Wednesday, 30 December 2015

قران حکیم اور عالمی سیاست


قران حکیم اور عالمی سیاست





سورہ الروم کی آیات کو دیکھ رہا ہوں اور سوچ رہا ہوں کہ کیسے الله رب العزت کلام پاک میں اس وقت کی سیاسی صورتحال کا ذکر حال اور مستقبل کے تناظر میں کر رہے ہیں؟ ملاحظہ کیجیئے 
.
" المۤ۔ (اہل) روم مغلوب ہو گئے۔ نزدیک کے ملک میں اور وہ مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب آجائیں گے۔ " (سورہ الروم ١ - ٣)
. 
جو پیشین گوئی اس سورہ کی ان ابتدائی آیات میں کی گئی ہے، وہ قرآن مجید کے کلامِ الٰہی ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے رسولِ برحق ہونے کی شہادتوں میں سے ایک ہے۔ اس سورہ میں کلام کا آغاز اس بات سے کیا گیا ہے کہ آج رومی مغلوب ہو گئے ہیں اور ساری دنیا یہ سمجھ رہی ہے کہ سلطنت کا خاتمہ قریب ہے، مگر چند سال نہ گذرنے پائیں گے کہ پانسہ پلٹ جائے گا اور جو مغلوب ہے وہ غالب ہو جائے گا۔ اس زمانے میں دو سب سے بڑی عالمی طاقتیں روم اور فارس (ایران) کی تھیں. اس سورہ کا نام اپنے وقت کی ایک عالمی غیر مسلم طاقت کے نام پر رکھا گیا ہے. یعنی سورہ الروم ! . یہ ایسا ہی ہے جیسے اگر مشیت الہی میں قران حکیم کا نزول آج کے دور میں ہوا ہوتا تو کسی سورہ کا نام سورہ امریکہ رکھا جاتا. ان آیات میں مسلمانوں کی جماعت اور حکومت کو بین الاقوامی معاملات پر نظر رکھنے کی ترغیب بھی دکھائی دیتی ہے. الله و اعلم بلصواب
.
====عظیم نامہ====

Tuesday, 29 December 2015

مکہ مکرمہ - ایک پرفیکٹ سیکولر سوسائٹی


مکہ مکرمہ - ایک پرفیکٹ سیکولر سوسائٹی



رسالت سے قبل مکہ مکرمہ کی سوسائٹی کا تصور کیجیئے. ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے کسی موجودہ مغربی ملک کی طرح ایک پرفیکٹ سیکولر سوسائٹی کا نقشہ ہے. ایک ایسا سیاسی و سماجی ماحول جہاں ہر کسی کو مذہبی آزادی ہے. کوئی 'حبل' کو پوجتا ہے تو کوئی 'لات' کو مانتا ہے. کوئی 'منات' کو حاجت روا سمجھتا ہے تو کوئی خود کو 'عبدالعزی' کہتا ہے. کوئی 'یغوث' کا پیرو ہے تو کوئی 'اساف و نائلہ' کا طواف کر رہا ہے. کوئی تمام بتوں کو خدائی میں شریک کرتا ہے تو کوئی خود کو خالص حنیف کہنے پر اکتفاء کرتا ہے. غرض ہر گروہ اپنے عقائد کے مطابق عبادت کرتا تھا اور دیگر عقائد کو بناء کسی تنقید کے روا رکھتا تھا. مگر دین اسلام کا مزاج یہ نہیں ہے. وہ جب رسول کی زبان سے کسی کفر زدہ سوسائٹی میں ادا ہوتا ہے تو پھر کسی 'جنٹلمین اگریمنٹ' کے پیچھے نہیں چھپتا بلکہ آگے بڑھ کر کلمہ حق کہتا ہے. حق اور باطل کی تفریق کرتا ہے. اس کا انداز محض مدافعانہ نہیں ہوتا بلکہ علمی انداز میں جارحانہ بھی ہوتا ہے. الله کا دین یہ جملے کہنے نہیں آتا کہ 'سب مذاہب ٹھیک ہیں' یا 'سب رستے جنت ہی کے ہیں'. وہ ان میٹھے میٹھے جملوں کی بجائے رائج شدہ راسخ عقائد کو للکارتا ہے. معاشرے کے ٹہرے پانی میں پہلا پتھر ہی 'لا' کہہ کر مارا جاتا ہے کہ اپنے تمام خداؤں کا انکار کر دو اور پھر دعوت دیتا ہے کہ بس الله کو اپنا معبود تسلیم کرو. قران حکیم جابجا مشرکین کے عقائد کو جو اسکے براہ راست مخاطبین بھی ہیں دعوتی اسلوب کے ساتھ تنقید کا بھی نشانہ بناتا ہے. کبھی وہ سورہ الحج میں کہتا ہے کہ اگر تمہارے یہ تمام بت مل کر بھی آجائیں تو ایک مکھی نہیں بنا سکتے اور اگر مکھی کوئی چیز ان سے چھین بھاگے تو اسے پکڑ نہیں سکتے. کبھی وہ ابراہیم علیہ سلام کی بت شکنی کا بیان کرتا ہے اور کبھی مشرکین کے دیگر عقائد جیسے ملائکہ کو بیٹیاں ماننے پر کڑی تنقید کرتا ہے. یہ بات ٹھیک سے سمجھ لینی چاہیئے کہ اسلام اپنے ماننے والو کو 'مائنڈ یور اون بزنس' کی اپروچ نہیں سکھاتا. نہ ہی وہ مغربی فکر کی طرح مذھب کو 'پرسنل میٹر' کہہ کر چھوڑ دیتا ہے. اسلام فرد اور معاشرے دونوں کی سطح پر تذکیر و تطہیر کا اہتمام کرتا ہے. وہ فرد سے معاشرے اور معاشرے سے فرد کا سفر کرتا ہے. وہ اپنا دائرہ فرد تک محدود نہیں رکھتا بلکہ سیاست، معیشت اور معاشرت سب کو الہامی اصولوں کا پابند کردیتا ہے. وہ جہاں فرد کا تزکیہ کر کے اسے اسلامی معاشرے کا ستون بناتا ہے ، وہاں معاشرے کے نظم کو قران کے اصولوں کا تابع کرکے تزکیہ کی اجتماعی فضا تشکیل دیتا ہے. وہ جہاں دیگر عقائد، مسالک یا مذاہب کو تحفظ فراہم کرتا ہے وہاں وہ ایسی مکالمہ کی فضا بھی پیدا کرتا ہے جہاں حق دلیل کی بنیاد پر واضح اور قائم ہوسکے. وہ معاشرے میں موجود فاسد عقائد یا نظریات کو زیر گفتگو لاتا ہے. اس کے حق میں دلائل کا تقاضا کرتا ہے اور اپنے مقدمہ کے ثبوت میں دلائل پیش کرتا ہے.
.
====عظیم نامہ====

Saturday, 5 December 2015

کراچی کی ایک دوپہر


کراچی کی ایک دوپہر




سڑک پر بے ہنگم ٹریفک کا اژدھام تھا اور میں اس جامد مگر چیختی تصویر کا ایک حصہ بنا ہوا تھا. چلچلاتی دھوپ میں حلق سوکھ رہا تھا۔ میری نظر گھومتی ہوئی ان پنجروں پر جاٹکی ، جن میں نہ جانے کتنی ہی ننھی چڑیائیں قید ، بھوک پیاس سے نڈھال پھڑپھڑا رہی تھیں۔ یہ پنجرے چڑی مار افراد کے تھے جن کا ذریعہ معاش ان ہی چڑیوں کو پکڑنا اور بیچنا تھا۔ ذہن و قلب میں عجب مخمصہ پیدا ہونے لگا۔ ایک جانب وارفتگی سے دل چاہتا کہ ان پیاسی چڑیوں کو خرید کر اس سخت قید سے نجات دلا دوں اور دوسری جانب ذہن بتاتا کہ یہ تو ان چڑی ماروں کے اس روز کے دھندہ کو تقویت پہنچانا ہے۔ اسی شش و پنج میں کتنے ہی لمحے بیت گئے۔ پھر کہیں اندر سے کسی نے سرگوشی کی۔ رسول اللہ صلی اللہ و علیہ وسلم نےاپنے اصحاب کو جہاں غلامی کے طوق کو توڑنا سکھایا ، وہاں یہ بھی تلقین کی کہ اگر مال رکھتے ہو تو غلام خرید کر آزاد کرو۔ گو کہ ایسا کرنا غلام بیچنے والے کے کاروبار کو تقویت دیتا تھا۔ مگر اس غلط کاروبار کو ختم کرنا فرد کا نہیں بلکہ حاکم وقت کا کام تھا۔ لہذا مدینہ میں اسلامی نظم کا قیام ہوا تو پھر غلامی کو بطور کاروبار کرنے کا تدریج سے خاتمہ کردیا گیا۔ 

۔ 
میں جانتا تھا کہ ان چڑی ماروں کا یہ ذریعہ معاش درست نہیں۔ یہ بھی علم تھا کہ یہ مسلسل دوسری چڑیائوں کو ناکردہ جرم پر قید کرتے رہیں گے مگر انہیں ایسا نہ کرنے دینا حکومت وقت کی ذمہ داری ہے۔ جب تک ایسا نہیں ہوتا ، تب تک ان بے بس چڑیوں کو خرید کر آزاد کرنا ہی شائد مجھ جیسے کم اختیار کیلئے درست قدم ہے۔ یہ بات سمجھ آتے ہی سکون ہو گیا۔ میں نے اللہ پاک کا نام لے کر انہیں ایک ایک کرکے آزاد کردیا۔ سب چڑیائیں چہچہاتی فضا میں چاروں سمت پھیل گئیں۔ لگتا تھا ان کے ساتھ میں بھی آزاد ہوگیا ہوں۔ میرا دل شاد ہوگیا اور زبان دعاگو۔
۔
====عظیم نامہ====

روحانیت کا حصول


 روحانیت کا حصول   




اگر ' قلب ' آئینہ ہے تو ' گناہ ' اس آئینے کا زنگ ہیں جن سے قلب کو دور رکھنا ہے ، ' استغفار' اس آئینے کی صفائی کا کام کرتی ہے ، ' اذکار' اس آئینے کو چمک عطا کرتے ہیں اور مسلسل ' تدبر و تفکر' اسے درست زاویہ مہیا کردیتے ہیں. یہ چاروں افعال اگر اخلاص سے اپنی روح سمیت انجام پاجائیں تو پھر یہ آئینہ تجلیات کا مرکز بن جاتا ہے. 
.
تزکیہ نفس، تصوف، روحانیت جو چاہے نام دے لیجیئے. مگر شریعت کی پاسداری کے ساتھ ان کے حصول کا راستہ انہی چند سطور میں پوشیدہ ہے. 
.
واللہ و اعلم بلصواب 
.
====عظیم نامہ=====

کراچی آپریشن - ایک تاثر


کراچی آپریشن - ایک تاثر 





.
میں حال ہی میں کراچی گیا اور چاہتے نہ چاہتے جاری آپریشن کا تجزیہ کیا. کچھ مشاہدات کئے اور کچھ واقعات سنے. چونکہ میرا یہ سفر مختصر تھا لہٰذا میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ آپریشن کی صداقت کو میں کس درجہ تک جان پایا مگر پھر بھی اپنے احساسات آپ سب سے بانٹنا چاہوں گا.
.
اس بارے میں کوئی دو رائے موجود نہیں ہیں کہ آپریشن کی وجہ سے اس وقت کراچی میں امن و امان کی صورت بہت بہتر ہے. قتل و غارت، ڈاکہ زنی، گینگ وار اور بم دھماکوں جیسی وارداتوں میں واضح کمی آئی ہے. نتیجہ یہ ہے کہ کاروبار رات گئے تک کھلے ہیں اور شہری پہلے کی نسبت کہیں زیادہ محفوظ ہیں. اس بہتری کا انکار آپریشن کے مخالف بھی نہیں کرتے. گو ان مخالفین کا کہنا یہ ہے کہ یہ تبدیلی عارضی اور مصنوعی ہے. انہیں خدشہ ہے کہ آپریشن میں اپنائے گئے غلط طریق کی وجہ سے مستقبل قریب میں حالات پہلے سے بھی زیادہ خراب ہو جائیں گے. آپریشن کے حامی یہ دعا کر رہے ہیں کہ بس یہ آپریشن رکے نہیں بلکہ مسلسل سالوں سال چلتا رہے. یہاں تک کے جرائم پیشہ افراد دم توڑ جائیں. اب آپریشن کے مخالفین کے خدشات درست ہیں یا پھر آپریشن کے حامیوں کی خواہش. اس کے بارے میں خامہ سرائی سے زیادہ کچھ اور ممکن نہیں. 
. 
آپریشن اس وقت تمام جرائم پیشہ گروہوں یا گینگز کے خلاف کسی نہ کسی درجہ میں ہو رہا ہے. مگر یہ سچ ہے کہ سیاسی جماعتوں میں اس آپریشن کا خاص ہدف ایم کیو ایم بنی ہوئی ہے. یہ بات کسی کراچی کے رہائشی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ شہر میں موجود ہر سیاسی تنظیم اپنے ملٹری ونگز رکھتی ہے اور قتل و غارت یا بھتہ خوری جیسے اقدام میں ملوث ہے. ایسے میں صرف ایم کیو ایم کو نشانہ بنانا ، ان کے حامیوں میں غصہ اور تنظیم کے لئے محبت پیدا کر رہی ہے. دوسری اہم بات جو ایم کیو ایم کے حق میں جارہی ہے وہ اس وقت صفائی کی ابتر صورتحال ہے. کراچی شہر شائد اپنی پوری تاریخ میں اتنا مخدوش اور گندا نظر نظر نہیں آیا ہوگا جتنا کہ وہ آج ہے. لہٰذا جہاں شہری امن و امان کی وجہ سے خوش ہیں ، وہاں گندگی کے ڈھیروں کی وجہ سے شدید نالاں بھی ہیں. کوڑے کے ڈھیر ، ابلتے گٹر، ٹوٹی سڑکیں اور بے ہنگم ٹریفک .. ہر شہری کو مصطفیٰ کمال کی یاد دلا رہی ہے جس نے ایم کیو ایم کا میئر بن کر اس شہر کو صفائی اور ترقی کا نمونہ بنا دیا تھا. ایم کیو ایم ان ہی دو باتوں کو اب بلدیاتی الیکشن میں نفسیاتی طور پر کیش کروا رہی ہے. اس کی پوری الیکشن کمپین کچھ اس قسم کے بینرز پر مبنی ہے: "مئیر تو اپنا ہی ہونا چایئے!" ... "ووٹ تو اپنوں کو ہی دینا چاہیئے" وغیرہ . لہٰذا اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ وہ آنے والے الیکشن میں کلین سویپ کرے گی. 
.
دھیان رہے کہ میں یہاں ایم کیو ایم کا دفاع نہیں کر رہا بلکہ میں خود ان کا شدید ناقد ہوں. لیکن اسوقت مقصد تنقید نہیں بلکہ اپنا دیانتدارانہ مشاہدہ آپ تک پہنچانا ہے. میں یہ بھی نہیں کہہ رہا کہ جرائم پیشہ عناصر کی بلاتفریق سرکوبی نہیں کی جارہی بلکہ میں یہ بتا رہا ہوں کہ 'سیاسی' جماعتوں میں آپریشن کا خصوصی ہدف اسوقت ایک ہی جماعت ہے. وہ مجرم جو سیاسی نہیں بلکہ پیشہ ور ہیں، ان سب پر رینجرز موت بن کر منڈلا رہی ہے. جس کے بارے میں رینجرز کو یہ یقین ہوجائے کہ وہ عادی مجرم یا فسادی ہے تو اسے ماورائے عدالت گولی ماردی جاتی ہے یا نامعلوم مقام پر لے جاکر چھترول ہوتی ہے. کچھ واقعات اختصار سے عرض کر دیتا ہوں ، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ آپریشن کی زد میں تمام غیر سیاسی حلقے یا قومیں شامل ہے. 
.
میرے ایک قریبی دوست کے بتیس سالہ بھائی کو کچھ پٹھان مجرم اغوا برائے تاوان کے لئے اٹھا لے گئے اور بدنام پٹھان علاقے الاصف اسکوائر میں ہاتھ پاؤں باندھ کر قید کر دیا. گھر والو سے تاوان مانگا گیا مگر اسی رات یہ لڑکا ان کے چنگل سے بھاگ نکلا. رینجرز نے اسے اگلے روز بلایا اور شناخت کیلئے کچھ تصاویر دکھائیں. لڑکے نے دو مجرموں کو شناخت کیا مگر اس شرط کیساتھ کے وہ عدالت کے چکر میں نہیں پھنسنا چاہتا. رینجرز نے جوابی کہا کہ ہم آپ کو عدالت لے جانا بھی نہیں چاہتے ، آپ بس اخبار پڑھتے رہیئے گا. تین دن بعد ان دونوں اغوا کاروں کی لاشوں کی تصویر اخبار میں موجود تھی. میرے ایک قریبی رشتہ دار کے کئی کاروبار ہیں اور انہیں بھتہ کیلئے تین مختلف بلوچ بدمعاشوں کا فون آیا کرتا تھا. رینجرز نے تینوں کو مار ڈالا ہے. میرے بڑے بھائی کے دوست کو اندرون سندھ سے تاوان کی دھمکیاں دی گئیں ، اس نے رینجرز سے رابطہ کیا. کچھ دن بعد رینجرز کا فون آیا کہ ان ڈاکوؤں کو اندرون سندھ میں مار دیا گیا ہے. پھر کوئی فون نہ آیا. میرے ایک ایم کیو ایم سے منسلک اور سابقہ ذمہ دار رشتہ دار نے گلستان جوہر میں ایک تھانہ چوکی دکھا کر بتایا کہ اس کے سارے پولیس والو کو رینجرز اٹھا کر لے جاچکی ہے کیونکہ یہ جرائم پیشہ افراد کی پشت پناہی کرتے تھے. 
.
ایسے کتنے ہی واقعات سننے میں آتے رہے، جن میں مذہبی انتہا پسندوں کے خلاف کاروائی بھی شامل ہے. جس جس کو رینجرز اٹھا رہی ہے وہ یا تو جرائم پیشہ فسادی ہیں (بلاتفریق) یا پھر کسی پارٹی کے سیاسی ذمہ دار ہیں (زیادہ تر ایم کیو ایم). میری اپنی دیانتدارانہ رائے میں اس آپریشن کو پوری قوت سے اگلے پانچ سے دس سال جاری رہنا چاہیئے مگر اس کا دائرہ دیگر سیاسی جماعتوں پر بھی تنگ ہونا ضروری ہے جیسے شاہی سید یا پیپلز پارٹی وغیرہ کے بدمعاش. اسی طرح دیگر شہروں میں بھی بلا تفریق کاروائی ہو تاکہ کراچی کو سوتیلے پن کا احساس نہ ہو. دعا یہی ہے کہ الله پاک اس شہر کی رونقوں کو اور دوبالا کریں اور ہر فسادی کو جہنم واصل فرمائیں. آمین.
.
====عظیم نامہ====
.

Monday, 12 October 2015

کامل کی کھوج



کامل کی کھوج




اکمل ترین ذات صرف رب العزت کی ہے یا پھر انسانوں میں کامل صرف پیر کامل محمد صلی اللہ و الہہ وسلم کی ذات اقدس ہے. 
.
الله اور اس کے محبوب کے سوا کسی اور کامل محبوب کی کھوج کرنا خود کو ہلکان کرنے کے مترادف ہے
.
لہٰذا کمال محبت یہ نہیں ہے کہ آپ ایک کامل محبوب کی جستجو کریں 
بلکہ کمال محبت یہ ہے کہ آپ ایک نامکمل محبوب کو کامل طور پر چاہ سکیں 
.
یہی نکتہ شریک حیات کیلئے بھی ہے اور یہی کلیہ مرشد و استاد کی تلاش کیلئے بھی ہے 
.
====عظیم نامہ====

ذہن سازی کرنے والے نمائندہ دانشور


ذہن سازی کرنے والے نمائندہ دانشور





موجودہ نوجوان نسل کی ذہن سازی کرنے والے نمائندہ دانشوروں کی غیرمذہبی علمیت کا ایک مختصر خلاصہ پیش کرتا ہوں جو شاید میرے بہت سے احباب کیلئے تکلیف دہ ہو 
.
ڈاکٹر اسرار احمد نے کنگ ایڈورڈ یونیورسٹی سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی 
.
مولانا طارق جمیل لاہور میں میڈیکل کے طالبعلم رہے. ابتدائی علوم بھی اسکول کالج سے حاصل کئے
.
جاوید احمد غامدی نے بی اے آنرز کیا انگریزی مضمون میں. ساتھ ہی وہ ادب اور فلسفہ کے بیک وقت طالبعلم اور استاد رہے
.
پروفیسر احمد رفیق ادب ، فلسفہ اور دیگر سبق کے استاد رہے. انہوں نے بھی اسکولوں کالج سے تعلیم حاصل کی.
.
شیخ احمد دیدات اسکول میں خوب آگے تھے مگر معاشی مشکلات کی بناء پر صرف سولہ برس تک تعلیم حاصل کرسکے 
.
ڈاکٹر ذاکر نائیک نے یونیورسٹی آف ممبئی سے اپنی ایم بی بی ایس کی تعلیم مکمل کی 
.
مولانا وحید الدین خان ، ابتدائی سالوں سے ہی سائنس اور جدید علوم کے زبردست طالبعلم رہے 
.
مولانا ابو الاعلیٰ مودودی فزکس، کیمسٹری اور میتھمیٹکس کے بہترین طالبعلم تھے 
.
شیخ عمران حسین نے مختلف ممالک سے ڈگریاں حاصل کیں. جن میں ایک ڈگری سوئزرلینڈ سے 'عالمی تعلقات' کے حوالے سے حاصل کی 
.
مفتی تقی عثمانی نے پہلے یونیورسٹی آف کراچی سے آرٹ کی ڈگری لی اور پھر قانون کی ڈگری حاصل کی 
.
ڈاکٹر طاہر القادری نے اپنا ایل ایل بی ١٩٧٤میں مکمل کیا 
.
مشہور صوفی سوچ کے حامل حمزہ یوسف نے واشنگٹن اسکول میں تعلیم پائی 
.
دور حاضر میں قران مجید پر لسانی تحقیق کے شاید سب سے بڑے ماہر نعمان علی خان بھی امریکہ میں تعلیم حاصل کرتے رہے 
.
ملحدین کے خلاف سب سے بہترین سائنسی مباحثہ کرنے والے حمزہ زورٹزس نے انگلینڈ سے سائیکولوجی میں ڈگری حاصل کی 
.
یورپ کی مسلم نوجوان نسل میں نہایت معروف استاد یاسر قاضی نے کیمکل انجینرنگ کی ڈگری یونیورسٹی آف ہیوسٹن سے حاصل کی
.
مفتی مینک نے زمبابوے میں اپنی ابتدائی اسکولنگ وغیرہ مکمل کی 
.
علامہ محمد اقبال نے مورے کالج سے پہلے آرٹ کا ڈپلومہ لیا، پھر اسی سال گوورنمنٹ کالج لاہور سے آرٹ، فلسفہ اور ادب میں ڈگری حاصل کی. پھر اسی میں ماسٹرز کی ڈگری لی. یونیورسٹی آف کیمبرج انگلینڈ سے آرٹ کی ایک اور ڈگری لی. پھر بیرسٹر کی تعلیم مکمل کی. آخر میں جرمنی سے فلسفہ میں ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی.
. 
یہ اور ایسے ہی اور بہت سے نام موجود ہیں جو اس وقت اول صف میں کھڑے مسلم نوجوان ذہن کو بیرونی فلسفوں سے پاک کرنے کا کام کر رہے ہیں. ان کے برعکس وہ علماء جو خالص مدرسہ سے ہی تعلیم حاصل کرتے رہے اور جدید تعلیم کا حصول نہ کیا. ان میں سے نوجوان جدید نسل میں قبولیت پانے والے نام گنتی کے ہیں. کچھ استثنات کو چھوڑ کر ان کی مقبولیت کا دائرہ صرف مدرسہ کے طالبعلموں کو ہی اپنا گرویدہ کرسکا. جدید نوجوان نسل سے ربط پیدا نہ ہوسکا. روایتی علماء کا بدقسمتی سے یہ حال ہے کہ انہیں بخاری شریف تو زبانی یاد ہوگی، مثنوی کے دقیق نقطے تو وہ با آسانی بیان کر سکتے ہونگے مگر جدید اذہان میں پیدا ہونے والے سوالات سے وہ ربط پیدا نہیں کرسکتے. وہ نہیں جانتے کہ چارلس ڈارون ، کارل مارکس ، رچرڈ ڈاکن کون ہیں ؟ نظریہ ارتقاء کیا بلا ہے ، تھیوری آف ریلٹوٹی کس چڑیا کا نام ہے ؟ لہٰذا انکا ہتھیار یہی ہوتا ہے کہ ایسے کفریہ سوال نہ پوچھو، اسلام سے باہر ہو جاؤ گے. نتیجہ الحاد اور شکوک کی صورت میں برآمد ہوا
.
یہ بات بھی سوچنے کی ہے کہ جن اکابر علماء کی سوچ آج بھی جدید اذہان کو مخاطب بنالیتی ہیں ، وہ سب کے سب اپنے دور کے سائنسی اور دیگر رائج علوم میں ملکہ رکھتے تھے. امام غزالی، ابن عربی، ابن تیمیہ، ابن حزم، ابن قیم، ابن رشد وغیرہ سب اسی حقیقت کی غمازی کرتے ہیں 
.
یہ سب لکھنے کا مقصد نہ تو اہل مدرسہ کی دل آزاری ہے اور نہ ہی مقصد ہمارے روایتی علماء کی توہین ہے. اگر ایسا محسوس ہو تو میں دست بدستہ معافی مانگتا ہوں. میرا ارادہ صرف اتنا ہے کہ میں دین کے طالبعلموں کو یہ توجہ دلا سکوں کہ ان کیلئے موجودہ جدید علوم بلخصوص سائنس کی تعلیم اتنی ہی ضروری ہے جتنی کے فقہ یا فن حدیث میں مہارت. ان علوم سے آگاہی نہیں پیدا کریں گے تو جدید سوالات کے کبھی جواب نہ دے پائیں گے. یہ جواب نہ دیں گے تو آنے والی نوجوان نسل آپ سے مزید دور ہوگی اور اسلام سے متنفر ہوتی جائے گی. اسے میری عاجزانہ استدعا سمجھیں ، تحقیر ہرگز نہ سمجھیں 
.
====عظیم نامہ=====

چھوٹا گناہ


چھوٹا گناہ




ڈرو اس ایک چھوٹے گناہ سے جو تمہاری عادت ہو جائے۔

۔
یاد رکھو کہ وہ چھوٹا گناہ جسے کرنا معمول بن جائے، اہل علم کے نزدیک صغیرہ نہیں رہتا بلکہ کبیرہ گناہ شمار کیا جاتا ہے۔
۔
سچی توبہ کی مسلسل کوشش کے بغیر کسی بظاہر معمولی گناہ پر بھی اصرار کرنا دراصل سرکشی کی ایک صورت ہے۔
۔
خدشہ ہے کہ ایسا شخص خطاکار نہیں بلکہ مجرم کے روپ میں پیش ہو۔
۔
اللہ پاک مجھے اور آپ سب کو اپنی ہر بری عادت سے سچی توبہ کی توفیق مرحمت فرمائیں۔ آمین۔
۔
====عظیم نامہ====

کیا آپ مظلوم ہیں ؟


کیا آپ مظلوم ہیں ؟




.
مظلوم اس وقت تک مظلوم رہتا ہے جب تک وہ خود کو مظلوم سمجھتا رہے. 
.
مظلوم کا واحد جرم اکثر یہی ہوتا ہے کہ وہ مظلوم بنا رہے. 
.
اس سے انکار نہیں ہے کہ ظالم ظلم ڈھاتا ہے ، تب ہی متاثر شخص مظلوم قرار پاتا ہے. میرا اعتراض تو اس پر ہے جو اپنے لئے مظلوم کا خطاب مستقل قبول کرلے. اقبال نے سچ کہا ہے ... 'ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات'... ہم کتنا ہی واویلا کریں ، کتنی ہی نظر چرائیں .. حقیقت یہی ہے کہ اس درالامتحان میں 'survival of the fittest' کا قانون جاری ہے. یہاں ہر چھوٹی مچھلی اپنے سے بڑی مچھلی کا نوالہ بنتی ہے. ہر کمزور قوم طاقتور قوم سے زیر ہوکر رہتی ہے. 
.
وہ ملک جو خود سے طاقتور ملک کو ظالم کہتا ہے ، وہ خود اپنے شہریوں پر ہر ممکن ظلم ڈھا رہا ہوتا ہے. 
وہ شہری جو حکومت کے مظالم کا رونا روتا ہے ، وہ اکثر ذاتی مفاد کیلئے اپنے ماتحت ملازمین کو روند ڈالتا ہے. 
وہ ماتحت جو اپنے افسر کے ظالم ہونے کی دہائی دیتا ہے، وہ کئی بار اپنے بیوی بچوں کے حقوق پامال کردیتا ہے. 
وہ بیوی جو اپنے شوہر کے ظلم کو روتی ہے ، وہ خود سے کمزور پر کبھی ساس بن کر، کبھی نند بن کر اور کبھی بہو بن کر کسی ظلم کے کرنے سے نہیں چوکتی.
.
جس کا جبڑا جتنا بڑا ہے، وہ کمزور کی اتنی ہی بڑی بوٹی اتار لیتا ہے. اس حقیقت کو جان لیں اور خود کو اس مظلومیت کے خول سے کھینچ نکالیں. ظالم کے پاس طاقت و اختیار ہے ، اس کا شکوہ نہ کریں بلکہ خود طاقت و اختیار کے حصول کیلئے جت جائیں. ایسا نہ کریں گے تو ظلم سے چھٹکارا تو درکنار ، یہ بھی ممکن ہے کہ خود کو مظلوم جان کر ہمدردیاں اور دلاسہ لینے کا نشہ آپ کے حواسوں پر مسلط ہوجائے. 
.
میں کتنے ہی ایسے لوگوں سے واقف ہوں جو اپنی زندگی کی محرومیوں کو مظلومیت کے لبادے میں چھپائے رکھتے ہیں.
یہاں انگلینڈ میں کتنے ہی ایسے پاکستانیوں سے آگاہ ہوں جو اپنی معاشی ناکامی کو انگریز کی نسل پرستی کا نام دے کر سسکتے رہتے ہیں.
کتنی ہی ایسی خواتین کو میں نے دیکھا ہے جو اپنے شب و روز یہی ثابت کرنے میں لگی رہتی ہیں کہ عورت کتنی مظلوم اور مرد کیسا ظالم ہے 
.
اگر آپ واقعی ظالم کے چنگل سے نکلنے میں سنجیدہ ہیں تو سب سے پہلے خود کو مظلوم سمجھنا اور کہنا چھوڑ دیں. جس دن آپ نے کمزوری کا گلہ کئے بناء مقابلے کی ٹھان لی اور خود کو یہ بتا دیا کہ ' میں ہرگز مظلوم نہیں ' .. بس جان لیں کہ اسی لمحے آپ کی ظالم سے رہائی ہوگئی . اب ظالم حد سے حد آپ کے رستے میں ایک عارضی رکاوٹ ہے مگر قدموں کی زنجیر ہرگز نہیں ہے.
.
عقاب جب جھپٹ پڑے تو فاختہ بھی لڑ گئی 
یہ طاقتوں کی جنگ نہ تھی، سوال یہ بقاء کا تھا 
.
====عظیم نامہ====

مولانا طارق جمیل کا خطاب


مولانا طارق جمیل کا خطاب 


.
کچھ عرصہ قبل مولانا طارق جمیل انگلینڈ تشریف لائے. یوں تو آپ کا برطانیہ آنا کوئی پہلی بار نہ تھا مگر میرے لئے مولانا کا یہ دورہ اس بار زیادہ دلچسپی کا باعث تھا. وجہ یہ تھی کہ ان کا ارادہ میری مقامی مسسجد میں خطاب کا تھا. دیگر بہت سے احباب کی طرح میں بھی مولانا سے کئی فکری اختلافات رکھتا ہوں مگر ساتھ ہی میں آپ کی وسعت قلبی، جذبہ ایمانی اور پر اثر واعظانہ قابلیت کا تہہ دل سے مداح رہا ہوں. میں ہمیشہ ان کے لئے دل میں بے پناہ محبت اور عزت محسوس کرتا ہوں. شائد اسلئے کہ میں ان میں دوسروں کی طرح محقق یا مجدد تلاش نہیں کرتا بلکہ ایک واعظ اور داعی کو دیکھتا ہوں. میں ان میں ایک ایسا عظیم مبلغ پاتا ہوں جو شیخ عبدلقادر جیلانی رح کی طرح آپ کے روحانی وجود کو سادہ باتوں کے زریعے جھنجھوڑ دینے کی صلاحیت رکھتا ہے. ان کے خطبات، میں علمی وسعت کیلئے نہیں سنتا بلکہ اسلئے سنتا ہوں کہ مجھے اپنی موت یاد آجائے اور میری آنکھیں ندامت سے بھیگ سکیں. 
.
بہرکیف میں کہہ رہا تھا کہ مولانا اس بار ہماری مقامی مسجد میں تشریف لارہے تھے اور میرے لئے یہ خیال ہی باعث مسرت تھا. خطاب والے دن میں وقت سے کافی پہلے پہنچ گیا. ہزاروں کی تعداد میں لوگ جمع ہورہے تھے مگر میں سب سے آگے جگہ لینے میں کامیاب ہوگیا تھا اور یہ سوچ کر خوش تھا کہ اب مولانا میرے بلکل سامنے براجمان ہونگے. ابھی خطاب کے آغاز میں اور مولانا کے آنے میں کوئی آدھا گھنٹہ باقی تھا کہ میرے ایک پرانے دوست جو تبلیغ کے حوالے سے سرگرم رہتے ہیں ، میرے پاس بڑے جوش و محبت سے آئے. میں نے بھی اچھے سے معانقہ کیا. انہوں نے جوش سے کہا کہ عظیم بھائی آپ میرے ساتھ آئیں ، ہم نے بچوں کیلئے اسی مسجد کے سب سے آخری فلور پر مدرسہ قائم کیا ہے جو میں آپ کو دکھانا چاہتا ہوں. اب میں سٹپٹایا کہ اگر ان کے ساتھ جاتا ہوں تو مولانا کو بلکل سامنے سے سننے والی یہ بہترین جگہ چلی جائے گی اور اگر انکار کرتا ہوں تو میرے اس بھائی کی دل آزاری ہوگی جو نہایت محبت سے مجھے مدرسہ دکھانا چاہتا ہے. آخر دل پر پتھر رکھ کر میں نے ان کے ساتھ جانے کا فیصلہ کیا. بجھے دل سے اور مسکراتے چہرے کے ساتھ میں سب سے اپر فلور پر آگیا جو اس وقت خالی پڑا تھا. میرے وہ دوست مجھے مدرسہ کی تفصیل بیان کرنے لگے. جسے میں تندہی سے سنتا رہا. ابھی یہ کاروائی کو چند منٹ گزرے تھے کہ اچانک اس فلور کے دروازے پر کچھ ہلچل ہوئی اور مولانا طارق جمیل اندر داخل ہوئے. انہیں خطاب سے پہلے کسی دوسرے راستے سے یہاں لایا گیا تھا تاکہ نیچے ان کے گرد ہجوم جمع نہ ہوجائے. دروازہ بند کر دیا گیا. اب میں مولانا اور گنتی کے چند افراد کے ساتھ اس نو تشکیل شدہ چھوٹے سے مدرسہ میں موجود تھا. کہاں میں اس خیال سے پریشان تھا کہ اب مولانا کو سامنے سے سننے کا موقع نہ ملے گا اور کہاں اب وہ مجھ سے ہمکلام تھے. ساتھ نماز ادا کی ، باتیں کی اور پھر خطاب سنا. 
.
ممکن ہے پڑھنے والو کیلئے یہ ایک معمولی سی بات ہو مگر واقعہ یہ ہے کہ میں جب بھی اس بات کو سوچتا ہوں تو بے ختیار مسکراتا ہوں. دل میں اطمینان ہے کہ میں اپنے وقت کے ایک ایسے عظیم مبلغ ایسے ولی سے ملاقات کرسکا جنہیں نسلیں یاد رکھیں گی. انشااللہ.
.

====عظیم نامہ====

انسان کامل صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم


انسان کامل صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم 


.
آج کل احباب بار بار تقاضہ کر رہے ہیں کہ تقدیس رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کچھ لکھا جائے. مگر میں ہوں کیا ؟ اور میری ہستی کیا ہے ؟ جو شفیع الامم ، صاحب جود و کرم، سید الثقلین، نبی الحرمین اور امام القبلتین کے حضور قلم کشائی کرسکوں ؟ ..الفاظ کے موتی پرو کر حق ادا کرنا ہرگز ممکن نہیں. وقت کا بڑے سے بڑا بقراط اور زمانہ کا بڑے سے بڑا انشاء پرداز .. کائنات کی رعنائیاں ، دریاؤں کی گہرائیاں اور آسمانوں کی وسعتیں سمیٹ کر بھی کچھ لکھنا چاہوں تو ناممکن ہے. دنیائے عالم کے ذہن جڑ کر، درخت کٹ کر اور صحرا سمٹ کر بھی آپ کی مدح سرائی کا حق ادا کرنا چاہیں تو نہیں کرسکتے. اس کی عظمت کے کمال کو آج تک کون پہنچ سکا ہے ؟ کہ جس کا جھولا تو بی بی آمنہ جھلائے مگر لوریاں دے کر جبرائیل سلائے .. اس کی عظمت کا کیا کہنا ؟ جو طائف کے بازاروں میں پتھر کھائے اور کالی کملی اوڑھ کر زمیں پر سو جائے .. جو فقر کے بوریئے پر بیٹھے مگر قیصر و کسریٰ کے در و بام ہلائے .. جو امی لقب پائے مگر آسمانوں کی خبر لائے .. جسکی گفتار نرم رو سے عرش مہک جائے .. جسکی شگفتہ مزاجی کی زمانہ قسم کھائے مگر جسکی للکار پہاڑوں کے دل دہلائے . 
.
عزیزان من .. جب ظلم و استبداد حد سے بڑھ گیا تو رحمت خداوندی جوش میں آگئی اور ایک صبح کے چہرہ خنداں سے یوسف کا جمال لئے ، عیسیٰ کا کمال لئے ، موسیٰ کا جلال لئے ، یعقوب کا ملال لئے ، ابراہیم کا استقلال لئے ایک ایسا نورانی بشر بھیجا کہ جہان دو عالم کی تابانیاں ماند پڑ گئیں .. صحرا نے اپنے سینے پر سبزہ بچھا دیا ، خاروں میں پھول کھل اٹھے ، نگہت و خوشبو و رنگ مسکرانے لگے ، آب و گل اور شیشہ و سنگ تلمزانے لگے .. ظلم کے ہاتھ کٹ گئے ، بتوں کے منہ پلٹ گئے اور بادشاہوں کے تخت الٹ گئے. وہ وعدہ محکم جو بندوں نے اپنے رب سے عہد الست میں کیا تھا .. اب رگوں میں خون بن کر دوڑنے لگا اور زباں سے گفتگو بن کر کھلنے لگا
.
نقاش اجل نے کہا .. تصویر بنا کر 
ایسی کوئی تصویر بنی ہے نہ بنے گی 
.
پیر کامل صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حلقہ ادارت میں جو جو بھی آتا گیا فضیلتوں کا پیکر بن گیا .. عثمان تھا تو غنی ہوگیا .. عمر تھا تو فاروق ہوگیا .. علی تھا تو شیر خدا ہوگیا .. ابوبکر تھا تو صدیق ہوگیا .. دور تھا تو قریب ہوگیا .. اور دشمن تھا تو حبیب ہوگیا ... انسان کو مسلمان بنایا ، مسلمان کو درجہ احسان دلایا .. زندگی کو بندگی، نماز کو معراج ، روزہ کو ڈھال اور شہادت کو حیات سمجھایا. صدیوں کے زنگ آلود دلوں کو اس قدر ثقل کیا کہ عبد چاہے تو صورت دیکھ لے اور معبود چاہے تو سیرت دیکھ لے. 
.
یہ آپ صلی اللہ و الہہ وسلم ہی کی ذات اقدس کا فیض تھا کہ قرون وسطیٰ کے مردہ شہروں نے زندہ انسان پیدا کئے. انسان کو جہالت کی عمیق گہرائیوں سے نکال کر انسانیت کی معراج پر پہنچا دیا. مفاسید ظلم کو زیر و زبر کردیا، قبائل کو شیر و شکر کر دیا .. روٹھے کو ملا دیا ، وقت کو پلٹا دیا .. ابوجہل کی مٹھی میں بند پتھروں کو کلمہ پڑھوا دیا اور منہ کے بل گرے ہوئے بتوں کو قُلْ هُوَ ٱللَّهُ أَحَدٌ کہلوا دیا. 
.
صاحبو آج صراط میزان میں ان ہی کے عدل کا ڈھنگ ہے ، زندگی کے قرائن میں ان ہی کا رنگ ہے .. وہی صدق و علم کی ترغیب دینے والے ، خودی کے پیشوا ، تمدن اورارتقاء کو جلا بخشنے والے ہیں. 
.
پڑھتا ہے درود آپ ہی تجھ پر تیرا خالق 
تصویر پہ خود اپنی مصور بھی فدا ہے

درمیان کا راستہ


درمیان کا راستہ 


دین یقیناً آسان ہے مگر اسے زبردستی آسان تر بنانا ہلاکت ہے۔ چنانچہ ایسے جدید مفکرین سے محتاط رہیئے جو ہر حرام میں سے حلال برامد کردیں۔
۔
دین یقیناً بہت سی پابندیوں کے اطلاق کا بھی نام ہے مگر اسے زبردستی مزید پابندیوں میں جکڑ دینا اللہ کے غضب کو آواز دینا ہے۔ لہذا ایسے مقلد اہل علم سے خبردار رہیئے جو دین کی ہر آسانی کو مشکل میں تبدیل کردیں۔
۔
یہ وہی دور فتن ہے جسکے بارے میں رسول عربی صلی الله علیه وسلم نے فرمایا تھا کہ اس دور میں دین پر چلنا ایسا ہوگا جیسے جلتے ہوئے کوئلے کو مٹھی میں جکڑ لینا۔ تحقیق ہی واحد راستہ ہے۔ ہمارا دین میانہ روی کی ترغیب دیتا ہے۔ مجھے اور آپ کو لازمی اپنی اپنی بساط کے مطابق تحقیق کرنی ہی ہوگی۔ کتاب اللہ کو میزان و فرقان بنا کر ان دو انتہائوں کے بیچ صحیح درمیانہ رستہ کھوجنا ہوگا۔ پھر اخلاص اور بھرپور کاوش کے بعد کسی معاملہ میں چھوٹی موٹی چوک ہو بھی گئی تو انشااللہ ہمارے پاس اپنے رب کو کہنے کےلئے یہ حق ہوگا کہ یہ غلطی دانستہ یا اپنے باپ دادا کی اندھی تقلید کا نتیجہ نہ تھی بلکہ مبنی بااخلاص تھی۔ ہم یہ کہہ کر ہرگز نہیں چھوٹ سکتے کہ ہم نے بناء تقابلی تحقیق وہ مسلک اپنائے رکھا جس پر ہمارے باپ دادا تھے۔ یہ بہانہ تو قران حکیم کے مطابق مشرکین کا ہوا کرتا ہے۔ ہم یہ کہہ کر بھی نہیں بچ سکتے کہ ہم نے آنکھیں بند کرکے وہ کیا جو ہمارے علماء اور مشائخ کہا کرتے تھے۔ ایسا کرنا تو سورہ توبہ کے مطابق علماء و مشائخ کو خدا بنا لینے جیسا ہے۔ واحد، اکیلا، تنہا راستہ تدبر و تحقیق ہی کا ہے۔ چنانچہ جاگو اور اللہ کی کتاب کو ترجمہ سے سمجھ کر پڑھو، تفکر کرو، نوٹس بنائو، سوال پوچھو۔ اگر ایسا نہ کرو گے تو یاد رکھو کہ قران مجید کے بیان کے مطابق تمہاری شکایت رسول پاک صلی الله علیه وسلم بنفس نفیس خود رب العالمین سے روز آخرت میں کریں گے کہ میری اس امت نے قران کو بہت دور چھوڑ دیا تھا۔ وَقَالَ الرَّسُولُ یا رَبِّ إِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا
۔
====عظیم نامہ====

Sunday, 27 September 2015

میں کی گردان


میں" کی گردان"




میری طبیعت ہر اس کتاب یا تقریر سے اجتناب کرتی ہے، جس میں مصنف یا مقرر اپنی "میں" کی گردان کرتا رہے. جیسے "میں" نے فلاں خواب دیکھا یا "میں" فلاں کا شیخ رہا. "میں" فلاں تسبیحات پڑھتا ہوں یا "میں" نے اتنی کتب کا مطالعہ کیا. یہ "میں" کا ورد کرنا ازخود ایک مہلک بیماری ہے. ایسا شخص جب عجز کا اظہار کرتا ہے تب بھی اس کے انداز و کلام میں خودپسندی کا عنصر غالب نظر آتا ہے. ہم اکثر یہ بھول بیٹھتے ہیں کہ غرور محض مال و رتبہ کا ہی نہیں ہوتا بلکہ کئی بار علمی تکبر یا پارسائی کا نشہ بھی انسان کو برباد کردیتا ہے. خوب جان رکھیئے کہ اگر معرفت نے انسان کی ذات میں عاجزی نہیں پیدا کی تو پھر وہ معرفت نہیں بلکہ محض سراب ہے. اگر علم نے انسان کے وجود میں انکساری کو اجاگر نہ کیا تو پھر وہ علم نہیں بلکہ فقط معلومات ہے.
.
====عظیم نامہ====

دعا



دعا



یا رب العظیم .. مجھے گناہوں سے کراہیت اور سچی توبہ پر استقام عطا کیجیئے
یا رب الکریم .. میری خطاؤں، گناہوں اور جرائم کو معاف کردیجیئے. 
یا رب ارض و سماء .. جیسے آپ نے اس دنیا میں میری برائیوں کو ڈھانپے رکھا، روز جزاء بھی مجھے رسوا نہ کیجیئے.

یا رب العالمین ، یا رب ظاہر و باطن .. آپ کا یہ گنہگار بندہ اجر ہی نہیں توفیق بھی مانگتا ہے. آپ کا یہ عاجزغلام آپ سے انصاف کا طلبگار نہیں بلکہ رحم کا خواستگار ہے. اے رحمٰن ! مجھ پر رحم کر دیں. اے غفور ! مجھے بخش دیں. اے منتقم ! میرا مواخذہ نہ کریں. اے حسیب ! مجھ سے حساب نہ لیں. اے حفیظ ! مجھے میرے نفس سے بچا لیں. آمین یا احکم الحاکمین
frown emoticon

.
===========================
.
خود کو دھوکہ مت دو .. ایمان اتنا ہی ہے جتنا تمہارا عمل ہے - احمد جاوید صاحب
.
نماز پڑھ پڑھ کر اور روزہ رکھ رکھ کر تیری کمر ہی کیوں نہ دھری ہو جائے ، جب تک حرام سے اجتناب نہ کرے گا تو کوئی فائدہ نہیں - حضرت عمر رض
.
مومن وہ نہیں کہ جس کی محفل پاک ہو بلکہ مومن تو وہ ہے جس کی تنہائ بھی پاک ہو - حضرت علی رض
.
بدنصیب ہے وہ شخص جو توبہ کی امید پر گناہ کرے اور زندگی کی امید پر توبہ کو ملتوی رکھے - حضرت علی رض
.
===========================

'تطبیق'


تطبیق


دوران کلام ہم نے کہا کہ : ان دونوں باتوں میں 'تطبیق' کرنا لازم ہے 
.
کہنے لگے: 'تطبیق' کے کیا معنی ہیں؟
.

ہم نے مسکرا کر کہا کہ : میاں کسی بات کا 'منطبق' ہونا 
.
حیرت سے بولے: اب یہ 'منطبق' ہونا کیا ہے؟
.
ہم نے شرارت سے کہا کہ: قبلہ کسی بات کا 'انطباق' کرنا
.
غصہ سے گویا ہوئے: بھئی اب یہ 'انطباق' کرنا کیا ہوتا ہے؟
.
ہم نے پیار سے کہا کہ: دو باتوں میں 'مطابقت' قائم کرنا
.
ناراضگی سے مخاطب ہوئے: اور یہ 'مطابقت' کیا ہوتی ہے؟
.
ہم نے پیار سے کہا کہ : دو باتوں کو ایک دوجے کے 'مطابق' کردینا
.
ٹھنڈی سانس بھر کر فرمایا : اچھا اچھا اب سمجھا، تو تم ان دونوں باتوں کو ایک دوسرے کے 'مطابق' کرنا چاہتے ہو
.
ہم نے تائید میں گردن ہلا کر کلام کا اختتام کیا. گو ہم زہنی طور پر تیار تھے کہ اگر ہمارے رفیق اب بھی نہ سمجھے تو ہم انہیں بتائیں گے کہ 'مطابق' مادہ لفظ 'طبق' سے برآمد ہوا ہے اور اسی 'طبق' سے دیگر الفاظ جیسے 'طبقہ' اور 'طبقات' وجود پذیر ہوئے ہیں 


====عظیم نامہ====

قران حکیم ترجمہ کے ساتھ پڑھنا



قران حکیم ترجمہ کے ساتھ پڑھنا 




ہم نے کہا کہ : قران حکیم کے ترجمہ کے ساتھ یہ کوشش بھی کرنی چاہیئے کہ عربی میں اتنی مہارت ضرور حاصل ہوجائے کہ ہم کتاب الله کو براہ راست اسی کی زبان میں سمجھ سکیں 
.
کہنے لگے : اس کی قطعی ضرورت نہیں کہ ہمارے پاس ایک سے ایک با محاورہ تراجم موجود ہیں 
.

ہم نے سمجھایا کہ : آپ کی بات درست مگر کوئی بھی ترجمہ اپنے اصل کی روح کو منتقل نہیں کرسکتا 
.
فرمانے لگے : فضول کی بات ہے ، اچھا لفظی ترجمہ پورا مدعا روح سمیت منتقل کردیتا ہے
.
ہم نے احتجاج کیا کہ : کوئی بھی اچھا کلام ترجمہ ہوکر اپنی اثر انگیزی اصل کے درجہ میں قائم نہیں رکھ پاتا
.
تیز آواز میں بولے : یہ تمہارا ذاتی فلسفہ ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں
.
ہم نے پوچھا کہ : تمھیں انگریزی اور اردو دونوں پر مہارت حاصل ہے ؟
.
فخریہ آواز میں مخاطب ہوئے : بلکل سو فیصد
.
پھر ذرا مرزا غالب کے اس سادہ سے شعر کا مجھے انگریزی ترجمہ کر دو، ایسے کہ معنی بھی مکمل ہوں اور کلام کا حسن بھی متاثر نہ ہو ؟
.
گھبرائی نظروں سے دیکھتے ہوئے استفسار کیا : کون سا شعر ؟
.
ہم نے کہا :
.
ہر اک بات میں کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے ؟
تم ہی کہو، یہ انداز گفتگو کیا ہے ؟
.
کچھ دیر سوچتے رہے .. پھر کلام کے لئے منہ کھولا .. مگر پھر خاموش ہو گئے .. سامنے میز پر رکھے نقلی پھول سے کھیلنے لگے. کچھ غصہ میں لگ رہے تھے ؟. لگتا ہے بات سمجھ گئے. مگر ہم نے خاموشی میں ہی عافیت جانی


====عظیم نامہ====

اہل نظر کے لئے ظاہری و باطنی علوم کا تقابل - علامہ اقبال کے اشعار میں


اہل نظر کے لئے ظاہری و باطنی علوم کا تقابل - علامہ اقبال کے اشعار میں  


=========================================

.
عقل گو آستاں سے دور نہیں 
اس کی تقدیر میں حضور نہیں 
.
علم میں بھی سرور ہے لیکن 
یہ وہ جنت ہے جس میں حور نہیں 
.
=========
.
خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ اور نہیں 
تیرا علاج نظر کے سوا کچھ اور نہیں 
.
========
.
اچھا ہے دل کے پاس رہے پاسبان عقل
لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے
.
========
.
گُزر جا عقل سے آگے۔۔۔ کہ یہ نُور
چراغِ راہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ منزِل نہیں ہے
.
========
.
مقام عقل سے آساں گزر گیا اقبال 
مقام شوق میں کھویا گیا وہ فرزانہ 
.
=======
.
خودی ہو علم سے محکم تو غیرت جبرئیل 
اگر ہو عشق سے محکم تو صور اسرافیل 
.
عذاب دانش حاضر سے باخبر ہوں میں 
کہ میں اس آگ میں ڈالا گیا ہوں مثل خلیل 
.
مجھے وہ درس فرنگ آج یاد آتے ہیں 
کہاں حضور کی لذت، کہاں حجاب دلیل 
.
=======
.
شعور و ہوش و خرد کا معاملہ ہے عجیب 
مقام شوق میں ہیں سب دل و نظر کے رقیب 
.
======
.
بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق 
عقل هے محو تماشۂ لب بام ابهی
.
======
.
اک دانش نورانی ، اک دانش برہانی 
ہے دانش برہانی ، حیرت کی فراوانی 
.
======
.
علم کی حد سے پرے بندۂ مومن کے لیے
لذتِ شوق بھی ہے ، نعمتِ دیدار بھی ہے
.
======
.
شاعر: علامہ محمد اقبال رح
.
انتخاب: عظیم الرحمٰن عثمانی