Friday, 30 December 2016

امریکہ بہادر اور میں - سفر نامہ


امریکہ بہادر اور میں - سفر نامہ



.
کوئی سال بھر قبل مجھے یہ مرحلہ درپیش ہوا کہ ایک قریبی سسرالی عزیز نے امریکہ اپنی بیٹی کی شادی میں مجھے مدعو کیا. اول تو یہ میزبان گھرانہ میرے دل سے بہت نزدیک ہے (جن سے ملنا ہمیشہ اچھا لگتا ہے) اور پھر رشتہ بھی سسرال کا تھا لہٰذا بہانہ کرنے کا کوئی امکان نہ تھا. یہ جاننے کے باوجود کہ اکثر پاکستانیوں کے ویزا امریکہ کیلئے مسترد کردیئے جاتے ہیں، میں نے بادل نخواستہ اپنی سی کوشش کرنے کا وعدہ کرلیا. وقت مقررہ پر ویزا آفس اپنے کاغذات کے ساتھ پہنچ گیا. عمارت کے اپر نسب ایک بہت بڑا فیلکن یعنی شہباز کا مجسمہ نسب تھا. یوں لگا جیسے میں اسے اور مجسمہ مجھے خونخوار آنکھوں سے گھور رہے ہیں. دل میں کہیں نہ کہیں امریکہ کے خلاف ایک شدید غم و غصہ بھرا ہوا محسوس ہورہا تھا لہٰذا مجھے ذرا فکر نہ تھی کہ وہ میرا یہ ویزہ مسترد کرتے ہیں یا قبول. بلکہ سچ پوچھیئے تو ایک لمحہ کو دل چاہا کہ اچھا ہی ہے مسترد کردیں تو اس دشمن مسلم ملک نہ جانا پڑے. پھر امریکہ میں بسے اپنے ان عزیزوں کے چہرے ذہن میں آئے تو خود کو قابو کیا. کاغذات جمع کرانے کے کافی دیر بعد مجھے انٹرویو کے لئے بلایا گیا. سامنے تاثرات سے عاری ایک کرخت چہرے کی انگریز عورت براجمان تھی. اس نے مجھ سے روکھے انداز میں کچھ سوال پوچھے. میں چونکہ خود اسوقت ایک ناراض ذہن کے ساتھ موجود تھا چنانچہ میں نے عادت کے برخلاف اس کے روکھے سوالات کے جوابات خاصی بدتمیزی سے دیئے. حیران کن طور پر وہ دوران انٹرویو ہی خوش اخلاق ہوگئی اور فوری طور پر مجھے ویزا گرانٹ کردیا. میں نے خود کلامی کی کہ لو جناب اب تو سامان باندھ لو، امریکہ بہادر جانا ہی ہوگا. 
.
میری فلائٹ لندن (انگلینڈ) سے پہلے ڈبلن (آیرلینڈ) رکتے ہوئے نیویورک (امریکہ) جارہی تھی. ذہن کو مسلسل اس کوفت نے جکڑ رکھا تھا کہ کہیں یہ چیکنگ کے نام پر میرے کپڑے ہی نہ اتر وا لیں جو کہ اب ایک عام بات ہے. الحمدللہ یہ خدشہ حقیقت نہیں بنا. البتہ لندن اور ڈبلن دونوں جگہ 'رینڈم چیکنگ' کے نام پر حسب توقع میرا نام نکلا. پورا سامان چیک کیا گیا، یہاں تک کے وہ بیگ جو سامان میں جاچکے تھے انہیں واپس منگوایا گیا اور میرے سامنے کھولا گیا. ایک دیو قامت سیاہ فام آفیسر مجھ سے معزرت خواہانہ انداز میں سوالات کرتا رہا اور ایک گوری آفیسر سامان کھول کر دیکھتی رہی. میں نے گپ لگانا شروع کی تو جلد ہی ہم تینوں کے قہقہے چیکنگ روم میں گونجنے لگے. میں نے انگریز عورت سے کہا کہ تم سامان بے رحمی سے کھول تو رہی ہو لیکن یاد رکھو میری بیوی میرے ساتھ نہیں ہے اسلئے واپس اب اسی تمیز سے تم ہی نے رکھنا ہے. خیر یہ مرحلہ ختم ہوا اور ہم سارا راستہ انگریزی موویز دیکھتے ہوئے نیویورک جاپہنچے. یہاں خلاف توقع کوئی چیکنگ نہیں کی گئی، وجہ یہ تھی کہ انہوں نے پہلے ہی مجھے ڈبلن میں چیک کرلیا تھا. ائیرپورٹ سے ہی ہم اپنے میزبان کے گھر کیلئے روانہ ہوگئے جو کہ اسپرنگ فیلڈ (میسوچیوسٹ) نامی شہر میں تھا. گھر ماشاللہ غیرمعمولی طور پر خوبصورت اور کشادہ تھا. میزبان رشتے داروں نے میرا نہایت محبت سے استقبال کیا اور مجھے میرا کمرہ دیکھا دیا گیا. گھر میں مہمانوں کی ریل پیل تھی جو مختلف شہروں اور ملکوں سے شادی میں شرکت کرنے جمع ہورہے تھے. سب سے اتنی محبت و عزت ملی کہ جلد ہی مجھے یہ گھر اپنا گھر لگنے لگا. امریکہ میں موجود بڑے بڑے گھر دیکھ کر محروم سے انگلینڈ کے دڑبے نما گھر یاد آگئے جن کی سیڑھیاں اتنی تنگ ہوتی ہیں کہ اگر ایک جانب سے مرد اور دوسری جانب سے خاتون آرہی ہوں تو یوسفی صاحب کے بقول نکاح کے سوا کوئی مہذب صورت باقی نہیں رہتی. اگلا پورا ہفتہ میں نے شادی کی تیاریاں کرواتے اور رونق سے لطف اندوز ہوتے گزارا. گھر کا گارڈن مجھے سب سے دلفریب لگا جہاں ایک چھوٹا سا تالاب بھی تھا اور جہاں صبح ہوتے ہی گلہریاں، خرگوش، رنگ برنگی چڑیاں کھانا کھانے جمع ہو جایا کرتے. اسپرنگ فیلڈ شہر بھی گھومتا رہا اور یہاں کی مشھور جگہوں کا جائزہ لیا. یونیورسٹی آف میسوچیوسٹ بھی گیا جو ایک عمدہ یونیورسٹی تسلیم کی جاتی ہے. شاپنگ مالز میں شاپنگ کیلئے گیا تو یہ دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوئی کہ یہاں سیل ہی سیل لگی رہتی ہے اور قیمتیں واقعی انگلینڈ کے مقابلے میں آدھی ہیں. بڑے برانڈز جیسے پولو اور نائیک وغیرہ ان قیمتوں میں مل رہے تھے جن کا تصور بھی میں انگلینڈ میں نہیں کرسکتا. خوب شاپنگ کی اور دل میں سوچا کہ عقلمند ہیں وہ لوگ جو امریکہ آتے ہی شاپنگ کی نیت سے ہیں. یہاں ایک دلچسپ مشاہدہ یہ بھی ہوا کہ اس شہر میں بسے ہوئے لوگوں کی اکثریت بہت موٹی تھی جن کے سامنے میرا چھ فٹ ایک انچ کا بھاری وجود بھی سلم لگ رہا تھا. معلوم ہوا کہ یہ شہر موٹے مرد و عورتوں کیلئے جانا جاتا ہے اور یہاں ایسے لوگ بسے ہوئے ہیں جو گورنمنٹ سے مختلف الاؤنس لیتے ہیں.  پورے امریکہ میں ہی جنک فوڈ کا بہت زور ہے اور ہر گلی کونے پر 'ڈونٹس' کی دکانیں کھلی ہوئی ہیں. کہتے ہیں امریکی ڈونٹس پر جیتے ہیں. برگر کا سائز بھی انگلینڈ کے مقابلے میں بہت بڑا تھا. کچھ مقامی میک ڈونلڈز میں ایسی چیزیں دستیاب تھیں جو کسی اور ملک کے میک ڈونلڈ میں نہیں ملتی جیسے 'لابسٹر رول' وغیرہ.
.
ان ہی دنوں ایک عجیب مسلہ سامنے آگیا جس سے پورا ماحول متاثر ہوا. وہ یہ کہ نکاح خواں صاحب جو کہ کوئی مذہبی ڈاکٹر تھے انہوں نے ایسی شرائط عائد کردی جو گھرانوں میں قبول نہ تھی. مثال کے طور پر وہ مہر کے غیر موجل ہونے کے قائل ہی نہ تھے. اس کے علاوہ بھی انہوں نے کئی ایسی باتیں بیان کی جس کا مطلب تھا کہ اگر مجھے نکاح خواں بنانا ہے تو میری مان کر چلنا ہوگا. میرے لئے ان کے یہ نخرے حیرانی کا سبب تھے. معلوم ہوا کہ ان کے علاوہ پورے شہر میں صرف اور صرف ایک اور مولانا صاحب ہیں جو نکاح پڑھاتے ہیں. گویا یہاں ڈیمانڈ زیادہ تھی اور مولوی کی سپلائی بلکل بھی نہیں. ان دوسرے مولانا صاحب کے پاس میں اپنے میزبان کے ساتھ گیا جو فی الواقع ایک علمی مہذب شخصیت کے مالک تھے. بہت اصرار کے باوجود بھی انہوں نے اپنی مصروفیت کا کہہ کر معزرت کر لی. ایک جانب یہ مسلہ تھا تو دوسری جانب دلہن کا اپنے گھر والو سمیت پہلے دن سے یہ شدید اصرار تھا کہ نکاح عظیم خالو پڑھائیں یعنی میں پڑھاؤں. میں نے ہر بار ان سے معزرت کی اور سمجھایا کہ بہتر یہی ہے کہ یہ کام کوئی عالم دین کرے. اسلئے نہیں کہ میں یا کوئی اور نہیں کرسکتا بلکہ اسلئے کہ مجھے اس کا زیادہ تجربہ نہیں ہے (صرف ایک بار بحالت مجبوری نکاح پڑھا چکا ہوں). جب اصرار حد سے بڑھا تو میں نے یہ حامی بھر لی کہ نکاح تو وہ ڈاکٹر صاحب ہی پڑھائیں البتہ میں اسٹیج پر آکر انگریزی میں مختصر خطبہ دے دوں گا. معاملہ سمٹ گیا اور ان نکاح خواں صاحب سے بھی معاملات تفہیم پاگئے. تیاریاں پھر زور و شور سے جاری ہو گئیں. اللہ اللہ کرکے شادی کا دن آگیا. شیریٹن فائیو اسٹار ہوٹل میں دو دن قیام رکھا گیا جس میں پہلے روز شادی اور دوسرے روز دعوت ولیمہ ہونی تھی. یہ شادی توقع سے بھی زیادہ عالیشان کی گئی. فی الواقع بالی وڈ کے یش چوپڑا کی فلم کا کوئی سیٹ معلوم ہوتا تھا. پاکستانیوں کے ساتھ ساتھ انگریزوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی جن کیلئے پاکستانی ملبوسات بنائے گئے تھے (شیروانی، شرارے، ساڑھیاں وغیرہ).  نکاح کے وقت نکاح خواں صاحب نے بھی ایک طویل تقریر کی جو میری احقر رائے میں خاصی قابل اعتراض تھی. بجائے اچھی نصیحت کے ان کا زور اس بات پر رہا کہ آدم و حوا کی نسل آپس میں شادیاں کرکے بڑھی ہے اور پہلے بہن بھائی کی شادی جائز تھی. میں نہیں جانتا کہ ان باتوں کا کیا اثر ان انگریزوں نے لیا ہوگا جو سامنے بیٹھے ہوئے سن رہے تھے مگر میں اپنا منہ چھپاتا رہا. اس ماحول میں مجھے اسٹیج پر مدعو کیا گیا اور مائیک تھما دیا گیا. میں نے بھی ایک مختصر تقریر کی جس میں مختلف آیات و احادیث سے اس رشتے کی اہمیت کو سمجھایا اور میاں بیوی کے ایک دوسرے پر حقوق کا بیان کیا. الحمدللہ لوگوں نے اسے خوب پسند کیا اور آخر وقت تک مجھ سے مل کر سراہتے رہے. شادی دو دن میں اختتام کو پہنچی اور ہم واپس گھر آگئے. 
.
اب چونکہ شادی انجام پاچکی تھی لہٰذا ہم نے امریکہ کے دیگر شہر گھومنے کی ٹھانی. سب سے پہلے ہماری نظر انتخاب پڑوسی شہر 'بوسٹن' پر پڑی. میری خواہش تھی کہ میں ہارورڈ یونیورسٹی اور ایم آئی ٹی جیسی شہرہ آفاق درس گاہوں کو دیکھ سکوں. خوش قسمتی سے مجھے دیگر احباب کیساتھ ساتھ ایک ایسے عزیز کا ساتھ بھی حاصل تھا جو ہارورڈ یونیورسٹی سے ہی پڑھے ہوئے ہیں اور پاکستان کے ایک نامور ڈاکٹر و سرجن ہیں. اس شہر اور اس میں موجود یونیورسٹیوں کی تاریخ و میعار پر بات کرتے ہوئے ہم نے جی بھر کر سیر کی. ہارورڈ یونیورسٹی میں واقعی سحر انگیز ماحول نظر آتا ہے مگر سچ کہوں تو امریکہ کی یہ یونیورسٹیاں ہرگز وہ جاذبیت نہیں رکھتی جو انگلینڈ میں موجود یونیورسٹیوں کا خاصہ ہے جیسے کیمبرج، آکسفورڈ وغیرہ. بیس بال امریکہ میں بہت مقبول ہے اور بوسٹن میں 'ریڈ ساکس' کے نام سے ایک معروف اسٹیڈیم موجود ہے جسے جا کر ہم نے دیکھا. واپسی میں ایک ایسی جگہ گئے جو انواع و اقسام کی چاکلیٹس کیلئے بہت مقبول ہے. 'میکس برینر چاکلیٹ بار' اس کا نام ہے. یہاں اتنی چاکلیٹیں کھائیں کہ اگلے روز تک منہ میں صرف چاکلیٹ ہی کا ذائقہ رہا.  
.
بوسٹن سے واپسی کے اگلے ہی روز ہم نے نیویورک جاکر وہاں ایک عزیز کے گھر چار روز قیام  کا ارادہ کرلیا. نیویورک پہنچ کر پہلی بار ترقی و تعمیر کا خوشگوار احساس ہوا. کشادہ سڑکیں، فلک بوس عمارتیں اور نت نئی تفریحات چاروں طرف پھیلی ہوئی تھیں. اسی رات سب مل کر ٹائم اسکوائر گئے. مجھے گمان تھا کہ نیویورک کا یہ 'ٹائم اسکوائر' لندن کے 'پکڈلی سرکس' کی کوئی ایڈوانس فارم ہوگا. مگر سچ کہوں تو وہاں پہنچا تو دنیا ہی نئی تھی. اونچی عمارتیں، آنکھوں کو خیرہ کرتے  روشن قمقمے، طرح طرح کے کرتب اور لوگوں کا اژدھام. مجھے فطری طور پر سادگی اور فطرت کے مظاہر پسند ہیں مگر اس وقت ایک لمحے کو میں اس انسانی ترقی و تعمیر میں مبہوت ہو کر رہ گیا. چوک کے بیچ کچھ سیاہ فام لڑکے اژدھے نما سانپ (پائی تھن) لئے کھڑے تھے. باقی افراد کی طرح مجھے بھی انہیں دیکھ کر خوف محسوس ہوا. بچپن سے میری ایک بری عادت یہ ہے کہ اگر مجھے کسی چیز سے خوف محسوس ہو تو وہ میں لازمی کرتا ہوں. پھر وہ چاہے کوئی آسیب زدہ مکان جانا ہو، کسی سرکش بیل کو قابو کرنا ہو، اونچائی سے چھلانگ لگانا ہو یا پھر سمندر میں غوطہ زنی. اسوقت بھی یہی عادت روبہ عمل آئی اور میں نے اس اژدھے کو گلے میں لپیٹ لیا. قریب قریب ساری رات اسی علاقے میں گھومتے رہے. یہ دوسری ایسی مصروف جگہ دیکھی جو رات میں بھی دن کا سماں رکھتی تھی. پہلی اور اس سے زیادہ جاگتی جگہ مسجد الحرام یعنی خانہ کعبہ  ہے. 
.
اگلے دن صبح ہی صبح میں نیویورک گھومنے نکل گیا. یہاں کا سب وے ٹرین کارڈ بنوایا اور سفر شروع کردیا. سب سے پہلا احساس یہ ہوا کہ انگلینڈ کا زمین دوز ٹرین نظام  نیویورک سے کہیں زیادہ بہتر ہے. حالانکہ یورپ کے دیگر شہروں میں انگلینڈ سے بھی بہتر ٹرین سسٹم موجود ہیں. ٹرینیں پرانی اور ٹکٹ مشینیں بھی اڈوانس نہیں تھیں. شراب اور پیشاب کے بھبھکے گاہے بگاہے سٹیشن پر محسوس ہوئے. نیویورک کے لوگ پیسہ کمانے کیلئے خود کو ہلکان کئے ہوئے ہیں اور ایک آدمی دو دو تین تین نوکریاں عام کررہے ہوتے ہیں. بارہ سے چودہ گھنٹے کام کرنا معمول ہے. ٹورسٹوں کے علاوہ ٹرین میں موجود مقامی لوگوں کے چہرے ان کی تھکن اور بیزاری کا احوال سنا رہے تھے. اس کے برعکس انگلینڈ میں آپ کو اکثر چہرے مسکراتے اور آسودہ نظر آتے ہیں. یہاں ایک تبصرہ کردوں کہ امریکہ مجموعی طور پر انگلینڈ سے کہیں زیادہ خوبصورت ہے، ٹیکنالوجی میں بھی بہت آگے ہے لیکن ڈسپلن یعنی نظم کے حوالے سے انگلینڈ سے پھیچے معلوم ہوتا ہے. یہ ڈسپلن چاہے کمپنی کی سطح پر ہو یا حکومتی اداروں کے حوالے سے. امریکہ میں موجود ہمارے ایک اور عزیز جنہیں امریکہ، کینیڈا اور انگلینڈ تینوں ملکوں کے سفارت خانوں میں کام کرنے کا طویل تجربہ ہے. انہوں نے بھی یہی گواہی دی کہ ڈسپلن کے حوالے سے سب سے بہتر ملک اور نظم انہیں انگلینڈ کا محسوس ہوا. نیویورک ایک خوبصورت جدید شہر ہے. مجھے کئی بار ایسا محسوس ہوا کہ اگر میرے آبائی شہر کراچی کو ترقی یافتہ بنادیا جائے تو اس کی شکل بلکل نیویورک ہی کے جیسی برآمد ہو. یہ دن بھرپور ثابت ہوا اور میں نے شہر کے حسن کو پوری طرح محسوس کیا. جن جگہوں پر گیا ان میں ٹائم اسکوائر، وال اسٹریٹ، ٹرمپ ٹاور، اسٹیچو آف لبرٹی، نائن الیون گراؤنڈ زیرو، ہسٹری میوزیم، اٹلی ٹاؤن، چائنا ٹاؤن، فری ڈم ٹاور، سینٹرل پارک، کونی آئی لینڈ، جیکسن ہائٹس، راک فیلر سینٹر، ففتھ ایونیو، ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ، بروک لن برج وغیرہ شامل ہیں. ان میں سے اکثر جگہیں شاہکار ہیں اور بار بار جانے لائق ہیں. 
.
ہسٹری میوزیم میں ایک لائیو اسپیس شو کا ٹکٹ خریدا. آڈیٹوریم اور شو کچھ اس طرح سے ڈیزائن کیا گیا تھا کہ آپ کو اپنا وجود خلا میں ستاروں سیاروں کے مابین تیرتا ہوا محسوس ہو. ایک بار جو بلیک ہول کا حال دکھایا تو بیک وقت مجھ سمیت تمام افراد کی چیخ نکل گئی. یوں لگا کہ اس بلیک ہول نے ہمیں تیزی سے نگل لیا ہو. اسٹیچو آف لبرٹی پانی کے بیچ واقع ایک جگہ پر  نصب ہے اور وہاں ایک بحری جہاز ہمیں لے گیا. چھوٹا سا سفر دلنشیں اور موسم خوشگوار تھا. لبرٹی کے اس مجسمے کو اگر امریکی نظریات کی نمائندہ علامت کہا جائے تو غلط نہ ہوگا. میں معلوم نہیں کتنی ہی دیر اپنے ذہن میں ان نظریات اور اسلام کے نظریات کا تقابل کرتا رہا. اس نظریاتی تصادم کو سوچتا رہا جو آج ساری دنیا میں برپا ہے. بے ساختہ اللہ سے نصرت دین کی دعا مانگی. یہ مجسمہ لبرٹی یعنی آزادی کا ہے. ایک ایسی آزادی جو کئی حوالوں سے غلامی ہی کی ایک صورت ہے. آزادی کپڑوں سے، روایات سے، مذہب سے، الہامی احکامات سے اور غلامی سودی نظام کی، نفس کی، شہوات کی، فیشن کی. امریکہ کے اس سفر میں مجھے ہمیشہ یہ احساس ہوا کہ یہاں حکومتی سطح پر عوام کو ایک خاص طرح سے برین واش کیا جارہا ہے اور اس برین واشنگ سے عوام خود واقف نہیں ہیں. یہی لبرٹی کا نعرہ اب ایک عقیدہ سا بن گیا ہے. بچے تک ایسے جملے جابجا استعمال کرتے ہیں کہ 'آئی ایم فری' ، 'آئی کین ڈو واٹ آئی وانٹ' وغیرہ. بہت اچھی بات ہے اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ فری ہیں مگر بار بار اس قسم کے جملے کہنا دراصل اس پروگرامنگ کو ظاہر کرتا ہے جو ان اذہان کی کی جارہی ہے. ہر دوسرے گھر پر امریکہ کا جھنڈا لہرا رہا ہے، اشتہاروں اور پروڈکٹس پر امریکی جھنڈے بنے ہوئے ہیں جو غیر محسوس انداز میں لوگوں میں امریکی ہونے کا فخر انجیکٹ کررہے ہیں. ایسا محسوس ہوا کہ وہاں موجود وہ مسلمان جو امریکہ میں پیدا نہیں ہوئے آج بھی نائن الیون پر بات کرتے ہوئے گھبراتے ہیں. امریکہ کو پولیس اسٹیٹ بھی کچھ لوگ کہتے ہیں اور شاید یہ اتنا غلط بھی نہیں ہے. مجھے کئی ایسی عام گاڑیاں دکھائی گئیں جس میں سادہ لباس میں موجود کوئی فرد گاڑی چلا رہا ہے مگر درحقیقت وہ پولیس کی گاڑی تھی. کئی مختلف افراد سے بات ہوئی جنہیں ایف بی آئی نے اپروچ کیا اور اپنے ساتھ خفیہ کام کرنے کی دعوت دی. میری کچھ نوجوانوں سے الحاد اور دیگر موضوعات پر خوشگوار گفتگو رہی. ان کے ذہن میں موجود مغربی فلسفوں اور سوالات کے میں نے حتی الامکان جوابات دیئے. 
.
ایک مصروف ترین سڑک پر چلتے ہوئے میں نے دیکھا کہ ایک پیاری سے گلہری کا کرتب دکھایا جارہا ہے. میں بھی کرتب دیکھنے پہنچا تو یہ جان کر حیرت ہوئی کہ کوئی کرتب دکھانے والا نہ تھا بلکہ گلہری خود ہی طرح طرح کی اٹھکلیاں کرکے مونگ پھلیاں لے رہی تھی. یہ ایک سیکھنے والی بات ہے کہ اتنی مصروف سڑک پر بھی جانور خود کو اس درجے محفوظ محسوس کرتے ہیں کہ انسانوں سے بلکل نہیں خوف کھاتے. نیویورک کی اسکائی لائن عظیم الشان عمارات سے مزین ہے اور ورطہ حیرت میں ڈال دینے والی ہے. دریا کے کنارے بیٹھ کر اس اسکائی لائن کو دیکھنا ایک خوش کن تجربہ تھا. نیویورک میں کئی دن گزارنے کے بعد ہم نے واپس اسپرنگ فیلڈ کا رخ کیا اور دوسرے ہی روز مشہور عجوبہ 'نایگرا فال' کا رخ کیا. ایک وین بک کرلی گئی جس میں کوئی آٹھ گھنٹے کا سفر کرکے ہم بوقت فجر نایگرا فال پہنچے. نماز ادا کرنے کے بعد نظارہ کرنے جو پہنچا تو فطرت کے حسن کا ایک ناقابل بیان شاہکار آنکھوں کے سامنے تھا. پہاڑوں سے گرتی ہوئی یہ عظیم آبشار بیک وقت حسین بھی ہے اور پر ہیبت بھی. اس پر کمال یہ کہ دو یا تین طرف سے قوس و قزاح (رین بو) کے رنگ نظر آرہے تھے. وقت اور سانسیں دونوں ہی تھمی ہوئی محسوس ہوئی. گھنٹوں اسی منظر کو تکتا رہا. جب ہمارے میزبان نے ہمیں بتایا کہ سامنے نظر آنے والی آبشار کینیڈا میں واقع ہے. گویا نایگرا فال کا ایک حصہ امریکہ میں اور دوسرا حصہ کینیڈا میں واقع ہے. ہم نے کینیڈا کی جانب جانے کی بابت سوال کیا تو معلوم ہوا کہ پانی کا جہاز ایک جانب سے چلتا ہے اور دوسری جانب آبشار کے عین نیچے سے لے کر جاتا ہے. فوری طور پر جانے کا ٹکٹ لیا اور جہاز میں جا بیٹھے. ہمیں برساتی پہنا دی گئی. امریکہ والے نیلی برساتی پہنے ہوتے ہیں اور کینیڈا والے سرخ برساتی. جہاز کا یہ سفر یادگار تھا. اتنا خوبصورت منظر پہلے کبھی نہ دیکھا تھا. گرتی ہوئی آبشار ایک برف کی طویل دیوار سی محسوس ہوتی تھی. آبشار کے نیچے پہنچے تو ہر طرف سے پانی کے چھینٹے آنے لگے. پانی کا شور اتنا کہ کان پڑی آواز نہ سنائی دے. کچھ تصویریں کھینچی مگر خوف یہ تھا کہ کیمرے اور موبائل میں پانی چلا جائے گا. جب کنارے پر اتارا تو سب تھکن سے چور ہوچکے تھے.  میری نظر ایک چوٹی پر گئی جو ایک آبشار کے بلکل برابر میں تھی اور اس تک جانے کی سیڑھیاں لگی ہوئی تھیں. کوئی پندرہ بیس منٹ سیڑھیاں چڑھ کر چوٹی پر جاپہنچا اور نظارے سے لطف اندوز ہوتا رہا. 
.
یوں میرا یہ امریکہ کا سفر اپنے اختتام کو پہنچا. مجھے اعتراف ہے کہ نہ صرف میں نے اسے بھرپور انجوائے کیا بلکہ میں بہت سی چیزوں کو مختلف زاویوں سے دیکھنے کے قابل ہوسکا. سچ ہے کہ سفر انسان کو وہ سیکھاتا ہے جو کوئی کتب یا استاد نہیں سیکھا سکتا.  آخر میں یہ کہ جو لکھا وہ اپنے ناقص مشاہدے اور مختصر سفر کی بنیاد پر لکھا. لہٰذا ہرگز ضروری نہیں کہ یہ مشاہدات فی الواقع اصل حقیقت بیان کرتے ہوں. آپ اسے کلی یا جزوی طور پر مسترد کرسکتے ہیں. 
.
====عظیم نامہ====

Thursday, 22 December 2016

کراچی - میرا بدنصیب شہر



کراچی - میرا بدنصیب شہر


.
"رشوت لیتے پکڑا گیا تھا ، رشوت دے کر چھوٹ گیا"
.
"مجھے یہ خوف نہیں کہ یہ ملک کیسے چلے گا؟ مجھے تو یہ خوف ہے کہ کہیں ایسے ہی نہ چلتا رہے"
.
"یہاں چینی بھی مہنگی ، یہاں آٹا بھی مہنگا ... پر میرے ملک کی دلہن پہنے دس دس لاکھ کا لہنگا"
.
یہ وہ چند جملے ہیں جو پاکستان (کراچی) میں دوران قیام ذہن میں کئی بار گونجتے رہے. ملک سے شدید محبت کے باوجود اس بار ایسی بہت سی ناہمواریاں سامنے آئی جنہیں دیکھ کر دل بجھ سا گیا. اس کی ایک یقینی وجہ شہر کراچی کی دگرگوں صورتحال ہے. یہ وہ بدنصیب شہر ہے جسے اپنوں اور غیروں سب نے مل کر لوٹا ہے، بے آبرو کیا ہے. جب سے شعور کی آنکھ کھولی میں نے ہمیشہ ہی یہ سنا کہ "ملک بہت نازک دور سے گزر رہا ہے اور کراچی کے حالات جتنے آج خراب ہیں اتنے پہلے کبھی نہ تھے." میں نے ان روایتی جملوں کو ہنس کر نظر انداز کرنا شروع کردیا تھا مگر یقین کیجیئے اس بار اپنے شہر کو جس حالت میں دیکھا ہے وہ اذیت ناک ہے. یہ سچ ہے کہ حالیہ فوجی آپریشن سے امن و امان میں کسی درجے بہتری آئی ہے مگر ایک سچ یہ بھی ہے کہ یہ بہتری جن بیساکھیوں پر کھڑی ہے وہ دیرپا نہیں ہیں. اسلحہ آج بھی اسی طرح سپلائی ہورہا ہے، حکومتی کرپشن آج بھی رگ رگ میں پیوست ہے اور ایجنسیاں آج بھی لاشوں کا دھندہ کررہی ہیں. شہر قائد تباہ ہو رہا ہے. اسکی حالت اس وقت ایک ایسے یتیم کی سی ہے جس کا کوئی پرسان حال نہیں. گٹر ابل رہے ہیں، سڑکیں آخری درجے میں ٹوٹ چکی ہیں، شہر کا ایک بڑا حصہ کچرا کنڈی بن چکا ہے اور لوٹ مار اپنی جگہ جاری ہے. گھر خریدنا اب حلال کمائی سے قریب قریب ناممکن ہے. لوگ ایک ہی گھر کو کئی پورشنز یعنی فلورز میں منقسم کرکے الگ الگ تین چار فیملیز کو بیچ رہے ہیں. یہ قابل اعتراض نہ ہو اگر گھر کا انفراسٹرکچر اس کا متحمل ہوسکے مگر ایسا ہرگز نہیں ہے. نتیجہ یہ کہ پانی سمیت کئی اور مسائل نے جنم لینا شروع کردیا ہے. بجلی کے ساتھ ساتھ کچرا اٹھانے کا ٹھیکہ بھی چائنا کو دے دیا گیا ہے. ایک جانب کچھ خوش گمان اس امر سے خوش ہیں کہ اسی بہانے اب کچرے سے شہر صاف ہوسکے گا. دوسری جانب کچھ دور اندیش اس اندیشے میں ہیں کہ ایسٹ انڈیا کمپنی کی مانند اب چائنا پاکستان پر قابض ہوتا جارہا ہے. رکشہ اسکیموں سے روزگار میسر ضرور آیا ہے، عوام کو مناسب قیمت میں سواری بھی مل رہی ہے مگر اتنی بڑی تعداد میں رکشے دے دیئے گئے ہیں کہ اب چاروں طرف ان ہی کا بے ہنگم اژدہام ہے جن سے حادثات میں کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے. 
.
ایم کیو ایم اب تین دھڑوں میں بٹ چکی ہے یعنی ایم کیو ایم لندن، ایم کیو ایم پاکستان اور پاک سرزمین پارٹی. اس سے عوام میں ایک اور کشاکش جاری ہے جو کسی وقت بھی تصادم کی صورت اختیار کرسکتی ہے. تحریک انصاف جو پہلی بار ایم کیو ایم کی مظبوط حریف بن کر ابھری تھی اور جسے مہاجروں کی ایک اچھی تعداد نے سراہنا شروع کردیا تھا. اب عمران خان کی مسلسل سیاسی حماقتوں کی وجہ سے قصہ پارینہ بنتی جارہی ہے. شہر میں عوام کی تفریح کا واحد بڑا ذریعہ ہوٹلنگ یعنی کھانا پینا ہے. مصطفیٰ کمال کے زیر انتظام جو عوامی پارک اور سہولیات بنائی گئی تھیں، ان میں سے اکثر یا تو تباہ ہوچکے یا ہورہے ہیں یا قبضہ گروپوں کے ہاتھوں میں چلے گئے ہیں. کراچی کے رہائشی جنہیں اہل زبان کہا جاتا ہے ، آج زبان اردو سے نابلد ہوتے جارہے ہیں. شائد یہی وجہ ہے کہ نوے فیصد سے بھی زیادہ کتب اب کراچی میں نہیں چھپتی. مجھ سے کراچی ہی کے ایک صاحب علم نے زمانے قبل کہا تھا کہ "عظیم اردو ہمارے گھر کی لونڈی ہے، لہٰذا ہم نے اس کے ساتھ سلوک بھی لونڈیوں والا ہی کیا ہے". آج محسوس ہوتا ہے کہ واقعی وہ سچ کہتے تھے. عوامی شعور کا تو ملکی سطح پر  یہ حال ہے کہ بس اسٹاپ، ٹریفک سگنل وغیرہ موجود بھی ہو تو اسکی پاسداری کرنا اپنی توہین سمجھتے ہیں. آپ بل جمع کرانے بینک جائیں یا روٹی نان لینے کیلئے کسی تندور جائیں. - قطار لگانا یا اپنی باری کا انتظار کرنا جیسے ممنوع ہو. کوئی بھی آنے والا بڑی بے شرمی سے خود سے پہلے موجود لوگوں کو ان دیکھا کر کے یہ چاہتا ہے کہ بس اس کا کام سب سے پہلے ہوجائے. بہت سو کیلئے یہ بے غیرتی معیوب نہیں بلکہ قابل فخر ہے. سوچتا ہوں کہ حکومتی ناانصافیوں کا رونا رونے والے اپنا ذاتی عمل کیوں نہیں دیکھتے؟ کیا حق ہے مجھے یا آپ کو ارباب اختیار کو کوسنے کا، جب ہم خود گندگی و ناہمواری پھیلا رہے ہے؟ جس کا جتنا جبڑا ہے وہ اتنی ہی اس ملک و شہر کی بوٹیاں بھنبھوڑ رہا ہے. اس بار گاڑی چلانے کا موقع ملا. بے حسی کا یہ عالم ہے  کہ اگر آپ پارکڈ گاڑی کو ریورس کرنا چاہتے ہے تو سرک پر موجود ہر شخص اپنی آخری سانس تک یہی کوشش کرے گا کہ وہ آپ کو ایسا کرنے نہ دے اور خود اپنی گاڑی نکال لے. 
.
میں آج تک نہیں سمجھ پایا کہ لوگ اتنی غلاظت اور تھوک لاتے کہاں سے ہیں؟ جو ہر جگہ تھوکتے رہتے ہیں؟ کوئی پان اور گٹکا تھوک رہا ہے. تو کوئی بس ایسے ہی شوقیہ تھوک رہا ہے. انہیں گھن نہیں آتی؟ پہلے لوگ بسوں کی کھڑکی سے منہ نکال کر تھوکتے نظر آتے تھے مگر اس بار میں نے کئی ایسی مثالیں مشاہدہ کیں جہاں اچھی بڑی بڑی گاڑیوں میں سے لوگ سڑک پر پیک تھوکتے ہوئے نظر آئے. ایک بار بے ساختہ اپنے بڑے بھائی سے میں نے  کہا کہ آج کل تو شہر میں پیسے والے لوگ بھی ویسے ہی تھوکنے لگے ہیں. بھائی نے جواب دیا کہ نہیں بلکہ یہ کہو کہ تھوکنے والو کے پاس پیسہ آگیا ہے. کچھ ایسی چیزیں بھی دیکھنے کو ملی جو شاید وطن عزیز کے علاوہ کہیں اور نہ ہوں. میرا انگلینڈ کا ویزا بینک کارڈ پاکستان کے کسی بینک نے پیسہ نکالنے کیلئے قبول نہ کیا. میں ایک کے بعد ایک کوئی چھ سات بینکوں میں گیا اور ان سے دریافت کیا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ویزا کارڈ جو ساری دنیا کے بینکوں میں بلاتفریق چلتا ہے، وہ ہمارے بینکوں میں نہ چلے. جواب ملا کہ دراصل ہماری 'انٹرنیشنل سیٹلمنٹ' نہیں ہے. ایک اور حیرت انگیز انکشاف اسوقت ہوا جب میں پاؤنڈز کو روپوں میں بدلنے منی ایکسچینج گیا. معلوم ہوا کہ اگر کسی پاؤنڈ نوٹ پر پین کا ذرا سا بھی نشان ہوا تو وہ نوٹ قبول نہیں ہوگا یا کم داموں میں قبول ہوگا. نتیجہ یہ کہ کئی نوٹوں کو کم دام میں کھلوانا پڑا. کپڑے خریدتے وقت اچھی بڑی دکانوں پر دو بار ایسا ہوا کہ جب ایکسٹرا لارج  سائز مانگا تو کہا کہ اس کے پیسے باقی سائزز سے زیادہ ہوں گے. وجہ دریافت کی تو بتایا کہ اس میں کپڑا زیادہ لگتا ہے. سبحان اللہ. 
.
گو درج بالا باتیں تلخ ہیں مگر میری اس تحریر کا مقصد مایوسی کا پرچار نہیں بلکہ اپنے احساسات کو آپ سے بانٹنا ہے. ہم میں سے ہر ایک کو یہ حق حاصل ہے کہ ہم غلط کو غلط کہیں مگر اس سے بھی پہلے یہ ضروری ہے کہ جس غلط کو صحیح کرسکتے ہوں اسے صحیح کرنے میں اپنا کردار ادا کریں. چاہے وہ کردار کتنی ہی معمولی کیوں نہ محسوس ہو. 
.
دل کو کراچی سمجھ رکھا ہے تم نے؟؟ 
آتے ہو۔۔۔۔۔۔ جلاتے ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔چلے جاتے ہو
.
====عظیم نامہ===

Tuesday, 20 December 2016

اے کعبہ کو جانے والے



اے کعبہ کو جانے والے 


.
عام چلن ہے کہ عمرہ یا حج پر پہلی بار جانے والے احباب کو دیگر مسلمان اپنے واقعات سنا کر بتاتے ہیں کہ انہیں خانہ کعبہ دیکھ کر یا حرم پاک جا کر یا روضہ مبارک کی جالیاں دیکھ کر کیسا محسوس ہوگا؟ دوسرے الفاظ میں وہ اپنے ذاتی تجربات کو بنیاد بناکر اپنےمخاطب کی سوچ سے کچھ توقعات وابستہ کردیتے ہیں.  راقم کی دانست میں ایسا کرنا درست روش نہیں. ہر انسان اپنا ایک جداگانہ شعوری وجود رکھتا ہے اور قطعی لازمی نہیں کہ ایک انسان کا تجربہ دوسرے انسان کے تجربے کے مماثل ہی ہو. لہٰذا اگر کوئی انسان، دوسروں کے تجربات کی بناء پر پہلے سے اپنے لاشعور میں کچھ توقعات سجا لے اور بوقت عمرہ و حج اس کا ذاتی تجربہ ان توقعات سے مختلف نکلے تو فطری نتیجہ یہ ہے کہ وہ ایک روحانی صدمے یا نفسیاتی ہیجان سے دوچار ہو جائے گا. ظاہر ہے کہ ایسی کسی ناخوشگوار کیفیت کا طاری ہونا اس انسان کی حالت عبادت کے پورے تجربے کو متاثر کرے گا. مثال لیجئے کہ آپ پہلی بار عمرہ کو جارہے ہیں اور آپ کا کوئی قریبی دوست آپ کو بتاتا ہے کہ جب اس نے خانہ کعبہ کو پہلی بار دیکھا تو بے اختیار زمین پر گرگیا یا بیہوش ہوگیا یا زار و قطار رونے لگا. ساتھ ہی وہ آپ کو یقین دلاتا ہے کہ آپ کے ساتھ بھی کم و  بیش یہی کیفیت ہونے والی ہے. اب آپ اسی توقع کو سینے سے لگائے  خانہ کعبہ کو ادب و خوف سے پہلی بار دیکھتے ہیں مگر اس دوست جیسی کیفیت سے محروم رہتے ہیں. نہ بیہوش ہوتے ہیں، نہ فرش بوس ہوتے ہیں اور نہ ہی آنکھیں فوری بھیگتی ہیں. یہ وہ لمحہ ہے کہ جب توقعات کے ٹوٹنے سے ایک شدید اضطراب آپ کو گھیر سکتا ہے اور آپ اس لمحے میں موجود اپنی انفرادی روحانی کیفیت کو محسوس کرنے سے محروم ہوسکتے ہیں. وجہ یہی ہے کہ آپ کی نظر تو اپنی حقیقی کیفیت پر تھی ہی نہیں بلکہ آپ کی ساری تلاش اپنی کیفیت میں دوسرے کی کیفیت ڈھونڈھنے میں تھی. کسی دوسرے کا آپ سے پہلے یا آپ سے زیادہ رونا ہرگز اس بات کی دلیل نہیں کہ اس کا تجربہ کامل ہے اور آپ کا ناقص. مجھ احقر کا ماننا ہے کہ اس بارگاہ میں ہر مخلص عبد روحانی تجربات سے گزرتا ہے مگر ان تجربات کی کیفیت یکساں نہیں ہے بلکہ ہر فرد کے مزاج و ضرورت کے مطابق ہے. لہٰذا ضروری ہے کہ نہ تو آپ کسی دوسرے کے کہنے پر توقعات کا محل تعمیر کریں اور نہ ہی کسی نئے جانے والے کو اپنے واقعات اس انداز میں سنائیں کہ اس کا انفرادی تجربہ متاثر ہو. اپنی کیفیات بتانے میں حرج نہیں مگر اس تلقین کے ساتھ کہ ہر فرد کا تجربہ مختلف ہے. 
.
ایک اور روش یہ بھی ہے کہ سارا زور یہ سمجھانے میں لگا دیا جاتا ہے کہ کون سا رکن کیسے ادا کرنا ہے؟ اسکی باریک سے باریک ترین تفصیلات بیان کی جاتی ہیں. کیسے کھڑا ہونا ہے؟، کہاں کھڑا ہونا؟، کتنا فاصلہ رکھنا ہے؟ کس چکر میں کیا پڑھنا ہے؟ وغیرہ وغیرہ. فرائض اور سنتوں کے ساتھ ساتھ مستحبات کی تلقین بھی اس سختی و تاکید سے کی جاتی ہے کہ جانے والے کو فرض و مستحب کی تخصیص ہی سمجھ نہ آتی اور وہ بوقت حاضری خوفزدہ ہوجاتا ہے کہ اگر ان میں سے کوئی مستحب عمل نہ کیا تو شائد عمرہ و حج  ہی قبول نہ ہو. اس مقام پر کوئی قاری اس غلط فہمی میں مبتلا نہ ہو کہ راقم فقہی ضوابط کا منکر ہے. قطعی نہیں بلکہ حج و عمرہ سمیت کسی بھی عبادت کی فقہی تفصیل نہ جاننا تو بڑی حماقت ہے. عرض صرف دو باتیں کرنا چاہتا ہوں. پہلی یہ کہ ان ظاہری قوائد کی غیرضروری باریک تر تفصیل میں نہ جایا جائے اور دوسری یہ کہ ظاہر سے بھی زیادہ اس عظیم عبادت میں مضمر روحانی پہلوؤں کا حصول سیکھایا جائے جو جانے والے کا قلبی تعلق رب کریم سے قائم کردے. کیسی عجیب حقیقت ہے کہ حج و عمرہ کے ظاہری طریق سیکھانے کیلئے تو ان گنت ادارے ہیں اور بیشمار ورکشاپس کا اہتمام موجود ہے مگر طواف و سعی سمیت دیگر مظاہر عبادت کے روحانی پہلو کیا ہیں؟ ان کیفیات کا حصول کیسے ہو؟ کیا سوچنا ہے اور کیا نہیں سوچنا ہے ؟ ایسے سوالات کے کوئی شافی جواب نہیں دیئے جاتے. حد تو ہے کہ جہاں ایک جانب ظاہری طریقے پر سینکڑوں کتب موجود ہیں، وہاں حج و عمرہ میں تزکیہ نفس اور اس سے منسلک روحانیت پر کوئی باقاعدہ کتاب مقبول عام نہیں. صرف ایک ایسی روداد موجود ہے، جسے راقم واقعی اس ضمن میں معاون سمجھتا ہے. وہ کتاب کسی دینی عالم یا صوفی کی نہیں بلکہ معروف یا بدنام مصنف 'ممتاز مفتی' کی تحریر کردہ ہے. کتاب کا نام ہے 'لبیک' اور اس میں ممتاز مفتی صاحب نے اپنی حج کی روداد جس میں ان کے مرشد و دوست قدرت اللہ شہاب ساتھ تھے ، تفصیل سے بیان کی ہے. کوئی ممتاز مفتی صاحب کی ذات و کردار کو کتنا ہی نشانہ کیوں نہ بنائے، میرا ناقص فہم یہی گواہی دیتا ہے کہ اس کتاب کے الفاظ کسی انشاء پرداز کے قلم سے نہیں بلکہ قلب سے نکلے ہوئے ہیں. یہ بلاشبہ ان چند کتب میں شامل ہے جنہیں پڑھ کر میں جانے کتنی بار رویا ہوں. یہ مختصر کتاب آپ پر مصنف کے تجربات تھوپے گی نہیں، یہ کتاب آپ کو شریعت کے مسائل بھی نہیں سمجھائے گی، یہ کتاب آپ کو پارسا بننے کا درس بھی نہیں دے گی مگر یہی کتاب اپنے قاری میں محبت کی ایک چنگاری ضرور سلگا دے گی. ان شاء اللہ
.
میری ہر عمرہ و حج پر جانے والے کو دو ہی نصیحتیں ہوا کرتی ہیں. پہلی یہ کہ وہ جانے سے قبل اس کتاب 'لبیک' کو سکون سے ضرور پڑھے اور دوسرا یہ کہ وہ مندرجہ ذیل جملے کو اپنے دل و دماغ پر ثبت کرلے. جملہ یہ ہے کہ "حضوری اہم ہے ... باقی سب غیر اہم ہے". کہنے کا مقصد یہ ہے کہ دوران حج و عمرہ آپ ہر وقت خود کو یاد دلاتے رہیں کہ "حضوری اہم ہے ... باقی سب غیر اہم ہے".  اصل حاصل یہی ہے کہ آپ وہاں ہمہ وقت اللہ کے سامنے حضوری کی کیفیت میں رہیں. یقین مانیئے کہ درجہ احسان میں بیان کردہ حضوری کی اس کیفیت کا حصول مکہ و مدینہ میں جتنا ممکن ہے، اتنی کہیں اور ممکن و آسان نہیں. شرط فقط اتنی ہے کہ بندہ حصول کی کوشش کرے. افسوسناک امر یہ ہے کہ عین حج و عمرہ کے درمیان اور عین مکہ و مدینہ کے بیچ آپ کو لوگ ایک دوسرے سے جھگڑتے ہوئے بھی ملیں گے. کسی کو شدید غصہ ہے کہ قطار میں بدنظمی کیوں ہے؟ کوئی سخت ناراض ہے کہ اسے اس کا مطلوبہ کمرہ کیوں نہیں ملا؟ کسی کو شکایت ہے کہ ٹیکسی والے نے پیسے زیادہ کیوں مانگ لئے؟ اور کسی کو شکوہ ہے کہ اسے صحیح سے کھانا کیوں نہ ملا؟ ایسے مواقع بھی ہوتے ہیں جب لوگ دست و گریبان ہونے سے بھی دریغ نہیں کرتے اور میری گنہگار سماعت نے تو غلیظ گالیاں بھی دیتے ہوئے کسی اللہ کے بندے کو سنا ہے. ان سب کی یہ شکایات یکلخت ختم ہوجائیں اگر یہ اس حقیقت کو جان لیں کہ یہاں تو بس "حضوری اہم ہے ... باقی سب غیر اہم ہے".  اچھا بستر نہیں ملا؟ غیر اہم ہے. مناسب کھانا نہیں ملا؟ غیر اہم ہے. کسی نے دھکا مار دیا؟ غیر اہم ہے. کوئی آپ کا جوتا پہن گیا؟ غیر اہم ہے. اگر کچھ اہم ہے تو صرف حضوری اہم ہے. کچھ صاحبان تقویٰ تو حضوری بھلا کر اس بات پر گفتگو کرتے رہتے ہیں کہ یہ عورتیں اور مرد اتنے اختلاط کیساتھ کیوں طواف کررہے ہیں؟ میں نے تو حضوری کے ساتھ بہت ڈھونڈھا مگر مجھے دوران طواف نہ کوئی ایک عورت نظر آئی اور نہ کوئی ایک مرد .. وہاں تو ہر سو بس عبد اللہ ہی عبد اللہ تھے. شائد کوئی میرے کان میں سرگوشی کر رہا تھا "حضوری اہم ہے ... باقی سب غیر اہم ہے". 
.
====عظیم نامہ====

Friday, 16 December 2016

قادیانیوں سے مکالمہ


قادیانیوں سے مکالمہ



قران حکیم کے مطالعے سے واضح ہوتا ہے کہ کفار و مشرکین کا رویہ دعوت دین کی جانب استکبار اور استہزاء کا ہوا کرتا تھا. گویا جب رسولوں کے مخاطبین پر بات آخری درجے میں واضح ہوجاتی اور ان کے پاس دلائل کی بنیاد پر نہ ماننے کی وجہ نہ ہوتی، تب وہ استہزاء کا رویہ اپنا لیتے. وہ دلیل کا نہ مطالبہ کرتے اور نہ ہی دلیل پیش کرتے. اب وہ کبھی رسولوں کو تحقیر آمیز نام دیتے، کبھی کردار کشی کرتے، کبھی قہقہوں یا ڈھول تاشوں سے بات کو دبا دیتے، کبھی کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے، کبھی طنز و تشنیع کا سہارا لیتے، کبھی جسمانی تشدد کا نشانہ بناتے، کبھی مذاق اڑاتے اور کبھی گالیاں دیتے. ظاہر ہے ان کا یہ رویہ احقر درجے میں بھی علمی یا اخلاقی نہ تھا. اس کے برعکس قران حکیم نے جو مکالمہ کا طریق سکھایا وہ سراسر دلائل و براہین کی بنیاد پر ہے. قران صرف اپنے مقدمے کے اثبات میں دلائل ہی نہیں دیتا بلکہ وہ اپنے مخاطبین سے دلائل پیش کرنے کا مطالبہ بھی کرتا ہے. وہ کہتا ہے کہ تورات، انجیل یا کوئی اور ثبوت اپنی بات کے حق میں پیش کرو. وہ حکم دیتا ہے کہ خبردار لوگوں کے جھوٹے خداؤں تک کو گالی نہ دینا، وہ سمجھاتا ہے کہ پہلے متفق باتوں پر مجتمع ہونا پھر اختلافی بات پر آنا، وہ نصیحت کرتا ہے کہ انتہائی احسن انداز میں گفتگو کرنا اور اگر کوئی جہالت پر اتر آئے تو اسے سلام کہہ کر یعنی اسکے لئے سلامتی کی دعا کرکے اس سے الگ ہوجانا. یہ وہ مقام ہے جس پر قران اپنے ماننے والوں کو لے کر آتا ہے. گویا وہ ایک مہذب اور صحتمند مکالمہ کی فضاء کو ہموار کرتا ہے. گالیاں دینا، اپنے مخاطب کے پیش کردہ استدلال کو نہ سننا اور مخاطب کی تحقیر کرنا کسی صورت بھی ایک مومن کا طریق نہیں ہوسکتا. یہ انداز تو مشرکین مکہ یا کفار کا ہوا کرتا ہے. 
.
افسوس یہ ہے کہ آج ہم نے بھی دعوت دین کا نام لے کر یہی روش اپنا رکھی ہے. سوشل میڈیا پر دیگر مذاہب یا مخالف مسالک سے بلعموم اور قادیانیوں سے بلخصوص یہی استہزاء کا رویہ اپنایا جاتا ہے. بجائے اس کے کہ انہیں دلائل سے ان کی غلطی سمجھائی جائے، ہم ان کی تضحیک و تحقیر کو اسلام کی خدمت سمجھ بیٹھتے ہیں. ہم مسلمان اس کے قائل ہیں کہ غلام احمد قادیانی اپنے دعوے میں کاذب ہے مگر وہ دین جو جھوٹے خدا کو گالی دینے سے روک رہا ہے، وہ جھوٹے نبی کو گالی دینے کی کیسے اجازت دے سکتا ہے؟ پھر یہ یاد رکھیں کہ آپ جب اپنے مخالف مخاطب کو گالی دیتے ہیں یا اس کے لئے کسی قابل احترم ہستی کو گالی دیتے ہیں تو دراصل آپ خود اپنے ہاتھ سے ممکنہ دعوت کے دروازے پر کنڈی لگادیتے ہیں جو کیا معلوم ؟ کل بارگاہ الہی میں قابل گرفت ہو. جب آپ اپنے مخاطب کی عزت نفس کو مجروح کرتے ہیں تو غصہ اور ضد میں آکر وہ اسے بھی تسلیم کرنے سے انکاری ہوجاتا ہے ، جسے وہ مہذب مکالمے کے ذریعے مان سکتا تھا. ہم میں سے اکثر دوران بحث اپنے نفس کو موٹا کرتے ہیں اور سمجھتے یہ ہیں کہ امر بالمعروف یا نہی عن المنکر کا فریضہ انجام پارہا ہے. ہماری نیت انہیں دین کا پیغام پہنچا کر واپس اسلام میں لانے کی ہونی چاہیئے، انہیں شکست دینے کی نہیں.
.
====عظیم نامہ====

'خواہش'، 'عقل' اور 'وحی'


 'خواہش'، 'عقل' اور 'وحی'



مومن کا معاملہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی 'خواہش' پر 'عقل' کو حاکم مانتا ہے اور 'عقل' پر 'وحی' کو نگران تسلیم کرتا ہے. اس کے برعکس ملحد 'عقل' ہی کو معراج سمجھ بیٹھتا ہے. جس طرح آپ کسی ملحد سے یہ دریافت کریں کہ اگر خواہش عقل کے صریح خلاف ہو تو کیا کرنا چاہیئے؟ اس کا عمومی جواب یہی ہوگا کہ ایسی خواہش سے ہر صورت اجتناب کیا جانا چاہیئے. ٹھیک اسی طرح جب کسی مومن سے پوچھا جائے گا کہ اگر عقل کا کوئی فیصلہ وحی کے صریح خلاف نظر آئے تو کیا کرنا چاہیئے؟ اس کا ہر صورت جواب یہی ہوگا کہ ایسی صورت میں بھی وحی کی ہی پیروی کی جائے گی. یہ اور بات کہ دین کے عمومی احکام کبھی عقل و فطرت کی نفی نہیں کرتے. علم اور مشاہدہ دونوں گواہی دیتے ہیں کہ 'عقل' اپنی تمام تر عظمتوں اور حشر سامانیوں کے باوجود محدود ہے اور مسلسل غلطیوں کا بھرپور احتمال رکھتی ہے. دوسری جانب اگر وحی کا من جانب اللہ ہونا کسی عاقل پر ثابت ہوجائے تو پھر اس میں نقص پایا جانا ممکن نہیں لہٰذا ٹھوکر کھانے کا امکان بھی باقی نہیں رہتا. گویا مومن خواہش کو عقل اور عقل کو وحی کے تابع کرکے ایک ایسے مقام پر کھڑا ہوپاتا ہے، جہاں اسے قلبی و عقلی دونوں سکون حاصل ہوتے ہیں.
.
====عظیم نامہ====

'من چلے کا سودا' اور 'غالب'


'منچلے کا سودا' اور 'غالب'



اشفاق احمد صاحب کا تحریر کردہ ڈرامہ 'منچلے کا سودا' اور گلزار صاحب کی پیش کردہ فلم 'غالب' --- میں نہیں جانتا کہ میں کتنی بار دیکھ چکا ہوں اور جانے کتنی ہی بار پھر دیکھنا چاہوں گا. اگر آپ ادبی ذوق کے مالک ہیں یا روحانیت کے اسرار و رموز میں دلچسپی رکھتے ہیں اور اس کے باوجود آپ نے یہ دونوں یا ان میں سے ایک شاہکار کو اب تک نہیں دیکھا ہے تو آپ کی اس محرومی پر مجھے افسوس بھی ہے اور تعجب بھی. مجھے تو اس شخص کو بھی صاحب ذوق ماننے میں تردد ہے جس نے انہیں فقط ایک بار دیکھنے پر اکتفاء کرلیا اور باطن میں دوبارہ دیکھنے کی پیاس نہ محسوس کی.

.
====عظیم نامہ====

Thursday, 15 December 2016

ایک بےحس امتی کا احساس


ایک بےحس امتی کا احساس
==================
۔
آج ہمارے تفرقے اور نقاہیت اتفاق نے طاغوت کو اس قدر دلیر بنادیا کہ وہ شطرنج کی بازی کی طرح
کبھی ہمیں آپس میں لڑواتا ہے۔ 
کبھی دھوکے سے مرواتا ہے۔
کبھی امداد سے کتراتا ہے۔
پھر طرح طرح سے ترساتا ہے۔
یعنی دولت بھی ہماری۔
ذلت بھی ہماری۔
کثرت بھی ہماری۔
قلت بھی ہماری۔
کبھی وہ اسرائیل کی زبان میں بولتا ہے۔
کبھی بشارالاسد کا پٹہ کھولتا ہے۔
کبھی فلسطینی بچوں کی چیخیں۔
کبھی کشمیری دلہن کی آہیں۔
کبھی تارکین افغانستان کا مسئلہ۔
کبھی حلب پر بربریت۔
کیا یہ وہی امت امریکہ کے تلوے چاٹ کر اپنی بقاء کی بھیک مانگ رہی ہے جو شہنشاہ دوجہاں کی امت ہے ؟
۔
پستی کا کوئی حد سے گزرنا دیکھے
اسلام کا گِر کر نہ ابھرنا دیکھے
مانے نہ کبھی کہ مد ہے ہر جزر کے بعد
دریا کا ہمارے جو اترنا دیکھے
۔
#حلب
۔
====عظیم نامہ=====