Wednesday, 31 August 2016

جدید ذہن اور انکار آخرت



جدید ذہن اور انکار آخرت 



.
جدید تشکیک زدہ اذہان کا اصل مسئلہ خدا کے وجود کو تسلیم کرنا نہیں ہے بلکہ ان کا اصل مسئلہ خدا کے سامنے جواب دہ ہونے کو قبول کرنا ہے. یہ احساس کہ وہ موت کے بعد کسی کو جواب دہ ہونگے؟ اور اپنے اپنے اعمال کا اچھا برا اجر پائیں گے؟ اس نظریئے کو تسلیم کرلینا بہت سے اذہان کیلئے ممکن نہیں ہے. ان کے لئے خود کو جواب دہ ماننا اپنی آزادی کو سلب کردینے کے مترادف ہے. وہ اپنی شتر بے مہار جیسی آزادی پر کسی بیرونی پہرے کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں. لہٰذا سچ پوچھیئے تو ان کا یہ انکار عقلی سے زیادہ جذباتی بنیاد پر استوار ہے. اس پر طرہ یہ ہے کہ دین بھی اپنا مقدمہ پیش کرتے ہوئے بناء جھجھک اس کا اعلان کردیتا ہے کہ اس فانی دنیا میں انسان کو فی الواقع اپنی آزادی کو خدا کی مرضی کے سامنے قربان کرنا ہوگا اور اس کا عبد یعنی غلام بن کر رہنا ہوگا. اس کے برعکس دور حاضر کا جائزہ لیجیئے تو جو ممالک الحاد سے جتنا متاثر ہیں اتنا ہی انسان کی مادر پدر آزادی کے مبلغ ہیں. فری ڈم آف اسپیچ ، لبرٹی اور لبرلزم ان معاشروں میں عقائد کی طرح رائج ہیں. اس آزادی انسان کیلئے وہ اتنے متشدد ہیں کہ ہم جنسی کے فروغ اور ہر طرح کے فطری انسانی رشتے کو قربان کرنے کیلئے تیار ہیں. اسی آزادی کا نام لے کر وہ مرد و زن کی ہر قیود کو توڑ کر انہیں کپڑوں اور دیگر ہر حرمت سے بے نیاز کرنے پر مصر ہیں. گویا ایک طرف یہ مغربی ذہن ہے جو پوری شدت سے مکمل 'آزادی' کا دلفریب نعرہ لگا رہا ہے تو دوسری جانب دین کا پیرو ذہن خود کو عبد کہنے پر مسرور ہے اور اسی جانب دوسروں کو نصیحت کرتا ہے. یہی وہ کشمکش ہے جس کے نتیجے میں بعض لوگ خدا کے منکر یعنی 'ایتھیسٹ' ہوجاتے ہیں تاکہ جواب دہی کے کسی امکان پر بات ہی نہ ہو. جبکہ بعض دوسرے خدا کو ایک زندہ ہستی کی بجائے مختلف تاویلوں سے ایک ایسے وجود کا نقشہ کھینچ لاتے ہیں جس نے اس کائنات کو لامحالہ تخلیق تو کیا ہے مگر وہ کسی سے اس کے اعمال کا حساب نہیں لے گا. اس دوسرے گروہ میں مختلف نظریات سے منسلک لوگ وابستہ ہیں جن میں سے کچھ خود کو 'ڈیسٹ' اور کچھ کو 'اسپرچولسٹ' کہلواتے ہیں. 
.
آپ انسانی تاریخ کے مقبول ترین سائنسدان 'البرٹ آئین سٹائن' کی مثال لیجیئے جو خدا کے وجود کو کھلے الفاظ میں قبول کرتا ہے مگر ساتھ ہی یہ کہتا ہے کہ میں کسی 'پرسنل گاڈ' کو نہیں مان سکتا. 'پرسنل گاڈ' سے مراد اس کی ایک ایسی خدائی ہستی ہے جو اعمال کا حساب لے گی. اسی طرح سے دور حاضر کا شائد سب سے معروف سائنسدان 'اسٹیفن ہاکنگ' کی مشہور زمانہ تصنیف 'بریف ہسٹری آف ٹائم' دیکھیئے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ بذریعہ سائنس 'خدائی ذہن' کو سمجھنے کی سعی کررہا ہے ، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ خدا کو کسی نہ کسی صورت مان رہا ہے مگر حال ہی میں اس نے خدا کے وجود کا مطلق انکار کر دیا ہے، اس کی ایک بڑی وجہ بظاہر یہی نظر آتی ہے کہ اسکے لئے ایک ایسے خدا کے وجود کو ماننا ممکن نہیں ہے جو صرف خالق و مدبر ہی نہیں بلکہ 'مالک الیوم الدین' بھی ہے. آپ دیگر ملحدانہ سوچ سے متاثر سائنسدانوں کی گفتگو سنیئے تو معلوم ہوگا کہ وہ ایک جانب تو وجود خدا کا انکار کرتے ہیں مگر دوسری طرف کائناتی قوانین و توازن کو 'مدر نیچر' کہہ کر اس سے ان ہی صفات کو منسلک کرتے ہیں جو روایتی طور پر خدا ہی کی صفات سمجھی گئی ہیں. لفظ خدا کی جگہ 'مدر نیچر' کی اس اصطلاح کو اسی غرض سے استعمال کیا جاتا ہے تاکہ روز آخرت یا خدا کو جواب دہی کے امکان کو ختم کیا جاسکے. اسی طرح ذرا دقت نظر سے دیکھیں تو جدید فلسفوں پر استوار ان 'اسپرچولسٹ' گروؤں کا بھی حال کچھ زیادہ مختلف نہیں ہیں. لہٰذا آپ گرو رجنیش یعنی 'اوشو' کی تعلیمات دیکھیئے تو اس کا ماننا ہے کہ خدا موجود نہیں ہے مگر ساتھ ہی کہتا ہے کہ وجود خدا کا انکار اسے 'ایتھیسٹ' نہیں بناتا. وضاحت کرتے ہوئے کہتا ہے کہ میں خدا کا نہیں لیکن ایک 'کائناتی شعور' (کاسمک کونشئیس نیس) کے وجود کا قائل ہوں. جس میں انسانی شعور ضم ہوکر ابدی حیات پاسکتا ہے. ایک اور مثال راقم کے مطابق اس وقت کے سب سے ذہین گرو 'سدھ گرو' کی ہے جو ایک بار پھر خدا کے وجود کو منفرد استدلال سے ایک ایسی نادیدہ برتر ذہانت (سپریم انٹلیجنس) تک محدود کرنا چاہتے ہیں جو تخلیق کے مختلف رنگوں میں ڈھل گیا ہے اور جس کا روپ انسان خود ہے. گویا آج کا جدید ذہن کبھی 'مدر نیچر'، کبھی 'کاسمک کونشئیس نیس'، کبھی 'سپریم انٹلیجنس' جیسی دلفریب 'فینسی' اصطلاحات کا استعمال کرکے وجود خدا پر ایمان کو روز جزا پر ایمان سے جدا کردینا چاہتا ہے. 
.
اس کے بلکل برعکس دین کا وہ مقدمہ ہے جو اسلام پیش کرتا ہے. جس طرح رسول ص کی رسالت پر ایمان لانے والا کسی صورت یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ قران حکیم پر ایمان نہیں رکھتا. ٹھیک اسی طرح خدا پر ایمان کا دعویٰ کرنے والا روز آخرت کا انکار نہیں کرسکتا. کلام پاک بڑی شان سے جابجا اعلان کرتا ہے کہ قیامت یا روز جزا کے برپا ہونے میں کوئی شک نہیں کیا جاسکتا اور ہر شخص بلاتفریق اپنے ہر چھوٹے سے چھوٹے عمل کا بھی بدلہ پائے گا. اتنا ہی نہیں بلکہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دیگر عقائد کے مقابلے میں قران مجید روز آخرت کے عقیدے پر سب سے زیادہ زور دیتا ہے. پورے قران پاک کا شائد ہی کوئی ایسا صفحہ موجود ہو جہاں بلواسطہ یا بلاواسطہ قیامت یا روز آخرت کا زکر نہ کیا گیا ہو. اسی کی نمائندہ مثال سورہ البقرہ کی وہ ابتدائی آیات ہیں جن میں جہاں مومنین و متقین کی صفات بتاتے ہوئے بیان ہوا کہ وہ غیب پر 'ایمان' لاتے ہیں، موجودہ کلام یعنی قران مجید پر 'ایمان' لاتے ہیں اور سابقہ صحائف پر 'ایمان' لاتے ہیں. وہاں اختتام اس پر کیا کہ وہ آخرت پر 'یقین' لاتے ہیں. غور طلب امر یہ ہے کہ بقیہ عقائد پر فقط 'ایمان' لانے کی بات ہوئی جبکہ روز آخرت پر 'یقین' لانے کی بات کی گئی. دین کے طالبعلم واقف ہیں کہ محققین کے مقبول موقف کے مطابق ایمان بڑھتا یا گھٹتا ہے مگر 'یقین' ایمان کی مستحکم و مستقل صورت کا نام ہے. گویا مطالبہ یہ ہے کہ آخرت پر ایمان بھی اس درجے کا ہو جو یقین کا درجہ حاصل کرلے. حقیقت یہ ہے کہ روز آخرت یا خدا کو جواب دہی کا تصور ہی وہ بنیادی عقیدہ ہے جو ایک انسان کے مومن ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کرتا ہے. 
.
====عظیم نامہ====

سنتوں پرعمل نہیں تو قربانی کی سنت پر زور کیوں

جب دوسری سنتوں پر عمل نہیں تو قربانی کی سنت پر  زور کیوں؟



سوال:
کیا قربانی ہر مسلم پر فرض ہے جسکی انکم ہے یا صرف حج پر جانے والو کیلئے؟ میں ہر سنّت تو پوری نہیں کرتی امی کا کہنا ہے اپنی الگ قربانی کرو کیونکہ تم خود کماتی ہو، میں کہتی ہوں جب میں دوسری سنتیں پوری نہیں کر رہی تو صرف جانور قربان کرنے والی کیوں کروں؟ سوال یہ ہے وہ لوگ جو حج پر نہیں جاتے لیکن قربانی کرتے ہیں کیا وہ اور بھی ساری سنتیں پوری کرتے ہیں ، آخر عید کے موقع پر قربانی پہ اتنا زور کیوں؟ قران و سنت میں اس کا کیا حوالہ ہے؟ دوسرا حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم تھا کہ اپنی سب سے پیاری چیز قربان کریں، کیا یہ بکرے ہم کو سب سے زیادہ پیارے ہوتے ہیں جو ان کی قربانی کریں؟
جواب:
السلام و علیکم بہن
قربانی کرنا بعض فقہاء کے نزدیک اہم سنت اور بعض کے نزدیک واجب ہے. قربانی کرنے کیلئے حج پر جانا لازم نہیں ہے بلکہ ہر وہ انسان جو اتنی سکت رکھتا ہوں کہ قربانی کرسکے، اسے اس شعار اسلامی کو انجام دینے کی اجازت ہے. اس کا واضح ثبوت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مدینہ میں رہتے ہوئے ہر سال قربانی کرنا ہے. حدیث کا متن کچھ یوں ہے کہ "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس سال مدینہ میں قیام فرمایا اس عرصہ قیام آپ مسلسل قربانی فرماتے رہے" (ترمذی ). میں چونکہ قربانی کو سنت سمجھتا ہوں واجب نہیں، اسلئے 'اجازت ہے' کے الفاظ کا استعمال کیا ہے. گویا اگر کوئی شخص قربانی کرتا ہے تو یہ بہت اجر کی بات ہے مگر اگر کوئی کسی وجہ سے نہیں کرپاتا تو وہ ان شاء للہ گنہگار نہیں. 
.
آپ کی یہ سوچ درست نہیں کہ میں جب دوسری سنتوں کا پوری طرح اہتمام نہیں کرتی تو اس سنت کا اہتمام کیوں کروں؟ یہ سچ ہے کہ ہمیں ہر سنت پر عمل کی کوشش کرنی چاہیئے لیکن امت میں شائد ہی کوئی ایسا انسان ہو جو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر ہر سنت کا اہتمام کرپاتا ہو، تو کیا اس کا یہ مطلب لیا جائے کہ وہ بقیہ سنتوں کا بھی تارک ہوجائے جنہیں وہ انجام دیتا آیا ہے؟ ظاہر ہے کہ نہیں. پھر بیشمار ایسی سنتیں موجود ہیں جن کی وہ فضیلت بیان نہیں ہوئی جو قربانی کی سنت کی ہے. اس کا شمار بجا طور پر اہم ترین سنتوں میں سے ہے اور یہ اپنی حقیقت میں صرف رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت نہیں بلکہ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے اور اسی رعایت سے حضرت اسمعیل، حضرت موسیٰ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اجمعین سمیت تمام پیغمبروں کی سنت رہی ہے. گویا یہ کوئی خوشبو لگانے یا ہر وضو کے وقت مسواک کرنے والی سنتوں جیسی نہیں ہے بلکہ بہت بہت اہم سنت ہے. اسکی اسی اہمیت کی وجہ سے کچھ فقہاء اس کے وجوب یعنی واجب ہونے کے قائل ہیں. یہ شیطانی وسوسہ ہے کہ کوئی اتنی قیمتی سنت کو یہ سوچ کر قربان کردے کہ بقیہ سنتوں کا مکمل اہتمام بھی تو نہیں کرتا. اس کی اہمیت کا ایک اور نمایاں پہلو یہ بھی ہے کہ قربانی کی سنت کا اثر رمضان کے روزوں کی طرح فرد کیساتھ ساتھ پورے مسلم معاشرے پر مرتب ہوتا ہے. 
.
قران حکیم میں بنی اسرائیل کو بچھڑے کی قربانی دینے کا حکم ہو، ہابیل کا اپنے رب کو قربانی پیش کرنا ہو یا پھر حضرت اسمعیل علیہ السلام کی جگہ مینڈھے کی قربانی ہو. یہ سب قربانی کے اسی عمل کی اہمیت کے غماز ہیں. پھر قران مجید میں دیگر مقامات پر قربانی کا ذکر ملتا ہے جیسے سورہ الکوثر میں ارشاد ہوا فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ (پس اپنے رب کے لیے نماز پڑھیے اور قربانی کیجیے۔) اسی طرح سورہ الانعام میں ارشاد پاک ہوتا ہے قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (کہہ دو کہ میری نماز اور میری قربانی، میرا جینا اور میرا مرنا، سب اللہ پروردگارعالم کے لیے ہے۔) اسی طرح ہم جانتے ہیں کہ مومن رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ کو قران کی عملی تفسیر مانتے ہیں. چانچہ جب ہم رسول عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی اسوہ اور صحابہ اکرام رض کے عمل پر نظر ڈالتے ہیں تو احقر درجے میں بھی قربانی کی اہمیت کے ضمن میں کوئی احتمال باقی نہیں رہتا. سنن ابن ماجہ کی اس حدیث ٣١٢٣ کو ہی پڑھ لیجیئے. "جس کے پاس گنجائش ہو اور وہ قربانی نہ کرے تو اسے چاہئیے کہ ہماری عیدگاہ کے قریب بھی نہ آئے" . کیا اس سب کے بعد بھی کسی کو گوارا ہوگا کہ وہ قربانی کی سنت کو سکت رکھنے کے باوجود نہ کرے؟ 
.
یہ جملہ کہ کئی صاحب حیثیت افراد اپنے مال سے قربانی تو کرتے ہیں مگر حج نہیں کرتے. یہ اس زاویئے سے تو درست ہے کہ لوگوں کو حج کی فرضیت کو زندگی میں ایک بار انجام دینے کی جانب توجہ دلائی جائے اور انہیں بتایا جائے کہ جہاں تم ایک واجب یا سنت پر مال خرچ کرتے ہوں وہاں ضروری ہے کہ تم حج کے فرض پر بھی مال خرچ کرو. مگر اسے بنیاد بنا کر یہ کہنا کہ کیونکہ حج نہیں کرتے اسلئے قربانی بھی نہ کرو؟ یہ کہاں کی دانشمندی ہے؟ گویا اگر ایک صاحب نصاب زکات کا سالانہ اہتمام نہیں کرتا مگر کسی دوسرے وقت مال سے صدقہ دیتا ہے تو میں کہنے لگوں کہ کیونکہ زکات کا فرض ادا نہیں کر تے اسلئے یہ نفلی صدقہ بھی نہ دو؟. زکات نہ دینے کا وبال اس پر الگ ہے مگر صدقہ دینے کا ثواب اپنی جگہ ہے. اسی طرح ایک مالدار انسان کا حج نہ کرنے کا گناہ الگ ہے اور قربانی کی سنت کو پورا کرنے کا ثواب جدا ہے. یہ نفس کا وسوسہ ہے کہ وہ اس وقت تو آپ کو کبھی نہ ٹوکے جب آپ اپنا مال گاڑی، زیورات، مہنگے کپڑوں اور دنیاوی تقریبات پر خرچ کریں مگر جیسے ہی آپ اپنے مال سے قربانی میں حصے کے تھوڑے سے پیسے دیں تو شور مچانے لگے کہ اسی پیسے سے حج کیوں نہ کیا؟ اسی طرح وہ دوسرے افراد کو یہ دھوکہ بھی دیتا ہے کہ یہ جو حج پر پیسہ خرچ کرتے ہو ، اسے کسی اسکول بنانے پر خرچ کیوں نہیں کردیتے؟ حالانکہ یہی لوگ شادی بیاہ یا سالگرہ پر لاکھوں لگاتے ہوئے بھی نہیں جھجھکتے. 
.
آپ کا یہ استفسار کہ ابراہیم علیہ السلام کو سب سے پیاری چیز قربان کرنے کا حکم تھا، تو کیا ہمیں بکرے سب سے پیارے ہیں؟ .. اللہ کی اس نعمت پر شکر ادا کیجیئے کہ اس نے آپ سے ابراہیم علیہ السلام کی طرح آپ کی اولاد یا کسی اور رشتے کی قربانی نہیں مانگی بلکہ اس قربانی کا ایک سمبل بکرے ، دنبے وغیرہ کی صورت میں پیدا کردیا. یہ بکرے کی قربانی ایک 'سمبولک ایکسپریشن' ہے جو ہماری تربیت کرتا ہے. آج ہماری جیب سے قربانی کیلئے کچھ پیسہ نکالنا مشکل ہورہا ہے، کیا ہوتا جو شریعت میں فی الواقع ہم سے کسی بہت قریبی چیز کو قربان کرنے کا تقاضا کیا گیا ہوتا؟ لہٰذا یہ مقام شکر ہے کہ رب نے ہمیں ایسے امتحان میں نہ ڈالا جس میں کامیاب ہونا ہم میں سے اکثر کیلئے ممکن ہی نہ ہوتا. الحمدللہ 
.
امید ہے کہ کچھ تشفی ہوئی ہوگی. ان شاء للہ 
.
====عظیم نامہ====

Sunday, 28 August 2016

جدید ذہن اور انکار آخرت



جدید ذہن اور انکار آخرت 

.
جدید تشکیک زدہ اذہان کا اصل مسئلہ خدا کے وجود کو تسلیم کرنا نہیں ہے بلکہ ان کا اصل مسئلہ خدا کے سامنے جواب دہ ہونے کو قبول کرنا ہے. یہ احساس کہ وہ موت کے بعد کسی کو جواب دہ ہونگے؟ اور اپنے اپنے اعمال کا اچھا برا اجر پائیں گے؟ اس نظریئے کو تسلیم کرلینا بہت سے اذہان کیلئے ممکن نہیں ہے. ان کے لئے خود کو جواب دہ ماننا اپنی آزادی کو سلب کردینے کے مترادف ہے. وہ اپنی شتر بے مہار جیسی آزادی پر کسی بیرونی پہرے کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں. لہٰذا سچ پوچھیئے تو ان کا یہ انکار عقلی سے زیادہ جذباتی بنیاد پر استوار ہے. اس پر طرہ یہ ہے کہ دین بھی اپنا مقدمہ پیش کرتے ہوئے بناء جھجھک اس کا اعلان کردیتا ہے کہ اس فانی دنیا میں انسان کو فی الواقع اپنی آزادی کو خدا کی مرضی کے سامنے قربان کرنا ہوگا اور اس کا عبد یعنی غلام بن کر رہنا ہوگا. اس کے برعکس دور حاضر کا جائزہ لیجیئے تو جو ممالک الحاد سے جتنا متاثر ہیں اتنا ہی انسان کی مادر پدر آزادی کے مبلغ ہیں. فری ڈم آف اسپیچ ، لبرٹی اور لبرلزم ان معاشروں میں عقائد کی طرح رائج ہیں. اس آزادی انسان کیلئے وہ اتنے متشدد ہیں کہ ہم جنسی کے فروغ اور ہر طرح کے فطری انسانی رشتے کو قربان کرنے کیلئے تیار ہیں. اسی آزادی کا نام لے کر وہ مرد و زن کی ہر قیود کو توڑ کر انہیں کپڑوں اور دیگر ہر حرمت سے بے نیاز کرنے پر مصر ہیں. گویا ایک طرف یہ مغربی ذہن ہے جو پوری شدت سے مکمل 'آزادی' کا دلفریب نعرہ لگا رہا ہے تو دوسری جانب دین کا پیرو ذہن خود کو عبد کہنے پر مسرور ہے اور اسی جانب دوسروں کو نصیحت کرتا ہے. یہی وہ کشمکش ہے جس کے نتیجے میں بعض لوگ خدا کے منکر یعنی 'ایتھیسٹ' ہوجاتے ہیں تاکہ جواب دہی کے کسی امکان پر بات ہی نہ ہو. جبکہ بعض دوسرے خدا کو ایک زندہ ہستی کی بجائے مختلف تاویلوں سے ایک ایسے وجود کا نقشہ کھینچ لاتے ہیں جس نے اس کائنات کو لامحالہ تخلیق تو کیا ہے مگر وہ کسی سے اس کے اعمال کا حساب نہیں لے گا. اس دوسرے گروہ میں مختلف نظریات سے منسلک لوگ وابستہ ہیں جن میں سے کچھ خود کو 'ڈیسٹ' اور کچھ کو 'اسپرچولسٹ' کہلواتے ہیں. 
.
آپ انسانی تاریخ کے مقبول ترین سائنسدان 'البرٹ آئین سٹائن' کی مثال لیجیئے جو خدا کے وجود کو کھلے الفاظ میں قبول کرتا ہے مگر ساتھ ہی یہ کہتا ہے کہ میں کسی 'پرسنل گاڈ' کو نہیں مان سکتا. 'پرسنل گاڈ' سے مراد اس کی ایک ایسی خدائی ہستی ہے جو اعمال کا حساب لے گی. اسی طرح سے دور حاضر کا شائد سب سے معروف سائنسدان 'اسٹیفن ہاکنگ' کی مشہور زمانہ تصنیف 'بریف ہسٹری آف ٹائم' دیکھیئے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ بذریعہ سائنس 'خدائی ذہن' کو سمجھنے کی سعی کررہا ہے ، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ خدا کو کسی نہ کسی صورت مان رہا ہے مگر حال ہی میں اس نے خدا کے وجود کا مطلق انکار کر دیا ہے، اس کی ایک بڑی وجہ بظاہر یہی نظر آتی ہے کہ اسکے لئے ایک ایسے خدا کے وجود کو ماننا ممکن نہیں ہے جو صرف خالق و مدبر ہی نہیں بلکہ 'مالک الیوم الدین' بھی ہے. آپ دیگر ملحدانہ سوچ سے متاثر سائنسدانوں کی گفتگو سنیئے تو معلوم ہوگا کہ وہ ایک جانب تو وجود خدا کا انکار کرتے ہیں مگر دوسری طرف کائناتی قوانین و توازن کو 'مدر نیچر' کہہ کر اس سے ان ہی صفات کو منسلک کرتے ہیں جو روایتی طور پر خدا ہی کی صفات سمجھی گئی ہیں. لفظ خدا کی جگہ 'مدر نیچر' کی اس اصطلاح کو اسی غرض سے استعمال کیا جاتا ہے تاکہ روز آخرت یا خدا کو جواب دہی کے امکان کو ختم کیا جاسکے. اسی طرح ذرا دقت نظر سے دیکھیں تو جدید فلسفوں پر استوار ان 'اسپرچولسٹ' گروؤں کا بھی حال کچھ زیادہ مختلف نہیں ہیں. لہٰذا آپ گرو رجنیش یعنی 'اوشو' کی تعلیمات دیکھیئے تو اس کا ماننا ہے کہ خدا موجود نہیں ہے مگر ساتھ ہی کہتا ہے کہ وجود خدا کا انکار اسے 'ایتھیسٹ' نہیں بناتا. وضاحت کرتے ہوئے کہتا ہے کہ میں خدا کا نہیں لیکن ایک 'کائناتی شعور' (کاسمک کونشئیس نیس) کے وجود کا قائل ہوں. جس میں انسانی شعور ضم ہوکر ابدی حیات پاسکتا ہے. ایک اور مثال راقم کے مطابق اس وقت کے سب سے ذہین گرو 'سدھ گرو' کی ہے جو ایک بار پھر خدا کے وجود کو منفرد استدلال سے ایک ایسی نادیدہ برتر ذہانت (سپریم انٹلیجنس) تک محدود کرنا چاہتے ہیں جو تخلیق کے مختلف رنگوں میں ڈھل گیا ہے اور جس کا روپ انسان خود ہے. گویا آج کا جدید ذہن کبھی 'مدر نیچر'، کبھی 'کاسمک کونشئیس نیس'، کبھی 'سپریم انٹلیجنس' جیسی دلفریب 'فینسی' اصطلاحات کا استعمال کرکے وجود خدا پر ایمان کو روز جزا پر ایمان سے جدا کردینا چاہتا ہے. 
.
اس کے بلکل برعکس دین کا وہ مقدمہ ہے جو اسلام پیش کرتا ہے. جس طرح رسول ص کی رسالت پر ایمان لانے والا کسی صورت یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ قران حکیم پر ایمان نہیں رکھتا. ٹھیک اسی طرح خدا پر ایمان کا دعویٰ کرنے والا روز آخرت کا انکار نہیں کرسکتا. کلام پاک بڑی شان سے جابجا اعلان کرتا ہے کہ قیامت یا روز جزا کے برپا ہونے میں کوئی شک نہیں کیا جاسکتا اور ہر شخص بلاتفریق اپنے ہر چھوٹے سے چھوٹے عمل کا بھی بدلہ پائے گا. اتنا ہی نہیں بلکہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دیگر عقائد کے مقابلے میں قران مجید روز آخرت کے عقیدے پر سب سے زیادہ زور دیتا ہے. پورے قران پاک کا شائد ہی کوئی ایسا صفحہ موجود ہو جہاں بلواسطہ یا بلاواسطہ قیامت یا روز آخرت کا زکر نہ کیا گیا ہو. اسی کی نمائندہ مثال سورہ البقرہ کی وہ ابتدائی آیات ہیں جن میں جہاں مومنین و متقین کی صفات بتاتے ہوئے بیان ہوا کہ وہ غیب پر 'ایمان' لاتے ہیں، موجودہ کلام یعنی قران مجید پر 'ایمان' لاتے ہیں اور سابقہ صحائف پر 'ایمان' لاتے ہیں. وہاں اختتام اس پر کیا کہ وہ آخرت پر 'یقین' لاتے ہیں. غور طلب امر یہ ہے کہ بقیہ عقائد پر فقط 'ایمان' لانے کی بات ہوئی جبکہ روز آخرت پر 'یقین' لانے کی بات کی گئی. دین کے طالبعلم واقف ہیں کہ محققین کے مقبول موقف کے مطابق ایمان بڑھتا یا گھٹتا ہے مگر 'یقین' ایمان کی مستحکم و مستقل صورت کا نام ہے. گویا مطالبہ یہ ہے کہ آخرت پر ایمان بھی اس درجے کا ہو جو یقین کا درجہ حاصل کرلے.  حقیقت یہ ہے کہ روز آخرت یا خدا کو جواب دہی کا تصور ہی وہ بنیادی عقیدہ ہے جو ایک انسان کے مومن ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کرتا ہے. 
.
====عظیم نامہ====

Thursday, 25 August 2016

مشکلات کا سامنا مسکرا کر کرنا


مشکلات کا سامنا مسکرا کر کرنا



جب میں پرائمری اسکول میں تھا تو ہمارے گھر کام کیلئے ایک ماسی (ماں سی) آیا کرتی تھیں. ان کی جھونپڑی ہمارے گھر کے پیچھے دیوار سے لگی ہوئی تھی. ان کے بیٹے بیٹیاں جو مجھ جتنے یا مجھ سے چھوٹے تھے سارا دن یہاں سے وہاں آوارہ گھومتے رہتے. میری والدہ اکثر انہیں میرے ساتھ پڑھنے کے لئے کبھی پیار سے اور کبھی ڈانٹ سے بیٹھا دیا کرتیں تاکہ وہ بھی کچھ پڑھ لیں. ان میں سے صرف ایک لڑکا جو عمر میں مجھ سے کچھ زیادہ تھا، پڑھنے میں دلچسپی دیکھانے لگا تو اس کا ایڈمیشن اسکول میں کروا دیا گیا. اس کی فیس کبھی ہمارے گھر سے جایا کرتی تو کبھی کسی اور گھر سے. کبھی کوئی یونیفارم دلا دیتا تو کبھی کوئی اپنی پرانی کورس کی کتابیں اسے دے دیتا. انتہائی ناموافق حالات کے باوجود وہ بچہ خوشی خوشی پڑھتا رہا اور میری والدہ اس کی والدہ کی ہمت بڑھاتی رہیں. یوں ہی پڑھتے پڑھتے ایک روز اس نے میٹرک پاس کرلیا. شاید میرے والد نے یا کسی اور صاحب نے اس کو کلرک کی نوکری دلا دی جہاں وہ اپنی محنت سے آگے بڑھتا گیا. کچھ ہی دنوں میں ان کے حالات سدھرنے لگے تو اس نے اپنی والدہ کو گھر گھر جاکر جھاڑو پونچھے کی تکلیف سے نجات دلادی. اب اس کی نسل الحمدللہ اچھے اسکولوں سے تعلیم حاصل کر رہی ہے. 
.
جب میں سیکنڈری اسکول میں پہنچا تو محلے کا ایک گھر معاشی تنگدستی کا شکار نظر آتا تھا. وہ لوگ گھر پر اچار اور چٹنی تیار کرکے اسے بیچا کرتے تھے. ان کے بیٹے اور بیٹیاں اسکول جاتے تھے مگر ایک روز ان کے والد کی طبیعت بگڑی اور وہ انتقال کرگئے. بڑا بیٹا جو مجھ سے کافی چھوٹا تھا ، اسے اسکول چھوڑنا پڑا اور وہ کبھی پرچون کی دکان اور کبھی میڈیکل اسٹور پر دن رات کام کرنے لگا. مجھے اس کے اسکول چھوڑ جانے کا بہت صدمہ تھا اور میں بہانے بہانے اس کے چہرے پر کرب ڈھونڈھتا رہتا تھا مگر وہ بناء شکایت خاموشی سے اسی خوش مزاجی سے کام کرتا رہا جو اسے پہلے حاصل تھی. صاف نظر آتا تھا کہ وہ اپنا کام دیگر ملازمین سے زیادہ تندہی سے کرتا ہے. ساتھ ہی اس نے اپنی تعلیم کے سلسلے کو جوڑ لیا اور معلوم نہیں کتنا پڑھ پایا؟ جو بات معلوم ہے وہ یہ کہ آج اسی کی محنت کے صدقے اللہ نے ان کے گھر کو خوشحال کردیا ہے. بہنوں کی شادی اور چھوٹے بھائی کی تعلیم کے پیچھے بھی ضرور اسی بھائی کی محنت پوشیدہ ہوگی. 
.
جب میں کالج پہنچا تو ایک دوست میرا جگری بن گیا. نوجوانی کی ہر تفریح ہم نے ساتھ ساتھ کی. اس کے گھریلو حالات معاشی اعتبار سے تنگ تھے. میرے اس دوست کا چہرہ ماشاللہ اتنا مسکراتا ہوا تھا کہ کبھی شک ہوتا کہ کہیں سوتے میں بھی تو مسکراتا نہیں رہتا؟ مسکراہٹ کے ساتھ ساتھ دوسری نمائندہ صفت اس میں خودداری کی تھی. یہ خودداری کا ایسا پہاڑ تھا کہ دو پیسے کی مدد لینا تو دور اس سے کوئی ایسی بات کرتے ہوئے بھی میری جان نکلتی تھی کہ لامحالہ کہیں برا ہی نہ مان جائے. ہم دونوں کا ایک دوسرے کے ساتھ خوب دل لگتا تھا اور مستقبل میں کچھ بننے کے خواب ہم ساتھ ہی دیکھا کرتے تھے. پھر انٹر کے امتحانات ہوئے تو اس نے اپنی روایتی مسکراہٹ کے ساتھ بتایا کہ اب وہ تعلیم جاری نہیں رکھ پائے گا. والد کے جانے کے بعد گھر کی ساری ذمہ داری اس کے کندھوں پر ہے. اسلئے وہ درزی بن رہا ہے اور اگر اللہ نے چاہا تو مستقبل میں تعلیم حاصل کرے گا. میں دھک سے رہ گیا لیکن اس نے میری کوئی مدد نہ لی اور ایک جانب درزی بن کر کپڑے سیتا رہا تو دوسری جانب بچوں کو ٹیوشن پڑھاتا رہا. وقت کا پہیہ تیز چلا تو رابطہ ٹوٹ گیا مگر دونوں ایک دوسرے کو کبھی نہیں بھولے. کچھ سال پہلے میری اس سے ملاقات ہوئی تو معلوم ہوا کہ اس نے تعلیم کا سلسلہ اپنے دم پر پورا کرلیا تھا اور اب ایک معروف کمپنی میں مینجر ہے. ساتھ ہی کراچی میں ایک بزنس بھی کر رہا ہے اور ملایشیا میں ایک ریسٹورنٹ کا بھی مالک ہے. گاہے بگاہے وہاں جاتا رہتا ہے. بجا طور پر معاشی اعتبار سے آج وہ مجھ سے کہیں زیادہ کامیاب ہے. 
.
یونیورسٹی میں جب مجھے انجینئرنگ کے لئے داخلہ ملا تو ایک ایسا دوست بھی ملا جو ہم عمر ہونے کے باوجود ہم سے ایک سال جونیئر تھا. شاید مالی تنگدستی کی وجہ سے اس کا سال ضائع ہوچکا تھا. کمپیوٹر انجینئرنگ کیلئے کمپیوٹر کا گھر پر ہونا قریب قریب لازمی ہوتا ہے مگر ہمارے اس دوست کے پاس اتنے پیسے نہ تھے کہ کمپیوٹر خرید سکتا لہٰذا ساری ساری رات اور دن ایک دوست کے گھر منڈلاتا رہتا. جہاں اگر کمپیوٹر فارغ مل جائے تو اسے استعمال کرپاتا. یہ غیر معمولی ذہانت کا حامل انسان تھا جو نہ صرف اپنے امتحانات میں نمائندہ نمبروں سے پاس ہوتا بلکہ مجھ سمیت اپنے دیگر سینئر دوستوں کو بھی ان کے امتحان کی تیاری کروادیتا. یونیورسٹی کے چار سالوں میں سے کچھ سال اسے اسکالر شپ مل گئی اور یوں شدید مشکلات سے لڑتا ہوا وہ اپنی انجینرنگ مکمل کرگیا. آج الحمدللہ وہ ایک عرب ملک میں نہایت اچھی نوکری پر فائز ہے اور مجھ جیسے اکثر دوستوں سے آگے ہے. دل سے دعا نکلتی ہے کہ اللہ پاک اسے اور ان دیگر دوستوں کو جن کا ذکر اپر ہوا مزید سے مزید کامیابیاں عطا کریں آمین.
.
آپ جانتے ہیں کہ ان سب دوستوں میں تنگی و تنگدستی کے علاوہ کیا قدر مشترک تھی؟ وہ قدر یہ تھی کہ یہ مشکلات کا سامنا مسکرا کر کرنا جانتے تھے. انہوں نے نامناسب حالات پر واویلا نہیں کیا اور تکلیف دہ واقعات پر شکوہ زبان پر نہ لائے. انہوں نے حقیقت کو خوش دلی سے قبول کیا اور محنت سے اپنے راستے کو متعین کئے رکھا. وہ زبان حال سے دنیا کو اس شعر کی عملی تفسیر سمجھاتے رہے کہ 
.
اٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے؟
پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے؟
.
====عظیم نامہ====

حسد کو کیسے ختم کیا جائے؟

حسد کو کیسے ختم کیا جائے؟




سوال:
السلام علیکم ، حسد کو کیسے ختم کیا جائے؟
.
میرا ایک کزن ہے ، وہ امریکہ سیٹ ہو گئے .. پہلے میں اس سے بلکل جیلس نہیں تھا .. پھر جب میرے گھر والو نے مجھے اس سے کمپیئر کرنا شروع کیا اور اس کے چاچو نے ہر معاملے میں اس کی مثال دینا شروع کی تو اب مجھے لگتا ہے کہ میں بہت زیادہ حسد کر رہا ہوں. میں پہلے کی طرح ہونا چاہتا ہوں، یہ فیلنگ بہت زیادہ تکلیف دہ ہے. میں اس کمزوری کو کس طرح ہینڈل کروں؟
.
جواب:
وعلیکم السلام 
.
خوش آئند بات یہ ہے کہ الحمدللہ آپ کو اس کا احساس ہے کہ حسد ایک کریہہ گناہ اور تباہ کن بیماری ہے. چنانچہ آپ اس کا تدارک چاہتے ہیں. آپ نے اس کا محرک بھی شائد درست پالیا ہے کہ جب انسان کو کسی دوسرے انسان سے زبردستی تقابل کیا جائے تو یہ جذبہ جڑ پکڑ لیتا ہے. حالانکہ اگر کوئی باریکی سے غیر متعصب جائزہ لے تو یقینی طور پر آپ میں ایسی کئی خوبیاں ہونگی جس سے آپ کا کزن محروم ہے اور اس میں ایسی کئی برائیاں ہونگی جس سے آپ آزاد ہیں. مگر چونکہ اس وقت اسکی خامیوں پر دانستہ یا نادانستہ پردہ پڑا ہوا ہے اور صرف اس کی خوبیوں یا کامیابیوں کو بنیاد بناکر آپ کے سامنے تحقیر آمیز انداز میں پیش کیا جارہا ہے. اسلئے اس منفی جذبے نے آپ کے قلب کو داغدار کررکھا ہے. سب سے پہلے تو وہ معروف حدیث یاد کرلیں، جس میں رسول ص کا ارشاد پاک ہے کہ 'حسد نیکیوں کو ایسے کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑیوں کو' .. ذرا سوچیں اس حدیث کو کہ یہ جذبہ اتنا منفی ہے کہ اس سے باقی نیکیاں بھی اکارت ہوجاتی ہیں. یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ حسد اگر گھر بنالے تو انسان کی ذہنیت آھستہ آھستہ شکست خوردہ ہوتی جاتی ہے. یہ میں آپ کو اسلئے بتارہا ہوں تاکہ اس خبیث برائی کی خباثت جان کر اس کو ختم کرنے کی آپ جی جان سے کوشش کریں.
.
سب سے پہلے تو تنہائی میں دو رکعت نماز توبہ کی نیت سے ادا کریں. توبہ بناء نفل کے بھی ہوسکتی ہے مگر جیسے ہر بات کا ایک پراسسس ہوا کرتا ہے، اسی طرح سے رب کریم سے مانگنے کا یہ ایک اچھا پراسسس ہے. گو شریعت میں ایسا کرنا لازم نہیں. نماز کے بعد ہاتھ اٹھا کر یا سجدے میں جاکر اللہ پاک سے وہ سب کہہ دیں جو آپ نے مجھ سے کہا ہے. ان سے معافی مانگیں اور انہیں بتائیں کہ میں اس جذبے سے نجات چاہتا ہوں مگر کر نہیں پارہا. آپ دل کے بدلنے والے ہیں، میرا دل بھی بدل دیجیئے. خوب گڑگڑا کر دعا کیجیئے، رونا نہ آئے تب بھی لرزتے ہوئے اللہ پاک سے مانگیئے. ہر فرض نماز کے بعد سجدے میں جا کر اس دعا کو معمول بنالیجیئے. 
.
دوسری تجویز وہ ہے جو میری اپنی زندگی کا مستقل حصہ ہے. میں جب بھی کسی کی ترقی دیکھتا ہوں، اسے خوش دیکھتا ہوں، کامیاب دیکھتا ہوں یا اسے حاصل کسی نعمت کو دیکھتا ہوں تو فوری دل سے اس کے لئے دعا کرتا ہوں کہ اللہ اسے مزید برکت دے اور نظر بد سے محفوظ رکھے. اس میں یہ قید نہیں ہے کہ میں فرد کو جانتا ہوں یا نہیں. مجھے اگر کوئی زبردست گاڑی بھی روڈ پر چلتی نظر آئے تو فوری اس کے لئے برکت اور حفاظت کی دل سے دعا کرتا ہوں. حالانکہ میں میں اس گاڑی کے مالک سے زندگی میں کبھی نہیں ملا. آپ بھی اس عادت کو فوری اپنا لیجیئے. جس کو بھی کسی نعمت میں دیکھیں جو آپ کو حاصل نہیں تو اس کیلئے دل سے دعا کریں کہ یا اللہ میرے اس بھائی کی حفاظت کیجیئے اور اسے نظر بد سے بچائیں اور اسکی اس نعمت میں مزید اضافہ فرمائیں. آمین. خاص کر اپنے اس کزن کیلئے جب بھی خیال آئے یہی دعا کیجیئے. شروع میں ایسا کرنا طبیعت پر بہت بھاری گزرے گا مگر آھستہ آھستہ یہ اچھی روش آپ کی شخصیت کا جزو بن جائے گی. اس کی وجہ سے آپ کو کم از کم دو بہت بڑے فائدے ہونگے. پہلا فائدہ ظاہر ہے اور دوسرا چھپا ہوا. ظاہری فائدہ یہ ہے کہ اس طرح آپ کبھی بھی کسی کے حسد میں گرفتار نہیں ہونگے ان شاء للہ اور چھپا ہوا فائدہ یہ ہے کہ احادیث صحیحہ کے مطابق جب مومن اپنے بھائی کیلئے کسی خیر کی دعا کرتا ہے تو ملائکہ مل کر اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ مانگنے والے کو بھی ایسا ہی خیر عطا کیجیئے. اب سوچیئے جب ملائکہ آپ کیلئے دعا گو ہونگے تو آپ کو اگر ٹھیک ویسی ہی نعمت نہ بھی ملے تب بھی رب کی جانب سے کوئی دوسرا خیر ان شاء للہ بلضرور حاصل ہوگا. شرط اتنی ہے کہ دعا اخلاص سے کی گئی ہو. یاد رکھیں کہ آپ دنیا نہیں بدل سکتے لیکن خود کو بدل سکتے ہیں. یہی ذاتی بدلاؤ حیرت انگیز طور پر آپ کے اردگرد موجود حقیقتوں کو بدل کر آپ کے موافق کردے گا. میری دعا ہے کہ اللہ آپ کو اپنے مقصد میں کامیابی دیں آمین
.
====عظیم نامہ====

تہجد میں دعا


تہجد میں دعا 



آج کچھ گھنٹوں قبل میں اپنے ایک عزیز عطر فروش دوست کی دکان میں موجود تھا. ظاہر ہے کہ طرح طرح کے گاہکوں کا آنا جانا دکان میں معمول ہوتا ہے. ایسے میں دو خوش مزاج سیاہ فام نوجوان داخل ہوئے. ان میں سے ایک نوجوان جس کے بال افریقی گھنگھریالے انداز میں بندھے ہوئے تھے ، مجھ سے باتیں کرنے لگا. پہلے ایک سعودی طرز کے لباس کو دیکھ کر بتانے لگا کہ اس کے آبائی ملک 'گامبیہ' میں صرف وہی لوگ یہ لباس پہنتے ہیں جنہوں نے حج کررکھا ہو. حاجی بنے بناء یہ لباس پہننا معیوب سمجھتے ہیں. میں اس کے ساتھ خوب ہنسا اور دونوں نے دین کے نام پر ملکی ثقافت کے اثرات پر گفتگو کی. یہ کھلکھلاتا نوجوان کچھ دیر بعد مجھ سے کچھ دکھی انداز میں کہنے لگا کہ بھائی آپ کو معلوم ہے آپ مجھ سے اسلام کی باتیں کر رہے ہیں مگر بہت سے لوگ مجھے مسلمان ہی نہیں سمجھتے کیونکہ میرا حلیہ انہیں اسلامی نہیں لگتا؟ (نوجوان نے گلے میں لاکٹ، ہاتھ میں مختلف رنگین دھاگے اور دیگر فیشن کر رکھے تھے.) میں نے تعجب اور افسوس کا اظہار کیا تو وہ مزید بتانے لگا کہ میں اسلام پر عمل کی حتی الامکان کوشش کرتا ہوں لیکن کئی لوگوں کے خود ساختہ اسلامی معیار پر پورا نہیں اترتا. مگر بھائی حقیقت تو یہ ہے کہ میرا رب میری ہمیشہ سنتا ہے اور میں نے جب بھی کچھ مانگا اس نے مجھے دیا. بلکہ اگر سچ بتاؤں تو مجھے دیکھا بھی دیتا ہے. یہ کہتے ہوئے اس نوجوان کا چہرہ خوشی اور سچائی سے دمک رہا تھا. میں نے مسکراتے ہوئے استفسار کیا کہ کیسے دعا کرتے ہو؟ اور کیا مطلب کہ دیکھا بھی دیتا ہے؟ کہنے لگا کہ رات کے آخری پہر جب سب سورہے ہوتے ہیں تو میں اٹھ کر نوافل اور وتر پڑھتا ہوں. پھر ہاتھ اٹھا کر اور خوب رو کر روز اپنے رب سے اپنے لئے بھی نعمت و حاجت مانگتا ہوں اور تمام مسلمانوں کیلئے بھی مانگتا ہوں. کبھی ایسا نہیں ہوا کہ میری کوئی بھی مشکل تہجد میں دعا مانگنے سے حل نہ ہوگئی ہو. میں نے کہا ارے واہ ! کوئی مثال تو سناؤ. میری اس خواہش پر یہ نوجوان پہلی بار کچھ جھجھکا اور کچھ رک کر بولا کہ میں بتاتا نہیں ہوں مگر آپ کو بتاؤں گا. ایک بار جب میں شدید مسائل میں پھنسا اور میرا اس ملک میں رہنا ناممکن سا ہوگیا تو مجھے وکیلوں نے کہہ دیا کہ تم جو ہوم آفس اپنے کاغذات بھیجنا چاہتے ہو، ان کی قبولیت کا کوئی امکان نہیں. مگر میں نے پھر بھی کاغذات بھیج دیئے اور اسی طرح تہجد میں رب سے رو رو کر دعا مانگتا رہا. کچھ ہی دنوں میں مجھے ایک خواب نظر آیا کہ کوئی انگریز عورت ہوم آفس میں بیٹھی میرے کاغذات چیک کر رہی ہے اور اس نے دیکھنے کہ بعد تبصرہ کیا کہ تمھارے کاغذات مکمل ہیں. یہ سن کر میری آنکھ کھل گئی. ان ہی دنوں پھر ایک اور خواب آیا جس میں دیکھا کہ مجھے ایک ڈاک آئی ہے، لفافہ کھولتا ہوں تو اس میں میرے نام کا 'لامتناہی ویزا کارڈ' ہے. میں نے اس کارڈ کا رنگ تک بھی دیکھا. پھر اچانک جیسے میرے کانوں میں کچھ لوگوں نے خوشی سے میرا نام لے کر کہا کہ ارے تم سو کیوں رہے ہو؟ اٹھ جاؤ تمہیں ویزا مل گیا ہے ! ... یہ سن کر میری آنکھ کھل گئی. میں نے خواب کسی کو نہیں سنایا مگر میں جانتا تھا کہ وکیلوں کی سمجھ کے برخلاف ہوم آفس مجھے ضرور 'لامتناہی ویزا' دینے والا ہے. پھر یہی ہوا اور ہوم آفس نے میرے کاغذات کو قبول کرتے ہوئے مجھے 'لامتناہی ویزا' دے دیا. 
.
میں نے اپنے اس بھائی کو گرمجوشی سے بانہوں میں جکڑ کر مبارکباد دی اور درخواست کی کہ وہ مستقل یا کم از کم آج رات تہجد میں میرے لئے بھی خیر کی دعا کرے. اس نے کھلکھلاتے ہوئے حامی بھری اور مجھے بھی اپنے لئے دعا کا کہا. اللہ میرے اس بھائی کو مزید سے مزید خیر عطا کرے اور ہم سب کو تہجد کا اہتمام کرنے والا بنادے. آمین 
.
====عظیم نامہ====

فجر کے لئے وظیفہ

فجر کے لئے وظیفہ 


میرے استاد شیخ عبدالہادی اروانی شہید ایک نہایت ہنس مکھ شخصیت کے مالک انسان تھے. آپ کا بے ساختہ انداز اکثر سننے والو کو ہنسنے پر مجبور کردیتا تھا. ان کے ایک اصلاحی لیکچر کے دوران بہنوں کی جانب سے کسی بہن کا سوال آیا کہ شیخ میں سب نمازیں وقت پر پڑھتی ہوں مگر نماز فجر میں آنکھ نہیں کھل پاتی. میں کئی کئی الارم بھی لگاتی ہوں، ایک الارم خود سے دور بھی رکھتی ہوں، اپنے خاوند سے بھی کہتی ہوں کہ وہ مجھے ساتھ اٹھائیں. غرض ہر تدبیر آزما چکی ہوں مگر فجر میں مجھے شیطان نے ایسا جکڑ رکھا ہوتا ہے کہ میں چاہ کر بھی اٹھ نہیں پاتی. شیخ نے اپنے مسکراتے چہرے کے ساتھ نظر جھکائے سوال سنا اور پھر مخاطب ہوئے کہ بیٹی میں آپ کو ایک ایسا ثابت شدہ نسخہ بتا سکتا ہوں جس سے آپ کی آنکھ فجر کے لئے لازمی کھل جائے گی. مجھ سمیت تمام حاضرین کے کان چوکنا ہوگئے کہ ایسا کون سا مجرب طریقہ ہے جو انسان کو لازمی بیدار کردے. ہمیں لگا کہ شیخ اب شائد کوئی وظیفہ بتائیں گے. شیخ نے کچھ دیر ہم سب کو طائرانہ دیکھا اور پھر بولے ، اگر فجر کیلئے اٹھنے میں واقعی سنجیدہ ہو تو رات میں فیس بک، ٹویٹر، انٹرنیٹ وغیرہ کا استعمال ترک کردو. سنت کے مطابق عشاء کے فوری بعد سو جاؤ اور پھر دیکھو کہ کیسے ایک ہی الارم سے آنکھ کھل جاتی ہے. شیخ کا جواب سن کر ہر جانب سے کھسیانی ہنسی کی آوازیں آئیں، جن سے ظاہر ہوتا تھا کہ حاضرین میں سے بہت سے لوگ فجر قضاء کردیتے ہیں اور اس کے پیچھے ایک بڑی وجہ انٹرنیٹ کا رات دیر تک استعمال ہے. شیخ نے مزید سمجھایا کہ اگر تم رات دیر تک کسی شیخ کے اسلامی لیکچر بھی سنتے ہو یا دعوت دین بھی کرتے ہو اور اس وجہ سے صبح نماز کیلئے بیدار نہیں ہوپاتے تو تم بڑی حماقت کا شکار ہو. آپ میں سے بھی جو احباب فجر کا اہتمام نہیں کرپاتے یا انہیں شکایت ہے کہ وقت فجر آنکھ ہی نہیں کھلتی، انہیں اس تجویز پر ضرور عمل کرنا چاہیئے. 
.
====عظیم نامہ====

پاکستان ایئر فورس رسالپور اکیڈمی


پاکستان ایئر فورس رسالپور اکیڈمی



پاکستان ایئر فورس رسالپور اکیڈمی کے زیر اہتمام ایک تقریری مقابلے کا ملکی سطح پر ہر سال انعقاد کیا جاتا ہے. جسے بجا طور پر پاکستان میں فن خطابت کا سب سے نمایاں مقابلہ تصور کیا جاتا ہے. میری خوش نصیبی ہے کہ میں نے زمانہ طالبعلمی میں تین بار اس مقابلے میں شرکت کی اور کامیابی حاصل کی. یہ ٢٠٠١ کے اواخر کی بات ہے جب اپنے تعلیمی ادارے اور شہر کی نمائندگی کرتے ہوئے میں رسالپور کیلئے روانہ ہوا. یہ وہی دن تھے جب ستمبر ٢٠٠١ میں امریکہ کے ٹوئن ٹاورز پر حملہ کیا گیا تھا. اخبار ان دنوں طرح طرح کی چہ مگوئیوں سے بھرپور تھے. ہم رسالپور اکیڈمی کے لئے پاک فضائیہ کے سی ١٣٠ جہاز میں سوار ہوئے تو ایک افواہ آئی کہ امریکہ نے نہ صرف افغانستان پر حملہ کردیا ہے بلکہ پاکستان پر بھی حملہ ہوچکا ہے. یہ سن کر جہاز میں سوار ملک بھر کے سب مقررین طلباء میں شدید پریشانی کی لہر دوڑ گئی کہ اب کیا ہوگا؟ ان دنوں امریکہ کا نام اور بھی دہشتناک معلوم ہوتا تھا. کوئی کہنے لگا کہ امریکہ کے پاس ایسی اسپیس ٹیکنالوجی ہے کہ جسے چاہے اس کے گھر میں مار سکتا ہے. کسی نے سرگوشی کی کہ امریکہ کا ایک فضائی بیڑہ پاکستان کی پوری فضائیہ سے بڑا ہے. کوئی پکارا کہ سب سے پہلے وہ ہمارے ایٹمی اثاثے تباہ کردیں گے. غرض جتنے منہ اتنی باتیں. سب کے دل میں یہی بات موجود تھی کہ جب ہمارا یہ جہاز رسالپور اکیڈمی پر اترے گا تو کیا عالم ہوگا؟ بلآخر جہاز لینڈ کر گیا. سب گھبرائے دلوں سے ہاسٹل پہنچے تو دیکھا کہ کیڈٹس میں جیسے بجلی بھری ہو. ہر کوئی خوش اور پرجوش نظر آرہا تھا. میرے ساتھ گئے ایک ساتھی مقرر نے تو یہاں تک دیکھا کہ کچھ کیڈٹس خوشی اور جوش سے اچھل اچھل کر یہ کہہ رہے تھے کہ اب ہم امریکہ کو بتائیں گے کہ ہم کیا ہیں؟ ہم حیران تھے کہ یہ کیسے لوگ ہیں جو دنیا کے سب سے طاقتور ملک کے حملے کا سن کر خوفزدہ نہیں بلکہ پرجوش ہیں. یہاں یہ دھیان رہے کہ میں صرف نوجوان کیڈٹس کی بات کررہا ہوں، افسران کا کیا ردعمل تھا میں نہیں جانتا. کیڈٹس میں تو غازی کہلانے یا شہید ہوجانے کا جذبہ خون بن کر دوڑ رہا تھا. بعد میں حملے کی یہ خبر جھوٹ ثابت ہوئی تو لگا کیڈٹس بجھ سے گئے ہوں. 
.
یہ واقعہ آپ کو بتانے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ جہاں یہ ایک حقیقت ہے کہ ہم آج بھی امریکہ کے پٹھو بن کر اپنی عزت نفس بیچ رہے ہیں، وہاں ایک سچ یہ بھی ہے کہ اسی فوج میں آج بھی وہ جذبہ اور قابلیت موجود ہے جسے اگر صحیح سمت و قیادت مل جائے تو دنیا پلٹ دے. اپنے تین بار کے اس رسالپور اکیڈمی کے دورے میں جس طرح کا نظم و ضبط، جوش اور قابلیت میں نے اپنی آنکھوں سے ان کیڈٹس میں دیکھی ہے. میں پوری سچائی سے کہتا ہوں کہ کہیں اور نہیں دیکھی. کوئی انگریزی فلم بھی اس سے بہتر ملٹری نظم شاید ہی دکھا پائے. بس اتنی دعا ہے کہ ہمیں ایسی قیادت مل جائے جو ہمیں خوددار قوم کے طور پر پیش کرسکے. آمین.
.
====عظیم نامہ====

کلین شیو لکھاریوں کی داڑھی


کلین شیو لکھاریوں کی داڑھی


فیس بک پر بھیجی تحریروں کے ذریعے جہاں کئی کلین شیو لکھاریوں کی داڑھی سامنے آئی ہے۔ وہاں کئی داڑھی والو نے اپنا کلین شیو ہونا بھی ثابت کیا ہے۔

مرد کیلئے خاتون کی فیس بک شناخت


مرد کیلئے خاتون کی فیس بک شناخت



جب دین میں مخالف جنس کی کسی بھی درجے میں مشابہت اختیار کرنا حرام ہے تو پھر کسی مرد کیلئے خاتون کی فیس بک شناخت بنالینا کیسے جائز ہوگیا؟ 
.
ایک وقت تھا جب جعلی آئی ڈی بنانا کسی شہوت پرست کا ہی کام سمجھا جاتا تھا مگر اب حال یہ ہے کہ بیشمار لمبی داڑھی والے صاحبان فیس بک پر "مما پاپا کی لاڈلی" بنے بیٹھے ہیں. طرہ یہ ہے کہ اس برقی جنسی تبدیلی کو مذہبی جواز دے کر طرح طرح کی تاویلیں بھی گھڑ لیتے ہیں. جیسے خواتین کی شناخت سے شائع کردہ دینی پوسٹوں کو لوگ زیادہ لائیک کرتے ہیں اور اس طرح دین کا پیغام زیادہ پھیلتا ہے. بہت معزرت کیساتھ مگر پھر ایک نیم برہنہ تصویر بھی لگا لیجیئے ، اس سے اور بھی لوگ آپ کی 'مذہبی' پوسٹیں لائیک کریں گے. ایک اور جواز یہ دیا جاتا ہے کہ ہم فلاں فلاں وجہ سے اپنی حقیقی شناخت نہیں بتاسکتے، اسلئے ایسی آئی ڈی بنانی پڑتی ہے. جناب اگر یہ بات ہے تو اپنا پروفائل نام 'طالب حق' یا 'طالب علم' یا اسی کے مساوی کوئی اور نام رکھ لیجیئے. اس کے لئے آپ کو شبانہ یا رقیہ بننے کی قطعی کوئی ضرورت نہیں.
.
عرض اتنی ہے کہ آپ بصد شوق اپنی تسکین کے لئے مخالف جنس کی آئی ڈی بنائیں اور جھوٹ کے داعی بن کر خوش ہوں مگر اسے دین، تبلیغ یا مصلحت کا نام لے کر جواز نہ دیں. آپ میں اور کسی 'بوبی ڈارلنگ' میں کوئی زیادہ فرق نہیں ہے، بس اتنا ہی کہ وہ سامنے ساڑھی پہن لیتے ہیں اور آپ انٹرنیٹ پر. پھر امکان تو یہ بھی ہے کہ برقی عورت بننے کے شوقین حقیقی زندگی میں بھی بناؤ سنگھار کرکے اور گھاگھرا چولی پہن کر آئینہ میں خود پر فدا بھی ہوتے ہوں؟
.
====عظیم نامہ====
.
نوٹ: ان روایتی گھسے پٹے جملوں سے گریز کریں، جن میں کہا جاتا ہے کہ 'لگتا ہے آپ کو کسی نے لڑکی بن کر دھوکہ دیا ہے'. میں خواتین سے کس اسلوب میں بات کرتا ہوں؟ اسکی گواہی آپ میرے پروفائل میں موجود کسی بھی خاتون سے لے لیجیئے. اس تحریر کو لکھنے کا مقصد فقط ایک غلط روش کی بیخ کنی ہے. ہم سب جانتے ہیں کہ اسطرح کی جعلی آئی ڈیز بنانا مذموم عمل ہے اور آج فیس بک پر بدقسمتی سے عام ہے

بردباری کی نقاب


بردباری کی نقاب




جب گھر کا کوئی لاڈلا بیٹا تعلیم، نوکری یا کسی مجبوری کی وجہ سے اپنا آبائی گھر چھوڑ کر پردیس میں جابستا ہے تو یہ ہجرت اس شخص کے اپنے لئے اور اس کے تمام گھر والو کیلئے سالہا سال ایک اذیت ناک امتحان بنی رہتی ہے. والدین کا یہ عالم ہوتا ہے کہ اگر انہیں معلوم ہوجائے کہ کوئی شخص اسی ملک سے آیا ہے جہاں ان کا لاڈلا مقیم ہے تو فوری اس سے وہاں درپیش مشکلات کے حوالے سے سوالات کرنے لگتے ہیں اور اگر کہیں کوئی ایسا شخص مل جائے جو ان کے بیٹے کو وہاں جانتا بھی ہو تو پھر ان کا بس نہیں چلتا کہ اس آنے والے کے چہرے میں ہی اپنی اولاد کو کھوج نکالیں. میرے ایک قریبی دوست کے والد خاصے سخت مزاج اور خاموش طبع انسان تھے. میرے اس دوست کی گفتگو اس حقیقت کی عکاس تھی کہ وہ اپنے والد سے شدید محبت کرتا ہے اور اسے احساس ہے کہ اس کے والد بھی اسے اتنا ہی چاہتے ہیں. مگر ان کے مزاج کی سختی و خاموشی محبت کے اظہار پر 'تکلف' کا نادیدہ پردہ تانے رکھتی تھی. جب یہ دوست انگلینڈ آیا تو ایک عرصہ اسے پاکستان واپس جانے کا موقع نہیں مل سکا. اس دوران مجھے ملک جانے کا موقع حاصل ہوگیا اور میں اس کے دیئے کچھ تحائف لیکر اس کے گھر جاپہنچا. میرے لئے چائے بسکٹ اور کئی دیگر نعمتیں میز پر سجا دی گئیں. چھوٹے بہن بھائی اور والدہ نے گھیرا ڈال لیا اور دلچسپی سے دوست کے حالات و واقعات سننے لگے. میں بھی خوب مزے سے سناتا رہا، اتنے میں ان کے والد بھی آگئے اور سنجیدگی سے سامنے کے صوفے پر براجمان ہوگئے. میں نے پوری سچائی سے محسوس کیا کہ جب میں ان کے بیٹے کا ذکر کرتا ہوں تو ان کی آنکھیں چمکنے لگتی ہیں مگر وہ زبردستی اپنے چہرے پر سنجیدگی سجائے ہوئے ہیں. میں نے اچانک گفتگو کو بیچ میں روک کر انتہائی بے تکلفی سے ان کو مخاطب کیا اور کہا انکل سب سے زیادہ یاد وہ آپ ہی کو کرتا ہے، ہر وقت آپ کی باتیں اور تعریفیں کرکر کے دماغ کھا جاتا ہے. ساتھ ہی ایک دو واقعات جو ان سے متعلق میں دوست کے ذریعے جان پایا تھا بتا دیئے. اب ایک عجیب پرلطف منظر سامنے تھا. والد کا چہرہ شفقت پدری سے دمکنے لگا تھا، آنکھوں میں شائد چھپی جھلملاہٹ تھی اور لبوں پر مسکراہٹ آنے کو بیقرار. مگر وہ ساتھ ہی اپنی پوری قوت خود سے جنگ میں صرف کررہے تھے کہ یہ جذبات بے لگام نہ ہونے پائیں. نتیجے میں ان کا چہرہ کبھی پھول سا کھلنے لگتا تو کبھی اس پر ایک مصنوعی سنجیدگی کی نقاب چڑھ جاتی. 
.
ہم انسانوں کا بالعموم اور مردوں کا بالخصوص معاملہ عجیب ہے. حالات و واقعات کے زیر اثر ہم اکثر وہ نظر آنے کی کوشش کرتے ہیں جو شائد ہم نہیں ہیں. ہمیں اپنے جذبات کے اظہار سے بھی خوف آنے لگتا ہے کہ کہیں ہماری اتنی مشقت سے چڑھائی بردباری کی نقاب نہ اتر جائے. یہ جھوٹ ہے کہ صرف منافق کے دو چہرے ہوتے ہیں بلکہ سچے کھرے انسانوں کی بھی اکثریت طرح طرح کے نقاب چہرے پر سجائے رکھتی ہے اور جسے اتار پھینکنا ایک وقت کے بعد ناممکن سا ہوجاتا ہے. میں ذاتی طور پر ایسے کئی دوستوں کو جانتا ہوں جو بے پناہ محبت کے باوجود اپنے والد کو سینے سے نہیں لگا سکتے. جو اپنے سگے بھائی کو بوسہ نہیں دے سکتے. جو اپنی والدہ کے قدموں کو نہیں تھام سکتے اور جو اپنی بیوی سے اظہار محبت نہیں کرسکتے. ہمیں اپنی ان شخصی کمزوریوں کا ادرک کرنا چاہیئے کہ تشخیص آدھا علاج ہے اور پھر نفس پر پاؤں رکھ کر ایسی نفسیاتی رکاوٹوں کو گرا دینے کی سعی کرنی چاہیئے. میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اپنے سگے محبت کرنے والو کو سینے سے لگالینے میں جو سکون ہے وہ کسی مراقبے یا مجاہدے سے ممکن نہیں.
.
====عظیم نامہ====

Sunday, 14 August 2016

جشن آزادی مبارک دوستو



جشن آزادی مبارک دوستو 
===============
.
چشم تصور سے چودہ اگست ١٩٤٧ کی اس سرد رات کو دیکھیئے ..
شمال مشرق کی جانب سے ایک نوجوان .. اپنے چہرے پر میلوں کی مساوت کی تھکاوٹ سجائے ہوئے.....
اور بکسوں کی صورت ہاتھوں میں بار گراں اٹھائے ہوئے..
لڑکھڑاتا ڈگمگاتا .. چلا آرہا ہے ..
.
یہ نوجوان اپنی عمر بھر کی پونجی..
دوست، احباب، عزیز، رشتہ دار ..
سب گنوا چکا ہے ..
.
مگر چہرہ پر عجب سی طمانیت ہے .. لبوں پر مسکراہٹ رقصاں ہے .. اور آنکھیں ہیں کہ شکرانہ خدا سے بھیگی جاتی ہیں.. سرزمین خداداد پر پہنچتے ہی نیچے گرتا ہے .. اور سجدہ ریز ہوجاتا ہے ..
.
وقت تھم جاتا ہے .. چاروں اطراف خاموشی چھا جاتی ہے .. مگر چشم فلک کو کوئی اچمبا محسوس نہیں ہوتا ..
کیونکہ اس نے ان دنوں ایسے ہزاروں نہیں، لاکھوں نہیں، کروڑوں جیالوں کو ، بچوں کو، بوڑھوں کو، عورتوں کو .. اس سے زیادہ ابتر حالت میں اسی سرزمین پر سجدہ ریز ہوتے دیکھا تھا ..
.
ان تمام کے پاس نہ کھانے کو روٹی تھی، نہ پہننے کو کپڑا، نہ رہنے کو کوئی چھت ..
مگر دل میں اطمینان تھا .. ایک سکون تھا کہ ہاں ! یہی ملک ہمارا سب کچھ ہے اور یہی وطن ہمیں ہمارا سب کچھ دے گا ..
.
آج تشکیل پاکستان کے پورے ستر سال بعد ..
جب ہم دنیا کی ساتویں اور اسلامی دنیا کی پہلی ایٹمی قوت بن چکے ہیں ..
جب ہمارے دفاع و عسکری قوت کو ناقابل تسخیر تصور کیا جاتا ہے ..
جب ہماری دھرتی کو معدنیات سے مالامال سمجھا جاتا ہے ..
جب ہمارے پاس بہترین و ذہین اذہان میسر ہیں ..
جب ہماری معیشت کی بحالی کی سینکڑوں صورتیں موجود ہیں .. 
.
تب .. دوستو .. تب
.
بیس کروڑ عوام کی زبان پر ایک ہی گردان جاری ہے ..
"میاں، اس ملک میں کچھ نہیں رکھا ، یہ وطن ہمیں کچھ نہیں دینے کا"
.
چودہ اگست کی اس رات کو ہمارے پاس کچھ نہیں تھا .. مگر سب کچھ تھا ..
اور آج کہنے کو ہمارے پاس بہت کچھ ہے .. لیکن سچ پوچھو تو کچھ بھی نہیں ہے ..
.
ہم نے اللہ رب العزت کی اس عظیم نعمت کی قدر نہ کی جو ہمیں آزادی کی صورت میں رضا الہی سے حاصل ہوئی .. ہم نے ان قربانیوں کو مدفون کر دیا جو آج بھی کہیں اسی سرزمین کی گود میں دفن ہیں .. 
.
ہمارے سامنے آج پھر ایک اور جشن آزادی ہے جو خود غرضی اور استبداد سے کانپ رہا ہے ..
.
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ایک بار پھر اسی جذبہ حب الوطنی کی تجدید کریں جس کی اثاث دین پر ہے.  
.
سوچنے کی بات یہ ہے کہ اللہ پاک مجھے بطور نعمت اولاد سے نوازتے ہیں. میں اس اولاد کی ٹھیک پرورش نہیں کرتا اور نتیجہ میں وہ بگڑ کر غنڈہ یا بدمعاش بن جاتی ہے. اب کیا یہ کہنا ٹھیک ہوگا کہ اولاد نعمت تھی ہی نہیں ؟ یا بات یوں ہوگی کہ الله نے تو نعمت سے نوازا تھا مگر میں نے کفران نعمت کیا جس کا نتیجہ تخریب میں نکلا. پاکستان اللہ کی ایک عظیم ترین نعمت ہے مگر ہم نے کفران نعمت کیا ہے، جس کا نتیجہ بھگت رہے ہیں. ہمیں حالات کی اصلاح میں کردار ادا کرنا ہے ، ملک کے قیام کو غلطی کہنا دراصل اپنی نااہلی پر پردہ ڈالنا ہے
.
یہ انسان یا قوم کی اپنی شامت اعمال ہوتی ہے جو ایک نعمت کو تخریب میں بدل دیتی ہے. ایسے میں یا تو اس قوم کو مٹا دیا جاتا ہے یا انہیں بہتر لوگوں سے بدل دیا جاتا ہے. یہ دنیا امتحان کی جگہ ہے ، یہاں کوئی لاڈلا نہیں ہے بلکہ ہر ایک کو عمل سے اپنا میرٹ ثابت کرنا ہے. ہمیں آگے بڑھ کر اصلاح کرنی ہے اپنی بھی اور اس ماحول کی بھی. بقول مودودی صاحب کے ، ہم سب دیہاڑی کے مزدور ہیں جنہیں اپنا کام پورا کرنا ہے .. نتیجہ اللہ کے ہاتھ میں ہے.
.
سمجھنے کی بات یہ ہے کہ بعض اوقات مسائل کی اپنی سنگینی سے زیادہ ان مسائل کو مستقل اچھالتے رہنا مسلہ بن جاتا ہے. میں یہ نہیں کہہ رہا کہ مسائل کو زیر بحث نہ لائیں. ضرور لائیں مگر اس میں توازن پیدا کریں. جہاں زید حامد کی طرح خوش فہمی کا چیمپئن بننا حماقت ہے وہاں حسن نثار کی طرح مایوسی کا پیغمبر بن جانا بھی دانش کی دلیل نہیں. تنقید ضرور کریں مگر تعریف کے پہلوؤں پر بھی اپنی نظر کرم کیجیئے. مثبت انداز میں تنقید کیجیئے کہ جسے پڑھ کر قاری مایوسی کی دلدل میں نہ جاگرے بلکہ اس میں اپنے سدھار کا جذبہ پیدا ہو. یقین جانیں کہ اسی معاشرے اور اسی ملک میں بہت کچھ ایسا ہو رہا ہے جو مثبت ہے، جسکی تعریف نہ کرکے اور جسے موضوع نہ بناکر ہم ظلم کرتے ہیں. لیکن ہمارے قلم توصیف کرتے ہوئے ٹوٹنے لگتے ہیں، ہماری زبان اس کی تعریف سے دانستہ اجتناب کرتی ہے. اللہ رب العزت نے بھی اپنے بندوں کو جنت اور جہنم دونوں بیان کئے ہیں مگر لگتا ہے ہم صرف جہنم دیکھنا اور دیکھانا چاہتے ہیں. ہماری فوج جب دنیا بھر کی فوجوں میں گولڈ مڈل لیتی ہے تو ہم تعریف کی بجائے ٧١ کی شکست بیان کرنے لگتے ہیں، جب دنیا بھر میں ہماری انٹلیجنس ایجنسی آئی ایس آئی کو اول درجہ دیا جاتا ہے تو توصیف کی بجائے ہمیں ان کی دوسری ناکامیاں نظر آنے لگتی ہیں، ہم دنیا کی ساتویں اور اسلامی ممالک میں پہلی ایٹمی قوت بنتے ہیں تو فخر کی بجائے عبدالقدیر خان کو چوری کا طعنہ دینا شروع ہوجاتے ہیں، ہم میزائل، ٹینک، جہاز، آبدوز سب بنانے لگے ہیں تو خوشی کی بجائے ہمیں جرنیلوں کی کرپشن دکھائی دیتی ہے، ہمارے طالبعلم اپنی ایجادات پر دنیا بھر میں انعامات حاصل کرتے ہیں مگر ہماری گفتگو اور خبروں میں اپنی جگہ نہیں بنا پاتے، ہمارے کھلاڑی کرکٹ، ہاکی، اسکواش، کبڈی، اسنوکر، باکسنگ، باڈی بلڈنگ سمیت بیشمار کھیلوں میں دنیا بھر میں چیمپین بنتے ہیں مگر ہمارا سارا زور ان کی خامیاں ڈھونڈھنے میں ہی لگ جاتا ہے. ہمارا ملک بہترین ادیب اورشاعروں سے مالامال ہے مگر ہم انہیں سننے کو تیار نہیں ہوتے، ہماری اسی سرزمین پر جید علماء اور محققین زندہ ہیں مگر ہم کچھ رنگ برنگے نیم مولویوں کی خرافات کو اپنی گفتگو کا مرکز بنالیتے ہیں، ہمارا شمار صدقہ و خیرات کرنے والے صف اول کے ممالک میں ہوتا ہے مگر ہم ان لٹیروں کا ذکر کرتے ہیں جو مذہب کی آڑ میں گھناؤنا دھندہ کرتے ہیں. غرض ہمیں مایوسی پھیلانے کی لت سی لگ گئی ہے. ہم یہ ماننے کو تیار ہی نہیں ہیں کہ ہم میں کچھ خوبیاں بھی ہوسکتی ہیں. 
.
شکوہ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصہ کی کوئی شمع جلاتے جاتے
.
میں پچھلے تیرہ برس سے برطانیہ میں مقیم ہوں جو بجا طور پر ترقی اور انصاف کے حوالے سے پوری دنیا میں مثالی ملک مانا جاتا ہے. میں آپ کو سچائی سے بتاتا ہوں کہ ان کی تمام تر خوبیوں کے باوجود ان میں بیشمار سنجیدہ اور بہت بڑے بڑے مسائل موجود ہیں. یہ اس پر بات کرتے ہیں، تنقید بھی کرتے ہیں مگر ہماری طرح واویلا نہیں کرتے رہتے. اس کے برعکس وہ چھوٹی سے چھوٹی مثبت بات کو بھی کئی گنا بڑھا چڑھا کر پیش کیا کرتے ہیں. وگرنہ ان کے سیاستدان بھی ڈیوڈ کیمرون  سمیت اربوں کی کرپشن میں ملوث ہیں، ان کے پادری بھی بچوں سے زیادتی کرتے ہوئے پکڑے جاتے ہیں، ان کے ہاں بھی روزانہ عورتوں کو ریپ کیا جاتا ہے، ان کے اسکولوں میں مہلک نشہ آور ڈرگز باآسانی ملتی ہیں، ان کے جرنلسٹ بھی اکثر پیسہ کھا کر تعریف و تنقید کرتے ہیں، ان کے فوجی بھی طرح طرح کی گندگیاں اور قانون شکنیاں کرتے ہیں، ان کے فٹبال مداحوں پر دیگر ممالک میں 'ہولی گین' یعنی فسادی قرار دے کر پابندی لگا دی جاتی ہے، ان کے ہاں بھی بہت سے کالج یونیورسٹیز جعلی ڈگریاں بنادیتی ہیں، ان کے ہاں بھی دنیا بھر سے 'ہیومن ٹریفکنگ' کے ذریعے جنسی دھندھے کروائے جاتے ہیں...... کہنے کا مقصد یہ ہے کہ شدت میں کمی ہوسکتی ہے مگر ہر طرح کے خطرناک جرائم اور مسائل یہاں بھی موجود ہیں. یہ ان پر بات ضرور کرتے ہیں مگر اس کا تناسب مثبت باتوں کے ذکر کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے. یہ جانتے ہیں کہ منفی باتوں کا پرچار مزید منفیت کو ہی جنم دے سکتا ہے. مگر چلیں یہ تو پھر دنیا کے سب سے زیادہ ترقی یافتہ ممالک میں سے ہے. آپ پڑوسی ملک بھارت کو دیکھ لیں. کون سا جرم اور مسلہ  ان کے یہاں آپ جیسا یا آپ سے زیادہ نہیں ہے؟ کرپشن ان کے اندر ہے، رشوت ان کے ہاں ہے، دنیا بھر میں سب سے زیادہ عورتوں کو جنسی تشدد کا نشانہ اسی ملک میں بنایا جاتا ہے مگر یہ اس کے باوجود پاکستان کے مقابلے میں مثبت باتوں کا ذکر کہیں زیادہ کرتے ہیں. اپنی پولیس کی حوصلہ افزائی کے لئے ڈرامے، فلمیں بناتے ہیں. ہندو مسلم فسادات کی بدترین مثالیں رکھنے کے باوجود، سکھوں کے بد ترین قتل عام کے باوجود یہ خود کو دنیا بھر میں برداشت کا نمونہ بنا کرپیش کرنے میں کامیاب ہیں. ایسا نہیں ہے کہ ان کے مسائل ہم سے چھوٹے ہیں یا ان کے ادارے، فوج، پولیس یا سیاستدان کرپشن میں ملوث نہیں. مگر وہ جہاں ان پر کڑی تنقید کرتے ہیں وہاں زور و شور سے ان کے مثبت پہلو بھی اجاگر کرتے ہیں. ہمیں اسی تنقید و تعریف کے توازن کو سمجھنا ہوگا. مسائل کا رونا اور اخلاص کا ڈھونگ کرنے کی بجائے مجھے اور آپ کو آگے بڑھ کر اپنا اپنا مثبت کردار نبھانا ہے. یاد رکھیں 
.
موج بڑھے یا آندھی آئے، دیا جلائے رکھنا ہے 
گھر کی خاطر سو دکھ جھیلیں، گھر تو آخر اپنا ہے
.
افسوس ہے ان اذہان پر جو قیام پاکستان کو ایک غلطی سمجھتے ہیں. افسوس ہے ان افراد پر جو پاکستانی ہو کر پاکستان کو کوستے رہتے ہیں. افسوس ہے ان کھوکھلے اشخاص پر جو اپنے گھر، کاروبار، پیسے، گاڑی تک سے تو ٹوٹ کر پیار کرتے ہیں مگر اگر کوئی وطن سے محبت کی بات کرے تو انکے پیٹ میں مذہبی مروڑ اٹھنے لگتا ہے. وطن پرستی غلط ہے مگر اپنے آبائی وطن سے محبت انسان کا فطری تقاضہ ہے. رسول پاک ( ص) بھی مکّہ سے ہجرت کے وقت بھیگی آنکھوں سے اپنے وطن سے محبت کا اظہار کرتے ہیں. ہم میں سے ہر ایک وطن عزیز پاکستان کی بگڑتی صورت سے واقف ہے. اس وقت اس ملک پر تنقید کرنا اور اسکے قیام پر انگلی اٹھانا نہایت آسان ہے. آپ مجھے جذباتی احمق کہئے یا کم اندیش .. مگر یاد رکھیے انشاللہ یہی وہ ملک ہوگا جو اسلام کی قیادت بنے گا.
.
مانا کے میرے دیس میں فساد ہی فساد ہیں
مانا کے دشمن وطن ہی آج کم سواد ہیں
مگر کتاب جہل میں خرد کا باب آئے گا
ایک انقلاب آ چکا ایک انقلاب آئے گا
.
خدا کرے میری ارض پاک پر اترے .. وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو
.
====عظیم نامہ====

Friday, 12 August 2016

ایمپریس مارکیٹ کا پٹھان

ایمپریس مارکیٹ کا پٹھان

کراچی کے ایک معروف علاقے کا نام 'ایمپریس مارکیٹ صدر' ہے. یہاں سارا وقت لوگوں کا ایسا اژدہام ہوتا ہے کہ کندھے سے کندھا چھلتا ہے. انواع و اقسام کے کھانے، کپڑے، زیورات، نایاب پرندے، طرح طرح کے جانور، گھڑیاں، دوائیں، الیکٹرانک آئٹمز، کمپیوٹر پروگرامز، ملکی و غیرملکی موویز، تعلیمی کورسز، عامل، جادوگر .... غرض ایسا کیا ہے؟ جو آپ کو اس چھوٹے سے دھول اڑاتے علاقے میں میسر نہ ہو. اس سب کے ساتھ یہاں پر چور بازاری، دھوکے بازی اور ہر طرح کی دو نمبری اپنے عروج پر ہے. میں نے پاکستان کے نمائندہ شہر جیسے لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور وغیرہ کئی کئی بار گھومے ہیں. میں دنیا کے کئی ممالک گھوم چکا ہوں مگر میرا ذاتی احساس ہمیشہ یہی رہا ہے کہ جو دھوکہ ایمپریس مارکیٹ کی ان سڑکوں پر موجود ہے اس کا عشر عشیر بھی کہیں اور نہیں ہے. یہاں کہیں آوارہ کتے کو السیشن نسل بنا کر بیچا جارہا ہے، کہیں پہنے ہوئے کپڑوں کو مہنگا برانڈ بنا کر فروخت کیا جارہا ہے، کہیں لمحوں میں رنگ گورا کرنا سکھایا جارہا ہے، کہیں جادو کے کریش کورس کروائے جارہے ہیں، کہیں پان کی پیک تھوکتا ہوا آدمی روانی سے انگریزی بولنے کی تعلیم دے رہا ہے، کہیں باٹا کے جوتے بوٹا کے نام سے مل رہے ہیں، کہیں لاعلاج بیماریوں کا گارنٹی سے علاج ہو رہا ہے، کہیں فحش فوٹو البم کھولے داستان گو نایاب جڑی بوٹی فروخت کر رہے ہیں، کہیں ناگ راج کا منکا رکھا ہوا ہے، کہیں قرعہ اندازی سے انعام نکل رہے ہیں اور کہیں رولیکس گھڑیاں بولی لگا کر خریدی جارہی ہیں. گویا ہر ہر کونے میں ایک نئی دنیا برپا ہے جو آپ کی توجہ کا سامان پیدا کر رہی ہے اور ہر دوسرا لمحہ کوئی انسان لٹ رہا ہے یعنی ایک نیا بکرا ذبح ہورہا ہے. یہاں سڑکوں اور ٹھیلوں پر کاروبار سجائے مختلف شہروں کے ٹھگ موجود ہیں جو لوٹنے میں طاق ہیں. میں اور میرا ایک قریبی ترین دوست کالج کی چھٹیوں میں اکثر ایمپریس مارکیٹ جایا کرتے. مقصد خریداری نہیں تھا بلکہ دونوں ہی کو یہاں ہوتے دھوکوں کے مشاہدے کا شوق تھا. ہم کبھی لوگوں کی بیوقوفیوں پر افسوس کرتے، کبھی کسی ٹھگ کی چال پر قہقہہ لگاتے اور کبھی اپنے عقلمند ہونے پر مل کر فخریہ مسکراتے. ہم نہیں جانتے تھے کہ یہ مسکراہٹ اور فخر جلد مٹی ہونے والے ہیں. 
.
وہ ایسی ہی ایک دوپہر تھی جب ہم دونوں ان واقعات سے لطف اندوز ہوتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے. اچانک ایک آواز آئی "لڑکے یہ تمھارے چہرے پر دانے کیسے ہیں؟" . یہ نوجوانی کے دن تھے اور میرے چہرے پر بڑھتی عمر کے دانے موجود تھے. یہ آواز سن کر ہم دونوں دوست چونک کر مڑے تو ایک خان صاحب سنجیدہ چہرے کے ساتھ موجود تھے. دونوں دوستوں نے ایک دوسرے کی جانب دیکھا جیسے استہزایہ کہہ رہے ہوں کہ لو جی اب یہ بیوقوف ہمیں دھوکہ دے گا. مستی سوجھی کہ ذرا سنیں تو کہ یہ کہتا کیا ہے؟ میں نے کہا خان معلوم نہیں کچھ مہینوں سے جان ہی نہیں چھوڑ رہے. اس نے اعتماد سے کہا کہ اگر چاہو تو میں تمھیں ایک ایسا نسخہ بتا سکتا ہوں جو تم کسی بھی دکان سے لے سکتے ہو اور جس کے کھانے سے یہ دانے دس دن میں شرطیہ ختم ہو جائیں گے. ساتھ ہی اس نے ہمدرد کمپنی کا ایک معجون کا نام بتادیا جو سو روپے میں ہر جگہ دستیاب تھا. پھر مخاطب ہوا کہ مجھے تم سے کوئی پیسہ نہیں چاہیئے لیکن جب دانے صحیح ہو جائیں تو وعدہ کرو میرے لئے آدھا کلو مکئی خرید کے لاؤ گے. اتنا کہہ کر وہ ہمیں ہکابکا چھوڑ کر سامنے کی بھیڑ میں چلا گیا. صاف معلوم ہورہا تھا کہ اسے مجھ سے کوئی لالچ نہیں ہے. پھر ہمدرد کمپنی تو حکیم محمد سعید کی معروف کمپنی ہے، اسلئے اس سو روپے کے معجون سے بھی وہ کچھ کما نہیں سکتا. میں نے دوست سے مشورہ کیا کہ یار کیا معلوم یہ صحیح ہی کہہ رہا ہو؟ دوست تذبذب میں تھا مگر متفق بھی تھا. اب میں اس کے پیچھے پیچھے بھیڑ میں گیا، کچھ دیر بعد وہ ہمیں نظر آیا تو اس کی جانب لپکے. میں نے اس سے کہا کہ مجھے نام لکھوا دو تو اس نے جھٹ دوبارہ نام بتادیا. میں نے پھر پوچھا کہ یہ کہیں سے بھی لے لوں؟ کہنے لگا کہ ہاں جہاں بھی ہمدرد کے سب معجون ملتے ہوں وہاں سے لے لو اور اگر چاہتے ہو تو سامنے موجود اپنی مرضی کے میڈیکل اسٹور سے میں تمھارے ساتھ چل کر لے دیتا ہوں. ایک بہت بڑے اسٹور میں اس کے ساتھ گیا اور لائن میں لگ کر اس سے معجون طلب کیا. اس نے وہ معجون سو روپے میں لاکر دے دیا. میں نے ممنون لہجے میں خان صاحب کو شکریہ کہا تو انہوں نے یاد دلایا کہ ٹھیک ہونے پر مجھے آدھا کلو مکئی لاکر دینی ہے. پھر کہنے لگے بس اب اس معجون میں فلاں فلاں جڑی بوٹی کا سفوف دو دو چٹکی ڈال لینا پھر کمال دیکھو. میں نے سٹپٹا کر کہا کہ کیسا سفوف؟ اس کا تو تم نے کوئی ذکر نہ کیا تھا. اس نے معزرت کرتے ہوئے کہا کہ شاید بھول گیا تھا لیکن فکر نہ کرو کسی بھی بڑے حکیم خانے سے مل جائے گا. میں ناراض ہوا کہ اب کہاں ڈھونڈھوں گا؟ تو اس نے کہا پیچھے حکیم بیٹھتے ہیں، میں تمھیں دیکھا دیتا ہوں، وہاں سے لے لو. یہ کہہ کر وہ معجون تھامے آگے تیز تیز چلنے لگا. ہم دونوں بھی لامحالہ اس کے پیچھے پیچھے گئے. وہ پیچیدہ گلیوں سے نکل کر کچھ ہی دیر میں ہمیں ایک ایسے خالص پٹھان علاقے میں لے آیا جہاں سامنے ایک حکیم نما انسان تھلے پر بیٹھا ہوا تھا. اس سے پہلے کہ میں کچھ کہہ پاتا. خان نے اسے پشتو میں کچھ کہا اور وہ تیزی سے ہر مرتبان کھول کر دو دو چٹکی سفوف معجون میں ڈالتا گیا. اب یہ میری جانب متوجہ ہوئے اور کہا پچاس روپے چٹکی کے حساب سے اب آٹھ سو روپے دے دو. میں نے بھنا کر انکار کیا تو چاروں طرف سے اس کے ساتھی ہماری جانب جارحانہ انداز میں آنے لگے. ظاہر ہے ہم دونوں دوست جان چکے تھے کہ آج ہاتھ ہوگیا ہے اور پیسہ نہ دیا تو جان جانے کا بھی اندیشہ ہے. بھاؤ تاؤ کر کے پانچ سو روپے دیئے اور جان بچا کر اس انجان علاقے سے باہر آگئے. 
.
اپنے حال پر غصہ بھی آرہا تھا اور ہنسی بھی. خود کو تیز و طرار سمجھنے کا بھرم چکنا چور ہوچکا تھا. یہ سمجھ آگیا تھا کہ پیشہ ور نوسربازوں سے الجھنا کتنی بڑی حماقت ہے. آج بھی جب پٹھانوں پر بنے لطائف پڑھتا ہوں تو ایک لمحے کو وہ آدھا کلو مکئی کا طلبگار پٹھان یاد آجاتا ہے. جس نے مجھے بھرپور طریق سے بیوقوف بنایا تھا. 
.
====عظیم نامہ==== 

Friday, 5 August 2016

کراچی سے جب پہلی بار لندن پہنچا تو اپنی مدد آپ کے تحت پہلے ہی روز مرکزی شہر کا نظام سمجھنے کیلئے سفر پر نکل پڑا. یہ شہر واقعی بہت خوبصورت تھا اور میرے لئے دلچسپی و حیرت کا بہت سا سامان رکھتا تھا. میں کبھی صاف ستھری چمکتی سڑکوں کو خوشی سے دیکھتا تو کبھی جدید اندرون زمین ٹرینوں کو دیکھ کر حیران ہوتا. کبھی میری نظر پرانے طرز پر بنی نہایت حسین عمارتوں پر مرکوز ہوتی تو کبھی ہر دوسرے کونے پر موجود کرتب دکھاتے فنکاروں کو دیکھتا رہتا. کبھی دنیا بھر کی اقوام کے چہرے ساتھ دیکھ کر عجیب سا لگتا تو کبھی بناء شرم کھلے عام بوس و کنار ہوتا دیکھ کر حیرت ہوتی. سارا دن یونہی شہر گھومتا رہا اور شہر کا نظام و مزاج سمجھتا رہا. ڈھلتی شام گھر واپسی کی تو ایک سرسبز میدان سے گزرنا پڑا. وہاں دیکھا کہ اونچے اونچے قد کے بہت سے سیاہ فام لڑکے باسکٹ بال کورٹ میں کھیل رہے ہیں. کچھ انگریز لڑکیاں ان کی ہمت بڑھا رہی ہیں. یہ منظر مجھے بلکل کسی ہالی وڈ موووی کا عکس محسوس ہوا. میرے قدم رک گئے اور میں بھی دلچسپی سے ان کا یہ کھیل ٹکٹکی باندھے دیکھنے لگا. ان میں سے کچھ نے آپس میں سرگوشی کی اور اس سے پہلے کہ میں کچھ سمجھ پاتا، سب نے مجھے چاروں اطراف سے گھیر لیا. صاف ظاہر تھا کہ ان کے ارادے نیک نہیں ہیں. ان ہی لڑکوں میں سے ایک عجیب سی ٹیڑھی چال چلتا ہوا لڑکا جو شائد ان کا سرغنہ تھا ، میرے بلکل سامنے آکر کھڑا ہوگیا اور غصہ سے مخاطب ہوا
.
'او مظبوط لڑکے مجھ سے لڑو'
.
میرا حلیہ اسوقت ٹھیک ویسا ہی مزاحیہ تھا جیسا اکثر نئے آنے والو کا یہاں ہوا کرتا ہے. کونے سے مانگ نکال کر بال بنے ہوئے، ہاتھ میں بیگ اور جسم پر صدر بازار سے خریدی ہوئی ایک لمبی سی چمڑے کی کالی جیکٹ پہنی ہوئی. میں نے ہکلاتے ہوئے اس لڑکے کو جواب دیا کہ میں تم سے لڑنا نہیں چاہتا. یہ سن کر اس نے نفی میں سر ہلایا اور پھر دہرایا 'لڑکے مجھ سے لڑو'. مجھے رضا مند نہ پاکر اس نے اچانک ایک گھونسہ چہرے پر دے مارا. میں چکرا کر کئی قدم پیچھے چلا گیا. اب اس نے بلکل باکسنگ کا سا انداز بنا کر مجھے پھر للکارا 'لڑکے مجھ سے لڑو'. میں نے اسے سمجھانا چاہا کہ دیکھو میرا تم لوگو سے کوئی جھگڑا نہیں مجھے جانے دو. مگر نہیں بھئی، حضرت نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور پہلے سے زیادہ شدید مکا دے مارا ، میں اب ایک گھٹنے پر زمین پر بیٹھا تھا. اس نے تیسری بار للکارا تو وہ سارے وعدے جو والدین سے کر کے آیا تھا کہ کسی سے بھی بلخصوص کالوں سے لڑائی نہ کروں گا جو جھگڑوں کیلئے دنیا بھر میں بدنام ہیں. وہ سب ایک لمحے کیلئے ذہن سے محو ہوگیا اور میں نے بھناتے ہوئے پوری قوت سے مقابل کے پیٹ میں گھونسا رسید کردیا. آپ سوچ سکتے ہیں کہ دو گھونسے کھانے کے بعد جب ہم نے یعنی چھ فٹ ایک انچ کے انسان نے جوابی گھونسا مارا ہوگا تو وہ کیسا شدید ہوگا؟ جلدی سے کھڑا ہوا کہ اب بتاتا ہوں اس 'بگ بوائے' کو کہ کراچی کی لڑائی کہتے کسے ہیں؟ مگر یہ کیا جناب؟ یہ صاحب تو کچھ زیادہ ہی نازک مزاج نکلے، پیٹ پکڑے زمین پر آٹھ کا ہندسہ بنے پڑے تھے. اس کے ساتھیوں نے جب یہ دیکھا تو سب ایک ساتھ مجھ پر کود پڑے. اب ظاہر ہے ہم رجنی کانت تو تھے نہیں جو دس گیارہ لوگوں کو اکیلے بھگت لیتے. خوب پٹائی ہوئی، ہم نے بھی دوبارہ ہاتھ نہیں اٹھایا اور خاموشی سے ان کا پنچنگ بیگ بنے رہے. جب مار مار کر تھک گئے تو میرا بٹوہ نکالا اور اس میں موجود رقم جیب میں رکھ لی. اب اتنی جسمانی تکلیف میں بھی ہمیں یہ تکلیف زیادہ ہونے لگو کہ یار عظیم پہلے ہی روز پیسے چھین لئے. ایک ایک پاونڈ سو سو روپے بن کر ذہن میں نظر آیا. 

Wednesday, 3 August 2016

اللہ کو دیکھنا


اللہ کو دیکھنا



دمکتا چہرہ، لبوں پر چسپاں ہلکی مسکراہٹ، سوچتی ہوئی آنکھیں، سیاہ چھوٹی داڑھی اور گہرا سکون. یہ اس نوجوان کا مختصر سراپا تھا. جب بھی اسے دیکھتا تو دل میں گفتگو کی شدید خواہش پیدا ہوتی مگر وہ دوسرے ڈیپارٹمنٹ میں کام کرتا تھا، اس لئے چاہ کر بھی بات رسمی سلام علیک سے آگے نہ بڑھتی. مگر پھر ایک روز نماز جمعہ کیلئے مسجد کی جانب ساتھ نکلے تو باقاعدہ بات چیت کا آغاز ہوگیا. معلوم ہوا کہ یہ نوجوان انگلینڈ میں ہی پیدا ہوا ہے اور یہیں پلابڑھا ہے. اردو بمشکل سمجھ پاتا ہے. گھر میں کوئی خاص اسلامی ماحول نہیں ملا مگر پھر بھی اسے اسلام سے بے پناہ لگاؤ ہوگیا ہے. کالج کے سارے دوست انجینئر، ڈاکٹر، سائنٹسٹ، بزنس میں بننا چاہتے ہیں مگر یہ پڑھائی میں بہترین ہونے کے باوجود مسجد کا امام بننا چاہتا ہے اور اسی غرض سے ایک اسلامی کورس بھی کر رہا ہے. اس کی اس خواہش سے گھر والے ناخوش ہیں اور چاہتے ہیں کہ وہ بھی دیگر بچوں کی طرح کوئی ایسا پیشہ اپنائے جس سے اس کی آمدن مظبوط ہوسکے. میں نے اسے کریدتے ہوئے کہا کہ تمہاری خواہش تو بہت نیک ہے مگر تم دین کی خدمت دوسرے پیشوں کو اختیار کرکے بھی کرسکتے ہو، کیوں ضروری ہے کہ تم امام ہی بنو؟ اس نے سمجھایا کہ عظیم بھائی انگلینڈ میں ایسے اماموں کی اشد ضرورت ہے جو یہاں کے ماحول ہی میں پلے بڑھے ہوں، انگریزی جانتے ہوں، قانون سے واقف ہوں، جدید تعلیم سے آراستہ ہوں اور نوجوان نسل کو درپیش چلینجز سے پوری طرح آگاہ ہوں. اس وقت یہ حال ہے کہ اکثر امام پاکستان، بنگلہ دیش یا عرب وغیرہ سے آتے ہیں. جدید فلسفوں سے آگاہی تو دور ان میں سے اکثر تو انگریزی بھی نہیں بول سکتے. نتیجہ یہ ہے کہ میرے ہم عمر اسلام سے دور ہورہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ ایک بھرپور عالم بننا چاہتا ہے جو نوجوانوں کے اشکال دور کرسکے. یہ باتیں اس نے ایسے اعتماد اور ٹہراؤ سے کہیں کہ میرا دل اس کی خوبصورت سوچ پر جھوم اٹھا. 
.
بے تکلفی بڑھی تو ایک اور موقع پر اس سے نماز کی کیفیت پر بات ہونے لگی. اس نے بتایا کہ عظیم بھائی پچھلے اعتکاف کے بعد سے اب میں جب بھی نماز پڑھتا ہوں تو الحمدللہ اکثر مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اللہ پاک کو دیکھ رہا ہوں. میں نے اس کی تصحیح کرتے ہوئے کہا "تمہارا مطلب ہے کہ اللہ پاک تمھیں دیکھ رہے ہیں؟" اس نے نفی میں سر ہلا کر تردید کی اور پھر دہرایا کہ جیسے میں اللہ پاک کو دیکھ رہا ہوں. میرے ذہن میں درجہ احسان والی حدیث گونجی مگر ساتھ ہی اس کی الگ تفسیر بھی یاد آئی. میں نے پریشانی سے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے احتجاج کیا کہ یہ کیسے ممکن ہے؟ اللہ پاک کی تو کوئی مثال نہیں، انہیں اس مادی آنکھ سے دیکھا جا ہی نہیں سکتا اور جو بھی تصور کرو گے وہ محض ایک خیال ہی ہوگا حقیقت نہیں. اس نے سادگی اور کامل اعتماد سے کہا کہ یہ سب تو مجھے نہیں معلوم مگر یہ میری کیفیت ہے کہ میں اللہ کو نماز کے دوران دیکھتا ہوں. میں اس کیفیت کو بیان کرنے سے قاصر ہوں اور نہ ہی میں نظر اٹھا کر اللہ پاک کو پوری طرح آنکھ بھر کر دیکھ پاتا ہوں. بس ایک نور ہے، ایک جلال ہے جو میرے سامنے ہوتا ہے مگر میں ادب و خوف سے نظر اپر نہیں کرپاتا، بس روتا جاتا ہوں. یہ بات بیان کرتے ہوئے مجھے اس کا چہرہ مسرت و کرب سے ٹوٹتا محسوس ہوا. میں اپنے اس نوجوان دوست کے لہجے میں چھپی صداقت کو چاہ کر بھی جھٹلا نہیں سکتا تھا. کیسے کیسے پاکیزہ نفوس ہمارے اردگرد موجود ہوتے ہیں مگر ہم اپنی کوتاہ نظری کی وجہ سے انہیں دیکھنے اور سیکھنے سے محروم رہتے ہیں. 
.
====عظیم نامہ====

Tuesday, 2 August 2016

عمرہ


عمرہ


چند سال قبل جب ایک ماہ کیلئے پاکستان جانے کا ارادہ کیا تو بیک وقت دو خواہشیں دل میں پیدا ہوئیں. پہلی یہ کہ عمرہ ادا کرتے ہوئے پاکستان جاؤں اور دوسری یہ کہ گیارہ برس بعد بقرعید وطن میں مناسکوں. اب ظاہر ہے کہ ان دونوں خواہشات کا ساتھ پورا ہونا ناممکن ہے کیونکہ بقرعید کے وقت تو حج ہورہا ہوتا ہے لہٰذا اس سے پہلے عمرہ کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا. کافی مخمصے میں پھنسا رہا پھر دل پر پتھر رکھ کر فیصلہ کیا کہ عمرہ کروں گا بقرعید پھر کبھی سہی. یہ سوچ کر چھٹی کی درخوست دے دی. یہ درخوست مینجر نے مسترد کردی اور ساتھ ہی کہا کہ فلاں مہینے پاکستان جانا چاہو تو چلے جاؤ. پہلے تو میں ذرا تلملایا مگر اب جو غور کیا تو اس کا بتایا ہوا مہینہ وہی تھا جس میں بقر عید آرہی تھی. میں نے اسے غیب کا اشارہ سمجھا اور فوری حامی بھر لی. مقررہ دنوں میں پاکستان گیا اور اپنے خاندان کے ساتھ مل کر بقرعید کا بھرپور لطف لیا الحمدللہ. جب واپس انگلینڈ آیا تو دل میں خوشی کیساتھ ساتھ ایک خلش سی محسوس ہوتی رہی کہ یا رب میرا عمرہ نہیں ہوسکا اور اب تو نہ جیب میں مال ہے نہ ہی اسباب کہ اس سعادت کو حاصل کرسکوں. ابھی واپس آئے کچھ ہی دن گزرے تھے کہ ایک روز گھر کی گھنٹی بجی. دروازہ کھولا تو ڈاکیہ میرے نام کی رجسٹرڈ پوسٹ لئے موجود تھا. 
.

حیرت سے لفافہ کھولا تو اس میں ایک آفیشیل لیٹر موجود تھا. میں نے اسے جو پڑھا تو خوشی و حیرت سے حالت عجیب ہوگئی. لکھا تھا کہ آپ جس کمپنی کے ذریعے پاکستان رقم بھیجتے ہیں انہوں نے اپنے صارفین کے مابین قرعہ اندازی کی ہے جس میں ملک بھر سے ایک نام کا انتخاب ہوا ہے جو آپ کا ہے. آپ کو انعام کے طور پر عمرہ کا فری ٹکٹ دیا جاتا ہے. میں اس لیٹر میں درج مضمون کو بار بار بے یقینی سے پڑھتا جاتا اور سوچتا شائد انگریزی سمجھنے میں مجھ سے غلطی ہورہی ہے. جب دوسروں کو پڑھوا کر سو فیصد اطمینان ہوگیا تو اس کمپنی فون کیا، جنہوں نے بھرپور انداز میں مبارکباد دی اور کہا کہ جلد آپ کو ٹکٹ بھیج دیا جائے گا. بے حساب خوشی ہونے کے باوجود اب مجھے ایک فکر یہ لاحق تھی کہ اب نوکری سے چھٹی کیسے ملے گی؟ سال بھر کی چھٹیاں تو میں پہلے ہی لے چکا. مگر میرے رب کی شان کہ کچھ ہی دنوں میں ایک دوسری نوکری جو ہر حوالے سے بہتر تھی مجھے آفر کی گئی اور جسے میں نے خوش دلی سے قبول کرلیا. پہلی نوکری چھوڑنے اور دوسری نوکری جوائن کرنے کے مابین کچھ دنوں کا خالی وقت باآسانی حاصل ہوگیا جس میں عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کا موقع مل گیا. آج سوچتا ہوں کہ اس کا کتنا فیصد امکان ہوسکتا تھا کہ ایک غیر اسلامی ملک میں، لاکھوں لوگوں کے مابین کئے جانے والی قرعہ اندازی میں میرا نام نکلے اور پھر انعام میں مجھے وہی حاصل ہو جس کی تمنا میرے دل میں تھی؟.

لبيك اللهم لبيك، لبيك لا شريك لك لبيك، إن الحمد والنعمة لك والملك، لا شريك لك.
.
====عظیم نامہ====

Monday, 1 August 2016

عیسائی مینجر سے مکالمہ


عیسائی مینجر سے مکالمہ 



پچھلی نوکری میں میرا مینجر ایک ایسا مخلص عیسائی تھا جو سنجیدگی سے نوکری چھوڑ کر اپنے علاقائی گرجا گھر کا سربراہ بننے کا متمنی تھا. جب اسے میرے مذہبی رجحان سے آگاہی ہوئی تو اکثر مجھ سے بہانے بہانے گفتگو کرتا تاکہ مجھ پر عیسائیت کی حقانیت کو ثابت کرسکے. اس کا دعویٰ تھا کہ معاذ اللہ عیسیٰ علیہ السلام خدا ہیں اور ساتھ ہی خدا کے بیٹے بھی ہیں. اتنا ہی نہیں بلکہ وہ مجھے پورے اعتماد سے بتاتا کہ خدا روز مجھ پر وحی کرتا ہے اور مجھ سے مخاطب ہوتا ہے. دھیان رہے کہ وہ روزمرہ کی زندگی میں بلاشبہ ایک زہین، فطین اور نفیس انسان تسلیم کیا جاتا تھا. میں نے اس سے اس کی اس وحی کی کیفیت پوچھی تو اس نے بتایا کہ وہ باقاعدہ ایک آواز سنتا ہے جو اس کے جسمانی کان میں نہیں بلکہ دماغ میں گونجتی ہے. یہ آواز اسے بتاتی ہے کہ اسے آج کیا کیا اچھے کام کرنے ہیں؟ اکثر اسے ایسی باتیں معلوم ہوتی ہیں جو اسے معلوم ہونا ناممکن تھیں. مثال کے طور پر یہ آواز اسے حکم دیتی کہ فلاں شخص کے پاس جاؤ اور اسے تسلی دو کہ اس کا باپ اس سے ناراض نہیں ہے. جب اس نے جا کر یہ پیغام مطلوبہ انسان تک پہنچایا تو وہ شخص روہانسا ہوگیا اور اس نے بتایا کہ ابھی چند روز پہلے ہی اس کے باپ کا انتقال ہوا ہے جسے وہ بہت یاد کرتا ہے. اسی طرح ایک بار اس نے مجھے میری بیوی کی دیرینہ بیماری کا نہایت پیچیدہ نام بتایا جو کے ان ہی دنوں میڈیکل رپورٹس میں مجھے معلوم ہوئی تھی اور اسے میرے سوا کوئی دوسرا آفس میں نہیں جانتا تھا. یہ بات بتا کر اسے ایسا لگا کہ شاید میں اس سے مرعوب ہوجاؤں گا اور شائد مجھے کسی حد تک مرعوب ہو بھی جانا چاہیئے تھا لیکن میں اپنے مرحوم شیخ کی بدولت یہ جانتا تھا کہ نفسی علوم کے ذریعے یا قرین (جن) کا استعمال کر کے کچھ ایسی باتیں جان لینا جو سامنے والے کے ذہن میں پہلے سے موجود ہو کوئی بڑی بات نہیں ہے. میں نے اس مینجر کو پورے سکون سے سمجھایا کہ اس طرح کی شعبدہ بازیاں یا کرامات تو ہر مذہب کا فرد کرلیتا ہے. اس سے حق کے حق ہونے کا تعین قطعی نہیں کیا جاسکتا. اس کا فیصلہ تو صرف وحی اور فطرت سلیمہ مل کر ہی کر سکتے ہیں. ساتھ ہی میں نے اسے کچھ ذاتی اور کچھ دیگر مسلمانوں کے سچے مافوق الفطرت واقعات سنائے جسے سن کر اس کے چہرے پر فکر کے سائے منڈلانے لگے. میرا یہ مینجر ایک نہایت پرسکون نظر آنے والا انسان تھا. جس کے سکون کا یہ عالم تھا کہ روز سب کو ای میل کرکے بتاتا کہ آج کا دن رب کی کتنی نعمتوں سے مزین نظر آرہا ہے. البتہ اس کے لئے یہ بات پریشان کن تھی کہ اسے میرا وجود بھی پوری طرح پرسکون نظر آتا. اسے یہ بات سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کوئی شخص عیسیٰ علیہ السلام کو خدا نہ مانے اور پھر بھی پرسکون رہے، یہ کیسے ممکن ہے ؟ دوسری طرف مجھے اعتراف ہے کہ چونکہ میں بھی سکون کو ایمان و عمل کا لازمی نتیجہ مانتا ہوں لہٰذا میں بھی تعجب میں تھا کہ یا اللہ ایک شخص بدترین شرک میں مبتلا ہوکر بھی اس درجہ پرسکون کیسے ہے؟ یہ دو طرفہ حیرت ایک زمانے جاری رہی.
.
جب بےتکلفی بڑھی تو میں نے کھل کر اس سے عقائد کے متعلق بات کرنے کا فیصلہ کرلیا. ایک روز ہم دونوں نے فیصلہ کیا کہ صوفے پر بیٹھ کر اسی بارے میں بات کریں گے. چانچہ وہ دن آگیا. میں نے اس سے کہا کہ کیونکہ تم قران حکیم کو اللہ کا کلام نہیں مانتے، اسلئے آج میں تم سے صرف اس کتاب کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہوں جسے تم اللہ کا کلام مانتے ہو یعنی بائبل. یہ سن کر اس کی آنکھیں چمکنے لگیں. اس کی حیرت میں اضافے کیلئے میں نے اسے بتایا کہ میں بائبل سمیت دیگر نمائندہ مذاہب کے کئی صحائف کو پڑھ چکا ہوں. اب میں نے اسے سمجھایا کہ کتنے زیادہ حوالوں سے قران اور بائبل کے ماننے والے ایک ہے عقائد کو مانتے ہیں. اصل مسلہ صرف اتنا ہے کہ ہم عیسیٰ علیہ السلام کو خدا یا خدا کا بیٹا نہیں بلکہ ایک بہت برگزیدہ پیغمبر تسلیم کرتے ہیں. اس نے اثبات میں سر ہلایا تو میں نے پوچھا کہ اب تم مجھے کوئی ایک بھی آیت بائبل سے ایسی پیش کردو جس میں عیسیٰ علیہ السلام نے خدائی کا دعویٰ کرکے اپنی عبادت کا حکم دیا ہو. یہ سن کر اس نے وہ آیات یکے بعد دیگرے سنانی شروع کیں جو دراصل کوئی دوسری بات بیان کررہی تھیں. میں ایک ایک کرکے اس کی پیش کردہ آیات کو واضح کرتا گیا. یہاں تک کے اس کو اعتراف کرنا پڑا کہ ایسی کوئی آیت براہ راست موجود نہیں. میں نے مسکرا کر اسے سمجھایا کہ یہ کیسے ممکن ہے؟ کہ اتنا بڑا عقیدہ واضح الفاظ میں موجود ہی نہ ہو. اس کے چہرے کی مسکراہٹ اب پھیکی سی تھی. میں نے اب ان حوالوں کو بائبل سے بیان کرنا شروع کیا جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام ایک ہی آسمانی باپ یعنی خدا کی جانب بلاتے رہے اور اسی کو خود بھی سجدہ کرتے رہے. اس نے اقرار کیا کہ ابھی اس کے پاس اس کا جواب نہیں اور وہ اس بارے میں تحقیق کرکے بتائے گا. یوں ہماری نشست ختم ہوئی. اس کے بعد کے چند روز میں نے اسے نہایت بے سکونی کی حالت میں دیکھا. اس کا وہ سکون اب کہیں غائب ہوگیا تھا جو اس کا خاصہ تھا. یہ عقدہ مجھ پر اب کھل چکا تھا کہ جس سکون کو اس مینجرنے اختیار کیا تھا وہ ایک نقلی نقاب سے زیادہ نہ تھا جو دلائل سے یکدم منہدم ہوگیا تھا. چند دن بعد اس نے خود مجھ سے بات کی اور کہا کہ ان باتوں کے جواب نہیں ہیں مگر وہ بناء دلیل اس بات کو مانے گا کہ عیسیٰ علیہ السلام ہی خدا ہیں کیونکہ وہ اسے وحی کرتے ہیں. میں نے جواب میں اسے پھر ان گنت ایسے ہی واقعات سنائے جو مختلف عقائد کےلوگوں کیساتھ ہوتے آئے ہیں. ساتھ ہی ان ذہنی مریضوں کی کہانیاں بھی یاد کروائی جنہوں نے اپنی اولاد کو یا کسی عزیز کو اسلئے قتل کردیا کہ ان کے بقول خدا نے انہیں ایسا کرنے کی وحی کی تھی. اس سب سے گھبرا کر اس نے مجھے ڈرتے ڈرتے اپنے چرچ آنے کی دعوت دی تاکہ میں وہاں کسی سے مل سکوں. میں نے دعوت قبول کی اور اللہ سے دعا کرکے مقررہ اتوار کو اس بہت بڑے چرچ میں جاپہنچا. وہاں ہوتی ہوئی ہر عبادت کا مشاہدہ کیا اور خیال رکھا کہ کسی شرکیہ عبادت کا حصہ نہ بنوں. عبادت کے اختتام پر میرے مینجر نے مجھے اپنے بڑے سے ملوایا. اس سے بھی شائستہ مکالمہ ہوا اور زیادہ دیر نہ لگی جب اس کے پاس بھی کہنے کو اس کے سوا کچھ نہ بچا کہ بناء دلیل عیسیٰ علیہ السلام کی الوہیت تسلیم کی جائے معاذ اللہ. اس کے بعد کھانے کی میز پر اسکی بیوی مجھ سے برزخی زندگی کے اسلامی نکتہ نظر کو سمجھتی رہی اور اپنے دیرینہ سوالات کے جوابات پاکر خوشگوار حیرت میں مبتلا رہی. جب تک میں وہاں نوکری کرتا رہا وہ اپنے عیسائی دوستوں کے ساتھ مل کر میرے عیسائی ہوجانے کی دعا مانگتا رہا ور میں اللہ سے اس کی ہدایت کا طلبگار رہا. الحمدللہ مجھے اطمینان ہے کہ اس تک دین کا پیغام الہامی دلائل اور ثبوتوں کیساتھ پہنچ گیا. اب ماننا نہ ماننا اس کا اپنا عمل ہوگا. 
.
====عظیم نامہ====