Friday, 15 January 2016

سچا محقق

سچا محقق


کیا آپ ایک عرصہ سے دینی کتب کا مطالعہ کرتے رہے ہیں ؟ ... اگر ہاں تو ایک بار اپنے ذاتی کتب کے اس ذخیرہ کو سامنے رکھیئے جو آپ پڑھ چکے ہیں اور دیانتداری سے جائزہ لیجیئے کہ کہیں ان کتب کی غالب اکثریت کسی ایک مکتب فکر یا کسی خاص عالم سے متعلق تو نہیں ہیں ؟ ... اگر جواب ہاں میں ہے تو آپ کی تحقیق کا غیرجانبدار ہونا ناممکن ہے. 

.
ایک سچا محقق ہر مکتب فکر کا ایمانداری سے مطالعہ کرتا ہے. وہ جہاں کسی عالم یا مسلک کی کسی بات سے علمی اختلاف رکھتا ہے وہاں اس میں اتنی اخلاقی جرات بھی ہوتی ہے کہ وہ اسی عالم یا مسلک کی کسی دوسری بات کی تعریف کرسکے. ایک انسان چاہے وہ کسی روایتی مسلک سے وابستہ ہو یا کسی جدید مفکر کا معتقد، اگر اس کا عمل یہ ہے کہ وہ ایک ہی نکتہ نظر کی کتب کو پڑھنا پسند کرتا ہے اور دیگر آراء پر مرتب کتب اس کی طبعیت پر شدید گراں گزرتی ہیں تو یہ شخص یقینی طور پر اندھی تقلید کا حامل ہے. چاہے اسے اپنے غیرجانبدار ہونے کے بارے میں کتنا ہی اطمینان کیوں نہ حاصل ہو. اس شخصیت پرستی یا مسلک پرستی کا شکار صرف روایتی مسالک نہیں ہیں بلکہ اندھے مقلد آپ کو جدید اہل علم جیسے غامدی صاحب ، پروفیسر احمد رفیق اور مولانا وحید کے ہاں بھی بکثرت مل جاتے ہیں. گو کے اکثر جدید و قدیم اہل علم یا محققین اپنی اندھی تقلید سے روکتے رہے ہیں
.
====عظیم نامہ=====

No comments:

Post a Comment