Monday, 28 March 2016

غیر مسلم کو سلام کرنا یا وعلیکم السلام کہنا کیسا ہے؟



غیر مسلم کو سلام کرنا یا وعلیکم السلام کہنا کیسا ہے؟





اگر اسلام سلامتی کا مذہب ہے تو مسلمان غیر مسلم کو ’’السلام علیکم ‘‘ کیوں نہیں کہتے ؟
.
جواب:
سب سے پہلے تو ہم یہ پوچھیں گے کہ غیرمسلموں کو زبردستی سلام کرنے کی منطق کیا ہے ؟ اصولی طور پر تو ان سے کلام کا آغاز اسی انداز میں کرنا چاہیئے جو ان کی معاشرت کے مطابق اور معروف ہے. لہٰذا اگر وہ 'گڈ مارننگ' یا 'ہیلو' جیسے الفاظ کہنے کے عادی ہیں جن میں شرک کا کوئی عنصر موجود نہیں تو آپ ان سے کلام انہی الفاظ سے کیجیئے کہ یہی تہذیب کا تقاضہ ہے. 
.
البتہ اگر دعوت دین کیلئے کسی غیر مسلم کو سلام کرنا مقصود ہے یا کسی غیرمسلم کے خیرسگالی میں کئے گئے سلام کا جواب دینا مطلوب ہے تو راقم کی دانست میں ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں بلکہ بعض صورتوں میں ایسا کرنا مندوب ہے. میں چونکہ خود عرصہ دراز سے انگلینڈ میں مقیم ہوں اور کمتر درجہ میں غیر مسلموں کو دعوت دین دیتا رہا ہوں. میری اس دعوت میں بیشمار بار ایسے مواقع آئے ہیں جہاں میں نے غیرمسلموں میں شوق دین بیدار کرنے کیلئے انہیں سلام کرنا اور انکے سلام کا بہترین جواب دینا اختیار کیا ہے. یہ درست ہے کہ علماء میں اس ضمن میں اختلاف رہا ہے اور ایک رائے کے مطابق غیرمسلم کو سلام کرنا یا جواب میں وعلیکم السلام کہنا مکروہ ہے. مگر احقر کی دانست میں یہ رائے ٹھیک نہیں ہے بلکہ اس کے مقابل اہل علم کی دوسری رائے مقبول ہے جس میں غیرمسلم کو سلام کرنے یا سلام کا مکمل جواب دینے میں کوئی حرج نہیں. علماء کی پہلی رائے کی بنیاد ایک خاص واقعہ پر قائم ہے جس سے منسلک کئی صحیح احادیث ہم تک پہنچی ہیں. مثال کے طور پر یہ صحیح مسلم کی ایک حدیث میں بیان ہوا کہ اگر اہل کتاب (یعنی یہود) تمھیں سلام کریں تو جواب میں انہیں وعلیکم السلام کی بجائے صرف وعلیکم کہو. لہٰذا کچھ علماء نے اس متن کی احادیث سے یہ حکم اخذ کرلیا کہ غیر مسلم کو سلام کے جواب میں سلام نہ کہا جائے بلکہ صرف وعلیکم کہنے پر اکتفاء کیا جائے. 
.
جیسا ہم نے پہلے بیان کیا کہ یہ ایک علمی غلطی ہے ، احادیث کے ذخیرے کو سامنے رکھا جائے تو اس غلطی کا تدارک ہوجاتا ہے. اس واقعہ کی پوری تفصیل صحیح مسلم ہی کی ایک دوسری حدیث (١٤/١٤٦) میں بیان ہوئی ہے. جس کے مفہوم کے مطابق ایک بدبخت یہودی نے رسول کریم ص کو "السلام و علیکم" (آپ پر سلامتی ہو) کی جگہ "السّام علیکم" (آپ پر موت ہو) کے الفاظ ادا کئے. ان الفاظ کو بھانپ کر حضرت عائشہ رض نے غصہ سے جواب دیا "بل علیکم ال سام ولعنہ" (نہیں ، تم پر موت اور لعنت ہو). پیغمبر اسلام ص نے حضرت عائشہ رض کو دھیمے سے سمجھایا کہ اللہ رب العزت کو ہر کام میں نرمی پسند ہے. حضرت عائشہ رض نے رسول ص سے جوابی عرض کیا کہ کیا آپ نے سنا نہیں تھا کہ اس یہودی نے آپ کو کیا کہا تھا؟ .. آپ ص نے فرمایا میں نے جواب میں اسی لئے کہا "وعلیکم" (اور تم پر بھی) 
.
مندرجہ بالا حدیث سے صراحت ہو جاتی ہے کہ سلام کے جواب میں سلام کی بجائے صرف وعلیکم کہہ دینا ان غیرمسلموں تک موقوف ہے جو السّام علیکم جیسے فتنہ انگیز الفاظ استعمال کریں. ایک اور حدیث کے مفہوم میں صحابہ رض نے دریافت کیا کہ بعض غیرمسلم سلام کے الفاظ کی بجائے بددعا کے الفاظ استعمال کرتے ہیں تو ہم جواب میں کیا کہیں؟ تو آپ ص نے کہا کہ تم جواب میں وعلیکم کہہ لیا کرو. اس کے علاوہ ایک اور حدیث جس میں اہل کتاب سے سلام کی ابتدا کرنے کو منع کیا گیا ہے. وہ ایک خاص وقت اور واقعہ تک محدود ہے جب بنو قریظہ کے خلاف ان کی حرکات کی پاداش میں مسلمانوں کو کچھ تادیبی احکام دیئے گئے تھے. جن میں سے ایک یہ بھی تھا کہ ان کا سوشل بائیکاٹ کیا جائے. لہٰذا اس سے بھی کسی غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہونا چاہیئے اور نہ ہی اس سے کسی حکم کو اخذ کرنے کی گنجائش نکالی جاسکتی ہے. 
. 
عموم میں تو سلام کرنے میں کوئی قباحت نظر نہیں آتی بلکہ قران حکیم نے تو واشگاف الفاظ میں اس کی تلقین کی ہے کہ اگر کوئی جاہل تم سے بحث کے درپے ہو تو اس سے الجھنے کی بجائے اسے سلام کہو. لہٰذا سورہ القصص کی 55 آیت میں ارشاد ہے:
.
"اور جب بیہودہ بات سنتے ہیں تو اس سے منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم کو ہمارے اعمال اور تم کو تمہارے اعمال۔ السلام و علیکم (تم کو سلام) ۔ ہم جاہلوں کے خواستگار نہیں ہیں"
.
واللہ و اعلم بلصواب 
.
====عظیم نامہ====

http://www.virtualmosque.com/islam-studies/rules-of-greeting-non-muslims-in-islam-saying-salaamreplying-salaam-bynurideen-lemu-an-nigeri/#comment-231238

No comments:

Post a Comment