Sunday, 17 January 2016

تقدیر کا مسئلہ

تقدیر کا مسئلہ
========
.
مسئلہ جبر و قدر یا تقدیر کا مسئلہ کوئی سادہ معاملہ نہیں ہے. یہ کہنا شائد غلط نہ ہوگا کہ انسان کے شعوری ارتقاء کی تاریخ کا یہ پیچیدہ ترین مسئلہ رہا ہے. بیشمار فلسفی، ان گنت محقیقین، تمام تر مذہبی رہنما، بہت سے لکھاری، سائنسدان اور شاعر روز اول سے اس موضوع کو تختہ مشق بناتے رہے ہیں. تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ اس طویل مکالمہ اور غور و فکر کے بعد بھی انسان جبر و قدر کی گتھیاں سلجھا کر کسی ایک نتیجہ پر متفق ہونے سے قاصر رہا ہے. مسئلہ جبر و قدر کی ڈور کو جتنا سلجھانے کی کوشش کی گئی ، یہ اتنا ہی الجھتی چلی گئی. جتنے جوابات دینے کی کوشش کی گئی ، اتنے ہی نئے سوال جنم لیتے چلے گئے. بحیثیت مسلم ہمارے لئے اس عنوان کو سمجھنا اور بھی زیادہ ضروری ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ تقدیر پر ایمان رکھنا مومن بننے کیلئے ایک لازمی تقاضہ ہے.
.
کچھ سال قبل جب میرے ذہن و قلب میں تقدیر سے متعلق سوالات پیدا ہوئے جیسا کے اکثر سوچنے والے اذہان کے ہاں اس موضوع کے حوالے سے پیدا ہوا کرتے ہیں. میں نے چاہا کہ ان سوالات کی جواب دہی کیلئے مختلف لکھاری اور علماء سے استفادہ حاصل کروں. دور جدید کے اہل علم میں سے ڈاکٹر اسرار احمد ، پروفیسر احمد رفیق، جاوید احمد غامدی ، غلام احمد پرویز ، مغربی تحقیقی ادارے کیون ڈش کی تحقیقات اور بھی بہت سے مختلف نکتہ نظر کو اس ضمن میں پڑھا مگر سچ یہ ہے کہ اسکے باوجود تشنگی مکمل طور پر دور نہ ہوئی. یہاں انگلینڈ میں استاد ابو اسمعیل سے بھی تقدیر کے جزیات پر کئی نشستوں میں گفتگو ہوتی رہی. آج میں اپنی اس تحقیق کا حاصل یہاں ثبت کر رہا ہوں ، یہ سوچ کر کہ اگر اس تحریر سے تمام سوالات کے جواب حاصل نہ بھی ہوں تب بھی میری سمجھ آگے منتقل ہوسکے.
.
تقدیر کے حوالے سےتاریخی طور پر آپ کو علماء دو گروہوں میں بٹے نظر آتے ہیں ، پہلے وہ ہے جو کہتے ہیں کہ تقدیر پر گفتگو کرنے سے دور رہا جائے کیونکہ یہ متشابہات میں سے ہے اور اس کی حقیقت کو جاننے کی کوشش سالک کو مزید شکوک میں مبتلا کرسکتی ہے. اپنے اس موقف کے حق میں وہ یہ ایسی احادیث کو پیش کرتے ہیں جن میں قدر پر سوالات یا مکالمہ کرنے کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے. نمونہ کے طور پر ترمزی شریف کی اس حدیث کو یاد کریں جس کے مطابق جب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ اکرام کی ایک جماعت کو قدر کے موضوع پر مکالمہ اور اختلاف کرتے دیکھا تو غصہ سے آپ کا چہرہ مبارک سرخ ہوگیا اور آپ نے اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پچھلی امتیں اسی موضوع پر بحث و مباحثہ کی وجہ سے برباد ہوگئیں.

No comments:

Post a Comment