Monday, 28 March 2016

غیر مسلم کو سلام کرنا یا وعلیکم السلام کہنا کیسا ہے؟



غیر مسلم کو سلام کرنا یا وعلیکم السلام کہنا کیسا ہے؟





اگر اسلام سلامتی کا مذہب ہے تو مسلمان غیر مسلم کو ’’السلام علیکم ‘‘ کیوں نہیں کہتے ؟
.
جواب:
سب سے پہلے تو ہم یہ پوچھیں گے کہ غیرمسلموں کو زبردستی سلام کرنے کی منطق کیا ہے ؟ اصولی طور پر تو ان سے کلام کا آغاز اسی انداز میں کرنا چاہیئے جو ان کی معاشرت کے مطابق اور معروف ہے. لہٰذا اگر وہ 'گڈ مارننگ' یا 'ہیلو' جیسے الفاظ کہنے کے عادی ہیں جن میں شرک کا کوئی عنصر موجود نہیں تو آپ ان سے کلام انہی الفاظ سے کیجیئے کہ یہی تہذیب کا تقاضہ ہے. 
.
البتہ اگر دعوت دین کیلئے کسی غیر مسلم کو سلام کرنا مقصود ہے یا کسی غیرمسلم کے خیرسگالی میں کئے گئے سلام کا جواب دینا مطلوب ہے تو راقم کی دانست میں ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں بلکہ بعض صورتوں میں ایسا کرنا مندوب ہے. میں چونکہ خود عرصہ دراز سے انگلینڈ میں مقیم ہوں اور کمتر درجہ میں غیر مسلموں کو دعوت دین دیتا رہا ہوں. میری اس دعوت میں بیشمار بار ایسے مواقع آئے ہیں جہاں میں نے غیرمسلموں میں شوق دین بیدار کرنے کیلئے انہیں سلام کرنا اور انکے سلام کا بہترین جواب دینا اختیار کیا ہے. یہ درست ہے کہ علماء میں اس ضمن میں اختلاف رہا ہے اور ایک رائے کے مطابق غیرمسلم کو سلام کرنا یا جواب میں وعلیکم السلام کہنا مکروہ ہے. مگر احقر کی دانست میں یہ رائے ٹھیک نہیں ہے بلکہ اس کے مقابل اہل علم کی دوسری رائے مقبول ہے جس میں غیرمسلم کو سلام کرنے یا سلام کا مکمل جواب دینے میں کوئی حرج نہیں. علماء کی پہلی رائے کی بنیاد ایک خاص واقعہ پر قائم ہے جس سے منسلک کئی صحیح احادیث ہم تک پہنچی ہیں. مثال کے طور پر یہ صحیح مسلم کی ایک حدیث میں بیان ہوا کہ اگر اہل کتاب (یعنی یہود) تمھیں سلام کریں تو جواب میں انہیں وعلیکم السلام کی بجائے صرف وعلیکم کہو. لہٰذا کچھ علماء نے اس متن کی احادیث سے یہ حکم اخذ کرلیا کہ غیر مسلم کو سلام کے جواب میں سلام نہ کہا جائے بلکہ صرف وعلیکم کہنے پر اکتفاء کیا جائے. 
.
جیسا ہم نے پہلے بیان کیا کہ یہ ایک علمی غلطی ہے ، احادیث کے ذخیرے کو سامنے رکھا جائے تو اس غلطی کا تدارک ہوجاتا ہے. اس واقعہ کی پوری تفصیل صحیح مسلم ہی کی ایک دوسری حدیث (١٤/١٤٦) میں بیان ہوئی ہے. جس کے مفہوم کے مطابق ایک بدبخت یہودی نے رسول کریم ص کو "السلام و علیکم" (آپ پر سلامتی ہو) کی جگہ "السّام علیکم" (آپ پر موت ہو) کے الفاظ ادا کئے. ان الفاظ کو بھانپ کر حضرت عائشہ رض نے غصہ سے جواب دیا "بل علیکم ال سام ولعنہ" (نہیں ، تم پر موت اور لعنت ہو). پیغمبر اسلام ص نے حضرت عائشہ رض کو دھیمے سے سمجھایا کہ اللہ رب العزت کو ہر کام میں نرمی پسند ہے. حضرت عائشہ رض نے رسول ص سے جوابی عرض کیا کہ کیا آپ نے سنا نہیں تھا کہ اس یہودی نے آپ کو کیا کہا تھا؟ .. آپ ص نے فرمایا میں نے جواب میں اسی لئے کہا "وعلیکم" (اور تم پر بھی) 
.
مندرجہ بالا حدیث سے صراحت ہو جاتی ہے کہ سلام کے جواب میں سلام کی بجائے صرف وعلیکم کہہ دینا ان غیرمسلموں تک موقوف ہے جو السّام علیکم جیسے فتنہ انگیز الفاظ استعمال کریں. ایک اور حدیث کے مفہوم میں صحابہ رض نے دریافت کیا کہ بعض غیرمسلم سلام کے الفاظ کی بجائے بددعا کے الفاظ استعمال کرتے ہیں تو ہم جواب میں کیا کہیں؟ تو آپ ص نے کہا کہ تم جواب میں وعلیکم کہہ لیا کرو. اس کے علاوہ ایک اور حدیث جس میں اہل کتاب سے سلام کی ابتدا کرنے کو منع کیا گیا ہے. وہ ایک خاص وقت اور واقعہ تک محدود ہے جب بنو قریظہ کے خلاف ان کی حرکات کی پاداش میں مسلمانوں کو کچھ تادیبی احکام دیئے گئے تھے. جن میں سے ایک یہ بھی تھا کہ ان کا سوشل بائیکاٹ کیا جائے. لہٰذا اس سے بھی کسی غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہونا چاہیئے اور نہ ہی اس سے کسی حکم کو اخذ کرنے کی گنجائش نکالی جاسکتی ہے. 
. 
عموم میں تو سلام کرنے میں کوئی قباحت نظر نہیں آتی بلکہ قران حکیم نے تو واشگاف الفاظ میں اس کی تلقین کی ہے کہ اگر کوئی جاہل تم سے بحث کے درپے ہو تو اس سے الجھنے کی بجائے اسے سلام کہو. لہٰذا سورہ القصص کی 55 آیت میں ارشاد ہے:
.
"اور جب بیہودہ بات سنتے ہیں تو اس سے منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم کو ہمارے اعمال اور تم کو تمہارے اعمال۔ السلام و علیکم (تم کو سلام) ۔ ہم جاہلوں کے خواستگار نہیں ہیں"
.
واللہ و اعلم بلصواب 
.
====عظیم نامہ====

http://www.virtualmosque.com/islam-studies/rules-of-greeting-non-muslims-in-islam-saying-salaamreplying-salaam-bynurideen-lemu-an-nigeri/#comment-231238

Saturday, 26 March 2016

سوال جواب





پہلا سوال: 
مسلمانوں کو سیکولر ملکوں میں تبلیغ کی پوری اجازت ہے ۔ کیا مسلمان ملکوں میں کسی غیر مسلم سکالر کو اپنے مذہب کی اس پیمانے پر تبلیغ کی اجازت ہے ؟اگر نہیں تو اسلام کورواداری کے خلاف مذہب کیوں نہ سمجھا جائے؟
.
پہلا جواب: 
سب سے پہلے تو یہ دیکھیئے کہ رواداری سے مراد کیا ہے ؟ .. اگر رواداری سے مراد یہ ہے کہ ہر مکتب فکر پوری آزادی سے اپنی عبادت کرسکے تو اس کی مکمل آزادی اسلامی ریاست میں دی جاتی ہے یا دی جانی چاہیئے. مگر اگر اس سے مراد یہ ہے کہ کوئی مذھب اپنا کھلے عام پرچار کرسکے تو اسلامی نظم مملکت میں اس پر پابندی لگائی جاتی ہے. 
.
جانتا ہوں کہ آج کی مغربی آزادی سے متاثر اذہان یہ بات سنتے ہی چیخ پڑیں گے مگر یہی سچ ہے. جس پر کوئی پشیمانی یا معزرت ہم بحیثیت مسلم پیش نہیں کرتے. دیگر ممالک آزاد ہیں کہ وہ چاہیں تو تمام مذاہب کو پرچار کی اجازت دیں اور چاہے تو نہ دیں. اگر وہ اجازت دیں گے تو ہم اس اجازت سے استفادہ کریں گے اور اگر نہ دیں گے تو انہیں اس پر مجبور نہ کریں گے. بلکہ جب تک وہ ہمیں ہمارے دین پر عمل کی آزادی دیتے ہیں وہاں سکونت بھی اختیار کرنے میں کوئی عار نہ جانیں گے. دھیان رکھیئے کہ مغرب اور اسلام دونوں انسانی حقوق یا آزادی کی بات کرتے ہیں مگر ان اصطلاحات کی تعریف میں دونوں کے مابین فرق ہے. مغرب کے نزدیک جو شے آزادی ہے ، بعض اوقات اسلامی اقدار میں اسے انسانیت کی تذلیل سمجھا جاتا ہے اور اسلام کے نزدیک جو چیز حقوق ہے ، بعض اوقات مغرب کی نظر میں اسے ذہنی غلامی تصور کیا جاتا ہے. لہٰذا رواداری کی ایک تعریف وہ ہے جو مغرب کرتا ہے اور دوسری تعریف وہ ہے جو اسلام اسے دیتا ہے. ہم اسلامی رواداری کے قائل ہیں، مغربی رواداری کے دفاع کرنے والے نہیں. 
.
اب جب کے کئی احباب میری اپر درج شدہ باتوں سے ناخوش ہونگے ، ضروری ہے کہ اس  کی حکمت پر بھی غور کیا جائے. یہ بات فی الواقع سوچنے والی ہے کہ جب عیسائی، ہندو یا دیگر مذاہب کی حکومتیں مذہبی پرچار کی بلاتفریق آزادی دیتی ہیں تو اسلامی نظام میں اس پر پابندی کیوں؟ .. وجہ یہ ہے کہ اسلام دیگر مذاہب کی مانند محض چند رسومات و عبادات پر مشتمل ایک اور مذھب نہیں ہے بلکہ یہ دین ہے یعنی ایک مکمل نظام جو معاشی ، معاشرتی اور قانونی ڈھانچہ فراہم کرتا ہے. ایک پوری فکر جیسے کمیونزم یا کیپیٹلزم. جس طرح کسی کمیونسٹ ملک میں کیپٹلزم کا پرچار نہیں کیا جاسکتا. یا کیپٹلسٹ ملک میں کمیونزم کا کھلا پرچار نہیں ہوسکتا. ٹھیک اسی طرح اسلامی نظام کے اندر اسلام کے خلاف یا مدمقابل کسی دوسری فکر یا مذہب کے پرچار کی اجازت نہیں دی جاسکتی.

دوسرا سوال:
اگر غیر مسلم اسلام قبول کرے تو شاباش ، اور اگرمسلمان اپنا مذہب چھوڑے تو واجب القتل ۔ کیا یہ انصاف ہے ؟ اس قانون کو شریعت قرار دینے والے گروہِ انسانی کو دور جدید کے آزادی پسندمعا شروں میں رہنے کا حق کیسے دیا جاسکتا ہے؟
.
دوسرا جواب:
اسلام اس امر پر زور دیتا ہے کہ کوئی انسان اسے قبول کرنے سے پہلے خوب جان لے کہ یہ کوئی کیریئر اختیار کرنے جیسا فیصلہ نہیں ہے جسے وہ جب چاہے بدل ڈالے بلکہ انتہائی اہم زندگی بھر کا فیصلہ ہے. لہٰذا لازم ہے کہ اسے اسلام کی خوب جان کاری ہو. اس کے ساتھ اسلام خود پر یہ کامل یقین رکھتا ہے کہ اسکی تعلیمات کو اگر درست طریق سے سمجھا جائے یا سمجھنے کی سعی کی جائے تو کوئی شائبہ نہیں کہ ہر عقلی سوال کو جواب حاصل ہوجائے.   

Monday, 21 March 2016

نومسلم



نومسلم



"تم نے مجھے مسلمان کیوں بنایا ؟" ... اس نے میرا گریبان پکڑ کر مجھے روتے ہوئے جھنجھوڑا ...
.
یہ سال بھر پہلے کی بات ہے. میں دعوت دین کے کام سے ایک کمتر درجہ میں منسلک رہتا ہوں. انگلینڈ کے مختلف علاقوں میں غیر مسلموں کو دین کی دعوت دینا اور اسلام یا وجود خدا سے متعلق ان کے اشکالات دور کرنا اس دعوت دین کا ایک مستقل حصہ ہے. یہ بھی اسی طرح کا ایک دن تھا ، ابھی ہم قران مجید سمیت دیگر بنیادی اسلامی کتابوں پر مشتمل بک اسٹال سجا ہی رہے تھے کہ ایک کم و بیش پچاس برس کا نیپالی مرد میرے پاس تیزی سے آیا ... "تم نے مجھے مسلمان کیوں بنایا ؟" ... اس نے میرا گریبان پکڑ کر مجھے روتے ہوئے جھنجھوڑا ... 
.
دعوت کے میدان میں اس طرح کے غیرمعمولی واقعات کا ہونا معمول ہوا کرتا ہے مگر جس انداز میں روتے ہوئے یہ اچانک سوال انہوں نے کیا ، اس سے میں گھبرا گیا. کوشش کے باوجود میری زبان سے الفاظ نہ نکل سکے ، ایک پل میں ساری سابقہ دعوت کی سرگرمیاں میری یادداشت کر پردے سے گزر گئیں مگر میں ان صاحب سے کسی ملاقات کو یاد نہ کرپایا. میں نے انہیں دلاسہ دیتے ہوئے ان سے دریافت کیا کہ کیا آپ مسلم ہیں ؟ اور کیا میں نے آپ کو کبھی دعوت دی تھی ؟ انہوں نے نفی میں سرہلایا اور غصہ سے شکایت کی کہ کچھ مسلمانوں نے بہت سالوں پہلے انہیں انڈیا میں کلمہ پڑھوا کر مسلمان کردیا تھا. مگر اس کے بعد انہوں نے پلٹ کر پوچھا تک نہیں لہٰذا اسلام کو آج تک سمجھ نہیں پائے اور نہ ہی نماز پڑھنا جان پائے. جب خاندان والو کو اپنے قبول اسلام کے بارے میں بتایا تو انہوں نے تعلق توڑ لیا ، مورتیوں کو انہوں نے خود گھر سے نکال دیا. مگر اب ایسا محسوس کرتے ہیں جیسے ان کا نہ اسلام سے ناطہ جڑسکا اور نہ ہی خاندان سے پہلے جیسا تعلق باقی رہا. یہ کہتے ہوئے کبھی غصہ سے ان کی آواز بلند ہوجاتی اور کبھی آنکھوں سے آنسو گرنے لگتے. میں سر تا پاؤں لرز گیا تھا ، میں نے دھیمے لہجے میں ان سے کہا کہ میں نہیں جانتا کہ آپ سے کون ملا؟ کس نے آپ کو کلمہ پڑھوایا ؟ کس نے آپ کو اسلام کے بارے میں کیا بتایا؟ مگر میں ان سب کی ہر کوتاہی کیلئے آپ سے معافی مانگتا ہوں. آپ مجھے بتائیں کہ کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں آپ کو اسلام کے بارے میں بتاؤں اور اسکے لئے ہر ممکن مدد کروں ؟ .. یہ سن کر انہیں کچھ سکون آیا، انہوں نے بتایا کہ وہ انگلیڈ کہ ایک دوسرے علاقے میں رہائش پذیر ہیں جو اس علاقہ سے کچھ فاصلے پر ہے. وہ چاہتے ہیں کہ کوئی ان کے گھر آئے اور انہیں قبلہ سمیت باقی باتیں سکھادے. 
.
میں نے ان سے وعدہ کیا اور مقررہ دن ان کے گھر پہنچ گیا. آج وہ نہایت ممنون اور پرمسرت نظر آرہے تھے. انہوں نے مجھے مزید بتایا کہ اس سے پہلے جب بھی انہوں نے کسی مسلم سے اسلام سمجھنے میں مدد مانگی تو اس نے جوش تو بہت دکھایا مگر ہمیشہ اسلامی تعلیمات کی موٹی موٹی کتابیں دے کر اپنے فرض سے سبک دوش ہوگیا. ان صاحب کے لئے اول تو اس عمر میں ان کتب کا مطالعہ کوئی آسان بات نہ تھی ، پھر ان کتابوں میں اسلام کی اتنی زیادہ تفصیل تھی جسے سمجھ لینا کوشش کے باوجود ناممکن محسوس ہوتا تھا. انہوں نے ڈرتے ڈرتے پوچھا کہ آپ کون سی کتاب سے مجھے پورا اسلام سکھائیں گے؟ میں نے مسکرا کر ان سے پانچ سادہ بڑے صفحات طلب کئے. ہر صفحہ پر میں نے ایک رکن اسلام کا نام بڑا بڑا لکھا جیسے کلمہ، نماز، روزہ، حج، زکات اور انہیں بتایا کہ اگر یہ پانچ ارکان وہ کرلیں تو سمجھیئے کہ پورے اسلام پر انہوں نے عمل کرلیا. اسی طرح چھ صفحات پر ایمانیات کو الگ الگ کر کے لکھا جیسے توحید، ملائکہ، رسول، کتب، آخرت اور تقدیر. انہیں بتایا کہ اگر وہ ان کو سمجھ لیں تو سمجھیئے کہ پورا ایمان سمجھ لیا. 
.
ان صاحب نے غیر یقینی کے ساتھ مجھ سے پوچھا کہ کیا ؟؟ بس اتنا ہی ؟ .. میں نے انہیں دوبارہ یقین دلایا. پھر انہیں وضو کرنا سکھایا اور ساتھ نماز پڑھایا. کئی اور بنیادی باتیں بھی انہیں سمجھائیں جیسے انہیں یہ مغالطہ تھا کہ شاید خانہ کعبہ اجمیر شریف میں ہے. جب اچھے سے اطمینان ہوگیا کہ اب وہ سمجھ چکے ہیں تو گھر واپسی کا اعادہ کیا. وہ مجھے ٹیکسی اسٹینڈ تک چھوڑنے آئے اور زبردستی ٹیکسی والے کو کرایہ پہلے سے ادا کردیا. میں نے انہیں اپنا فون نمبر دیا اور آئندہ بات کرتے رہنے کا ارادہ کر کے ان سے جانے کی اجازت لی. 
.
دین کی دعوت سے جڑے لوگوں کو یہ بات سمجھنے کی سخت ضرورت ہے کہ اصل مرحلہ کسی کو کلمہ پڑھوانا نہیں ہے بلکہ اسے دین سے صحیح معنوں میں جوڑنا ہے. نومسلم آپ کی اضافی توجہ کے طالب ہوتے ہیں جو صرف جذباتی کلمات ادا کرنے سے یا کتابیں گفٹ کردینے سے ہرگز پوری نہیں ہوتی بلکہ اس کیلئے عملی طور پر انہیں دین سکھانا بھی ہوتا ہے اور قبول اسلام کے بعد آنے والے سخت چیلنجز کیلئے ممکن مدد بھی کرنی ہوتی ہے. 
.
====عظیم نامہ=====

خشوع و خصوع



خشوع و خصوع




نماز کے دوران خشوع و خصوع کیلئے محض دو باتوں کا حصول درکار ہے 
.
١. احساس حضوری 
٢. تلاوت ، ازکار اور افعال کی سمجھ 
.
اگر یہ دونوں باتیں حاصل ہوجائیں تو انشاللہ خشوع و خصوع کی کیفیت خودبخود وجود پر طاری ہو جائے گی. 
.
یعنی اول یہ عاجزی و حضوری کا احساس کہ میں رب کائنات کے سامنے حاضر ہوں، اپنے مالک سے مخاطب ہوں 
اور دوئم ہر لفظ و رکن کو شعور سے سمجھ کر ادا کرنا 
.
اب یہ مرحلہ کہ ان دونوں باتوں کو حاصل کیسے کیا جائے؟ تو جناب جیسے عملی دنیا میں کسی بھی شعبہ میں طاق ہونے کیلئے مشق کرنا ہوتی ہے. اسی طرح نماز میں خشوع و خضوع کی بھی مشق کرنی ہوگی. کچھ بزرگ ان مشقوں کو مجاہدہ ، مراقبہ وغیرہ کی تعبیرات سے بھی موسوم کرتے ہیں. گو راقم کی رائے میں اسے خشوع و خضوع کی مشق کہنے پر اکتفاء کرنا چاہیئے. 
.
لازم ہے کہ پہلے آپ ان دونوں اہداف کو اپنے ذہن میں راسخ کرلیں. اسکے بعد انشاللہ کسی روز اس کے حصول کے ممکنہ طریق بھی زیر گفتگو لائیں گے. 
.
====عظیم نامہ====

یہ بھی سنت ہے


یہ بھی سنت ہے



مسکرایئے .... یہ سنت ہے 
بھوک چھوڑ کر کھائیں .... یہ سنت ہے
برائی کا جواب بھلائی سے دیں .... یہ سنت ہے
بدترین دشمن سے بھی بہترین اخلاق سے پیش آئیں .... یہ سنت ہے
. 
ذرا سوچیں کہ سنت اپنانے میں بھی کہیں ہم نے pick & choose کی پالیسی تو نہیں بنا رکھی؟ ... ظاہری سنتیں اپنانا بھی بہت خوب ہے مگر سنت کا سب سے بڑا مظہر مومن کا اخلاق و کردار ہے

Friday, 18 March 2016

علم کی حقیقت



علم کی حقیقت

مشکوٰة شریف کی ایک حدیث میں مرقوم ہے کہ ”طلب العلم فریضة علی کل مسلم“ یعنی "علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پرفرض ہے۔" 
.
کئی علماء کے نزدیک یہاں علم سے مراد فقط دین کے عقائد و احکامات کا علم ہے مگر کئی عارفین کے نزدیک عارف علم کو دنیا اور دین میں تقسیم نہیں کرتا. اس کے نزدیک تو علم کی ہر صورت بلواسطہ یا بلاواسطہ خدا ہی سے جوڑنے والی ہے. البتہ دھیان رہے کہ علم اگر عمل و کردار سے تصدیق نہ پائے تو پھر وہ علم ہے ہی نہیں بلکہ محض معلومات ہے.  
.
اگر غور کیجیئے تو علم کو چار اقسام میں منقسم کیا جاسکتا ہے. ان میں سے پہلی دو تو وہ ہیں جو خالص الله کی جانب سے ودیعت و عطا ہوتی ہیں اور دوسری دو اقسام وہ ہیں جن کا حصول انسانی صلاحیتوں کے مؤثر استعمال سے مشروط ہوتا ہے. علم کی یہ چار اقسام راقم کے الفاظ میں کچھ یوں بیان کی جاسکتی ہیں 
.
١. علم وجدان 
--------------
.
اس سے مراد وہ علم ہے جس کا شعور من جانب الله ہماری فطرت میں الہام کردیا گیا ہے. یہ ایک باطنی احساس ہے جو جب خارج کے کسی مظہر کو اپنے مطابق پاتا ہے تو لپک کر قبول کرلیتا ہے. اسلام کو اسی رعایت سے دین فطرت کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے. وجہ یہی ہے کہ اس دین کے عقائد انسانی فطرت سے مکمل مطابقت رکھتے ہیں لہٰذا جب انہیں سامع یا قاری کو پیش کیا جاتا ہے تو اسے یہ پیغام اپنے ہی دل کی آواز محسوس ہوتا ہے. "دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہا ... میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی مرے دل میں ہے" . گر ہماری فطرت میں کوئی تقاضہ پہلے سے موجود نہ ہو تو پھر کسی خارجی پیغام کو سمجھانا ایسا ہی ہے کہ ایک شخص کو پیاس نہ لگی ہو اور آپ زبردستی اسے پانی پلانے لگیں. ایسے میں اسکا جسم پانی اگل دیگا کیونکہ اس میں طلب ہی نہیں ہے. اس حقیقت کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ ایک حدیث میں فطرت کے لفظ کو اسلام کے لفظ کا متبادل بیان کیا گیا ہے. لہٰذا بخاری و مسلم کی متفقہ علیہ  حدیث میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا:  " ہر بچہ فطرت (اسلام) پر ہی پیدا ہوتا ہے پھر اس کے والدین اسے یہودی، نصرانی، یا مجوسی بنا لیتے ہیں  ... " اور بھی بہت سی آیات و احادیث اسی حقیقت کی غماز ہیں.
.
اس موقع پر ضروری ہے کہ ہم اس علم وجدان کی چند مثالوں پر غور کرلیں. پہلی مثال وجود خدا کو ماننا ہے. قران حکیم کے لطیف بیان کے مطابق انسانی اجسام میں منتقلی سے قبل ہماری ارواح سے عہد الست لے گیا اور یوں خدا کی گواہی ہم میں الہام کردی گئی. 
.
"اور اے نبی، لوگوں کو یاد دلاؤ وہ وقت جبکہ تمہارے رب نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی نسل کو نکالا تھا اور انہیں خود ان کے اوپر گواہ بناتے ہوئے پوچھا تھا "کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟" انہوں نے کہا "ضرور آپ ہی ہمارے رب ہیں، ہم اس پر گواہی دیتے ہیں" یہ ہم نے اس لیے کیا کہ کہیں تم قیامت کے روز یہ نہ کہہ دو کہ "ہم تو اس بات سے بے خبرتھے"  (سورہ الاعراف ١٧٢)

تاریخ انسانی اس بات پر گواہ ہے کہ انسان نے ہر دور میں اور ہر علاقے میں ایک برتر ہستی کے تصور کو تسلیم کیا ہے. خدا کا تصور صرف گردوپیش سے پیش نہیں ہوتا، الله کا تصور ہم محض تجربات و مشاہدات سے نہیں پاتے ، یہ ایک فکری مغالطہ ہے. حقیقت یہ ہے کے اس کی کونپل فطرت کی گود میں پروان پاتی ہے یہ اندر سے باہر کا سفر شروع کرتا ہے. یہی وجہ ہے کہ ایک بچہ  چاہے وہ امریکہ میں  پیدا ہوا ہو یا پاکستان میں ، چین سے تعلق رکھتا ہوں یا افریقہ کے زولو قبیلے سے .. وہ اپنے والدین سے بچپن میں یہ سوال ضرور کرتا ہے کہ  مجھے کس نے بنایا ؟ یا میں کہاں سے آیا؟  . آپ اسے کہتے ہیں کہ میں نے تمہیں  درخت سے توڑ لیا یا ایک فرشتہ ہمیں دے گیا یا  مارکیٹ سے خرید لیا. آپ اس بچے کو مطمئن کرنے کیلئے جو بھی جواب دیں، مگر اس کا یہ معصوم سوال اس حقیقت کا اعلان کر رہا ہے کہ خدا کے وجود کی طلب انسان کے اندر فطری طور پر موجود ہے . انسانی رویوں پر کی جانے والی بہت سی تحقیقات ، جن میں آکسفورڈ یونیورسٹی کی حالیہ تحقیق بھی شامل ہے ، وہ سب یہی بتاتی ہیں کہ انسان میں فطری و جبلی طور پر ایسے داعیات موجود ہیں جو اسے ایک خدا پر ایمان رکھنے پر آمادہ کرتے ہیں. تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ سخت ترین ملحد بھی انتہائی مشکل حالت میں بے اختیار ایک برتر ہستی کو پکار اٹھتا ہے
.
دِل کے آئینے میں ہے تصویر یار 
جب ذرا گردن جھکائی .. دیکھ لی 
.
اسی وجدانی علم کی دوسری مثال خیر و شر کا تعین ہے. سورہ الشمس میں ارشاد باری تعالیٰ ہے " اور قسم ہے انسان کے نفس کی اور جس نے اسے درست کیا۔  پھر اسے فجو ر و تقویٰ ( خیر و شر) کا الہام کیا۔"  یہی وجہ ہے کہ پوری انسانیت بلاتفریق وقت و نسل کے کچھ مسلمات کو خیر اور کچھ کو شر تسلیم کرتی آئی ہے. ان مسلمات میں کوئی ادنیٰ درجہ کا اختلاف بھی پیدا نہیں ہوتا. جیسے ہر انسان یہ جانتا ہے کہ جھوٹ بولنا شر اور سچ بولنا خیر کی قدر ہے یا پھر کسی بے گناہ کی جن تلف کرنا اسے اذیت دینا شر اور کسی معصوم کی جان بچا لینا خیر ہے. اسی طرح ماں میں اولاد کے لئے مامتا کا جذبہ انسانی فطرت میں الہام ہے لہٰذا اس کی گواہی ہم ہر ماں کی انمول محبت کی صورت میں ہم روز دیکھتے ہیں. یہ درست ہے کہ کبھی ایسی سنسنی خیز خبر بھی سننے کو مل جاتی ہے کہ ایک ماں نے اپنے سگے بچہ کو مار مار کر قتل کردیا. یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ہر ماں میں مامتا الہام شدہ ہے تو پھر ایسا کیسے ممکن ہوا؟ ذرا دقت نظر سے دیکھیں تو بات نہ صرف سمجھ آجاتی ہے بلکہ اس افسوسناک واقعہ کا 'خبر' بن جانا خود اس کی دلیل دکھائی دیتا ہے کہ یہ اقدام انسان کی مجموعی فطرت کے خلاف تھا. تب ہی تو اسے خبر سمجھا گیا. اب غور کیا جائے گا کہ کیا اس ماں کی ذہنی حالت درست تھی ؟ یا وہ کون سے غیرمعمولی عوامل تھے جس نے اس کی فطرت کو اس درجہ مسخ کرڈالا ؟ استثنیٰ ہر معاملے میں ہمیشہ موجود ہوتی ہے مگر ان معاملات میں کلیہ یہی ہے کہ استثنات کو بنیاد بنا کر عموم کا حکم نہیں لگایا جاسکتا. اس کا فیصلہ تو انسانوں کے سواد اعظم کو مدنظر رکھ کر ہی کیا جائے گا. پھر یہ بھی ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ اگر کوئی شخص کسی فطری تقاضہ کا انکار کر دے تو عین وقت انکار وہ اپنے ہی کسی عمل سے اس کا اقرار بھی کرنے پر مجبور ہوتا ہے. مثال کے طور پر ایک انسان آدم خور ہوجاتا ہے اور برملا کسی انسان کو قتل کرکے کھالینا شر تسلیم نہیں کرتا. ٹھیک اسی وقت اگر اسے یہ معلوم ہو کہ کوئی دوسرا آدم خور ہوکر اسے مار دینا چاہتا ہے تو وہ کبھی اسے اپنے لئے قبول نہیں کرتا. حالانکہ اگر فی الواقع یہ عمل اسکی نظر میں خیر تھا تو اسے معترض نہ ہونا چاہیئے تھا. غرض انسان اپنی فطرت سے انکار تو کردیتا ہے مگر فرار حاصل نہیں کرپاتا. اس کا دل یہ خوب جانتا ہے کہ اس کا کیا ہوا عمل خیر ہے یا شر ؟ اسی کو حدیث میں اس اسلوب میں کہا گیا کہ 'اپنے دل سے فتویٰ لو‘ اور یہ کہ ’گناہ وہ ہے جو تمہارے دل کو کھٹکے چاہے تمہیں فتویٰ دینے والوں نے فتویٰ کیوں نہ دے دیا ہو‘
.
جان لیجیئے کہ یہ فطری الہام یا علم وجدان ہر انسان کے شعور میں پیوست ہے اور اس کی حیثیت حاکم نہ بھی ہو تو مقدم ضرور ہے. اگر فطرت میں یہ علم نہ موجود ہوتا تو دین پر عمل کرنا تو کجا خدا کی صفاتی معرفت بھی ہمارے لئے ممکن نہ تھی. ہمارے علم کی حدود ہمیں خدا کی صفات کو جاننے تک محدود رکھتی ہیں. ہم خدا کی ذات کو ليس كمثله شئ کی بنیاد پر نہیں جان سکتے مگر صفات بھی ذات سے علیحدہ نہیں ہوا کرتیں. ان صفات کا ٹھیک علم ہی معرفت کا دروازہ کھولتا ہے. الله کی صفات کو سمجھنے کیلئے لازم ہے کہ انسان اپنی صفات پر نظر کرے. رب تعالیٰ نے ہماری فطرت میں اپنی صفات کا بشری استعداد کے مطابق شعور بھی رکھا ہے اور عکس بھی. اگر رحم کی صفت ہماری فطرت میں پنہاں نہ ہوتی تو ہم کبھی رب کے رحمٰن و رحیم ہونے کو نہ سمجھ سکتے. اگر انسانی فطرت میں علم و حکمت کی صفت موجود نہ ہوتی تو ہم کبھی رب کے علیم و حکیم ہونے کو نہ سراہتے. مختصر یہی کہ انسانی فطرت یا علم وجدان غیرمعمولی اہمیت کا حامل ہے. خود شناسی ہی خدا شناسی تک لے جاتی ہے. شائد یہی وجہ ہے کہ ایک معروف روایت ضعیف ہونے کے باوجود اہل علم کی جانب سے ہمیشہ پیش کی جاتی رہی ہے مَنْ عَرَفَ نَفْسَہ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّہ' - "جس نے اپنے نفس کو پہچانا اس نے اپنے رب کو پہچانا۔"
.
اسی طرح ہر بچہ پیدا ہوتے ہی دور و قریب کا فرق جانتا ہے. محبت اور نفرت سے واقف ہوتا ہے. خوشی اور غم کو محسوس کرتا ہے. یہ سب اسے کوئی سکھاتا نہیں ہے بلکہ وہ اس دنیا میں یہ سب سیکھ کر آتا ہے. ہر انسان میں ایک جمالیاتی حس بھی فطری طور پر موجود ہوتی ہے لہٰذا وہ شکل و صورت سے لے کر کلام و سماعت میں خوبصورتی تلاش کرتا ہے. ایسی ہی اور بہت سی مثالیں دی جاسکتی ہیں جن سے فطرت میں مضمر اس علم کی مختلف جہتیں منکشف ہوتی نظر آتی ہیں جو انسان کا حقیقی شاکلہ ترتیب دیتی ہیں
.
علم وحی
=====
.
یہ علم کی وہ برتر قسم ہے جو الله عزوجل کبھی براہ راست اور کبھی اپنے ملائکہ کے ذریعے پیغمبر کو عطا کرتے ہیں. پھر پیغمبر کی زبان سے یہ پیغام مخاطبین تک منتقل ہوتا ہے. اس علم کے حصول کا یہی واحد راستہ اور طریق ہے. اس کے علاوہ محض عقلی موشگافی یا تجرباتی ریاضت سے اس کا حصول نہیں کیا جاسکتا. انسانوں کی ہدایت کیلئے الله نے ہر دور میں ایسے پیغمبروں کو معبوث کیا ہے جو وحی ربانی کو صحائف کی صورت میں منتقل کرتے رہے. کسی انسان کیلئے ممکن نہیں کہ وہ اللہ سے کلام

Friday, 11 March 2016

عمل اہم ہے یا نیت ؟



عمل اہم ہے یا نیت ؟



.
امت مسلمہ کے دو ممتاز ترین محدثین امام بخاری اور امام مسلم نے اپنے اپنے پیش کردہ احادیث کے مجموعہ کا آغاز جس حدیث سے کیا ، اس کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ 
.
"اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے"
.
دین کی بنیادی تعلیم رکھنے والا ہر طالبعلم اس امر سے خوب واقف ہے کہ وہ عمل جو صالح نیت سے خالی ہو یا جس کی نیت میں کھوٹ ہو .. ایسا عمل چاہے اپنے ظاہر میں کیسا ہی دلفریب کیوں نہ نظر آئے؟ اللہ رب العزت کی بارگاہ میں مقبول نہیں ہوسکتا. لیکن میرے عزیز جان رکھیئے ، اس پیغام سے احقر درجہ میں بھی یہ اخذ کرنا درست نہیں کہ عمل کے ظاہر اور اسکے کرنے نہ کرنے کی کوئی اہمیت نہیں. دین ظاہر و باطن کی یکجائی کا نام ہے. باطن کا اہم ہونا ظاہر کے غیراہم ہونے کی دلیل ہرگز نہیں ہے. اگر ایسا ہوتا تو اسلامی عبادات و معاملات کی پوری عمارت منہدم ہوجاتی. اگر معاملہ صرف نیت یا باطن کا ہوتا تو اس دنیا میں ہمیں بھیجنے کا کوئی مقصد باقی نہیں رہتا. اسی حقیقت کی بنیاد پر دنیا کو 'دار العمل' سے تعبیر کیا جاتا ہے. جیسے ہمیں اپنی نیت کی تذکیر کی ضرورت ہے، ٹھیک ویسے ہی ہمیں اپنے عمل کا ظاہر بھی درست رکھنا ہے.
.
کچھ بھلے مانس کہتے ہیں کہ "اگر ہماری نیت ٹھیک ہے تو ہم لازمی بخشے جائیں گے". یہ دعویٰ اپنے جزو میں تو درست ہے کہ رب الکریم کے ہاں واقعی نیت کو دیکھا جائے گا مگر اپنے کل کے حساب سے فاسد بات ہے. اگر محض نیت کا درست ہونا ہی ٹھیک ہے تو پھر کیا ہمیں 'رابن ھڈ' بن جانا چاہیئے؟ رابن ھڈ ایک ایسا ڈاکو تھا جو امیروں سے مال لوٹ کر غریبوں میں بانٹ دیتا تھا. نیت تو اسکی بھی بہت اچھی تھی. یا پھر ہمیں وہ خود کش بمبار بن جانا چاہیئے جو اپنی دانست میں اسلام کی سربلندی کیلئے مسافروں کی بس کو اڑا دیتا ہے؟ نیت کے اخلاص میں تو اسکی بھی کوئی کمی نہیں. 
.
میرے رفیق ! جان لو، ہم صرف نیت کے تزکیہ کو موضوع بناکر عمل کی درستگی سے غافل نہیں رہ سکتے. کبھی سوچا کہ ہر مسلمان پرعلم حاصل کرنا فرض کیوں کیا گیا ہے ؟ صرف اسلئے کہ وہ کسی عمل کے ارتکاب سے قبل اس عمل کے درست ہونے نہ ہونے کا فیصلہ کرسکے. یہ جان سکے کہ اس عمل کو شرعی اعتبار سے انجام دینا کیسے ہے؟ کن شرائط کو ملحوظ رکھنا ہے ؟ کن محرمات کا لحاظ کرنا ہے؟ .. اب اگر کوئی شخص عقل رکھنے اور کثیر مواقع ہونے باوجود کسی عمل کے بارے میں علم حاصل نہ کرے اور نتیجہ میں غلط عمل یا غلط طریق سے عمل انجام دے دے تو کیا ایسا شخص الله کی بارگاہ میں جواب دہ نہیں ہوگا؟ کیا اس کا یہ عذر کافی ہوگا کہ میری نیت تو ٹھیک تھی؟ 
.
ہمارا حساب روز آخر ہر اس پیمانے سے کیا جائے گا جس کے ہم مکلف تھے. ہمارا رب لطیف و خبیر ہے ، وہ ہر انسان کی کوشش، مواقع، صلاحیت، نیت اور عمل سب کا جائزہ لے کر اپنا فیصلہ سنائے گا. لہٰذا اس سراب سے باہر آجایئے کہ محض نیت کی پاکیزگی ہی کافی ہے
.
شائد کے اتر جائے ، ترے دل میں میری بات ؟
.
====عظیم نامہ====

Thursday, 10 March 2016

روح کے زخم


 روح کے زخم




بچپن میں میرے محلے میں ایک صاحب رہا کرتے تھے جن کا کسی صدمہ یا بیماری کی وجہ سے دماغی توازن بگڑگیا تھا. جب وہ ٹھیک ہوا کرتے تھے، اس وقت بھی انہیں جانتا تھا۔ صاف رنگت ، مضبوط شخصیت اور مہذب لہجہ – یہ تینوں اوصاف ان میں موجود تھے۔ لیکن اس دماغی بیماری کی وجہ سے ان پر اکثر ایسی حالت طاری ہوجاتی کہ وہ گندی گالیاں دینے لگتے۔ ظاہر ہے کہ اس وجہ سے سب ان سے خوفزدہ رہنے لگے۔ بچے ڈرتے بھی تھے اور موقع ملتے ہی انہیں چھیڑ کر مزہ بھی لیتے تھے۔ میں بھی ان سے گھبراتا تھا اور انہیں دیکھتے ہی اپنا رستہ بدل لیا کرتا تھا۔ وقت گزرتا گیا، میں انگلینڈ آ گیا اور یہیں زندگی گزرنے لگی۔ کچھ سالوں پہلے جب میں پاکستان گیا تو وہ نظر آئے۔ اس وقت بھی ان پر اسی دماغی بیماری کا غلبہ تھا، ان کی آنکھیں غصہ سے سرخ اور زبان پر گالیاں تھیں۔ لیکن اس بار مجھے نہ معلوم کیا ہوا کہ میں ہمت کر کے ان کے پاس چلا گیا اور گرم جوشی سے انہیں سلام کیا۔ وہ اس شدید غضب کی کیفیت میں بھی چونک گئے اور غیریقینی آنکھوں سے مجھے دیکھنے لگے۔ پھر گڑبڑا کر دھیمے لہجہ میں وعلیکم السلام کہا۔ مجھ سے ہاتھ ملایا اور خاموشی سے گھر کے اندر چلے گئے۔ اس کے بعد میرا معمول ہوگیا، ہر روز جب انہیں دیکھتا تو جا کر ملتا اور سلام کرتا۔ اس کے بعد جب بھی وہ اس غصہ کی کیفیت میں ہوتے اور مجھے دیکھتے تو خاموش ہو جاتے۔ کچھ مہینوں پہلے جب دوبارہ کراچی گیا تو وہ مجھے دیکھ کر خود پاس آئے، سلام دعا کی، مزید پوچھا کب آئے؟ کیسے ہو؟ وغیرہ.. ان کے جانے کے بعد میں خوشی اور حیرت دونوں میں مبتلا یہ سوچتا رہا کہ کیسے ہمارا ایک بظاہر معمولی عمل لوگوں کی زندگی کو بہتر کرسکتا ہے ؟
...
کافی سالوں پہلے میں ایک ریٹیل اسٹور میں مینجر ہوا کرتا تھا۔ وہاں ایک انگریز لڑکی سے تمام مینجرز بہت تنگ تھے۔ یہ لڑکی چھوٹی چھوٹی باتوں پر آنسو بہاتی رہتی اور ہر دوسرے روز بیہوش ہوجاتی۔ شکل نقاہت کی وجہ سے اس قدر سفید تھی کہ مانو خون ہی نہ ہو۔ قانونی پیچیدگی کی وجہ سے اسے نکالنا بھی ہائر مینجمنٹ کے ہاتھ میں نہ تھا۔ لہٰذا اسے ایک کے بعد دوسرے ڈیپارٹمنٹ میں ٹرانسفر کیا جاتا رہا مگر ہر ڈیپارٹمنٹ مینجر نے کان پکڑ لئے۔ روز مینجر اس لڑکی پر چیختے چلاتے مگر بجائے اس کے کہ لڑکی کا کام بہتر ہوتا، وہ اور مزید ڈپریسڈ ہوتی چلی جاتی۔ مجھے اس زمانہ میں کیش کاونٹرز کا انچارج بنایا ہوا تھا۔ مینجرز کی میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ اسے کیش کاونٹرز میں رکھا جائے اور ایک مہینہ بعد اسپیڈ پرفارمنس کی بنیاد پر رپورٹ بنائی جائے جس کے بعد اس لڑکی کو جاب سے نکالا جاسکے۔ یہ میرے لئے ایک اذیت کا سبب تھا، میری دل سے خواہش تھی کہ اس لڑکی سمیت کسی کی بھی جاب میری وجہ سے نہ جائے۔ پہلے ہی روز وہ بیہوش ہوگئی۔ اسے ہوش میں لایا گیا اور کونسلنگ کیلئے پہلی بار مجھے مقرر کیا گیا۔ گفتگو سے مجھے اندازہ ہوا کہ اس کے پارٹنر نے اسے نہ صرف چھوڑ دیا ہے (بریک اپ) بلکہ اس کو یہ یقین بھی دلا دیا ہے کہ وہ نہایت ناکارہ انسان ہے۔ میں اس دن اسکی ذہنی حالت کو سوچتا رہا۔ اگلے روز میں نے اسے ایک آسان سا کام دیا جو اس نے کچھ دیر میں مکمل کر لیا اور مجھے ڈرتے ڈرتے چیک کرنے کیلئے بلایا۔ کام میں ابھی بھی کچھ نقص باقی تھے مگر میں نے تنقید کی بجائے اسکی خوب تعریف کی۔ اپنی تعریف سن کر اس کی آنکھوں میں غیر یقینی کا طوفان امڈ آیا جیسے یہ کوئی ناممکن بات تھی جو میں کہہ گیا۔ میں نے کچھ اور اسٹاف ممبرز کو بلایا اور اس کا کام دکھا کر کہا کہ دیکھو کم وقت میں کام اس طرح سے کیا جاتا ہے۔ اس معمولی واقعہ کے بعد جیسے اس لڑکی کو نیند سے جگا دیا۔ وہ ہر کام دلجمعی اور پھرتی سے کرنے لگی۔ میں بھی اس کے کام کی بالضرور تعریف کرتا۔ مہینہ بعد مجھے مینجرز میٹنگ میں پھر بلایا گیا۔ ہیڈ مینجر نے کہا، عظیم ہم تو اس لڑکی کو نکالنا چاہتے تھے مگر اس نے تو کمال کردیا۔ میں نے پوچھا کہ ایسا کیا ہوا؟ تو میرے سامنے وہ رپورٹ رکھ دی گئی جس میں پچاس اسٹاف ممبرز کی پرفارمنس کا کوائلٹی اور تیزی کے تناسب سے جائزہ لیا گیا تھا۔ اس لڑکی کا نام پہلے نمبر پر تھا۔ میں حیرت اور خوشی سے اس رپورٹ کو دیکھے جاتا تھا اور سوچ رہا تھا کہ کیسے بعض اوقات ہماری معمولی سی حوصلہ افزائی ایک تھکے ہوئے انسان کو دوبارہ کھڑے ہونے کی طاقت عطا کردیتی ہے ؟
...
اسی طرح ایک کمپنی میں کام کرتے ہوئے مجھے دیگر مسلم کام کرنے والے دوستوں نے ایک لڑکی کے بارے میں غصہ و حقارت سے بتایا کہ اس لڑکی نے کچھ سال پہلے اسلام چھوڑ کر اور اپنے گھر والو سے بھاگ کر ایک سکھ لڑکے کے ساتھ رہائش کرلی ہے۔ یہی وجہ تھی جسے بنیاد بناکر کوئی بھی مسلم نہ اس سے قریبی دوستی رکھتا اور نہ ہی اسے مسلمان سمجھتا۔ اگلی بار جب میرا اس سے سامنا ہوا تو میں نے اس گڈ مارننگ کہنے کی بجائے السلام و علیکم کہا۔ اسے سن کر وہ جھینپ کر آگے بڑھ گئی۔ اگلے روز پھر میں نے سلام کیا تو اس نے فوری وعلیکم السلام کہا جیسے انتظار میں ہو۔ پھر وہ خود سلام میں پہل کرنے لگی، میں نے اس کے ماضی یا حال کے بارے میں کبھی گفتگو نہ کی بلکہ انجان بنا رہا۔ اس کے برعکس جب ٹھیک موقع ہوتا تو اس سے دیگر اسلامی موضوعات پر بات کہہ دیتا۔ کچھ دنوں میں رمضان کا مہینہ آگیا۔ پہلے ہی روز وہ تیزی سے آئی اور پوچھا کہ عظیم بھائی آپ نے روزہ رکھا ہے؟ میں نے اثبات میں جواب دے کر جوابی پوچھا کہ بہن آپ نے رکھا ہے روزہ؟ زور سے گردن ہلا کربولی کہ جی اور باقی بھی رکھوں گی۔ چند مہینوں بعد معلوم نہیں کس وجہ سے اس نے اس سکھ دوست سے علحیدگی اختیار کرلی اور واپس اپنے گھر والو کے ساتھ ملنے جلنے لگی۔ عبادات اور رب سے تعلق دوبارہ استوار ہوتا نظر آنے لگا۔ مجھے خوشی تھی کہ شائد کسی کمتر درجہ میں اس کے اس بدلاؤ میں مجھے بھی حصہ بننے کا موقع ملا۔ سوچتا ہوں کہ کیسے معمولی باتیں انسان کی سوچ کا زاویہ بدل دیا کرتی ہیں ؟
...
مجھے آج یہ حقیقت سمجھ آگئی ہے کہ انسان میں بڑی بڑی تبدیلیاں اکثر چھوٹی چھوٹی باتوں سے آیا کرتی ہیں۔ زخم صرف جسمانی نہیں نفسیاتی بھی ہوتے ہیں اور اگر مرہم رکھا جائے تو یہ روح کے زخم بھر بھی سکتے ہیں، یہ گھاؤ ٹھیک بھی ہوسکتے ہیں۔
.

====عظیم نامہ====

Wednesday, 9 March 2016

وہ لڑکی ..


وہ لڑکی 



آج سے کافی سالوں پہلے میں انگلینڈ کے ایک مشہور فیشن ریٹیل اسٹور کا مینجر ہوا کرتا تھا. میرا نرم مزاج جہاں میرے ساتھ کام کرنے والو کیلئے سکون کا سبب تھا ، وہاں میرے سینئر مینجرز میری نرم مزاجی سے نالاں تھے. ان کے نزدیک کامیاب مینجر بننے کیلئے لازم تھا کہ میں جائز و ناجائز انداز میں اپنے ماتحت ملازمین کو شدید دباؤ میں رکھوں. اس کے برعکس میری سوچ ہمیشہ یہ رہی کہ جو نتائج باہمی محبت و خلوص سے حاصل ہوتے ہیں ، وہ کبھی بھی بے وجہ سختی سے نہیں ہوا کرتے. مجھے میرا باس سمجھایا کرتا : 

.
"Azeem mate, Be a Rottwieler , Be as aggressive as you can"
.
غرض یہ کہ مجھے اپنے سینئرز کی ایک مسلسل خاموش مخالفت کا سامنا رہا کرتا تھا مگر وہ میری اور میرے ماتحت اسٹاف کی اچھی کارکردگی دیکھ کر کوئی اقدام کرنے سے قاصر تھے. اسی زمانے میں ایک نوجوان لڑکی نے کمپنی جوائن کی جو دیکھتے ہی دیکھتے سب مینجرز کیلئے درد سر بن گئی. اس لڑکی کا معاملہ سمجھ سے باہر تھا، وہ کسی بھی کام کو ٹھیک سے انجام نہ دے پاتی. یہ لڑکی ذہنی بیمار لگتی تھی. اچانک رونے لگتی اور ہر دوسرے دن بیہوش ہوجاتی. اس لڑکی کو ہر مینجر کے پاس ایک کے بعد ایک منتقل کیا گیا کہ شائد کسی ڈپارٹمنٹ میں چل سکے. ہر مینجر اس پر اپنے طریق سے سختی برتتا مگر نتیجہ میں اسکی حالت مزید بدتر ہوتی جاتی. اس لڑکی کو برطانوی قانون کے مطابق صرف کم پرفارمنس یا خراب صحت کی وجہ سے نکالا نہ جاسکتا تھا لہٰذا اس سے چھٹکارا حاصل کرنا ہائر مینجمنٹ کیلئے معرکہ بنا ہوا تھا. پھر ایک روز مینجرز کی ایک ہنگامی میٹنگ بلائی گئی جس میں مجھے بتایا گیا کہ اس لڑکی کو میرے ڈپارٹمنٹ میں منتقل کیا جارہا ہے ، جہاں اسے باقاعدہ ایک منظم انداز سے جاب سے نکالنے کا بندوبست کیا جائے گا. اسے قانونی زبان میں 
"Constructive Dismissal" 
کہا جاتا ہے. اب چونکہ میرے ڈپارٹمنٹ میں پسیوں کا حساب کتاب اور گاہکوں سے پیسہ لینا بھی شامل تھا جو نہایت تیزی کے ساتھ نمٹانا ہوتا ہے لہٰذا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ یہ لڑکی وہاں خاطر خواہ کارکردگی دکھا پاتی. اسٹور میں اعلان کر دیا گیا کہ اس مہینہ کمپیوٹر ریکارڈ کے ذریعے تمام کیش کاؤنٹرز کی کارکردگی کا حساب رکھا جائے گا اور اگر کوئی کمپنی گائیڈ لائن کی کم از کم رفتار سے مطابقت نہ رکھے گا تو اسکے خلاف ڈسپلنری ایکشن لیا جائے گا جو برطرفی کی صورت میں بھی ہوسکتا ہے. 
.
اس سب مخفی انتظام کے بعد لڑکی کو میرے ڈپارٹمنٹ میں منتقل کردیا گیا. پہلے ہی دن وہ لڑکی حسب معمول بیہوش ہوگئی. اب بطور انچارج مجھے اس صورتحال کو سنبھالنا تھا. لڑکی کے ہوش میں آتے ہی اسے میں نے آفس روم میں طلب کرلیا. وہ سہمی کانپتی اپنے مردہ حد تک زرد سفید چہرہ لئے آفس میں داخل ہوئی. میں نے اس کا تپاک سے استقبال کیا اور بیٹھنے کو کہا. اس نے گھبرا کر میری جانب دیکھا. اسے پوری امید تھی کہ اب ہمیشہ کی طرح اسے ذلیل کیا جائے گا مگر میرا نرم اور نارمل لہجہ اسکی سمجھ میں نہیں آرہا تھا. میں نے اس کی خیریت دریافت کرکے پوچھا کہ کیا وہ اپنے گھر جانا چاہتی ہے؟ اس نے ڈبڈبائی آنکھوں سے نفی میں سر ہلادیا. کچھ دیر میں نے یہاں وہاں کی ہلکی پھلکی باتیں کرکے اسے مسکرا کر جانے دیا. اب میں نے اس کو قریب سے جاننے والی اس کی ایک سہیلی کو بلوایا اور اسے اعتماد میں لینے کے بعد پوچھا کہ کیا وجہ ہے جو یہ لڑکی ہر وقت روتی رہتی ہے ، شدید بیمار لگتی ہے اور بیہوش ہوجاتی ہے؟ اس نے جھجھکے ہوئے مجھے بتایا کہ کچھ ماہ پہلے اس کا بوئے فرینڈ نے اسے سالوں ساتھ رکھنے کے بعد چھوڑ دیا ہے. ان سالوں میں اس خبیث انسان نے اس لڑکی کو یہ یقین دلادیا تھا کہ وہ ایک نہایت بدصورت اور ناکارہ انسان ہے. کم عمر ہونے کی وجہ سے سالوں بعد اب یہ لڑکی اپنے ناکارہ ہونے پر سو فیصد یقین کرچکی تھی اور نتیجہ یہ کہ خود اعتمادی کے شدید فقدان کا شکار تھی. اس دن میں سارا وقت اس معصوم لڑکی کے کیس کے بارے میں سوچتا رہا. 
.
اگلے روز میں نے اسے کیش ہینڈل کرنے کی بجائے ایک آسان سا پانچ منٹ کا کام دیا. یہ کام اس نے آدھا گھنٹے بعد مکمل کیا اور ڈرتے ڈرتے مجھے معائینہ کیلئے بلایا. کام اتنی دیر بعد بھی ٹھیک سے نہیں ہوا تھا، مگر میں نے خوب دیکھ کر اسے زوردار آواز میں شاباشی دی. جلدی سے آواز لگا کر دو مزید ماتحت اسٹاف ممبرز کو بلایا اور کام دکھاتے ہوئے ان سے کہا کہ دیکھو کم وقت میں بہترین کام ایسے ہوتا ہے ! ، اس لڑکی کے چہرے پر حیرت کی آبشار بہہ رہی تھی. اسے کسی معمولی ترین درجہ میں بھی امید نہ تھی کہ کوئی اس کے کام سے اتنا خوش ہوسکتا ہے. میں نے اسے پھر دوسرا کام دیا ، جو اس نے پہلے سے کم وقت میں بہتر طریقے سے کردکھایا. میں نے پھر زبردست تعریف کرتے ہوئے اپنی خوشی ظاہر کی اور کہا کہ یہ میری خوش قسمتی ہے جو اتنی ہارڈ ورکنگ یعنی سخت کام کرنے والی لڑکی نے میرا ڈپارٹمنٹ جوائن کیا. باقی سارا دن میں نے دیکھا کہ وہ ہنس رہی ہے ، مسکرا رہی ہے اور بھاگ بھاگ کے دوسرا کام مانگنے آجاتی ہے. اس دن کے بعد یہ لڑکی خوب دلجمعی کے ساتھ کام کرنے لگی. مینجرز حیران تھے کہ میں نے اب تک اس لڑکی کی شکایت کیوں نہیں کی؟ مگر میں نے نہ اس کی برائی میں کچھ کہا اور نہ ہی اسکی کوئی تعریف کی بلکہ خاموشی سے اس کا غیرمحسوس انداز میں حوصلہ بڑھاتا رہا. الله الله کر کے پورا مہینہ گزر گیا اور وہ دن آگیا جب کمپیوٹر رپورٹ نکالی گئی. فیصلہ یہ ہونا تھا کہ جو سب سے سست ہوگا اسے نکال دیا جائے گا اور مینجرز کو کامل یقین تھا کہ یہ سست ترین وہی لڑکی ہوگی. مگر جب رپورٹ آئی تو مینجرز سمیت پورے اسٹور میں ہنگامہ مچ گیا. وہ لڑکی سب سے زیادہ تیز رفتار ثابت ہوئی. میرا باس یہ یقین نہیں کر پارہا تھا تو اس نے دوبارہ ایک الگ انداز سے رپورٹ نکالی اور وہی نتیجہ دیکھ کر دانتوں تلے انگلی داب لی. اس لڑکی کو تیزرفتار ترین آپریٹر کا ایوارڈ دیا گیا. جسے پا کر وہ ایک بار پھر رو دی مگر اس بار یہ آنسو دکھ نہیں خوشی کی علامت تھے. مجھے الله پاک نے ایک بڑی سیکھ دی تھی کہ اس جہان میں ہر انسان قیمتی ہے اور کسی سے کم نہیں. بس بعض اوقات اسے ہمارے سہارے اور ذرا سی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے. 
.
====عظیم نامہ====

Saturday, 5 March 2016

موجودہ دور کی علمی بددیانتی


موجودہ دور کی علمی بددیانتی



موجودہ دور میں علمی بددیانتی کی ایک بدترین صورت یہ سامنے آئی ہے کہ پہلے اپنی پسند کے مطابق نتیجہ طے کرلیا جاتا ہے اور اس کے بعد قران و حدیث میں موجود دلائل کو اپنے اخذ کردہ نتیجہ میں ڈھالنے کیلئے ہر غیر شرعی طریق کو بھی شرعی بنالیا جاتا ہے
.
کوئی آیت اس نتیجے سے متصادم نظر آئے تو فکر کی بات نہیں .. اس کی ایک نئی نویلی سوٹ کرتی ہوئی تفسیر پیش کر ڈالیں، کوئی حدیث اس نتیجے سے ٹکرائے تو گھبرائیے مت .. کبھی روایت تو کبھی درایت کی چھری اس پر چلا دیں، اگر پوری علمی روایت اور علماء کا اجماع اس کے خلاف جاتا محسوس ہو تو پریشانی کی کوئی بات نہیں .. اسے اکابر پرستی کا نام دے کر رونا ڈال دیں. لیجیئے جناب .. ہوگیا نا آپ کا نتیجہ ثابت ؟ 
.
اندھی تقلید کی دن رات مخالفت کریں مگر اپنی پسند کے اہل علم کی تقدیس میں سر تا پیر ڈوبے رہیں. برداشت کا درس دیں مگر اگر کوئی گستاخ آپ کی 'روشن خیال' رائے سے مختلف بات کرے تو اسے فوری گنوار کا تمغہ دے دیں. امت کے مقبول ترین فقہاء و علماء کا علمی تنقید کے نام پر بھرکس بنا ڈالیں لیکن اپنے چنیدہ اہل علم کی شان میں کوئی گستاخی کرے تو اس پر پنجے جھاڑ کر چڑھ دوڑیں. اجتہاد نہ ہونے کا دھکڑا پیش کریں اور پھر خود مجتہد کی کرسی سنبھال لیں
.
عزیزان من کسی کی نیک نیتی پر شک نہیں ہے مگر یہ طریق اور رویہ مناسب نہیں ہے. اگر صدیوں کے علمی جمود نے ایک انتہا کو جنم دیا ہے تو آج جدیدیت کے نام پر آپ دوسری انتہا کو کیوں جنم دے رہے ہیں ؟ دین کا راستہ اعتدال کا ہے جو دونوں انتہاؤں کے بین بین ہے. دین آسان ضرور ہے مگر اسے زبردستی آسان تر بنانا ہلاکت ہے. عقل کی اہمیت دین میں ثابت ضرور ہے مگر عقل کو دین کے تابع رکھنا ہی مومن سے مطلوب ہے. دین کے کسی بھی حکم کو اخذ کرنے کا واحد ماخذ قران و سنت ہے
.
====عظیم نامہ====

Friday, 4 March 2016

فصوص الحکم



فصوص الحکم


الحمدللہ ثم الحمدللہ ، شیخ محی الدین ابن عربی کی معروف ترین کتاب 'فصوص الحکم' کا مطالعہ اپنے اختتام کو پہنچا. شیخ کو ان کے چاہنے والے شیخ اکبر کا لقب دیتے ہیں.اگر قائدانہ صلاحیتوں کی بنیاد پر محمد علی جناح کو 'قائد اعظم' تسلیم کیا جاتا ہے تو تصوف کے رموز و معارف بیان کرنے میں شیخ محی الدین ابن عربی کو 'شیخ اکبر' پکارنا میرے لئے کسی قباحت کا باعث نہیں. یہ ایک مشکل کتاب ہے جسے سمجھنے کیلئے لازم ہے کہ قاری پہلے سے قران مجید کو پڑھ چکا ہو، احادیث کے صحت و ضعف کا تصور رکھتا ہو اور علم تصوف کے بنیادی عقائد و اصطلاحات سے واقف ہو. تب ہی وہ شیخ کی اس تصنیف سے استفادہ بھی کرسکے گا اور ان سے اختلاف کا حق بھی رکھے گا. کتاب کا ترجمہ مولانا عبدالقدیر صدیقی صاحب نے فرمایا ہے. مترجم اس شدید خوف میں مبتلا نظر آتے ہیں کہ قاری شیخ کی بات کو کفر کہہ کر انکی تکفیر نہ کرنے لگے. لہٰذا وہ ساری کتاب میں اپنی توجیہات اس حد تک بیان کرتے ہیں کہ یہ فرق کرنا کٹھن ہوجاتا ہے کہ کون سی بات شیخ نے کہی اور کہاں مترجم صاحب اپنی بیان کرنے لگے. اس روش نے کتاب کی صحت کو بری طرح متاثر کیا ہے اور اسی وجہ سے مجھ پر اتنی کوفت طاری ہوئی کہ دو بار کتاب کا مطالعہ ترک کرنا پڑا. بہرحال کوئی سو صفحات کے بعد طبیعت نے اس ثقم کو تسلیم کرلیا. 

.


شیخ ابن عربی نے اس میں مختلف انبیاء کے قصص بیان کئے ہیں جو قران و حدیث میں مذکور ہیں. اس بیان میں وہ واقعات و شخصیات کی عارفانہ تفسیر کرتے ہیں جسے تفسیر نہیں بلکہ تعبیر کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے. ان تعبیرات کی بنیاد بڑی حد تک شیخ کے اپنے کشف، الہام اور تفکر پر ہے. اب ظاہر ہے کہ کسی کے ذاتی کشف کو حقیقی مطلوب سمجھ لینا شرعی اعتبار سے درست نہیں. لہٰذا ایک علم رکھنے والا قاری خود کو ان سے اختلاف کرنے پر مجبور پاتا ہے مگر ساتھ ہی یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ شیخ کی فکر کسی طالب پر کئی رموز کھول دیتی ہے جو شاید روایتی مطالعہ سے ممکن نہیں. شیخ کسی بات کے ان پہلوؤں اور زاویوں کو سامنے لاتے ہیں جنہیں عام اذہان سوچنے سے قاصر ہوا کرتے ہیں. شیخ بلاشبہ ایک نہایت زہین انسان ہیں جو حریصانہ حد تک روحانیت کے اسرار سیکھنے سکھانے کا شوق رکھتے ہیں. کتاب کے آغاز میں محسوس ہوتا ہے کہ گویا وہ ایک فلسفی ہیں جن میں کوئی صوفی چھپا بیٹھا ہے مگر بعد میں احساس ہوتا ہے کہ وہ اپنی حقیقت میں ایک صوفی ہیں جن میں ایک فلسفی پوشیدہ ہے. شیخ کچھ شرعی اصطلاحات جیسے 'نبی' وغیرہ کا استعمال کرتے ہیں اور اس کے اعتباری معنی مراد لیتے ہیں. اگر قاری کو ان کے اس لفظ سے متعلق حقیقی مراد کی خبر نہ ہو تو وہ اس اعتباری معنی کو ہی شیخ کا حقیقی مدعا سمجھ بیٹھتا ہے اور پھر اس کا نتیجہ تکفیر کی صورت میں برآمد ہوتا ہے. اسلئے لازم ہے کہ ان کی تفصیلی کتاب 'فتوحات مکیہ' پر بھی قاری کی نظر ہو. بارہا ایسے مقامات آئے جہاں میں نے عقائد و تفصیلات میں شیخ کی کسی رائے کو جزوی یا کلی طور پر مسترد کردیا مگر یہ اعتراف نہ کرنا بددیانتی ہوگا کہ اس تصنیف نے مجھے سوچ کے نئے زاویئے فراہم کئے.

دارالامتحان


دارالامتحان



اس دارالامتحان میں حق و باطل کی غیبی کشمکش روز اول سے جاری ہے. جہاں ایک جانب ابلیس کی شیطانی طاقتیں ہیں جو انسان کیلئے برائی کے ممکن دروازے کھولتی ہیں اور دوسری جانب وہ ملکوتی قوتیں ہیں جو انسان کو دین پر استقامت رکھنے میں مدد دیتی ہیں. دونوں مقابل قوتیں اپنے مؤقف کی تبلیغ کرتی رہتی ہیں. ابلیس کھلا دشمن ہے اور اسے یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ روز قیامت تک انسانوں کو بھٹکانے کی کوشش کرتا رہے. دوسری جانب ملائک جو فطری و روحانی طاقتوں پر مامور ہیں، انہوں نے سجدہ کرکے یہ وعدہ و اظہار کردیا ہے کہ وہ اس خلیفہ الارض بنی آدم کی ہر ممکن معاونت کریں گے. یہ سمجھنا ضروری ہے کہ شیطانی طاقتوں کی تبلیغ جارحانہ نوعیت کی ہوتی ہے ، جب کے ملائکہ کی مدد مدافعانہ انداز سے انسان کو سہارا دیتی ہے. اس انداز تبلیغ کے فرق کو سمجھ لینے سے دونوں قوتوں کی بہترین معرفت حاصل ہوجاتی ہے. جس سے توقعات کا طے کرنا اور اسی نسبت سے دفاعی حکمت عملی ترتیب دینا آسان ہوجاتا ہے. ان دونوں قوتوں کی دعوت کا حقیقی مخاطب انسان کا نفس ہے، جس میں ارادہ و اختیار کی آزادی کے ساتھ اچھائی اور برائی دونوں کے داعیات الہام کردیئے گئے ہیں. اگر ابلیس نہ بھی ہوتا ، تب بھی انسان نفسانی خواہشات کیلئے گناہ کا ارتکاب کرتا. شیطان صرف برائی کی ایک اضافی دعوت کا ذریعہ ہے. یہ نفس ہی تو تھا جس نے خود ابلیس کو رب تعالیٰ کے سامنے سرکشی پر مجبور کیا تھا. یہ بھی جان لیں کہ ابلیس تو ضرور شیطان ہے مگر ہر شیطان ابلیس نہیں ہے. ہر وہ انسان اور جن شیطان کہلاتا ہے جو ابلیس کے مشن کو اپنالے. 
.
انسانی نفس کا ایک حصہ نفس امارہ ہے جو حیوانی و شہوانی خواہشوں سے مغلوب ہو کر برائی کی ترغیب دیتا ہے اور نفس کا دوسرا حصہ نفس لوامہ ہے جو مدافعت کرتے ہوئے برائی پر نفس کو ملامت کرتا ہے. شیاطین انسان کو نفس امارہ کے ذریعے ورغلاتے ہیں اور ملائک نفس لوامہ کو تقویت پہنچاتے ہیں. شیطانی قوتیں آپ سے گن پوائنٹ پر کوئی کام نہیں کرواتی بلکہ آپ میں پہلے سے موجود شہوات و خواہشات کو بھڑکا کر برائی اپنانے کی صرف دعوت دیتی ہے. البتہ قران مجید میں یہ صراحت بھی موجود ہے کہ اگر کوئی سرکش شخص الله کے ذکر سے بلکل غافل ہو جائے تو اس پر شیطان اپنا تسلط قائم کرلیتا ہے. قران کے الفاظ سورہ الزخرف میں کچھ یوں ہیں 
.
'اور جو کوئی خدا کی یاد سے آنکھیں بند کرکے (یعنی تغافل کرے) ہم اس پر ایک شیطان مقرر کردیتے ہیں تو وہ اس کا ساتھی ہوجاتا ہے'
.
ایسا شخص پھر اپنے نفس کا غلام بن کر رہ جاتا ہے. اسی کو قران حکیم کی سورہ الفرقان میں کچھ یوں بھی کہا گیا ہے کہ 'کیا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے خواہش نفس کو معبود بنا رکھا ہے ؟ ..' 
.
ایسا انسانی نفس خیر سے محروم ہو کر اور نفس امارہ سے مغلوب ہو کر مرنے کے بعد ایک حدیث کے مطابق 'نفس خبیثہ' بن جاتا ہے. اس کے برعکس وہ انسان جو نفس لوامہ کی سن کر تزکیہ نفس کرتا رہتا ہے تو اس پر فرشتوں کی جانب سے سکینت کا نزول ہوتا ہے اور مرنے کے بعد اسے 'نفس المطمئنہ' کا لقب دیا جاتا ہے اور رب العزت اس سے کچھ یوں مخاطب ہوتے ہیں 
.
اے اطمینان پانے والے نفس (۲۷)
اپنے پروردگار کی طرف لوٹ چل۔ تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی (۲۸)
تو میرے (ممتاز) بندوں میں شامل ہو جا (۲۹)
اور میری بہشت میں داخل ہو جا (۳۰)
سورة الفَجر
.
====عظیم نامہ====

معرفت کا سفر


معرفت کا سفر 



معرفت ایسا سفر ہے جس کا کوئی راستہ نہیں. راستے دور جانے کیلئے ہوتے ہیں اور یہاں کہیں جانا نہیں ہے بلکہ خود کو پانا ہے. خود شناسی ہی اکثر خدا شناسی کا دروازہ کھول دیتی ہے. چنانچہ معرفت کوئی مافوق الفطرت عمل نہیں بلکہ شعوری دریافت کا نام ہے. خدا کو ماننا خوب ہے، خدا کو جاننا خوب تر ہے اور خدا کو جان کر ماننا عارف بنادیتا ہے. 

. 
====عظیم نامہ====

توہین رسول ص اور مسلمان امت


توہین رسول ص اور مسلمان امت 




یہ بات کوئی ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ ہمیشہ سے یورپ سمیت دنیا بھر کے کتب خانے اسلام مخالف تصنیفات سے بھرے رہے ہیں. پچھلی کچھ دہائیوں میں تو اس میں ایسی غیرمعمولی تیزی آئی ہے کہ ایک اندازے کے مطابق، مذہبی تصنیفات میں سب سے زیادہ کتابیں رسول اکرم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دعویٰ رسالت کے خلاف لکھی گئی ہیں. ایسی بیشمار کتب ہمیشہ منظر عام پر آتی رہی ہیں جن میں وجود خدا سے لے کر دعویٰ رسالت تک پر شدید تنقیدات کی گئیں مگر تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں نے اسکے جواب میں کسی کا سر نہیں پھوڑا، کسی کو زدوکوب نہیں کیا، کوئی واویلا نہیں مچایا بلکہ یا تو دلیل سے جواب دیا یا پھر خاموشی اختیار کی. وجہ صاف ہے کہ قران حکیم تو خود مکالمہ کی فضا کو فروغ دیتا ہے، وہ سوال پوچھنے اور دلیل سے بات کرنے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے. وہ تشدد کی نہیں بلکہ احسن انداز دعوت کی تعلیم دیتا ہے. 
.
معاملہ بگڑتا تب ہے جب کوئی اسلام مخالف شخص تہذیب کا دامن چھوڑ کر اور علمی رویہ ترک کرکے گندی زبان اور اسلوب اختیار کرلیتا ہے.، سوال یا دلیل کی بجائے کارٹون یا خاکے بنا کر تضحیک کرتا ہے، رسول عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف نازیبا الفاظ استمعال کرتا ہے. یہی وہ مقام ہے جہاں اکثر اوقات عالم اور ان پڑھ دونوں طرح کے امتی ایک ہوجاتے ہیں. غیرت ایمانی ایسے جکڑتی ہے کہ گنہگار ترین انسان بھی سراپا احتجاج بن جاتا ہے. شرعی احکام بھول جاتے ہیں. یہ ایسی دیوانہ وار محبت ہے جس میں گستاخ کا قتل تو ایک طرف وہ امتی اپنا ہاتھ خود کاٹ کر اپنے جسم سے جدا کرسکتا ہے اور اپنے گھر کو خود آگ لگاسکتا ہے. میں یہ نہیں کہہ رہا کہ ایسا کرنا درست ہے. ظاہر ہے ایسا کرنا شریعت اور قانون دونوں اعتبار سے قابل گرفت ہے اور ہم اس عمل کو ہر ممکن انداز میں روکیں گے. مگر یہ مومن کا وہ بریکنگ پوئنٹ ہے جہاں وہ نتیجہ سے ماوراء ہوجاتا ہے. اسی لئے لازم ہے کہ مسلمانوں کے ملک میں اس ضمن میں سخت قانون سازی ہو اور توہین رسالت کو ناممکن بنادیا جائے. ساتھ ہی اس بات کو باور کروایا جائے کہ شاتم رسول سمیت کسی بھی مجرم کو کوئی فرد ازخود سزا نہیں دےسکتا. البتہ دنیا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ مومن ایک بار اپنے والدین کے خلاف تو گالی برداشت کرسکتا ہے مگر اپنے محسن محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف گندی زبان برداشت نہیں کرسکتا. مجھے حیرت ہوتی ہے ان احباب پر جو ملحدین کی گستاخی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر مبنی پوسٹوں کو نہ صرف گوارا کرتے ہیں بلکہ بعض اوقات لائیک بھی کررہے ہوتے ہیں. یاد رکھیں مخالف نقطہ نظر کیلئے برداشت ایک چیز ہے اور غیرت ایمانی کا سودا کرلینا بلکل دوسری چیز.
.
====عظیم نامہ====