Wednesday, 20 January 2016

نو سو چوہے کھا کر بلی حج کو چلی ؟



نو سو چوہے کھا کر بلی حج کو چلی ؟


.


گناہوں کی کثرت کی وجہ سے کبھی اپنے نیک اعمال ترک نہ کریں ... یہ شیطان کا دھوکہ ہے کہ وہ کبھی تو آپ کو اللہ کی رحمت سے مایوس کرتا ہے تو کبھی منافقت کا طعنہ مار کر نیک عمل سے روکتا ہے ... وہ وسوسہ ڈالتا ہے کہ تمھاری اس لنگڑی لولی عبادت کا کیا فائدہ ؟ ... تمھاری کھوکھلی نماز کس کام کی؟ .. تمھاری بار بار کی جھوٹی توبہ کی کیا اہمیت؟ ... یا تمھارے ان تھوڑے سے صدقات کا کیا مصرف ؟ ... اگر آپ کسی نیکی کا ارادہ کریں تو وہ جلدی سے آپ کو آپ کے بیشمار گناہ یاد دلا کر اس ایک نیکی سے باز رکھتا ہے .. اسکی پوری کوشش یہ ہوتی ہے کہ اگر آپ نے اب تک ننانوے گناہ کئے ہیں تو اس کے اپر آپ ایک اور گناہ ہی کریں ، اگر کہیں آپ ان ننانوے گناہوں کے بعد ایک نیکی کا ارادہ کرلیں تو وہ آپ کا تمسخر اڑا کر سرگوشی کرتا ہے کہ 'اچھا نو سو چوہے کھا کر بلی حج کو چلی ؟' .. ہرگز اس مکار کے دھوکے میں نہ آئیں .. وہ تو چاہتا ہی یہ ہے کہ آپ اپنے اس رب سے مایوس ہوجائیں جس کی نمائندہ ترین صفات رحمٰن و رحیم کی ہیں .. وہ جانتا ہے کہ مایوسی کفر ہے اور رب تعالیٰ کی رحمت سے مایوس شخص کو کہیں پناہ نہیں ملتی .. 
.
جان لیجیئے کہ آپ کے گناہ اگر زمین و آسمان کی وسعت اور سمندر پر پھیلے جھاگ سے بھی زیادہ ہیں تو وہ ہرگز ہرگز الله کی رحمت سے زیادہ نہیں ہو سکتے ... ہمارا رب ایسا رحمٰن ہے جو گنہگار ترین بندے کی توبہ کا انتظار کرتا ہے کہ کب وہ توبہ کرے اور کب میں اپنے بندے کو معاف کردوں ؟ ... لہٰذا یہ نہ سوچو کہ ادھر توبہ کرتا ہوں اور ادھر ٹوٹ جاتی ہے .. بلکہ یہ سوچو کہ ادھر سچی توبہ کی اور ادھر سارے سابقہ گناہ معاف ! .. ہمارا رب ایسا ہی غفار ہے جو ایک نیکی کا شمار کم از کم دس سے سات سو نیکیوں کے برابر کرتا ہے. جب کے گناہ کو ایک ہی شمار کرتا ہے. اگر نیکی کی صرف نیت کرلو تو نیکی لکھ دیتا ہے لیکن بدی کی محض نیت پر گناہ نہیں لکھتا .. کہیں وہ کہتا ہے کہ بڑے گناہوں سے بچ جاؤ تو چھوٹے گناہ میں ایسے ہی معاف کردوں گا .. اور کہیں وہ دعوت دیتا ہے کہ بس ایک ندامت کا آنسو گرا کر ، توبہ کیساتھ میری جانب پلٹنے کا ارادہ کر لو تو میں سب صغیرہ کبیرہ گناہ تمہارے حساب سے مٹا دوں گا .. اگر توبہ پر قائم رہے تو گناہ کو نیکی سے بدل دوں گا اور اگر اگر توبہ ٹوٹ گئی تو مایوس نہ ہونا .. لاکھ بار واپس آؤ گے لاکھ بار تمھیں معاف کردوں گا ... میرا اور آپ کا رب ایسا ہی رحیم ہے .. بس سرکشی نہ کرنا ، کھلا شرک نہ کرنا ، زمین پر فساد نہ کرنا ، جانتے بوجھتے حق کو نہ چھپانا اور دیگر انسانوں کے حقوق نہ مارنا .. یاد رکھو کہ اگر گناہ کوشش کے باوجود نہیں چھوٹ پارہے تو اسکی وجہ سے نیکی کرنا نہ چھوڑ دینا ! .. کلام پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ (بے شک نیکیاں برائیوں کو ختم کردیتی ہیں) .. لہٰذا اگر گناہ زیادہ ہے تو نیکیاں اس سے بھی زیادہ کردو !! .. معروف عالم دین حکیم محمد اختر صاحب اپنے مریدوں سے فرمایا کرتے تھے کہ ' بری شراب کب چھوٹتی ہے ؟ .. جب اچھی والی ملنے لگے .. اگر برائی چھوڑنا چاہتے ہو تو اچھائی کا ان ٹیک بڑھا دو' 
.
====عظیم نامہ====

No comments:

Post a Comment