Sunday, 11 January 2015

عورت کون ؟ ایک پر مزاح جائزہ


عورت کون ؟ ایک پر مزاح جائزہ


عورت ایک ایسی پہیلی ہے جسے آج تک نہ تو کوئی بقراط سلجھا سکا ہے اور نہ ہی کوئی سقراط حل کر پائے گا. عجب معمہ ہے یہ عورت ، طفل سی معصوم بھی اور غضب کی پرکالا بھی. چاہے تو اک مسکان سے بگڑی بات بنا ڈالے اور چاہے تو ایک چٹکتی چنگاری سے گھر کو راکھ بنادے. کہنے والے کہہ گئے ہیں کہ ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا  ہے اور ہر ناکامیاب مرد کے پیچھے ایک سے زائد  کا ... بات کہاں تک سچ ہے ؟ یہ تو ہم نہیں جانتے مگر ہاں اس پر ضرور ثبت ہیں کہ جہاں ایک سے زائد عورتوں کا اجماع ہوا تو بس سمجھئے کہ فساد کی داغ بیل پڑی
.
عورتوں کی دو اقسام ہیں ، پہلی وہ جو جھگڑا کرتی ہیں اور دوسری وہ جو جھگڑا کرواتی ہیں. دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ عورت خواہ کسی بھی خطہ کی ہو .. وہ عورت ہوتی ہے. یہاں ہمارے کہنے کا یہ مقصد ہرگز نہیں ہے کہ تعلیم، رہن سہن، ثقافت یا پہناوہ خواتین پر نظر انداز نہیں ہوتے. یقیناً ان عوامل کا ظہور شخصیت پر اپنے اثرات مرتب کرتا ہے لیکن ان کا مشترک اور بنیادی زاویہ سوچ ہر عورت کے 'عورت' ہونے کی دلیل دیتا ہے. یہ ایسا ہی ہے کہ گویا کینو افریقہ کا ہو یا کراچی سبزی منڈی کا .. وہ ہوتا کھٹا ہی ہے
.

عورتوں کو بطور استعارہ 'صنف نازک' سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے
.
نازکی ان کے لب کی کیا کہئے ؟
پنکھڑی ایک گلاب کی سی ہے 
.
مگر یقین جانئے اسی نازکی کے بل پر اس عورت نے بڑے سے بڑے پہلوان پچھاڑ دیئے. تاریخ شاہد ہے کہ وہ جنگجو اور سورما جو کسی طاقت یا فوج کے سامنے نہ جھکے وہ عورت کے دام میں با آسانی جا پھنسے اور زیر ہوگئے. اس پر طرہ یہ کہ صنف نازک کل بھی مظلوم تھی، آج بھی مظلوم ہے اور شائد ابد تک یہ مظلومیت کا تمغہ انکے لئے ہی ریزرو رہے گا
.
خنجر پر کوئی دھبہ نہ دامن پر کوئی داغ 
تم قتل کرے ہو یا کرامات کرے ہو ؟
.
مغرب کا تو یہ عالم ہے کہ حقوق انسانی کی فہرست میں اول بچے، دوئم عورت، سوئم کتے اور چہارم شائد مرد ... اب تو مغربی ممالک میں مرد اس صورت حال سے اس قدر دلبرداشتہ ہیں کہ بطور احتجاج ہم جنسی پر اتر آئے ہیں. ہمیں تو یہ بھی شبہ ہے کہ کلوننگ کے تجربات بھی کہیں اسی محرومی کا شاخسانہ تو نہیں؟
.
ارض پاک کی صورتحال بھی خاصی گھمبیر ہے. حقوق نسواں کے نام پر ہر سطح پر مذاکرے اور مظاھرے کئے جاتے ہیں. صحافت سے لے کر سیاست تک ہر شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ چلنے کے مطالبات ہوتے ہیں مگر جہاں بات آئی سزائے موت کی تو قانون کی کتاب بدل جاتی ہے اور عورت کو پھانسی دینا غیر انسانی فعل قرار پاتا ہے. قومی اسمبلی میں عورتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ جلد ایوان کسی گھریلو شادی بیاہ کی تقریب کا منظر پیش کرے گا جہاں رکن اسمبلی کو کالا باغ ڈیم سے زیادہ ساتھی رکن کے زیور کی فکر ہوگی. سیاست کے میدان میں مرد حضرات کو یہ معاملہ بھی درپیش ہے کہ عورت کے مقابلہ میں جیت ہو یا ہار .. دونوں صورتوں میں ذلت مرد کا ہی مقدر بنتی ہے. جیت جائے تو مردانگی کا طعنہ ملتا ہے کہ مرد ہو کر عورت کو نیچا دکھاتے ہو؟ اور عورت کے ہاتھ شکست تو بہرکیف دنیا کے تمسخر کا موجب ہے
.
مسرت شاہین اور مولانا فضل الرحمٰن کے یادگار معرکہ کو بھلا کون فراموش کرسکتا ہے؟ آج تک فریقین مولانا کی جائز فتح کو سیاسی گٹھ جوڑ اور دھاندلی کا نام دیتے ہیں
.

عورت کو خوش رکھنے کی سعی کسی بھی مرد کے لئے جوئے شیر بجا لانے کے مترادف ہے . خواتین کو یہ ملکہ حاصل ہے کہ انہیں جتنا بھی خوش رکھنے کی کوشش کی جائے وہ اتنا ہی روٹھنے کے مواقع ڈھونڈ نکالتی ہیں. یہ مثال ایسی ہی ہےکہ جیسے مذہبی سیاسی جماعتوں  کے قدموں میں اگر حکومت وقت اپنی دستار بھی رکھ چھوڑے تو وہ یہ کہہ کر دھرنے یا ہڑتال پر چلی جائیں گی کہ دستار کا کپڑا امریکی ہے
.
بھلے وقتوں کا ذکر ہے کہ ایک شخص نے اپنی شب و روز کی ریاضت سے فضا میں پرواز کرنا سیکھ لی. دل میں خیال آیا   کہ بس یہی موقع ہے اپنی زوجہ کو متاثر کرنے کا. پس فوراًاڑان بھری اور اپنے گھر کا رخ کیا. راہ میں جس خاص و عام کی نظر پڑی وہ ششدر رہ گیا. بالکنی میں سے جھانکتی بیگم صحابہ نے بھی جو کسی بندہ بشر کو محو پرواز دیکھا تو فرط حیرت سے دانتوں تلے انگلی داب لی. بلآخر ان صاحب نے زمین کا رخ کیا اور اپنے گھر کے دروازے پر دستک دی.  بیگم نے دروازہ کھولتے ہی قریباً چیختے ہوئے کہا " اجی ! آپ نے اس اڑتے ہوئے ولی اللہ کو دیکھا ؟؟" شوھر صاحب نے مسرت سے پھولتے ہوئے کہا کہ "اری نیک بخت ! وہ اڑتا ہوا ولی میں ہی تو تھا "- بیگم نے جیسے ہی سنا تو تیور بدلے اور شان بے نیازی سے زلف دراز کو جھٹک کر کہا "تب ہی میں کہوں کہ پرواز میں پختگی کیوں نہ تھی؟ آپ سے کوئی کام ٹھیک سے ہوتا بھی ہے کہ نہیں! جانے کون منحوس گھڑی آپ کے پلے باندھی گئی"- غرض ان چار حروف پر مبنی لفط 'عورت' کو سمجھنا حضرت انسان کے بس کا روگ نہیں
.
====عظیم نامہ====

No comments:

Post a Comment