Wednesday, 1 April 2015

دنیا کا مشاہدہ

 

 دنیا کا مشاہدہ

 
 
عزیزان من ! .. اس دنیا کا مشاہدہ یہی ہے کہ ..
.
آپ نے اس کے ساتھ اچھا کیا .. اور اس نے آپ کے ساتھ برا کیا ..
آپ نے اس کی مدد کی .. اور اس نے آپ کو تنہا چھوڑ دیا ..
آپ نے اسے سنبھالا .. اور اس نے آپ کو دھکا دیا ..
آپ نے اسے عزت دی .. اور اس نے آپ کو رسوا کیا ..
.
دیکھا آپ نے ؟ .. سوچا آپ نے ؟
.
معاملہ کبھی آپ کے اور اس کے درمیان تھا ہی نہیں ..
بلکہ معاملہ ہمیشہ آپ کے اور آپ کے رب کے درمیان تھا ..
.
اگر آپ اس پر ناراض ہیں کہ اس نے بدلہ میں آپ سے بھلائی کیوں نہ کی ؟ ..
تو آپ نے درحقیقت نیکی کبھی کی ہی نہیں تھی ..
آپ نے تو مخلوق سے 'بزنس ڈیل' کی تھی ..
اور مخلوق سے تو اکثر دھوکہ ملا کرتا ہے ..
اس دنیا کی تو سرشت میں دھوکہ ہے ..
ہمارا معاملہ تو اپنے رب سے ہے ..
.
یہ کیوں سوچتے ہو ؟ کہ وہ بہت برا ہے .. اسلئے میں اس سے اچھا نہیں کرسکتا ..
سوال یہ ہے کہ اگر وہ بہت اچھا ہوتا .. تو تمھارا اس سے اچھائی کرنے میں کیا کمال ہوتا؟ ..
.
ہمیں اسلئے اچھا نہیں ہونا کہ مخلوق ہم سے اچھی ہو ..
ہمیں اسلئے اچھا کرنا ہے .. کیونکہ ہم اچھے ہیں ..
.
ہمیں اس پودے کی مانند بننا ہے .. جس کا پھل سب کے لئے ہے ..
ہمیں اس درخت کی مثال اپنانی ہے .. جس کا سایا سب کے لئے ہے ..
ہمیں اس بارش جیسا بننا ہے .. جو سب پر یکساں برستی ہے ..
ہمیں اس سورج کی طرح چمکنا ہے .. جس کی روشنی سب کے لئے ہے ..
.
ہمیں ' سلم ' سے ' سلام ' کا سفر کرنا ہے ..
ہمیں ' مسلم ' بننا ہے ..
.



عظیم نامہ

No comments:

Post a Comment