Friday, 13 February 2015

اسلامی دنیا کے فلسفی

 
اسلامی دنیا کے فلسفی  




اسلامی دنیا کا پہلا فلسفی اور سائنسدان جس شخص کو قرار دیا جاتا ہے، اسکا علمی نام 'ایران شہری' تھا اور وہ ایران کا رہنے والا تھا. افسوس کے اسکا کوئی بھی فکری کام ہم تک نہ پہنچ پایا لہٰذا یہ دعویٰ نہیں کیا جاسکتا کہ وہ فلسفہ اسلام کا حقیقی بانی تھا. نتیجہ یہ ہے کہ پہلے اسلامی فلسفی کا خطاب ابویعقوب الکندی سے منسوب کیا جاتا ہے. الکندی مشائی فلسفے کا بانی تھا اور 'فلسوف العرب' اسکا لقب ہے. الکندی کا فلسفہ افلاطون کی تعلیمات سے مخلوط ہو کر سامنے آتا ہے. الکندی سمیت اس مکتب کے تمام... علماء فلسفی بھی تھے اور سائنسدان بھی. لیکن یہ حقیقت ہے کہ الکندی کا فلسفہ کئی مقامات پر سائنس پر حاوی ہوجاتا ہے. اسکے برعکس البیرونی کے ہاں سائنس فلسفے پر حاوی ہے.

الکندی کے بعد جو قد آور فلسفی آیا وہ الفارابی ہے، اہل دانش اسے 'المعلم انسانی' کے نام سے پکارتے ہیں. الفارابی ارسطو کا شدید مقلد تھا اور اس نے اپنی زندگی زیادہ تر ارسطو کے فلسفہ کی شرح لکھنے میں گزاری. وہ کئی اور علماء کی طرح ارسطو اور افلاطون کی بیان کردہ تعلیم کو وحی الہی سے تعبیر کرتا ہے. الفارابی ریاضی دان، ماہر موسیقی، سائنسدان اور فلسفی کے طور پر معروف رہا.

الفارابی کے کچھ عرصے بعد ابن سینا ایک عظیم شخصیت کے طور پر ابھرے. مورخین ارسطو کو جہاں 'معلم اول' کہتے ہیں، وہاں ابن سینا کو 'المعلم الثانی' کا خطاب دیتے ہیں. ابن سینا کے والدین 'اسماعیلی' فلسفے سے متاثر تھے مگر ابن سینا ان سے متفق نہ ہوۓ. اس ظاہری اختلاف کے باوجود محسوس ہوتا ہے کہ ابن سینا کی سوچ پر 'اسماعیلی' توجیہات کا غلبہ رہا. دوسری جانب وہ الفارابی کی طرح ارسطو کا مقلد تو نہ تھا مگر اس سے متاثر ضرور تھا. مغربی تحقیق نگاروں کی طرح ابن تیمیہ نے بھی ابن سینا کو ایک ایسا فلسفی کہا ہے جس نے محض تقلید نہیں کی بلکہ اسماعیلی نظریات اور ارسطو و افلاطون کے فلسفوں کو مدغم کرکے اپنا ایک مستقل نظام فکر پیش کیا
====عظیم نامہ====

حضرت ابوبکر رض کی نصیحت

حضرت ابوبکر رض کی نصیحت 

حضرت ابوبکر رض نے خلافت منتقل کرنے سے قبل حضرت عمر رض کو چند نصیحتیں کیں. ان میں سے ایک اہم ہدایت یہ بھی تھی کہ نفل اعمال کو کبھی فرائض پر ترجیح نہ دینا. آپ کی یہ نصیحت محض عبادات کے لئے نہیں تھی بلکے ان حکومتی اور انتظامی امور و معاملات کا احاطہ بھی کرتی تھی جو آگے چل کر نئے خلیفہ کو پیش آنے تھے. ہماری زندگیوں میں بھی اکثر یہ المیہ درپیش ہوتا ہے کہ آپ نفل اعمال کی چاہ میں فرائض سے غفلت برت جاتے ہیں. شیخ کے پاؤں دابے جارہے ہیں اور والدین کے لئے وقت ہی نہیں. مسجدوں میں ایرانی قالین بچھا رہے ہیں اور پڑوسی بھوکا سو رہا ہے. فیس بک پر دینی مذاکرے ہورہے ہیں اور صلات کا کوئی ہوش نہیں. ہم اکثر ترجیحات کی تقسیم میں غلطی کر جاتے ہیں. مومن کی اولین ترجیح اپنے رب کا عرفان ہے. اگر ہم حقیقت میں الله کو اپنی ترجیح اول بنالیں تو بس سمجھیں بیڑا پار ہوگیا !
.
 ====عظیم نامہ====

ایمان باالغیب

ایمان باالغیب


ایمان باالغیب اس یقین کا نام ہے جو مشاہدے کے زریعے نہیں بلکہ غوروفکر کے نتیجے میں جڑ پکڑتا ہے. سالک دلائل کا تقابلی موازنہ کرکے ، ایک شعوری سفر کے زریعے کسی شے کے بارے میں علمی راۓ قائم کرتا ہے. یہ راۓ کیونکہ تدبر کا نتیجہ ہوتی ہے اسلیے سالک کو ایک خاص قلبی و ذہنی سکون فراہم کرتی ہے. آسان الفاظ میں کہیں تو صاحب ایمان اس پر پوری طرح قائل ہوجاتا ہے. اب دیانت کا تقاضا یہی ہے کہ اسکا عمل بھی اسکے ایمان کا عکس بن جاۓ ورنہ ایسا ایمان ہوکر بھی کوئی حقیقی معنی نہیں رکھتا . اگر وہ ایسا کرتا ہے تو ایمان دار کہلاتا ہے اور نہیں کرتا تو بے ایمان قرار پاتا ہے. یہاں یہ وضاحت دوبارہ کردوں کہ کہ دین کی اس مشہور اصطلاح "ایمان بالغیب" کے معنی بناء دیکھے ایمان لانا ہے، بناء سمجھے ہرگز نہیں.
.
====عظیم نامہ====

انٹرویو اور وہ الله کا بندہ

 انٹرویو اور وہ الله کا بندہ

کچھ عرصہ سے میری کمپنی ایک کمپیوٹر ایکسپرٹ کو تلاش کر رہی ہے مگر سخت معیار ہونے کی وجہ سے انٹرویو پر انٹرویو ہوتے رہے لیکن کوئی امیدوار کامیاب نہیں ہوسکا. کچھ دن پہلے میں نے امیدواروں کے بائیو ڈیٹا کا تفصیلی جائزہ لیا اور ان میں سے زیادہ تجربہ یافتہ افراد کو انٹرویو کیلئے بلا لیا. ان ہی بائیو ڈیٹا کی چھان بین میں ایک ایسا امیدوار بھی نظر میں آیا جس کا تعلق پرتگال سے تھا. اس شخص کے پاس تجربہ اور تعلیم نسبتاً کم تھی. بظاہر ایسی کوئی خاص وجہ نہ تھی کہ اسے انٹرویو پر بلایا جائے مگر ایک بات جو حیرت انگیز تھی وہ یہ کہ اس بائیو ڈیٹا میں بلا کی سچائی سے کام لیا گیا تھا. وہ باتیں جن کا اعتراف کرنا بیوقوفی سمجھا جاتا ہے ، اس شخص نے اسے کھل کر بیان کردیا تھا. سمجھ نہیں آرہا تھا کہ یہ شخص سچا ہے یا بیوقوف ؟ میں نے اپنے مینجر اور ایک سینئر کو یہ بائیو ڈیٹا دکھایا تو ان کا بھی یہی حال ہوا. خیر اسی مخمصے میں ہم نے اسے بھی بلانے کا فیصلہ کرلیا.
.
آج انٹرویو کا دن تھا ، جب اس شخص کی باری آئی تو یہ دیکھ کر ایک خوشگوار حیرت ہوئی کہ وہ ایک مسلم تھا. گو کے اسکے نام سے یہ ظاہر نہ ہوا تھا. چہرے پر ہلکی داڑھی ، ہونٹوں پر مسکراہٹ اور ماتھے پر نماز کا نشان. پہلی نظر پڑھی تو اس کے لبوں کو ہلتا دیکھا، ایک لمحہ میں سمجھ گیا کہ یہ تسبیحات پڑھ رہا ہے. خیر جناب مجھ سمیت تین افراد نے اس کا انٹرویو شروع کیا (بقیہ دونوں انگریز تھے) ، وہی سچائی جو اس کے بائیو ڈیٹا پر نمایاں تھی آج سامنے مجسم ہو گئی تھی. وہ باتیں جن میں وہ باآسانی جھوٹ بول کر یا بات گھما کر متاثر کرسکتا تھا، اس نے خالص سچ کو مسکرا کر کہہ دیا. صاف محسوس ہو رہا تھا کہ اس انسان کیلئے سچ بولنا .. نوکری حاصل کرنے سے کہیں زیادہ اہم ہے. ایک گھنٹے کے انٹرویو کے بعد ہم تینوں نے بیک وقت ایک آواز ہو کر یہ تبصرہ کیا کہ یہ کتنا سچا آدمی ہے ! اسکی سچائی کا ایسا اثر دل پر ہوا کہ ہم سب کا فیصلہ اس کے حق میں نکلا اور وہ نوکری جس میں اس سے کہیں زیادہ چالاک و تجربہ کار لوگ کامیاب نہ ہوسکے تھے ، وہ اسے حاصل ہوگئی. آج لاجک فیل ہوتے آنکھوں سے دیکھی، جھوٹ کو پھانسی پر چڑھتا دیکھا اور حق کا رستہ غیب سے بنتا نظر آیا. بس اب انتظار ہے کہ اس الله کے بندے کے ساتھ مل کر میں کام کر سکوں اور انشااللہ اس سے سیکھ سکوں. سبحان الله وبحمدہ سبحان اللہ العظیم


.
====عظیم نامہ====

Sunday, 8 February 2015

سیکھنے کا نسخہ


سیکھنے  کا نسخہ


سیکھنے کی استعداد ازخود بڑھ جاتی ہے جب انسان اپنی سننے کی صلاحیت میں اضافہ کردے. میری مراد یہ نہیں ہے کہ آپ شخصیت پرستی اختیار کرکے ، مخاطب کے ہر قول پر آمننا صدقنا کے مصداق ایمان لےآئیں .. مگر خاموشی سے مخاطب کی بات سنتے رہنا اور اسکے کہے پر کھلے ذہن سے غور کرکے کسی نتیجے کو اخذ کرنا، لازمی طور پر ہماری شخصی تربیت میں معاون ثابت ہوتا ہے. میں دیانتداری سے اعتراف کرتا ہوں کہ جب تک میں خاموشی سے مختلف مکاتب کو سنتا رہا، میرے سیکھنے کا عمل تیز سے تیزتر ہوتا گیا. لیکن جب سے بولنا شروع کردیا تو سیکھنے کی استعداد کم سے کمتر ہوگئی. بولنا اہم ہے مگر سننا اس سے دگنا اہم ہے. الله نے ہمیں ایک منہ اور دو کانوں سے نوازا ہے، ہمیں انکا استمعال بھی اسی تناسب سے کرنا چاہیے.


====عظیم نامہ====

کیا آپ بھی نفسیاتی مریض تو نہیں ؟



کیا آپ بھی نفسیاتی مریض تو نہیں ؟


کچھ لوگ ذہنی طور پر مفلوج پیدا ہوتے ہیں یا پھر کسی حادثے میں ذہنی مفلوج ہو جاتے ہیں. یہ ذہنی کمزوری انکے چہرے پر نظر آنے لگتی ہے. ہم بعض اوقات ان سے خوف کھاتے ہیں اور انہیں عرف عام میں پاگل کہتے ہیں. یہ درحقیقت ایسے خطرناک نہیں ہوتے بلکہ ہماری اضافی توجہ کے مستحق ہوتے ہیں. ایک دوسری طرح کے ذہنی بیمار بھی ہوتے ہیں، یہ شکل سے بلکل پاگل نظر نہیں آتے بلکے اکثر علم و شرافت کا لبادہ بھی اوڑھے ہوتے ہیں. ان کے لئے لفظ پاگل نہیں بولا جاتا، بلکہ 'نفسیاتی' کی اصطلاح اختیار کی جاتی ہے. اصل خطرناک یہ نفسیاتی ہوتے ہیں. ان کا المیہ یہ ہے کہ یہ اپنی بیماری کو بیماری نہیں سمجھتے اور نتیجے میں کسی علاج کی ضرورت بھی محسوس نہیں کرتے. دنیا سے بھی یہ اکثر اپنی اس ذہنی بیماری کو ظاہری رکھ رکھاؤ سے چھپا لینے میں کامیاب رہتے ہیں. صرف وہ ہی افراد انکی بیماری سے آگاہ ہوتے ہیں جو انکا شکار ہوۓ ہوتے ہیں. ایسی مثالیں آپ کو اپنے عزیز و اقارب سے لیکر فیس بک کی اس دنیا تک بکثرت مل سکتی ہیں. ضروری ہے کہ ہم سب اپنا جائزہ لیتے ہوۓ دوسرے کی راۓ کو اہمیت دیں اور دیکھیں کہ کہیں ہم بھی تو نفسیاتی نہیں

====عظیم نامہ====

Friday, 6 February 2015

سوال پوچھو



سوال پوچھو 



سوال نہ پوچھنے سے سوال ختم نہیں ہوتا بلکہ آپ کے لاشعور میں جا دفن ہوتا ہے. لہٰذا سوال پوچھیں، ورنہ شکوک کے گرداب میں دھنستے رہیں گے. دستک دیں گے تو دروازہ کھلے گا، سوال پوچھیں گے تو جواب حاصل ہوگا. سوال پوچھیں گے نہیں تو جواب کہاں سے حاصل ہوگا ؟ یہ اور بات کہ زبان سے سوال پوچھنے والے بہت موجود ہیں مگر زبان حال سے پوچھنے والے شاذ ہی نظر آتے ہیں 

.
====عظیم نامہ====

قرانی عربی اور اردو کا فرق



قرانی عربی اور اردو کا فرق


اردو میں ایسے الفاظ کثرت سے موجود ہیں جو عربی سے مستعار لیے گئے ہیں. المیہ یہ ہے کہ بعض اوقات ایک ہی لفظ دونوں زبانوں میں استمعال ہوتا ہے مگر معنی کے اعتبار سے زمین آسمان کا فرق رکھتا ہے. ایسے میں قاری اگر اس فرق کو ملحوظ نہ رکھے تو باآسانی غلط نتائج اخذ کرلیتا ہے. مثال کے طور پر اردو میں لفظ 'فتنہ' ایک منفی اثر رکھتا ہے اور کسی فسادی عنصر کیلئے استمعال ہوتا ہے، اسکے برعکس عربی میں 'فتنہ' کے سادہ معنی امتحان کے ہیں، چنانچہ قران اولاد کو بھی آپ کیلئے فتنہ یعنی امتحان کہتا ہے. اردو میں لفظ 'جاہل' غیر تعلیم یافتہ شخص کو کہتے ہیں مگر عربی میں عالم کی ضد جاہل نہیں ہے بلکہ ایسی شخصیت ہے جسکی عقل پر جذبات و تعصب کا پردہ پڑا ہو. اردو میں لفظ 'ذلیل' ایک گالی کی طرح استمعال ہوتا ہے اور کسی کی شخصی کمینگی کو اجاگر کرتا ہے، مگر عربی میں 'ذلیل' کے معنی محض کمزور کے ہیں، لہٰذا ایک عربی یہ کہہ سکتا ہے کہ میرے والد ذلیل یعنی کمزور ہوگئے ہیں. 
.

====عظیم نامہ====

استغفار اور توبہ - دو جدا الفاظ


استغفار اور توبہ - دو جدا الفاظ


 

استغفار اور توبہ مماثل الفاظ نہیں ہیں. استغفار نام ہے اپنی غلطی، جرم یا گناہ کو قبول کرکے اظہار ندامت کرنے کا جبکہ توبہ نام ہے اس مظبوط ارادے کا، کہ اب اس غلطی یا گناہ کو دوبارہ نہ دہراؤں گا. سادہ الفاظ میں استغفار کے زریعے آپ اپنی غلطی کا اعتراف کرکے اسکی ذمےداری قبول کرتے ہیں اور توبہ کے راستے آپ اپنی اصلاح کا عہد کرتے ہیں.
.
===عظیم نامہ===

کیا آپ مساوی حقوق کی بات کرتے ہیں؟


کیا آپ مساوی حقوق کی بات کرتے ہیں؟


میں خود کو مساوی حقوق کا مبلغ بنا کر پیش کرتا ہوں، انسانیت کا درس میری زبان سے ہمہ وقت جاری رہتا ہے .. لیکن کیا میں واقعی اس مساوات کا اطلاق اپنی شخصیت پر کرتا ہوں ؟ کیا فی الواقع میرا رویہ اپنے ملازمین اور ماتحت سے مساوی ہوتا ہے ؟ یا پھر حقیقت یہ ہے کہ میرا عمل صرف خطبے دینے تک محدود ہے ؟ کیا میرے گھر کا ملازم میرے ساتھ صوفے پر بیٹھ سکتا ہے، کھانا کھا سکتا ہے ؟ اگر نہیں تو جان لیں کہ سوٹ ٹائی پہن کر مساوی حقوق کی بڑی بڑی باتیں کرنا بہت آسان ہے، اور اس پر عمل خاصہ مشکل ! 

.
====عظیم نامہ====

جنت، جہنم یا پھر خالص الله سے محبت ؟


جنت سے محبت اور جہنم کا خوف یا پھر خالص الله سے محبت - کون سا طریقہ نجات کا ہے ؟




ایک صاحب کے تین بیٹے تھے، انہوں نے تینوں کو جمع کیا اور کہا کہ " بچوں ! میں چاہتا ہوں کہ تم خوب دل لگا کر پڑھو ، تم میں سے جو میری اس خواہش کو مان کر محنت کرے گا اور اچھے نمبروں سے پاس ہوگا .. اسے میں اسکی من پسند چیز دلاؤں گا اور اپنی جانب سے بھی بہت سا انعام دونگا. لیکن اگر تم میں سے کوئی دل لگا کر نہ پڑھے گا تو پھر اسکی سخت سزا پاۓ گا ! " .. اب ان تینوں میں سے پہلا بچہ اس لالچ میں پڑھتا ہے کہ پاس ہونے پر ڈھیروں انعام حاصل ہوگا، دوسرا بچہ اس خوف سے محنت کرتا ہے کہ پاس نہ ہوسکا تو بڑی مار پڑے گی اور تیسرا بچہ کہتا ہے کہ مجھےانعام کی لالچ یا سزا کے خوف سے کہیں زیادہ اپنے باپ کی خوشنودی درکار ہے.لہٰذا وہ صرف اسلیۓ پڑھتا ہے کہ وہ اپنے والد سے پیار کرتا ہے اور انکی بات نہیں ٹھکرا سکتا. جب نتیجہ آتا ہے تو کیونکہ تینوں نے دل لگا کر پڑھا ہوتا ہے، اسلیے سب پاس ہوجاتے ہیں اور اپنے باپ کی نظر میں کامیاب قرار پاتے ہیں. آپ یہاں یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ شائد تیسرا بیٹا بقیہ دو بیٹوں سے زیادہ اچھا تھا اور باپ اسے شائد سب سے زیادہ پیار کرے مگر اس تیسرے کی کامیابی سے باقی دو کی ناکامی ثابت نہیں ہوتی. یہی عالم انسان اور اسکے رب کا ہے. ہم میں سے کوئی جنت کی چاہ میں نیکی اختیار کرتا ہے، کوئی جہنم کے خوف سے تقویٰ اپناتا ہے اور کوئی بس اپنے رب سے ملاقات کی لگن میں پاکیزہ رہتا ہے. آخرت یعنی روز جزاء میں ان تینوں کے درجات میں تو فرق ہوسکتا ہے مگر کامیاب یہ تینوں طرح کے لوگ ہونگے. شرط بس یہ ہے کہ وہ اعمال اخلاص اور ٹھیک سمجھ پر مبنی ہوں.
.
====عظیم نامہ====

وہ نوجوان



وہ نوجوان

بیس بائیس سال کا ایک نوجوان ، اسے میں جب بھی مسجد میں دعا مانگتے دیکھتا تو حیرت و رشک سے کھڑا رہ جاتا. یوں لگتا ہے کہ جب وہ دعا کرتا ہے تو اسکی ہاٹ لائن سیدھی رب العالمین سے منسلک ہو جاتی ہے. وہ آنکھیں بند کیۓ ایک جگہ سمٹ کر ساکت بیٹھا، اپنے ہاتھ بلند کئے گم سم نا جانے اپنے بنانے والے سےکیا سرگوشیاں کیۓ جاتا ؟ لوگ آتے، نماز پڑھتے اور چلے جاتے ، اسکے ارتکاز اور توجہ میں مجال ہے کہ کوئی فرق پڑ جاۓ ؟. مجھ سے نہ رہا گیا تو ایک دن میں نے اس سے پوچھ ہی لیا کہ وہ دعا کس اسلوب سے مانگتا ہے، کیا الفاظ استمعال کرتا ہے، کون سی خواہشوں کا تقاضہ کرتا ہے ؟ .. وہ پہلے ھچکچایا لیکن بار بار کے اصرار کے بعد آخراس نے مجھے اپنی پوری دعا سنائی. میں حیرت زدہ رہ گیا جب مجھے پتا چلا کہ میرے اس بھائی کی دعا کا ایک بہت بڑا حصہ کسی تقاضے یا مطالبے پر نہیں بلکے صرف خالص شکر پر مبنی ہے ! وہ ایک ایک نعمت جو اس کے ذہن میں آتی جاتی اسکا نام لیتا جاتا اور الله عزوجل کا شکریہ ادا کرتا جاتا. آج مجھے اس نوجوان لڑکے سے ایک بہت بڑی سیکھ ملی تھی اور وہ یہ کہ دعا صرف تقاضے کا نہیں بلکے ان بیشمار نعمتوں کے شکر کا بھی نام ہے جنہیں ہم اکثر اپنا حق سمجھ کر بیٹھے رہتے ہیں. اپنے رب سے اپنی ضرورتوں یا خواہشوں کو مانگنا غلط نہیں ہے مگر اسکی عطا کردہ نعمتوں کا صدق دل سے شکر کرنا، ہمیں اپنے خالق سے ایک زندہ تعلق و محبت فراہم کرتا ہے، جو از خود ایک بہت بڑی عطا ہے.

.
====عظیم نامہ=====

شکر ادا کیسے ہوتا ہے ؟



شکر ادا کیسے ہوتا ہے ؟




 فرض کریں کہ آپ کسی خوشی کے موقع پر مجھے پھولوں کا گلدستہ پیش کرتے ہیں. میں بھی سی مہذب 'جینٹل مین' کی طرح آپ کا گرمجوشی سے شکریہ ادا کرتا ہوں، مصافحہ کرتا ہوں، گلے لگاتا ہوں. مگر پھر آپ کے ہی سامنے اس گلدستے کو کچرے کی ٹوکری میں پھینک دیتا ہوں یا پھر اس گلدستہ سے جھاڑو لگانے لگتا ہوں. سوچیں آپ کے دل پر کیا گزرے گی ؟ کیا میرا وہ شکریہ ادا کرنا آپ کو اب ایک آنکھ بھی بھائے گا ؟ یا آپ مجھے ایک ایسا شخص سمجھیں گے جس نے تحفہ کی ذرا قدر نہ کی؟
.
بتانا یہ چاہتا ہوں کہ شکر صرف زبان سے ہی ادا نہیں کیا جاتا بلکہ اس تحفہ کا صحیح استمعال کرکے زبان حال سے بھی ادا کیا جاتا ہے. اگر یہ دوسرا حصہ موجود نہ ہو تو پھر زبانی کلامی شکریہ ایک مصنوعی ڈھکوسلے سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا. رب کی شکر گزاری بھی یہی ہے کہ آپ لفظی الحمد الله کہنے پر ہی اکتفا نہ کریں بلکہ اس صلاحیت یا نعمت کو جو آپ کو عطا کی گئی ہے درست سمت میں بھرپور استمعال کرکے عملی شکرگزاری کا نمونہ بن جائیں. اس سے یہ تاثر ہرگز نہ لیجئے کہ زبانی شکرگزاری اہم نہیں بلکہ یہ تو ہماری فطرت کا عین تقاضہ ہے. آپ ایک پیاسی بکری یا گائے کو پانی پلائیں تو وہ بھی ایک لمحہ کو برتن سے چہرہ اٹھا کر تشکر بھری نظر سے دیکھتی ہے. ہر سلیم الفطرت انسان بھلائی کرنے والے کا زبانی شکریہ ضرور ادا کرتا ہے. یہ فلسفہ عجیب ہے کہ رب کا شکریہ الفاظ سے ادا نہ کیا جائے بلکہ صرف اطاعت سے کیا جائے. جیسے اپنے پیار کرنے والے رشتوں کی بات ہم عملی طور پر بھی بجا لاتے ہیں اور ساتھ ہی زبانی طور پر بھی ان سے اظہار محبت کے الفاظ ادا کرتے ہیں. تسبیحات، اذکار، مناجات - یہ سب رب کی بیشمار نعمتوں کا زبانی شکر ادا کرنے کا طریق ہیں اور اپنے بنانے والے سے زندہ تعلق کا مظہر ہیں. اسی طرح یہ سمجھ بھی شدید ناقص ہے کہ شکر گزاری صرف الفاظ میں قید ہو کر رہ جائے اور عطا کردہ صلاحیت یا نعمت کو مثبت انداز میں بروئے کار نہ لایا جائے. جیسا کے میں نے پہلے ہی گلدستہ والی مثال سے واضح کیا. عقل و شعور کی نعمت کا شکر یہ ہے کہ اسے مثبت طور پر بھرپور استمعال کیا جائے، اگر خدا نے آپ کو صاحب قلم بنایا ہے تو اس کا شکر یہ ہے کہ آپ کا قلم حق کی ترویج کا سبب ہو، اگر آپ کو کسی ٹیکنیکل صلاحیت سے مالا مال کیا گیا ہے تو اس کا شکر یہ ہے کہ آپ اسے بہترین طریق سے نہ صرف انجام دیں بلکہ اسکے ذریعے مخلوق کی بہتری کا سامان کریں. میری دعا ہے کہ الله پاک ہمیں شکر کو سمجھنے اور اسے اس کے دونوں پہلوؤں سے ادا کرنے والا بنائے آمین.
.
====عظیم نامہ====

مذہبی گالی


مذہبی گالی




ہر وہ لفظ گالی شمار ہوگا جس سے مخاطب کی تحقیر و تذلیل مقصود ہو. اگر آپ ایسا کوئی بھی لفظ ادا کرتے ہیں جس کے زریعے، سننے والے کی عزت نفس مجروح ہوتی ہے، تو امکان ہے کہ اس پر گالی کا اطلاق ہو سکتا ہے. اگر اس تعریف کو سمجھ لیں تو معلوم ہوگا کہ گالی صرف وہ الفاظ نہیں ہیں جنہیں معاشرے میں گالی سمجھا جاتا ہے بلکے ایسے بہت سے الفاظ موجود ہیں جنہیں گالی کے طور پر ہم نے خود ایجاد کیا ہے. حد یہ ہے کہ ہم نے مذہبی گالیاں بھی ایجاد کر رکھی ہیں. وہ شیعہ کھٹمل ہے، یہ سنی دشمن اہل بیت ہے .. وہ وہابی نجدی کافر ہے، یہ قبر پرست صوفی ہے .. وہ دیوبند کی گند ہیں ، یہ حلوہ خور بریلوی ہیں ... وہ ہرے طوطے ہیں، یہ یہودی ایجنٹ ہیں. ایک لمبی فہرست ہے گالیوں کی جسے ادا کر کے ہم اپنے مخاطب کی تذلیل کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ایسا کر کے ہم دین کی خدمت کر رہے ہیں. وہ اسلام جس نے کافروں کے جھوٹے خداؤں کو بھی گالی دینے سے روکا تھا ، آج اسکے نام لیوابڑے فخر سے اپنے کلمہ گو بھائیوں کو مذہبی گالیاں دیتے ہیں. 
.
====عظیم نامہ====


علمی تنقید کیا ہوتی ہے؟


علمی تنقید کیا ہوتی ہے؟





علمی تنقید وہاں ممکن ہوتی ہے جہاں آپ کو کسی محقق کی کسی بات سے اتفاق ہو اور کسی سے اختلاف. آپ جہاں اسکی کسی غلط تشریح پر دلائل سے تنقید کر سکتے ہوں تو وہاں آپ میں اتنی اخلاقی جرات بھی ہو کہ اپ اسی محقق کی کسی دوسری صحیح بات پر اسکی تعریف کر سکیں. وگرنہ یہ صرف دھوکہ ہے کہ آپ کی تنقید 'علمی' ہے. دوسرے کی تضحیک کرکے آپ اپنے نفس کو موٹا کرتے ہیں اور پھر اس خوش فہمی میں مبتلا ہوجاتے ہیں کہ 'نہی عن المنکر' کا فریضہ انجام پارہا ہے


.
====عظیم نامہ====

Monday, 2 February 2015

پیغام پہنچانے کا سب سے موثر طریقہ



پیغام پہنچانے کا سب سے موثر طریقہ



کہانی سننا اور کہانی سنانا غالباﹰ تاریخ انسانی کا سب سے قدیم اور سب سے محبوب مشغلہ ہے. یہی وجہ ہے کہ افراد کی اکثریت کو اگر کوئی پیغام یا سوچ منتقل کرنی ہو تو کہانی سے موثر طریق دوسرا کوئی نہیں. شاعرانہ اسلوب گو کے پسند کیا جاتا ہے مگر اس سے پیغام اخذ کرنے والے بہت قلیل ہوتے ہیں. منطقی یا فلسفیانہ انداز کو تو اور بھی کم مخصوص طبیعتیں ہی سمجھ پاتی ہیں. غرض یہ کہ آپ کی اپنی طبیعت سے یہ حقیقت میل کھائے یا نہ کھائے، لیکن بھائی اگر عوام الناس میں تبدیلی لانی ہے تو پھر کہانی سنانی ہے.
 
 
.
====عظیم نامہ====

Sunday, 1 February 2015

توکل کیا ہے؟


توکل کیا ہے؟




توکل لفظ 'وکل' سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں خود کو سپرد کردینا یا مکمل بھروسہ کرنا. میری احقر رائے میں توکل کسی مولوی صاحب سے سیکھنے کے بجائے معصوم بچوں سے سیکھیں. مشاہدہ ہے کہ جب کسی بچے کو کوئی غیر انسان گود میں لینا چاہے تو وہ ڈر کر روتا ہے شور مچاتا ہے مگر جب اسی بچے کو اس کا باپ گود میں لے کر ہوا میں کئی فٹ اونچا اچھالتا ہے تو وہ ڈرنے کے بجاۓ خوشی سے قلقاریاں مارتا ہے اور اکثر دوبارہ اچھالنے کی فرمائش بھی کر ڈالتا ہے. وہ معصوم بچہ جانتا ہوتا ہے کہ کچھ بھی ہو جائے اسکا باپ اسے زمین پر گرنے نہ دے گا. اس بچہ کا یہ اعتماد اور بھروسہ دراصل اپنے باپ پر اس کا توکل ہے. 
.
کافی سال پہلے میں ایک بڑے اسٹور میں مینجر تھا. وہاں اکثر میرا مشاہدہ ہوتا کہ کوئی ماں اپنے بچے کی مسلسل شرارت سے تنگ آکر اسے ڈانٹ رہی ہوتی یا اس کی پٹائی کر رہی ہوتی اور وہ بچہ ماں سے دور بھاگنے کی بجائے اپنی ماں سے اور زیادہ لپٹ جاتا. اسے کامل یقین ہوتا کہ آس پاس کے مسکراتے چہرے غیر ہیں، اجنبی ہیں اور اس کی ماں غصہ ہونے کے باوجود اسکی اپنی ہے. اسے اعتماد ہوتا کہ اسی ماں کے پاس اسے پناہ ملے گی. بندے کا توکل یہ ہے کہ رب کی اجازت سے اس پر کتنی ہی سختیاں کیوں نہ آئیں ، وہ مسلسل اپنے رب کی جانب رجوع کرتا رہے کہ اسکی پناہ صرف اپنے خالق کے پاس ہے. 
.
بابا بلھے شاہ اپنے ایک پنجابی کلام میں توکل کو بیان کرتے ہیں، میں اس کا اردو مفہوم درج کر رہا ہوں
.
بلھے شاہ دیکھو ! آسمانوں میں اڑتے پنچھی 
دیکھو تو سہی وہ کیا کرتے ہیں ؟
.
نہ وہ کرتے ہیں رزق ذخیرہ 
نہ وہ بھوکے مرتے ہیں 
.
کبھی کسی نے یہ پرندے، بھوکے مرتے دیکھے ہیں ؟
بندے ہی کرتے ہیں رزق ذخیرہ اور بندے ہی بھوکے مرتے ہیں 
.
ترمزی شریف کی ایک روایت کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ ، رسول پاک صلی اللہ و الہے وسلم نے ایک بدو دیہاتی کو دیکھا کہ اس نے اپنے اونٹ کو کھونٹے سے نہیں باندھا اور کھلا چھوڑ دیا، آپ صلی اللہ و الہے وسلم نےدریافت کیا کہ کیوں نہیں باندھا ؟ بدو نے جواب دیا کہ میں اللہ پر توکل کرتا ہوں. آپ صلی اللہ و الہے وسلم نے منع کرتے ہوئے فرمایا کہ پہلے اونٹ کو کھونٹے سے باندھو اور پھر الله پر توکل کرو. 
.
توکل سے مراد ہرگز یہ نہیں ہے کہ اپنے حصہ کا کام نہ کیا جائے. جس طرح ایمان کے ساتھ عمل لازم ہے ، بلکل اسی طرح توکل کے ساتھ تدبیر ضروری ہے.
.
====عظیم نامہ=====