر اترے
وہ فصلِ گل جسے اندیشہء زوال نہ ہو
.
====عظیم نامہ====