Monday, 11 August 2014

کیا دعا مانگنا ایک مذہبی دھوکہ ہے ؟

 

کیا دعا مانگنا ایک مذہبی دھوکہ ہے ؟

 

اکثر افراد کا گمان یہ ہوتا ہے کہ غالباً دعا محض ایک تقاضہ کا نام ہے. یعنی وہ یہ گمان رکھتے ہیں کہ دعا کسی تقاضہ کو پیش کرنا ہے کہ میری فلاں خواہش پوری ہوجائے. یہ تعبیر درست نہیں ہے. دعا اپنے رب سے صرف ایک تقاضہ نہیں بلکہ یہ سائل کی داخلی کیفیت کا عکس بھی ہے. آپ کے اندر جو بھی کیفیت ہوتی ہے یہ اس کا مظہر ہے.  یہ بندہ کا اپنے رب سے زندہ تعلق ہے جسکے ذریعے وہ اپنے  بنانے والے سے مخاطب ہوتا ہےلہذا کسی شخص کا یہ سوچ کر دعا کو     ترک کر دینا کہ اس سے اسکا کوئی تقاضہ یا مراد نہیں بر آئی حماقت ہے . یہ ایسا ہی ہے کہ  آپ نے دعا  کے ایک پہلوپر غورکیا اور اسکے بقیہ تمام پہلوؤں کو نظر انداز کر دیا اور نتجتاً اسکے بشمار ثمرات سے خود کو محروم کر بیٹھے
ہم سب اس حدیث سے واقف ہیں جس میں بتایا گیا ہے کہ دعا عبادت کا مغز ہے. آپ نماز کا جائزہ لے کر دیکھیں ، معلوم ہوگا کہ سورہ فاتحہ سے لے کر التحیات تک اور درود شریف سے لے کر سلام بھیجنے تک سب کی سب دعا ہی ہے. اس کے علاوہ دعا کا ایک نمائندہ پہلو یہ بھی ہے کہ یہ آپ کی توجہ کا ارتکاز کرتی ہے. جب آپ کسی دعا کو مستقل مزاجی، خلاص اور قبولیت کے یقین کے ساتھ مسلسل کرتے ہیں تو اس دعا کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اس میں ادا کئے گئے کلمات عمل میں ڈھلتے چلے جاتے ہیں یعنی جب آپ بار بار صدق دل سے یہ استدعا کرتے ہیں کہ ' یا رب ! مجھے نیکی کی توفیق دے اور گناہ سے بچنے والا بنا ' .. تو کچھ ہی عرصہ میں آپ یہ محسوس کریں گے کہ آپ کا مزاج نیکی کی جانب پہلے سے زیادہ راغب ہوگیا ہے. یہ ایک فطری اثر ہے جو انسانی طبیعت پر مرتب ہوتا ہے. اس کا ایک تجربہ آپ یوں کر سکتے ہیں کہ کوئی دس بیس بار دن میں یہ دہرائیں کہ

 'یہ کیا بیکار زندگی ہے ؟ میری تو قسمت ہی خراب ہے'

آپ محسوس کریں گے کہ جلد ہی آپ کا ذہن اس مایوسی کو قبول کرلے گا اور اپنی زندگی سے اکتاہٹ محسوس ہونے لگے گی. اسی طرح اب آپ دس بیس بار دن میں یہ دہرا کر دیکھیں کہ

'میں لاکھوں کروڑوں لوگوں سے زیادہ خوش نصیب ہوں، یا میرے رب آپ کا بہت بہت شکریہ'

 کچھ ہی دنوں میں آپ واقعی اس بات کے قائل ہو جایئں گے اور جذبہ تشکر آپ کے دل میں گھر کرلے گا. کہنے کا مقصد یہ ہے کہ جہاں دعا کے پہلوؤں میں تقاضہ، داخلی کیفیت کا اظہار اور اپنے رب سے گفتگو شامل ہیں وہاں اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ یہ آپ کے ذہن کو مثبت سمت لے جاکر عمل کی جانب راغب کرتی ہے. دنیا بھر کے علم نفسیات کے ماہرین اور ہپناٹزم کے استاد یہی طریق اپناتے ہیں. وہ آپ کے ذہن کو بار بار مسلسل مثبت باتیں سناتے ہیں ، جنہیں انکی زبان میں مائنڈ سجیشن کہا جاتا ہے. رفتہ رفتہ یہ مثبت سجیشن آپ کی منفی سوچ و عادات کو ختم کرتے چلے جاتے ہیں اور بلاخر انسان وہ کیفیت حاصل کرپاتا ہے جس کا وہ متمنی تھا. اسکا لازمی نتیجہ عمل کی صورت میں نکلتا ہے. آج اسی طریق سے ہپناٹست ایکسپرٹ وزن کم کروانے سے لے کر سگریٹ نوشی ترک کرنے تک کا کام کر رہے ہیں

معاملہ صرف یہاں تک نہیں ہے بلکہ اگر آپ کی دعا آپ کی بھلائی میں ہے اور الله رب العزت کے اجتماعی نظم سے نہیں
ٹکراتی تو پھر اسے فرشتوں کی تائید حاصل ہو جاتی ہے. اسی حوالے سے یہ کہا جاتا ہے کہ فرشتے مومنین پر سکینت نازل کرتے ہیں یا وہ بھی ہماری دعاؤں پر آمین کہتے ہیں. یہ جاننا ضروری ہے کہ ملائکہ ، خالق کائنات کی جانب سے فطرت کی مختلف قوتوں پر مامور ہیں لہٰذا الله کی اجازت سے انکی تائید کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے اردگرد کے حالات و واقعات آپ کے موافق ہوتے چلے جائیں یعنی آپ دیکھیں گے کہ اچانک سے کوئی ایسی سبیل پیدا ہوگئی جو پہلے نگاہ سے اوجھل تھی یا وہ عوامل جو آپ کے خلاف شدت سے کام کر رہے تھے اب انکی شدت دم توڑ رہی ہے اور آہستہ آہستہ آپ کو موقع فراہم کرنے لگے
اس بات کو ہرگز یہ نہ سمجھیں کہ یہ کوئی مذہبی بھڑک ہے جو مذھبی افراد عقیدہ کی عینک سے ہی دیکھ سکتے ہیں. بلکہ مشہور غیرمذہبی افراد بھی اس غیبی مدد کو طرح طرح کے ناموں سے منسوب کرتے آئے ہیں. کچھ اسے فطرت ماں (مدر نیچر) کے پوشیدہ قوانین کہہ کر پکارتے ہیں تو کچھ کہ نزدیک یہ انسانی دماغ کی پوشیدہ کشش ہے. مغرب کے ایک مشہور مفکر نپولین ہل نے ١٩٣٨ میں ایک شاہکار کتاب تحریر کی، جس کا نام ہے ' تھنک اینڈ گرو رچ' .. یہ کتاب انسانی تاریخ کی سب سے زیادہ مشھور کتابوں میں شمار کی جاتی ہے. اپنے پہلے ایڈیشن سے لے کر ستر سال تک یہ بار بار بیسٹ سیلنگ لسٹ میں آتی رہی اور آج بھی لوگ اسے ایسے ہی زوق و شوق سے پڑھتے ہیں. اس کتاب میں ایسا کیا ہے ؟ تو جناب اس کتاب میں مصنف نے کامیابی کے لئے کامیاب سوچ کے طریقہ کار بیان کئے ہیں اور سب سے بڑھ کر صاحب کتاب نے ایک غیبی قانون کا انکشاف کیا ہے جسے وہ قانون جاذبیت یا لاء آف ایٹریکشن کے نام سے موسوم کرتا ہے. آپ یقیناً میری بات پر ہنسیں گے مگر اس پیش کردہ قانون کو بیان کرتے ہوئے نپولین صاحب وہی فرماتے ہیں جو آج کل بالی وڈ کے شاہ رخ خان اپنی ایک ہندی فلم میں فرماتے ہیں کہ
"کہتے ہیں اگر کسی چیز کو دل سے چاہو تو پوری کائنات اسے تم سے ملانے کی کوشش میں لگ جاتی ہے"


یعنی نپولین صاحب کے بقول اگر کوئی شخص سچے دل سے کوئی شے مانگتا ہے اور اسکے بارے میں مسلسل سوچتا رہتا ہے تو کچھ ہی دنوں میں اسکے اردگرد مواقع جنم لینے لگتے ہیں اور راستہ پیدا ہوجاتا ہے جس پر چل کر وہ شخص اپنی مراد کو پاسکتا ہے. اب وہ اسکے بعد عملی کوشش نہ کرے تو اور بات. اب یہ مواقع اور مدد کیسے پیدا ہوجاتی ہے ؟ اسکے بارے میں نپولین صاحب کچھ کہنے سے قاصر ہیں. بہرحال وہ اسے خدائی مدد کی جگہ ایک اندھے بہرے قانون کی حیثیت دیتے ہیں. نپولین کے بعد بیشمار مفکرین نے اسی وہ قانون جاذبیت یا لاء آف ایٹریکشن کو موضوع بنا کر ان گنت کتابیں تحریر کی ہیں
اسی طرح برطانیہ کے معروف ترین ہپناٹسٹ اور سیلف ہیلپ ایکسپرٹ ' پال میک کینا ' اپنی مشہور کتابوں جیسے ' انسٹنٹ کانفیڈنس (فوری اعتماد) ' میں یہ سکھاتا ہے کہ اگر کچھ حاصل کرنا چاہتے ہو تو اسے ذہن میں خوب سوچو ، یہاں تک کہ اگر وہ حقیقت میں حاصل نہ بھی ہو تب بھی تمھیں ایسا لگے کہ وہ تمھیں حاصل ہو چکی ہے. یعنی اگر رئیس بننا چاہتے ہو تو ذہن میں تصور کو پکا کرو کہ تمہارے پاس عالیشان بنگلہ ہے، بہترین گاڑی ہے، بے حساب پیسہ ہے. جب یہ تصور پکا ہو جائے تو اسکے حصول کی جانب قدم بڑھاؤ ، تم دیکھو گے کہ مشکلات آسان ہو رہی ہیں. غیبی مدد ہونے لگے گی ، یہاں تک کہ وہ من پسند خواہش حاصل ہو جائے گی. شرط صرف یہ ہے کہ پورے یقین کے ساتھ یہ تقاضہ اپنے ذہن میں بیٹھا لو. یہ کیسے ہوتا ہے ؟ اس کا کوئی قابل تشفی جواب حضرت کے پاس سے نہیں ملتا. دل چاہتا ہے کہ انہیں رسول الله صلی الله و الہے وسلم کی وہ احادیث سناؤں جن میں یہی تربیت کی گئی ہے کہ ہمیشہ قبولیت کے پورے یقین کے ساتھ دعا مانگو اور پھر عمل میں لگ جاؤ. نمونہ کے طور پر بخاری شریف کی ایک حدیث کا مفہوم درج کر رہا ہوں
ابو ہریرہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی پاک صلی اللہ و الہے وسلم نے فرمایا

تم میں سے کوئی ایسا نہ کہے کہ ' اے الله ، مجھے معاف کردیں اگر آپ چاہتے ہیں' (یا پھر) 'اے الله مجھ پر رحم فرمائیں اگر
 آپ چاہتے ہیں' بلکہ الله سے دعا پوری قبولیت کے یقین کے ساتھ مانگو، کوئی الله کو کسی کام کے کرنے پر اسکی مرضی کے خلاف مجبور نہیں کرسکتا
یہ کسی ایک ماہر نفسیات کا حال نہیں ہے بلکہ ایک عظیم اکثریت اسی طرح غیبی مدد کی تاویلیں گھڑتی نظر آتی ہے. اگر طوالت کا خوف دامن گیر نہ ہوتا تو میں آپ کو اور ایسے ہی ملتے جلتے فلسفے سناتا جو آج کی 'مہذب' دنیا نے الہامی کتابوں کا انکار کرکے بھی اپنا رکھے ہیں. ایسی ہی ایک اور مثال ان افراد کی ہے جو اکثر مذہب کے منکر ہوتے ہیں مگر خود کو روحانی یا سپرچولسٹ کہتے ہیں. ان کا ماننا یہ ہوتا ہے کہ جیسے ایک انفرادی شعور ہے ہر انسان کے پاس ، اسی طرح ایک اجتماعی شعور بھی اس کائنات میں کارفرما ہے جس سے اگر تعلق جوڑ لیا جائے تو غیبی امداد ہونے لگتی ہے
 یہ ان حضرات کی سمجھ ہے جو خدا پر یا تو یقین نہیں رکھتے اور اگر رکھتے بھی ہیں تو واجبی سا. ان میں اور ہم میں فرق بس اتنا ہے کہ ہمارے سامنے دعا کا ایک منظم تصور موجود ہے اور ہمیں معلوم ہے کہ یہ غیبی مدد ملائکہ کی حمایت اور ہمنوائی سے حاصل ہوتی ہے جبکہ یہ اپنی تاویلیں خود ایجاد کرتے رہتے ہیں. لہٰذا ایک برتر قوت کو تسلیم کرکے اس سے کوئی استدعا کرنا یعنی دعا مانگنا اور پھر عمل کرتے ہوئےغیبی مدد کی امید رکھنا کوئی دقیانوسی یا کھوکھلی بات نہیں ہے

 دعا کے تصور کو ٹھیک سے سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم تقدیر کے اسلامی تصور کو مختصر سمجھ لیں. تقدیر در حقیقت دو حصوں میں منقسم ہے. پہلا حصہ ہے ' تقدیر جبری ' یعنی وہ تقدیر جسے بدلا نہیں جاسکتا جیسے آپ کا رنگ، نسل، خاندان، موت کا طے شدہ وقت وغیرہ. دوسرا حصہ ہے ' تقدیر اختیاری ' یعنی وہ تقدیر کہ جسے الله نے آپ کے ارادے، عمل اور دعا سے مشروط کر رکھا ہے مثال کے طور پر فلاں شخص کو صحت مل جائے گی ' اگر ' وہ پرہیز کرے گا. یا فلاں شخص فتح یاب ہوگا ' اگر ' عمل کے ساتھ ساتھ دعا کا بھی اہتمام کرے گا وغیرہ

=====


دعائیں نظر نہیں آتیں مگر ناممکن کو ممکن بنا دیتی ہیں ۔...

مولانا وحیدالدین خان صاحب اپنی کتاب میں ایک خوبصورت مثال بیان کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ


ایک غریب خاندان کے لڑکے نے اپنے باپ سے کہا 'میرے لئے بائیسکل خرید دیجئے'.. باپ کے لئے بائیسکل خریدنا مشکل تھا' اس نے ٹال دیا.. لڑکا بار بار کہتا رہا اور باپ بار بار منع کرتا رہا.. آخرکار ایک روز باپ نے ڈانٹ کر کہا.. "میں نے کہہ دیا کہ میں بائیسکل نہیں خریدوں گا.. آئندہ مجھ سے
اس قسم کی بات مت کرنا.."
یہ سن کر لڑکے کی آنکھ میں آنسو آگئے.. وہ کچھ دیر تک چپ رہا.. اس کے بعد روتے ہوئے بولا.. "آپ ہی تو ہمارے باپ ہیں پھر آپ سے نہ کہیں تو کس سے کہیں _____!!"
اس جملہ نے باپ کو تڑپا دیا.. اچانک اس کا انداز بدل گیا.. اس نے کہا.. "اچھا بیٹے ! اطمینان رکھو.. میں تم کو ضرور بائیسکل دوں گا.." یہ کہتے ہوئے باپ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے.. کچھ دنوں میں اس نے پیسے پورا کرکے بیٹے کے لئے نئی بائیسکل خرید دی..


لڑکے نے بظاہر ایک لفظ کہا تھا مگر یہ ایسا لفظ تھا جس کی قیمت اس کی اپنی زندگی تھی جس میں اس کی پوری ہستی شامل ہو گئی تھی.. اس لفظ کا مطلب یہ تھا کہ اس نے اپنے آپ کو اپنے سرپرست کے آگے بالکل خالی کردیا ہے.. یہ لفظ بول کر اس نے اپنے آپ کو ایک ایسے نقطہ پر کھڑا کردیا جہاں اس کی درخواست اس کے سرپرست کے لئے بھی اتنا بڑا مسئلہ بن گئی جتنا وہ خود اس کے اپنے لئے تھی..

یہ انسانی واقعہ خدائی واقعہ کی تمثیل ہے.. اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کون سی دعا ہےجو لوٹائی نہیں جاتی.. یہ وہ دعا ہے جس میں بندہ اپنی پوری ہستی کو انڈہل دیتا ہے.. جب بندہ کی آنکھ سے عجز کا وہ قطرہ ٹپک پڑتا ہے جس کا تحمل زمین و آسمان بھی نہ کر سکیں.. جب بندہ اپنے آپ کو اپنے رب کے ساتھ اتنا زیادہ شامل کرلیتا ہے کہ "بیٹا"اور "باپ" دونوں ایک ترازو پر آجاتے ہیں..

یہ وہ لمحہ ہے جب کہ دعا محض زبان سے نکلا ہوا ایک لفظ نہیں ہوتی بلکہ اپنی شخصیت کو مٹا دینے' ختم کردینے کی انتہا بن جاتی ہے.. اس وقت خدا کی رحمتیں اپنے بندے پر ٹوٹ پڑتی ہیں.. بندگی اور خدائی دونوں ایک دوسرے سے راضی ہو جاتے ہیں.. قادر مطلق ___ عاجز مطلق کو اپنی آغوش میں لے لیتا ہے.. جب انسان اپنے رب پر اس قدر بھروسا کر لیتا ہے کہ اس کے علاوہ کوئی بھی اسکی ضرورت پوری کرنے والا نہیں تو اللہ بھی اپنے بندے کو مایوس نہیں لوٹاتا.. اس کی دعا ضرور قبول کرتا ہے_____!!

"""" مولانا وحیدالدین خان """""

حقیقی دعا آدمی کی پوری ہستی سے نکلتی ہے نہ کہ زبانی الفاظ سے.. یہ ایک حقیقت ہے کہ خدا سے مانگنے والا کبھی محروم نہیں رہتا مگر مانگنا صرف الفاظ دہرانے کا نام نہیں..
مانگنا صرف وہی مانگنا ہے جس میں آدمی کی پوری ہستی شامل ہوگئ ہو.. ایک شخص زبان سے کہ رہا ہو.. "خدایا مجھے اپنا بنالے.." مگر عملا" وہ اپنی ذات کا بنا رہے تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس نے مانگا ہی 
نہیں..

ایک بچہ اپنی ماں سے روٹی مانگے تو یہ ممکن نہیں کہ ماں اس کے ہاتھ پر انگارہ رکھ دے..
خدا اپنے بندوں پر تمام مہربانوں سے زیادہ مہربان ہے.. یہ ممکن نہیں کہ آپ خدا سے خشیت مانگیں اور وہ آپ کو قساوت دے دے.. آپ خدا کی یاد مانگیں اور وہ آپ کو خدافراموشی میں مبتلا کردے.. آپ آخرت کی تڑپ مانگیں اور خدا آپ کو دنیا کی محبت میں ڈال دے.. آپ کیفیت سے بھری ہوئی دینداری مانگیں اور اور خدا آپ کو بےروح دینداری میں پڑا رہنے دے.. آپ حق پرستی مانگیں اور خدا آپ کو گمراہی کے اندھیروں میں بھٹکتا رہنے دے..
آپ کی زندگی میں مطلوب چیز کا نہ ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ نے اس کو مانگا ہی نہیں..

اگر آپ کو دودھ خریدنا ہو اور آپ چھلنی لے کے بازار جائیں تو آپ پیسے خرچ کرنے کے باوجود خالی ہاتھ واپس آئیں گے.. اسی طرح اگر آپ زبان سے کلمات دہرا رہے ہوں اور آپ کی اصل ہستی کسی اور چیز کی طرف متوجہ ہو تو یہ کہنا مناسب ہوگا کہ نہ آپ نے مانگا اور نہ ہی آپ کو ملا..
کائنات کا مالک تو ہر صبح و شام اپنے تمام خزانوں کے ساتھ آپ کے قریب آکر آواز دیتا ہے.. "کون ہے جو مجھ سے مانگے تاکہ میں اسے دوں....." مگر جنہیں لینا ہے وہ غافل بنے ہوۓ ہیں تو اس میں دینے والے کا کیا قصور_________!!

مولانا وحیدالدین خان.. " کتابِ معرفت " صفحہ 361..

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
” بے شک دعا ہی عبادت ہے“
)ترمذی(
بعض لوگوںکا خیال ہے کہ ہم گناہ گار ہیں گنہگاروں کی دعا قبول نہیں ہوتی۔
یہ خیال شریعت کی رو سے بالکل غلط ہے۔
اے کاش ہم قرآن کو سمجھ کر پڑھیں تاکہ ہماری زندگیاں بدل جائیں۔
کیا شیطان سے بڑا مردود و ملعون بھی کوئی ہو سکتا ہے؟ نہیں۔
اس نے کھلم کھلا اللہ کے حکم کی نافرمانی کی اور اس کے بعد دعا کی ۔
” اے اللہ مجھے قیامت تک )لوگوں کو گمراہ کرنے کی( مہلت دے ۔
تو اللہ نے اس کی پکار قبول کرکے مہلت دے دی
)الحجر36:(
شیطان نے کسی نیک مقصد کے لئے دعا نہیں کی مگر پھر بھی قبول ہو گئی تو یہ سمجھنا کہ گناہ گاروں کی دعا قبول نہیں ہوتی محض شیطانی فریب و دھوکہ ہے۔
اگر کوئی شخص دعا کرتا ہے اور وقتی طور پر دعا قبول نہ ہو پھر دعا مانگنا چھوڑ دے یہ بھی غلط ہے۔
کیونکہ قبولیت دعا کی تین صورتیں ہیں۔
)۱( دعا بندے کی خواہش کے مطابق فوراََ قبول ہوجاتی ہے۔
)۲( اس کے بدلے اس کی دنیاوی کوئی آفت ٹل جاتی ہے۔
)۳( یااس کی دعا آخرت کے لئے ذخیرہ کردی جاتی ہے۔
)رواہ احمد

======

"دعا کی اھمیت"
*اگراللہ تمھاری دعائیں پوری کررھا ھے تو وہ تمھارا "یقیں"بڑھارھا ھے.....
*اگردعائیں پوری کرنے میں دیر کررھا ہے تووہ تمھارا"صبر"آزمارھا ھے...............
*اگرتمھاری دعاؤں کا جواب نھیں دے رھا تو وہ تمہیں آزمارھاھے.......
اس لیے ھمیشہ "دعا"مانگتے رھو کہ"دعا" ایک دستک کی طرح ھے اوربارباردستک دینے سے دروازہ کھلتاضرور ھے

======
أَمَّن يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاءَ الْأَرْضِ ۗ أَإِلَٰهٌ مَّعَ اللَّهِ ۚ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَ
النمل:62
ترجمہ: بھلا کون بیقرار کی التجا قبول کرتا ہے۔ جب وہ اس سے دعا کرتا ہے اور (کون اس کی) تکلیف کو دور کرتا ہے اور (کون) تم کو زمین میں (اگلوں کا) جانشین بناتا ہے (یہ سب کچھ خدا کرتا ہے) تو کیا خدا کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے (ہرگز نہیں مگر) تم بہت کم غور کرتے ہو

======
ہمارےمعاشرے میں دعا مانگنے کے عمل کے ساتھ ایک بڑا ہی عجیب سا رویہ بنا کر رکھا جاتا ہے۔ ضرورت کے وقت میں یا اللہ اور اے اللہ کی تکرار پوری رقت کے ساتھ کی جاتی ہےاور جب ضرورت ختم ہوئی تو دعائیں بھی ختم۔
اکثر و بیشتر صورتحال یوں ہوتی ہے کہ شیخ صاحب کی والدہ ہسپتال میں داخل ہوئی تو وہ نا صرف خود بلکہ امام صاحب کو کہہ کر دوسرے نمازیوں سے بھی نہایت خشوع و خضوع سے دعائیں منگواتے ہیں۔
میاں صاحب اپنے بیٹے کے مستقبل سے پریشان ہر نماز کے بعد اپنی پوری عاجزی نچھاور کرتے ہوئے دعاگو ہوتے ہیں۔
ملک صاحب اپنے مقدمے کی پریشانی میں، تو چودھری صاحب شفعہ اپنے حق میں کرانے کیلئے اللہ کے حضور میں دست بدعا ہوتے ہیں۔
یہ مناظر تبدیل ہو جائیں تو میاں صاحب کچھ یوں کہتے نظر آتے ہیں کہ بھائی دعائیں مانگ کر اور کرا کر بھی دیکھ لیں کوئی اثر نہیں ہوتا، اب تو میرا دعا مانگنے کو بھی دل نہیں کرتا۔
ملک صاحب اور چودھری صاحب تو بس بمشکل نماز ختم ہونے کا ہی انتظار کرتے ہیں کہ بیٹھک میں انہوں نے اپنے ملاقاتیوں سے جا کر ملنا ہوتا ہے ،
جبکہ شیخ صاحب تو امام مسجد کی 'پکی روٹی' نامی کتاب سے یاد کردہ روٹین کی دعاؤں کو ہی کافی سمجھتے ہیں ...
--------------
دعاؤں کیلئے ہمارا رویہ کیا ہونا چاہیئے؟

ہم روز پڑھتے اور سنتے ہیں کہ اصل عبادت دعا ہی ہوتی ہے اور دعا پورے بھروسے اور یقین کے ساتھ اسی طرح مانگی جائے جس طرح مزدور کام کر چکنے کے بعد مزدوری کا مطالبہ کرتا ہے۔
خود حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہما کو کئی دعائیں بالکل اس طرح یاد کرایا کرتے تھے جس طرح کہ قرآن کی آیتیں۔

ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم دعا تب مانگتے ہیں جب قرض سر پر چڑھ جائے ، گھر میں کوئی مریض ہو جائے یا امتحان سر پر ہوں۔ یا اگر ہم یہ دعا مانگیں کہ اے اللہ ہماری مغفرت فرما دے اور ہم پر رحم فرما دے ،تو بے دھیانی اور عدم رغبتی سے مانگتے ہیں۔

دعا اس وقت بھی مانگنی چاہیئے جب گھر پر سارے بچے ٹھیک ٹھاک ہوں اور زندگی مزے سے گزر رہی ہو اور اُس وقت بھی مانگنی چاہیئے کہ جب معاملات اس نہج پر ہوں کہ قادر مطلق کے بغیر کوئی مشکل کشائی کرنے والا نا 
ہو۔ بس اسی بات کی یاد دہانی کیلئے یہ آیت کریمہ پڑھیئے۔
إِنَّهُمْ كَانُوا يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَيَدْعُونَنَا رَغَبًا وَرَهَبًا ۖ وَكَانُوا لَنَا خَاشِعِينَ ﴿٩٠-سورة الأنبياء﴾
" یہ لوگ نیکی کے کاموں میں دَوڑ دھوپ کرتے تھے اور ہمیں رغبت اور خوف کے ساتھ پکارتے تھے، اور ہمارے 

آگے جھکے ہوئے تھے ۔"

===========


No comments:

Post a Comment