Monday, 11 May 2015

مدارس پر تنقید - پرویز رشید کے تازہ بیان کے تناظر میں

 

مدارس پر تنقید - پرویز رشید کے تازہ بیان کے تناظر میں

 
 
اس سے کوئی صاحب شعور انکار نہیں کرتا کہ مدارس میں یقیناً کچھ خامیاں بنیادی نوعیت کی موجود ہیں. یہ بھی حقیقت ہے کہ ان خامیوں کو دور کرنے کیلئے نصاب اور تربیت دونوں کے حوالے سے کچھ اصلاحات ناگزیر ہیں. یہ بھی تسلیم کرنا چاہیئے کہ ہمارے مذھبی رویوں میں برداشت کی شدید کمی ہے. یہ بھی بجا ہے کہ تکفیری فتووں نے صرف تفرقہ اور نفرت کو پھیلایا ہے.
.
مگر کسی عقلمند کا یہ کہنا کہ ..
.
ہم سائنس و تحقیق میں پیچھے رہ گئے ہیں اور اس کے ذمہ دار مدارس ہیں؟
یا ہماری ملکی معیشت تباہ ہو گئی ہے ، اس کی وجہ مدارس ہیں ؟
یا پھر ہمارے تعلیمی ادارے، یونیورسٹیاں وغیرہ بین الاقوامی معیار میں پیچھے ہیں، اس کا سبب مدارس ہیں؟
.
اس سے زیادہ بے بنیاد، ظالمانہ اور مضحکہ خیز الزام اور کیا ہو سکتا ہے؟ یہ ایسا ہی ہے جیسے آپ کسی دست کار سے کہیں کہ کیوں کے اس نے گلدان پر نقوش صحیح سے نہیں کاڑھے اسلئے تھر میں بچے بھوک سے مر گئے.
.
سوال یہ ہے کہ کیا مدارس نے آپ کا ہاتھ پکڑ کر روکا تھا کہ آپ معاشی اصلاحات نہ کریں ؟ کیا کسی مولوی نے آپ پر بندوق تانی تھی کہ جدید ہسپتال قائم نہ کریں؟ کیا اہل مدرسہ نے آپ کو روک رکھا تھا کہ آپ سائنسی ایجادات نہ کریں ؟ اگر نہیں اور ہرگز نہیں تو پھر اپنی ناکامیوں کا بوجھ مدارس کے سر پر کیوں ڈالتے ہیں ؟ مذھبی طبقہ کو خدارا وہ ملامتی فرقہ نہ بنائیں جن کے کندھے پر رکھ کر آپ اپنی بندوق چلا سکیں.
.
میں نے پوسٹ کے آغاز میں ہی یہ تحریر کردیا تھا کہ مدارس میں بلاشبہ کئی خامیاں موجود ہیں. مگر سوچنا یہ ہے کہ کس شعبہ یا طبقہ میں نہیں ہیں؟ کیا آپ کی فوج دودھ میں دھلی ہے ؟ کیا آپ کا میڈیا بہت شفاف ہے ؟ کیا آپ کا تعلیمی نظام قابل تعریف ہے ؟ کیا آپ کے قانون ساز ادارے بکاؤ نہیں ہیں ؟ کیا آپ کے ڈاکٹرز انجینیرز سے لے کر ایک چھابڑی والے سبزی فروش تک بد دیانت نہیں ہیں ؟ یا پھر آپ کے سیاستدان کرپشن سے پاک ہیں ؟
.
جب مسائل ہر جگہ موجود ہیں، اصلاحات کی سخت ضرورت ہر میدان میں لازمی ہیں تو انصاف کیجیئے. ہر شعبہ کو اتنا ہی الزام دیجیئے جس کا وہ ذمہ دار ہے. اگر دین سے محبت ہے ، اگر ملک سے لگاؤ ہے تو ان سب اداروں کو ان کی خامیوں سمیت قبول کریں  اور پھر آگے بڑھ کر اصلاح میں کردار ادا کریں. یہ صرف ماتم کرنے والا رویہ ترک کریں، عمل کے میدان میں اتریں.
.
شکوہ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصہ کی کوئی شمع جلاتے جاتے

.
عظیم نامہ

No comments:

Post a Comment