Friday, 13 May 2016

کون بہتر ؟


کون بہتر ؟


سوال:
ایک انسان وە ہے جو کچھ نہیں سمجھتا اور ایک وە ہے جو غلط سمجھتا ہے. 
آپ کی نظر میں کون بہتر ہے؟

جواب:
سوال میں ابہام ہے یا یوں کہیئے کہ اس کا اجمال اسے مبہم بنا رہا ہے. جو کچھ نہیں سمجھتا ، اگر اس کا کچھ نہ سمجھنا دماغی عدم توازن، طبعی کمزوری، جبر یا کسی اور شدید حالات کی بناء پر ہے تو وہ معذور شمار ہوگا اور شریعت میں مکلف ہی نہیں لہٰذا اس سے کوئی پوچھ گچھ نہیں تو پھر تقابل بھی نہیں 
.
اگر اس کا کچھ نہ سمجھنا اپنی غفلت، ڈھٹائی اور لاپرواہی کی وجہ سے ہے تو اس سے پورا حساب لیا جائے گا کہ تمھیں فلاں فلاں صلاحیت، قابلیت، طاقت اور موقع حاصل تھا تم نے اسے کیوں ضائع کیا؟ اس صورت میں وہ یقینی طور پر دوسرے شخص سے بدتر ہے جو بعد از تحقیق کوئی نتیجہ قائم کرتا ہے اور وہ غلط نکلتا ہے. 
.
یہ بھی دھیان رہے کہ اگر اخلاص سے تحقیق کی اور نتیجہ غلط نکلا تو بہت امکان ہے کہ اسے اس کے اخلاص کا اجر دیا جائے. جیسے حدیث ہے کہ مجتہد اگر درست اجتہاد کرتا ہے تو دو ثواب ہیں اور اگر غلط اجتہاد کرجائے تب بھی ایک ثواب ہے. راقم کی دانست میں یہی مجتہد والا اصول ہر مخلص محقق پر منطبق ہوسکتا ہے اگر اپنی قابلیت اور حدود سے تجاوز نہ کرے. البتہ اگر یہ غلط نتیجہ اندھی تقلید کی بنیاد پر ہے تو اس شخص کا جائزہ لیا جائے گا کہ اس کیلئے یہ تقلید جائز بھی تھی یا نہیں؟ اگر کے اس شخص کے پاس تحقیقی قابلیت اور ذرائع موجود تھے، سامنے اشکالات بھی تھے اور اس نے محض لاپرواہی کی بنیاد پرتحقیق نہ کی تو پکڑا جائے گا اور اس کا حال بھی ٹھیک ویسا ہی یا شائد اس سے بدتر ہوگا جیسا پہلے شخص کا مواقع و صلاحیت کے باوجود جاہل رہنے کی وجہ سے ہوا تھا.
.
والله اعلم باالصواب

No comments:

Post a Comment