Friday, 30 December 2016

امریکہ بہادر اور میں - سفر نامہ


امریکہ بہادر اور میں - سفر نامہ



.
کوئی سال بھر قبل مجھے یہ مرحلہ درپیش ہوا کہ ایک قریبی سسرالی عزیز نے امریکہ اپنی بیٹی کی شادی میں مجھے مدعو کیا. اول تو یہ میزبان گھرانہ میرے دل سے بہت نزدیک ہے (جن سے ملنا ہمیشہ اچھا لگتا ہے) اور پھر رشتہ بھی سسرال کا تھا لہٰذا بہانہ کرنے کا کوئی امکان نہ تھا. یہ جاننے کے باوجود کہ اکثر پاکستانیوں کے ویزا امریکہ کیلئے مسترد کردیئے جاتے ہیں، میں نے بادل نخواستہ اپنی سی کوشش کرنے کا وعدہ کرلیا. وقت مقررہ پر ویزا آفس اپنے کاغذات کے ساتھ پہنچ گیا. عمارت کے اپر نسب ایک بہت بڑا فیلکن یعنی شہباز کا مجسمہ نسب تھا. یوں لگا جیسے میں اسے اور مجسمہ مجھے خونخوار آنکھوں سے گھور رہے ہیں. دل میں کہیں نہ کہیں امریکہ کے خلاف ایک شدید غم و غصہ بھرا ہوا محسوس ہورہا تھا لہٰذا مجھے ذرا فکر نہ تھی کہ وہ میرا یہ ویزہ مسترد کرتے ہیں یا قبول. بلکہ سچ پوچھیئے تو ایک لمحہ کو دل چاہا کہ اچھا ہی ہے مسترد کردیں تو اس دشمن مسلم ملک نہ جانا پڑے. پھر امریکہ میں بسے اپنے ان عزیزوں کے چہرے ذہن میں آئے تو خود کو قابو کیا. کاغذات جمع کرانے کے کافی دیر بعد مجھے انٹرویو کے لئے بلایا گیا. سامنے تاثرات سے عاری ایک کرخت چہرے کی انگریز عورت براجمان تھی. اس نے مجھ سے روکھے انداز میں کچھ سوال پوچھے. میں چونکہ خود اسوقت ایک ناراض ذہن کے ساتھ موجود تھا چنانچہ میں نے عادت کے برخلاف اس کے روکھے سوالات کے جوابات خاصی بدتمیزی سے دیئے. حیران کن طور پر وہ دوران انٹرویو ہی خوش اخلاق ہوگئی اور فوری طور پر مجھے ویزا گرانٹ کردیا. میں نے خود کلامی کی کہ لو جناب اب تو سامان باندھ لو، امریکہ بہادر جانا ہی ہوگا. 
.
میری فلائٹ لندن (انگلینڈ) سے پہلے ڈبلن (آیرلینڈ) رکتے ہوئے نیویورک (امریکہ) جارہی تھی. ذہن کو مسلسل اس کوفت نے جکڑ رکھا تھا کہ کہیں یہ چیکنگ کے نام پر میرے کپڑے ہی نہ اتر وا لیں جو کہ اب ایک عام بات ہے. الحمدللہ یہ خدشہ حقیقت نہیں بنا. البتہ لندن اور ڈبلن دونوں جگہ 'رینڈم چیکنگ' کے نام پر حسب توقع میرا نام نکلا. پورا سامان چیک کیا گیا، یہاں تک کے وہ بیگ جو سامان میں جاچکے تھے انہیں واپس منگوایا گیا اور میرے سامنے کھولا گیا. ایک دیو قامت سیاہ فام آفیسر مجھ سے معزرت خواہانہ انداز میں سوالات کرتا رہا اور ایک گوری آفیسر سامان کھول کر دیکھتی رہی. میں نے گپ لگانا شروع کی تو جلد ہی ہم تینوں کے قہقہے چیکنگ روم میں گونجنے لگے. میں نے انگریز عورت سے کہا کہ تم سامان بے رحمی سے کھول تو رہی ہو لیکن یاد رکھو میری بیوی میرے ساتھ نہیں ہے اسلئے واپس اب اسی تمیز سے تم ہی نے رکھنا ہے. خیر یہ مرحلہ ختم ہوا اور ہم سارا راستہ انگریزی موویز دیکھتے ہوئے نیویورک جاپہنچے. یہاں خلاف توقع کوئی چیکنگ نہیں کی گئی، وجہ یہ تھی کہ انہوں نے پہلے ہی مجھے ڈبلن میں چیک کرلیا تھا. ائیرپورٹ سے ہی ہم اپنے میزبان کے گھر کیلئے روانہ ہوگئے جو کہ اسپرنگ فیلڈ (میسوچیوسٹ) نامی شہر میں تھا. گھر ماشاللہ غیرمعمولی طور پر خوبصورت اور کشادہ تھا. میزبان رشتے داروں نے میرا نہایت محبت سے استقبال کیا اور مجھے میرا کمرہ دیکھا دیا گیا. گھر میں مہمانوں کی ریل پیل تھی جو مختلف شہروں اور ملکوں سے شادی میں شرکت کرنے جمع ہورہے تھے. سب سے اتنی محبت و عزت ملی کہ جلد ہی مجھے یہ گھر اپنا گھر لگنے لگا. امریکہ میں موجود بڑے بڑے گھر دیکھ کر محروم سے انگلینڈ کے دڑبے نما گھر یاد آگئے جن کی سیڑھیاں اتنی تنگ ہوتی ہیں کہ اگر ایک جانب سے مرد اور دوسری جانب سے خاتون آرہی ہوں تو یوسفی صاحب کے بقول نکاح کے سوا کوئی مہذب صورت باقی نہیں رہتی. اگلا پورا ہفتہ میں نے شادی کی تیاریاں کرواتے اور رونق سے لطف اندوز ہوتے گزارا. گھر کا گارڈن مجھے سب سے دلفریب لگا جہاں ایک چھوٹا سا تالاب بھی تھا اور جہاں صبح ہوتے ہی گلہریاں، خرگوش، رنگ برنگی چڑیاں کھانا کھانے جمع ہو جایا کرتے. اسپرنگ فیلڈ شہر بھی گھومتا رہا اور یہاں کی مشھور جگہوں کا جائزہ لیا. یونیورسٹی آف میسوچیوسٹ بھی گیا جو ایک عمدہ یونیورسٹی تسلیم کی جاتی ہے. شاپنگ مالز میں شاپنگ کیلئے گیا تو یہ دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوئی کہ یہاں سیل ہی سیل لگی رہتی ہے اور قیمتیں واقعی انگلینڈ کے مقابلے میں آدھی ہیں. بڑے برانڈز جیسے پولو اور نائیک وغیرہ ان قیمتوں میں مل رہے تھے جن کا تصور بھی میں انگلینڈ میں نہیں کرسکتا. خوب شاپنگ کی اور دل میں سوچا کہ عقلمند ہیں وہ لوگ جو امریکہ آتے ہی شاپنگ کی نیت سے ہیں. یہاں ایک دلچسپ مشاہدہ یہ بھی ہوا کہ اس شہر میں بسے ہوئے لوگوں کی اکثریت بہت موٹی تھی جن کے سامنے میرا چھ فٹ ایک انچ کا بھاری وجود بھی سلم لگ رہا تھا. معلوم ہوا کہ یہ شہر موٹے مرد و عورتوں کیلئے جانا جاتا ہے اور یہاں ایسے لوگ بسے ہوئے ہیں جو گورنمنٹ سے مختلف الاؤنس لیتے ہیں.  پورے امریکہ میں ہی جنک فوڈ کا بہت زور ہے اور ہر گلی کونے پر 'ڈونٹس' کی دکانیں کھلی ہوئی ہیں. کہتے ہیں امریکی ڈونٹس پر جیتے ہیں. برگر کا سائز بھی انگلینڈ کے مقابلے میں بہت بڑا تھا. کچھ مقامی میک ڈونلڈز میں ایسی چیزیں دستیاب تھیں جو کسی اور ملک کے میک ڈونلڈ میں نہیں ملتی جیسے 'لابسٹر رول' وغیرہ.
.
ان ہی دنوں ایک عجیب مسلہ سامنے آگیا جس سے پورا ماحول متاثر ہوا. وہ یہ کہ نکاح خواں صاحب جو کہ کوئی مذہبی ڈاکٹر تھے انہوں نے ایسی شرائط عائد کردی جو گھرانوں میں قبول نہ تھی. مثال کے طور پر وہ مہر کے غیر موجل ہونے کے قائل ہی نہ تھے. اس کے علاوہ بھی انہوں نے کئی ایسی باتیں بیان کی جس کا مطلب تھا کہ اگر مجھے نکاح خواں بنانا ہے تو میری مان کر چلنا ہوگا. میرے لئے ان کے یہ نخرے حیرانی کا سبب تھے. معلوم ہوا کہ ان کے علاوہ پورے شہر میں صرف اور صرف ایک اور مولانا صاحب ہیں جو نکاح پڑھاتے ہیں. گویا یہاں ڈیمانڈ زیادہ تھی اور مولوی کی سپلائی بلکل بھی نہیں. ان دوسرے مولانا صاحب کے پاس میں اپنے میزبان کے ساتھ گیا جو فی الواقع ایک علمی مہذب شخصیت کے مالک تھے. بہت اصرار کے باوجود بھی انہوں نے اپنی مصروفیت کا کہہ کر معزرت کر لی. ایک جانب یہ مسلہ تھا تو دوسری جانب دلہن کا اپنے گھر والو سمیت پہلے دن سے یہ شدید اصرار تھا کہ نکاح عظیم خالو پڑھائیں یعنی میں پڑھاؤں. میں نے ہر بار ان سے معزرت کی اور سمجھایا کہ بہتر یہی ہے کہ یہ کام کوئی عالم دین کرے. اسلئے نہیں کہ میں یا کوئی اور نہیں کرسکتا بلکہ اسلئے کہ مجھے اس کا زیادہ تجربہ نہیں ہے (صرف ایک بار بحالت مجبوری نکاح پڑھا چکا ہوں). جب اصرار حد سے بڑھا تو میں نے یہ حامی بھر لی کہ نکاح تو وہ ڈاکٹر صاحب ہی پڑھائیں البتہ میں اسٹیج پر آکر انگریزی میں مختصر خطبہ دے دوں گا. معاملہ سمٹ گیا اور ان نکاح خواں صاحب سے بھی معاملات تفہیم پاگئے. تیاریاں پھر زور و شور سے جاری ہو گئیں. اللہ اللہ کرکے شادی کا دن آگیا. شیریٹن فائیو اسٹار ہوٹل میں دو دن قیام رکھا گیا جس میں پہلے روز شادی اور دوسرے روز دعوت ولیمہ ہونی تھی. یہ شادی توقع سے بھی زیادہ عالیشان کی گئی. فی الواقع بالی وڈ کے یش چوپڑا کی فلم کا کوئی سیٹ معلوم ہوتا تھا. پاکستانیوں کے ساتھ ساتھ انگریزوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی جن کیلئے پاکستانی ملبوسات بنائے گئے تھے (شیروانی، شرارے، ساڑھیاں وغیرہ).  نکاح کے وقت نکاح خواں صاحب نے بھی ایک طویل تقریر کی جو میری احقر رائے میں خاصی قابل اعتراض تھی. بجائے اچھی نصیحت کے ان کا زور اس بات پر رہا کہ آدم و حوا کی نسل آپس میں شادیاں کرکے بڑھی ہے اور پہلے بہن بھائی کی شادی جائز تھی. میں نہیں جانتا کہ ان باتوں کا کیا اثر ان انگریزوں نے لیا ہوگا جو سامنے بیٹھے ہوئے سن رہے تھے مگر میں اپنا منہ چھپاتا رہا. اس ماحول میں مجھے اسٹیج پر مدعو کیا گیا اور مائیک تھما دیا گیا. میں نے بھی ایک مختصر تقریر کی جس میں مختلف آیات و احادیث سے اس رشتے کی اہمیت کو سمجھایا اور میاں بیوی کے ایک دوسرے پر حقوق کا بیان کیا. الحمدللہ لوگوں نے اسے خوب پسند کیا اور آخر وقت تک مجھ سے مل کر سراہتے رہے. شادی دو دن میں اختتام کو پہنچی اور ہم واپس گھر آگئے. 
.
اب چونکہ شادی انجام پاچکی تھی لہٰذا ہم نے امریکہ کے دیگر شہر گھومنے کی ٹھانی. سب سے پہلے ہماری نظر انتخاب پڑوسی شہر 'بوسٹن' پر پڑی. میری خواہش تھی کہ میں ہارورڈ یونیورسٹی اور ایم آئی ٹی جیسی شہرہ آفاق درس گاہوں کو دیکھ سکوں. خوش قسمتی سے مجھے دیگر احباب کیساتھ ساتھ ایک ایسے عزیز کا ساتھ بھی حاصل تھا جو ہارورڈ یونیورسٹی سے ہی پڑھے ہوئے ہیں اور پاکستان کے ایک نامور ڈاکٹر و سرجن ہیں. اس شہر اور اس میں موجود یونیورسٹیوں کی تاریخ و میعار پر بات کرتے ہوئے ہم نے جی بھر کر سیر کی. ہارورڈ یونیورسٹی میں واقعی سحر انگیز ماحول نظر آتا ہے مگر سچ کہوں تو امریکہ کی یہ یونیورسٹیاں ہرگز وہ جاذبیت نہیں رکھتی جو انگلینڈ میں موجود یونیورسٹیوں کا خاصہ ہے جیسے کیمبرج، آکسفورڈ وغیرہ. بیس بال امریکہ میں بہت مقبول ہے اور بوسٹن میں 'ریڈ ساکس' کے نام سے ایک معروف اسٹیڈیم موجود ہے جسے جا کر ہم نے دیکھا. واپسی میں ایک ایسی جگہ گئے جو انواع و اقسام کی چاکلیٹس کیلئے بہت مقبول ہے. 'میکس برینر چاکلیٹ بار' اس کا نام ہے. یہاں اتنی چاکلیٹیں کھائیں کہ اگلے روز تک منہ میں صرف چاکلیٹ ہی کا ذائقہ رہا.  
.
بوسٹن سے واپسی کے اگلے ہی روز ہم نے نیویورک جاکر وہاں ایک عزیز کے گھر چار روز قیام  کا ارادہ کرلیا. نیویورک پہنچ کر پہلی بار ترقی و تعمیر کا خوشگوار احساس ہوا. کشادہ سڑکیں، فلک بوس عمارتیں اور نت نئی تفریحات چاروں طرف پھیلی ہوئی تھیں. اسی رات سب مل کر ٹائم اسکوائر گئے. مجھے گمان تھا کہ نیویورک کا یہ 'ٹائم اسکوائر' لندن کے 'پکڈلی سرکس' کی کوئی ایڈوانس فارم ہوگا. مگر سچ کہوں تو وہاں پہنچا تو دنیا ہی نئی تھی. اونچی عمارتیں، آنکھوں کو خیرہ کرتے  روشن قمقمے، طرح طرح کے کرتب اور لوگوں کا اژدھام. مجھے فطری طور پر سادگی اور فطرت کے مظاہر پسند ہیں مگر اس وقت ایک لمحے کو میں اس انسانی ترقی و تعمیر میں مبہوت ہو کر رہ گیا. چوک کے بیچ کچھ سیاہ فام لڑکے اژدھے نما سانپ (پائی تھن) لئے کھڑے تھے. باقی افراد کی طرح مجھے بھی انہیں دیکھ کر خوف محسوس ہوا. بچپن سے میری ایک بری عادت یہ ہے کہ اگر مجھے کسی چیز سے خوف محسوس ہو تو وہ میں لازمی کرتا ہوں. پھر وہ چاہے کوئی آسیب زدہ مکان جانا ہو، کسی سرکش بیل کو قابو کرنا ہو، اونچائی سے چھلانگ لگانا ہو یا پھر سمندر میں غوطہ زنی. اسوقت بھی یہی عادت روبہ عمل آئی اور میں نے اس اژدھے کو گلے میں لپیٹ لیا. قریب قریب ساری رات اسی علاقے میں گھومتے رہے. یہ دوسری ایسی مصروف جگہ دیکھی جو رات میں بھی دن کا سماں رکھتی تھی. پہلی اور اس سے زیادہ جاگتی جگہ مسجد الحرام یعنی خانہ کعبہ  ہے. 
.
اگلے دن صبح ہی صبح میں نیویورک گھومنے نکل گیا. یہاں کا سب وے ٹرین کارڈ بنوایا اور سفر شروع کردیا. سب سے پہلا احساس یہ ہوا کہ انگلینڈ کا زمین دوز ٹرین نظام  نیویورک سے کہیں زیادہ بہتر ہے. حالانکہ یورپ کے دیگر شہروں میں انگلینڈ سے بھی بہتر ٹرین سسٹم موجود ہیں. ٹرینیں پرانی اور ٹکٹ مشینیں بھی اڈوانس نہیں تھیں. شراب اور پیشاب کے بھبھکے گاہے بگاہے سٹیشن پر محسوس ہوئے. نیویورک کے لوگ پیسہ کمانے کیلئے خود کو ہلکان کئے ہوئے ہیں اور ایک آدمی دو دو تین تین نوکریاں عام کررہے ہوتے ہیں. بارہ سے چودہ گھنٹے کام کرنا معمول ہے. ٹورسٹوں کے علاوہ ٹرین میں موجود مقامی لوگوں کے چہرے ان کی تھکن اور بیزاری کا احوال سنا رہے تھے. اس کے برعکس انگلینڈ میں آپ کو اکثر چہرے مسکراتے اور آسودہ نظر آتے ہیں. یہاں ایک تبصرہ کردوں کہ امریکہ مجموعی طور پر انگلینڈ سے کہیں زیادہ خوبصورت ہے، ٹیکنالوجی میں بھی بہت آگے ہے لیکن ڈسپلن یعنی نظم کے حوالے سے انگلینڈ سے پھیچے معلوم ہوتا ہے. یہ ڈسپلن چاہے کمپنی کی سطح پر ہو یا حکومتی اداروں کے حوالے سے. امریکہ میں موجود ہمارے ایک اور عزیز جنہیں امریکہ، کینیڈا اور انگلینڈ تینوں ملکوں کے سفارت خانوں میں کام کرنے کا طویل تجربہ ہے. انہوں نے بھی یہی گواہی دی کہ ڈسپلن کے حوالے سے سب سے بہتر ملک اور نظم انہیں انگلینڈ کا محسوس ہوا. نیویورک ایک خوبصورت جدید شہر ہے. مجھے کئی بار ایسا محسوس ہوا کہ اگر میرے آبائی شہر کراچی کو ترقی یافتہ بنادیا جائے تو اس کی شکل بلکل نیویورک ہی کے جیسی برآمد ہو. یہ دن بھرپور ثابت ہوا اور میں نے شہر کے حسن کو پوری طرح محسوس کیا. جن جگہوں پر گیا ان میں ٹائم اسکوائر، وال اسٹریٹ، ٹرمپ ٹاور، اسٹیچو آف لبرٹی، نائن الیون گراؤنڈ زیرو، ہسٹری میوزیم، اٹلی ٹاؤن، چائنا ٹاؤن، فری ڈم ٹاور، سینٹرل پارک، کونی آئی لینڈ، جیکسن ہائٹس، راک فیلر سینٹر، ففتھ ایونیو، ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ، بروک لن برج وغیرہ شامل ہیں. ان میں سے اکثر جگہیں شاہکار ہیں اور بار بار جانے لائق ہیں. 
.
ہسٹری میوزیم میں ایک لائیو اسپیس شو کا ٹکٹ خریدا. آڈیٹوریم اور شو کچھ اس طرح سے ڈیزائن کیا گیا تھا کہ آپ کو اپنا وجود خلا میں ستاروں سیاروں کے مابین تیرتا ہوا محسوس ہو. ایک بار جو بلیک ہول کا حال دکھایا تو بیک وقت مجھ سمیت تمام افراد کی چیخ نکل گئی. یوں لگا کہ اس بلیک ہول نے ہمیں تیزی سے نگل لیا ہو. اسٹیچو آف لبرٹی پانی کے بیچ واقع ایک جگہ پر  نصب ہے اور وہاں ایک بحری جہاز ہمیں لے گیا. چھوٹا سا سفر دلنشیں اور موسم خوشگوار تھا. لبرٹی کے اس مجسمے کو اگر امریکی نظریات کی نمائندہ علامت کہا جائے تو غلط نہ ہوگا. میں معلوم نہیں کتنی ہی دیر اپنے ذہن میں ان نظریات اور اسلام کے نظریات کا تقابل کرتا رہا. اس نظریاتی تصادم کو سوچتا رہا جو آج ساری دنیا میں برپا ہے. بے ساختہ اللہ سے نصرت دین کی دعا مانگی. یہ مجسمہ لبرٹی یعنی آزادی کا ہے. ایک ایسی آزادی جو کئی حوالوں سے غلامی ہی کی ایک صورت ہے. آزادی کپڑوں سے، روایات سے، مذہب سے، الہامی احکامات سے اور غلامی سودی نظام کی، نفس کی، شہوات کی، فیشن کی. امریکہ کے اس سفر میں مجھے ہمیشہ یہ احساس ہوا کہ یہاں حکومتی سطح پر عوام کو ایک خاص طرح سے برین واش کیا جارہا ہے اور اس برین واشنگ سے عوام خود واقف نہیں ہیں. یہی لبرٹی کا نعرہ اب ایک عقیدہ سا بن گیا ہے. بچے تک ایسے جملے جابجا استعمال کرتے ہیں کہ 'آئی ایم فری' ، 'آئی کین ڈو واٹ آئی وانٹ' وغیرہ. بہت اچھی بات ہے اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ فری ہیں مگر بار بار اس قسم کے جملے کہنا دراصل اس پروگرامنگ کو ظاہر کرتا ہے جو ان اذہان کی کی جارہی ہے. ہر دوسرے گھر پر امریکہ کا جھنڈا لہرا رہا ہے، اشتہاروں اور پروڈکٹس پر امریکی جھنڈے بنے ہوئے ہیں جو غیر محسوس انداز میں لوگوں میں امریکی ہونے کا فخر انجیکٹ کررہے ہیں. ایسا محسوس ہوا کہ وہاں موجود وہ مسلمان جو امریکہ میں پیدا نہیں ہوئے آج بھی نائن الیون پر بات کرتے ہوئے گھبراتے ہیں. امریکہ کو پولیس اسٹیٹ بھی کچھ لوگ کہتے ہیں اور شاید یہ اتنا غلط بھی نہیں ہے. مجھے کئی ایسی عام گاڑیاں دکھائی گئیں جس میں سادہ لباس میں موجود کوئی فرد گاڑی چلا رہا ہے مگر درحقیقت وہ پولیس کی گاڑی تھی. کئی مختلف افراد سے بات ہوئی جنہیں ایف بی آئی نے اپروچ کیا اور اپنے ساتھ خفیہ کام کرنے کی دعوت دی. میری کچھ نوجوانوں سے الحاد اور دیگر موضوعات پر خوشگوار گفتگو رہی. ان کے ذہن میں موجود مغربی فلسفوں اور سوالات کے میں نے حتی الامکان جوابات دیئے. 
.
ایک مصروف ترین سڑک پر چلتے ہوئے میں نے دیکھا کہ ایک پیاری سے گلہری کا کرتب دکھایا جارہا ہے. میں بھی کرتب دیکھنے پہنچا تو یہ جان کر حیرت ہوئی کہ کوئی کرتب دکھانے والا نہ تھا بلکہ گلہری خود ہی طرح طرح کی اٹھکلیاں کرکے مونگ پھلیاں لے رہی تھی. یہ ایک سیکھنے والی بات ہے کہ اتنی مصروف سڑک پر بھی جانور خود کو اس درجے محفوظ محسوس کرتے ہیں کہ انسانوں سے بلکل نہیں خوف کھاتے. نیویورک کی اسکائی لائن عظیم الشان عمارات سے مزین ہے اور ورطہ حیرت میں ڈال دینے والی ہے. دریا کے کنارے بیٹھ کر اس اسکائی لائن کو دیکھنا ایک خوش کن تجربہ تھا. نیویورک میں کئی دن گزارنے کے بعد ہم نے واپس اسپرنگ فیلڈ کا رخ کیا اور دوسرے ہی روز مشہور عجوبہ 'نایگرا فال' کا رخ کیا. ایک وین بک کرلی گئی جس میں کوئی آٹھ گھنٹے کا سفر کرکے ہم بوقت فجر نایگرا فال پہنچے. نماز ادا کرنے کے بعد نظارہ کرنے جو پہنچا تو فطرت کے حسن کا ایک ناقابل بیان شاہکار آنکھوں کے سامنے تھا. پہاڑوں سے گرتی ہوئی یہ عظیم آبشار بیک وقت حسین بھی ہے اور پر ہیبت بھی. اس پر کمال یہ کہ دو یا تین طرف سے قوس و قزاح (رین بو) کے رنگ نظر آرہے تھے. وقت اور سانسیں دونوں ہی تھمی ہوئی محسوس ہوئی. گھنٹوں اسی منظر کو تکتا رہا. جب ہمارے میزبان نے ہمیں بتایا کہ سامنے نظر آنے والی آبشار کینیڈا میں واقع ہے. گویا نایگرا فال کا ایک حصہ امریکہ میں اور دوسرا حصہ کینیڈا میں واقع ہے. ہم نے کینیڈا کی جانب جانے کی بابت سوال کیا تو معلوم ہوا کہ پانی کا جہاز ایک جانب سے چلتا ہے اور دوسری جانب آبشار کے عین نیچے سے لے کر جاتا ہے. فوری طور پر جانے کا ٹکٹ لیا اور جہاز میں جا بیٹھے. ہمیں برساتی پہنا دی گئی. امریکہ والے نیلی برساتی پہنے ہوتے ہیں اور کینیڈا والے سرخ برساتی. جہاز کا یہ سفر یادگار تھا. اتنا خوبصورت منظر پہلے کبھی نہ دیکھا تھا. گرتی ہوئی آبشار ایک برف کی طویل دیوار سی محسوس ہوتی تھی. آبشار کے نیچے پہنچے تو ہر طرف سے پانی کے چھینٹے آنے لگے. پانی کا شور اتنا کہ کان پڑی آواز نہ سنائی دے. کچھ تصویریں کھینچی مگر خوف یہ تھا کہ کیمرے اور موبائل میں پانی چلا جائے گا. جب کنارے پر اتارا تو سب تھکن سے چور ہوچکے تھے.  میری نظر ایک چوٹی پر گئی جو ایک آبشار کے بلکل برابر میں تھی اور اس تک جانے کی سیڑھیاں لگی ہوئی تھیں. کوئی پندرہ بیس منٹ سیڑھیاں چڑھ کر چوٹی پر جاپہنچا اور نظارے سے لطف اندوز ہوتا رہا. 
.
یوں میرا یہ امریکہ کا سفر اپنے اختتام کو پہنچا. مجھے اعتراف ہے کہ نہ صرف میں نے اسے بھرپور انجوائے کیا بلکہ میں بہت سی چیزوں کو مختلف زاویوں سے دیکھنے کے قابل ہوسکا. سچ ہے کہ سفر انسان کو وہ سیکھاتا ہے جو کوئی کتب یا استاد نہیں سیکھا سکتا.  آخر میں یہ کہ جو لکھا وہ اپنے ناقص مشاہدے اور مختصر سفر کی بنیاد پر لکھا. لہٰذا ہرگز ضروری نہیں کہ یہ مشاہدات فی الواقع اصل حقیقت بیان کرتے ہوں. آپ اسے کلی یا جزوی طور پر مسترد کرسکتے ہیں. 
.
====عظیم نامہ====

Thursday, 22 December 2016

کراچی - میرا بدنصیب شہر



کراچی - میرا بدنصیب شہر


.
"رشوت لیتے پکڑا گیا تھا ، رشوت دے کر چھوٹ گیا"
.
"مجھے یہ خوف نہیں کہ یہ ملک کیسے چلے گا؟ مجھے تو یہ خوف ہے کہ کہیں ایسے ہی نہ چلتا رہے"
.
"یہاں چینی بھی مہنگی ، یہاں آٹا بھی مہنگا ... پر میرے ملک کی دلہن پہنے دس دس لاکھ کا لہنگا"
.
یہ وہ چند جملے ہیں جو پاکستان (کراچی) میں دوران قیام ذہن میں کئی بار گونجتے رہے. ملک سے شدید محبت کے باوجود اس بار ایسی بہت سی ناہمواریاں سامنے آئی جنہیں دیکھ کر دل بجھ سا گیا. اس کی ایک یقینی وجہ شہر کراچی کی دگرگوں صورتحال ہے. یہ وہ بدنصیب شہر ہے جسے اپنوں اور غیروں سب نے مل کر لوٹا ہے، بے آبرو کیا ہے. جب سے شعور کی آنکھ کھولی میں نے ہمیشہ ہی یہ سنا کہ "ملک بہت نازک دور سے گزر رہا ہے اور کراچی کے حالات جتنے آج خراب ہیں اتنے پہلے کبھی نہ تھے." میں نے ان روایتی جملوں کو ہنس کر نظر انداز کرنا شروع کردیا تھا مگر یقین کیجیئے اس بار اپنے شہر کو جس حالت میں دیکھا ہے وہ اذیت ناک ہے. یہ سچ ہے کہ حالیہ فوجی آپریشن سے امن و امان میں کسی درجے بہتری آئی ہے مگر ایک سچ یہ بھی ہے کہ یہ بہتری جن بیساکھیوں پر کھڑی ہے وہ دیرپا نہیں ہیں. اسلحہ آج بھی اسی طرح سپلائی ہورہا ہے، حکومتی کرپشن آج بھی رگ رگ میں پیوست ہے اور ایجنسیاں آج بھی لاشوں کا دھندہ کررہی ہیں. شہر قائد تباہ ہو رہا ہے. اسکی حالت اس وقت ایک ایسے یتیم کی سی ہے جس کا کوئی پرسان حال نہیں. گٹر ابل رہے ہیں، سڑکیں آخری درجے میں ٹوٹ چکی ہیں، شہر کا ایک بڑا حصہ کچرا کنڈی بن چکا ہے اور لوٹ مار اپنی جگہ جاری ہے. گھر خریدنا اب حلال کمائی سے قریب قریب ناممکن ہے. لوگ ایک ہی گھر کو کئی پورشنز یعنی فلورز میں منقسم کرکے الگ الگ تین چار فیملیز کو بیچ رہے ہیں. یہ قابل اعتراض نہ ہو اگر گھر کا انفراسٹرکچر اس کا متحمل ہوسکے مگر ایسا ہرگز نہیں ہے. نتیجہ یہ کہ پانی سمیت کئی اور مسائل نے جنم لینا شروع کردیا ہے. بجلی کے ساتھ ساتھ کچرا اٹھانے کا ٹھیکہ بھی چائنا کو دے دیا گیا ہے. ایک جانب کچھ خوش گمان اس امر سے خوش ہیں کہ اسی بہانے اب کچرے سے شہر صاف ہوسکے گا. دوسری جانب کچھ دور اندیش اس اندیشے میں ہیں کہ ایسٹ انڈیا کمپنی کی مانند اب چائنا پاکستان پر قابض ہوتا جارہا ہے. رکشہ اسکیموں سے روزگار میسر ضرور آیا ہے، عوام کو مناسب قیمت میں سواری بھی مل رہی ہے مگر اتنی بڑی تعداد میں رکشے دے دیئے گئے ہیں کہ اب چاروں طرف ان ہی کا بے ہنگم اژدہام ہے جن سے حادثات میں کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے. 
.
ایم کیو ایم اب تین دھڑوں میں بٹ چکی ہے یعنی ایم کیو ایم لندن، ایم کیو ایم پاکستان اور پاک سرزمین پارٹی. اس سے عوام میں ایک اور کشاکش جاری ہے جو کسی وقت بھی تصادم کی صورت اختیار کرسکتی ہے. تحریک انصاف جو پہلی بار ایم کیو ایم کی مظبوط حریف بن کر ابھری تھی اور جسے مہاجروں کی ایک اچھی تعداد نے سراہنا شروع کردیا تھا. اب عمران خان کی مسلسل سیاسی حماقتوں کی وجہ سے قصہ پارینہ بنتی جارہی ہے. شہر میں عوام کی تفریح کا واحد بڑا ذریعہ ہوٹلنگ یعنی کھانا پینا ہے. مصطفیٰ کمال کے زیر انتظام جو عوامی پارک اور سہولیات بنائی گئی تھیں، ان میں سے اکثر یا تو تباہ ہوچکے یا ہورہے ہیں یا قبضہ گروپوں کے ہاتھوں میں چلے گئے ہیں. کراچی کے رہائشی جنہیں اہل زبان کہا جاتا ہے ، آج زبان اردو سے نابلد ہوتے جارہے ہیں. شائد یہی وجہ ہے کہ نوے فیصد سے بھی زیادہ کتب اب کراچی میں نہیں چھپتی. مجھ سے کراچی ہی کے ایک صاحب علم نے زمانے قبل کہا تھا کہ "عظیم اردو ہمارے گھر کی لونڈی ہے، لہٰذا ہم نے اس کے ساتھ سلوک بھی لونڈیوں والا ہی کیا ہے". آج محسوس ہوتا ہے کہ واقعی وہ سچ کہتے تھے. عوامی شعور کا تو ملکی سطح پر  یہ حال ہے کہ بس اسٹاپ، ٹریفک سگنل وغیرہ موجود بھی ہو تو اسکی پاسداری کرنا اپنی توہین سمجھتے ہیں. آپ بل جمع کرانے بینک جائیں یا روٹی نان لینے کیلئے کسی تندور جائیں. - قطار لگانا یا اپنی باری کا انتظار کرنا جیسے ممنوع ہو. کوئی بھی آنے والا بڑی بے شرمی سے خود سے پہلے موجود لوگوں کو ان دیکھا کر کے یہ چاہتا ہے کہ بس اس کا کام سب سے پہلے ہوجائے. بہت سو کیلئے یہ بے غیرتی معیوب نہیں بلکہ قابل فخر ہے. سوچتا ہوں کہ حکومتی ناانصافیوں کا رونا رونے والے اپنا ذاتی عمل کیوں نہیں دیکھتے؟ کیا حق ہے مجھے یا آپ کو ارباب اختیار کو کوسنے کا، جب ہم خود گندگی و ناہمواری پھیلا رہے ہے؟ جس کا جتنا جبڑا ہے وہ اتنی ہی اس ملک و شہر کی بوٹیاں بھنبھوڑ رہا ہے. اس بار گاڑی چلانے کا موقع ملا. بے حسی کا یہ عالم ہے  کہ اگر آپ پارکڈ گاڑی کو ریورس کرنا چاہتے ہے تو سرک پر موجود ہر شخص اپنی آخری سانس تک یہی کوشش کرے گا کہ وہ آپ کو ایسا کرنے نہ دے اور خود اپنی گاڑی نکال لے. 
.
میں آج تک نہیں سمجھ پایا کہ لوگ اتنی غلاظت اور تھوک لاتے کہاں سے ہیں؟ جو ہر جگہ تھوکتے رہتے ہیں؟ کوئی پان اور گٹکا تھوک رہا ہے. تو کوئی بس ایسے ہی شوقیہ تھوک رہا ہے. انہیں گھن نہیں آتی؟ پہلے لوگ بسوں کی کھڑکی سے منہ نکال کر تھوکتے نظر آتے تھے مگر اس بار میں نے کئی ایسی مثالیں مشاہدہ کیں جہاں اچھی بڑی بڑی گاڑیوں میں سے لوگ سڑک پر پیک تھوکتے ہوئے نظر آئے. ایک بار بے ساختہ اپنے بڑے بھائی سے میں نے  کہا کہ آج کل تو شہر میں پیسے والے لوگ بھی ویسے ہی تھوکنے لگے ہیں. بھائی نے جواب دیا کہ نہیں بلکہ یہ کہو کہ تھوکنے والو کے پاس پیسہ آگیا ہے. کچھ ایسی چیزیں بھی دیکھنے کو ملی جو شاید وطن عزیز کے علاوہ کہیں اور نہ ہوں. میرا انگلینڈ کا ویزا بینک کارڈ پاکستان کے کسی بینک نے پیسہ نکالنے کیلئے قبول نہ کیا. میں ایک کے بعد ایک کوئی چھ سات بینکوں میں گیا اور ان سے دریافت کیا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ویزا کارڈ جو ساری دنیا کے بینکوں میں بلاتفریق چلتا ہے، وہ ہمارے بینکوں میں نہ چلے. جواب ملا کہ دراصل ہماری 'انٹرنیشنل سیٹلمنٹ' نہیں ہے. ایک اور حیرت انگیز انکشاف اسوقت ہوا جب میں پاؤنڈز کو روپوں میں بدلنے منی ایکسچینج گیا. معلوم ہوا کہ اگر کسی پاؤنڈ نوٹ پر پین کا ذرا سا بھی نشان ہوا تو وہ نوٹ قبول نہیں ہوگا یا کم داموں میں قبول ہوگا. نتیجہ یہ کہ کئی نوٹوں کو کم دام میں کھلوانا پڑا. کپڑے خریدتے وقت اچھی بڑی دکانوں پر دو بار ایسا ہوا کہ جب ایکسٹرا لارج  سائز مانگا تو کہا کہ اس کے پیسے باقی سائزز سے زیادہ ہوں گے. وجہ دریافت کی تو بتایا کہ اس میں کپڑا زیادہ لگتا ہے. سبحان اللہ. 
.
گو درج بالا باتیں تلخ ہیں مگر میری اس تحریر کا مقصد مایوسی کا پرچار نہیں بلکہ اپنے احساسات کو آپ سے بانٹنا ہے. ہم میں سے ہر ایک کو یہ حق حاصل ہے کہ ہم غلط کو غلط کہیں مگر اس سے بھی پہلے یہ ضروری ہے کہ جس غلط کو صحیح کرسکتے ہوں اسے صحیح کرنے میں اپنا کردار ادا کریں. چاہے وہ کردار کتنی ہی معمولی کیوں نہ محسوس ہو. 
.
دل کو کراچی سمجھ رکھا ہے تم نے؟؟ 
آتے ہو۔۔۔۔۔۔ جلاتے ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔چلے جاتے ہو
.
====عظیم نامہ===

Tuesday, 20 December 2016

اے کعبہ کو جانے والے



اے کعبہ کو جانے والے 


.
عام چلن ہے کہ عمرہ یا حج پر پہلی بار جانے والے احباب کو دیگر مسلمان اپنے واقعات سنا کر بتاتے ہیں کہ انہیں خانہ کعبہ دیکھ کر یا حرم پاک جا کر یا روضہ مبارک کی جالیاں دیکھ کر کیسا محسوس ہوگا؟ دوسرے الفاظ میں وہ اپنے ذاتی تجربات کو بنیاد بناکر اپنےمخاطب کی سوچ سے کچھ توقعات وابستہ کردیتے ہیں.  راقم کی دانست میں ایسا کرنا درست روش نہیں. ہر انسان اپنا ایک جداگانہ شعوری وجود رکھتا ہے اور قطعی لازمی نہیں کہ ایک انسان کا تجربہ دوسرے انسان کے تجربے کے مماثل ہی ہو. لہٰذا اگر کوئی انسان، دوسروں کے تجربات کی بناء پر پہلے سے اپنے لاشعور میں کچھ توقعات سجا لے اور بوقت عمرہ و حج اس کا ذاتی تجربہ ان توقعات سے مختلف نکلے تو فطری نتیجہ یہ ہے کہ وہ ایک روحانی صدمے یا نفسیاتی ہیجان سے دوچار ہو جائے گا. ظاہر ہے کہ ایسی کسی ناخوشگوار کیفیت کا طاری ہونا اس انسان کی حالت عبادت کے پورے تجربے کو متاثر کرے گا. مثال لیجئے کہ آپ پہلی بار عمرہ کو جارہے ہیں اور آپ کا کوئی قریبی دوست آپ کو بتاتا ہے کہ جب اس نے خانہ کعبہ کو پہلی بار دیکھا تو بے اختیار زمین پر گرگیا یا بیہوش ہوگیا یا زار و قطار رونے لگا. ساتھ ہی وہ آپ کو یقین دلاتا ہے کہ آپ کے ساتھ بھی کم و  بیش یہی کیفیت ہونے والی ہے. اب آپ اسی توقع کو سینے سے لگائے  خانہ کعبہ کو ادب و خوف سے پہلی بار دیکھتے ہیں مگر اس دوست جیسی کیفیت سے محروم رہتے ہیں. نہ بیہوش ہوتے ہیں، نہ فرش بوس ہوتے ہیں اور نہ ہی آنکھیں فوری بھیگتی ہیں. یہ وہ لمحہ ہے کہ جب توقعات کے ٹوٹنے سے ایک شدید اضطراب آپ کو گھیر سکتا ہے اور آپ اس لمحے میں موجود اپنی انفرادی روحانی کیفیت کو محسوس کرنے سے محروم ہوسکتے ہیں. وجہ یہی ہے کہ آپ کی نظر تو اپنی حقیقی کیفیت پر تھی ہی نہیں بلکہ آپ کی ساری تلاش اپنی کیفیت میں دوسرے کی کیفیت ڈھونڈھنے میں تھی. کسی دوسرے کا آپ سے پہلے یا آپ سے زیادہ رونا ہرگز اس بات کی دلیل نہیں کہ اس کا تجربہ کامل ہے اور آپ کا ناقص. مجھ احقر کا ماننا ہے کہ اس بارگاہ میں ہر مخلص عبد روحانی تجربات سے گزرتا ہے مگر ان تجربات کی کیفیت یکساں نہیں ہے بلکہ ہر فرد کے مزاج و ضرورت کے مطابق ہے. لہٰذا ضروری ہے کہ نہ تو آپ کسی دوسرے کے کہنے پر توقعات کا محل تعمیر کریں اور نہ ہی کسی نئے جانے والے کو اپنے واقعات اس انداز میں سنائیں کہ اس کا انفرادی تجربہ متاثر ہو. اپنی کیفیات بتانے میں حرج نہیں مگر اس تلقین کے ساتھ کہ ہر فرد کا تجربہ مختلف ہے. 
.
ایک اور روش یہ بھی ہے کہ سارا زور یہ سمجھانے میں لگا دیا جاتا ہے کہ کون سا رکن کیسے ادا کرنا ہے؟ اسکی باریک سے باریک ترین تفصیلات بیان کی جاتی ہیں. کیسے کھڑا ہونا ہے؟، کہاں کھڑا ہونا؟، کتنا فاصلہ رکھنا ہے؟ کس چکر میں کیا پڑھنا ہے؟ وغیرہ وغیرہ. فرائض اور سنتوں کے ساتھ ساتھ مستحبات کی تلقین بھی اس سختی و تاکید سے کی جاتی ہے کہ جانے والے کو فرض و مستحب کی تخصیص ہی سمجھ نہ آتی اور وہ بوقت حاضری خوفزدہ ہوجاتا ہے کہ اگر ان میں سے کوئی مستحب عمل نہ کیا تو شائد عمرہ و حج  ہی قبول نہ ہو. اس مقام پر کوئی قاری اس غلط فہمی میں مبتلا نہ ہو کہ راقم فقہی ضوابط کا منکر ہے. قطعی نہیں بلکہ حج و عمرہ سمیت کسی بھی عبادت کی فقہی تفصیل نہ جاننا تو بڑی حماقت ہے. عرض صرف دو باتیں کرنا چاہتا ہوں. پہلی یہ کہ ان ظاہری قوائد کی غیرضروری باریک تر تفصیل میں نہ جایا جائے اور دوسری یہ کہ ظاہر سے بھی زیادہ اس عظیم عبادت میں مضمر روحانی پہلوؤں کا حصول سیکھایا جائے جو جانے والے کا قلبی تعلق رب کریم سے قائم کردے. کیسی عجیب حقیقت ہے کہ حج و عمرہ کے ظاہری طریق سیکھانے کیلئے تو ان گنت ادارے ہیں اور بیشمار ورکشاپس کا اہتمام موجود ہے مگر طواف و سعی سمیت دیگر مظاہر عبادت کے روحانی پہلو کیا ہیں؟ ان کیفیات کا حصول کیسے ہو؟ کیا سوچنا ہے اور کیا نہیں سوچنا ہے ؟ ایسے سوالات کے کوئی شافی جواب نہیں دیئے جاتے. حد تو ہے کہ جہاں ایک جانب ظاہری طریقے پر سینکڑوں کتب موجود ہیں، وہاں حج و عمرہ میں تزکیہ نفس اور اس سے منسلک روحانیت پر کوئی باقاعدہ کتاب مقبول عام نہیں. صرف ایک ایسی روداد موجود ہے، جسے راقم واقعی اس ضمن میں معاون سمجھتا ہے. وہ کتاب کسی دینی عالم یا صوفی کی نہیں بلکہ معروف یا بدنام مصنف 'ممتاز مفتی' کی تحریر کردہ ہے. کتاب کا نام ہے 'لبیک' اور اس میں ممتاز مفتی صاحب نے اپنی حج کی روداد جس میں ان کے مرشد و دوست قدرت اللہ شہاب ساتھ تھے ، تفصیل سے بیان کی ہے. کوئی ممتاز مفتی صاحب کی ذات و کردار کو کتنا ہی نشانہ کیوں نہ بنائے، میرا ناقص فہم یہی گواہی دیتا ہے کہ اس کتاب کے الفاظ کسی انشاء پرداز کے قلم سے نہیں بلکہ قلب سے نکلے ہوئے ہیں. یہ بلاشبہ ان چند کتب میں شامل ہے جنہیں پڑھ کر میں جانے کتنی بار رویا ہوں. یہ مختصر کتاب آپ پر مصنف کے تجربات تھوپے گی نہیں، یہ کتاب آپ کو شریعت کے مسائل بھی نہیں سمجھائے گی، یہ کتاب آپ کو پارسا بننے کا درس بھی نہیں دے گی مگر یہی کتاب اپنے قاری میں محبت کی ایک چنگاری ضرور سلگا دے گی. ان شاء اللہ
.
میری ہر عمرہ و حج پر جانے والے کو دو ہی نصیحتیں ہوا کرتی ہیں. پہلی یہ کہ وہ جانے سے قبل اس کتاب 'لبیک' کو سکون سے ضرور پڑھے اور دوسرا یہ کہ وہ مندرجہ ذیل جملے کو اپنے دل و دماغ پر ثبت کرلے. جملہ یہ ہے کہ "حضوری اہم ہے ... باقی سب غیر اہم ہے". کہنے کا مقصد یہ ہے کہ دوران حج و عمرہ آپ ہر وقت خود کو یاد دلاتے رہیں کہ "حضوری اہم ہے ... باقی سب غیر اہم ہے".  اصل حاصل یہی ہے کہ آپ وہاں ہمہ وقت اللہ کے سامنے حضوری کی کیفیت میں رہیں. یقین مانیئے کہ درجہ احسان میں بیان کردہ حضوری کی اس کیفیت کا حصول مکہ و مدینہ میں جتنا ممکن ہے، اتنی کہیں اور ممکن و آسان نہیں. شرط فقط اتنی ہے کہ بندہ حصول کی کوشش کرے. افسوسناک امر یہ ہے کہ عین حج و عمرہ کے درمیان اور عین مکہ و مدینہ کے بیچ آپ کو لوگ ایک دوسرے سے جھگڑتے ہوئے بھی ملیں گے. کسی کو شدید غصہ ہے کہ قطار میں بدنظمی کیوں ہے؟ کوئی سخت ناراض ہے کہ اسے اس کا مطلوبہ کمرہ کیوں نہیں ملا؟ کسی کو شکایت ہے کہ ٹیکسی والے نے پیسے زیادہ کیوں مانگ لئے؟ اور کسی کو شکوہ ہے کہ اسے صحیح سے کھانا کیوں نہ ملا؟ ایسے مواقع بھی ہوتے ہیں جب لوگ دست و گریبان ہونے سے بھی دریغ نہیں کرتے اور میری گنہگار سماعت نے تو غلیظ گالیاں بھی دیتے ہوئے کسی اللہ کے بندے کو سنا ہے. ان سب کی یہ شکایات یکلخت ختم ہوجائیں اگر یہ اس حقیقت کو جان لیں کہ یہاں تو بس "حضوری اہم ہے ... باقی سب غیر اہم ہے".  اچھا بستر نہیں ملا؟ غیر اہم ہے. مناسب کھانا نہیں ملا؟ غیر اہم ہے. کسی نے دھکا مار دیا؟ غیر اہم ہے. کوئی آپ کا جوتا پہن گیا؟ غیر اہم ہے. اگر کچھ اہم ہے تو صرف حضوری اہم ہے. کچھ صاحبان تقویٰ تو حضوری بھلا کر اس بات پر گفتگو کرتے رہتے ہیں کہ یہ عورتیں اور مرد اتنے اختلاط کیساتھ کیوں طواف کررہے ہیں؟ میں نے تو حضوری کے ساتھ بہت ڈھونڈھا مگر مجھے دوران طواف نہ کوئی ایک عورت نظر آئی اور نہ کوئی ایک مرد .. وہاں تو ہر سو بس عبد اللہ ہی عبد اللہ تھے. شائد کوئی میرے کان میں سرگوشی کر رہا تھا "حضوری اہم ہے ... باقی سب غیر اہم ہے". 
.
====عظیم نامہ====

Friday, 16 December 2016

قادیانیوں سے مکالمہ


قادیانیوں سے مکالمہ



قران حکیم کے مطالعے سے واضح ہوتا ہے کہ کفار و مشرکین کا رویہ دعوت دین کی جانب استکبار اور استہزاء کا ہوا کرتا تھا. گویا جب رسولوں کے مخاطبین پر بات آخری درجے میں واضح ہوجاتی اور ان کے پاس دلائل کی بنیاد پر نہ ماننے کی وجہ نہ ہوتی، تب وہ استہزاء کا رویہ اپنا لیتے. وہ دلیل کا نہ مطالبہ کرتے اور نہ ہی دلیل پیش کرتے. اب وہ کبھی رسولوں کو تحقیر آمیز نام دیتے، کبھی کردار کشی کرتے، کبھی قہقہوں یا ڈھول تاشوں سے بات کو دبا دیتے، کبھی کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے، کبھی طنز و تشنیع کا سہارا لیتے، کبھی جسمانی تشدد کا نشانہ بناتے، کبھی مذاق اڑاتے اور کبھی گالیاں دیتے. ظاہر ہے ان کا یہ رویہ احقر درجے میں بھی علمی یا اخلاقی نہ تھا. اس کے برعکس قران حکیم نے جو مکالمہ کا طریق سکھایا وہ سراسر دلائل و براہین کی بنیاد پر ہے. قران صرف اپنے مقدمے کے اثبات میں دلائل ہی نہیں دیتا بلکہ وہ اپنے مخاطبین سے دلائل پیش کرنے کا مطالبہ بھی کرتا ہے. وہ کہتا ہے کہ تورات، انجیل یا کوئی اور ثبوت اپنی بات کے حق میں پیش کرو. وہ حکم دیتا ہے کہ خبردار لوگوں کے جھوٹے خداؤں تک کو گالی نہ دینا، وہ سمجھاتا ہے کہ پہلے متفق باتوں پر مجتمع ہونا پھر اختلافی بات پر آنا، وہ نصیحت کرتا ہے کہ انتہائی احسن انداز میں گفتگو کرنا اور اگر کوئی جہالت پر اتر آئے تو اسے سلام کہہ کر یعنی اسکے لئے سلامتی کی دعا کرکے اس سے الگ ہوجانا. یہ وہ مقام ہے جس پر قران اپنے ماننے والوں کو لے کر آتا ہے. گویا وہ ایک مہذب اور صحتمند مکالمہ کی فضاء کو ہموار کرتا ہے. گالیاں دینا، اپنے مخاطب کے پیش کردہ استدلال کو نہ سننا اور مخاطب کی تحقیر کرنا کسی صورت بھی ایک مومن کا طریق نہیں ہوسکتا. یہ انداز تو مشرکین مکہ یا کفار کا ہوا کرتا ہے. 
.
افسوس یہ ہے کہ آج ہم نے بھی دعوت دین کا نام لے کر یہی روش اپنا رکھی ہے. سوشل میڈیا پر دیگر مذاہب یا مخالف مسالک سے بلعموم اور قادیانیوں سے بلخصوص یہی استہزاء کا رویہ اپنایا جاتا ہے. بجائے اس کے کہ انہیں دلائل سے ان کی غلطی سمجھائی جائے، ہم ان کی تضحیک و تحقیر کو اسلام کی خدمت سمجھ بیٹھتے ہیں. ہم مسلمان اس کے قائل ہیں کہ غلام احمد قادیانی اپنے دعوے میں کاذب ہے مگر وہ دین جو جھوٹے خدا کو گالی دینے سے روک رہا ہے، وہ جھوٹے نبی کو گالی دینے کی کیسے اجازت دے سکتا ہے؟ پھر یہ یاد رکھیں کہ آپ جب اپنے مخالف مخاطب کو گالی دیتے ہیں یا اس کے لئے کسی قابل احترم ہستی کو گالی دیتے ہیں تو دراصل آپ خود اپنے ہاتھ سے ممکنہ دعوت کے دروازے پر کنڈی لگادیتے ہیں جو کیا معلوم ؟ کل بارگاہ الہی میں قابل گرفت ہو. جب آپ اپنے مخاطب کی عزت نفس کو مجروح کرتے ہیں تو غصہ اور ضد میں آکر وہ اسے بھی تسلیم کرنے سے انکاری ہوجاتا ہے ، جسے وہ مہذب مکالمے کے ذریعے مان سکتا تھا. ہم میں سے اکثر دوران بحث اپنے نفس کو موٹا کرتے ہیں اور سمجھتے یہ ہیں کہ امر بالمعروف یا نہی عن المنکر کا فریضہ انجام پارہا ہے. ہماری نیت انہیں دین کا پیغام پہنچا کر واپس اسلام میں لانے کی ہونی چاہیئے، انہیں شکست دینے کی نہیں.
.
====عظیم نامہ====

'خواہش'، 'عقل' اور 'وحی'


 'خواہش'، 'عقل' اور 'وحی'



مومن کا معاملہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی 'خواہش' پر 'عقل' کو حاکم مانتا ہے اور 'عقل' پر 'وحی' کو نگران تسلیم کرتا ہے. اس کے برعکس ملحد 'عقل' ہی کو معراج سمجھ بیٹھتا ہے. جس طرح آپ کسی ملحد سے یہ دریافت کریں کہ اگر خواہش عقل کے صریح خلاف ہو تو کیا کرنا چاہیئے؟ اس کا عمومی جواب یہی ہوگا کہ ایسی خواہش سے ہر صورت اجتناب کیا جانا چاہیئے. ٹھیک اسی طرح جب کسی مومن سے پوچھا جائے گا کہ اگر عقل کا کوئی فیصلہ وحی کے صریح خلاف نظر آئے تو کیا کرنا چاہیئے؟ اس کا ہر صورت جواب یہی ہوگا کہ ایسی صورت میں بھی وحی کی ہی پیروی کی جائے گی. یہ اور بات کہ دین کے عمومی احکام کبھی عقل و فطرت کی نفی نہیں کرتے. علم اور مشاہدہ دونوں گواہی دیتے ہیں کہ 'عقل' اپنی تمام تر عظمتوں اور حشر سامانیوں کے باوجود محدود ہے اور مسلسل غلطیوں کا بھرپور احتمال رکھتی ہے. دوسری جانب اگر وحی کا من جانب اللہ ہونا کسی عاقل پر ثابت ہوجائے تو پھر اس میں نقص پایا جانا ممکن نہیں لہٰذا ٹھوکر کھانے کا امکان بھی باقی نہیں رہتا. گویا مومن خواہش کو عقل اور عقل کو وحی کے تابع کرکے ایک ایسے مقام پر کھڑا ہوپاتا ہے، جہاں اسے قلبی و عقلی دونوں سکون حاصل ہوتے ہیں.
.
====عظیم نامہ====

'من چلے کا سودا' اور 'غالب'


'منچلے کا سودا' اور 'غالب'



اشفاق احمد صاحب کا تحریر کردہ ڈرامہ 'منچلے کا سودا' اور گلزار صاحب کی پیش کردہ فلم 'غالب' --- میں نہیں جانتا کہ میں کتنی بار دیکھ چکا ہوں اور جانے کتنی ہی بار پھر دیکھنا چاہوں گا. اگر آپ ادبی ذوق کے مالک ہیں یا روحانیت کے اسرار و رموز میں دلچسپی رکھتے ہیں اور اس کے باوجود آپ نے یہ دونوں یا ان میں سے ایک شاہکار کو اب تک نہیں دیکھا ہے تو آپ کی اس محرومی پر مجھے افسوس بھی ہے اور تعجب بھی. مجھے تو اس شخص کو بھی صاحب ذوق ماننے میں تردد ہے جس نے انہیں فقط ایک بار دیکھنے پر اکتفاء کرلیا اور باطن میں دوبارہ دیکھنے کی پیاس نہ محسوس کی.

.
====عظیم نامہ====

Thursday, 15 December 2016

ایک بےحس امتی کا احساس


ایک بےحس امتی کا احساس
==================
۔
آج ہمارے تفرقے اور نقاہیت اتفاق نے طاغوت کو اس قدر دلیر بنادیا کہ وہ شطرنج کی بازی کی طرح
کبھی ہمیں آپس میں لڑواتا ہے۔ 
کبھی دھوکے سے مرواتا ہے۔
کبھی امداد سے کتراتا ہے۔
پھر طرح طرح سے ترساتا ہے۔
یعنی دولت بھی ہماری۔
ذلت بھی ہماری۔
کثرت بھی ہماری۔
قلت بھی ہماری۔
کبھی وہ اسرائیل کی زبان میں بولتا ہے۔
کبھی بشارالاسد کا پٹہ کھولتا ہے۔
کبھی فلسطینی بچوں کی چیخیں۔
کبھی کشمیری دلہن کی آہیں۔
کبھی تارکین افغانستان کا مسئلہ۔
کبھی حلب پر بربریت۔
کیا یہ وہی امت امریکہ کے تلوے چاٹ کر اپنی بقاء کی بھیک مانگ رہی ہے جو شہنشاہ دوجہاں کی امت ہے ؟
۔
پستی کا کوئی حد سے گزرنا دیکھے
اسلام کا گِر کر نہ ابھرنا دیکھے
مانے نہ کبھی کہ مد ہے ہر جزر کے بعد
دریا کا ہمارے جو اترنا دیکھے
۔
#حلب
۔
====عظیم نامہ=====

Thursday, 10 November 2016

قوت غضب


قوت غضب



دیگر نعمتوں کی طرح رب العزت کی جانب سے ہمیں عطا کردہ کوئی بھی جذبہ یا صفت اپنی اصل میں منفی نہیں ہے. البتہ اس کا غلط استعمال اسے ضرور منفی بناسکتا ہے. یہاں تک کے وہ جذبات بھی کہ جن کے بارے میں عامیانہ تاثر یہ ہی ہے کہ شائد ان کا انسانی تذکیر و ارتقاء میں کوئی ہاتھ نہیں. ان جذبات کو بھی ذرا دقت نظر سے دیکھیں تو وہ خیر سے مزین نظر آتے ہیں. مثال کے طور پر شہوت کا جذبہ ہر مسلمان بلخصوص نوجوانوں کیلئے ایک بڑا اور مستقل فتنہ بنا رہتا ہے. لیکن اگر شہوت کا جذبہ انسان میں موجود نہ ہو تو نہ ہی وہ بعد از نکاح جنسی تعلق قائم کرسکے اور نہ ہی افزائش نسل ممکن رہے. اسی طرح انسان میں جو قوت غضب ودیعت ہے، اس سے بھی طرح طرح کے فتنے برآمد ہوتے ہیں. ان ہی ممکنہ فتنوں کی بنیاد پر عام صورت میں غصہ کو حرام قرار دیا گیا ہے. مگر کیا ہو کہ یہ قوت غضب کسی انسان میں مفقود ہو جائے؟ اگر ایسا ہو تو اس انسان سے غیرت و حمیت جیسی اونچی صفات کا یکسر خاتمہ ہو جائے گا اور پھر وہ ان مقامات پر بھی غضب یا غصہ کرنے سے قاصر رہے گا جہاں ضروری ہے. الغرض یہ کہ ہر جذبہ اپنی اصل میں خیر ہے. گو ہمیں سمجھ کر اس کا استعمال درست سمت میں کرنا ہے.
.
یہ بھی حقیقت ہے کہ بعض اوقات ایک جذبے سے پیدا ہونے والے فتنے پر دوسرے جذبے کی مدد سے قابو پایا جاسکے. مثال کے طور پر ناجائز شہوت کی لت کو  چھوڑنے کیلئے ضروری ہے کہ انسان اپنی قوت غضب کو اس پر حاوی کردے. بلکہ شہوت ہی کیا؟ کوئی بھی ایسا گناہ جو عادت یا لت بن کر چمٹ جائے، اسے چھوڑنے کیلئے ضروری ہے کہ انسان خود پر غضب ناک ہو اور یک لخت اسے چھوڑ دینے کا تہیہ کرلے. جب جب اس گناہ کا مبہم سا خیال اٹھے تب تب غضب ناک ہو کر اسے جھٹک دے. یاد رکھیں کہ انسان صرف عقلی وجود نہیں ہے بلکہ وہ اپنے باطن میں ایک جذباتی شاکلہ بھی رکھتا ہے. وہ نفسیاتی گناہ جو عادت اور لت بن جائے، اسے فقط عقلی استدلال یا شائستہ ترتیب سے چھوڑنا قریب قریب ناممکن ہے. مجھے امید ہے کہ آپ میں سے اکثر کے سامنے ایسی مثالیں موجود ہونگی جہاں کوئی انتہائی بگڑا ہوا غصیلا جھگڑالو شخص جو شراب و شباب کا ساری زندگی رسیا رہا ہو ، اچانک ایسا سدھرتا ہے کہ گناہ کی جانب پلٹ کر بھی نہیں دیکھتا. اس کے برعکس بعض اوقات ایک بظاہر نیک انسان کو کوئی گناہ ایسا لت بن کر چمٹتا ہے کہ وہ باوجود بار بار کی کوشش و توبہ کے اسے چھوڑ نہیں پاتا. وجہ یہی ہے کہ پہلا بگڑا ہوا شخص بھرپور قوت غضب  رکھتا تھا جسے ڈھال بنا کر اس نے جب ترک گناہ کا فیصلہ کیا تو استقامت سے اس پر قائم رہ سکا. جب کے دوسرا نیک شخص اپنی طبیعت کی نرمی کی وجہ سے  قوت غضب کا درست استعمال نہ جانتا تھا، چنانچہ بار بار ترغیب گناہ کے سامنے ہتھیار ڈالتا چلا گیا. 
.
====عظیم نامہ====

Wednesday, 9 November 2016

اقبال ڈے اور ٹرمپ کی جیت




اقبال ڈے اور ٹرمپ کی جیت


۔ 
اقبال نے کہا تھا

جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں 
بندوں کو گنا کرتے ہیں، تولا نہیں کرتے 
۔
آج ٹرمپ کی جیت نے اس حقیقت پر مہر لگادی کہ وہ انڈیا کی عوام کا مودی جیسے مجرم کو منتخب کرنا ہو یا وطن عزیز میں زرداری اور نواز جیسے کرپٹ رہنماوں کا بار بار انتخاب ہو یا پھر جمہوریت کے سب سے بڑے چیمپیئن امریکہ کا آج ڈونلڈ جیسے جنونی کو لے آنا ہو۔ یہ سب اسی حقیقت کے غماز ہیں کہ عوامی اکثریت کو باشعور فیصلہ سمجھنا پرلے درجے کی حماقت ہے۔انگلینڈ میں برکسٹ کا انتخاب اس کا ایک اور ثبوت تھا۔ گو ٹرمپ کی فتح کا برکسٹ سے تقابل کرنا درست نہیں۔ (جیسا کے کچھ لوگ کر رہے ہیں)۔ برکسٹ غلط توقعات اور غلط سمجھ سے ہوا تھا۔ جب کے ٹرمپ کی مسلم دشمنی اور نسل پرستی کسی امریکی سے مخفی نہ تھی۔ وہ ایک قول ہے کہ اختیار ملنے پر لوگ بدلتے نہیں ہیں بلکہ بے نقاب ہوتے ہیں۔ آج امریکی اکثریت کی بھی نقاب الٹ گئی ہے۔ گدھے کے نشان کو ووٹ ڈالنا تھا مگر یہ گدھے ہی کو ووٹ ڈال آئے۔ 
۔
====عظیم نامہ=====

Wednesday, 2 November 2016

ڈپریشن


ڈپریشن

سوال: 
میں سائیکو پیشنٹ ہوں میرے پرابلمز اینگزائٹی، ڈپریشن اور اسکی وجہ سے باڈی اینڈ برین ڈس آرڈر ہیں. شدید اذیت میں ہوں کیا کروں؟ 
.
جواب: 
میں ڈاکٹر نہیں ہوں, نہ ہی اس طرح کی نفسیاتی مشکلات کا کوئی ماہر اور نہ ہی مجھے کبھی یہ مرض لاحق ہوا ہے مگر میں نے اپنے ایک قریب ترین عزیز کو اس سے گزرتے دیکھا ہے اور اس کا سایہ بن کر اسے اس سے لڑنے میں مدد کی ہے. اس بنیاد پر میں آپ سے اپنے تجربات اور خیالات ضرور شیئر کرسکتا ہوں جو ممکن ہے کہ آپ کو مدد دیں.
.
ہم میں سے ہر انسان کسی نہ کسی نفسیاتی الجھاؤ کا شکار ہوتا ہے. ایک زاویئے سے دیکھیں تو ہم سب کسی نہ کسی درجے میں نفسیاتی مریض ہیں. مگر کچھ کے ساتھ یہ نفسیاتی الجھاؤ سنجیدہ نوعیت اختیار کرجاتا ہے. کوئی بھی ایک واقعہ یا عمومی ماحول اس نفسیاتی دباؤ کو ٹرگر کردیتا ہے. لہٰذا ہرگز اپنی اس بیماری سے پریشان نہ ہو. یاد رکھو کہ ڈپریشن کا سب سے مہلک وار مریض میں مایوسی پیدا کرنا ہے اور مایوسی کفر ہے. جان لو کہ جس کیفیت سے آپ گزر رہے ہو ، اسی کیفیت سے بیشمار لوگ گزر چکے ہیں اور باقاعدہ علاج و کوشش سے مکمل صحت یاب ہو چکے ہیں. آپ بھی ان شاء للہ ضرور اس اذیت سے نکل آؤ گے، بس خود کو مظبوط رکھو اور اپنے رب پر بھروسہ کرو. ممکن ہے کہ آپ اپنی مینٹل سک نیس کو چھپاتے رہے ہو جس کی وجہ سے بیماری نے جڑیں گہری کرلی ہوں. اسلئے کوشش زیادہ کرنی ہوگی، وقت زیادہ لگے گا. جسمانی بیماری کا علاج نفسیاتی بیماری کے مقابلے میں بہت آسان ہے. ذہن میں لگی گرہ کھولنا کوئی آسان کام نہیں ہیں اور اس کیلئے بہت تحمل مزاجی سے کام لینا ہوگا. 
.
میرا مشورہ ہے کہ مندرجہ ذیل تین زاویوں سے اپنا علاج کیجیئے. طبی زاویہ، ماحولیاتی زاویہ اور دینی زاویہ.
.
طبی زاویہ 
======
.
کسی ماہر سائکاٹرسٹس سے علاج کروایئے. اس کی تجویز سے دو کاموں کا اہتمام کیجیئے

١. ڈپریشن کی دوا لیجیئے اور اس کا چھ ماہ تک باقاعدہ استعمال کیجیئے. دوا کے جو سائیڈ ایفکٹ ہوں ان سے ڈاکٹر کو آگاہ رکھیئے اور کسی بھی وجہ سے دوا لینا ترک نہ کیجیئے. سائیڈ ایفیکٹ میں نیند نہ آنا، دانتوں کو کچکچانا، جسم کا کانپنا، رونا آنا وغیرہ شامل ہیں. دوا لینے کے ایک ماہ بعد ہی طبیعت میں تھوڑا سدھار ضرور آئے گا ان شاء للہ مگر مکمل صحت کیلئے صبر کے ساتھ علاج کو جاری رکھنا ہوگا. 
.
٢. سی-بی-ٹی کی تھیراپی کروایئے. (کاگنٹو بہویر تھراپی). اس میں وہ آپ کے سوچ کے زاویوں کو درست کرنے کی کوشش کریں گے. اس ذہنی پیٹرن کو گفتگو سے ٹھیک کرنے کی کوشش ہوگی جو اس نفسیاتی الجھاؤ کا ممکنہ سبب رہا ہے. اس کو کم اہمیت نہ دیجیئے اور پوری دیانتداری سے ڈاکٹر کی بات کو سمجھنے کی کوشش کیجیئے. جو اشکال و اعتراض ہیں وہ بھی سامنے رکھیئے. 
.
معاشرتی زاویہ 
========
.
آپ کو اپنی ان عادات کا تجزیہ کرنا چاہیئے جو اس بیماری کو بڑھانے میں معاون ہیں. اسی طرح اپنے ماحول کا جائزہ لیجیئے اور دیکھیئے کہ وہ کیا عوامل ہیں جو آپ کو نفسیاتی الجھاؤ میں مزید دھکیل دیتے ہیں. اپنی عادات میں ایک بڑا اور مثبت بدلاؤ لائیں. جیسے جم جوائن کرلیں جہاں ورزش کرسکیں، خوب سارا مزہ اور ہنسی مذاق کریں .. یہ سمجھیں کہ مذہب سے لگاؤ کا قطعی مطلب نہیں کہ آپ ایک بور انسان بن کر رہ جائیں، اپنے ان دوستوں میں وقت گزاریں جو آپ کا ریکارڈ لگا سکیں اور جن کیساتھ آپ کھل کر ہنس سکیں. اگر ممکن ہو سکے تو کچھ عرصے کیلئے کسی دوسرے ملک یا شہر گھومنے چلے جائیں. گھر پر بہت زیادہ نہ بیٹھیں. فراغت کو ختم کریں اور فارغ وقت میں کوئی بھی پسند کا کورس یا نوکری کریں. 
.
دینی نظریہ
=======
نماز پڑھ کر اللہ سے خوب دعا کریں. بیماری پر خوش دلی سے صبر کیں اور ساتھ ہی بیشمار حاصل نعمتوں پر اللہ کا شکر ادا کریں. طرح طرح کے دینی وظائف نہ کریں بلکہ صرف ایک آسان سی تسبیح یا وظیفے کا انتخاب کرلیں. کوئی ذہنی بوجھ نہ ہونے دیں. باقائدگی سے غسل کریں، خوشبو لگائیں اور صاف ستھرا لباس رکھیں. نظر بد اتارنے کیلئے کوئی بھی مقبول طریق جس میں شرک نہ ہو اسے اپنائے رکھیں. 
.
میری دعا ہے کہ اللہ آپ کو مکمل صحت دیں آمین.
.
====عظیم نامہ====

Tuesday, 1 November 2016

'اسلام و فوبیا' (اسلام سے بغض و نفرت)


'اسلام و فوبیا' (اسلام سے بغض و نفرت)


.
کل جب آفس سے فارغ ہوا تو طبیعت گھر جانے پر مائل نہ تھی. لندن میں ہونے والی تقاریب کا آن لائن جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ آفس سے آدھے گھنٹے کے فاصلے پر فلسفیوں کی ایک بڑی تقریب کا انعقاد ہورہا ہے جہاں موضوع ہے 'انسانی شخصیت پر بڑھتی عمر کے اثرات' اور یہاں ایک نمائندہ تعلیمی ادارے (کنگز کالج لندن) کی فلسفے کی پروفیسر خطاب کریں گی. کچھ تذبذب کے بعد میں نے وہاں جانے کا ارادہ کیا اور وقت سے پہلے جا دھمکا. یہ پرانے شاہی طرز کا ایک بڑا آڈیٹوریم تھا، جہاں اچھی خاصی تعداد میں لوگ موجود تھے. شرکاء کا جائزہ لیا تو منکشف ہوا کہ وہ قریب قریب سب ہی انگریز ہیں، چالیس سے ستر سال تک کی عمر والے ہیں اور چہرے مہرے سے ہی مفکر نظر آتے ہیں. مجھے اپنا آپ ان کے درمیان اجنبی محسوس ہوا، وہ بھی کن آنکھوں سے مجھے دیکھ رہے تھے جیسے کہہ رہے ہوں کہ یہ پاکستانی مسلمان یہاں کیا کررہا ہے؟ خیر ہم بھی ڈھیٹ بنے رہے اور حسب عادت آگے کی ایک نشست پر قبضہ کرلیا. کچھ ہی دیر میں خاتون اسپیکر تشریف لائیں اور انہوں نے گفتگو کا آغاز کیا. بڑی پرمغز گفتگو ہوئی، جس میں انہوں نے انسانی شخصیت پر کیا کیا عوامل اثر انداز ہوتے ہیں اور کیسے بڑھاپے میں ذہنی کمزوری شخصیت کو بدل سکتی ہے؟ جیسے سوالوں کا جائزہ لیا. بطور سامع اکثر باتوں سے اتفاق ہوا، کچھ سے اختلاف ہوا اور کچھ بلکل نئے زاویئے سامنے آئے. گفتگو ختم ہوئی تو تالیاں بجا کر ہم نے اپنا بستہ اٹھایا اور کمرے سے باہر نکلنے لگے. ٹھیک اسی وقت دیوار پر لگی دیو قامت اسکرین بدلی اور اب وہاں ایک نیا موضوع لکھا ہوا نظر آیا ، جس نے میرے پیر جکڑ لئے. موضوع تھا 'اسلام و فوبیا' (اسلام سے بغض و نفرت). جو اشتہار اس تقریب کا میں دیکھ کر یہاں آیا تھا، اس میں ایسے کسی موضوع کا دور دور تک ذکر نہیں تھا. ظاہر ہے، ہم نے پھر بستہ اتارا اور جلدی سے جا کر اسی نشست پر اپنا قبضہ دوبارہ جما لیا. 
.
تین فلسفیوں کا ایک پینل پنڈال کے سامنے براجمان ہوگیا. تینوں فلسفے کے استاد تھے. دو کی سوچ ملحدانہ تھی جب کے تیسرے نے اپنا تعارف بطور یہودی کے کروایا. میں محسوس کر سکتا تھا کہ میری موجودگی کئی لوگوں کو اور مینجمنٹ کو شائد بے چین کر رہی ہے. ان تینوں مقررین نے یکے بعد دیگرے تقاریر کیں. جس میں انہوں نے بتایا کہ 'اسلام و فوبیا' کیا ہے؟ اور کیوں ہے؟ حیران کن بات یہ تھی کہ ان کی گفتگو کا محور 'اسلام و فوبیا' میں مبتلا لوگوں کی حوصلہ شکنی نہیں تھی بلکہ اس موضوع کی آڑ میں ان تجاویز کو پیش کرنا تھا جس سے مسلمانوں کی مغربی اقدار کے مطابق ذہن سازی کی جاسکے. کچھ اس طرح کی باتیں اور تجاویز کو پیش کیا گیا کہ

'میں نے اسلام سے ارتداد کرنے والو سے گفتگو کرکے یہ جانا ہے کہ اسلام کے عقائد پر سخت تر ہو لیکن مسلمانوں پر نرم تر ہو جاؤ اور انہیں ہر حاصل مراعات میں شامل کرو'.
'یہاں کے مسلمانوں سے پردہ ختم کیا جائے. مخلوط محفلوں کو یقینی بنایا جائے. لڑکیوں اور لڑکوں کے اسکولوں کو الگ الگ نہ رکھا جائے'
.
'مسلمانوں میں قران کی سمجھ میں بہت بڑے اختلافات ہیں. ان کے درمیانی اس وقت زبردست تجدید نو کی جنگ ہو رہی ہے. ہمیں ان میں جدید تعبیرات اور سوچ کو فروغ دینا ہے. انہیں یہ سمجھنا چاہیئے کہ مسلمان ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ قران سے احکام زندگی اخذ کرنے لگیں' 
.
'ہمارے لوگ جو یہ سمجھتے ہیں کہ مذہب چونکہ فساد کی جڑ ہے، اسلئے مذاہب پر پابندی لگا دی جائے. ان کی یہ سوچ صحیح ہے مگر اس پر عمل درآمد ناممکن ہے. اگر کبھی ہو بھی گیا تب بھی انسانی ذہن مذہب جیسی کوئی اور چیز بنا کر فساد کرے گا' 
.
'مسلمانوں کے دل سے یہودیوں کی نفرت نکانی چاہیئے. وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہودیوں نے احادیث کی کتابوں میں غلط روایت شامل کرکے دین کو تبدیل کرنے کی کوشش کی.'
.
اسی طرح کی اور بھی دیگر باتیں ہوتی رہیں. پروگرام ختم ہوگیا اور سب جانے لگے. ہم نے پھر پورے خشوع و خضوع سے بستہ سنبھالا اور باہر نکلنے لگے. پیچھے سے آواز آئی ، تمھیں آج کی گفتگو کیسی لگی؟ مڑ کر دیکھا تو شرکاء میں سے ہی کوئی اجنبی نے یہ سوال پوچھا تھا. میں نے مسکرا کر کہا. 
.
"عجیب بات ہے کہ دو ملحد اور ایک یہودی بیٹھ کر 'اسلام و فوبیا' کی وجوہات اور اس کے تدارک پر لیکچر دے رہے ہیں اور اس پورے ملک میں کوئی ایک مسلم اسکالر نہ مل سکا جو مسلمانوں کی جانب سے ان کا نظریہ رکھ پاتا؟ اور جس سے شرکاء سوالات کرسکتے؟ اگر آپ واقعی 'اسلام و فوبیا' کے خاتمے میں سنجیدہ ہیں تو اگلی بار کسی ایسے مسلمان کے ساتھ اسٹیج شیئر کریں جو مسلم اکثریت کا نمائندہ ہو. البتہ یہ دھیان رہے کہ کسی ایسے تجدد پسند مسلمان کو نہ پکڑ لائیں جو صرف آپ کی باتوں کی تائید کرسکتا ہو ان پر نقد نہیں. چاہیں تو اس میں مدد کرسکتا ہوں آپ کی. آپ لوگ فلسفے کے استاد ہیں یا فلسفے کے طالبعلم. میں فلسفہ آپ جتنا نہیں جانتا، لیکن جتنا جانتا ہوں، اس کے مطابق فلسفہ نام ہے کسی حقیقت کو ہر ممکنہ زاویے سے جانچ کر مکالمہ کرنے کا. لہٰذا آپ میں یہ جرات ہونی چاہیئے کہ مقابل نقطہ نظر کو بھی ایک ہی اسٹیج پر سن اور سمجھ سکیں." 
.
مخاطب کے پاس کہنے کو کچھ نہ تھا. لہٰذا میں نے مسکرا کر نرمی سے بات کا خاتمہ کیا، بستہ سنبھالا اور اجازت لی.
.
====عظیم نامہ====

Saturday, 29 October 2016

کلمہ طیبہ کے تین مراحل


 کلمہ طیبہ کے تین مراحل


غور کریں تو کلمہ طیبہ تین مراحل میں منقسم نظر آتا ہے. سب سے پہلے 'لا الہ' کہہ کر "کیا نہیں ماننا؟" اس کا اعلان کیا جاتا ہے. اس کے بعد 'الا اللہ' کہہ کر "کیا ماننا ہے؟" اس کا اقرار کیا جاتا ہے. اور سب سے آخر میں 'محمد الرسول اللہ' پکار کر یہ جانا جاتا ہے کہ "کیسے کرنا ہے؟" راقم کا احساس ہے کہ اگر اسی ترتیب و ترکیب کو ملحوظ رکھ کر دیگر علمی و عملی حقیقتوں پر بھی غور کرلیا جائے تو بہترین علمی نتائج تک پہنچنا ممکن ہے. گویا کسی بھی موجود حقیقت کا تجزیہ یا تحقیق کرتے ہوئے سب سے پہلے جائزہ لیں کہ "کیا نہیں ماننا یا کیا نہیں کرنا ہے؟" اس کے بعد دلائل و براہین سے جانیں کہ "کیا ماننا ہے یا کیا کرنا ہے؟" اور سب سے آخر میں اس کی کھوج کریں کہ "کیسے کرنا ہے؟"
.
====عظیم نامہ====

Monday, 10 October 2016

فلسفی کا خدا


فلسفی کا خدا 



خالص فلسفے اور منطق سے جو بھی خدا کا تصور تراشا جائے گا وہ کتنا ہی جاذب کیوں نہ محسوس ہو؟ اپنی اصل میں ناقص، نامکمل، غیر حقیقی اور باطل ہوگا. 
.
حقیقی خدا کون ہے؟ کیا چاہتا ہے؟ اس کا انسانی حد تک ممکن جواب صرف اسی صورت ممکن ہے جب انسان کو وحی الہی کا نور خارج میں اور فطرت سلیمہ کا نور باطن میں میسر ہو. گویا "نور علیٰ نور"
.
اگر خدا کا تصور انسانی ذہن کی تخلیق ہے تب فلسفی کا پیش کردہ خدا تسلیم کیا جاسکتا ہے. 
لیکن اگر انسانی ذہن خدا کی تخلیق ہے تب وحی کی جانب رجوع کے سوا اور کوئی راستہ نہیں. 
.
فلسفی کو بحث کے اندر خدا ملتا نہیں 
ڈور کو سلجھا رہا ہے اور سرا ملتا نہیں
.
====عظیم نامہ====

Friday, 7 October 2016

نماز و اذکار کا کیا فائدہ؟


نماز و اذکار کا کیا فائدہ؟



جب تم نیکیوں کے باوجود گناہ نہیں ترک کرتے تو گناہوں کے ارتکاب کو سوچ کر نیکیاں ترک کرنے کی حماقت کیوں کرتے ہو؟ 
ہرگز ملعون ابلیس اور شاطر نفس کے اس دھوکے میں نہ آؤ کہ اس گناہ بھری زندگی میں چند نیکیوں کا کیا فائدہ؟ نماز و اذکار کا کیا فائدہ؟
.
جان لو کہ عقلمند وہ ہے جو مسلسل سچی توبہ کی کوشش کرتا رہے. چاہے ہزار بار ناکام ہو مگر ہر بار نئے عزم سے اٹھے اور رب سے معافی مانگے. اگر گناہ نہیں ترک ہو پارہے تو ترک گناہ کی سعی کیساتھ نیکیوں کا 'ان ٹیک' بڑھا دے. کیا بھول گئے؟ کہ فرمانِ باری تعالی ہے " إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ - بے شک نیکیاں برائیوں کو ختم کردیتی ہیں" سورہ ہود/ 114 
یاد رکھیں کہ ہمارا رب سچی توبہ پر حقوق اللہ سے متعلق بڑے سے بڑے گناہ کو معاف فرما دیتے ہیں اور نیکیوں کو کا اجر کچھ صورتوں میں دگنا، کچھ میں دس گنا، کچھ میں سات سو گنا اور کچھ میں بے حساب عطا کرتے ہیں.
.
استغفرللہ .. استغفرللہ .. استغفرللہ العظیم 
.
====عظیم نامہ====

Tuesday, 4 October 2016

دو نکھٹو


دو نکھٹو 



کبھی کبھی تو یہ لگتا ہے کہ ان دونوں ملکوں یعنی پاکستان اور ہندوستان کو ایک دوسرے کا جھپی ڈال کر شکریہ ادا کرنا چاہیئے. قیام کے بعد قریب ستر سال گزارنے اور بے پناہ وسائل رکھنے کے باوجود، اگر ان دونوں ممالک نے کسی شعبے میں قابل ذکر ترقی کی ہے تو وہ واحد دفاع کا شعبہ ہے. ایک دوسرے کی ضد اور حرص میں میزائل، ٹینک، ہتھیار، آبدوزیں، جہاز اور ایٹم بم تک بنا ڈالے. اگر ان دونوں ممالک کے بیچ یہ مسلسل کشیدگی نہ ہوتی تو کیا معلوم؟ یہ کرپٹ حکمران (ہمارے زیادہ، ان کے ہم سے کم) باقی کا پیسہ بھی ہڑپ کر چکے ہوتے. یہ توقع بھی حماقت ہے کہ وہ اس مال کو ترقی و تعمیر کیلئے استعمال کرتے. ابھی تو مجبوری ہے کہ ملکی سلامتی کیلئے یہ پیسہ دفاع پر لگانا ہی پڑتا ہے. اگر یہ مجبوری حائل نہ ہوتی تو شائد اس دنیا میں دو صومالیہ اور ہوتے. 
.
====عظیم نامہ====

Thursday, 22 September 2016

خودبخود

خودبخود



زیرو کا بلب ایڈیسن نے بنایا اور سورج خودبخود بن گیا.
ملک کا نظام انسانوں نے بنایا اور کائنات کا نظم خودبخود بن گیا.
اداروں کے قوانین قانون سازوں نے بنائے اور مادی قوانین خود بخود بن گئے. 
مادے کے ڈھیر سے جیتا جاگتا عاقل انسان خود بخود بن گیا. 
"یہ کائنات خودبخود چل رہی ہے". یہ بات ملحد نے گاڑی چلاتے ہوئے کہی.

کون بہتر؟


کون بہتر؟



ایک شخص کے تین بیٹے تھے. ایک روز اس نے ان تینوں کو جمع کرکے تلقین کی کہ دیکھو میں شام تک کیلئے گھر سے باہر جارہا ہوں. اگر میری غیرموجودگی میں کچھ مہمان آجائیں تو تم لازمی مہمان نوازی کے حقوق ادا کرنا. یہ کہہ کر وہ شخص اپنا کام نمٹانے گھر سے چلا گیا. کچھ دیر بعد کسی نے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا. معلوم ہوا کہ کچھ مہمان ملنے آئے ہیں. اب ان بیٹوں نے جب مہمانوں کی صورت دیکھی تو پہلا سب سے بڑا بیٹا تو جلدی سے اٹھ کر اپنے کمرے میں چلا گیا. دوسرا منجھلا بیٹا کمرے میں تو نہ چھپا مگر واجبی سا سلام کرکے کونے میں بیٹھ کر لاتعلقی سے اپنا ناول پڑھنے لگا. ان دونوں بڑے بیٹوں کے برعکس چھوٹے بیٹے نے جو اپنی عمر اور طاقت کے لحاظ سے بہت کم تھا، نہ صرف مہمانوں کا پرجوش استقبال کیا بلکہ اپنی ٹوٹی پھوٹی گفتگو سے ان کا دل بھی بہلانے لگا. گو چھوٹا ہونے کے سبب اسے ٹھیک سے بات کرنا نہیں آتا تھا. پھر وہ اٹھا اور جا کر مہمانوں کیلئے چائے بنانے لگا لیکن اسے تو چائے بنانا بھی ٹھیک سے نہ آتی تھی. لہٰذا اس نے پانی سے پہلے دودھ ڈال دیا اور دودھ کے بعد پتی ڈالی. چینی بھی کچھ زیادہ گرگئی اور اس نے پیالی بھی زیادہ بھر دی. اب وہ اس چائے کو بامشکل سنبھالتا، لڑکھڑاتا، ڈگمگاتا مہمانوں کے پاس لانے لگا. اس کے ہاتھ توازن نہ رکھ پاتے تھے اور چائے تھوڑا تھوڑا اچھل کر طشتری میں پھیلتی جاتی تھی. اس نے بسکٹ بھی پیش کئے مگر جس برتن میں انہیں رکھا وہ چٹخا ہوا تھا. ان سب کوتاہیوں کے باوجود وہ مہمانوں کی ہر ممکنہ تواضع کرتا رہا. شام ڈھلے باپ واپس آیا تو اسے اندازہ ہوگیا کہ کچھ مہمان گھر آئے تھے. اس نے بیٹوں سے استفسار کیا کہ تم میں سے کس نے مہمان نوازی کے حقوق ادا کئے ؟
.
قارئین آپ کا کیا خیال ہے کہ ان تینوں بیٹوں میں سے وہ کون تھا جس نے حقیقی معنوں میں مہمان کے حقوق ادا کرنے کی سعی کی؟ مجھے یقین ہے کہ آپ میں سے ہر ایک کا جواب یہی ہوگا کہ چھوٹے بیٹے نے حقوق ادا کئے. اس نے چاہے کتنی ہی غلطیاں کی ہوں مگر کم از کم اس نے اپنی صلاحیت کے مطابق مقدور بھر کوشش تو کی. دوستو اس فرضی کہانی کا مقصد یہ بتانا ہے کہ جو افراد عملی طور پر بہتری کی کوشش کرتے ہیں، وہ اپنی اس کوشش میں کسی ممکنہ کمی اور غلطی کے باوجود بھی ان افراد سے بہرحال ہزار درجے بہتر ہیں جو صرف فصیح و بلیغ باتیں بگھارتے ہیں. افسوس یہ ہے کہ ہمارے ہاں بہت سے خود ساختہ مفکرین تنقید کرنے میں تو سب سے آگے ہیں مگر عملی میدان میں ان کا اپنا کردار صفر بٹا صفر ہے. یہ لوگ فلاحی (چیریٹی) اداروں میں کیڑے نکالتے ہیں مگر خود کسی فلاحی کام کا عملی حصہ نہیں بنتے. یہ تعلیمی شرح کے کم ہونے پر طعنہ کستے ہیں مگر خود کسی غریب کی تعلیم کا بندوبست نہیں کرتے. یہ ملک میں بڑھتی بیروزگاری کا رونا روتے ہیں مگر ذاتی وسائل رکھنے کے باوجود کسی مجبور کی نوکری کا بندوبست نہیں کرتے. 
شکوہ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا 
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے 
.
====عظیم نامہ====

Monday, 19 September 2016

مایوسی کے پیغمبر


مایوسی کے پیغمبر



بد مزاج انسان کا پسندیدہ جملہ: "بھائی سچ ہمیشہ کڑوا ہوتا ہے" 
(حالانکہ اکثر سچ کڑوا نہیں ہوتا بلکہ آپ کا لہجہ اور الفاظ کا انتخاب اسے کڑوا بنادیتا ہے)
.
منفی ذہنیت والے انسان کا پسندیدہ جملہ: "بھائی میں تو بس آئینہ دکھاتا ہوں" 
(حالانکہ منفیت کا مریض مثبت زاویہ دیکھ ہی نہیں سکتا. وہ تو صرف ماتم کرسکتا ہے، کوسنے دے سکتا ہے)
بے عمل ناقد انسان کا پسندیدہ جملہ: "بھائی میں تو مسلسل تنقید ہی سے لوگوں میں آگہی پیدا کرنے کا فریضہ انجام دیتا ہوں." 
(حالانکہ عملی میدان میں مثبت تبدیلی لانے والے افراد ہمیشہ اپنی گفتگو میں مثبت ہوتے ہیں اور صرف 'تعمیری' تنقید کیا کرتے ہیں) 
.
مایوس انسان کا پسندیدہ جملہ: "بھائی یہ معاشرہ ہی سڑ چکا ہے، مجھ اکیلے کے کرنے سے کیا ہوگا؟
(حالانکہ سچی تبدیلی کے خواہشمند شکوے کرنے کی بجائے اپنا اپنا کردار نبھاتے ہیں)
.
دوستو میں یہ نہیں کہہ رہا کہ تنقید نہ کریں یا مسائل کو زیر بحث نہ لائیں. ضرور لائیں مگر اس میں توازن پیدا کریں. جہاں زید حامد کی طرح خوش فہمی کا چیمپئن بننا حماقت ہے وہاں حسن نثار کی طرح مایوسی کا پیغمبر بن جانا بھی دانش کی دلیل نہیں. تنقید ضرور کریں مگر تعریف کے پہلوؤں پر بھی اپنی نظر کرم کیجیئے. مثبت انداز میں تنقید کیجیئے کہ جسے پڑھ کر قاری مایوسی کی دلدل میں نہ جاگرے بلکہ اس میں اپنے سدھار کا جذبہ پیدا ہو. یہ کلیہ کسی سے مخفی نہیں ہے کہ جس صحبت میں بیٹھو گے ویسے ہی جلد یا دیر تم بھی ہو جاؤ گے، لہٰذا اپنی صحبت کا فیصلہ سوچ سمجھ کر اس حدیث کی روشنی میں کرو 
.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھے اور برے ساتھی کی مثال ایسی ہے جیسے مشک والا اور لوہاروں کی بھٹی. تو مشک والے کے پاس سے تم بغیر فائدے کے واپس نہ ہوگے، یا تو اسے خریدو گے یا اس کی بو پاؤ گے. اور لوہار کی بھٹی تیرے جسم کو یا تمہارے کپڑے کو جلا دے گی یا تم اس کی بدبو سونگھو گے۔( صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 2021)
.
====عظیم نامہ====

Friday, 16 September 2016

جو کرتا ہے سو اللہ کرتا ہے


جو کرتا ہے سو اللہ کرتا ہے



کہتے ہیں کہ ایک درویش اپنی دھن میں مگن یہ کہتا جارہا تھا 
.
"جو کرتا ہے سو اللہ کرتا ہے ... جو کرتا ہے سو اللہ کرتا ہے" . 
.
ایک شریر انسان کو جو مستی سوجھی تو اس نے درویش کو کنکر پھینک مارا. 
.
درویش نے پلٹ کر اس شخص کو گھورا تو اس نے قہقہہ لگاتے ہوئے طنزیہ جملہ کسا 
.
"ارے کیا ہوا میاں؟ مجھے کیوں دیکھتے ہو؟ تم ہی تو کہتے ہو کہ جو کرتا ہے سو اللہ کرتا ہے؟"
.
درویش نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جواب دیا 
.
"ہاں یہی سچ ہے کہ جو کرتا ہے سو اللہ کرتا ہے .. میں تو بس یہ دیکھ رہا تھا کہ اس کرنے کرانے میں اپنا منہ کس نے کالا کیا؟"
عزیزان من ، اس کائنات میں سب کچھ اللہ ہی کی مرضی اور اجازت سے ہورہا ہے. مگر اسی نے اپنی مرضی و اجازت سے انسان کو آزادی اختیار دے رکھا ہے. وہ 'علم' رکھتا ہے مگر اس کا 'علم' رکھنا آپ کو دیئے 'اختیار' کو سلب نہیں کرتا. 
.
====عظیم نامہ====

Thursday, 15 September 2016

تقدیر سادہ الفاظ میں کیا ہے؟



تقدیر سادہ الفاظ میں کیا ہے؟


.
تقدیر کے مسئلے کو بجا طور پر تاریخ انسانی کا پیچیدہ ترین مسئلہ تسلیم کیا جاتا ہے. فلسفہ، مذہب، سائنس، منطق سب اس موضوع پر طبع آزمائی کرتے رہے ہیں اور کسی متفقہ مدلل نتیجے پر نہیں پہنچ سکے ہیں. متکلمین بھی ایک زمانے تک جبریہ یعنی مکمل جبر اور قدریہ یعنی مکمل اختیار جیسی انتہاؤں میں مبتلا رہے ہیں. لہٰذا یہ سوچنا درست نہیں کہ اس کی باریکیوں کو آپ سوشل میڈیا پر سمجھ لیں گے. بہرحال میری سمجھ کا ایک اجمالی خاکہ درج ذیل پانچ حقیتوں میں مذکور ہے. جو تمام ایک دوسرے سے منسلک تو ضرور ہیں مگر اپنا جداگانہ وجود رکھتی ہیں اور جنہیں اگر آپ جدا جدا سمجھ لیں تو مسئلہ تقدیر کو کسی حد تک جان پائیں گے ان شاء للہ
.

١. علم الٰہی
_____________
یعنی اللہ کو ہر بات کا بناء ماضی، حال اور مستقبل کی تفریق کے علم ہے لیکن کسی بات کا رب کو علم ہونا اور کسی پر رب کا جبر کرنا دو علیحدہ حقیقتیں ہیں. رب کا علم کیسے کام کرتا ہے؟ یہ ہم اپنی انسانی عقل سے کبھی نہیں جان سکتے کہ محدود غیر محدود کا احاطہ نہیں کرسکتا. زمان و مکان میں مقید مخلوق زمان و مکان سے آزاد خالق کے علم کو نہیں جان سکتی.
.
"اور اسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں جنہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا، اور جانتا ہے جو کچھ زمین میں اور دریا میں ہے، اور کوئی پتہ نہیں گرتا مگر وہ اسے بھی جانتا ہے اور کوئی دانہ زمین کے تاریک حصوں میں نہیں پڑتا اور نہ کوئی تر اور خشک چیز ہے مگر یہ سب کچھ کتاب روشن میں ہیں۔" (سورہ الانعام ٥٩)
.
٢. تقدیر مبرم حقیقی
______________________
.
تقدیر دو حصوں میں منقسم ہے. اس کا پہلا حصہ وہ ہے جس میں ہم مجبور محض ہیں اور جسے بدلا نہیں جاسکتا. جیسے ہمارا مرد یا عورت ہونا یا ایک خاص ملک و گھر میں پیدا ہونا، ہمارا 'ڈی این اے کوڈ' وغیرہ. اسی طرح کسی کی موت کا یا عذاب کا حتمی فیصلہ بھی اسی میں شامل ہے
.
"’’(فرشتوں نے کہا:) اے ابراہیم! اس (بات) سے درگزر کیجئے، بیشک اب تو آپ کے رب کا حکمِ (عذاب) آچکا ہے، اور انہیں عذاب پہنچنے ہی والا ہے جو پلٹایا نہیں جا سکتا۔‘‘ (سورہ الهود ١١)

.
٣. تقدیر مبرم غیر حقیقی
__________________________
تقدیر کا وہ دوسرا حصہ جس میں دعا اور کوشش سے تبدیلی ممکن ہے جیسے دعا اور دوا کرو گے تو فلاں بیماری سے نجات پاؤ گے ورنہ نہیں.
.
"صرف دعا ہی قضا کو ٹالتی ہے۔‘‘ (ترمذی)
.
٤. آزادی ارادہ و اختیار
_______________________
دین کا سارا مقدمہ اسی پر قائم ہے کہ انسان اس دنیا میں آزادی ارادہ و اختیار کے ذریعے جو فیصلے کرے گا، روز آخرت اسی کی جزاء پائے گا. لہٰذا اس سے بڑا کوئی مغالطہ نہیں کہ کوئی عقلمند یہ سوچے کہ وہ مطلق مجبور ہے. یہ بات ہم پر دین اور تجربے دونوں سے ثابت ہے کہ انسان زندگی کے اچھے برے فیصلے اکثر اپنی مرضی سے لینے پر قادر ہوتا ہے. یہ اختیار 'تقدیر مبرم غیر حقیقی' کے دائرے میں ہی کام کرتا ہے.
.
"ہم نے تو اسے راہ دکھائی تو اب وہ خواہ شکر گزار بنے خواہ ناشکرا" (سورہ الدھر ٣)
.
" یہ کہ انسان کو وہی کچھ ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے اور یہ کہ اس کی کوشش دیکھی جائے گی، پھر اس کو اس کا پورا پورا بدل دیا جائے"
(سورہ النجم)
.
٥. نتیجہ 
_________
.
کوشش انسان کے ہاتھ میں ہے مگر موافق و مخالف نتیجہ صرف اللہ کے اختیار میں ہے. اسی لئے شریعت میں ہم صرف کوشش کے مکلف ہیں نتائج کے نہیں. گو عموم میں اس دارالا متحان کا اصول یہی ہے کہ اچھے برے دونوں اقدام کو انسان کے مطلوبہ نتیجے تک پہنچنے دیا جائے. مگر دو صورتوں میں قادر المطلق نتیجہ انسانی ارادے کے برخلاف کردیتے ہیں. پہلا جب کی گئی کوشش رب کے مجموعی نظام و مشیت یعنی اس کے کائناتی گرینڈ پلان سے ٹکراتی ہو. دوسرا جب کسی کی دعا اس عمل کے خلاف مقبول ہوچکی ہو. چانچہ بعض اوقات ایک قاتل اپنے ارادہ و اختیار سے گولی چلاتا ہے مگر گولی اسی بندوق میں اٹک جاتی ہے اور یوں اس کا ارادہ مطلوبہ نتیجہ حاصل نہیں کرپاتا.
.
"اور پھر اس کے باغ کے پھل آفت میں گھیر دیئے گئے تو وہ ان اخراجات پر ہاتھ ملنے لگا جو اس نے باغ کی تیاری پر صرف کئے تھے جب کہ باغ اپنی شاخوں کے بل اُلٹا پڑا ہوا تھا اور وہ کہہ رہا تھا کہ اے کاش میں کسی کو اپنے پروردگار کا شریک نہ بناتا " (سورہ الکہف ٤٢)
.
====عظیم نامہ====

Wednesday, 14 September 2016

وہ عورت پڑوسی کے ساتھ بھاگ گئی


 وہ عورت پڑوسی کے ساتھ بھاگ گئی



سوال:
میرے ایک کزن نے بہت محبت سے شادی کی اور اسی سے اس کے بچے ہوئے. وہ عورت پڑوسی کے ساتھ چکر چلا کر بھاگ گئی. میرا کزن اب پانچ ماہ سے شدید اذیت میں رہتا ہے. مرنے مارنے اور خودکشی کا سوچتا رہتا ہے. میں اسے کئی مولوی صاحبان کے پاس بھیج چکا ہوں مگر کوئی فائدہ نہیں ہوا. آپ کسی اچھے مولوی کو جانتے ہیں؟ سمجھ نہیں آتا اسے کیسے ہینڈل کروں؟ اس عورت نے بچوں کی ماں ہوکر بھی ایسا کیوں کیا؟ سوچا آپ بہتر مشورہ دیں گے 
.
جواب:
آپ کے کزن کے ساتھ جو ہوا وہ انتہائی افسوسناک ہے مگر وہ پہلا انسان نہیں ہے جس کے ساتھ ایسا حادثہ پیش آیا ہو. ایسے ہلا دینے والے واقعات ہر سال لاکھوں کی تعداد میں ہوتے ہیں. ہم ایسے کسی واقعہ پر افسوس تو کرسکتے ہیں مگر اسے بنیاد بنا کر کسی کو مارنے یا خودکشی کرلینے کا جواز نہیں تراش سکتے. ایسی سوچ عقل اور دین دونوں کے خلاف ہے. آپ کے کزن کو مولوی کی نہیں بلکہ کسی ایسے قابل نفسیاتی معالج کی ضورت ہے جسے وہ اپنا دکھ کھل کر بیان کرسکے اور جو اس کی باقاعدہ کونسلنگ کرسکے. ممکن ہے کہ اسے ایک خاص ذہنی تھیراپی کروائی جائے جسے "کاگنیٹیو بحویور تھیراپی" یعنی 'سی-بی-ٹی' سے موسوم کیا جاتا ہے. ساتھ ہی اسے ذہنی دباؤ کو دور کرنے کی ایسی ادویات دی جائیں گی جو اسے اپنی اس داخلی کیفیت سے لڑنے میں مدد کرسکیں. ساتھ ہی لازمی ہے کہ اسے دین کی اصل روح کے قریب لایا جائے. ذکر الٰہی سے قلوب سکون پاتے ہیں. دیگر عوامل کے ساتھ ساتھ کوئی غیرمعمولی واقعہ بھی فرد کو ڈپریشن میں لے جاتا ہے. مایوسی پیدا ہونا، خودکشی کا سوچتے رہنا، روتے رہنا - یہ سب ڈپریشن کی علامات میں شامل ہیں. آپ نے اس حادثے پر کوئی پی ایچ ڈی تھیسس نہیں جمع کروانا ہے. اسلئے یہ سوال کہ اس عورت نے بچوں کی ماں ہوکر ایسا کیوں کیا؟ اسے کریدتے رہنے کا اب کوئی فائدہ نہیں. اکثر ایسے حادثات کے پیچھے سالوں پر محیط بہت سے مخفی عوامل ہوا کرتے ہیں. جیسے مناسب وقت اور توجہ نہ دینا، بات بے بات جھگڑا کرتے رہنا، عزت نفس کو کچلتے رہنا وغیرہ 
.
وقت کرتا ہے پرورش برسوں 
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا 
.
====عظیم نامہ====
.
(نوٹ: نازیبا کمنٹس ڈیلیٹ کردیئے جائیں گے جیسے اس عورت کو گالی دینا یا اس مرد کا مذاق بنانا)

Tuesday, 13 September 2016

پتھر کے شیطان کو حج میں کنکریاں مارنا کہاں کی عقلمندی ہے؟


پتھر کے شیطان کو پتھر مارنا کہاں کی عقلمندی ہے؟




کچھ دیر قبل کسی کی شیئر کردہ پوسٹ اپنی فیس بک وال پر شیئر کی جسے میرے علاوہ بھی بہت سے افراد شیئر کرچکے ہیں. ان افراد میں محترم رعایت اللہ فاروقی، محترم جمیل اصغر جامی، محترم قیصر شہزاد اور محترم مولانا اسحٰق عالم جیسے صاحبان علم بھی شامل ہیں. اس شیئر کردہ پوسٹ کو جہاں بہت سے لوگوں نے سراہا وہاں کچھ سادہ لوح افراد ایسے بھی تھے جو اسے پڑھ کر بھڑک اٹھے. کچھ کی غیرت ایمانی تو اس وقت تک ٹھنڈی نہ ہوئی جب تک انہوں نے مجھے برابھلا نہ کہہ لیا. گو کے اس پوسٹ کی خوبصورتی یہی تھی کہ اسے مزید نہ کھولا جائے مگر اب یہ حال دیکھ کر اس کا مختصر خلاصہ لکھ رہا ہوں 
.
پوسٹ کے پہلے حصے میں ملحدین اور مخالفین اسلام کا وہ مشہور اعتراض درج ہے جو وہ ہر سال حج کے موقع پر اٹھایا کرتے ہیں. اعتراض کچھ یوں ہے کہ : "پتھر کے شیطان کو کنکریاں مارنا کہاں کی عقلمندی ہے؟" . اس سوال یا اعتراض کا جواب ایک مسلم کیلئے تو اتنا کافی ہے کہ یہ حکم خداوندی ہے اسلئے ہمیں مزید کسی دلیل کی حاجت نہیں. مگر کیا یہی جواب کسی ملحد کیلئے بھی درست ہوگا؟ ظاہر ہے کہ نہیں. لہٰذا پوسٹ میں اس سوال کا جواب مکالمے کے اس انداز سے دیا گیا جسے 'الزامی جواب' کہا جاتا ہے. جواب کچھ یوں ہے کہ : اگر پتھر کے شیطان کو کنکری مارنا عقلمندی نہیں تو پھر امریکہ کے جھنڈے کو سیلوٹ مارنا کیسے عقلمندی ہوگی؟ جس طرح امریکہ کا جھنڈا امریکہ کے وجود کا علامتی اظہار ہے اور اسی لئے امریکی فوجی اسے ملک کی علامت سمجھ کر سیلوٹ مارتے ہیں. ٹھیک اسی طرح پتھر کا یہ مجسمہ شیطان کا علامتی نشان بنایا گیا ہے جسے کنکریاں مار کر مسلمان اپنی شیطان بیزاری کا اعلان کرتے ہیں. 
یہ پوسٹ ملحدین کے ایک گستاخانہ اعتراض کا الزامی جواب ہے. امید ہے کہ اب بات واضح ہوئی ہوگی.

Friday, 9 September 2016

مجھے زبردستی تخلیق کرکے خدا نے جبری ظلم کیوں کیا؟


مجھے زبردستی تخلیق کرکے خدا نے جبری ظلم کیوں کیا؟



.
سوال: میں نے خدا کو کوئی ایپلیکیشن (درخواست) نہیں دی تھی کہ وہ مجھے پیدا کرے. مجھے زبردستی تخلیق کرکے خدا نے جبری ظلم کیوں کیا؟ 
جواب: گستاخی معاف مگر خدا کے خلاف پرچہ کٹوانے سے پہلے آپ کو چاہیئے کہ اپنے والدین پر جبر کا مقدمہ دائر کردیں. انہوں نے مل کر آپ کی کسی درخواست یا اپروول کے بغیر آپ کو اس دنیا میں لانے کی سازش کی. آپ کی والدہ نے آپ کو جبری طور پر نو ماہ اپنے پیٹ میں رکھا. پھر ان دونوں نے آپ کو آپ کی مرضی کے خلاف اسکول میں ڈال دیا. جہاں آپ کو اساتذہ کے ساتھ مل کر سختی سے وہ بھی پڑھوایا جو آپ پڑھنا نہیں چاہتے تھے. زبردستی امتحان دلوائے. اس طرح کے جرائم کی طویل فہرست موجود ہے. جو انکے مسلسل جبر کی داستان بیان کرتی ہے. اس لئے اگر اس دنیا میں کوئی آپ کیلئے سب سے بڑا مجرم ہے تو وہ آپ کے والدین ہیں. لیکن یہ کیا؟ آپ تو اپنے والدین سے ناراض نہیں ہوتے. آپ تو ان کی ان جبری سازشوں پر ان کا شکریہ ادا کرتے نظر آتے ہیں. آپ تو ان والدین کو کوستے ہیں جو حمل ضائع کردیں. موت سے بچنے کیلئے آپ اپنا مال پانی کی طرح لٹا دیتے ہیں. آپ کے کسی عزیز کی جان کسی حادثے میں بچ جائے تو شکرانے کے نوافل پڑھتے ہیں. آپ تو ہر سال اپنی سالگرہ کی مبارکبادیں سمیٹتے ہیں. اپنے بچوں کی پیدائش پر سارے علاقے میں مٹھائیاں بانٹتے ہیں. اولاد نہ ہو تو مہنگے سے مہنگا علاج کرتے ہیں. خدا سے منتیں مانگتے ہیں. اگر خدا نے آپ کو پیدا کرکے آپ پر ظلم کیا ہے تو آپ کے والدین اسی منطق سے کیوں ظالم نہیں؟ اور آپ جو اولاد پیدا کرتے ہیں تو آپ خود ظالم کیسے نہیں؟ 
.
میرے عزیز سچ یہ ہے کہ عمومی طور پر ہم بحیثیت انسان یہ خوب جانتے ہیں کہ زندگی ایک عظیم ترین تحفہ اور عطیہ خداوندی ہے. بیش قیمت تحفہ پر دینے والے کا شکریہ ادا کیا جاتا ہے، یہ نہیں کہا جاتا کہ میں نے تحفہ کیلئے کوئی ایپلیکیشن تو نہیں دی تھی. میں جانتا ہوں کہ بعض افراد کیلئے زندگی ایسی سخت ہوجاتی ہے کہ وہ خودکشی تک کربیٹھتے ہیں مگر اس میں قصور ان حالات و واقعات کا ہوتا ہے جو دوسرے انسان اسکے لئے کھڑے کردیتے ہیں یا اس کی اپنی ان حماقتوں کا ہوتا ہے جو زندگی جیسی نعمت کو بھی اس پر بوجھ بنا دیتی ہیں. وگرنہ ایسی حالت میں بھی اگر خودکشی کرنے والے شخص کو بہتری کی کوئی صورت نظر آجائے تو وہ کبھی زندگی کی نعمت کو ہاتھ سے نہیں جانے دیتا. اب آپ کو میں بتاتا ہوں کہ آپ کا اصل مسلہ کیا ہے؟ آپ کی اصل شکایت یہ ہے ہی نہیں کہ آپ کو زندگی کی نعمت کیوں دی گئی؟ آپ کا اصل شکوہ یہ ہے کہ آپ کو اس زندگی میں خدائی ہدایات پر عمل کیوں کرنا ہے؟ آپ خفاء اس بات پر ہیں کہ اگر آج آپ نے تقویٰ نہ اختیار کیا تو کل جہنم آپ کا ٹھکانہ بن جائے گی. یہ ہے وہ اصل اشکال جو کسی مسلم کے ذہن میں ایسے سوالات پیدا کرتا ہے. یہ سوچ بڑی تباہ کن اور حماقت پر مبنی ہے. یہ ایسا ہی ہے کہ کوئی شخص اعتراض کرے کہ کسی اچھے کاروبار یا نوکری کرنے کیلئے مجھے پہلے محنت سے پڑھنا اور سیکھنا کیوں ہے؟ ایسی راہ فرار ڈھونڈھنے والے انسان کو نکما تو کہا جاسکتا ہے لیکن درست تسلیم نہیں کیا جاسکتا. پورا قران انسان کو جنت کی نوید سنا رہا ہے اور حقوق کی ممکنہ تلافی کیساتھ سچی توبہ پر گناہوں کے معاف ہوجانے کی خوشخبری دے رہا ہے. ایسے میں جنت کے اونچے سے اونچے درجات کی چاہ رکھنے کی بجائے کسی ناکارہ وجود کی طرح اپنے پیدا ہونے کو ظلم سمجھ لینا نہایت عجیب ہے. 
.
یہ تو تھی بنیادی باتیں جنہیں ہر مسلم کی سوچ کا جزو ہونا چاہیئے. اب اس بات کا بھی جائزہ لےلیتے ہیں کہ کیا فی الواقع خدا نے ہم سے پوچھے بناء ہمیں اس دار الامتحان میں بھیجا ہے؟ یہ حقیقت ہے کہ ہماری تخلیق 'خلیفہ الارض' کے طور پر کی گئی. جیسے بیان ہوا {اِنِّیۡ جَاعِلٌ فِی الۡاَرْضِ خَلِیۡفَۃً: میں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں۔} لیکن ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ ہمارے اس جسدی وجود سے قبل ہمارے ایک روحانی وجود کو بھی پیدا کیا گیا. جو ہماری اصل شخصیت کا ماخذ ہے. قران حکیم میں بیان ہوا کہ ہمارے اس روحانی وجود میں نیکی اور بدی کے شعور سمیت کئی حقیقتوں کو الہام کردیا گیا. جیسے سورہ الشمس میں ارشاد ہوا {فَأَلْہَمَہَا فُجُوۡرَہَا وَتَقْوَاہَا: ہم نے ا نسان پر اسکی نیکی و بدی کو الہام کردیا ہے-} ہماری اسی شخصیت نے رب سے مکالمہ کیا اور ان کے رب ہونے کا اقرار کیا. ہم میں سے ہر ایک کی روح نے اپنی زمینی منتقلی سے قبل یہ وعدہ اپنے رب سے کیا، اسی وعدے کو عہد اَلَسْتُ سے تعبیر کیا جاتا ہے. ملاحظہ ہو سورہ الاعراف [173-7:171] 
.
وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِن بَنِي آدَمَ مِن ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُواْ بَلَى شَهِدْنَا أَن تَقُولُواْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا غَافِلِينَ
.
"اور اے نبی، لوگوں کو یاد دلاؤ وہ وقت جبکہ تمہارے رب نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی نسل کو نکالا تھا اور انہیں خود ان کے اوپر گواہ بناتے ہوئے پوچھا تھا "کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟" انہوں نے کہا "ضرور آپ ہی ہمارے رب ہیں، ہم اس پر گواہی دیتے ہیں" یہ ہم نے اس لیے کیا کہ کہیں تم قیامت کے روز یہ نہ کہہ دو کہ "ہم تو اس بات سے بے خبر تھے."
.
بات یہاں تک ہی نہیں ہے بلکہ اس امتحان اور ذمہ داری کو بحیثیت امانت کائنات کی مخلوقات پر پیش کیا گیا تھا. مگر سوائے انسان کے باقی تمام مخلوقات نے اسے قبول کرنے سے عاجزی اختیار کی. سورہ الاحزاب کی ان ٧١ سے ٧٣ آیات پر غور کیجیئے
.
إِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ عَلَى السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالْجِبَالِ فَأَبَيْنَ أَن يَحْمِلْنَهَا وَأَشْفَقْنَ مِنْهَا وَحَمَلَهَا الْإِنسَانُ إِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولًا
.
"ہم نے اس امانت کو آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا تو وہ اُسے اٹھانے کے لیے تیار نہ ہوئے اور اس سے ڈر گئے، مگر انسان نے اسے اٹھا لیا، بے شک وہ بڑا ظالم اور جاہل ہے"
.
اس آیت کی مختصر تشریح میں یہ جان لیں کہ مفسرین میں اختلاف ہے کہ لفظ امانت سے حقیقی مراد کیا ہے؟ بعض کے نزدیک اس کا مطلب شریعت، بعض کے نزدیک آزادی ارادہ و فکر، بعض کے نزدیک قران حکیم اور بعض کے نزدیک 'خلیفہ الارض' کی ذمہ داری ہے. بات جو بھی مراد ہو ، یہ صاف ظاہر ہے کہ قران کے بیان کے مطابق یہ ذمہ داری ہم نے اپنی مرضی سے قبول کی تھی. لفظ ظالم اور لفظ جاہل سے اردو والا ظالم اور جاہل مراد نہیں ہے. عربی میں ظالم وہ بھی ہوتا ہے جو خود کو اپنی استعداد سے زیادہ مشقت میں ڈال لے. اور جاہل وہ جس کی عقل پر جذبات کا پردہ پڑ جائے. 
.
یعنی اگر قران کی مانی جائے تو ہم اس جسدی خاکی وجود سے قبل کچھ فیصلے، کچھ وعدے اپنے رب سے کرکے آئے ہیں. ہمیں یہ وعدے یاد کیوں نہیں؟ اس سوال کا ایک جواب تو یہ ہے کہ امتحان کی غرض سے اس یادداشت کو جزوی معطل کر دیا گیا ہے. دوسرا جواب یہ ممکن ہے کہ چونکہ ان کا ارتکاب ہمارے روحانی وجود نے کیا تھا ، اسلئے اس کی روحانی یادداشت بھی ہمارے جسدی یاداشت سے قدرے مختلف ہے. ہمیں یہ تو یاد نہیں کہ ہم میں اچھائی اور برائی کا شعور کیسے اور کب الہام ہوا؟ مگر یہ شعور ہر انسان میں موجود ہے، اسکے ہم سب گواہ ہیں. ہمیں یہ تو یاد نہیں کہ ہم نے کب اللہ سے ان کے رب ہونے کو تسلیم کیا تھا؟ مگر ہم اس حقیقت کو جانتے ہیں کہ ایک بنانے والے پر ایمان رکھنا انسانی فطرت میں پنہاں ہے. ہمیں یہ تو نہیں معلوم کہ ہم نے اس امتحان کی خدائی ذمہ داری کب اور کیوں قبول کی تھی؟ مگر ہم یہ ضرور جانتے ہیں کہ اس کائنات کی موجود مخلوقات میں اگر کوئی مخلوق ایسی ہے جو کائناتی قوتوں کو مسخر کررہی ہے تو وہ صرف انسان ہی ہے. 
.
====عظیم نامہ====