Monday, 12 October 2015

کامل کی کھوج



کامل کی کھوج




اکمل ترین ذات صرف رب العزت کی ہے یا پھر انسانوں میں کامل صرف پیر کامل محمد صلی اللہ و الہہ وسلم کی ذات اقدس ہے. 
.
الله اور اس کے محبوب کے سوا کسی اور کامل محبوب کی کھوج کرنا خود کو ہلکان کرنے کے مترادف ہے
.
لہٰذا کمال محبت یہ نہیں ہے کہ آپ ایک کامل محبوب کی جستجو کریں 
بلکہ کمال محبت یہ ہے کہ آپ ایک نامکمل محبوب کو کامل طور پر چاہ سکیں 
.
یہی نکتہ شریک حیات کیلئے بھی ہے اور یہی کلیہ مرشد و استاد کی تلاش کیلئے بھی ہے 
.
====عظیم نامہ====

ذہن سازی کرنے والے نمائندہ دانشور


ذہن سازی کرنے والے نمائندہ دانشور





موجودہ نوجوان نسل کی ذہن سازی کرنے والے نمائندہ دانشوروں کی غیرمذہبی علمیت کا ایک مختصر خلاصہ پیش کرتا ہوں جو شاید میرے بہت سے احباب کیلئے تکلیف دہ ہو 
.
ڈاکٹر اسرار احمد نے کنگ ایڈورڈ یونیورسٹی سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی 
.
مولانا طارق جمیل لاہور میں میڈیکل کے طالبعلم رہے. ابتدائی علوم بھی اسکول کالج سے حاصل کئے
.
جاوید احمد غامدی نے بی اے آنرز کیا انگریزی مضمون میں. ساتھ ہی وہ ادب اور فلسفہ کے بیک وقت طالبعلم اور استاد رہے
.
پروفیسر احمد رفیق ادب ، فلسفہ اور دیگر سبق کے استاد رہے. انہوں نے بھی اسکولوں کالج سے تعلیم حاصل کی.
.
شیخ احمد دیدات اسکول میں خوب آگے تھے مگر معاشی مشکلات کی بناء پر صرف سولہ برس تک تعلیم حاصل کرسکے 
.
ڈاکٹر ذاکر نائیک نے یونیورسٹی آف ممبئی سے اپنی ایم بی بی ایس کی تعلیم مکمل کی 
.
مولانا وحید الدین خان ، ابتدائی سالوں سے ہی سائنس اور جدید علوم کے زبردست طالبعلم رہے 
.
مولانا ابو الاعلیٰ مودودی فزکس، کیمسٹری اور میتھمیٹکس کے بہترین طالبعلم تھے 
.
شیخ عمران حسین نے مختلف ممالک سے ڈگریاں حاصل کیں. جن میں ایک ڈگری سوئزرلینڈ سے 'عالمی تعلقات' کے حوالے سے حاصل کی 
.
مفتی تقی عثمانی نے پہلے یونیورسٹی آف کراچی سے آرٹ کی ڈگری لی اور پھر قانون کی ڈگری حاصل کی 
.
ڈاکٹر طاہر القادری نے اپنا ایل ایل بی ١٩٧٤میں مکمل کیا 
.
مشہور صوفی سوچ کے حامل حمزہ یوسف نے واشنگٹن اسکول میں تعلیم پائی 
.
دور حاضر میں قران مجید پر لسانی تحقیق کے شاید سب سے بڑے ماہر نعمان علی خان بھی امریکہ میں تعلیم حاصل کرتے رہے 
.
ملحدین کے خلاف سب سے بہترین سائنسی مباحثہ کرنے والے حمزہ زورٹزس نے انگلینڈ سے سائیکولوجی میں ڈگری حاصل کی 
.
یورپ کی مسلم نوجوان نسل میں نہایت معروف استاد یاسر قاضی نے کیمکل انجینرنگ کی ڈگری یونیورسٹی آف ہیوسٹن سے حاصل کی
.
مفتی مینک نے زمبابوے میں اپنی ابتدائی اسکولنگ وغیرہ مکمل کی 
.
علامہ محمد اقبال نے مورے کالج سے پہلے آرٹ کا ڈپلومہ لیا، پھر اسی سال گوورنمنٹ کالج لاہور سے آرٹ، فلسفہ اور ادب میں ڈگری حاصل کی. پھر اسی میں ماسٹرز کی ڈگری لی. یونیورسٹی آف کیمبرج انگلینڈ سے آرٹ کی ایک اور ڈگری لی. پھر بیرسٹر کی تعلیم مکمل کی. آخر میں جرمنی سے فلسفہ میں ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی.
. 
یہ اور ایسے ہی اور بہت سے نام موجود ہیں جو اس وقت اول صف میں کھڑے مسلم نوجوان ذہن کو بیرونی فلسفوں سے پاک کرنے کا کام کر رہے ہیں. ان کے برعکس وہ علماء جو خالص مدرسہ سے ہی تعلیم حاصل کرتے رہے اور جدید تعلیم کا حصول نہ کیا. ان میں سے نوجوان جدید نسل میں قبولیت پانے والے نام گنتی کے ہیں. کچھ استثنات کو چھوڑ کر ان کی مقبولیت کا دائرہ صرف مدرسہ کے طالبعلموں کو ہی اپنا گرویدہ کرسکا. جدید نوجوان نسل سے ربط پیدا نہ ہوسکا. روایتی علماء کا بدقسمتی سے یہ حال ہے کہ انہیں بخاری شریف تو زبانی یاد ہوگی، مثنوی کے دقیق نقطے تو وہ با آسانی بیان کر سکتے ہونگے مگر جدید اذہان میں پیدا ہونے والے سوالات سے وہ ربط پیدا نہیں کرسکتے. وہ نہیں جانتے کہ چارلس ڈارون ، کارل مارکس ، رچرڈ ڈاکن کون ہیں ؟ نظریہ ارتقاء کیا بلا ہے ، تھیوری آف ریلٹوٹی کس چڑیا کا نام ہے ؟ لہٰذا انکا ہتھیار یہی ہوتا ہے کہ ایسے کفریہ سوال نہ پوچھو، اسلام سے باہر ہو جاؤ گے. نتیجہ الحاد اور شکوک کی صورت میں برآمد ہوا
.
یہ بات بھی سوچنے کی ہے کہ جن اکابر علماء کی سوچ آج بھی جدید اذہان کو مخاطب بنالیتی ہیں ، وہ سب کے سب اپنے دور کے سائنسی اور دیگر رائج علوم میں ملکہ رکھتے تھے. امام غزالی، ابن عربی، ابن تیمیہ، ابن حزم، ابن قیم، ابن رشد وغیرہ سب اسی حقیقت کی غمازی کرتے ہیں 
.
یہ سب لکھنے کا مقصد نہ تو اہل مدرسہ کی دل آزاری ہے اور نہ ہی مقصد ہمارے روایتی علماء کی توہین ہے. اگر ایسا محسوس ہو تو میں دست بدستہ معافی مانگتا ہوں. میرا ارادہ صرف اتنا ہے کہ میں دین کے طالبعلموں کو یہ توجہ دلا سکوں کہ ان کیلئے موجودہ جدید علوم بلخصوص سائنس کی تعلیم اتنی ہی ضروری ہے جتنی کے فقہ یا فن حدیث میں مہارت. ان علوم سے آگاہی نہیں پیدا کریں گے تو جدید سوالات کے کبھی جواب نہ دے پائیں گے. یہ جواب نہ دیں گے تو آنے والی نوجوان نسل آپ سے مزید دور ہوگی اور اسلام سے متنفر ہوتی جائے گی. اسے میری عاجزانہ استدعا سمجھیں ، تحقیر ہرگز نہ سمجھیں 
.
====عظیم نامہ=====

چھوٹا گناہ


چھوٹا گناہ




ڈرو اس ایک چھوٹے گناہ سے جو تمہاری عادت ہو جائے۔

۔
یاد رکھو کہ وہ چھوٹا گناہ جسے کرنا معمول بن جائے، اہل علم کے نزدیک صغیرہ نہیں رہتا بلکہ کبیرہ گناہ شمار کیا جاتا ہے۔
۔
سچی توبہ کی مسلسل کوشش کے بغیر کسی بظاہر معمولی گناہ پر بھی اصرار کرنا دراصل سرکشی کی ایک صورت ہے۔
۔
خدشہ ہے کہ ایسا شخص خطاکار نہیں بلکہ مجرم کے روپ میں پیش ہو۔
۔
اللہ پاک مجھے اور آپ سب کو اپنی ہر بری عادت سے سچی توبہ کی توفیق مرحمت فرمائیں۔ آمین۔
۔
====عظیم نامہ====

کیا آپ مظلوم ہیں ؟


کیا آپ مظلوم ہیں ؟




.
مظلوم اس وقت تک مظلوم رہتا ہے جب تک وہ خود کو مظلوم سمجھتا رہے. 
.
مظلوم کا واحد جرم اکثر یہی ہوتا ہے کہ وہ مظلوم بنا رہے. 
.
اس سے انکار نہیں ہے کہ ظالم ظلم ڈھاتا ہے ، تب ہی متاثر شخص مظلوم قرار پاتا ہے. میرا اعتراض تو اس پر ہے جو اپنے لئے مظلوم کا خطاب مستقل قبول کرلے. اقبال نے سچ کہا ہے ... 'ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات'... ہم کتنا ہی واویلا کریں ، کتنی ہی نظر چرائیں .. حقیقت یہی ہے کہ اس درالامتحان میں 'survival of the fittest' کا قانون جاری ہے. یہاں ہر چھوٹی مچھلی اپنے سے بڑی مچھلی کا نوالہ بنتی ہے. ہر کمزور قوم طاقتور قوم سے زیر ہوکر رہتی ہے. 
.
وہ ملک جو خود سے طاقتور ملک کو ظالم کہتا ہے ، وہ خود اپنے شہریوں پر ہر ممکن ظلم ڈھا رہا ہوتا ہے. 
وہ شہری جو حکومت کے مظالم کا رونا روتا ہے ، وہ اکثر ذاتی مفاد کیلئے اپنے ماتحت ملازمین کو روند ڈالتا ہے. 
وہ ماتحت جو اپنے افسر کے ظالم ہونے کی دہائی دیتا ہے، وہ کئی بار اپنے بیوی بچوں کے حقوق پامال کردیتا ہے. 
وہ بیوی جو اپنے شوہر کے ظلم کو روتی ہے ، وہ خود سے کمزور پر کبھی ساس بن کر، کبھی نند بن کر اور کبھی بہو بن کر کسی ظلم کے کرنے سے نہیں چوکتی.
.
جس کا جبڑا جتنا بڑا ہے، وہ کمزور کی اتنی ہی بڑی بوٹی اتار لیتا ہے. اس حقیقت کو جان لیں اور خود کو اس مظلومیت کے خول سے کھینچ نکالیں. ظالم کے پاس طاقت و اختیار ہے ، اس کا شکوہ نہ کریں بلکہ خود طاقت و اختیار کے حصول کیلئے جت جائیں. ایسا نہ کریں گے تو ظلم سے چھٹکارا تو درکنار ، یہ بھی ممکن ہے کہ خود کو مظلوم جان کر ہمدردیاں اور دلاسہ لینے کا نشہ آپ کے حواسوں پر مسلط ہوجائے. 
.
میں کتنے ہی ایسے لوگوں سے واقف ہوں جو اپنی زندگی کی محرومیوں کو مظلومیت کے لبادے میں چھپائے رکھتے ہیں.
یہاں انگلینڈ میں کتنے ہی ایسے پاکستانیوں سے آگاہ ہوں جو اپنی معاشی ناکامی کو انگریز کی نسل پرستی کا نام دے کر سسکتے رہتے ہیں.
کتنی ہی ایسی خواتین کو میں نے دیکھا ہے جو اپنے شب و روز یہی ثابت کرنے میں لگی رہتی ہیں کہ عورت کتنی مظلوم اور مرد کیسا ظالم ہے 
.
اگر آپ واقعی ظالم کے چنگل سے نکلنے میں سنجیدہ ہیں تو سب سے پہلے خود کو مظلوم سمجھنا اور کہنا چھوڑ دیں. جس دن آپ نے کمزوری کا گلہ کئے بناء مقابلے کی ٹھان لی اور خود کو یہ بتا دیا کہ ' میں ہرگز مظلوم نہیں ' .. بس جان لیں کہ اسی لمحے آپ کی ظالم سے رہائی ہوگئی . اب ظالم حد سے حد آپ کے رستے میں ایک عارضی رکاوٹ ہے مگر قدموں کی زنجیر ہرگز نہیں ہے.
.
عقاب جب جھپٹ پڑے تو فاختہ بھی لڑ گئی 
یہ طاقتوں کی جنگ نہ تھی، سوال یہ بقاء کا تھا 
.
====عظیم نامہ====

مولانا طارق جمیل کا خطاب


مولانا طارق جمیل کا خطاب 


.
کچھ عرصہ قبل مولانا طارق جمیل انگلینڈ تشریف لائے. یوں تو آپ کا برطانیہ آنا کوئی پہلی بار نہ تھا مگر میرے لئے مولانا کا یہ دورہ اس بار زیادہ دلچسپی کا باعث تھا. وجہ یہ تھی کہ ان کا ارادہ میری مقامی مسسجد میں خطاب کا تھا. دیگر بہت سے احباب کی طرح میں بھی مولانا سے کئی فکری اختلافات رکھتا ہوں مگر ساتھ ہی میں آپ کی وسعت قلبی، جذبہ ایمانی اور پر اثر واعظانہ قابلیت کا تہہ دل سے مداح رہا ہوں. میں ہمیشہ ان کے لئے دل میں بے پناہ محبت اور عزت محسوس کرتا ہوں. شائد اسلئے کہ میں ان میں دوسروں کی طرح محقق یا مجدد تلاش نہیں کرتا بلکہ ایک واعظ اور داعی کو دیکھتا ہوں. میں ان میں ایک ایسا عظیم مبلغ پاتا ہوں جو شیخ عبدلقادر جیلانی رح کی طرح آپ کے روحانی وجود کو سادہ باتوں کے زریعے جھنجھوڑ دینے کی صلاحیت رکھتا ہے. ان کے خطبات، میں علمی وسعت کیلئے نہیں سنتا بلکہ اسلئے سنتا ہوں کہ مجھے اپنی موت یاد آجائے اور میری آنکھیں ندامت سے بھیگ سکیں. 
.
بہرکیف میں کہہ رہا تھا کہ مولانا اس بار ہماری مقامی مسجد میں تشریف لارہے تھے اور میرے لئے یہ خیال ہی باعث مسرت تھا. خطاب والے دن میں وقت سے کافی پہلے پہنچ گیا. ہزاروں کی تعداد میں لوگ جمع ہورہے تھے مگر میں سب سے آگے جگہ لینے میں کامیاب ہوگیا تھا اور یہ سوچ کر خوش تھا کہ اب مولانا میرے بلکل سامنے براجمان ہونگے. ابھی خطاب کے آغاز میں اور مولانا کے آنے میں کوئی آدھا گھنٹہ باقی تھا کہ میرے ایک پرانے دوست جو تبلیغ کے حوالے سے سرگرم رہتے ہیں ، میرے پاس بڑے جوش و محبت سے آئے. میں نے بھی اچھے سے معانقہ کیا. انہوں نے جوش سے کہا کہ عظیم بھائی آپ میرے ساتھ آئیں ، ہم نے بچوں کیلئے اسی مسجد کے سب سے آخری فلور پر مدرسہ قائم کیا ہے جو میں آپ کو دکھانا چاہتا ہوں. اب میں سٹپٹایا کہ اگر ان کے ساتھ جاتا ہوں تو مولانا کو بلکل سامنے سے سننے والی یہ بہترین جگہ چلی جائے گی اور اگر انکار کرتا ہوں تو میرے اس بھائی کی دل آزاری ہوگی جو نہایت محبت سے مجھے مدرسہ دکھانا چاہتا ہے. آخر دل پر پتھر رکھ کر میں نے ان کے ساتھ جانے کا فیصلہ کیا. بجھے دل سے اور مسکراتے چہرے کے ساتھ میں سب سے اپر فلور پر آگیا جو اس وقت خالی پڑا تھا. میرے وہ دوست مجھے مدرسہ کی تفصیل بیان کرنے لگے. جسے میں تندہی سے سنتا رہا. ابھی یہ کاروائی کو چند منٹ گزرے تھے کہ اچانک اس فلور کے دروازے پر کچھ ہلچل ہوئی اور مولانا طارق جمیل اندر داخل ہوئے. انہیں خطاب سے پہلے کسی دوسرے راستے سے یہاں لایا گیا تھا تاکہ نیچے ان کے گرد ہجوم جمع نہ ہوجائے. دروازہ بند کر دیا گیا. اب میں مولانا اور گنتی کے چند افراد کے ساتھ اس نو تشکیل شدہ چھوٹے سے مدرسہ میں موجود تھا. کہاں میں اس خیال سے پریشان تھا کہ اب مولانا کو سامنے سے سننے کا موقع نہ ملے گا اور کہاں اب وہ مجھ سے ہمکلام تھے. ساتھ نماز ادا کی ، باتیں کی اور پھر خطاب سنا. 
.
ممکن ہے پڑھنے والو کیلئے یہ ایک معمولی سی بات ہو مگر واقعہ یہ ہے کہ میں جب بھی اس بات کو سوچتا ہوں تو بے ختیار مسکراتا ہوں. دل میں اطمینان ہے کہ میں اپنے وقت کے ایک ایسے عظیم مبلغ ایسے ولی سے ملاقات کرسکا جنہیں نسلیں یاد رکھیں گی. انشااللہ.
.

====عظیم نامہ====

انسان کامل صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم


انسان کامل صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم 


.
آج کل احباب بار بار تقاضہ کر رہے ہیں کہ تقدیس رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کچھ لکھا جائے. مگر میں ہوں کیا ؟ اور میری ہستی کیا ہے ؟ جو شفیع الامم ، صاحب جود و کرم، سید الثقلین، نبی الحرمین اور امام القبلتین کے حضور قلم کشائی کرسکوں ؟ ..الفاظ کے موتی پرو کر حق ادا کرنا ہرگز ممکن نہیں. وقت کا بڑے سے بڑا بقراط اور زمانہ کا بڑے سے بڑا انشاء پرداز .. کائنات کی رعنائیاں ، دریاؤں کی گہرائیاں اور آسمانوں کی وسعتیں سمیٹ کر بھی کچھ لکھنا چاہوں تو ناممکن ہے. دنیائے عالم کے ذہن جڑ کر، درخت کٹ کر اور صحرا سمٹ کر بھی آپ کی مدح سرائی کا حق ادا کرنا چاہیں تو نہیں کرسکتے. اس کی عظمت کے کمال کو آج تک کون پہنچ سکا ہے ؟ کہ جس کا جھولا تو بی بی آمنہ جھلائے مگر لوریاں دے کر جبرائیل سلائے .. اس کی عظمت کا کیا کہنا ؟ جو طائف کے بازاروں میں پتھر کھائے اور کالی کملی اوڑھ کر زمیں پر سو جائے .. جو فقر کے بوریئے پر بیٹھے مگر قیصر و کسریٰ کے در و بام ہلائے .. جو امی لقب پائے مگر آسمانوں کی خبر لائے .. جسکی گفتار نرم رو سے عرش مہک جائے .. جسکی شگفتہ مزاجی کی زمانہ قسم کھائے مگر جسکی للکار پہاڑوں کے دل دہلائے . 
.
عزیزان من .. جب ظلم و استبداد حد سے بڑھ گیا تو رحمت خداوندی جوش میں آگئی اور ایک صبح کے چہرہ خنداں سے یوسف کا جمال لئے ، عیسیٰ کا کمال لئے ، موسیٰ کا جلال لئے ، یعقوب کا ملال لئے ، ابراہیم کا استقلال لئے ایک ایسا نورانی بشر بھیجا کہ جہان دو عالم کی تابانیاں ماند پڑ گئیں .. صحرا نے اپنے سینے پر سبزہ بچھا دیا ، خاروں میں پھول کھل اٹھے ، نگہت و خوشبو و رنگ مسکرانے لگے ، آب و گل اور شیشہ و سنگ تلمزانے لگے .. ظلم کے ہاتھ کٹ گئے ، بتوں کے منہ پلٹ گئے اور بادشاہوں کے تخت الٹ گئے. وہ وعدہ محکم جو بندوں نے اپنے رب سے عہد الست میں کیا تھا .. اب رگوں میں خون بن کر دوڑنے لگا اور زباں سے گفتگو بن کر کھلنے لگا
.
نقاش اجل نے کہا .. تصویر بنا کر 
ایسی کوئی تصویر بنی ہے نہ بنے گی 
.
پیر کامل صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حلقہ ادارت میں جو جو بھی آتا گیا فضیلتوں کا پیکر بن گیا .. عثمان تھا تو غنی ہوگیا .. عمر تھا تو فاروق ہوگیا .. علی تھا تو شیر خدا ہوگیا .. ابوبکر تھا تو صدیق ہوگیا .. دور تھا تو قریب ہوگیا .. اور دشمن تھا تو حبیب ہوگیا ... انسان کو مسلمان بنایا ، مسلمان کو درجہ احسان دلایا .. زندگی کو بندگی، نماز کو معراج ، روزہ کو ڈھال اور شہادت کو حیات سمجھایا. صدیوں کے زنگ آلود دلوں کو اس قدر ثقل کیا کہ عبد چاہے تو صورت دیکھ لے اور معبود چاہے تو سیرت دیکھ لے. 
.
یہ آپ صلی اللہ و الہہ وسلم ہی کی ذات اقدس کا فیض تھا کہ قرون وسطیٰ کے مردہ شہروں نے زندہ انسان پیدا کئے. انسان کو جہالت کی عمیق گہرائیوں سے نکال کر انسانیت کی معراج پر پہنچا دیا. مفاسید ظلم کو زیر و زبر کردیا، قبائل کو شیر و شکر کر دیا .. روٹھے کو ملا دیا ، وقت کو پلٹا دیا .. ابوجہل کی مٹھی میں بند پتھروں کو کلمہ پڑھوا دیا اور منہ کے بل گرے ہوئے بتوں کو قُلْ هُوَ ٱللَّهُ أَحَدٌ کہلوا دیا. 
.
صاحبو آج صراط میزان میں ان ہی کے عدل کا ڈھنگ ہے ، زندگی کے قرائن میں ان ہی کا رنگ ہے .. وہی صدق و علم کی ترغیب دینے والے ، خودی کے پیشوا ، تمدن اورارتقاء کو جلا بخشنے والے ہیں. 
.
پڑھتا ہے درود آپ ہی تجھ پر تیرا خالق 
تصویر پہ خود اپنی مصور بھی فدا ہے

درمیان کا راستہ


درمیان کا راستہ 


دین یقیناً آسان ہے مگر اسے زبردستی آسان تر بنانا ہلاکت ہے۔ چنانچہ ایسے جدید مفکرین سے محتاط رہیئے جو ہر حرام میں سے حلال برامد کردیں۔
۔
دین یقیناً بہت سی پابندیوں کے اطلاق کا بھی نام ہے مگر اسے زبردستی مزید پابندیوں میں جکڑ دینا اللہ کے غضب کو آواز دینا ہے۔ لہذا ایسے مقلد اہل علم سے خبردار رہیئے جو دین کی ہر آسانی کو مشکل میں تبدیل کردیں۔
۔
یہ وہی دور فتن ہے جسکے بارے میں رسول عربی صلی الله علیه وسلم نے فرمایا تھا کہ اس دور میں دین پر چلنا ایسا ہوگا جیسے جلتے ہوئے کوئلے کو مٹھی میں جکڑ لینا۔ تحقیق ہی واحد راستہ ہے۔ ہمارا دین میانہ روی کی ترغیب دیتا ہے۔ مجھے اور آپ کو لازمی اپنی اپنی بساط کے مطابق تحقیق کرنی ہی ہوگی۔ کتاب اللہ کو میزان و فرقان بنا کر ان دو انتہائوں کے بیچ صحیح درمیانہ رستہ کھوجنا ہوگا۔ پھر اخلاص اور بھرپور کاوش کے بعد کسی معاملہ میں چھوٹی موٹی چوک ہو بھی گئی تو انشااللہ ہمارے پاس اپنے رب کو کہنے کےلئے یہ حق ہوگا کہ یہ غلطی دانستہ یا اپنے باپ دادا کی اندھی تقلید کا نتیجہ نہ تھی بلکہ مبنی بااخلاص تھی۔ ہم یہ کہہ کر ہرگز نہیں چھوٹ سکتے کہ ہم نے بناء تقابلی تحقیق وہ مسلک اپنائے رکھا جس پر ہمارے باپ دادا تھے۔ یہ بہانہ تو قران حکیم کے مطابق مشرکین کا ہوا کرتا ہے۔ ہم یہ کہہ کر بھی نہیں بچ سکتے کہ ہم نے آنکھیں بند کرکے وہ کیا جو ہمارے علماء اور مشائخ کہا کرتے تھے۔ ایسا کرنا تو سورہ توبہ کے مطابق علماء و مشائخ کو خدا بنا لینے جیسا ہے۔ واحد، اکیلا، تنہا راستہ تدبر و تحقیق ہی کا ہے۔ چنانچہ جاگو اور اللہ کی کتاب کو ترجمہ سے سمجھ کر پڑھو، تفکر کرو، نوٹس بنائو، سوال پوچھو۔ اگر ایسا نہ کرو گے تو یاد رکھو کہ قران مجید کے بیان کے مطابق تمہاری شکایت رسول پاک صلی الله علیه وسلم بنفس نفیس خود رب العالمین سے روز آخرت میں کریں گے کہ میری اس امت نے قران کو بہت دور چھوڑ دیا تھا۔ وَقَالَ الرَّسُولُ یا رَبِّ إِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا
۔
====عظیم نامہ====