Wednesday, 24 June 2015

ببر شیر اور گائے - ایک فرضی حکایت



ببر شیر اور گائے - ایک فرضی حکایت


.
کہتے ہیں کہ ایک زاہد کو معلوم ہوا کہ ایک بہت بڑا عالم اور عارف شخص ایک قریبی گاؤں میں مقیم ہے. اس زاہد نے فیصلہ کیا کہ وہ اس بزرگ عارف سے استفادہ حاصل کرنے جائے گا. یہ زاہد ایک اونچے پہاڑ کی کھوہ میں ریاضت کرتا تھا اور اسی میں مقیم تھا. لوگوں نے دیکھا کہ اگلی صبح ہوتے ہی وہ زاہد اپنے غار سے ایک زبردست ببر شیر پر سوار باہر نکلا اور گاؤں کی جانب روانہ ہوگیا. جب بتائے ہوئے پتہ پر پہنچا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ وہ عارف تو ایک بہت بڑے محل میں مقیم ہے. بہرحال اب چونکہ وہ سفر کر کے آچکا تھا تو اس نے بناء ملے جانا مناسب نہیں سمجھا. عارف سے ملاقات ہوئی تو دیکھا کہ وہ عمدہ نفیس لباس میں ملبوس ہے، اچھے پکوان کھاتا ہے اور گھر میں بہت سی آسائشیں رکھتا ہے. عارف نے زاہد کا بڑا تپاک سے استقبال کیا اور کہا کہ آپ پورا دن سفر کرکے آئے ہیں اور رات کافی ہوگئی ہے لہٰذا آرام کریں، کل صبح گفتگو کریں گے. زاہد نے کہا کہ میں اپنا ببر شیر کہاں باندھوں ؟ .. عارف نے جواب دیا کہ اسے پیچھے باڑے میں میری گائے کے برابر میں باندھ دو. زاہد یہ سنتے ہی بولا کہ 'نہیں نہیں .. اگر ساتھ باندھیں گے تو میرا ببر شیر آپ کی اس چھوٹی سی گائے کو کھا جائے گا'. عارف نے بھی جواب میں اصرار کیا کہ ' نہیں نہیں .. شیر کو گائے کے برابر میں ہی باندھ دیں' .. زاہد نے عارف کی عقل پر مسکراتے ہوئے اپنے خوفناک ببر شیر کو اس معصوم گائے کے برابر میں باندھ دیا.
.
دونوں حضرات اب آرام گاہ میں آگئے ، ملازمین نے ذرا فاصلے پر بستر لگا دیئے. اب زاہد تو ساری رات حسب عادت عبادت و ریاضت میں مشغول رہا جبکہ عارف فرائض پڑھ کر مزے سے سوگیا. یہ حالت دیکھ کر زاہد کو غصہ اور افسوس دونوں ہوا اور اس نے مصمم ارادہ کرلیا کہ کل صبح ہوتے ہی وہ یہاں سے رخصت ہو جائے گا. اسی طرح صبح ہوئی اور زاہد نے جانے کی اجازت چاہی. عارف نے اسی خوش دلی سے اجازت دے دی. اب زاہد مسکراتے ہوئے باڑے کی جانب بڑھا کہ اپنا شیر کھول لے. اسے یقین تھا کہ ببر شیر نے گائے کو لقمہ اجل بنادیا ہوگا. مگر جب وہ باڑے میں داخل ہوا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ گائے تو ویسے ہی مزے سے کھڑی ہے اور اس کا شیر غائب ہے. اب گھبرا کر زاہد نے عارف سے پوچھا کہ میرا ببر شیر کہاں گیا ؟ تو عارف نے کونے میں پڑی ہڈیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ، 'لگتا ہے رات میں میری گائے تمہارا شیر کھاگئی' ... زاہد ہکلاتے ہوئے بولا 'مگر .. مگر .. میرا بب .. ببر شیر ...آپ کی گا .. گائے ... کیسے ؟' عارف نے مسکراتے ہوئے جواب دیا 'لگتا ہے تمہارا شیر بھی تمہاری طرح صرف دنیاوی دکھاوے کے لئے تھا .. صرف ظاہر ہی ظاہر .. باطن میں کھوکھلا .. جبکہ میری گائے ظاہر میں معصوم اورکمزور تھی مگر داخل میں حقیقی ببر شیر' 
.
smile emoticon
 
.
یہ ایک فرضی حکایت ہے ، مگر سبق یہ ہے کہ آپ خود سے پوچھیں کہ آپ دنیا کے سامنے ظاہر کا شیر ہیں یا ایمانی لحاظ سے حقیقت کا ؟ 
.
نوٹ: نون لیگی شیروں سے گزارش ہے کہ وہ دل پر نہ لیں. کسی قسم کی مماثلت محض اتفاقی تصور کی جائے گی 
smile emoticon

.
====عظیم نامہ====

زیادہ سنو .. کم بولو



زیادہ سنو .. کم بولو



تاریخ کے مختلف فلسفوں اور مذاہب کی تعلیمات کے مطابق کم کلام کرنا اور زیادہ سننا دانائی کی علامت سمجھا جاتا ہے. جب آپ بولتے ہیں تو دراصل وہ ہی دہرا رہے ہوتے ہیں جو آپ پہلے سے جانتے ہیں. اس کے برعکس جب آپ دھیان سے دوسروں کی بات سنتے ہیں تو ہمیشہ کچھ نہ کچھ ضرور سیکھتے ہیں. لہٰذا وہ شخص کیسے دانا ہوسکتا ہے جو سننے سے زیادہ بولنے کا شوقین ہو؟ سیکھنے کے عمل کو تیز کرنے کیلئے اخلاص سے زیادہ سننا لازمی ہے. دوران سماعت فقط سننے کی اداکاری نہیں کرنی چاہیئے بلکہ فی الواقع پوری سنجیدگی اور خلوص سے متکلم کی بات سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیئے. بصورت دیگر یہ صریح علمی بددیانتی ہوگی. اسی لئے کہتے ہیں کہ خاموشی کا ادب کرو، یہ آوازوں کی مرشد ہے. اللہ نے بھی ہمیں دو کان سننے کے لئے اور ایک منہ بولنے کے لئے عطا فرمایا ہے ، ہمیں ان کا استمعال بھی اسی تناسب سے کرنا چاہیئے.
.

====عظیم نامہ====

شیطانک ورسز کا الزام ... کیا مفروضہ ؟ کیا حقیقت ؟



شیطانک ورسز یا شیطانی آیات کا الزام ... کیا مفروضہ ؟ کیا حقیقت ؟

========================================
.



اسلام کے خلاف اٹھائے ہوئے اعتراضات میں سب سے مشکل اعتراض شیطانی آیات کا رسول صلی الله و الہے وسلم سے منسلک کرنا ہے. علمی حلقوں میں اس اعتراض کا جواب دینا اس لئے کٹھن ہے کہ یہ اعتراض جس واقعہ کی جانب اشارہ کرتا ہے اسکی تفصیل ہماری اپنی تاریخ و حدیث کی کتب میں بیان ہوئی ہے. دوسرے الفاظ میں یہ اعتراض آج کے کسی غیرمسلم کا گھڑا ہوا نہیں ہے بلکہ اوائل دور سے ہماری اپنی کتابوں میں مذکور ہے. عموماً اس موضوع سے عبوری انداز میں جان چھڑا لی جاتی ہے مگر اس کمیونیکشن کر دور میں یہ لازمی ہے کہ ہم اس حساس عنوان کا دیانتداری کے ساتھ مختلف زاویوں سے جائزہ لیں. یہ تحریر اسی کی کوشش ہے. اس واقعہ کو سمجھنے کیلئے براہ راست مطالعہ سے زیادہ میں نے شیخ یاسر قاضی سمیت دیگر محققین کی تحقیق سے استفادہ کیا ہے اور اس کا خلاصہ درج کرنے جا رہا ہوں. اسی بناء پر اس میں کئی کمزوریاں ہوں گی اور میری کم علمی سے بھی غلطی کا احتمال بڑھ سکتا ہے. اس مضمون کے واحد مخاطب  وہ سلجھے ہوئے مسلم اذہان ہیں جو قران اور سنت دونوں کو دین کی بنیاد سمجھتے ہیں. دوسرے الفاظ میں یہ تحریر منکرین حدیث، ملحدین یا غیرمسلموں کیلئے نہیں ہے. یہ پوسٹ تفصیلی ہوگی اور ممکن ہے کہ کئی قسطوں پر مشتمل ہو، چانچہ صرف سنجیدہ لوگ ہی پڑھنے کی زحمت کریں. انشاءاللہ آغاز کرتے ہیں 
.
سب سے پہلے تو یہ سمجھ لیں کہ ملعون سلمان رشدی کی بدنام زمانہ کتاب 'شیطانک ورسز' کا نام تو یقیناً اسی واقعہ کی رعایت سے رکھا گیا ہے مگر اس میں بیان اس واقعہ کا ہرگز نہیں ہے. بلکہ اسکی کتاب میں تو ایک خیالی کہانی پیش کی گئی ہے جس میں وہ اپنی بیمار ذہنیت کو الفاظ دیتا نظر آتا ہے.لہٰذا ضروری ہے کہ اس کتاب کو اصل واقعہ سے گڈمڈ نہ کیا جائے.ہمارا مقصد رشدی کی خیالی کتاب نہیں بلکہ حقیقی واقعہ کی جانکاری ہے. یہ بھی سمجھ لیں کہ احادیث یا اسلامی تاریخ میں اس واقعہ کو شیطانک ورسز یا شیطانی آیت کا نام کبھی نہیں دیا گیا بلکہ اس واقعہ کا حقیقی نام 'قصہ غرانیق' ہے. غرانیق بگلے نما اونچی گردن والے پرندوں کو کہتے ہیں. اسے قصہ غرانیق کیوں کہا جاتا ہے اسکی تفصیل بعد میں آئے گی. فی الوقت یہ جاننا ضروری ہے کہ اس واقعہ کا اسلامی نام شیطانک ورسز نہیں ہے. یہ نام تو دراصل ایک مغربی پروفیسر، ولیم مویر نے اسے اسلام پر اپنی تحقیق کے نتیجے میں دیا. ولیم  نے سیرت نبوی پر ایک کتاب بھی تحریر کی ہے اور وہ انگلینڈ کی نمائندہ یونیورسٹیوں میں اسلامی تعلیمات کا پروفیسر بھی رہا ہے.  یہ واقعہ یعنی شیطانک ورسز یا قصہ غرانیق  دراصل مکہ کے اس دور سے منسلک ہے جب مومنین کی جماعت پر مظالم کے پہاڑ ڈھائے جارہے تھے. اسے دیکھتے ہوئے رسول عربی صلی الله و الہے وسلم نے صحابہ کی ایک جماعت کو یہ اجازت دی کہ وہ ابی سینیا  یعنی حبشہ کوچ کرجائیں. یہ ایک عیسائی علاقہ تھا جہاں ہر مذہب کو اپنے نظریات پر کاربند رہنے کی آزادی تھی. مظالم سے تنگ صحابہ کی ایک جماعت ابی سینیا ہجرت کرگئی ، اسے اسلام کی پہلی ہجرت بھی کہا جاتا ہو. مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ تمام کی تمام جماعت محض تین مہینے کے قلیل وقت میں مکہ واپس لوٹ آئی. سوال یہ ہے کہ ایسا کیا ہوا ؟ جو یہ صحابہ واپس اسی شہر یعنی مکہ لوٹ آئے جہاں دین پر چلنا انکے لئے آگ پر چلنے کے مصداق بنا دیا گیا تھا؟ .. تاریخ گواہی دیتی ہے کہ ایسا دراصل اسلئے ہوا کہ ہجرت کے کچھ ہی عرصہ بعد ایک افواہ پھیل گئی کہ قریش کے مشرکین مکہ نے بحیثیت مجموئی اسلام کو قبول کرلیا ہے. ظاہر ہے کہ یہ اتنی بڑی خبر تھی کہ اسکے سچے ہونے کے بعد دوسرے ملک یا شہر میں رہنا حماقت تھی. لہٰذا روٹھے ہوئے تمام صحابہ حبشہ سے واپس مکہ تشریف لے آئے.ان کے لشکر کو واپس آنے کے بعد یہ اطلاع ملی کہ یہ خبر جھوٹی تھی. البتہ اس خبر کی بنیاد جس واقعہ پر تھی وہ جھوٹ نہ تھا اور واقعہ یہ تھا کہ رسول صلی الله و الہے وسلم جب سورہ النجم کی تلاوت فرما رہے تھے تو مسلمانوں کے ساتھ ساتھ مشرکین بھی باجماعت سجدے میں گرگئے. سوائے سعد ابن مغیرہ کے جس نے اس وقت بھی تکبر کرتے ہوئے محض ماتھے پر مٹی لگا کر کہا کہ میرے لئے یہی بہت ہے. مشرکین کے اس سجدے سے یہ تاثر پیدا ہوگیا تھا کہ شاید انہیں اسلام کی حقانیت پر ایمان نصیب ہوگیا ہے مگر درحقیقت اس سجدے کا محرک قبول اسلام نہیں تھا.
اس سجدے کو کرنے کے پیچھے کیا حقیقت تھی ؟ یہی آج کی کھوج ہے. بدقسمتی سے اس ضمن میں بہت سارے مختلف اور متضاد واقعات ہماری تاریخی کتب میں لکھے ہوئے ہیں. جن کا دفاع کرنا بعض اوقات ناممکن معلوم ہوتا ہے. یہاں ہم ان تین نمائندہ تفاصیل کو زیر بحث لائیں گے جو مرکزی حیثیت کی حامل ہیں
.
پہلی تفصیل وہ ہے جو مستند ترین حدیث کی کتاب صحیح بخاری میں مرقوم ہے اور جس میں کوئی بات ایسی نہیں ہے جو قابل اعتراض ہوسکے. اس میں بتایا گیا ہے کہ جب سورہ النجم کی آیات کا نزول ہوا اور آپ صلی الله و الہے وسلم نے اسکی اپنی زبان اطہر سے تلاوت شروع کی تو نہایت پر اثر ماحول بن گیا. ان آیات میں خدا کی بڑائی اور قدرت کا ایسے حسین اثر انگیز انداز میں ذکر کیا گیا کہ سننے والے اس میں ڈوب گئے اور آیات کے آخر میں جب سجدہ کی بات آئی تو اسی اثر انگیزی میں مغلوب ہو کر مومن و مشرک سب ایک ساتھ سجدہ ریز ہوگئے. یہ تفسیر علمی لحاظ سے بھی کافی قرین قیاس معلوم ہوتی ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ قریش مکہ شرک کے باوجود الله ہی کی ذات کو حقیقی خالق تسلیم کرتے تھے. ہم اس سورہ کی غیرمعمولی اثرانگیزی کو آج بھی محسوس کرسکتے ہیں اور پھر یہ پہلا واقعہ نہ کہلائے گا جب قران نے اپنے سامعین کو مبہوت کر دیا ہو. حضرت عمر رض کے قبول اسلام کی روداد ہو یا عرب کے تاج شعراء کا اعتراف عجز یا پھر مشرکین کا قران کی اثر انگیزی سے بچنے کے لئے کانوں میں انگلیوں کا ٹھونس لینا. یہ سب اسی امر کو تقویت دیتا ہے کہ سورہ النجم کی آیات سے مغلوب ہو کر مشرکین کا عارضی طور پر سجدہ ریز ہوجانا عین ممکن ہے
.
دوسری اور تیسری تفصیل کے بارے میں جان لیں کہ یہ نہ تو صحیحین میں مذکور ہے، نہ ہی صحاح ستہ کی کتب میں مرقوم ہے اور نہ ہی اسلامی تاریخ کی نسبتا نمائندہ کتب جیسے ابن اسحٰق یا ابن جریر میں اس کا کوئی ذکر ہمیں ملتا ہےیہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ان دو تفاصیل کی سند کے اعتبار سے کمزوری کا یہ عالم ہے تو ہم اسے یکسر مسترد کیوں نہیں کردیتے ؟ اس کا جواب ہے کہ بعض جید بزرگ علماء نے تو یہی کیا ہے اور انہیں مسترد کردیا ہے. ان عظیم ہستیوں میں علامہ ابن کثیر رح، ناصر البانی رح، امام رازی رح اور دیگر شامل ہیں. ابن خزیمہ تو اس سے بھی آگے بڑھ کر دوسری اور تیسری تفصیل کو موضوع یعنی گھڑا ہوا قرار دیتے ہیں.  ان حقائق کے باوجود، ساتھ ہی وہ اکابر محقق علماء بھی موجود ہیں جوان میں سے دوسری تفصیل کے قائل رہے ہیں اور کچھ عظیم مفکر علماء تیسری رائے کے بھی قائل ہیں. تینوں گروہوں کے پاس اپنی اپنی دلیلیں موجود ہیں جن کا اجمالی جائزہ ہم اس مضمون میں لیں گے. گو کے اس مقام پر پہلے یہ جاننا ہے کہ دوسری اور تیسری تفصیل درحقیقت ہے کیا؟
.
دوسری تفصیل امام طبری کی تفسیر اور کچھ اور کم مستند کتابوں میں آئی ہے. امام طبری نے اپنی تفسیر کو ایک انسائیکلوپیڈیا کی طرح مرتب کیا ہے. جس کے وہ خود معترف بھی ہیں. انہوں نے اصول یہ نہیں رکھا کہ شامل کردہ روایات کے صحیح یا ضعیف ہونے پر بحث کی جائے بلکہ انہوں نے زیادہ سے زیادہ معلومات کو درج کردینے کو ترجیح دی ہے. یہی وجہ ہے کہ اہل علم تفسیر طبری میں درج واقعات و روایات پر مکمل اعتماد نہیں کرتے. اس میں ایک روایت لکھی گئی ہے جسے  ارواہ ابن زبیر نے روایت کیا ہے.یہ بات بھی یہاں غور کرنے کی ہے کہ ارواہ ابن زبیر صحابی نہیں تھے. دوسرے الفاظ میں وہ کبھی اپنی زندگی میں رسول کریم صلی اللہ و الہے وسلم نے بلمشافانہ نہیں ملے تھے. فن حدیث سے واقف لوگ یہ جانتے ہیں کہ یہ کسی بھی روایت کو سند کے اعتبار سے کمزور تر کردینے کے لئے یہ کافی امر ہے. اس روایت کے مطابق جب رسول کریم صلی اللہ و الہے وسلم مکہ میں سورہ النجم کی آیات تلاوت کررہے تھے تو ابلیس شیطان نے با آواز بلند کچھ شیطانی آیات کا اضافہ کر دیا. شیطان کی یہ آواز صرف مشرکین نے سنی اور مومنین کے کانوں میں شیطان کی آواز نہیں آئی. دوسرے الفاظ میں رسول الله صلی الله و الہے وسلم نے تو انہی آیات کو تلاوت کیا جو قران حکیم میں موجود ہیں یا جو جبرئیل کے ذریعے وحی کی گئیں مگر آیات کی تلاوت کے درمیان جب آپ توقف کرتے تو شیطان نے اپنی آواز بنا کرکچھ شرک والی آیات پڑھ دیں جنہیں صرف مشرکین کی سماعت نے سنا اور مومنین کی جماعت کو شیطان کی آواز نہیں سنائی دی. روایت کے مطابق سورہ النجم کی ١٩ اور ٢٠  آیت میں جہاں مشرکین کے جھوٹے خداؤں یعنی بتوں لات و منات کا ذکر کیا گیا ہے وہاں شیطان نے اپنے الفاظ کا اضافہ کر دیا. سورہ النجم کی آیت یہ ہیں
.
أَفَرَأَيْتُمُ اللَّاتَ وَالْعُزَّىٰ ١٩ وَمَنَاةَ الثَّالِثَةَ الْأُخْرَىٰ ٢٠
'کیا تم نے ﻻت اور عزیٰ کو دیکھا؟اور منات تیسرے پچھلے کو'
.
اس مقام پر شیطان نے اپنی آواز میں ان الفاظ کا اضافہ کردیا
.
 " تلك الغرانيق العُلى ، وإن شفاعتهن لَتُرتَجَى "
.
'یہ بہت عالی مقام غرانیق ہیں(اونچی اڑان اور گردن والے پرندے) جن کی شفاعت کو قبول کیا جائے گا'
.
 دوسرے الفاظ میں ان الفاظ میں مشرکین کے بتوں کو عالی نسل اڑان والے پرندوں سے تشبیہہ دیکر یہ کہا گیا کہ روز قیامت یہ شفاعت کریں گے. ان الفاظ کو سن کر مشرکین نے یہ محسوس کیا کہ مسلمانوں نے ہم سے موافقت کرلی ہے اور نتیجہ یہ کہ وہ بھی مومنین کے ساتھ سجدہ ریز ہوگئے
.
 اب ہر قاری یہ اندازہ کرسکتا ہے کہ یہ کتنی سنگین صورتحال یا تفصیل ہے. دشمنان اسلام یہ کہتے ہیں کہ نعوذ باللہ محمد صلی الله و الہے وسلم نے وقتی طور پر مشرکین کو ساتھ ملانے کیلئے ایسی آیات شامل کرلی تھیں جنہیں بعد میں اندرونی اعتراضات کی وجہ سے خود ہی نکال دیا. اس تفصیل میں شیطان کی آواز کا صرف مشرکین کو سنائی دینا عجیب سا معلوم ہوتا ہے اور اس کی صحت پر مزید سوالات کھڑے کرتا ہے
.
بہرحال اس دوسری تفصیل کو کئی چوٹی کے علماء درست تسلیم کرتے ہیں جن میں سرفہرست نام امام ابن حجر عسقلانی رح کا ہے. آپ سے کون واقف نہیں ؟ کون ہے جو آپ کے علمی قد کا معترف نہ ہو ؟ اس پر سونے پہ سہاگہ یہ کہ معروف ترین شرح یعنی 'فتح الباری' کے مصنف آپ ہی ہیں. آپ کا اس دوسری رائے کو تسلیم کرلینا کوئی معمولی بات نہیں ہے.یہاں یہ پوچھا جاسکتا ہے کہ امام ابن حجر ایک ضعیف حدیث کو اس درجہ میں کیسے تسلیم کرسکتے ہیں ؟تو اس کے جواب میں جان لیں کہ وہ دلیل علم الحدیث کے اس اصول سے پکڑتے ہیں جس کے مطابق  اگر بہت سی ضعیف احادیث موجود ہوں تو وہ سب مل کر قوی ہوجاتی ہیں اور ضعف باقی نہیں رہتا. یہ دوسری تفصیل طبری کی اس تفسیر کے علاوہ بھی کم مستند کتابوں میں کچھ ردوبدل کے ساتھ موجود ہے. لہٰذا ابن حجر رح کے بقول ان ضعیف روایتوں کی کثرت نے ان کے ضعف کو ختم کردیا ہے. ان کی اس دلیل کے رد میں مشہور محدث امام ناصر الدین البانی رح نے علمی تنقید کی ہے. انہوں نے اسی شیطانک ورسز یا قصہ الغرانیق کے بیان میں اپنا ایک پورا کتابچہ تحریر کیا ہے جس میں ابن حجر رح کی دلیل کو فن حدیث سے غلط ثابت کرنے کی کوشش کی ہے. انہوں نے یہ سمجھایا ہے کہ کیوں قصہ الغرانیق کی ان احادیث پر علم حدیث کے اس اصول کا اطلاق نہیں کیا جاسکتا ، جس میں ضعیف حدیثوں کی کثرت ضعف کو ختم کردیتی ہے
.
 اب آتے ہیں تیسری تفصیل کی جانب جس کا ذکر الواحدی اور دوسری کمزور کتب میں آیا ہےیہ تیسری تفصیل دوسری تفصیل سے بھی زیادہ خطرناک ہے. اس کے مطابق جب آپ صلی الله و الہے وسلم سورہ النجم کی آیات کی تلاوت کر رہے تھے تو ان کے کان میں شیطان نے یہ شیطانی آیات ڈال دیں ، آپ صلی الله و الہے وسلم کو نعوز باللہ دھوکہ ہوا کہ یہ شیطان نہیں بلکہ جبرئیل ہیں اور نتیجہ میں یہ شیطانی آیات تلاوت کر دیں. نماز کے آباد جبرئیل تشریف لائے اور دریافت کیا کہ یہ دو آیات آپ نے کیوں تلاوت کیں ؟ تو آپ صلی الله و الہے وسلم نے کہا کہ کیونکہ تم نے مجھے یہ آیات سنائیں. اس کے جواب میں جبرئیل الہے سلام نے بتایا کہ انہوں نے یہ آیات نہیں کہی تھی اور یہ من جانب ابلیس تھیں. یہ سن کر آپ صلی الله و الہے وسلم شدید رنجیدہ ہوئے اور ان آیات کو منسوخ کیا یا یوں کہیں کہ نکال دیا
.
غور کریں کہ یہ تیسری تفصیل تو دوسری سے بھی کہیں زیادہ سنگین ہے. دوسری تفصیل میں کہا گیا تھا کہ شیطان نے شیطانی آیات مشرکین کی سماعت کے لئے پڑھ دی تھی لیکن یہاں تیسری تفصیل میں تو بات یہ ہے کہ آپ صلی الله و الہے وسلم معاذ الله جبرئیل اور ابلیس میں فرق نہیں کرسکے اور ابلیس کی آواز کو جبرئیل کی آواز سمجھ کر سنا دیا. یہاں محققین کی نظر میں پوری وحی کی حفاظت مشکوک ہونے لگتی ہے
.
آپ کو یہاں شائد یہ محسوس ہو کہ اس تفصیل کو تو کوئی بڑا عالم شائد تسلیم نہ کرے مگر آپ مانیں نہ مانیں کئی محقق علماء
نے اسی رائے کو درست قرار دیا ہے. ان علماء میں سب سے چوٹی کا نام امام العصر یعنی امام ابن تیمیہ رح کا ہے
.
یعنی اب صورت یہ ہے کہ پہلی رائے جو مستند ترین ہے، اسکے ماننے والے اکابر علماء جیسے ابن کثیر رح وغیرہ دوسری اور تیسری رائے کو یکسر مسترد کرتے ہیں. ایک عالم جن کا نام یادداشت سے محو ہے، وہ تو یہاں تک شدت میں ارشاد کرتے ہیں کہ اگر دوسری اور تیسری تفصیل کی اسناد سورج کی طرح بھی روشن ہوں، ہم تب بھی انہیں قبول نہیں کریں گے. اسکی وجہ یہ ہے کہ اس سے عصمت رسالت پر حرف آتا ہے لہٰذا اسکے سچ ہونے کا کوئی امکان نہیں
 .
ابن حجر رح جو دوسری رائے کے قائل ہیں، وہ کہتے ہیں کہ پہلی کے ساتھ ساتھ دوسری رائے کو بھی تسلیم کرنے سے عصمت رسالت پر حرف نہیں آتا. کیونکہ شیطانی الفاظ شیطان نے ادا کئے رسول پاک صلی الله و الہے وسلم نے نہیں. چانچہ اس واقعہ کی دوسری تفصیل ماننے سے عصمت رسالت پر کوئی اعتراض پیدا نہیں ہوتا. البتہ ان کے ہم خیال گروہ کے نزدیک تیسری رائے سے عصمت پر حرف آسکتا ہے. کیونکہ اسمیں رسول صلی الله و الہے وسلم کی زبان اطہر سے شیطانی کلام کا ظہور بیان ہوا ہے جو ناممکن ہے . آپ صلی الله و الہے وسلم  کی زبان ہمیشہ حق ہی کہتی تھی . اسکے علاوہ نبی معصوم ہوتے ہیں ، لہٰذا کیسے ممکن ہے کہ وہ ابلیس کے کہے کلمات ادا کر جائیں؟
.
ابن تیمیہ رح اپنے دفاع اور اس اعتراض کے جواب میں عصمت کی مکمل تعریف بیان کرتے ہیں. یہ تعریف مضبوط دلائل پر قائم ہے مگر عمومی رائج تعریف سے کچھ الگ ہے. وہ عصمت کی تعریف کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ انبیاء اپنی تمام تر پاک
دامنی کے باوجود غلطیوں کے مرتکب ہوسکتے ہیں. ان کے بقول انبیاء سے اجتہادی غلطیاں ہوسکتی ہیں. اسکے اثبات میں وہ رسول  صلی الله و الہے وسلم  کی حیات مبارکہ سے بھی مثالیں پیش کرتے ہیں. وہ مزید کہتے ہیں کہ انبیاء کبھی کبیرہ گناہ کے مرتکب نہیں ہوتے مگر صغیرہ گناہ کے ہوجانے کا امکان ہوا کرتا ہے. اس کی دلیل میں آدم الہے سلام کا شجر ممنوعہ سے ممانعت کے باوجود پھل کھانا موجود ہے. مگر ساتھ ہی وہ صراحت سے لکھتے ہیں کہ نبی سے اگر بادل نخواستہ کوئی صغیرہ گناہ کا ارتکاب ہو جائے تو فوری توبہ کرتے ہیں، واپس رجوع کرتے ہیں اور کبھی گناہ کے دوبارہ کرنے پر اصرار نہیں کرتے
.
امام ابن تیمیہ رح اس تیسری رائے کو قبول کرنے کے لئے دلیل قران سے براہ راست بھی پیش کرتے ہیں. وہ سورہ الحج کی یہ آیات اس واقعہ کی تفہیم کیلئے سامنے لاتے ہیں
.
اور ہم نے تجھ سے پہلے کوئی بھی ایسا رسول اور نبی نہیں بھیجا کہ جس نے جب کوئی تمنا کی ہو اور شیطان نے اس کی تمنا میں کچھ آمیزش نہ کی ہو پھر الله ّ شیطان کی آمیزش کو دور کرکے اپنی آیتوں کو مضبوط کردیتا ہے اور الله جاننے والا حکمت والا ہے (۵۲) تاکہ شیطان کی آمیزش کو ان لوگوں کے لیے آزمائش بنا دے جن کے دلوں میں بیماری ہے اور جن کے دل سخت ہیں اور بے شک ظالم بڑی ضدی میں پڑے ہوئے ہیں (۵۳) اور تاکہ علم والے اسے تیرے رب کی طرف سے حق سمجھ کر ایمان لے آئیں پھر ان کے دل اس کے لیے جھک جائیں اور بیشک الله ایمان داروں کو سیدھے راستہ کی طرف ہدایت کرنے والا ہے (۵۴) اور منکر قرآن کی طرف سے ہمیشہ شک میں رہیں گے یہاں تک کہ قیامت یکایک ان پر آ مودجود ہو یا منحوس دن کا عذاب ان پر نازل ہو (۵۵)
.
وہ سورہ الحج کی مندرجہ بالا آیات سے استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہاں صاف ظاہر ہے کہ ہر رسول اور نبی کی تمنا یا تلاوت میں شیطان نے آمیزش کی کوشش کی . لیکن الله پاک نے اس آزمائش کو دور کرکے آیات کو مضبوط رکھا. وہ کہتے ہیں عصمت پر بات تو تب آتی جب ایسی کسی شیطانی آیت کو قائم رہنے دیئے جاتا. مگر ہم جانتے ہیں کہ اسے فوری نکال دیا گیا یا دوسرے الفاظ میں آمیزش کو دور کردیا گیا اور اسی بہانے اہل ایمان کا امتحان بھی لے لیا گیا جسکی جانب سورہ الحج کی انہی آیات میں اشارہ موجود ہے
.
پہلی اور دوسری رائے والے شیخ تیمیہ رح کی اس دلیل پر تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ سورہ الحج ہجرت کے بعد نازل ہوئی تھی اور یہ واقعہ اس سے کہیں پہلے وقوع پذیر ہوا تھا. تیسری رائے کے حامی جوابی دفاع میں دلیل دیتے ہیں کہ کسی سورہ کا شان نزول مختلف وقت میں ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ اسکی کچھ آیات پہلے سے نازل نہ ہوچکی ہوں. ہم جانتے ہیں کہ قران میں آیات کی ترتیب نزول کے حساب سے جدا ہے اور موجودہ نظم کے حوالے سے الگ. جیسے اقرا باسم الذی خلق نزول کے حوالے سے پہلی آیت ہے مگر ترتیب کے حوالے سے پہلی آیت نہیں ہے. لہٰذا اس میں کیا مضائقہ ہے کہ سورہ الحج کی یہ آیات مکمل سورہ کے نزول سے پہلے سورہ النجم کی آیات کی تفسیر میں نازل ہوئی ہوں
.
شیخ یہ بھی کہتے ہیں کہ محض اس وجہ سے کہ آپ کسی حدیث  کو اسلئے نہیں چھپا سکتے کہ اسے سمجھنا مشکل ثابت ہورہا ہے. حضرت عائشہ رض کے بقول اگر رسول صلی الله و الہے وسلم کے پاس ایک آیت کو بھی چھپانے کا اختیار ہوتا تو وہ نکاح زینب رض سے متعلق آیت کو چھپا دیتے. مگر الله حق کو ظاہرکرتا ہے ، چاہے وہ تکلیف دہ ہی کیوں نہ ہو. پھر یہی اصول اس واقعہ کیلئے کیوں نہیں ؟ اسی بنیاد پر ابن تیمیہ رح تیسری رائے کو حق تسلیم کرتے ہیں
.
احباب ، یہ تھی وہ مختصر روداد جو اس واقعہ کے ضمن میں موجود ہے. اسکے علاوہ بھی کئی جزیات ہیں جن پر بات کی جاسکتی ہے مگر راقم کے نزدیک اتنی گفتگو سے معاملہ کی سنگینی، استدلال کی نوعیت اور اختلافی پہلو واضح ہوجاتے ہیں. احقر کے نزدیک تینوں آراء مضبوط استدلال پر قائم ہیں مگر میرا ذاتی رجحان یہی ہے کہ پہلی رائے کو صحیح کتب میں ہونے کی بناء پر ترجیح دی جائے اور باقی دو آراء کو شکوک ہونے کی بنیاد پر چھوڑ دیا جائے. باقی اس مضمون کا مقصد بس اتنا تھا کہ قاری خود جائزہ لیکر اپنی رائے قائم کرسکے اور اگر کوئی شکوک اس واقعہ کے ضمن میں موجود تھے تو اسے دور کرسکے.مجھے یقین ہے کہ میں نے اس مضمون میں کئی غلطیاں کی ہونگی جسکے لئے میں اپنے رب سے اور ہر پڑھنے والے سے معافی کا خواستگار ہوں. جو اس میں حق ہے وہ من جانب الله ہے اور جو حق نہیں ہے اس کا قصوروار میرا نفس ہے. الله پاک مجھے معاف کرے. جو اچھا ہو اسے آپ کے دل میں راسخ کردے اور جو غلط ہو اسے آپ کے ذہن سے محو فرما دے. آمین یا رب العالمین
.
====عظیم نامہ=====

Friday, 19 June 2015

کیا روزہ رکھ کر آپ چڑچڑے اور سست ہو جاتے ہیں؟

 

کیا روزہ رکھ کر آپ چڑچڑے اور سست ہو جاتے ہیں؟

 
 
 
"عظیم .. تم تو مسلمان ہو پھر تم روزے کیوں نہیں رکھتے ؟"
.
یہ سوال مجھ سے ایک انگریز دوست نے پچھلے رمضان کے آخری روزوں میں پوچھا تھا. وہ میرے ساتھ میری کمپنی میں کام کرتا تھا. اس دن میں اپنی بریک میں اسٹاف کینٹین میں چلا آیا. وہ وہاں پہلے سے موجود تھا اور جیسے میرا ہی انتظار کر رہا تھا. ہیلو ہائے کے فوری بعد ہی اس نے مجھ سے پوچھا کہ اگر میں برا نہ مانوں تو وہ ایک سوال پوچھ سکتا ہے ؟ میں نے حسب عادت کہا کہ ضرور پوچھو تو وہ مخاطب ہوا
.
"عظیم .. تم تو مسلمان ہو پھر تم روزے کیوں نہیں رکھتے ؟"
.
سوال ایسا غیر متوقع تھا کہ میں سٹپٹا کر بولا "نہیں نہیں ... میں روزے رکھتا ہوں"
.
اس نے شدید حیرت سے پوچھا .. "واقعی ؟ اس مہینہ کتنے روزے رکھے ؟"
.
میں نے اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا کہ "سارے .. میں نے اب تک تمام روزے رکھے ہیں"
.
یہ سن کر اس کا چہرہ حیرت اور پریشانی سے ٹوٹنے لگا .. اس کی یہ حیرت دیکھ کر میں خود شش و پنج میں پڑ گیا کہ یا الہی یہ ماجرا کیا ہے؟
.
اس نے کچھ توقف کیا ، پھر بے چینی سے پہلو بدلا اور کہا
.
"تم روزے کیسے رکھ سکتے ہو؟ میں نے تو تمہارے کام میں کوئی فرق محسوس نہیں کیا؟ نہ تم نے کبھی شکایت کی کہ تمھیں کمزوری ہورہی ہے ، نہ تم نے فلاں اور فلاں کی طرح چھٹیاں کی ، نہ تمہارے چہرے سے کبھی ایسا لگا کہ تم نے کچھ کھایا نہیں ہے ... یہ فرق کیسے ؟ "
.
مجھے اب بات سمجھ آچکی تھی اور یہ بھی واضح تھا کہ یہ دعوت کا بہترین موقع ہے. میں نے اسے سمجھایا کہ روزے کی روح یہ نہیں ہے کہ ہم اسے رکھ کر خود کو مظلوم دکھانے لگیں یا دوسروں سے شکایت کریں یا اپنے کام کرنا چھوڑ دوں. نہ ہی روزے کا مقصد یہ ہے کہ ہم صرف کھانا پینا ترک کردیں بلکہ یہ تومسلسل تربیت ہے کہ ہم اپنی آنکھوں سے برا دیکھنا چھوڑ دیں، کانوں سے برا سننا ترک کر دیں ، اپنی بری عادتوں سے پیچھا چھڑالیں ... ایک بہتر انسان بن جائیں .. ایک ایسا انسان جس کی اپنی عادات بھی صالح ہوں اور وہ دوسروں کے لئے بھی درد دل رکھتا ہو.
.
سارا وقت ، میرا وہ بھلا دوست مجھ سے سوال پوچھتا رہا اور پہلے روزوں اور بعد میں دین اسلام کی حکمت کو جانتا رہا. وہ مجھے مسکرا کر بتا رہا تھا کہ اسے آج تک یہ باتیں سمجھ نہ آئی تھی اور وہ اب پوری طرح سے روزے کے فلسفہ کا معترف ہے.
.
غیر مسلم ممالک میں بسنے والے دوست بلخصوص یہ یاد رکھیں کہ مسلم کا کیا ہر ہر عمل اپنے وجود میں دین کا ترجمان ہوتا ہے. رمضان میں ہر غیر مسلم ایک اندرونی حیرت کا شکار ہوتا ہے کہ کوئی کیسے پورے مہینے اپنی مرضی سے بھوکا پیاسا رہ سکتا ہے؟ یہ وہ موقع ہے جب آپ اپنے اچھے عمل سے دین کے ایک بہترین داعی بن سکتے ہیں یا پھر اپنی لرزش سے اسلام کی غلط تصویر پیش کرسکتے ہیں. فیصلہ آپ کا ہے
.
 عظیم نامہ

Monday, 15 June 2015

فیس بک کی ایک عجیب پوسٹ


فیس بک کی ایک عجیب پوسٹ



فیس بک پر ظاہر ہے کہ طرح طرح کی پوسٹیں پڑھنے کا موقع ملتا ہے. جن میں بعض پوسٹیں بے سر پیر کی ہو
 ہیں مگر پھر بھی لوگوں کی توجہ کھینچ لیتی ہیں. ابھی کچھ دن قبل مجھے ایک ایسی ہی پوسٹ میں ٹیگ کیا گیا، جس میں ایک صاحب نے یہ عالی مرتبت سوال اٹھایا کہ اگر کسی وقت سعودی عرب اور پاکستان میں جنگ چھڑ جائے تو آپ کس کا ساتھ دیں گے؟؟ .. میں اس احمقانہ سوال کو نظر انداز کرکے اسے بند کرنے ہی لگا تھا کہ پوسٹ پر آتے بیشمار کمنٹس اور وہاں برپا گرما گرم ماحول نے میری توجہ مبذول کرلی. کمنٹس دینے والوں میں مذہبی رجحان کے افراد بھی تھے اور مغربی فلسفوں کے متاثرین بھی. علماء بھی تھے اور عام عوام بھی. تکلیف دہ بات یہ تھی کہ ان میں سے کچھ تو کہتے تھے کہ پاکستان ہمارا ملک ہے اسلئے ہم ہر حال میں پاکستان کا ساتھ دیں گے. جبکہ کچھ اور افراد یہ لکھ رہے تھے کہ چونکہ سعودیہ مقدس مقامات کا حامل ہے لہذاٰ ہم ہر صورت سعودیہ کے ساتھ رہیں گے. مجھے وہاں ایک شخص بھی ایسا نہ نظر آیا جو یہ کہتا ہو کہ ہمیں صرف اس کا ساتھ دینا چاہیئے جو حق پر ہو. کسی نے یہ نہ لکھا کہ اسلام میں نہ وطن پرستی ساتھ دینے کا معیار ہے اور نہ ہی مذہبی و مسلکی وابستگی ! .. اسلام تو حق کا علمبردار بناتا ہے اور مظلوم کی پشت پناہی کا حکم دیتا ہے. ظالم اگر نام سے مسلم بھی ہوگا تب بھی اس کی گردن ماری جائے گی اور مظلوم اگر غیر مسلم بھی ہوگا تو اس کا ہر ممکن ساتھ دیا جائے گا. یہی قران کا پیغام ہے، یہی رسول (ص) کی تعلیم ہے اور یہی صحابہ کا عمل ہے
.
====عظیم نامہ====

پھونک


پھونک



میری ایک پھونک ، چراغ پر جلتے شعلے کو بجھا سکتی ہے مگر یہی پھونک ایک بجھتے ہوئے کوئلے کو بھڑکا بھی سکتی ہے. پھونک کا اپنا وجود اہم ہے مگر کمال محض پھونک کا نہیں بلکہ سامنے والے کی صفات کا ہے. خارج سے ہوئے کسی بھی عمل کے اثرات، باطن میں پنہاں صفات کے حساب سے مرتب ہوتے ہیں. میں بحیثیت انسان، نوری و ناری دونوں صفات کا حامل ہوں. اب یہ میرا فیصلہ ہے کہ اس دار الامتحان میں ، کون سی صفات کو نمو دے کر اپنا پیکر ڈھالتا ہوں ؟. جیسی صفات سے آراستہ میرا باطنی وجود ہوگا ویسے ہی اثرات میں خارج سے قبول کرسکوں گا.

.
====عظیم نامہ=====

کردار نہیں تو کچھ بھی نہیں

 

 

کردار نہیں تو کچھ بھی نہیں

 
 
 
کردار یہ ہے کہ ..
.
والدین دعا دیں کہ سب کو ایسی سعادت مند اولاد عطا ہو ..
بیوی اطمینان سے کہہ سکے کہ سب کے نصیب میں ایسا بااخلاق شوہر ہو ..
بچے یہ ناز کریں کہ سب کو ایسا پرشفقت باپ ملے ..
بہن بھائی کھلے دل سے کہیں کہ سب کو ایسا زندہ دل بھائی مل سکے ..
ساس سسر خوشی سے بتائیں کہ سب کو ایسا عزت دینے والا داماد ملے ..
کمپنی باس اور ساتھی ملازمان یہ تمنا کریں کہ کاش سب ایسے ہی خیال رکھنے والے اور ایماندار ہوں ..
دوست یار سب پکاریں کہ سب کو ایسا پراخلاص دوست حاصل ہو ..
عزیز، احباب، پڑوسی، استاد، شاگرد سب ہی آپ کی خوش مزاجی کے گواہ ہوں ..
.
اگر یہ مطلوبہ اوصاف آپ کے کردار کا حصہ نہیں ہے اور آپ سے منسلک اشخاص ان صفات کی آپ میں موجودگی کے قائل نہیں ہیں تو پھر سوچیئے کہ دین کے پیغام کو سمجھنے میں کہاں ٹھوکر کھائی ہے ؟ مومن کیلئے ان اوصاف و صفات کا حصول مستحب نہیں بلکہ واجب ہے. اگر آپ کی نماز و دیگر عبادات آپ کی ایسی کردار سازی نہیں کرتی تو آپ آج بھی دین کے حقیقی مطلوب سے محروم ہیں.
.
 عظیم نامہ