Thursday, 10 November 2016

قوت غضب


قوت غضب



دیگر نعمتوں کی طرح رب العزت کی جانب سے ہمیں عطا کردہ کوئی بھی جذبہ یا صفت اپنی اصل میں منفی نہیں ہے. البتہ اس کا غلط استعمال اسے ضرور منفی بناسکتا ہے. یہاں تک کے وہ جذبات بھی کہ جن کے بارے میں عامیانہ تاثر یہ ہی ہے کہ شائد ان کا انسانی تذکیر و ارتقاء میں کوئی ہاتھ نہیں. ان جذبات کو بھی ذرا دقت نظر سے دیکھیں تو وہ خیر سے مزین نظر آتے ہیں. مثال کے طور پر شہوت کا جذبہ ہر مسلمان بلخصوص نوجوانوں کیلئے ایک بڑا اور مستقل فتنہ بنا رہتا ہے. لیکن اگر شہوت کا جذبہ انسان میں موجود نہ ہو تو نہ ہی وہ بعد از نکاح جنسی تعلق قائم کرسکے اور نہ ہی افزائش نسل ممکن رہے. اسی طرح انسان میں جو قوت غضب ودیعت ہے، اس سے بھی طرح طرح کے فتنے برآمد ہوتے ہیں. ان ہی ممکنہ فتنوں کی بنیاد پر عام صورت میں غصہ کو حرام قرار دیا گیا ہے. مگر کیا ہو کہ یہ قوت غضب کسی انسان میں مفقود ہو جائے؟ اگر ایسا ہو تو اس انسان سے غیرت و حمیت جیسی اونچی صفات کا یکسر خاتمہ ہو جائے گا اور پھر وہ ان مقامات پر بھی غضب یا غصہ کرنے سے قاصر رہے گا جہاں ضروری ہے. الغرض یہ کہ ہر جذبہ اپنی اصل میں خیر ہے. گو ہمیں سمجھ کر اس کا استعمال درست سمت میں کرنا ہے.
.
یہ بھی حقیقت ہے کہ بعض اوقات ایک جذبے سے پیدا ہونے والے فتنے پر دوسرے جذبے کی مدد سے قابو پایا جاسکے. مثال کے طور پر ناجائز شہوت کی لت کو  چھوڑنے کیلئے ضروری ہے کہ انسان اپنی قوت غضب کو اس پر حاوی کردے. بلکہ شہوت ہی کیا؟ کوئی بھی ایسا گناہ جو عادت یا لت بن کر چمٹ جائے، اسے چھوڑنے کیلئے ضروری ہے کہ انسان خود پر غضب ناک ہو اور یک لخت اسے چھوڑ دینے کا تہیہ کرلے. جب جب اس گناہ کا مبہم سا خیال اٹھے تب تب غضب ناک ہو کر اسے جھٹک دے. یاد رکھیں کہ انسان صرف عقلی وجود نہیں ہے بلکہ وہ اپنے باطن میں ایک جذباتی شاکلہ بھی رکھتا ہے. وہ نفسیاتی گناہ جو عادت اور لت بن جائے، اسے فقط عقلی استدلال یا شائستہ ترتیب سے چھوڑنا قریب قریب ناممکن ہے. مجھے امید ہے کہ آپ میں سے اکثر کے سامنے ایسی مثالیں موجود ہونگی جہاں کوئی انتہائی بگڑا ہوا غصیلا جھگڑالو شخص جو شراب و شباب کا ساری زندگی رسیا رہا ہو ، اچانک ایسا سدھرتا ہے کہ گناہ کی جانب پلٹ کر بھی نہیں دیکھتا. اس کے برعکس بعض اوقات ایک بظاہر نیک انسان کو کوئی گناہ ایسا لت بن کر چمٹتا ہے کہ وہ باوجود بار بار کی کوشش و توبہ کے اسے چھوڑ نہیں پاتا. وجہ یہی ہے کہ پہلا بگڑا ہوا شخص بھرپور قوت غضب  رکھتا تھا جسے ڈھال بنا کر اس نے جب ترک گناہ کا فیصلہ کیا تو استقامت سے اس پر قائم رہ سکا. جب کے دوسرا نیک شخص اپنی طبیعت کی نرمی کی وجہ سے  قوت غضب کا درست استعمال نہ جانتا تھا، چنانچہ بار بار ترغیب گناہ کے سامنے ہتھیار ڈالتا چلا گیا. 
.
====عظیم نامہ====

Wednesday, 9 November 2016

اقبال ڈے اور ٹرمپ کی جیت




اقبال ڈے اور ٹرمپ کی جیت


۔ 
اقبال نے کہا تھا

جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں 
بندوں کو گنا کرتے ہیں، تولا نہیں کرتے 
۔
آج ٹرمپ کی جیت نے اس حقیقت پر مہر لگادی کہ وہ انڈیا کی عوام کا مودی جیسے مجرم کو منتخب کرنا ہو یا وطن عزیز میں زرداری اور نواز جیسے کرپٹ رہنماوں کا بار بار انتخاب ہو یا پھر جمہوریت کے سب سے بڑے چیمپیئن امریکہ کا آج ڈونلڈ جیسے جنونی کو لے آنا ہو۔ یہ سب اسی حقیقت کے غماز ہیں کہ عوامی اکثریت کو باشعور فیصلہ سمجھنا پرلے درجے کی حماقت ہے۔انگلینڈ میں برکسٹ کا انتخاب اس کا ایک اور ثبوت تھا۔ گو ٹرمپ کی فتح کا برکسٹ سے تقابل کرنا درست نہیں۔ (جیسا کے کچھ لوگ کر رہے ہیں)۔ برکسٹ غلط توقعات اور غلط سمجھ سے ہوا تھا۔ جب کے ٹرمپ کی مسلم دشمنی اور نسل پرستی کسی امریکی سے مخفی نہ تھی۔ وہ ایک قول ہے کہ اختیار ملنے پر لوگ بدلتے نہیں ہیں بلکہ بے نقاب ہوتے ہیں۔ آج امریکی اکثریت کی بھی نقاب الٹ گئی ہے۔ گدھے کے نشان کو ووٹ ڈالنا تھا مگر یہ گدھے ہی کو ووٹ ڈال آئے۔ 
۔
====عظیم نامہ=====

Wednesday, 2 November 2016

ڈپریشن


ڈپریشن

سوال: 
میں سائیکو پیشنٹ ہوں میرے پرابلمز اینگزائٹی، ڈپریشن اور اسکی وجہ سے باڈی اینڈ برین ڈس آرڈر ہیں. شدید اذیت میں ہوں کیا کروں؟ 
.
جواب: 
میں ڈاکٹر نہیں ہوں, نہ ہی اس طرح کی نفسیاتی مشکلات کا کوئی ماہر اور نہ ہی مجھے کبھی یہ مرض لاحق ہوا ہے مگر میں نے اپنے ایک قریب ترین عزیز کو اس سے گزرتے دیکھا ہے اور اس کا سایہ بن کر اسے اس سے لڑنے میں مدد کی ہے. اس بنیاد پر میں آپ سے اپنے تجربات اور خیالات ضرور شیئر کرسکتا ہوں جو ممکن ہے کہ آپ کو مدد دیں.
.
ہم میں سے ہر انسان کسی نہ کسی نفسیاتی الجھاؤ کا شکار ہوتا ہے. ایک زاویئے سے دیکھیں تو ہم سب کسی نہ کسی درجے میں نفسیاتی مریض ہیں. مگر کچھ کے ساتھ یہ نفسیاتی الجھاؤ سنجیدہ نوعیت اختیار کرجاتا ہے. کوئی بھی ایک واقعہ یا عمومی ماحول اس نفسیاتی دباؤ کو ٹرگر کردیتا ہے. لہٰذا ہرگز اپنی اس بیماری سے پریشان نہ ہو. یاد رکھو کہ ڈپریشن کا سب سے مہلک وار مریض میں مایوسی پیدا کرنا ہے اور مایوسی کفر ہے. جان لو کہ جس کیفیت سے آپ گزر رہے ہو ، اسی کیفیت سے بیشمار لوگ گزر چکے ہیں اور باقاعدہ علاج و کوشش سے مکمل صحت یاب ہو چکے ہیں. آپ بھی ان شاء للہ ضرور اس اذیت سے نکل آؤ گے، بس خود کو مظبوط رکھو اور اپنے رب پر بھروسہ کرو. ممکن ہے کہ آپ اپنی مینٹل سک نیس کو چھپاتے رہے ہو جس کی وجہ سے بیماری نے جڑیں گہری کرلی ہوں. اسلئے کوشش زیادہ کرنی ہوگی، وقت زیادہ لگے گا. جسمانی بیماری کا علاج نفسیاتی بیماری کے مقابلے میں بہت آسان ہے. ذہن میں لگی گرہ کھولنا کوئی آسان کام نہیں ہیں اور اس کیلئے بہت تحمل مزاجی سے کام لینا ہوگا. 
.
میرا مشورہ ہے کہ مندرجہ ذیل تین زاویوں سے اپنا علاج کیجیئے. طبی زاویہ، ماحولیاتی زاویہ اور دینی زاویہ.
.
طبی زاویہ 
======
.
کسی ماہر سائکاٹرسٹس سے علاج کروایئے. اس کی تجویز سے دو کاموں کا اہتمام کیجیئے

١. ڈپریشن کی دوا لیجیئے اور اس کا چھ ماہ تک باقاعدہ استعمال کیجیئے. دوا کے جو سائیڈ ایفکٹ ہوں ان سے ڈاکٹر کو آگاہ رکھیئے اور کسی بھی وجہ سے دوا لینا ترک نہ کیجیئے. سائیڈ ایفیکٹ میں نیند نہ آنا، دانتوں کو کچکچانا، جسم کا کانپنا، رونا آنا وغیرہ شامل ہیں. دوا لینے کے ایک ماہ بعد ہی طبیعت میں تھوڑا سدھار ضرور آئے گا ان شاء للہ مگر مکمل صحت کیلئے صبر کے ساتھ علاج کو جاری رکھنا ہوگا. 
.
٢. سی-بی-ٹی کی تھیراپی کروایئے. (کاگنٹو بہویر تھراپی). اس میں وہ آپ کے سوچ کے زاویوں کو درست کرنے کی کوشش کریں گے. اس ذہنی پیٹرن کو گفتگو سے ٹھیک کرنے کی کوشش ہوگی جو اس نفسیاتی الجھاؤ کا ممکنہ سبب رہا ہے. اس کو کم اہمیت نہ دیجیئے اور پوری دیانتداری سے ڈاکٹر کی بات کو سمجھنے کی کوشش کیجیئے. جو اشکال و اعتراض ہیں وہ بھی سامنے رکھیئے. 
.
معاشرتی زاویہ 
========
.
آپ کو اپنی ان عادات کا تجزیہ کرنا چاہیئے جو اس بیماری کو بڑھانے میں معاون ہیں. اسی طرح اپنے ماحول کا جائزہ لیجیئے اور دیکھیئے کہ وہ کیا عوامل ہیں جو آپ کو نفسیاتی الجھاؤ میں مزید دھکیل دیتے ہیں. اپنی عادات میں ایک بڑا اور مثبت بدلاؤ لائیں. جیسے جم جوائن کرلیں جہاں ورزش کرسکیں، خوب سارا مزہ اور ہنسی مذاق کریں .. یہ سمجھیں کہ مذہب سے لگاؤ کا قطعی مطلب نہیں کہ آپ ایک بور انسان بن کر رہ جائیں، اپنے ان دوستوں میں وقت گزاریں جو آپ کا ریکارڈ لگا سکیں اور جن کیساتھ آپ کھل کر ہنس سکیں. اگر ممکن ہو سکے تو کچھ عرصے کیلئے کسی دوسرے ملک یا شہر گھومنے چلے جائیں. گھر پر بہت زیادہ نہ بیٹھیں. فراغت کو ختم کریں اور فارغ وقت میں کوئی بھی پسند کا کورس یا نوکری کریں. 
.
دینی نظریہ
=======
نماز پڑھ کر اللہ سے خوب دعا کریں. بیماری پر خوش دلی سے صبر کیں اور ساتھ ہی بیشمار حاصل نعمتوں پر اللہ کا شکر ادا کریں. طرح طرح کے دینی وظائف نہ کریں بلکہ صرف ایک آسان سی تسبیح یا وظیفے کا انتخاب کرلیں. کوئی ذہنی بوجھ نہ ہونے دیں. باقائدگی سے غسل کریں، خوشبو لگائیں اور صاف ستھرا لباس رکھیں. نظر بد اتارنے کیلئے کوئی بھی مقبول طریق جس میں شرک نہ ہو اسے اپنائے رکھیں. 
.
میری دعا ہے کہ اللہ آپ کو مکمل صحت دیں آمین.
.
====عظیم نامہ====

Tuesday, 1 November 2016

'اسلام و فوبیا' (اسلام سے بغض و نفرت)


'اسلام و فوبیا' (اسلام سے بغض و نفرت)


.
کل جب آفس سے فارغ ہوا تو طبیعت گھر جانے پر مائل نہ تھی. لندن میں ہونے والی تقاریب کا آن لائن جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ آفس سے آدھے گھنٹے کے فاصلے پر فلسفیوں کی ایک بڑی تقریب کا انعقاد ہورہا ہے جہاں موضوع ہے 'انسانی شخصیت پر بڑھتی عمر کے اثرات' اور یہاں ایک نمائندہ تعلیمی ادارے (کنگز کالج لندن) کی فلسفے کی پروفیسر خطاب کریں گی. کچھ تذبذب کے بعد میں نے وہاں جانے کا ارادہ کیا اور وقت سے پہلے جا دھمکا. یہ پرانے شاہی طرز کا ایک بڑا آڈیٹوریم تھا، جہاں اچھی خاصی تعداد میں لوگ موجود تھے. شرکاء کا جائزہ لیا تو منکشف ہوا کہ وہ قریب قریب سب ہی انگریز ہیں، چالیس سے ستر سال تک کی عمر والے ہیں اور چہرے مہرے سے ہی مفکر نظر آتے ہیں. مجھے اپنا آپ ان کے درمیان اجنبی محسوس ہوا، وہ بھی کن آنکھوں سے مجھے دیکھ رہے تھے جیسے کہہ رہے ہوں کہ یہ پاکستانی مسلمان یہاں کیا کررہا ہے؟ خیر ہم بھی ڈھیٹ بنے رہے اور حسب عادت آگے کی ایک نشست پر قبضہ کرلیا. کچھ ہی دیر میں خاتون اسپیکر تشریف لائیں اور انہوں نے گفتگو کا آغاز کیا. بڑی پرمغز گفتگو ہوئی، جس میں انہوں نے انسانی شخصیت پر کیا کیا عوامل اثر انداز ہوتے ہیں اور کیسے بڑھاپے میں ذہنی کمزوری شخصیت کو بدل سکتی ہے؟ جیسے سوالوں کا جائزہ لیا. بطور سامع اکثر باتوں سے اتفاق ہوا، کچھ سے اختلاف ہوا اور کچھ بلکل نئے زاویئے سامنے آئے. گفتگو ختم ہوئی تو تالیاں بجا کر ہم نے اپنا بستہ اٹھایا اور کمرے سے باہر نکلنے لگے. ٹھیک اسی وقت دیوار پر لگی دیو قامت اسکرین بدلی اور اب وہاں ایک نیا موضوع لکھا ہوا نظر آیا ، جس نے میرے پیر جکڑ لئے. موضوع تھا 'اسلام و فوبیا' (اسلام سے بغض و نفرت). جو اشتہار اس تقریب کا میں دیکھ کر یہاں آیا تھا، اس میں ایسے کسی موضوع کا دور دور تک ذکر نہیں تھا. ظاہر ہے، ہم نے پھر بستہ اتارا اور جلدی سے جا کر اسی نشست پر اپنا قبضہ دوبارہ جما لیا. 
.
تین فلسفیوں کا ایک پینل پنڈال کے سامنے براجمان ہوگیا. تینوں فلسفے کے استاد تھے. دو کی سوچ ملحدانہ تھی جب کے تیسرے نے اپنا تعارف بطور یہودی کے کروایا. میں محسوس کر سکتا تھا کہ میری موجودگی کئی لوگوں کو اور مینجمنٹ کو شائد بے چین کر رہی ہے. ان تینوں مقررین نے یکے بعد دیگرے تقاریر کیں. جس میں انہوں نے بتایا کہ 'اسلام و فوبیا' کیا ہے؟ اور کیوں ہے؟ حیران کن بات یہ تھی کہ ان کی گفتگو کا محور 'اسلام و فوبیا' میں مبتلا لوگوں کی حوصلہ شکنی نہیں تھی بلکہ اس موضوع کی آڑ میں ان تجاویز کو پیش کرنا تھا جس سے مسلمانوں کی مغربی اقدار کے مطابق ذہن سازی کی جاسکے. کچھ اس طرح کی باتیں اور تجاویز کو پیش کیا گیا کہ

'میں نے اسلام سے ارتداد کرنے والو سے گفتگو کرکے یہ جانا ہے کہ اسلام کے عقائد پر سخت تر ہو لیکن مسلمانوں پر نرم تر ہو جاؤ اور انہیں ہر حاصل مراعات میں شامل کرو'.
'یہاں کے مسلمانوں سے پردہ ختم کیا جائے. مخلوط محفلوں کو یقینی بنایا جائے. لڑکیوں اور لڑکوں کے اسکولوں کو الگ الگ نہ رکھا جائے'
.
'مسلمانوں میں قران کی سمجھ میں بہت بڑے اختلافات ہیں. ان کے درمیانی اس وقت زبردست تجدید نو کی جنگ ہو رہی ہے. ہمیں ان میں جدید تعبیرات اور سوچ کو فروغ دینا ہے. انہیں یہ سمجھنا چاہیئے کہ مسلمان ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ قران سے احکام زندگی اخذ کرنے لگیں' 
.
'ہمارے لوگ جو یہ سمجھتے ہیں کہ مذہب چونکہ فساد کی جڑ ہے، اسلئے مذاہب پر پابندی لگا دی جائے. ان کی یہ سوچ صحیح ہے مگر اس پر عمل درآمد ناممکن ہے. اگر کبھی ہو بھی گیا تب بھی انسانی ذہن مذہب جیسی کوئی اور چیز بنا کر فساد کرے گا' 
.
'مسلمانوں کے دل سے یہودیوں کی نفرت نکانی چاہیئے. وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہودیوں نے احادیث کی کتابوں میں غلط روایت شامل کرکے دین کو تبدیل کرنے کی کوشش کی.'
.
اسی طرح کی اور بھی دیگر باتیں ہوتی رہیں. پروگرام ختم ہوگیا اور سب جانے لگے. ہم نے پھر پورے خشوع و خضوع سے بستہ سنبھالا اور باہر نکلنے لگے. پیچھے سے آواز آئی ، تمھیں آج کی گفتگو کیسی لگی؟ مڑ کر دیکھا تو شرکاء میں سے ہی کوئی اجنبی نے یہ سوال پوچھا تھا. میں نے مسکرا کر کہا. 
.
"عجیب بات ہے کہ دو ملحد اور ایک یہودی بیٹھ کر 'اسلام و فوبیا' کی وجوہات اور اس کے تدارک پر لیکچر دے رہے ہیں اور اس پورے ملک میں کوئی ایک مسلم اسکالر نہ مل سکا جو مسلمانوں کی جانب سے ان کا نظریہ رکھ پاتا؟ اور جس سے شرکاء سوالات کرسکتے؟ اگر آپ واقعی 'اسلام و فوبیا' کے خاتمے میں سنجیدہ ہیں تو اگلی بار کسی ایسے مسلمان کے ساتھ اسٹیج شیئر کریں جو مسلم اکثریت کا نمائندہ ہو. البتہ یہ دھیان رہے کہ کسی ایسے تجدد پسند مسلمان کو نہ پکڑ لائیں جو صرف آپ کی باتوں کی تائید کرسکتا ہو ان پر نقد نہیں. چاہیں تو اس میں مدد کرسکتا ہوں آپ کی. آپ لوگ فلسفے کے استاد ہیں یا فلسفے کے طالبعلم. میں فلسفہ آپ جتنا نہیں جانتا، لیکن جتنا جانتا ہوں، اس کے مطابق فلسفہ نام ہے کسی حقیقت کو ہر ممکنہ زاویے سے جانچ کر مکالمہ کرنے کا. لہٰذا آپ میں یہ جرات ہونی چاہیئے کہ مقابل نقطہ نظر کو بھی ایک ہی اسٹیج پر سن اور سمجھ سکیں." 
.
مخاطب کے پاس کہنے کو کچھ نہ تھا. لہٰذا میں نے مسکرا کر نرمی سے بات کا خاتمہ کیا، بستہ سنبھالا اور اجازت لی.
.
====عظیم نامہ====