Sunday, 31 December 2017

تعارف

تعارف  

 "ڈوبتے سورج نے اہل زمین سے پوچھا ، "میرے بعد اس دنیا کو کون روشن کرے گا ؟

ایک ٹمٹماتا چراغ بولا ، میں کوشش کروں گا


میرا نام عظیم الرحمٰن ہے. میں نہ تو عالم ہوں نہ فاضل اور نہ ہی کوئی مستند تحقیق نگار. زبان اردو میں اگر کوئی لفظ میرا تعارف فراہم کرسکتا ہے تو وہ ہے مرکب لفظ 'طالب علم' . میں ایک معمولی طالبعلم ہوں کتاب الله قران کا اور دین الله اسلام کا

علماء کے قحط اور علمی انحطاط کے اس دور میں جب اجتہاد و تحقیق اجنبی الفاظ بن گۓ اور سوچنا جرم قرار پایا ہے. یہ امر لازم ہوگیا ہے کہ قران حکیم اور جدید علوم دونوں  سے آگاہی رکھنے والے افراد سامنے آکر یہ جائزہ لیں کہ قران پاک نئی تحقیقات کی روشنی میں کیا مطالب فراہم کر رہا ہے ؟
عبدالله ابن عباس رضی الله عنہ کو مفسر اعظم تسلیم کیا جاتا ہے، جب آپ کے انتقال کے ایام قریب تھے تو لوگوں نے استفسار کیا کہ اے عبداللہ ! آپ کے بعد کون ہمیں قران کے خزائن بتاۓ گا ؟ کون قران کی تفسیر کرے گا ؟ اس موقع پر آپ رضی الله عنہ نے وہ تاریخ ساز الفاظ کہے جو وقت اور اذہان دونوں پر ثبت ہو گئے. آپ کے فرمان کا خلاصہ ہے کہ

"قران ہر آنے والے دور میں اپنی تفسیر خود فراہم کرتا ہے"

المیہ یہ ہے کہ ہمارے علماء کی ایک کثیر تعداد نے خود کو تقلید اور تفرقے کے خول میں قید کرلیا. دنیا اور دین کے علوم میں فرق کرکے ایسی تخصیص کی کہ جدید فلسفوں سے بلکل نابلد ہو گئے. بقول اقبال

حقیقت خرافات میں کھو گئی
یہ امت روایت میں کھو گئی


یہ کوئی اتفاق نہیں ہے کہ مسلم نوجوان نسل میں مقبول اسکالروں کی اکثریت آج روایتی مدرسوں کے فارغ التحصیل نہیں ہیں. ڈاکٹر اسرار احمد سے لیکر جاوید احمد غامدی تک، ڈاکٹر ذاکر نائیک سے لے کر شیخ احمد دیدات تک، مولانا مودودی سے لیکر پرفیسر احمد رفیق تک، یاسر قاضی سے لیکر نعمان علی خان تک. یہ سب اور بہت سے مزید مقبول اشخاص جو مسلم نسل کی ذہن سازی کر رہے ہیں وہ سب جدید علوم پر دسترس رکھتے ہیں
روایتی علماء کا بدقسمتی سے یہ حال ہے کہ انہیں بخاری شریف تو زبانی یاد ہوگی، مثنوی کے دقیق نقطے تو وہ با آسانی بیان کر سکتے ہونگے مگر جدید اذہان میں پیدا ہونے والے سوالات سے وہ ربط پیدا نہیں کرسکتے. وہ نہیں جانتے کہ چارلس ڈارون ، کارل مارکس ، رچرڈ ڈاکن کون ہیں ؟ نظریہ ارتقاء کیا بلا ہے ، تھیوری آف ریلٹوٹی کس چڑیا کا نام ہے ؟ لہٰذا انکا ہتھیار یہی ہوتا ہے کہ ایسے کفریہ سوال نہ پوچھو، اسلام سے باہر ہو جاؤ گے. نتیجہ الحاد اور شکوک کی صورت میں برآمد ہوا
یہی وجہ ہے کہ مجھ جیسا احقر طالبعلم اپنی تمام تر ناقص العلمی کے اعتراف کے باوجود یہ کاوش کرنے پر مجبور ہے کہ ان جدید فلسفیانہ شکوک کے جوابات دے، دین کی گم گشتہ حکمت کو کھوجنے کی کوشش کرے اور پھر اہل علم کو اپنی اس کوشش پر علمی تنقید و اصلاح کی دعوت دے. یہ بلاگ اسی کی کڑی ہے. میری اپنے رب سے دعا ہے کہ وہ اسے قبول کرے. آمین یا رب العالمین 

===عظیم نامہ====

Friday, 14 July 2017

تعزیت


تعزیت



آج پھر میری زبان خشک ہو گئی اور آواز حلق میں اٹکنے لگی. معلوم نہیں کیوں؟ لیکن میں کسی سے تعزیت نہیں کر پاتا. ایسا نہیں ہے کے مجھے ان کے دکھ کا احساس نہیں ہوتا یا میں تعزیت کرنے کو برا سمجھتا ہوں.... بلکے میرے نزدیک تو کسی کے مشکل وقت میں اس سے تعزیت کرنا ایک خوبصورت نیکی ہے !.... مگر اس احساس کے باوجود مجھ سے تعزیت کے الفاظ ادا نہیں ہو پاتے. مجھے لگتا ہے کے جیسے میں یہ کہہ کر منافقت کر رہا ہوں کہ " بھائی مجھے آپ کے دکھ کا اندازہ ہے" .. یا یہ کہنا کہ "میں آپ کی تکلیف کو سمجھتا ہوں" ... میرا احساس صرف دعا میں ڈھل جاتا ہے یا پھر ان کی کسی عملی مدد میں ... لیکن کبھی آگے بڑھ کر الفاظ کی شکل اختیار نہیں کر پاتا. نتیجہ یہ ہے کہ میرے کئی احباب صرف اسلئے وقتی طور پر ناراض ہوگئے کہ میں نے ان سے تعزیت کے الفاظ نہیں کہے. الله مجھے یہ اخلاقی اور سماجی ہمّت عطا فرماییں. آمین.
.
====عظیم نامہ====

Monday, 12 June 2017

سورہ الحشر


سورہ الحشر


افف سورہ الحشر کی یہ آیات کس قدر پرہیبت اور طاقتورہیں.
رب العزت کے صفاتی ناموں کا جیسے ایک حسین گلدستہ ہو.
 ذرا ان درج ذیل آیات کی تلاوت و ترجمہ کو ایک بار دھیان سے پڑھیئے اور اس میں موجود ہیبت و کیفیت کو اپنے قلب میں محسوس کیجیئے. سبحان اللہ. میں نے تو نیت کرلی ہے کہ آج کل میں انہیں حفظ کرکے اپنی یاداشت کا حصہ بنالوں گا اور انہیں دہرا کر اپنے مالک سے مناجات 
کیا کروں گا. ان شاء اللہ

هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ (22)
 هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلَامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ سُبْحَانَ اللَّهِ عَمَّا يُشْرِكُونَ (23)
هُوَ اللَّهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى يُسَبِّحُ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (24)
.
 وہ اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، غائب اور ظاہر ہر چیز کا جاننے والا، وہی رحمٰن اور رحیم ہے (22)
 وہ اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ بادشاہ ہے نہایت مقدس، سراسر سلامتی، امن دینے والا، نگہبان، سب پر غالب، اپنا حکم بزور نافذ کرنے والا، اور بڑا ہی ہو کر رہنے والا پاک ہے اللہ اُس شرک سے جو لوگ کر رہے ہیں (23)
 وہ اللہ ہی ہے جو تخلیق کا منصوبہ بنانے والا اور اس کو نافذ کرنے والا اور اس کے مطابق صورت گری کرنے والا ہے اس کے لیے بہترین نام ہیں ہر چیز جو آسمانوں اور زمین میں ہے اُس کی تسبیح کر رہی ہے، اور وہ زبردست اور حکیم ہے (24)

مولوی و لبرل اور رمضان


 مولوی و لبرل



وہ مولوی پر جملے کس رہے ہیں ۔۔ یہ لبرل کا بینڈ بجا رہے ہیں
۔
وہ ان کے اکابر کی توہین کر رہے ہیں ۔۔ یہ ان کے اسکالرز کو گالی دے رہے ہیں
۔
وہ حکومتی لیڈر کو ذلیل کررہے ہیں ۔۔ یہ اپوزیشن لیڈر کی کردار کشی میں مصروف ہیں
۔ 
وہ سعودیہ کو بدمعاش کہہ رہے ہیں ۔۔ یہ ایران کو فسادی ثابت کررہے ہیں
۔ 
 غرض یہ کہ فیس بک پر رمضان المبارک کا مقدس مہینہ پورے مذہبی جوش و خروش سے منایا جارہا ہے۔ ایک عشرہ بیت چکا ہے، بس اب باقی دو عشروں میں اسی جذبے کو قائم رکھنے کی ضرورت ہے۔ لگے رہیں کہ اسی طرح کی پوسٹیں لکھنے میں آپ کی نجات پوشیدہ ہے۔ اگر مخاطب کو ذلیل کرنے والی پوسٹ نہیں لکھ سکتے تو پلیز کمنٹس میں ضرور ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالیں۔ اگر کمنٹ بھی نہیں کرسکتے تو نفرت انگیز پوسٹوں کو بڑھ چڑھ کر لائیک ضرور کریں اور یہ فیس بکی خودساختہ ایمان کا آخری درجہ ہے۔
۔
 ====عظیم نامہ====

پوچھوں گا خدا سے


پوچھوں گا خدا سے



فیس بک اسٹیٹس:
حشر کے روز میں پوچھوں گا خدا سے پہلے 
تونے روکا نہیں کیوں مجھ کو خطا سے پہلے
۔
ہمارا تبصرہ:
 اس نے تو ہمیشہ روکا۔ کبھی رسولوں کے زریعے، کبھی کتابوں کے زریعے، کبھی ضمیر کے زریعے اور کبھی فطرت سلیمہ کے زریعے۔
۔
 بس تمارے آزادی ارادہ و اختیار کو قائم رکھنے کیلئے تمہیں بندوق کے زور پر مجبور نہیں کیا۔ یہی آزادی اختیار تو انسان کو انسان بناتا ہے اور یہی تو اس دارالامتحان کی بنیاد ہے
۔
 ====عظیم نامہ====

روزمرہ کے فقہی مسائل


روزمرہ کے فقہی مسائل 


تین گھونٹ میں پانی پینا اکثر صورتوں میں اچھا ہے، مستحب ہے مگر لازمی نہیں. احادیث میں دو یا تین گھونٹ میں پانی پینے کی صراحت آئی ہے. اسی طرح بوقت ضرورت تین سے زائد گھونٹ میں پانی پینا بھی جائز ہے. گو چونکہ تعداد کو وتر کرنا احسن ہے، اسلئے بہتر ہے کہ تین، پانچ یا سات گھونٹوں میں پانی ختم کرلے. اصل ترغیب سکون و اطمینان سے پانی پینے کی ہے اور اصل ممانعت دو باتوں کی ہے، پہلی ایک گھونٹ یا ایک جھٹکے میں پانی پی جانے کی کوشش کرنا اور دوسری پانی کے برتن یا گلاس میں سانس لینا. دوسری ممانعت پر تو علماء کا اتفاق ہے مگر کچھ اہل علم نے پہلی ممانعت کی بھی اجازت دے دی ہے کہ اگر پانی کم ہو اور سکون سے ایک ہی گھونٹ میں پیا جاسکتا ہو تو یہ جائز ہے. مشاہدہ ہے کہ کچھ احباب عام سائز سے بڑے لسی کے گلاس میں بھرے پانی کو بھی زبردستی تین گھونٹوں میں ختم کرنے کی سعی کرتے ہیں اور نتیجے میں سکون سے پانی نہیں پی پاتے..
 عام طریق یہی ہے کہ بیٹھ کر پانی پیا جائے، اسی کی ترغیب دینی چاہیئے مگر اگر کسی وقت بیٹھنے کا موقع نہ مل سکے یا بیٹھنا کھڑے ہونے کے مقابلے میں سکون کے منافی ہو تو کھڑے ہوکر پانی پینا جائز ہے. رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے آب زم زم کھڑے ہو کر پیا. کچھ محققین صرف آب زم زم ہی کو کھڑے ہوکر پینا جائز کہتے ہیں. لیکن ہم تک حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ایک مستند روایت بھی پہنچی ہے، جس میں آپ نے کھڑے ہو کر پانی پیا اور حاضرین کو بتایا کہ انہوں نے یہ اسلئے کیا کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی کھڑے ہوکر پانی پی لیا کرتے تھے. حال ہی میں مولانا طارق جمیل صاحب نے وکلاء برادری سے خطاب کرتے ہوئے کھڑے ہوکرپانی پیا اور سامعین کو بتایا کہ ایسا کرنا جائز ہے. مشاہدہ ہے کہ کچھ احباب شدید اذیت میں پنجوں کے بل بیٹھ کر پانی پینے کی کوشش کرتے ہیں اور نتیجے میں پانی سکون سے نہیں پی پاتے.
.
 تمام مسلمانوں کی یہ تربیت ہے کہ پاکی کا خیال رکھنے کیلئے بیٹھ کر پیشاب کرتے ہیں. یہی عمومی سنت ہے. مگر اگر کسی خصوصی صورت میں پاکی کا کھڑے ہو کر حاصل کرنا زیادہ آسان ہو یا بیٹھ کر گندگی آنے کا زیادہ امکان ہو تو ایسے میں کھڑے ہو کر فارغ ہولینا جائز ہے. صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی متفقہ علیہ حدیث کے مطابق رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایک بار ایسا ہی کیا. اصل اہتمام گندگی سے بچنا ہے جو ظاہر ہے کہ عمومی صورتحال میں بیٹھ کر زیادہ ممکن ہے. البتہ کبھی کبھی ایسے حالات ہو جاتے ہیں جہاں بیٹھنا ممکن نہیں ہوتا جیسے شدید ضرورت میں کسی غلیظ پبلک ٹوائلٹ میں گندگی سے بچنا صرف کھڑے ہوکر ہی ممکن ہے. ظاہر ہے یہاں مخاطب مرد حضرات ہیں. 
.
 رفع حاجت سے فراغت کے بعد پانی سے طہارت حاصل کرنا احسن ہے اور اسی کا اہتمام رکھنا چاہیئے مگر یہ لازمی نہیں ہے. مثال کے طور پر آپ کسی غیر مسلم ملک میں ہیں یا کسی اور ایسی صورت میں ہیں جہاں پانی کا ٹوائلٹ میں حصول ناممکن یا مشکل ہورہا ہے اور صرف ٹائلٹ ٹشوز موجود ہیں تو ان سے بھی خود کو صاف کیا جاسکتا ہے. یہ ایسا ہی ہے جیسے لوگ دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں پتھر یا پاک مٹی کے ڈھیلے سے خود کو صاف کرلیا کرتے تھے. آپ اس کے بعد نماز بھی پڑھ سکتے ہیں یا دیگر عبادات بلکل عام حالات کی طرح کرسکتے ہیں. اصل حکم طہارت کا حصول ہے. اگر ایسی صورت درپیش ہو بہتر ہے کہ کم از کم تین بار ٹشوز استعمال کیئے جائیں. گو جیسا درج کیا کہ پانی کا استعمال پاکی کیلئے سب سے بہتر ہے اور ایک مسلم کی طبیعت طہارت کیلئے اسی کو پسند کرتی ہے. 
.
====عظیم نامہ====
.
 (نوٹ: یہ ایک طالبعلم کی ناقص سمجھ ہے جو اس نے احادیث صحیحہ اور علماء کی آراء پر قائم کی ہے. گو اس میں اختلاف کا امکان ہے)

Wednesday, 7 June 2017

تلاوت


تلاوت 



نماز کے قیام میں سورہ الفاتحہ لازمی ہے. اس کی تلاوت کے بعد جو قران حکیم پڑھا جاتا ہے، اس کے کئی طریق ہوسکتے ہیں 
.
1. آپ کوئی بھی ایک سورہ تلاوت کرلیں جیسے سورہ الاخلاص 
.
22. آپ ایک سے زائد سورتوں کی ایک ہی رکعت میں تلاوت کرلیں. یہ سورتیں دو، تین، چار یا اس سے بھی زائد ہوسکتی ہیں. جیسے سورہ الکافرون، سورہ الاخلاص، سورہ الفلق اور سورہ الناس ایک ساتھ.
.
3.  تلاوت میں سورتوں کی ترتیب اگر قران حکیم کے موجودہ نظم کے مطابق ہو تو احسن ہے مگر اگر ترتیب آگے پیچھے ہو جائے جیسے سورہ الناس پہلے پڑھ لی اور سورہ الکوثر بعد میں تب بھی نماز میں ان شاء اللہ کوئی نقص نہ آئے گا. یہ بھی سنت سے ثابت ہے. بہتر ہے کہ اسے مستقل عادت نہ بنائیں.
.
4. آپ سورہ کی تلاوت کرنے کے بجائے کوئی تین یا زائد آیات کی بھی تلاوت کرسکتے ہیں جو حجم میں قران حکیم کی مختصر ترین سورت یعنی او سورہ الکوثر یا سورہ العصر کے برابر یا زیادہ ہو.
.
5. اگر طویل ہو تو آپ ایک آیت بھی تلاوت کرسکتے ہیں جیسے آیت الکرسی 
.
66. اگر ایک ہی سورہ دونوں رکعات میں پڑھی تب بھی نماز ہو جائے گی. گو کچھ کے نزدیک فرض نماز میں بناء عذر ایک ہی سورت کی تمام رکعات میں تلاوت مکروہ ہے اور فرض کے علاوہ نمازوں میں مکروہ نہیں ہے. یاد رہے کہ کسی بات کا مکروہ ہونا ایک بات ہے اور حرام ہونا دوسری بات 
.
77. اگر کسی ایک سورہ جیسے سورہ الاخلاص سے آپ کو شدید دلی لگاؤ ہے تو آپ اسے اکثر یا ہمیشہ دیگر سورتوں کی تلاوت کے ساتھ شامل کرسکتے ہیں. احادیث میں ایک واقعہ ایسا موجود ہے جس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی رض کے ہمیشہ سورہ الاخلاص دیگر سورتوں کی تلاوت سے قبل پڑھنے کو منع نہیں کیا. گو ایسا کرنا نہ سنت ہے اور نہ ہی صحابہ کے اجتماعی عمل سے ظاہر ہے. 
.
واللہ اعلم بلصوب 
.
====عظیم نامہ====
.
 (میں ناقص العلم انسان ہوں اور اس پوسٹ کو فقط دین کے ایک طالبعلم کا فہم سمجھا جائے.)

Monday, 5 June 2017

ایجوکیشنل اور جاب کیرئیر



ایجوکیشنل اور جاب کیرئیر


اپنے ایجوکیشنل اور جاب کیرئیر کے متعلق زندگی میں ہر شخص کئی اہم فیصلے کیا کرتا ہے. یہ فیصلے اگر جلد بازی اور حماقت پر مبنی ہوں یا دور اندیشی سے خالی ہوں تو عمر بھر کا پچھتاوہ بن کر رہ جاتے ہیں. گویا دیگر عوامل کے ساتھ راقم کی دانست میں اس امر کا دھیان رکھنا بھی نہایت اہم ہے کہ عمر کے کس حصے میں آپ کون سا فیصلہ کرنے جارہے ہیں؟ دوسرے الفاظ میں ہر عمر کے کچھ تقاضے اور کچھ قیود ہوا کرتی ہیں. انہیں نظر انداز کر کے کوئی اقدام کرنا اکثر عقلمندی ثابت نہیں ہوتا. کون سے عمر کے حصے میں کون سے فیصلے کیئے جاسکتے ہیں؟ اس ضمن میں ظاہر ہے کہ نہ ہی کوئی حتمی بات کہی جاسکتی ہے اور نہ ہی کوئی قطعی فارمولہ تیار ہوسکتا ہے. البتہ تجربہ اور مشاہدے کی بنیاد پر کچھ محتاط اندازے ضرور قائم ہوسکتے ہیں، کچھ گزارشات ضرور رکھی جاسکتی ہیں. اسی بات کو ملحوظ رکھتے ہوئے ہمارا خیال کچھ یوں ہے 

.
 کم و بیش پچیس برس تک کی عمر تعلیم حاصل کرنے کیلئے ہے. ساتھ ہی کچھ پارٹ ٹائم کام بھی کیا جائے جو اپنی حقیقت میں حاصل کردہ تعلیم ہی کے اردگرد گھومتا ہو. اس دور میں کسی بھی کاروبار یا نوکری کی حیثیت ثانوی رہنی چاہیئے اور مرکزی حیثیت زندگی میں بہترین تعلیم و تربیت کا حصول ہونا چاہیئے. 
.
 کم و بیش پچیس سے تیس برس کی عمر بے خوفی سے تجربات کی ہے. ان پانچ برسوں میں آپ بڑے بڑے تجربے کر سکتے ہیں. جیسے اپنا ملک چھوڑ کر کسی دوسرے ملک جانا یا ایک کیرئیر چھوڑ کر دوسرے بلکل نئے کیرئیر میں چلے جانا وغیرہ
.
 کم و بیش تیس سے چالیس کی عمر محتاط طریق سے راستہ بنانے کی ہے. اس میں بڑے تجربات کے آپ شائد متحمل نہ ہوسکیں مگر وہ چھوٹے تجربات جو کیرئیر میں معاون ثابت ہوسکتے ہوں، انہیں اختیار کرسکتے ہیں. جیسے ایک ہی کیرئیر میں رہتے ہوئے تگڑی تنخواہ کیلئے کمپنیاں بدلتے رہنا یا ایک ہی کمپنی میں سیکھنے کیلئے رول اور ڈیپارٹمنٹ بدل لینا یا پھر جاب کے ساتھ ایسے کورسز کرنا جو ترقی کی راہ ہموار کرسکیں 
.
 کم و بیش چالیس برس کی عمر سے لے کر ریٹائرمنٹ تک آپ کو اب ایک ایسی پوزیشن پر ہونا چاہیئے، جس پر قائم رہتے ہوئے آپ آھستہ آھستہ خودرو پودے کی طرح ترقی کرتے رہیں. اس عمر میں بڑے تجربات کرنا اپنی زندگی سے جوا کھیلنے کے مترادف ہے، جس میں کبھی کامیابی اور اکثر مات ہوتی ہے. 
.
 جیسے پہلے ہی عرض کیا کہ یہ فقط محتاط اندازے ہیں کوئی حتمی فارمولہ نہیں. مگر شائد انہیں دھیان میں رکھ کر انسان اپنے کیرئیر میں جذبات کو کسی حد تک عقل کی لگام ڈال سکتا ہے. ایسے افراد کی کمی نہیں جو ایک مناسب نوکری اور زندگی ہونے کے باوجود چالیس پینتالیس برس کی عمر میں قسمت آزمانے یورپ آجاتے ہیں اور خود کو برباد کرلیتے ہیں. 
.
 ====عظیم نامہ====

Saturday, 3 June 2017

انگریزی


انگریزی 


انگریزی زبان سیکھنا آج وقت کی ضرورت ہے. کسی کو یہ حقیقت پسند آئے یا نہ آئے لیکن انگریزی آج غالب تہذیب کی زبان ہے اور اس اعتبار سے پوری دنیا کی مشترکہ زبان بن چکی ہے. بہت سے ممالک کے تعلیمی نظام اسی زبان میں موجود ہیں. باقی وہ ممالک جن کے تعلیمی نظام ان کی اپنی زبان میں ہیں وہ بھی انگریزی زبان کو سیکنڈ لینگویج کے طور پر سیکھنے کو ترجیح دیتے ہیں. انٹرنیٹ پر یوٹیوب، گوگل، وکی پیڈیا، ای بکس وغیرہ کی صورت میں جو جدید علوم کا ایک سیلاب برپا ہے، اس کا بیشتر حصہ انگریزی زبان میں ہی ہے. لہٰذا راقم کی رائے میں اپنی مادری زبان کے بعد اس زبان میں مہارت حاصل کرنے کی کوشش ہم سب کو کرنی چاہیئے. سوال یہ ہے کہ انگریزی سیکھی کیسے جائے؟ جان لیں کہ اردو ہو، عربی یا پھر انگریزی ... زبان کوئی بھی ہو ! مسلسل مشق کا تقاضہ کرتی ہے. ایسا ممکن نہیں ہے کہ آپ تین ماہ کا کوئی کریش کورس کریں اور کسی زبان کے ماہر ہو جائیں. یہ بھی یاد رہے کہ اگر آپ زبان سیکھنے کے بعد اس میں مسلسل بول چال چھوڑ دیں گے تو سال دو سال میں پھر سے زیرو ہوجائیں گے. راقم کی نظر میں چار ایسے طریق ہیں جنہیں اپنا کر آپ انگریزی زبان سیکھ سکتے ہیں.
١. انگریزی کے بنیادی قوائد یعنی گرامر سے آگہی پیدا کیجیئے. بہت زیادہ گہرائی میں جانے کی ضرورت نہیں. اکثر لوگ اس میں فیوچر ٹینس، پاسٹ ٹینس وغیرہ میں پھنس کر رہ جاتے ہیں. صرف عام گرامر جان لیں جیسے ہیو، ہیز، ہیڈ کا استعمال اور اسے یاد رکھیں. باقی گرامر کی سمجھ وقت کے ساتھ ساتھ خود آتی جائے گی.
.
٢. انگریزی کی کسی ایسی گروپ کلاس کو جوائن کرلیجیئے جہاں سارا زور انگریزی بولنے پر ہو. گروپ میں آپ سمیت سب مختلف موضوعات پر انگریزی میں گفتگو کرتے ہوں. یہ کلاس ہفتے میں دو سے تین دن ہو تو مناسب ہے. ایسی پرائیویٹ کلاسز پورے پاکستان میں ہوتی ہیں.
.
٣. اپنی ووکیبلری یعنی الفاظ کا ذخیرہ بڑھائیں. روز پانچ سے دس اچھی انگریزی کے الفاظ حفظ کرنا شروع کردیں. اسی طرح کچھ عمدہ انگریزی جملوں کا بھی رٹا لگا لیں، جو اکثر استعمال ہوسکتے ہوں. 
.
٤. انگریزی خبریں یا ڈاکیومنٹریز بغور سنیں، دیکھیں اور پڑھیں. ان میں اکثر اچھی قوائد والی انگریزی بولی جاتی ہے اور 'سلینگ ورڈز' یعنی بازاری زبان سے پرہیز کیا جاتا ہے.
.
ان چاروں باتوں کے اہتمام کے ساتھ کوشش کریں کہ چیزوں کو اردو کی بجائے انگریزی میں سوچ سکیں. یہ مکمل طور پر ممکن نہیں ہے مگر جزوی طور پر اسکی پریکٹس آپ کو اعتماد دے گی. تلفظ پر ضرور دھیان دیں مگر انگریزوں جیسا ایکسنٹ بنانے کی کوشش نہ کریں. اگر آپ بولتے ہوئے ایکسنٹ بنانے کی کوشش کریں گے تو آپ کا دھیان جملے پر نہیں رہ سکے گا. نتیجہ یہ کہ آپ ہکلاتے رہ جائیں گے.  سمجھ لیں کہ آپ نے صرف انگریزی بولنی ہے. چاہے ایکسنٹ بیکار ہو، الفاظ کی ترتیب غلط ہو یا گرامر کی بہت سی غلطیاں ہوں. ڈھیٹ بن کر بس بولتے رہیں. میں آپ کو اطمینان دلاتا ہوں کہ کچھ ہی مہینوں میں یہ خامیاں آپ خود ہی غیرمحسوس انداز میں دور کرتے چلے جائیں گے. ایک بار جب انگریزی بولنے لگیں تب بھی انگریزی کی کلاس جانا ترک نہ کریں. البتہ اب ہفتے میں تین دن کی بجائے، دس دن میں ایک بار چلے جائیں یا پھر کوئی اور ایسا انتظام کریں جہاں آپ انگریزی زبان بولنے والو سے ساتھ گفتگو کرسکیں.
.
====عظیم نامہ====

وہ انگریز لیڈی


وہ انگریز لیڈی



میرے لئے وہ لمحہ انتہائی مسرت و خوش نصیبی کا ہوتا ہے جب میں راہ چلتے کسی بزرگ کو یا معذور کو مدد کا متقاضی پاتا ہوں اور رب تعالی یہ سنہری موقع مجھ جیسے گنہگار بلکہ مجرم کو عنایت کردیتے ہیں۔ پھر وہ کسی کا سامان اٹھانا ہو، کسی کو لفٹ دینی ہو، کسی کے گمشدہ بچے کو ڈھونڈنا ہو یا پھر کسی کو پتہ تلاش کرنے میں مدد دینی ہو۔ مجھے وہ عمل بخشش کی ایک امید کی صورت نظر آتا ہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ کچھ روز قبل پیش آیا جب میں اپنی زوجہ کے ساتھ ایک شاپنگ مال میں خریداری کررہا تھا۔ ہم دونوں ہنسی مذاق کررہے تھے جب ہماری نظر ایک نہایت بوڑھی انگریز عورت پر پڑی۔ خوبصورت بناو سنگھار کیساتھ یہ خاتون (انگریز لیڈی) ایک بینچ پر براجمان تھی اور اب اس کیلئے بناء سہارے کھڑے ہونا محال ہورہا تھا۔ وہ لاچارگی سے لوگو کو دیکھ رہی تھی مگر شائد شرم کے سبب کسی کو مخاطب نہیں کرپارہی تھی۔
۔
 مجھے جیسے ہی اسکی مشکل کا احساس ہوا تو مدد کو لپکا۔ مسکرا کر اسے ہیلو کیا اور سہارا دینے کیلئے ہاتھ بڑھا دیا۔ اس نے بھی مخصوص انداز میں پرتپاک جواب دیا لیکن اسکی نظر میرے بجائے میری زوجہ پر ٹکی ہوئی تھی۔ میں اس سے بات کرتا مگر جواب وہ میری بیگم کو دیتی۔ میرا ہاتھ چھوڑ کر اس نے میری بیوی کا ہاتھ تھام لیا اور مجھے قریب قریب نظرانداز کرکے وہ اسی سے انتہائی محبت سے باتیں کرنے لگی۔ میں تھوڑا سا حیران تھا لیکن پھر اس نے میری بیوی کو انتہائی جوش سے بتایا کہ اسکی بھی ایک بیٹی ہے جو کم و بیش اسی عمر کی ہے۔ وہ کچھ مہینوں میں مجھے فون کرتی ہے۔ کبھی گھر بھی آتی ہے اور کرسمس یا مدرز ڈے پر تحفہ بھی دیتی ہے۔ پھر وہ ایک لمحے کو چپ ہوگئی۔ زیر لب بڑبڑائی ۔۔ 'مگر اس بار نہ اس نے فون کیا نہ وہ آئی۔' یہ جملہ کہتے جو کرب اس بزرگ خاتون کے لہجے میں تھا، اس نے جیسے یکلخت دل چیر دیا۔ وہ رخصت ہوتے ہوئے ہمیں دعائیں دے رہی تھی۔ God bless you. مگر مجھے چپ سی لگ گئی تھی۔ کن انکھیوں سے زوجہ کو دیکھا تو اسکی آنکھیں بھی نمناک تھیں۔ سوچتا ہوں کہ انسانیت کی تذلیل میں ایک کریہہ ترین پہلو یہی ہے کہ انگلینڈ جیسے ممالک میں اولاد اپنے والدین سے ان کے بڑھاپے میں بڑی حد تک قطع تعلق کرلیتی ہے۔ وطن عزیز میں بیشمار اخلاقی برائیوں کے باوجود الحمدللہ اس ضمن میں معاملہ بہت بہتر ہے اور چند بیغیرتوں کے سوا عوام کی اکثریت اپنے والدین کے بڑھاپے کا خوشی خوشی سہارا بنتی ہے۔ الحمدللہ۔
۔
 ====عظیم نامہ====

دور کے ڈھول سہانے


دور کے ڈھول سہانے



"دور کے ڈھول سہانے" - یہ محاورہ اکثر آپ نے سنا ہوگا مگر جہاں یہ ضروری نہیں کہ دور کے ڈھول واقعی سہانے نکلیں، وہاں یہ بھی لازمی نہیں کہ قریب کے ڈھول دور کے ڈھول سے بہتر ہی ہوں. فکر معاش سے لے کر بہتر تعلیم تک اگر ایک انسان شدید دشواریوں کا شکار ہو تو اپنے آبائی ملک سے نکل کر کسی دوسرے ملک میں اپنی قسمت آزمانا اتنا معیوب نہیں جتنا اکثر اسے بیان کیا جاتا ہے. لیکن اپنا دیس چھوڑ کر کسی دوسری جگہ جانا ایک بہت بڑا قدم ہے جو بناء سوچے سمجھے اٹھاناحماقت ہے. سب سے پہلے جائزہ لیں کہ وہ کون سا ملک ہے؟ جس نے غیر ملکی محنت کشوں کیلئے دروازے کھول رکھے ہیں یعنی حکومت نے امیگریشن پالیسی نرم کررکھی ہے. کسی بھی یورپی یا غیر یورپی ملک جانے سے قبل اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کو ایسا ویزہ حاصل ہو جس میں نوکری و کاروبار کرنے پر کوئی بندش نہ ہو. پھر چاہے وہ امیگریشن ہو یا ورکنگ ویزہ. ساتھ ہی کم از کم اتنا پیسہ پاس ہو کہ تین ماہ بناء نوکری کیئے روٹی مکان چل سکے. ایک بہت بڑی بیوقوفی لوگ یہ کرتے ہیں کہ وہ وزٹ ویزہ پر کسی ملک جاتے ہیں اور وہاں غیرقانونی طور پر سلپ ہو جاتے ہیں. ایسا وہ یہ سوچ کر کرتے ہیں کہ کچھ وقت میں ان کی زندگی سدھر جائے گی مگر میں آپ کو بتاتا ہوں کہ ایسے افراد میں کم از کم اسی نوے فیصد لوگ برباد ہوجاتے ہیں. راقم کے نزدیک وزٹ ویزہ پر جانا یا غیر قانونی طور پر رہنے کا فیصلہ کرنا خودکشی کے مترادف ہے. ہر وقت ایسے افراد کے سر پر خوف کی تلوار لٹکتی رہتی ہے. پہلے کوئی جاب نہیں دیتا، پھر چھپ کر کوئی نہایت کم پیسوں پر دن رات سخت ترین کام کرواتا ہے. اسی طرح کچھ لوگ یہ سوچ کر وزٹ ویزہ لیتے ہیں کہ اس یورپی ملک میں اسائلم یعنی قانونی پناہ حاصل کرلیں گے. اسکے لئے وہ جھوٹا قانونی کیس تیار کرتے ہیں جس میں ثابت کرنے کی کوشش ہوتی ہے کہ اپنے ملک میں انہیں فلاں فلاں وجہ سے جان کا خطرہ ہے. اس میں کامیابی کا تناسب محتاط اندازے کے مطابق چالیس سے پچاس فیصد ہوگا. لیکن اسے حاصل کرتے کرتے اور زندگی کو ڈگر پر لاتے لاتے کم سے کم دس بارہ سال لگ جاتے ہیں. اس دوران بہت سو کے ماں باپ اپنی اولاد کی صورت کو ترستے ہوئے اللہ کو پیارے ہوجاتے ہیں اور یہ اس وجہ سے جنازے تک میں نہیں جاپاتے کہ پھر اسائلم نہیں مل سکے گا. راقم کی رائے میں ایسے ویزے پر یا کیریئر بنانے پر لعنت بھیجنی چاہیئے اور اسے صرف انتہائی حقیقی مجبوری میں اختیار کرنا چاہیئے.

.
 اگر آپ تعلیم کیلئے جانا چاہتے ہیں یا اپنی اولاد کو بھیجنا چاہتے ہیں تو ہمارا مشورہ ہے کہ اسے 'اے لیول' یا ' پہلی ڈگری کیلئے نہ بھیجیں. اسوقت عمر کچی ہوتی ہے اور اخلاقی طور پر بھٹکنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے. ماسٹرز یا پی ایچ ڈی کیلئے جانا زیادہ مناسب ہے. گو یہ راقم کا احساس ہے کوئی حتمی اصول نہیں. اگر آپ کا تعلق متوسط طبقے سے ہے تو شائد نمائندہ یونیورسٹیوں کی فیس آپ افورڈ نہ کرسکیں. یورپی ممالک جیسے انگلینڈ میں آپ کسی بھی نسبتاً کم فیس والی یونیورسٹی میں داخلہ لے سکتے ہیں، اس سے آپ کا کیرئیر ان شاء اللہ کوئی خاص متاثر نہیں ہوگا. نمائندہ یونیورسٹیوں کی اہمیت اپنی جگہ مگر کسی بھی یونیورسٹی کی ڈگری آپ کے پاس ہے تو کمپنیاں آپ کو نوکری کیلئے قبول کرنے کو تیار ہونگی. چھوٹے چھوٹے کالجوں میں داخلہ لینے سے گریز کریں. بیشمار کالج ایسے ہیں جنہیں حکومت نے جعلسازی کی بنیاد پر بند کر دیا. البتہ چند ایک ایسے نمایاں کالج بھی موجود ہیں جن کی فیس یونیورسٹی سے کم ہوتی ہے مگر ان کی ڈگری کسی یونیورسٹی ہی کی جانب سے دی جاتی ہے. کون سی یونیورسٹی مناسب ہوگی؟ اور اسٹوڈنٹ ویزہ کیسے مل سکے گا؟ اسکے لئے آپ کو خود تحقیق کرنا ہوگی. گوگل بابا پر ہر معلومات میسر ہے، یونیورسٹی کو فون کرکے بھی پوچھا جاسکتا ہے. اسی طرح پورے پاکستان میں بیشمار کنسلٹنٹس بیٹھے ہوئے ہیں جو آپ کو معلومات دے سکتے ہیں. مگر دھیان رہے کہ ان میں ایک سے ایک مکار بھی موجود ہے. اگر آپ ان سے یہ بھی پوچھ لیں کہ بھیا ایف سولہ طیارہ مل سکتا ہے؟ تب بھی شائد نہ کہنے کے بجائے پوچھیں کہ کتنے چاہیے؟ اسکے باوجود بھی ان سے آپ کو قیمتی معلومات حاصل ہوسکتی ہیں. جس ملک میں آپ جا رہے ہیں وہاں کی زبان آنا ضروری ہے لہٰذا آنے سے پہلے ہی زبان سیکھنے میں خوب محنت کریں. اگر آپ کا کوئی جاننے والا پہلے سے اس ملک میں موجود ہے جہاں آپ جارہے ہیں تو اس سے مشورہ کرنا یا کوئی ممکنہ ابتدائی مدد لینا اچھی بات ہے مگر کبھی بھی اس پر تکیہ نہ کریں اور متبادل راستے سوچ کر رکھیں. لوگوں کا وقت پڑنے پر آنکھیں بدل لینا کوئی نئی بات نہیں ہے. اسی ملک کا انتخاب کریں جو آپ کو تعلیم کے ساتھ کام کرنے کی اجازت دیتا ہو تاکہ آپ فیس کے پیسے ساتھ ساتھ جوڑ سکیں.
.
 ====عظیم نامہ====

تجربہ کے بغیر نوکری


تجربہ کے بغیر نوکری



'نوکری تجربہ کے بغیر نہیں مل سکتی لیکن تجربہ نوکری کے بغیر نہیں مل سکتا' 
.
 اکثر نوجوان اپنی پہلی نوکری ڈھونڈھتے وقت اسی عجیب منطق سے تنگ رہتے ہیں. کمپنیاں انہیں تجربہ نہ ہونے کی وجہ سے نوکری نہیں دیتی اور نوجوان یہ دہائی دیتا رہ جاتا ہے کہ اگر سب یہی کہہ کر نوکری نہیں دیں گے تو مجھے تجربہ ملے گا کیسے؟ .. آپ نے کسی بھی فیلڈ میں ڈگری مکمل کی ہو، یاد رکھیں جب آپ یونیورسٹی سے نکل کر عملی دنیا میں اتریں گے تو آپ اکیلے نہیں ہونگے بلکہ آپ ہی جیسے یا شائد آپ سے بہتر ہزاروں دوسرے نوجوان بھی متفرق یونیورسٹیوں سے پاس آؤٹ ہو کر آپ کے مقابلے میں موجود ہونگے. مارکیٹ میں اگر نوکریاں پچاس ہیں تو ان نوکریوں کے لئے انٹرویوز کے طالب سینکڑوں میں ہوں گے. گویا ایک انار سو بیمار والا ماجرا نظر آئے گا. ایسے میں نوکری کا حصول جوئے شیر لانے کے مترادف ہے. اس پر بہت سی کمپنیوں کی یہ نرالی منطق کہ آپ کو نوکری اسلئے نہیں مل سکتی کیونکہ آپ کے پاس تجربہ نہیں ہے. چند کمپنیاں ہی ایسی ہوں گی جو بناء تجربے کے افراد کو یعنی 'فریش پاس آؤٹس' کو ایک مناسب تنخواہ پر رکھنے کو تیار ہوں. ظاہر ہے ان تھوڑی نوکریوں پر مقابلے کا جو عالم ہوگا، اس کا اندازہ آپ کرسکتے ہیں. سفارش یا رشوت سے ان پوزیشنوں کو ہتھیانے والے بھی جابجا موجود ہونگے. ایسے میں جاب کے متلاشی نوجوانوں پر مایوسی و غصہ طاری ہوجانا فطری بات ہے. 
.
 اس صورتحال سے ایک نوجوان کیسے بچے اور کیسے کامیاب ہو؟ ضروری ہے کہ نوجوان اپنی ڈگری مکمل کرنے کے دوران دو باتوں کا لازمی اہتمام کریں. پہلا یہ کے اپنی فیلڈ سے متعلق ایسے اضافی کورسز بھی ساتھ ساتھ کریں جن کی مارکیٹ میں مانگ ہو. جیسے آئی ٹی کی ڈگری کا طالبعلم ساتھ ساتھ کسی 'کمپیوٹر لینگویج' کی انٹرنیشنل سرٹیفکیشن بھی پاس کرلے یا 'ایم بی اے' کا طالبعلم فائنانس کا مختصر کورس کرلے. دوسرا اس بات کو یقینی بنائے کہ ڈگری کے ساتھ ساتھ ایک، دو سال پارٹ ٹائم 'انٹرن شپ' (بناء معاوضہ نوکری) کرتا رہے. کوشش سے ایسی انٹرن شپس مل جاتی ہیں جو آپ کو معمولی سے پیسے دے کر رکھ لیتی ہیں جس سے سفر کا کرایہ وغیرہ پورا ہوجاتا ہے. انٹرن شپ کیلئے کمپنی جتنی بڑی ہو اتنا اچھا ہے مگر اگر بڑی نہ بھی ہو تب بھی ضرور اختیار کرلیں. اضافی کورسز اور انٹرن شپ سے فائدہ یہ ہوگا کہ آپ ڈگری کے بعد انٹرویوز دیتے ہوئے سب سے زیادہ نمایاں ہوجائیں گے لہٰذا آپ کیلئے من پسند جاب کا حصول آسان ہو جائے گا. پھر اس بات کا بھی قوی امکان ہے کہ اگر آپ نے انٹرن شپ دل لگا کر کی اور اپنی صلاحیت ان پر ثابت کردی تو وہی کمپنی آپ کو جاب آفر کردے. ایسا ہونا بہت عام ہے اور اس میں کمپنی کا اپنا فائدہ ہے کہ ایک ایسا ملازم ہاتھ آجاتا ہے جو پہلے ہی اس مخصوص ملازمت میں ماہر ہے. ممکن ہے کہ کسی قاری کو ڈگری کے ساتھ ساتھ اضافی کورس کرنا اور پارٹ ٹائم نوکری کرنا ناممکن محسوس ہو مگر نہیں یہ بلکل ممکن ہے اور بہت سے عقلمند طالبعلم یہی کیا کرتے ہیں. گو اس میں محنت زیادہ ہے مگر اسی لئے تو کہتے ہیں کہ محنت رنگ ضرور لاتی ہے. 
.
 ====عظیم نامہ====

کاروبار یا نوکری؟


کاروبار یا نوکری؟



ہم میں شائد ہی کوئی ایسا ہو جس کے دل میں کاروبار یعنی بزنس کرنے کی خواہش نے کبھی کروٹ نہ لی ہو. دوسرے کی ملازمت چھوڑ کر اپنا کاروبار کرنے کا آئیڈیا ہمیشہ مسحور کن محسوس ہوتا ہے. ہمیں بچپن سے اس طرح کے جملے بھی سننے کو ملتے ہیں کہ 'نوکری میں کچھ نہیں رکھا. مال بنانا ہے تو اپنا کاروبار ہی کرنا ہوگا'. یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ 'کاروبار کرنا سنت ہے.' حالانکہ ملازمت کرنا بھی سنت سے ثابت ہے. بہرحال ہمارا مقصد یہاں مذہبی بحث نہیں ہے بلکہ کچھ حقائق کو آپ کے سامنے رکھنا ہے. اسی طرح یہ مفروضہ بھی عام ہے کہ نوکری میں شدید محنت ہے جبکہ کاروبار میں آپ بادشاہ کی طرح رہتے ہیں. اگر تناسب کا جائزہ لیں تو منکشف ہوگا کہ یہ کوئی حتمی اصول نہیں ہے بلکہ اکثر کیسز میں کاروبار کرنے والا زیادہ کڑی محنت کرتا ہے. اسے لگے بندھے اوقات نہیں بلکہ بزنس بڑھانے کیلئے دن رات ایک کرنے ہوتے ہیں. اپنے کاروبار میں چھٹی لینا اسکے لئے ایک مشن بن جاتا ہے. 
.
 کیا آپ جانتے ہیں کہ مغربی ممالک کے اعداد و شمار کے مطابق پچاس فیصد بزنس پہلے ہی سال میں نقصان اٹھا کر فیل ہوجاتے ہیں؟ کیا آپ جانتے ہیں کہ نوے سے پچانوے فیصد بزنس پانچ سالوں میں برباد ہوجاتے ہیں؟ گویا یہ امکان کہ آپ کا بزنس ایک سال بعد بھی قائم رہے گا صرف پچاس فیصد ہے اور آپ کا بزنس پانچ سال بعد بھی قائم رہے، اس کا امکان مشکل سے پانچ آٹھ فیصد ہے. دھچکہ لگا؟ یقین نہیں آرہا؟ تحقیق کرکے دیکھ لیجیئے. انٹرنیٹ پر یہ اعداد و شمار متعدد ممالک کے حوالے سے دستیاب ہیں. دھیان رہے کہ ان میں سے ہر ایک بزنس مین یہی سوچ کر اپنا بزنس کرتا ہے کہ اسکے پاس بہترین آئیڈیا اور صلاحیت موجود ہے. دھیان رہے کہ ان ممالک میں بزنس کو لاحق خطرات بھی نسبتاً کم ہیں اور کامیابی کیلئے گورنمنٹ کی سطح پر سپورٹ بھی زیادہ ہے. پاکستان میں بزنس کی کامیابی یا ناکامی کا کیا تناسب ہے؟ اس کے بارے میں حتمی رائے نہیں دی جاسکتی. جو سروے کیا گیا ہے اسمیں کامیابی کا تناسب کافی زیادہ بتایا گیا ہے مگر اس سروے کی صحت مشکوک محسوس ہوتی ہے اور وہ صرف زبانی جمع خرچ کی بنیاد پر ہے. عقلمندی یہی ہے کہ ان ممالک کے سروے کو دیکھا جائے جہاں مظبوط تحقیقی معیارات اپنائے گئے ہیں. 
 سوال یہ ہے کہ اتنا رسک دیکھ کر کیا بزنس نہ کیا جائے؟ میرا جواب ہوگا کہ ضرور کیا جائے مگر بہت احتیاط سے. راقم کی نظر میں کامیاب بزنس کیلئے عقلمندی یہ ہے کہ آپ دو میں سے کوئی ایک راستہ اختیار کریں. پہلا آپشن ہے کسی کامیاب بزنس کی فرنچائز برانچ کھول لینا. کیا آپ جانتے ہیں کہ فرنچائز بزنس میں کامیابی کا تناسب پہلے سال میں نوے فیصد سے زیادہ اور پانچ سالوں میں پچاسی فیصد سے زیادہ ہے؟ پاکستان میں میک ڈونلڈ سے لے کر چکن کاٹیج تک بہت سی فرنچائزز دستیاب ہیں. اس میں کچھ زیادہ اور کچھ کم مہنگی ہیں، تحقیق آپ خود کرسکتے ہیں. اگر مناسب سرمایہ موجود ہے تو کچھ سالوں کیلئے فرنچائز خرید لیں. اسکے بعد بھلے اس چلتی ہوئی فرنچائز برانچ کو زیادہ داموں میں کسی دوسرے کو فروخت کردیں اور اسی فیلڈ میں اپنی نئی دکان کم سرمایہ سے کھول لیں. اب آپ کو مارکیٹ کے چیلنجز سے مکمل آگاہی ہوگی لہٰذا کامیابی قدم چومے گی. دوسرا آپشن یہ ہے کہ اگر فرنچائز نہیں تو کسی چلتے ہوئے بزنس/ دکان/ ریسٹورنٹ کو خرید لیں. تین سال کے اکاؤنٹس کم از کم آپ کے سامنے ہوں جس میں اس بزنس کی فروخت اور منافع درج ہوتا ہے. ایسا بزنس خریدنے میں آپ کو نئے بزنس کے مقابلے میں بیس فیصد تک زیادہ پیسہ دینا ہوگا مگر کامیاب ہونے کا امکان انتہائی قوی ہوگا. یہ بھی احسن ہے کہ خریدنے سے پہلے تین سے چھ ماہ کچھ وقت روز مالک کے ساتھ اسی بزنس میں فری گزاریں تاکہ ہر سطح کو قریب سے جان سکیں. ان دونوں آپشنز میں سے کسی ایک کو بھی اپنانے کا سرمایہ اگر آپ کے پاس نہیں ہے تو پہلے نوکری، انویسٹمنٹ یا کچھ بیچ کر سرمایہ جمع کریں پھر بزنس کا سوچیں. 
.
 ====عظیم نامہ====

نوجوان کون سا کیرئیر اختیار کریں؟


نوجوان کون سا کیرئیر اختیار کریں؟



نوجوان طلباء و طالبات کو اکثر یہ مرحلہ درپیش ہوتا ہے کہ وہ پہلے تعلیم اور بعد میں ذریعہ معاش کیلئے کونسی فیلڈ یا سبجیکٹس کا انتخاب کریں. اس کا ایک سادہ سا جواب یہی دیا جاتا ہے کہ اس فیلڈ یا ڈگری کا انتخاب کرو جس جانب تمہارا رجحان زیادہ ہے یا جس کیلئے تم اپنے آپ میں صلاحیتوں کو موجود پاتے ہو. یہ جواب اپنی اصل میں نہ صرف درست ہے بلکہ سلیم العقلی پر مبنی ہے. اگر فی الواقع کوئی اس نصیحت سے استفادہ کرسکے تو یہی بہترین ہے. مگر مسلہ یہ ہے کہ بہت سے نوجوانوں کیلئے ایسا کرنا دو بڑی وجوہات کی بناء پر ممکن نہیں ہوتا. پہلی وجہ یہ کہ کئی بار ملک عزیز میں اس فیلڈ کی ڈگری یا نوکریاں ہی موجود نہیں ہوتی جس جانب فرد کا رجحان ہو. دوسری وجہ یہ کہ بہت سے طلباء و طالبات کوشش کے باوجود بھی خود میں موجود رجحان یا صلاحیتوں کو سمجھ نہیں پاتے اور بلآخر وقت کی قلت کے سبب کوئی بھی میسر آپشن بناء سوچے سمجھے اختیار کربیٹھتے ہیں. اسلئے ضروری ہے کہ ہم اپنے اردگرد موجود مختلف فیلڈز کا تجزیہ کرکے جانیں کہ وہ کون کون سی فیلڈز ہیں؟ جن میں نوکریاں کثرت سے موجود ہیں اور جنہیں اپنا کر ایک بہتر مستقبل کی امید کی جاسکتی ہے. ظاہر ہے کہ رازق صرف اللہ پاک کی ذات ہے اور وہ کسی کو کسی بھی فیلڈ میں ترقی کی اونچائیوں تک پہنچا سکتے ہیں. مگر اس دارالاسباب میں تدبیر کا اختیار کرنا تو بہرحال ضروری ہے. کچھ فیلڈز ایسی ہیں جن میں ڈگریاں لینے کے باوجود اکثریت یا تو بے روزگار رہتی ہے یا پھر بہت کم معاوضے پر کام کرکے گزارا کرتی ہے. مثال کے طور پر اکثر طالبعلموں کو 'ایم بی اے' کی ڈگری بہت لبھاتی ہے. اس ڈگری کا نام سنتے ہی ان کے سامنے سوٹ ٹائی میں تیار ایک کامیاب بزنس مین یا باوقار مینجر کا نقشہ ابھر آتا ہے. حقیقت یہ ہے کہ 'ایم بی اے' کے ڈگری یافتہ افراد میں بے روزگاری شدید ہے. اتنا مقابلہ ہے جیسے ہر دوسرے پتھر کے نیچے سے ایک 'ایم بی اے' نکل رہا ہو. اگر آپ 'لمز' یا ' آئی بی اے' جیسے نمائندہ تعلیمی اداروں میں داخلہ نہیں لے سکتے تو راقم کا مشورہ یہی ہے کہ اس آپشن کو اختیار نہ کریں.
.
 اسی طرح ایک مفروضہ یہ مقبول ہے کہ چارٹر اکاؤنٹینسی یعنی 'سی اے' یا پھر 'اے سی سی اے' کرنے والا زندگی میں سب سے زیادہ کامیاب رہتا ہے. اول تو یہ سچ نہیں لیکن اگر مان بھی لیں تو اکاؤنٹینسی کی ان سرٹیفکیشنز کو کرتے کرتے بہت سے طالبعلم ادھیڑ عمر ہوجاتے ہیں مگر سخت محنت کے باوجود پاس نہیں کرپاتے. سچ پوچھیئے تو سب سے زیادہ ترس مجھے ان ہی پر آتا ہے. کیا فائدہ ایسے آپشن کو اختیار کرنے کا جس میں اتنا زیادہ رسک ہو؟ اسی طرح دنیا بھر میں وکالت یعنی 'ایل ایل بی' کی ڈگری ضرور معتبر ہے مگر وطن عزیز میں جو اس کا حال ہے وہ آپ خود جاکر ملاحظہ کرسکتے ہیں. میڈیکل فیلڈ جیسے 'ایم بی بی ایس' سے لے کر 'ایچ آر' اور 'ٹیلی کمیونیکیشن' کی ڈگریوں تک بہت سے ایسے آپشن موجود ہیں جنہیں آپ اختیار کرسکتے ہیں اور جن میں بکثرت نوکریاں دستیاب ہیں. میں خود ایک 'آئی ٹی پروفیشنل' ہوں جس نے انجینئرنگ اور ماسٹرز دونوں 'انفارمیشن سسٹمز' میں کیا ہے. ابتداء میں جب اسے اختیار کیا تو کچھ خاص سوچا سمجھا نہ تھا مگر اب جو ایک زمانہ اس میں گزار لیا ہے اور اس کا دیگر فیلڈز کی نوکریوں سے تقابل کرکے دیکھ لیا ہے تو مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ کثرت روزگار کے حوالے سے شائد یہ سب سے بہترین آپشن ہے. پاکستان سے لے مڈل ایسٹ تک، سعودیہ سے لے کر آسٹریلیا تک اور یورپ سے لے کر امریکہ تک ہر جگہ 'آئی ٹی' کی نوکریوں کی بھرمار ہے. میرے دوست جو اس فیلڈ سے وابستہ ہیں وہ پوری دنیا میں جہاں بھی آباد ہیں برسر روزگار ہیں اور اچھا کما رہے ہیں. نوکریوں کی کثرت کی وجہ یہ ہے کہ 'آئی ٹی' خود تو ایک فیلڈ ہے ہی مگر ساتھ ہی یہ ہر فیلڈ کی سپورٹنگ فیلڈ بھی ہے. لہٰذا میڈیکل سے لے کر ریٹیل تک اور اسپیس انجینئرنگ سے لے کر پیٹرولیم تک کوئی فیلڈ ایسی نہیں ہے جس کا 'آئی ٹی' ڈیپارٹمنٹ نہ ہو. پھر آپ کی 'آئی ٹی' کا تجربہ اور تعلیم یا سرٹیفکیشن ساری دنیا یورپ و امریکہ سمیت قبول کرتی ہے۔ یہ نہیں کہ جیسے ایک ملک کے وکیل یا ڈاکٹر کو دوسرے ملک میں دھتکار دیا جاتا ہے۔ ایک اور فائدہ اس فیلڈ کا یہ ہے کہ اس کے اپنے اندر بہت سارے ضمنی آپشن موجود ہیں جیسے ڈیٹابیس، نیٹوورکنگ، پروگرامنگ، ڈیزائننگ وغیرہ. آپ کسی بھی ضمنی آپشن کو اپنے ذوق کے مطابق اختیار کرکے اسکی نمائندہ ٹیکنالوجیز میں مہارت حاصل کرکے اسکی عموما سستی انٹرنیشنل سرٹفکشنز کرلیں. ان شاء اللہ روزگار نہ صرف میسر ہوگا بلکہ جتنی جتنی مہارت اور علم میں وسعت ہوگی اتنی تنخواہ میں اضافہ ہوتا جائے گا. 
.
 ====عظیم نامہ====

Wednesday, 17 May 2017

پاکستانی ڈرامے





یہcreativity کا قحط اور اندھی تقلید کا ثبوت ہےکہ ہر پاکستانی، گھر میں پلے سبز طوطےکا نام صرف "مٹھو" ہی رکھتا ہے



بہترین پاکستانی ڈرامے ثابت کرتے ہیں کہ انڈیا ہم سے زیادہ فلمی ضرور ہےمگرہم سے بڑا ڈرامہ باز نہیں !






ہیرو اور ولن

 ہیرو اور ولن



فلموں ڈراموں میں کہانی ہیرو اور ولن میں منقسم ہوتی ہے۔ گویا ایک شخص 'مسٹر پرفیکٹ' یعنی ہیرو ہوتا ہے جبکہ دوسرا 'مسٹر بیڈ' یعنی ولن ہوتا ہے۔ حقیقی زندگی اسکے برعکس ہے۔ یہاں نہ تو کوئی مکمل ہیرو ہے اور نہ ہی کوئی کامل ولن۔ ہر ہیرو میں ایک ولن اور ہر ولن میں ایک ہیرو چھپا بیٹھا ہے۔ کچھ تو ایسے بھی ہیں جو کردار میں بیک وقت ہیرو اور ولن دونوں ہیں۔ فرق فقط تناسب کا ہے کہ کس میں ہیرو کی شرح و تناسب زیادہ ہے اور کس میں ولن کی؟ آج کا ہیرو کل کا ولن ہوسکتا ہے اور کل کا ہیرو آج کا ولن۔ کہانی ابھی باقی ہے میرے دوست ! 😎
۔
 ====عظیم نامہ====

جواب


جواب 



باپ نے ننھے سے بیٹے کو سمجھایا "بیٹا دیکھ بھال کر احتیاط سے چلا کرو"۔ بیٹے نے جواب دیا "بابا آپ بھی دیکھ بھال کر احتیاط سے چلا کیجئے۔ میں آپ ہی کے نقش قدم پر چلتا ہوں"۔ 
۔
 گوشت کی دکان پر کسی خریدار نے قصائی سے پوچھا "میاں حلال تو ہے نا؟" ۔۔۔ قصائی نے بھی خریدار سے پیسے لیتے ہوئے یہی سوال دہرا دیا۔ "میاں ۔۔۔ حلال تو ہے نا؟"

LUCKY


LUCKY 



محنت، ذہانت اور موقع شناسی۔ ان تینوں کا مل بیٹھنا آپ کو صحیح معنوں میں 'خوش نصیب' یعنی LUCKY بناتا ہے۔ ان تینوں میں سے کوئی ایک بھی کم ہو تو خوش قسمتی اول تو پاس نہیں پھٹکتی اور اگر آبھی جائے تو بہت جلد روٹھ جاتی ہے۔ اگر دنیا میں کامیاب انسان اور LUCKY بننا چاہتے ہیں تو ان تینوں کو مستقل اختیار کر لیجیئے۔ 
۔
 ====عظیم نامہ====

رمضان کی آمد


رمضان کی آمد



رمضان کی آمد ہے۔ جب دارالدعوہ یعنی انگلینڈ جیسے غیر مسلم ممالک میں روزمرہ کی اشیاء نہایت سستی کردی جائیں گی اور دارالمسلمین یعنی پاکستان جیسے ممالک میں قیمتیں آسمانوں کو چھونے لگیں گی۔ جب رمضان کے احترام میں مغرب میں بسے غیرمسلم، مسلمانوں کا ہر ممکن ساتھ دینے کی کوشش کریں گے۔ بہت سے تو یکجہتی میں روزہ بھی رکھیں گے مگر وطن عزیز پاکستان میں گیم شوز کی آڑ میں اسلام بلکہ انسانیت کی تذلیل کی کوششیں ہونگی۔ 'کیو موبائل' اور 'فردوس کی لان' بھکاریوں سے بدتر جھپٹتے، خوشامدیں کرتے تماشائیوں میں تقسیم ہوگی۔ "آم کھائے گا آم؟" جیسی تحقیر سے اس عوام کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ بلکہ یہ اس بار بھی ایک موٹر سائیکل کیلئے اپنا تشخص، اپنی عزت نفس سب پامال کرنے کو تیار ہونگے۔ گوٹے لگے چمکیلے کرتوں میں ملبوس میکپ زدہ مولوی بھی نظر آئیں گے اور سارا سال رقص و سرور میں مشغول "آرٹسٹ" بھی آپ کو دین کے دقیق نکات سیکھائیں گے۔ کچھ فنکار تو طاق راتوں میں ایسی دل سوذ اجتماعی دعا بھی کروائیں گے کہ عوام کی بالعموم اور خواتین کی بالخصوص ہچکیاں بندھ جائیں گی۔ افطار سے پہلے مذہبی رنگ ضرور ہوگا مگر فکر نہ کیجیئے افطار کے فوری بعد تین چیزوں کا خصوصی اہتمام ہوگا یعنی ۔۔۔ انٹرٹینمنٹ ۔۔۔ انٹرٹینمنٹ ۔۔۔۔ اور ۔۔۔ انٹرٹینمنٹ۔ 
۔
 ====عظیم نامہ====

انگریزی


انگریزی 



انگلینڈ آنے سے قبل میں واجبی سی انگریزی جانتا تھا. بچپن سے مجھے انگریزی میں مہارت حاصل کرنے کی تلقین کی جاتی رہی. کبھی مجھے بچوں کی انگریزی کہانیوں کی کتابیں لا کر دی جاتی اور کبھی والدہ کا اصرار ہوتا کہ میں اپنے ان کزنز سے انگریزی میں بات کیا کروں جو 'او لیول' کررہے تھے. مگر ہم ڈھیٹ ہڈی تھے یا یوں کہیئے کہ اردو کے دلدارہ تھے اسلئے انگریزی کبھی سیکھ کر نہ دی. انجینئرنگ یونیورسٹی میں بھی انگریزی لٹریچر فارم کی بجائے 'بزم ادب' کی ذمہ داری لے لی. حال یہ تھا کہ دوست یار جو فن خطابت میں ساتھ تھے مجھے 'اردو کی توپ' کہہ کر پکارنے لگے. غرض یہ کہ ہماری زندگی میں ساری محبت اردو کیلئے اور تمام فاصلے انگریزی زبان کیلئے وقف تھے. جب انجینئرنگ سے فراغت کا وقت آیا تو ماسٹرز ڈگری لینے کیلئے انگلینڈ جانے کا ارادہ کیا. معلوم ہوا کا کسی بھی بہتر یونیورسٹی میں داخلے کیلئے انگریزی زبان کا ایک انٹرنیشنل امتحان پاس کرنا ہوگا جسے ' آئی ایلٹس' یعنی 'انٹرنیشنل انگلش لینگویج ٹیسٹنگ سسٹم' کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے. اس کا مارکنگ سسٹم بھی نمبرز پر نہیں بلکہ 'بینڈز' پر تھا. کل ملا کر ٩ بینڈز ہوتے ہیں جن میں سے یونیورسٹی میں داخلے کیلئے مجھے کم از کم 6 (چھ) بینڈز لانے تھے. یہ ٹیسٹ چار مختلف مراحل میں منقسم تھا یعنی انگریزی پڑھنا، انگریزی لکھنا، انگریزی سننا اور انگریزی بولنا. ان سب میں الگ الگ بینڈز ملتے ہیں اور پھر مجموعی بینڈ اوسط نکل کر طے کیا جاتا ہے.ہمیں اپنی انگریزی کا حال خوب معلوم تھا لہٰذا یہ ٹیسٹ کسی زندگی موت کے معرکے جیسا معلوم ہورہا تھا. کوئی مہینے دو مہینے کا کورس کرکے ٹیسٹ کے تین حصوں میں تو کسی قدر اعتماد حاصل ہوا مگر چوتھا مرحلہ یعنی انگریزی بولنے کا سوچ کر بھی غش آتا تھا. خیر اللہ اللہ کر کے وہ دن بھی آگیا جب ہم برٹش کونسل کراچی میں اپنا انگریزی بولنے کا امتحان دینے پہنچے. کچھ انتظار کے بعد ایک کمرے میں بلالیا گیا. اندر داخل ہوا تو ایک ایک بوڑھا انگریز میز کے پیچھے کرسی پر براجمان تھا. انگریز دیکھ کر ہمارے اور اوسان خطا ہوگئے. رسمی سے ہیلو ہائے کے بعد اس نے انگریزی میں سوال و جواب شروع کئے. 
.
 اس کا لہجہ سمجھنا دشوار ہورہا تھا. کچھ ماحول کا اثر، کچھ ہماری خستہ انگریزی کا قصور اور کچھ اس انگریز کی بے اعتناعی نے مجھے پےدرپے گرامر کی غلطیوں پر مجبور کردیا. اٹک اٹک کر جواب دیتے ہوئے مجھے یقین ہوچلا تھا کہ میں فیل ہونے جارہا ہوں. ایسے میں اس انگریز نے بیزاری سے کہا کہ سامنے رکھے مرتبان میں سے کوئی بھی پرچی نکال لو اور اس پر جو بھی موضوع درج ہو، اس پر انگریزی میں ایک چھوٹی سی تقریر یا گفتگو کرو. یہ سنتے ہی ہم نے پرچی نکالی، عنوان کچھ ثقافت سے متعلق تھا. پرچی نکالتے ہی اندر کا مقرر بیدار ہوگیا اور بناء کسی ہچکچاہٹ ہم نے انگریزی میں پورے زور و شور سے تقریر کر ڈالی. وہ انگریز چونک کر پوری طرح سے میری جانب متوجہ ہوگیا، میری نظر میں بھی اب وہ ایک خوفناک انٹرویو لینے والا ممتحن نہیں تھا بلکہ فقط ایک ناظر و سامع بن چکا تھا. چانچہ ہم نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر تقریر کی اور تب ہی رکے جب اس نے خود روکا. امتحان ختم ہوا اور ہم بجھے دل سے گھر واپس آگئے. دل میں احساس تھا کہ باقی مراحل میں تو چھ بینڈز کی اوسط شائد آجائے گی مگر اس مرحلے یعنی انگریزی بولنے میں سوال ہی پیدا نہیں ہوتا. کچھ ہفتوں بعد گھر پر نتیجہ موصول ہوا، دھڑکتے دل سے لفافہ کھولا تو فرط حیرت سے گنگ ہوگیا کہ انگریزی بولنے کے اس مرحلے میں مجھے ٩ میں سے '٨' (آٹھ) بینڈ دیئے گئے تھے !! جو میرے انگریزی کے استاد کے بینڈ اسکور سے بھی زیادہ تھے. باقی میں بینڈز پانچ یا چھ کے اسکور میں منقسم تھے اور اگر مجھے انگریزی بولنے کے اس مرحلے میں یہ غیر معمولی اسکور حاصل نہ ہوا ہوتا تو کبھی میں مطلوبہ اوسط حاصل نہ کرپاتا. یقیناً یہ رب ہی کا انعام تھا مگر اس انعام کا ذریعہ شائد وہ پراعتماد تقریر بنی جس نے ممتحن کو گرویدہ کردیا. میں نے سیکھا کہ کلام کا حسن بعض اوقات کلام کے سقم پر پردہ ڈال دیتا ہے. یہ بھی کہ انسان اکثر اسی پر یقین کرتے ہیں جو انہیں نظر آتا ہے. اگر آپ پراعتماد نظر آئیں گے تو لوگ آپ کو پراعتماد تسلیم کرلیں گے. چاہے اندر سے آپ کتنے ہی لرزہ اندام کیوں نہ ہوں؟
.
 ====عظیم نامہ====

Thursday, 4 May 2017

رضا میں راضی


رضا میں راضی



میرے ایک قریبی دوست کا گھرانہ دینی ماحول کا نمونہ ہے. یہاں صوفیانہ رنگ غالب ہے. ایک ایسا گھر جہاں فی الواقع دین پہلی ترجیح نظر آتا ہے. مجھے یاد ہے کہ شروع دنوں میں جب ان کے گھر پڑھائی کیلئے رات کو رکنا ہوا تو کچھ دیر کیلئے آنکھ لگ گئی. آنکھ کھلی تو دیکھا گھر میں خوب چہل پہل ہے، کوئی وضو کررہا ہے تو کوئی نماز کی تیاری میں مصروف ہے. میں بھی جلدی سے اٹھا کہ ایسا نہ ہو صرف میں ہی فجر سے محروم رہ جاؤں. وضو کرکے جب نماز کو تیار ہوا تو منکشف ہوا کہ یہ وقت فجر کا نہیں ہے ! بلکہ تہجد کا ہے اور سب اسی کی تیار میں جاگے ہوئے ہیں. سبحان اللہ. 
.
 خیر ان دنوں یہ معمول بنا رہا کہ ہم دوست کبھی میرے گھر پر اور کبھی اس دوست کے گھر پر پڑھائی کی نیت سے جمع ہوجاتے. اسی طرح ایک موقع پر دوست کے چھوٹے بھائی نے داخلے کیلئے مختلف اداروں میں اینٹری ٹیسٹ دیئے. حسن اتفاق سے اسے دو بڑی یونیورسٹیوں میں قبول کرلیا گیا. اب مرحلہ یہ تھا کہ کون سی یونیورسٹی کا انتخاب کیا جائے؟ سب بڑے سر جوڑ کر بیٹھے، مذاکرے ہونے لگے. مجھے بھی مشورے میں شریک کیا گیا. سب نے خوب سوچ بچار کرکے ایک یونیورسٹی کے حق میں فیصلہ کیا. مجھ سمیت سب کا اسی پر اتفاق ہوگیا. دوست کا بھائی بھی خوب مطمئن تھا کہ اچانک اسی وقت کسی نے آکر بتایا کہ جن شیخ سے استخارے کا کہا گیا تھا، انہیں اشارہ اس دوسری یونیورسٹی کے حق میں ملا ہے جو ہم سب کی متفقہ پسند کے خلاف ہے. میں نے یہ سنا تو ایک لمحہ کو دھچکا لگا کہ اب کیا ہوگا؟ مگر یہ دیکھ کر ناقابل یقین سی حیرت ہوئی کہ پورے گھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی. سب ایک دوسرے کے گلے لگ کر مبارکباد دینے لگے. کسی نے مجھے بھی گلے لگا لیا. میں نے کن انکھیوں سے دوست کے بھائی کو دیکھا تو حیرت مزید بڑھ گئی. وہ مٹھائی کھا اور کھلا رہا تھا. چہرہ خوشی سے کھلا ہوا تھا. میں حیران تھا کہ کیسے یہ انسان ابھی ایک لمحہ قبل ایک یونیورسٹی میں داخلے پر مسرور تھا اور اب استخارہ میں دوسری یونیورسٹی کا سن کر دگنا خوش ہے؟. کچھ توقف کے بعد میں یہ سمجھ پایا کہ اسی کو توکل یا رضا میں راضی ہونا کہتے ہیں. اس دن مجھے بندگی کا صحیح مفہوم نظر آیا کہ جب استخارہ کے ذریعے یہ اطمینان ہوگیا کہ خیر کا اشارہ ان کی پسند کے برعکس ہے، تب بھی انہیں اسے قبول کرنے میں ذرا دقت نہ ہوئی بلکہ وہ مزید خوشی میں سرشار ہوگئے. 
.
====عظیم نامہ====
.
 نوٹ: قارئین سے استدعا ہے کہ تحریر کا مقصد یہ قطعی نہیں کہ ہم یہ فیصلہ کرنے لگیں کہ استخارہ کرنا چاہیئے تھا یا نہیں؟ یا پھر استخارہ خود کیوں نہ کیا؟ شیخ سے کیوں کروایا؟ میں خود اسی کا قائل ہوں کہ استخارہ دعا ہے جو انسان کو خود ہی کرنی چاہیئے. لیکن جیسا عرض کیا کہ یہاں یہ موضوع نہیں بلکہ مومن کا وہ رویہ موضوع ہے جو اسے خدا کی رضا کے سامنے اختیار کرنا چاہیئے.

Monday, 1 May 2017

بیت بازی


بیت بازی


کراچی شہر کے رہائشیوں کیلئے 'کراچی کلب' کا نام اجنبی نہیں ہے. یہ ایک ایسا کلب ہے جس کی ممبرشپ حاصل کرنا قریب قریب ناممکن ہوتا ہے. اس کے ممبران میں بڑے بڑے ججز، فوجی جرنیل، نامور کاروباری حضرات، بیوروکریٹ اور سیاستدان وغیرہ شامل ہیں. بیشمار لوگوں کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ اس کلب کے ممبر بن سکیں تاکہ ان کا اٹھنا بیٹھنا بھی پاکستان کی ایلیٹ کلاس میں ہو. لوگوں کے پاس پیسے کی کمی نہیں مگر اسکے باوجود کلب کی ممبر شپ آسانی سے اوپن نہیں کی جاتی. خیر جناب یہ میں کیا تفصیل لے کر بیٹھ گیا؟ اصل مطلوب تو آپ کو اپنی یونیورسٹی کے دنوں کا ایک چھوٹا سا دلچسپ واقعہ سنانا ہے. میں سرسید یونیورسٹی کراچی کی بزم ادب کا مرکزی منتظم ہوا کرتا تھا. ان ہی دنوں یونیورسٹی کے چانسلر زیڈ اے نظامی، میجر جنرل غلام عمر اور معروف ادبی شخصیت مظہر علی عارف صاحب نے میری ذمہ داری لگائی کہ بیت بازی کی دو بہترین ٹیمیں تیار کروں اور ان کا مقابلہ 'کراچی کلب' کیلئے تشکیل دوں. چنانچہ میں نے یونہی کیا اور چھ بہترین شرکاء کا دو مختلف ٹیموں کی صورت چناؤ کیا. مقررہ دن کراچی کلب ٹیمیں لے کر پہنچ گیا. بہت ہی عمدہ ادبی ماحول تشکیل دیا گیا. بڑے بڑے شاعر اور اہل ادب بھی سامعین و ناظرین میں شامل تھے. پروگرام کی ذمہ داری میرے کاندھوں پر تھی اور میزبانی معروف ٹی وی پروگرام 'کسوٹی' کے میزبان 'قریش پور' صاحب فرما رہے تھے. وقت مقررہ پر پوری ادبی شان کے ساتھ بیت بازی کا آغاز ہوا. میں دونوں ٹیموں کی حوصلہ افزائی کررہا تھا. دونوں جانب سے غضب کے اشعار پیش کیئے جارہے تھے جنہیں خوب واہ واہ حاصل ہورہی تھی. جب ضرورت پیش آئی تو میں نے بھی لقمہ دیا اور کوئی حسب موقع شعر سنا دیا. شعر سن کر ایک ادبی شخصیت نے سراہتے ہوئےمجھ پر تبصرہ کیا کہ 
.
یہ اور بات کہ منبر پر جاکر کچھ نہ کہیں 
خاموش لوگ بلا کے خطیب ہوتے ہیں !
.
 محفل یونہی آب و تاب سے چل رہی تھی. محسوس ہوتا تھا کہ دونوں ٹیمیں گویا شاعری کا خزانہ ہیں جو کسی صورت ہار نہ مانیں گی. مگر کب تک؟ آخر ایک وقت آیا جب ایک ٹیم حرف 'پ' پر پھنس گئی. اس حرف پر کئی اشعار پہلے ہی ہوچکے تھے اور اب سمجھ نہ آتا تھا کہ 'پ' سے مزید کیا شعر کہا جائے؟ جب شکست سامنے نظر آنے لگی تو اس ٹیم کی ایک لڑکی نے مائیک تھام لیا کہ مجھے 'پ' سے شعر یاد آگیا ہے. سب لوگ ہمہ تن گوش ہوگئے، اس لڑکی نے سانس کھینچا اور پوری لہک سے ایک ایسا شعر پڑھا کہ پوری محفل پہلے حالت سکتہ میں گئی اور پھر کِشتِ زعفران ہو گئی۔ شعر کچھ یوں تھا 
.
پستول سے نہ مارو !! خنجر سے نہ مارو !!
ہم خود ہی مرجائیں گے، ذرا آنکھ تو مارو !
.
 کافی تنقید و بحث کے بعد شعر قبول کرلیا گیا اور یہی ٹیم آگے جاکر کامیاب بھی ہوگئی. آج بھی یہ واقعہ یاد آتا ہے تو بے اختیار لبوں پر مسکان چھا جاتی ہے. کبھی اس کی اس جرأت پر ہنسی آتی ہے اور کبھی سوچتا ہوں کہ اگر وہ لڑکی یہ جرأت نہ کرتی تو اسکی ٹیم کامیابی سے محروم ہوجاتی. :)
.
 ====عظیم نامہ====

Thursday, 27 April 2017

دو اقوال


دو اقوال



جو عبادت عابد کو اطاعت پر مجبور نہ کرے وہ دھوکہ ہے .. اور جو اطاعت مطیع کو عبادت کا شوق نہ دے وہ سراب 
.
====عظیم نامہ====
.
 نوٹ: یہاں عبادت سے مراد نماز، روزے وغیرہ کے ظاہری مظاہر کو لیا گیا ہے. اپنی اصل میں لفظ عبادت کے معنی بہت وسیع ہیں جو مومن کی چوبیس گھنٹے پر محیط ہوتے ہیں.





سلیم المزاج اور حکیم العقل وہی ہے جو فطرت سلیمہ کی روشنی باطن سے اور وحی الٰہی کا نور خارج سے کشید سکے. 
.
 ====عظیم نامہ====


ورکنگ انوائیرومننٹ

ورکنگ انوائیرومننٹ



گزرتے زمانے نے جہاں انسان کی زندگی کے اٹھنے بیٹھنے، رہنے سہنے، مشاغل و مصروفیات کو بدل ڈالا ہے. وہاں جاب یا 'ورکنگ انوائیرومننٹ' میں بھی بڑی نمایاں تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں. پرانی نسل جن عادات و اطوار کو جاب پر کامیابی کی ضمانت سمجھتی تھی یا جن باتوں کے حصول کو مضبوطی کا معیار مانا کرتی تھی، اب تیز زمانے کے سرد و گرم میں وہ عوامل یکسر بدل چکے ہیں. ان ہی بدلتے معیارات میں سے دو اہم نکات درج ذیل ہیں:
.
١. وہ زمانہ چلا گیا جب ایک ہی جگہ نوکری پر ساری زندگی گزار دینے کو مضبوطی سمجھا جاتا تھا. اب مزاج یہ ہے کہ چند سال ایک جگہ گزار کر دوسری نوکری پر بہتر کیرئر اور پیسوں کے حصول کیلئے سوئچ کیا جائے. اس طرح نہ صرف تنخواہ میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے بلکہ نئی چیزیں سیکھنے کو ملتی ہیں جس سے تجربہ وسیع تر ہوتا جاتا ہے. یاد رکھیں کہ ایک ہی کمپنی میں رہتے ہوئے تنخواہ اور عہدے میں ترقی نہایت سست ہوتی ہے.
.
٢٢. وہ دن چلے گئے جب ایک محنتی انسان یہ سوچتا تھا کہ زیادہ محنت کروں گا تو باس خود ہی اسے سراہے گا اور مجھے ترقی دے گا. نئے ورکنگ انوائرنمنٹ میں اصول یہ ہے کہ "اگر حق مانگو گے نہیں تو ملے گا بھی نہیں". گویا ضروری ہے کہ ایک عقلمند ورکر اگر یہ دیکھے کہ اسے اپنے حق کی ترقی نہیں مل رہی تو خود آگے بڑھ کر اپنے باس سے ترقی، اضافہ یا بونس کا تقاضہ کرے. جواب میں یا تو آپ کا تقاضہ کسی درجے پورا ہو جائے گا. نہیں تو دوسری جاب کے آپشنز پر نظر رکھیں. 
.
 ====عظیم نامہ====

احسان اللہ احسان


 احسان اللہ احسان



سوال:
 آپ کا کیا خیال ہے کہ احسان اللہ احسان کو معاف کردینا چاہیئے؟ میری نظر میں تو بلکل معاف کردینا چاہیئے کیونکہ طریقہ غلط ہو سکتا ہے مگر ان کا جذبہ قابل قدر ہے. آپ کا کیا خیال ہے؟
.
جواب:
 کسی ایک معصوم کے قتل کو بھی اسلئے معاف نہیں کیا جانا چاہیئے کہ قاتل کا اپنی دانست میں ارادہ اچھا تھا. پھر یہاں تو معاملہ سینکڑوں ہزاروں کا ہے.
.
 لہٰذا مکمل معافی کو تو خارج از امکان ہونا چاہیئے. گو یہ عدالتی اور حکومتی اداروں کی صوابدید پر منحصر ہے کہ وہ احسان کو سب سے آخری قانونی سزا یعنی سزائے موت دیتے ہیں (جس کا اصولی طور پر وہ مستحق ہے) یا احسان کو عمر سزا سنا کر دوسرے تحریک طالبان پاکستان کے لیڈروں کو سرینڈر کیلئے ابھارتے ہیں. احسان کو زندہ رکھ کر اس سے طالبانی نفسیات اور ان کی مستقبل کی ممکنہ اسٹریٹجیز کو بھی بہتر طور پر سمجھا جاسکتا ہے. جس سے مستقبل میں ان کے خلاف کاروائی کو مزید مؤثر بنایا جاسکے. گو کون سی سزا دی جائے؟ اس کا بہترین فیصلہ وہی ادارے کرسکتے ہیں جو مجھ سے اور آپ سے کہیں بہتر صورتحال کا ادراک رکھتے ہیں. واللہ اعلم بلصواب 
.
 ====عظیم نامہ====

Tuesday, 25 April 2017

منٹو ایک فحش گو یا حقیقت نگار


منٹو ایک فحش گو یا حقیقت نگار



سوال : سعادت حسن منٹو، کرشن چندر، عصمت چغتائی وغیرہ صرف پیسے کمانے کے لیے فحش گوئی کرتے تھے؟ ان کے کیا مقاصد تھے؟
.
 جواب : ان نثر نگاروں نے جھوٹ نہیں لکھا سچ لکھا ہے مگر مجھ جیسے افراد کو ان کے بیان کا طریق پسند نہیں. جس طرح حسن نثار بھی اکثر سچ کہتے ہیں مگر وہ حالات کو صرف ایک مایوس زاویئے ہی سے دیکھنے پر قادر ہیں. اسی طرح منٹو جیسے نثرنگاروں نے زندگی کو غسل خانے کی روزن سے دیکھا ہے لہٰذا انہیں جو بھی نظر آتا ہے، بناء کپڑوں کے ہی نظر آتا ہے. 
.
 گو یہ میرا ذاتی زاویہ نظر ہے، جس سے بہت سے لوگ یقینی اختلاف رکھتے ہیں. ان اذہان کی بھی کمی نہیں جو حسن نثار صاحب کی اپروچ کو ہی درست سمجھتے ہیں اور نہ ہی ان احباب کی قلت ہے جو منٹو کے اسلوب تحریر کو اصلاح کیلئے بہترین مانتے ہیں.
.
 ====عظیم نامہ====

Thursday, 20 April 2017

بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی بداخلاقی


بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی بداخلاقی



یہ افسوسناک امر ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ایک تعداد ایسی بھی ہے جو مغربی ممالک میں ہر جائز و ناجائز قانون کی تو مسکرا مسکرا کر پاسداری کرتے ہیں. مگر جیسے ہی پاکستان جانے کیلئے 'پی آئی اے' کے جہاز میں داخل ہوتے ہیں یا پاکستانی ایئر پورٹ پر اترتے ہیں تو لگتا ہے ان سے بڑی نواب کی اولاد کوئی نہیں. بدتمیزی سے پاکستانی اسٹاف کے ساتھ بات کرنا، بلاوجہ انگریزوں سے زیادہ انگریزی جھاڑنا، نظم و ضبط کی شکایت کر کے پھنکاریں مارتے رہنا (جیسے کبھی پاکستان میں رہے ہی نہ ہوں)، بات بات پر عملے سے الجھنا اور اچانک اپنی صفائی پسندی بھول کر گند پھیلانا ان کی حرکات  سے صاف ظاہر ہوتا ہے. یہی افراد جب ملک پہنچ جاتے ہیں تو ہر قانون اور سگنل توڑتے ہوئے تیز گاڑی چلاتے ہیں، اپنے مختلف کاموں کیلئے دو نمبر ڈاکومینٹس بنواتے ہیں اور پھر اپنے احباب میں بیٹھ کر عالمانہ تجزیئے کرتے ہیں کہ کیسے فلاں ملک زبردست ہے؟ اور کیوں پاکستان کا کچھ نہیں ہوسکتا؟ 
.
 بحیثیت ایک بیرون ملک مقیم پاکستانی کے جب میں یا میرے جیسے دوسرے محب وطن پاکستانی ان جیسے افراد کے رویوں کو دیکھتے ہیں، جن کا ذکر پوسٹ میں ہوا ہے تو خون کھول اٹھتا ہے. آج 'ایف آئی اے' کی جانب سے ریلیز کردہ اس ویڈیو کو دیکھنے کا اتفاق ہوا. جس میں ناروے سے آنے والی کچھ پاکستانی نژاد نارویجین عورتیں آخری درجے میں عملے سے بدتمیزی کررہی ہیں اور ان کی ایک سننے کو تیار نہیں ہیں. بلکہ اگر بڑھ کر کبھی ضبط کردہ موبائل چھین رہی ہیں اور کبھی ایک خاتون اسٹاف کے ہاتھ پکڑ کر جھٹک رہی ہیں. میں آپ کو اطمینان دلاتا ہوں کہ اگر یہی حرکت ان عورتوں نے کسی مغربی ملک میں کی ہوتی تو ان کی ایسی کی تیسی کر کے پولیس لے جاتی. امریکہ ہوتا تو الیکٹرک شاک مار کر گرایا جاتا اور یورپ ہوتا تو فرش پر منہ کے بل پھینک کر ہاتھ باندھ دیئے جاتے. بہت ممکن ہے کہ سفر پر پابندی لگتی، جیل ہوتی یا تگڑا جرمانہ لگتا. یہاں یہ غلط فہمی بھی دور کرلیں کہ امریکہ اور یورپ وغیرہ میں ہمیشہ مسافروں کے ساتھ درست وجوہات کی بنیاد پر ہی کاروائی ہوتی ہے. ہرگز نہیں بلکہ بلاوجہ شک یا کسی بھی بیکار بات کو وجہ بنا کر آپ کو روکا بھی جاسکتا ہے، آپ کا کوئی سامان عارضی یا مستقل ضبط بھی ہوسکتا ہے اور آپ کو گھنٹوں انتظار بھی کروایا جاسکتا ہے. کسی بھی صورت میں مسافر یہ حماقت نہیں کرتا کہ عملے پر چڑھائی کردے. اسے خوب معلوم ہوتا ہے کہ ایسا کرنے پر اس کا کیا حشر ہونا ہے. اس سے قطع نظر کہ غلطی اس کی ہے یا اسٹاف کی. 
.
 ====عظیم نامہ====

درود پر اعتراض


درود پر اعتراض



سوال:
 سر، غیر مسلموں کی جانب سے درود شریف پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ جب ابراہیم علیہ السلام و آل ابراہیم پر رحمت و برکت کی دعا کر دی گئی تو اس میں رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی آل ازخود آ جاتی ہے. اس کا الگ سے ذکر ظاہر کرتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آل ابراہیم سے نہیں ہیں. براہ مہربانی جواب عنایت فرمائیں.
.
جواب:
 یہ خصوصیت کا بیان ہے. جیسے میں دعا کروں کہ اللہ پاک تمام امت مسلمہ کے گناہوں کو معاف فرمادیں اور پھر خصوصیت سے یہ بھی کہوں کہ یا اللہ مجھ گنہگار کے گناہ بھی معاف کردیں اور میرے گھر  والوں کو بھی بخش دیں.
اب ایسے میں کوئی عقلمند اٹھے اور فرمانے لگے کہ جب امت مسلمہ کے گناہوں کی معافی مانگ لی تھی تو آپ اور آپ کا گھر اس میں شامل تھا. پھر اپنا یا گھر والو کا ذکر خصوصیت سے کیوں کیا؟ .. ایسے اعتراض پر سر پکڑنے کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے؟ 
.
 یہ پہلو بھی ملحوظ رہے کہ اسلام کو دین ابراہیمی سے تعبیر کیا جاتا ہے. حج ہو یا قربانی ہم مختلف طریق سے سنت ابراہیمی سے اپنا تعلق جوڑتے ہیں، انہیں یاد کرتے ہیں. درود ابراہیمی میں اسی نسبت اور تعلق کا اظہار ہوتا ہے. 
.
 ====عظیم نامہ====

Wednesday, 19 April 2017

درود ابراہیمی پر سوال و جواب

درود ابراہیمی پر سوال و جواب




١. درودِ ابراہیمی قرآن شریف کی کس سورت میں ہے؟
.
جواب: احادیث کریمہ تو اس باب میں بکثرت مروی ہیں اور قرآن کریم میں ارشادِ ربانی ہے:
.
ان اللہ وملٰٓئکتہٗ یصلون علی النبی یآ یھا الذین اٰمنو ا صلو ا علیہ وسلمو ا تسلیماo
.
ترجمہ: بے شک اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اس غیب بتانے والے (نبی) پر، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود اور خوب سلام بھیجو‘‘۔
.
درود ابراہیمی سمیت کوئی دوسرا درود قران حکیم میں بیان نہیں کیا گیا بلکہ اس کا مفصل بیان احادیث مبارکہ میں ملتا ہے. یہ ایسا ہی ہے جیسے قران حکیم میں قیام، رکوع و سجود کا اصولی حکم دیا گیا ہے مگر یہ تینوں افعال کرتے کیسے ہیں؟ اس کا بیان احادیث یا سنت سے حاصل ہوتا ہے. 
.
٢. درودِ ابراہیمی صحاحِ ستہ میں سے کس کتاب میں ہے؟ کیا درودِ ابراہیمی بخاری شریف میں موجود ہے؟
.
جواب: صحیح بخاری اور صحیح مسلم دونوں میں موجود ہے. گویا صرف صحیح حدیث ہی نہیں ہے بلکہ اسے متفق علیہ کا مقام بھی حاصل ہے. تفصیل کیلئے دیکھیئے 
.
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى، قَالَ لَقِيَنِي كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ فَقَالَ أَلاَ أُهْدِي لَكَ هَدِيَّةً، إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ عَلَيْنَا فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ عَلِمْنَا كَيْفَ نُسَلِّمُ عَلَيْكَ، فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ قَالَ ‏"‏ فَقُولُوا اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ ‏"‏‏.‏ بخاری ٦٣٥٧
.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے بیان کیا ، کہا ہم سے حکم بن عتبہ نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے سنا ، کہا کہ کعب بنعجرہ رضیاللہعنہ مجھ سے ملے اور کہا کہ
میں تمہیں ایک تحفہ نہ دوں ؟ ( یعنی ایک عمدہ حدیث نہ سناؤں ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم لو گوں میں تشریف لائے تو ہم نے کہا یا رسول اللہ ! یہ تو ہمیں معلوم ہو گیا ہے کہ ہم آپ کو سلام کس طرح کریں ، لیکن آپ پر درود ہم کس طرح بھیجیں ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس طرح کہو ۔ اللهم صل على محمد ، ‏‏‏‏ وعلى آل محمد ، ‏‏‏‏ كما صليت على آل إبراهيم ، ‏‏‏‏ إنك حميد مجيد ، ‏‏‏‏ اللهم بارك على محمد ، ‏‏‏‏ وعلى آل محمد ، ‏‏‏‏ كما باركت على آل إبراهيم ، ‏‏‏‏ إنك حميد مجيد ‏ ” اے اللہ ! محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر اپنی رحمت نازل کر اور آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ، جیسا کہ تو نے ابراہیم پر رحمت نازل کی ، بلاشبہ تو تعریف کیا ہوا اور پاک ہے ۔ اے اللہ ! محمد پر اور آل محمد پر بر کت نازل کر جیسا کہ تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر برکت نازل کی ، بلاشبہ تو تعریف کیا ہوا اور پاک ہے ۔
.
یہاں یہ بھی یاد رہے کہ آیت مبارک میں درود کے ساتھ ساتھ سلام پڑھنے کا بھی حکم ہے. جس کا بیان قران مجید نے خود کردیا ہے (التحیات ..). لیکن کس وقت پڑھنا ہے؟ اس کا بیان بھی بخاری کی حدیث میں موجود ہے. 
.
٣. کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں درودِ ابراہیمی پڑھا ہے؟ جواب اگر ہاں ہے تو اس کا حوالہ دیجیے۔
.
جواب: اس کا بیان نسائی اور مسند ابو عوانہ کے حوالے سے بیان ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی دوران نماز سلام پھیرنے سے قبل خود پر درود بھیجتے تھے (دعا کرتے تھے). گو مجھے اس کا ریفرنس حاصل نہیں. اگر اس سے تشفی نہ ہو تو یہاں یہ یاد کیجیئے کہ آیت میں کہا گیا ہے "بے شک اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں" جس طرح اللہ رب العزت کا درود بھیجنا ہمارے درود بھیجنے سے مختلف ہے، اسی طرح رسول صلی اللہ علیہ وسلم اگر کچھ مختلف الفاظ سے اپنے لئے درود یعنی دعا کرتے ہوں تو کوئی حیرت کی بات نہیں. وہ الفاظ اگر مختلف بھی ہوں اور ہمارے علم میں نہ ہوں تب بھی اس سے ہمارا درود پڑھنا متاثر نہیں ہوسکتا. ہم مسلمانوں کو تو درود کےالفاظ سیکھا دیئے گئے ہیں 
.
٤. کس کس صحابی نے نماز میں درودِ ابراہیمی پڑھا ہے؟
.
جواب: یہ عملی و قولی تواتر سے ہم تک پہنچا ہے جو ازخود دین میں ایک قطعی حجت ہے. گویا تمام صحابہ رضی اللہ اجمعین نے اس کا اہتمام کیا. اگر کسی کو لگتا ہے کہ صحابی یہ نہیں کرتے تھے تو اسے ثبوت پیش کرنا ہوگا. ہم نے تو صحیح بخاری و مسلم کی متفقہ علیہ حدیث کو پیش کردیا ہے، جس میں صحابہ کو تلقین کردی گئی ہے کہ وہ درود کن الفاظ سے پڑھیں. دیگر کتب کا بیان اس کی تصدیق میں اضافی موجود ہے. 
.
٥. درودِ ابراہیمی سب سے پہلے کس کتاب میں لکھا گیا؟
.
جواب: جب اجماع علماء و امت کے حساب سے احادیث صحیحہ کی مستند ترین کتب میں موجود ہے تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ سب سے پہلے کس کتاب میں ذکر ہوا؟ اس کے لئے صحیفہ ہمام بن منبہ یا موطا ابن مالک وغیرہ کو دیکھنا ہوگا. مگر چونکہ یہ سوال ہی عبث ہے لہٰذا میں مشقت نہیں کرنا چاہوں گا 
.
٦. درودِ ابراہیمی نماز میں کب شامل کیا گیا اور کس نے شامل کیا؟
.
جواب: رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے شامل کیا. انہوں نے ہی مکمل نماز مسلمانوں کو سکھائی ہے. صراحت اپر کے جوابات میں موجود ہے.
.
====عظیم نامہ====