Monday, 18 August 2014

عمران خان اور پاکستانی سیاست


عمران خان اور پاکستانی سیاست




میں مانتا ہوں کہ عمران خان نے پاؤں پر کلہاڑی نہیں بلکہ کلہاڑی پر پاؤں مار لیا ہے. میں جانتا ہوں کہ سیاسی بصیرت کے حوالے سے عمران نے غلطی پر غلطی کی ہے. مجھے اعتراف ہے کہ میرے نزدیک وہ پہلے خیبر پختون خواہ میں تبدیلی برپا کریں پھر کسی انقلاب کی بات کریں. لیکن اس سب کے باوجود مجھے بھی ان سیاسی احمقوں میں شامل رکھیں جو آج بھی خان صاحب کو اس ملک کا وزیر اعظم دیکھنا چاہتے ہیں. مجھے خان جیسا سیاسی بیوقوف قبول ہے مگر زرداری و شریف جیسے وطن فروش نہیں. مجھے سیاسی پینتروں کا ماہر نہیں چاہیئے بلکہ مخلص و دیانتدار قیادت میرا تقاضا ہے


عمران کے ساتھ اور اردگرد اس وقت یقیناً بہت سے گندے انڈے موجود ہیں مگر عمران ہمیشہ سے ایک ڈکٹیٹر رہا ہے. اسے اسکی سوچ اور نظریہ چلاتا ہے. میرے نزدیک اس ملک کو ایک ڈکٹیٹر ہی چاہیئے. جمہوریت پڑھے لکھے معاشروں میں پھلتی پھولتی ہے ، ہمارے جیسے جاہل اور دیمک زدہ معاشروں میں وہ بدترین آمریت ثابت ہوتی ہے. جب تک اس قوم کی خاطر خواہ تربیت نہیں ہو جاتی تب تک اسے ایک مخلص ڈکٹیٹر کی ضرورت رہے گی. مجھے اعتماد ہے کہ خان صاحب کے ساتھ جو بھی کرپٹ شامل ہے وہ کبھی ویسے کھل کر کرپشن نہیں کر پائے گا جیسے ہماری دیگر نمائندہ سیاسی جماعتوں میں اپنا حق سمجھ کر کر پاتا 

عمران کو سمجھنا پہلےکرکٹ میں بھی مشکل تھا اور آج بھی مشکل ہے. آپ اسے خر کہیں یا درویش. مگر آج بھی جدید ذہن والے اسے طالبان خان کہہ کر تنقید کا نشانہ بناتے ہیں اور شلوار داڑھی والے اسے ناچ گانے والا زانی کہہ کر طعنے مارتے ہیں. خان کو اسکی فکر نہیں ہوتی کہ کوئی کیا کہتا ہے ؟ وہ بس اپنی دھن کا پکا ہے. جب تعلیم حاصل کی تو آکسفورڈ جیسی یونیورسٹی میں جاپہنچا، جب مغربی چمک دھمک اپنائی تو پوری دنیا کے اخباروں میں شہہ سرخی بنارہا، کرکٹ کھیلی تو اس کھیل کا اونچا ترین لیجنڈ مانا گیا، نمائندگی کی تو کبھی یونائیٹڈ نیشن کا سفیر بنایا گیا تو کبھی یونیورسٹی آف بریڈفور کا چانسلر قرار پایا، فلاحی کام کئے تو پاکستان کا پہلا کینسر ہسپتال بنا ڈالا، تعلیم پھیلانا چاہی تو نمل یونیورسٹی بنادی، سیاست میں آیا تو آج دھاندھلی زدہ الیکشن کے باوجود پاکستان کی دوسری بڑی پارٹی کا سربراہ بن چکا. اس تمام سفر کی روداد کو پڑھ لیں ، اسے ہمیشہ مجھ جیسوں نے تنقید کا نشانہ بنا کر ہنسی ہی اڑائ ہے. آج بھی وہی کر رہے ہیں. مگر عجب نہیں کہ جلد یا دیر سے خان وہ حاصل کرلے جو اس نے سوچ رکھا ہے. جو یہ سمجھتا ہے کہ عمران شہرت چاہتا ہے تو وہ جان لے کہ جو شہرت عمران کو دنیا بھر میں حاصل ہے اسکا عشر عشیر بھی نواز کے پاس نہیں ہے، جو یہ مانتا ہے کہ وہ اس سب سے پیسہ چاہتا ہے تو وہ جان لے کہ عمران کو پیسے کی نہ پہلے کبھی کمی تھی اور نہ آج ہے، جو یہ سوچتا ہے کہ وہ محض اقتدار کا بھوکا ہے تو وہ پھر جان لے کہ مشرف نے اسے ایک نہیں دو بار وزیر اعظم بنانا چاہا مگر عمران نے اسے ٹھوکر مار دی. خان کو صرف کرسی نہیں وہ اختیار درکار ہے جسکے ذریعے وہ اس پھپھوند زدہ نظام کو مٹا سکے. وہ یہ ٹھان چکا ہے ! وہ یہ ٹھان چکا ہے !


====عظیم نامہ====

اضافی نوٹ

یہ ممی ڈیڈی بچے ان توند نکالے مولویوں سے کہیں بہتر ہیں .. یہ ناچتے ہوئے نوجوان ، ان فتوے باز تکفیریوں سے کہیں اچھے ہیں .. یہ انقلابی بیوقوف ، ان عقلمند تجزیہ کاروں سے کہیں بلند ہیں. میرا دل اور دماغ دونوں عمران کے ساتھ ہے .. گو کے مجھے اندازہ ہے کہ اسے ایک دنیا گالیاں دے رہی ہے ، بیوقوف ضدی بچہ کہہ رہی ہے .. وہ اس نظام کو ٹکریں مار رہا ہے ، وہ ایک بڑی جماعت کھڑی کرنے میں کامیاب ہوچکا ہے. اسے نظر آرہا ہے کہ اگر اسی نام نہاد لنگڑی لولی جمہوریت پر چلتا رہا تو کبھی بھی یہ زرداری و نواز اسے آنے نہیں دیں گے. یہ ایک نورا کشتی ہے جو سالہا سال سے اس ملک میں جاری ہے، جہاں مقابلہ ہوتا نہیں بلکہ عوام کو دکھایا جاتا ہے. کچھ بھی کہتے رہیں مخالفین .. حقیقت یہ ہے کہ لڑکا کھیل ہی کھیل میں دوسری بڑی جماعت کا سربراہ بن چکا اور آج حکومت کے سر پر خطرہ بنا کھڑا ہے. حقیقت یہ ہے کہ زرداری سے لے کر نواز شریف تک، الطاف حسین سے لے کر فضل الرحمٰن تک، جنگ گروپ سے لے کر افتخار چوہدری تک اور پاک فوج سے لے کر امریکہ بہادر تک سب اس کے خلاف کھڑے ہیں. اگر کوئی سمجھتا ہے کہ عمران اتنا بیوقوف ہے کہ اسے یہ نہیں اندازہ کہ اس نے ایک دشمنوں کی فوج کھڑی کرلی ہے تو اسکی عقل کو میرا سلام ہے. آج اگر عمران خالی ہاتھ بھی واپس جاتا ہے تب بھی وہ ایک بہت بڑا مقصد حاصل کر چکا اور وہ یہ کہ اب حکومت خوب آگاہ ہے کہ اسے انصاف کرنا ہوگا ، وہ اپنے ماضی کی طرح معاملات کو گھسیٹ نہیں سکتی. اب ایک ایسی جنونی اپوزیشن کی نظر اس پر ہے جو کسی طرح کے مک مکا سے نہیں مانتی. 
.
عظیم الرحمٰن عثمانی

Thursday, 14 August 2014

جشن آزادی مبارک دوستو

جشن آزادی مبارک دوستو 

چودہ اگست ١٩٤٧ کی وہ سرد رات ..
شمال مشرق کی جانب سے ایک نوجوان .. اپنے چہرے پر میلوں کی مساوت کی تھکاوٹ سجائے ہوئے.....
اور بکسوں کی صورت ہاتھوں میں بار گراں اٹھائے ہوئے..
لڑکھڑاتا ڈگمگاتا .. چلا آرہا ہے ..
.
یہ نوجوان اپنی عمر بھر کی پونجی..
دوست، احباب، عزیز، رشتہ دار ..
سب گنوا چکا ہے ..
.
مگر چہرہ پر عجب سی طمانیت ہے .. لبوں پر مسکراہٹ رقصاں ہے .. اور آنکھیں ہیں کہ شکرانہ خدا سے بھیگی جاتی ہیں.. سرزمین خداداد پر پہنچتے ہی گرتا ہے .. اور سجدہ ریز ہوجاتا ہے ..
.
وقت تھم جاتا ہے .. چاروں اطراف خاموشی چھا جاتی ہے .. مگر چشم فلک کو کوئی اچمبا محسوس نہیں ہوتا ..
کیونکہ اس نے ان دنوں ایسے ہزاروں نہیں، لاکھوں نہیں، کروڑوں جیالوں کو ، بچوں کو، بوڑھوں کو، عورتوں کو .. اس سے زیادہ ابتر حالت میں اسی سرزمین پر سجدہ ریز ہوتے دیکھا تھا ..

.
ان تمام کے پاس نہ کھانے کو روٹی تھی، نہ پہننے کو کپڑا، نہ رہنے کو کوئی چھت ..
مگر دل میں اطمینان تھا .. کہ ہاں ! یہی ملک ہمارا سب کچھ ہے اور یہی وطن ہمیں ہمارا سب کچھ دے گا ..
.
آج تشکیل پاکستان کے پورے اڑسٹھ سال بعد ..
جب ہم دنیا کی ساتویں اور اسلامی دنیا کی پہلی ایٹمی قوت بن چکے ہیں ..
جب ہمارے دفاع و عسکری قوت کو ناقابل تسخیر تصور کیا جاتا ہے ..
جب ہمیں معدنیات سے مالامال سمجھا جاتا ہے ..
جب ہمارے پاسس بہترین و ذہین اذہان ہیں ...
جب ہماری معیشت کی بحالی کی سینکڑوں صورتیں موجود ہیں ..
.
تب .. دوستو .. تب
.
اٹھارہ کروڑ عوام کی زبان پر ایک ہی گردان جاری ہے ..
"میاں، اس ملک میں کچھ نہیں رکھا ، یہ وطن ہمیں کچھ نہیں دینے کا"
.
چودہ اگست کی اس رات کو ہمارے پاس کچھ نہیں تھا .. مگر سب کچھ تھا ..
اور آج کہنے کو ہمارے پاس بہت کچھ ہے .. لیکن سچ پوچھو تو کچھ بھی نہیں ہے ..
.
ہم نے الله رب العزت کی اس عظیم نعمت کی قدر نہ کی جو ہمیں آزادی کی صورت میں رضا الہی سے حاصل ہوئی .. ہم نے ان قربانیوں کو مدفون کر دیا جو آج بھی کہیں اسی سرزمین کی گود میں دفن ہیں ..
.
ہمارے سامنے آج پھر ایک اور جشن آزادی ہے جو خود غرضی اور استبداد سے کانپ رہا ہے ..
.
آنکھوں میں چھپائے اشکوں کو ..
ہونٹوں پر وفا کے بول لئے ..
اس جشن میں ، میں بھی شامل ہوں !
نوحوں سے بھرا کشکول لئے ..

.
عظیم نامہ

Tuesday, 12 August 2014

یہ عشق کیا ہے ؟ کیا یہ نکما بنا دیتا ہے ؟

 
 
سوال: یہ عشق کیا ہے ؟ کیا یہ نکما بنا دیتا ہے ؟
.


جواب: بھائی دیکھو .. عشق کوئی احسن شے نہیں ہے جسکے حصول کیلئے مجاہدہ کیا جائے. اگر کسی بیماری کی طرح زبردستی لگ جائے تو اور بات وگرنہ عشق ایک غیر متوازن رویہ ہے جس میں انسان خرد و توازن سے بیگانہ ہوکر ایک ہی جانب مرکوز و مبہوت ہوجاتا ہے. دین نے ہمیں محبت کرنا سکھایا ہے، شدید محبت کرنا سکھایا ہے مگر عشق کی تلقین بلکل نہیں کی. محبت میں توازن و حسن ہوتا ہے، یہ ایک ہی وقت میں بہت سے مخاطب بنا لیتی ہے. والدین سے محبت، رب سے محبت، رسول سے محبت، مسلمانو سے محبت، انسانوں سے محبت، بچوں سے محبت وغیرہ. عشق میں معشوق کے سوا سارے رشتے معدوم ہو کر رہ جاتے ہیں جو دین کی منشاء نہیں
.


معشوق اور محبوب میں فرق ہوتا ہے ، عاشق اور محب ہم معنی نہیں .. مجھے اندازہ ہے کہ اگر کسی عشق کے دعویدار کو یہ کہا جائے کہ وہ عاشق نہیں بلکہ محب ہے تو اسے یہ اپنے جذبہ کی توہین لگتی ہے مگر اکثر عاشق محب ہیں عاشق نہیں.

عشق میں دوئی ہوتی ہی نہیں ، وہ تو جنون ہے ، پاگل پن ہے، یکسوئی ہے. اس میں محبوب نظر کے سامنے نہ ہو تو سانس نہیں آتی ، صحت چاہ کر بھی ساتھ نہیں دیتی اور فراق جان لے کر دم لیتا ہے. یہی عشق کا دستور ہے. ہر چہرہ اپنے معشوق کا چہرہ دکھتا ہے اور حالت یہ ہوتی ہے کہ پہلے اردگرد بھول جاتا ہے اور پھر اپنا وجود بھی بھول کر محبوب کا عکس بن جاتا ہے. اسی کیفیت کو صوفیاء فنا فی الوجود سے تعبیر کرتے ہیں. عشق مجازی میں فرق بس اتنا ہے کہ اس میں محبوب خالق نہیں بلکہ ایک انسانی پیکر ہوتا ہے. یہ پنجابی شعر سنو

رانجھا رانجھا کر دی نی میں ، آپے رانجھا ہوئی
سدّو نی مینوں دھیدو رانجھا ، ہیر نہ آکھو کوئی


کہتے ہیں کہ مجنوں نے ایک روز اپنی لیلیٰ کی آمد کا سنا تو اسکی جھلک دیکھنے کے لئے اونٹ سے چھلانگ لگا دی. نتیجہ یہ نکلا کہ زخمی ہو گیا مگر شوق بیتابی میں آگے بڑھتا گیا. اب عقلمند یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اس بیوقوف نے چھلانگ کیوں لگائی ؟ آرام سے سلیقے سے اتر آتا تو چوٹ نہ لگتی. لیکن انہیں کون سمجھائے؟ کہ عشق میں انسان ایسے حساب کتاب سے ناآشنا ہوتا ہے. البتہ محبت میں شدید طلب میں بھی عقل کا ساتھ رہتا ہے

بوعلی سینا کے پاس ایک قریب المرگ لڑکا لایا گیا بوعلی سینا نے ملاحضے کے بعد ایک بندے کو کہا کہ اس شہر میں جتنے محلے ہیں انکا نام لو ، اس نے نام لیا بوعلی سینا نے نبض تھام رکھی تھی پھر ایک محلے پر کہا اسمیں جتنے گھر ہیں انکا نام لو اس نے نام لیا ایک گھر پر کہا کہ اس گھر میں جو افراد ہیں انکا نام لو ، ایک لڑکی کے نام پر کہا اسکی شادی اس سے کردو یہ مریض عشق ہے. یہ ہوتا ہے عشق ۔ نہ بیان ، نہ اقرار ، نہ وصل بس عشق ہی عشق یعنی کے بندہ عین عشق بن جائے کوئی بڑا حکیم ہی پہچان سکے
 

میری دعا ہے کہ الله آپ کے حق میں بہترین راستہ فراہم کریں اور آپ کو اس پر راضی کر دیں آمین. میری اپنی کہانی اگر میں آپ کو سناؤں تو حیران ضرور ہو جائیں ، کوئی پیمانہ تو نانپنے کے لئے نہیں ہے مگر شائد آپ میری کہانی کو زیادہ شدید پائیں مگر اسکے باوجود میں خود محبت کرنے والا سمجھتا ہوں عاشق نہیں
 
====عظیم نامہ====

Monday, 11 August 2014

کیا دعا مانگنا ایک مذہبی دھوکہ ہے ؟

 

کیا دعا مانگنا ایک مذہبی دھوکہ ہے ؟

 

اکثر افراد کا گمان یہ ہوتا ہے کہ غالباً دعا محض ایک تقاضہ کا نام ہے. یعنی وہ یہ گمان رکھتے ہیں کہ دعا کسی تقاضہ کو پیش کرنا ہے کہ میری فلاں خواہش پوری ہوجائے. یہ تعبیر درست نہیں ہے. دعا اپنے رب سے صرف ایک تقاضہ نہیں بلکہ یہ سائل کی داخلی کیفیت کا عکس بھی ہے. آپ کے اندر جو بھی کیفیت ہوتی ہے یہ اس کا مظہر ہے.  یہ بندہ کا اپنے رب سے زندہ تعلق ہے جسکے ذریعے وہ اپنے  بنانے والے سے مخاطب ہوتا ہےلہذا کسی شخص کا یہ سوچ کر دعا کو     ترک کر دینا کہ اس سے اسکا کوئی تقاضہ یا مراد نہیں بر آئی حماقت ہے . یہ ایسا ہی ہے کہ  آپ نے دعا  کے ایک پہلوپر غورکیا اور اسکے بقیہ تمام پہلوؤں کو نظر انداز کر دیا اور نتجتاً اسکے بشمار ثمرات سے خود کو محروم کر بیٹھے
ہم سب اس حدیث سے واقف ہیں جس میں بتایا گیا ہے کہ دعا عبادت کا مغز ہے. آپ نماز کا جائزہ لے کر دیکھیں ، معلوم ہوگا کہ سورہ فاتحہ سے لے کر التحیات تک اور درود شریف سے لے کر سلام بھیجنے تک سب کی سب دعا ہی ہے. اس کے علاوہ دعا کا ایک نمائندہ پہلو یہ بھی ہے کہ یہ آپ کی توجہ کا ارتکاز کرتی ہے. جب آپ کسی دعا کو مستقل مزاجی، خلاص اور قبولیت کے یقین کے ساتھ مسلسل کرتے ہیں تو اس دعا کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اس میں ادا کئے گئے کلمات عمل میں ڈھلتے چلے جاتے ہیں یعنی جب آپ بار بار صدق دل سے یہ استدعا کرتے ہیں کہ ' یا رب ! مجھے نیکی کی توفیق دے اور گناہ سے بچنے والا بنا ' .. تو کچھ ہی عرصہ میں آپ یہ محسوس کریں گے کہ آپ کا مزاج نیکی کی جانب پہلے سے زیادہ راغب ہوگیا ہے. یہ ایک فطری اثر ہے جو انسانی طبیعت پر مرتب ہوتا ہے. اس کا ایک تجربہ آپ یوں کر سکتے ہیں کہ کوئی دس بیس بار دن میں یہ دہرائیں کہ

 'یہ کیا بیکار زندگی ہے ؟ میری تو قسمت ہی خراب ہے'

آپ محسوس کریں گے کہ جلد ہی آپ کا ذہن اس مایوسی کو قبول کرلے گا اور اپنی زندگی سے اکتاہٹ محسوس ہونے لگے گی. اسی طرح اب آپ دس بیس بار دن میں یہ دہرا کر دیکھیں کہ

'میں لاکھوں کروڑوں لوگوں سے زیادہ خوش نصیب ہوں، یا میرے رب آپ کا بہت بہت شکریہ'

 کچھ ہی دنوں میں آپ واقعی اس بات کے قائل ہو جایئں گے اور جذبہ تشکر آپ کے دل میں گھر کرلے گا. کہنے کا مقصد یہ ہے کہ جہاں دعا کے پہلوؤں میں تقاضہ، داخلی کیفیت کا اظہار اور اپنے رب سے گفتگو شامل ہیں وہاں اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ یہ آپ کے ذہن کو مثبت سمت لے جاکر عمل کی جانب راغب کرتی ہے. دنیا بھر کے علم نفسیات کے ماہرین اور ہپناٹزم کے استاد یہی طریق اپناتے ہیں. وہ آپ کے ذہن کو بار بار مسلسل مثبت باتیں سناتے ہیں ، جنہیں انکی زبان میں مائنڈ سجیشن کہا جاتا ہے. رفتہ رفتہ یہ مثبت سجیشن آپ کی منفی سوچ و عادات کو ختم کرتے چلے جاتے ہیں اور بلاخر انسان وہ کیفیت حاصل کرپاتا ہے جس کا وہ متمنی تھا. اسکا لازمی نتیجہ عمل کی صورت میں نکلتا ہے. آج اسی طریق سے ہپناٹست ایکسپرٹ وزن کم کروانے سے لے کر سگریٹ نوشی ترک کرنے تک کا کام کر رہے ہیں

معاملہ صرف یہاں تک نہیں ہے بلکہ اگر آپ کی دعا آپ کی بھلائی میں ہے اور الله رب العزت کے اجتماعی نظم سے نہیں
ٹکراتی تو پھر اسے فرشتوں کی تائید حاصل ہو جاتی ہے. اسی حوالے سے یہ کہا جاتا ہے کہ فرشتے مومنین پر سکینت نازل کرتے ہیں یا وہ بھی ہماری دعاؤں پر آمین کہتے ہیں. یہ جاننا ضروری ہے کہ ملائکہ ، خالق کائنات کی جانب سے فطرت کی مختلف قوتوں پر مامور ہیں لہٰذا الله کی اجازت سے انکی تائید کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے اردگرد کے حالات و واقعات آپ کے موافق ہوتے چلے جائیں یعنی آپ دیکھیں گے کہ اچانک سے کوئی ایسی سبیل پیدا ہوگئی جو پہلے نگاہ سے اوجھل تھی یا وہ عوامل جو آپ کے خلاف شدت سے کام کر رہے تھے اب انکی شدت دم توڑ رہی ہے اور آہستہ آہستہ آپ کو موقع فراہم کرنے لگے
اس بات کو ہرگز یہ نہ سمجھیں کہ یہ کوئی مذہبی بھڑک ہے جو مذھبی افراد عقیدہ کی عینک سے ہی دیکھ سکتے ہیں. بلکہ مشہور غیرمذہبی افراد بھی اس غیبی مدد کو طرح طرح کے ناموں سے منسوب کرتے آئے ہیں. کچھ اسے فطرت ماں (مدر نیچر) کے پوشیدہ قوانین کہہ کر پکارتے ہیں تو کچھ کہ نزدیک یہ انسانی دماغ کی پوشیدہ کشش ہے. مغرب کے ایک مشہور مفکر نپولین ہل نے ١٩٣٨ میں ایک شاہکار کتاب تحریر کی، جس کا نام ہے ' تھنک اینڈ گرو رچ' .. یہ کتاب انسانی تاریخ کی سب سے زیادہ مشھور کتابوں میں شمار کی جاتی ہے. اپنے پہلے ایڈیشن سے لے کر ستر سال تک یہ بار بار بیسٹ سیلنگ لسٹ میں آتی رہی اور آج بھی لوگ اسے ایسے ہی زوق و شوق سے پڑھتے ہیں. اس کتاب میں ایسا کیا ہے ؟ تو جناب اس کتاب میں مصنف نے کامیابی کے لئے کامیاب سوچ کے طریقہ کار بیان کئے ہیں اور سب سے بڑھ کر صاحب کتاب نے ایک غیبی قانون کا انکشاف کیا ہے جسے وہ قانون جاذبیت یا لاء آف ایٹریکشن کے نام سے موسوم کرتا ہے. آپ یقیناً میری بات پر ہنسیں گے مگر اس پیش کردہ قانون کو بیان کرتے ہوئے نپولین صاحب وہی فرماتے ہیں جو آج کل بالی وڈ کے شاہ رخ خان اپنی ایک ہندی فلم میں فرماتے ہیں کہ
"کہتے ہیں اگر کسی چیز کو دل سے چاہو تو پوری کائنات اسے تم سے ملانے کی کوشش میں لگ جاتی ہے"


یعنی نپولین صاحب کے بقول اگر کوئی شخص سچے دل سے کوئی شے مانگتا ہے اور اسکے بارے میں مسلسل سوچتا رہتا ہے تو کچھ ہی دنوں میں اسکے اردگرد مواقع جنم لینے لگتے ہیں اور راستہ پیدا ہوجاتا ہے جس پر چل کر وہ شخص اپنی مراد کو پاسکتا ہے. اب وہ اسکے بعد عملی کوشش نہ کرے تو اور بات. اب یہ مواقع اور مدد کیسے پیدا ہوجاتی ہے ؟ اسکے بارے میں نپولین صاحب کچھ کہنے سے قاصر ہیں. بہرحال وہ اسے خدائی مدد کی جگہ ایک اندھے بہرے قانون کی حیثیت دیتے ہیں. نپولین کے بعد بیشمار مفکرین نے اسی وہ قانون جاذبیت یا لاء آف ایٹریکشن کو موضوع بنا کر ان گنت کتابیں تحریر کی ہیں
اسی طرح برطانیہ کے معروف ترین ہپناٹسٹ اور سیلف ہیلپ ایکسپرٹ ' پال میک کینا ' اپنی مشہور کتابوں جیسے ' انسٹنٹ کانفیڈنس (فوری اعتماد) ' میں یہ سکھاتا ہے کہ اگر کچھ حاصل کرنا چاہتے ہو تو اسے ذہن میں خوب سوچو ، یہاں تک کہ اگر وہ حقیقت میں حاصل نہ بھی ہو تب بھی تمھیں ایسا لگے کہ وہ تمھیں حاصل ہو چکی ہے. یعنی اگر رئیس بننا چاہتے ہو تو ذہن میں تصور کو پکا کرو کہ تمہارے پاس عالیشان بنگلہ ہے، بہترین گاڑی ہے، بے حساب پیسہ ہے. جب یہ تصور پکا ہو جائے تو اسکے حصول کی جانب قدم بڑھاؤ ، تم دیکھو گے کہ مشکلات آسان ہو رہی ہیں. غیبی مدد ہونے لگے گی ، یہاں تک کہ وہ من پسند خواہش حاصل ہو جائے گی. شرط صرف یہ ہے کہ پورے یقین کے ساتھ یہ تقاضہ اپنے ذہن میں بیٹھا لو. یہ کیسے ہوتا ہے ؟ اس کا کوئی قابل تشفی جواب حضرت کے پاس سے نہیں ملتا. دل چاہتا ہے کہ انہیں رسول الله صلی الله و الہے وسلم کی وہ احادیث سناؤں جن میں یہی تربیت کی گئی ہے کہ ہمیشہ قبولیت کے پورے یقین کے ساتھ دعا مانگو اور پھر عمل میں لگ جاؤ. نمونہ کے طور پر بخاری شریف کی ایک حدیث کا مفہوم درج کر رہا ہوں
ابو ہریرہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی پاک صلی اللہ و الہے وسلم نے فرمایا

تم میں سے کوئی ایسا نہ کہے کہ ' اے الله ، مجھے معاف کردیں اگر آپ چاہتے ہیں' (یا پھر) 'اے الله مجھ پر رحم فرمائیں اگر
 آپ چاہتے ہیں' بلکہ الله سے دعا پوری قبولیت کے یقین کے ساتھ مانگو، کوئی الله کو کسی کام کے کرنے پر اسکی مرضی کے خلاف مجبور نہیں کرسکتا
یہ کسی ایک ماہر نفسیات کا حال نہیں ہے بلکہ ایک عظیم اکثریت اسی طرح غیبی مدد کی تاویلیں گھڑتی نظر آتی ہے. اگر طوالت کا خوف دامن گیر نہ ہوتا تو میں آپ کو اور ایسے ہی ملتے جلتے فلسفے سناتا جو آج کی 'مہذب' دنیا نے الہامی کتابوں کا انکار کرکے بھی اپنا رکھے ہیں. ایسی ہی ایک اور مثال ان افراد کی ہے جو اکثر مذہب کے منکر ہوتے ہیں مگر خود کو روحانی یا سپرچولسٹ کہتے ہیں. ان کا ماننا یہ ہوتا ہے کہ جیسے ایک انفرادی شعور ہے ہر انسان کے پاس ، اسی طرح ایک اجتماعی شعور بھی اس کائنات میں کارفرما ہے جس سے اگر تعلق جوڑ لیا جائے تو غیبی امداد ہونے لگتی ہے
 یہ ان حضرات کی سمجھ ہے جو خدا پر یا تو یقین نہیں رکھتے اور اگر رکھتے بھی ہیں تو واجبی سا. ان میں اور ہم میں فرق بس اتنا ہے کہ ہمارے سامنے دعا کا ایک منظم تصور موجود ہے اور ہمیں معلوم ہے کہ یہ غیبی مدد ملائکہ کی حمایت اور ہمنوائی سے حاصل ہوتی ہے جبکہ یہ اپنی تاویلیں خود ایجاد کرتے رہتے ہیں. لہٰذا ایک برتر قوت کو تسلیم کرکے اس سے کوئی استدعا کرنا یعنی دعا مانگنا اور پھر عمل کرتے ہوئےغیبی مدد کی امید رکھنا کوئی دقیانوسی یا کھوکھلی بات نہیں ہے

 دعا کے تصور کو ٹھیک سے سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم تقدیر کے اسلامی تصور کو مختصر سمجھ لیں. تقدیر در حقیقت دو حصوں میں منقسم ہے. پہلا حصہ ہے ' تقدیر جبری ' یعنی وہ تقدیر جسے بدلا نہیں جاسکتا جیسے آپ کا رنگ، نسل، خاندان، موت کا طے شدہ وقت وغیرہ. دوسرا حصہ ہے ' تقدیر اختیاری ' یعنی وہ تقدیر کہ جسے الله نے آپ کے ارادے، عمل اور دعا سے مشروط کر رکھا ہے مثال کے طور پر فلاں شخص کو صحت مل جائے گی ' اگر ' وہ پرہیز کرے گا. یا فلاں شخص فتح یاب ہوگا ' اگر ' عمل کے ساتھ ساتھ دعا کا بھی اہتمام کرے گا وغیرہ

=====


دعائیں نظر نہیں آتیں مگر ناممکن کو ممکن بنا دیتی ہیں ۔...

مولانا وحیدالدین خان صاحب اپنی کتاب میں ایک خوبصورت مثال بیان کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ


ایک غریب خاندان کے لڑکے نے اپنے باپ سے کہا 'میرے لئے بائیسکل خرید دیجئے'.. باپ کے لئے بائیسکل خریدنا مشکل تھا' اس نے ٹال دیا.. لڑکا بار بار کہتا رہا اور باپ بار بار منع کرتا رہا.. آخرکار ایک روز باپ نے ڈانٹ کر کہا.. "میں نے کہہ دیا کہ میں بائیسکل نہیں خریدوں گا.. آئندہ مجھ سے
اس قسم کی بات مت کرنا.."
یہ سن کر لڑکے کی آنکھ میں آنسو آگئے.. وہ کچھ دیر تک چپ رہا.. اس کے بعد روتے ہوئے بولا.. "آپ ہی تو ہمارے باپ ہیں پھر آپ سے نہ کہیں تو کس سے کہیں _____!!"
اس جملہ نے باپ کو تڑپا دیا.. اچانک اس کا انداز بدل گیا.. اس نے کہا.. "اچھا بیٹے ! اطمینان رکھو.. میں تم کو ضرور بائیسکل دوں گا.." یہ کہتے ہوئے باپ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے.. کچھ دنوں میں اس نے پیسے پورا کرکے بیٹے کے لئے نئی بائیسکل خرید دی..


لڑکے نے بظاہر ایک لفظ کہا تھا مگر یہ ایسا لفظ تھا جس کی قیمت اس کی اپنی زندگی تھی جس میں اس کی پوری ہستی شامل ہو گئی تھی.. اس لفظ کا مطلب یہ تھا کہ اس نے اپنے آپ کو اپنے سرپرست کے آگے بالکل خالی کردیا ہے.. یہ لفظ بول کر اس نے اپنے آپ کو ایک ایسے نقطہ پر کھڑا کردیا جہاں اس کی درخواست اس کے سرپرست کے لئے بھی اتنا بڑا مسئلہ بن گئی جتنا وہ خود اس کے اپنے لئے تھی..

یہ انسانی واقعہ خدائی واقعہ کی تمثیل ہے.. اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کون سی دعا ہےجو لوٹائی نہیں جاتی.. یہ وہ دعا ہے جس میں بندہ اپنی پوری ہستی کو انڈہل دیتا ہے.. جب بندہ کی آنکھ سے عجز کا وہ قطرہ ٹپک پڑتا ہے جس کا تحمل زمین و آسمان بھی نہ کر سکیں.. جب بندہ اپنے آپ کو اپنے رب کے ساتھ اتنا زیادہ شامل کرلیتا ہے کہ "بیٹا"اور "باپ" دونوں ایک ترازو پر آجاتے ہیں..

یہ وہ لمحہ ہے جب کہ دعا محض زبان سے نکلا ہوا ایک لفظ نہیں ہوتی بلکہ اپنی شخصیت کو مٹا دینے' ختم کردینے کی انتہا بن جاتی ہے.. اس وقت خدا کی رحمتیں اپنے بندے پر ٹوٹ پڑتی ہیں.. بندگی اور خدائی دونوں ایک دوسرے سے راضی ہو جاتے ہیں.. قادر مطلق ___ عاجز مطلق کو اپنی آغوش میں لے لیتا ہے.. جب انسان اپنے رب پر اس قدر بھروسا کر لیتا ہے کہ اس کے علاوہ کوئی بھی اسکی ضرورت پوری کرنے والا نہیں تو اللہ بھی اپنے بندے کو مایوس نہیں لوٹاتا.. اس کی دعا ضرور قبول کرتا ہے_____!!

"""" مولانا وحیدالدین خان """""

حقیقی دعا آدمی کی پوری ہستی سے نکلتی ہے نہ کہ زبانی الفاظ سے.. یہ ایک حقیقت ہے کہ خدا سے مانگنے والا کبھی محروم نہیں رہتا مگر مانگنا صرف الفاظ دہرانے کا نام نہیں..
مانگنا صرف وہی مانگنا ہے جس میں آدمی کی پوری ہستی شامل ہوگئ ہو.. ایک شخص زبان سے کہ رہا ہو.. "خدایا مجھے اپنا بنالے.." مگر عملا" وہ اپنی ذات کا بنا رہے تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس نے مانگا ہی 
نہیں..

ایک بچہ اپنی ماں سے روٹی مانگے تو یہ ممکن نہیں کہ ماں اس کے ہاتھ پر انگارہ رکھ دے..
خدا اپنے بندوں پر تمام مہربانوں سے زیادہ مہربان ہے.. یہ ممکن نہیں کہ آپ خدا سے خشیت مانگیں اور وہ آپ کو قساوت دے دے.. آپ خدا کی یاد مانگیں اور وہ آپ کو خدافراموشی میں مبتلا کردے.. آپ آخرت کی تڑپ مانگیں اور خدا آپ کو دنیا کی محبت میں ڈال دے.. آپ کیفیت سے بھری ہوئی دینداری مانگیں اور اور خدا آپ کو بےروح دینداری میں پڑا رہنے دے.. آپ حق پرستی مانگیں اور خدا آپ کو گمراہی کے اندھیروں میں بھٹکتا رہنے دے..
آپ کی زندگی میں مطلوب چیز کا نہ ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ نے اس کو مانگا ہی نہیں..

اگر آپ کو دودھ خریدنا ہو اور آپ چھلنی لے کے بازار جائیں تو آپ پیسے خرچ کرنے کے باوجود خالی ہاتھ واپس آئیں گے.. اسی طرح اگر آپ زبان سے کلمات دہرا رہے ہوں اور آپ کی اصل ہستی کسی اور چیز کی طرف متوجہ ہو تو یہ کہنا مناسب ہوگا کہ نہ آپ نے مانگا اور نہ ہی آپ کو ملا..
کائنات کا مالک تو ہر صبح و شام اپنے تمام خزانوں کے ساتھ آپ کے قریب آکر آواز دیتا ہے.. "کون ہے جو مجھ سے مانگے تاکہ میں اسے دوں....." مگر جنہیں لینا ہے وہ غافل بنے ہوۓ ہیں تو اس میں دینے والے کا کیا قصور_________!!

مولانا وحیدالدین خان.. " کتابِ معرفت " صفحہ 361..

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
” بے شک دعا ہی عبادت ہے“
)ترمذی(
بعض لوگوںکا خیال ہے کہ ہم گناہ گار ہیں گنہگاروں کی دعا قبول نہیں ہوتی۔
یہ خیال شریعت کی رو سے بالکل غلط ہے۔
اے کاش ہم قرآن کو سمجھ کر پڑھیں تاکہ ہماری زندگیاں بدل جائیں۔
کیا شیطان سے بڑا مردود و ملعون بھی کوئی ہو سکتا ہے؟ نہیں۔
اس نے کھلم کھلا اللہ کے حکم کی نافرمانی کی اور اس کے بعد دعا کی ۔
” اے اللہ مجھے قیامت تک )لوگوں کو گمراہ کرنے کی( مہلت دے ۔
تو اللہ نے اس کی پکار قبول کرکے مہلت دے دی
)الحجر36:(
شیطان نے کسی نیک مقصد کے لئے دعا نہیں کی مگر پھر بھی قبول ہو گئی تو یہ سمجھنا کہ گناہ گاروں کی دعا قبول نہیں ہوتی محض شیطانی فریب و دھوکہ ہے۔
اگر کوئی شخص دعا کرتا ہے اور وقتی طور پر دعا قبول نہ ہو پھر دعا مانگنا چھوڑ دے یہ بھی غلط ہے۔
کیونکہ قبولیت دعا کی تین صورتیں ہیں۔
)۱( دعا بندے کی خواہش کے مطابق فوراََ قبول ہوجاتی ہے۔
)۲( اس کے بدلے اس کی دنیاوی کوئی آفت ٹل جاتی ہے۔
)۳( یااس کی دعا آخرت کے لئے ذخیرہ کردی جاتی ہے۔
)رواہ احمد

======

"دعا کی اھمیت"
*اگراللہ تمھاری دعائیں پوری کررھا ھے تو وہ تمھارا "یقیں"بڑھارھا ھے.....
*اگردعائیں پوری کرنے میں دیر کررھا ہے تووہ تمھارا"صبر"آزمارھا ھے...............
*اگرتمھاری دعاؤں کا جواب نھیں دے رھا تو وہ تمہیں آزمارھاھے.......
اس لیے ھمیشہ "دعا"مانگتے رھو کہ"دعا" ایک دستک کی طرح ھے اوربارباردستک دینے سے دروازہ کھلتاضرور ھے

======
أَمَّن يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاءَ الْأَرْضِ ۗ أَإِلَٰهٌ مَّعَ اللَّهِ ۚ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَ
النمل:62
ترجمہ: بھلا کون بیقرار کی التجا قبول کرتا ہے۔ جب وہ اس سے دعا کرتا ہے اور (کون اس کی) تکلیف کو دور کرتا ہے اور (کون) تم کو زمین میں (اگلوں کا) جانشین بناتا ہے (یہ سب کچھ خدا کرتا ہے) تو کیا خدا کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے (ہرگز نہیں مگر) تم بہت کم غور کرتے ہو

======
ہمارےمعاشرے میں دعا مانگنے کے عمل کے ساتھ ایک بڑا ہی عجیب سا رویہ بنا کر رکھا جاتا ہے۔ ضرورت کے وقت میں یا اللہ اور اے اللہ کی تکرار پوری رقت کے ساتھ کی جاتی ہےاور جب ضرورت ختم ہوئی تو دعائیں بھی ختم۔
اکثر و بیشتر صورتحال یوں ہوتی ہے کہ شیخ صاحب کی والدہ ہسپتال میں داخل ہوئی تو وہ نا صرف خود بلکہ امام صاحب کو کہہ کر دوسرے نمازیوں سے بھی نہایت خشوع و خضوع سے دعائیں منگواتے ہیں۔
میاں صاحب اپنے بیٹے کے مستقبل سے پریشان ہر نماز کے بعد اپنی پوری عاجزی نچھاور کرتے ہوئے دعاگو ہوتے ہیں۔
ملک صاحب اپنے مقدمے کی پریشانی میں، تو چودھری صاحب شفعہ اپنے حق میں کرانے کیلئے اللہ کے حضور میں دست بدعا ہوتے ہیں۔
یہ مناظر تبدیل ہو جائیں تو میاں صاحب کچھ یوں کہتے نظر آتے ہیں کہ بھائی دعائیں مانگ کر اور کرا کر بھی دیکھ لیں کوئی اثر نہیں ہوتا، اب تو میرا دعا مانگنے کو بھی دل نہیں کرتا۔
ملک صاحب اور چودھری صاحب تو بس بمشکل نماز ختم ہونے کا ہی انتظار کرتے ہیں کہ بیٹھک میں انہوں نے اپنے ملاقاتیوں سے جا کر ملنا ہوتا ہے ،
جبکہ شیخ صاحب تو امام مسجد کی 'پکی روٹی' نامی کتاب سے یاد کردہ روٹین کی دعاؤں کو ہی کافی سمجھتے ہیں ...
--------------
دعاؤں کیلئے ہمارا رویہ کیا ہونا چاہیئے؟

ہم روز پڑھتے اور سنتے ہیں کہ اصل عبادت دعا ہی ہوتی ہے اور دعا پورے بھروسے اور یقین کے ساتھ اسی طرح مانگی جائے جس طرح مزدور کام کر چکنے کے بعد مزدوری کا مطالبہ کرتا ہے۔
خود حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہما کو کئی دعائیں بالکل اس طرح یاد کرایا کرتے تھے جس طرح کہ قرآن کی آیتیں۔

ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم دعا تب مانگتے ہیں جب قرض سر پر چڑھ جائے ، گھر میں کوئی مریض ہو جائے یا امتحان سر پر ہوں۔ یا اگر ہم یہ دعا مانگیں کہ اے اللہ ہماری مغفرت فرما دے اور ہم پر رحم فرما دے ،تو بے دھیانی اور عدم رغبتی سے مانگتے ہیں۔

دعا اس وقت بھی مانگنی چاہیئے جب گھر پر سارے بچے ٹھیک ٹھاک ہوں اور زندگی مزے سے گزر رہی ہو اور اُس وقت بھی مانگنی چاہیئے کہ جب معاملات اس نہج پر ہوں کہ قادر مطلق کے بغیر کوئی مشکل کشائی کرنے والا نا 
ہو۔ بس اسی بات کی یاد دہانی کیلئے یہ آیت کریمہ پڑھیئے۔
إِنَّهُمْ كَانُوا يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَيَدْعُونَنَا رَغَبًا وَرَهَبًا ۖ وَكَانُوا لَنَا خَاشِعِينَ ﴿٩٠-سورة الأنبياء﴾
" یہ لوگ نیکی کے کاموں میں دَوڑ دھوپ کرتے تھے اور ہمیں رغبت اور خوف کے ساتھ پکارتے تھے، اور ہمارے 

آگے جھکے ہوئے تھے ۔"

===========


Tuesday, 5 August 2014

کیا دین آسان ہے ؟

 

کیا دین آسان ہے ؟

بعض حضرات دین کو اپنے اور دوسروں کیلئے مشکل بنانے میں جان لڑا دیتے ہیں. انہیں یہ نفسیاتی بیماری لاحق ہوجاتی ہے کہ غالباً مشکل رستہ اپنانے میں ہی حقیقی نجات ہے. وہ مائیکروسکوپ لگا کر چیزوں کو حرام قرار دیتے رہتے ہیں. جہاں حرام کہنے کی جگہ نہ ملے تو اسے مکروہ کے زمرے میں ڈال دیتے ہیں. سمندر کی مخلوقات میں سے ڈھونڈ ڈھونڈ کر حرام و مکروہ جانور پیش کرتے ہیں. کوئی بھی خبر مل جائے جو کسی روزمرہ کےکھانے کی شے کو حرام کرتی ہو تو بناء تصدیق کئے ، اسکے مبلغ بن جاتے ہیں. چاکلیٹ ، چپس سے لے کر کولڈ ڈرنک تک کوئی شے ان کے اس حرام مائیکروسکوپ سے محفوظ نہیں رہتی. کچھ کے نزدیک پینٹ شرٹ پہننا حرام اور کچھ کے نزدیک مکروہ قرار پاتا ہے. قصر نماز کی رعاعیت کو اس طرح ختم کرتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ لمبے سفر کی شرط لگا دی جائے. ظہر اور عصر کو شدید ضرورت میں بھی ملانے نہیں دیتے، یہ کہہ کر کہ اس آسانی کا مطلب یہ ہے کہ ٹھیک اس لمحہ نماز پڑھو جب ظہر ڈھل رہی ہو اور عصر شروع ہو رہی ہو. اب ظاہر ہے ایسا کمال کا حساب تو کوئی عام انسان کرنے سے رہا لہٰذا اس آسانی کا ہی خاتمہ ہوجاتا ہے. مشکل صورت میں جو موزوں پر مسح کرنے کی اجازت دی گئی ہے .. اسے بھی یہ کہہ کر ناممکن سا بنا دیا گیا ہے کہ اگر چمڑے کے موزے نہ ہوں تو مسح جائز نہیں .. یہاں بھی نہیں رکتے بلکے کہتے ہیں کہ ایسے موزے کو پہن کر اتنے میل چل سکتے ہو اور وہ نہ پھٹے تب جائز ہے. اب بتایئے کون مسح کرے گا ؟
 
 
سنت نمازوں کو بھی بلکل فرض بنا دیں گے اور اسکی بھی قضاء پڑھنے پر اصرار کریں گے. سفر میں اگر کوئی روزہ چھوڑنا چاہے تو اسے کہتے ہیں کہ اب پہلے جیسا سفر نہیں لہٰذا روزہ چھوڑنا جائز نہیں. یہ اور  جیسی معلوم نہیں کتنی خود ساختہ پابندیاں عائد کر کے یہ اس احساس میں سرشار رہتے ہیں کہ دین کی خدمت ہو رہی ہے. اسلام سے باہر ہونے سے لے ک نکاح منسوخ ہو جانے کی دھمکی تک سے نہیں چوکتے. قران مجید میں بارہا یہ بیان ہوا ہے کہ دین پر عمل کو آسان بنادیا گیا ہے. یہ بھی بتایا گیا ہے کہ تم ہوتے کون ہو اللہ کی زینتوں کو خود سے حرام کرنے والے؟ بخاری کی ایک حدیث میں بھی یہ کہا گیا ہے کہ 
 
بیشک دین آسان ہے اور جو شخص دین میں سختیوں کو اختیار کرے گا ، دین اس پر غالب آجائے گا (یعنی وہ دین پر اس سختی سے ٹھیک طرح نہیں چل سکے گا) تو اپنے اعمال پر پختگی اختیار کرو اور جہاں تک ممکن ہو میانہ روی برتو اور خوش ہوجاؤ 
 
اسی طرح بخاری میں ہی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
 
جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو چیزوں میں سے ایک کو اختیار کرنے کا اختیار دیا گیا تو آپ نے ہمیشہ ان میں آسان چیزوں کو اختیار فرمایا ..
 
 شریعت کو اپنے لئے مشکل بنا لینا قران حکیم کے بیان کے مطابق بنی اسرئیل کے بھٹکے ہوئےعلماء کا عمل تھا جس کی بھرپور مذمت کی گئی ہے. الله ہمارے لئے دین پر عمل کو آسان بنائیں اور ہمیں آسانیاں تقسیم کرنے والا بنا دیں. آمین
.
 
====عظیم نامہ====

Monday, 4 August 2014

امام مہدی رح -- حقیقت یا فسانہ -- ایک تحقیقی جائزہ

امام مہدی رح 

حقیقت یا فسانہ -- ایک تحقیقی جائزہ


 
 
 
حضرت مولانا مفتی نظام الدین شامزئی شہید رح کی تصنیف 'عقیدہ ظہور مہدی' کا حال ہی میں مطالعہ کیا ہے ، ساتھ ہی امام مہدی کے نزول کے مخالف جو رائے کچھ اہل علم نے پیش کی ہے ، اسکو بھی سمجھنے کی کوشش کی. کچھ حقائق جو سامنے آئے ہیں ، انکا خلاصہ یہاں درج کر رہا ہوں
 
 
١. نزول مہدی کے متعلق کوئی بھی واضح حدیث صحیحین یعنی صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں موجود نہیں ہے
 
٢. حدیث کی پہلی نمائندہ کتاب موطا ابن مالک میں بھی اس حوالے سے کوئی حدیث موجود نہیں ہے
 
٣. نزول مہدی سے متعلق جن احادیث کا ذکر کیا جاتا ہے وہ حدیث کی دوسرے درجہ کی کتب میں درج ہیں جیسے سنن ابن ماجہ ، سنن ترمزی، سنن ابو داؤد وغیرہ
 
٤. ان درج احادیث کی اکثریت ضعیف یا موضوع ہے
 
٥. گنتی کی چند احادیث ایسی ہیں جنہیں کچھ محدثین نے صحیح یا حسن کا درجہ دیا ہے
 
٦. احادیث بہت زیادہ کثرت اور تواتر سے موجود ہیں. ان کی تعداد درجنوں میں ہے. اگر بغیر مہدی کے نام والی احادیث بھی شامل کر لی جائیں جو مہدی کی طرف کسی نہ کسی حوالے سے اشارہ کرتی ہیں تو یہ تعداد بڑھ کر سو سے زیادہ ہو جائے
 
٧. امام مہدی کا نام مہدی نہیں ہوگا. مہدی تو دراصل ایک خطاب ہے جس کے معنی ہیں ہدایت والا
 
٨. امام مہدی کا نام محمد اور والد کا نام عبداللہ بتایا گیا ہے
 
٩. یہ عرب نسل ہونگے اور بی بی فاطمہ رضی الله عنہا کی نسل سے پیدا ہونگے
 
١٠. خراسان سے ایک فوج نکلے گی جو سیاہ جھنڈے والی ہوگی اور ہتھیاروں میں عرب اقوام سے جدید و طاقتور ہوگی. اسکی کمان ایک وقت بعد مہدی سنبھالیں گے
 
١١. مہدی کی فوج جب باطل سے ٹکرائے گی تو ایک وقت میں وہ تین جھنڈوں کے نیچے ہونگے اور باطل سات جھنڈوں کے نیچے ہونگے
 
١٢. کچھ بڑے علماء اور محدثین امام مہدی کے ضمن میں درج روایات کو تواتر کے اصول پر تسلیم کرتے ہیں جیسے امام ذہبی، امام جلال الدین سیوطی ، علامہ شوکانی وغیرہ
 
١٣. کچھ علماء اس ضمن کی کی احادیث کو صحیح کہتے ہیں جیسے امام ابن تیمیہ رح ،علامہ شبیر احمد عثمانی رح ، ملا علی قاری ، امام ابو داؤد وغیرہ
 
١٤. صحیح بخاری میں گو براہ راست کوئی حدیث ایسی نہیں جسے امام مہدی پر حتمی قیاس کیا جاسکے مگر ایک حدیث کے الفاظ سے مہدی کے لئے علماء استدلال کرتے ہیں. الفاظ ہیں وامامکم منکم
 
١٥. حافظ ابن حجر رح جنہوں نے بخاری کی سب سے عمدہ شرح فتح الباری لکھی ہے وہ بھی امام مہدی کے نزول کے تواتر کی بنیاد پر قائل ہیں
 
١٦. امام ترمزی اور امام ابو داؤد نے نہ صرف احادیث بیان کی ہیں بلکہ نزول مہدی پر پورا علیحدہ باب وقف کیا ہے
 
١٧. امام مہدی کی آمد کو یکسر مسترد کرنے والے اور اس ضمن کی تمام احادیث کو ضعیف کہنے والے سب سے پہلے اور نمایاں اسلامی شخصیت ، امام ابن خلدون رح کی ہے
 
١٨. ابن خلدون گو کے ایک بڑے صاحب علم تھے مگر ان کی اصل شہرت اور مہارت مورخ کی ہے یعنی وہ ایک تاریخ دان
تھے
 
١٩. ایک قلیل علماء کی تعداد ابن خلدون کی رائے کو تسلیم کرتی ہے جیسے مولانا اختر شیرانی یا جاوید احمد غامدی صاحب
 

٢٠. کچھ علماء ایسے بھی ہیں جو اس ضمن میں پیش کردہ صحیح احادیث کو خلیفہ عمر بن عبدالعزیز پر قیاس کرتے ہیں جیسے جاوید احمد غامدی صاحب

٢١. مولانا ابو اعلی مودودی رح بھی امام مہدی کی آمد کے قائل ہیں مگر صاف کہتے ہیں کہ چونکہ یہ عقیدہ قران مجید میں مذکور نہیں اسلئے اسے ماننا یا نہ ماننا ایمان کا حصہ نہیں
 
=======================
یہ سب باتیں یہاں درج کرنے کا مقصد کچھ ثابت کرنا نہیں ہے بلکہ اپنے حالیہ مطالعہ کو آپ سے بانٹنا ہے
=======================
.
====عظیم نامہ====

Sunday, 3 August 2014

عذاب قبر - قران حکیم اور احادیث مبارکہ کیا کہتے ہیں ؟



قبر میں جزا و ثواب کی کیا نوعیت ہوگی؟ کیا یہ قران و حدیث سے ثابت ہے؟

 

قبر میں جزا و ثواب کی نوعیت کیا ہوگی ؟ اس بارے میں محققین کی مختلف آراء موجود ہیں. میں اس وقت انکا تقابلی جائزہ نہیں لوں گا بلکہ صرف اپنے تجزیہ سے آپ کو آگاہ کروں گا. پڑھنے والوں پر فرض ہے کہ وہ میری اس تحقیق کو ایک علمی کاوش سمجھیں اور اپنا نتیجہ خود قائم کریں

.
سب سے پہلے تو تمہیدی طور پر یہ جان لیں کہ یقین کے تین درجے ہیں ...پہلا درجہ ہے علم الیقین - یعنی وہ یقین جو علمی استدلال سے حاصل ہو. اس دنیاوی زندگی میں ہم سے صرف علم الیقین ہی مطلوب ہے. دوسرا درجہ ہے عین الیقین - یعنی آنکھوں دیکھا یقین، یہ وہ یقین ہے جو عالم برزخ یعنی یعنی موت کے بعد قبر میں حاصل ہوگا. تیسرا اور اعلیٰ ترین درجہ حق الیقین کا ہے جو روز محشر یعنی قیامت کے بعد قائم ہوگا. علم الیقین چونکہ اس مادی دنیا میں مطلوب ہے لہٰذا اس میں ہمارے مادی یعنی جسمانی حواس غالب ہیں. قبر میں کیونکہ جسم مٹی ہوجانے ہیں تو یہاں ہمارا روحانی وجود یا روحانی حواس کا غلبہ ہے لہٰذا معاملات بھی عین الیقین سے متعلق ہیں. روز حساب ہمارے جسمانی اور روحانی دونوں حواس پوری طرح بیدار ہونگے تو یہاں حقیقت اپنے دونوں پہلوؤں سے سامنے آئے گی جسے حق الیقین سے تعبیر کیا گیا ہے.

.
قران حکیم کے بیان سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نیند اور موت میں ایک یقینی مشابہت موجود ہے. نیند اور موت جیسے دو بہنیں ہیں. قران کی سورہ الزمر میں درج ٤٢ آیت ملاحظہ ہو

.
خدا لوگوں کے مرنے کے وقت ان کی روحیں (نفوس) قبض کرلیتا ہے اور جو مرے نہیں (ان کی روحیں) سوتے میں (قبض کرلیتا ہے) پھر جن پر موت کا حکم کرچکتا ہے ان کو روک رکھتا ہے اور باقی روحوں کو ایک وقت مقرر تک کے لئے چھوڑ دیتا ہے۔ جو لوگ فکر کرتے ہیں ان کے لئے اس میں نشانیاں ہیں

.
 
 
 

جس طرح نیند میں ہمارا شعور جزوی اور عارضی طور پر معطل ہوجاتا ہے اور جس طرح ہمارا لاشعور ہمارے خیالات کو خواب کی صورت میں تصویری خاکہ بنا دیتا ہے بلکل ویسے ہی موت میں اس سے ملتے جلتے لیکن کہیں زیادہ گہرے نفسی و روحانی تجربات پیش آیئنگے. اس بارے میں بابائے نفسیات فرائیڈ کی تحقیقات بھی قابل غور ہیں ، وہ کہتا ہے کہ خواب میں آپ کے جذبات و خیالات تصویری پیغام بن جاتے ہیں. انکی تعبیر بھی ہر شخص کے انفرادی تصورات کے مطابق جدا جدا ہوتی ہے. ایک مثال سے اسے سمجھتے ہیں، اگر بلی میرا پسندیدہ جانور ہے اور آپ بلی سے خوف کھاتے ہیں تو میرے خواب میں بلی کا نظر آنا محبت کا اشارہ ہوسکتا ہے ، اسکے برعکس آپ کے خواب میں بلی کا نظر آنا خوف کی علامت ہوسکتا ہے. ہر خوابیدہ تصویر کی تعبیر کے پیچھے اس سے متعلق تصورات وابستہ ہوتے ہیں.

اب جب ہم اسی تحقیق کو ذہن میں رکھتے ہوئے ان احادیث کا جائزہ لیتے ہیں جن میں احوال قبر بیان ہوئے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی نماز یا نیک اعمال اسکے سامنے ایک خوبصورت چہرے والے انسان کے روپ میں ظاہر ہونگے. اسی طرح ایک حدیث میں بتایا گیا ہے کہ دنیا کے پیچھے بھاگنے والے کے سامنے دنیا ایک بدصورت بڑھیا کی صورت میں نمودار ہوگی. اسی رعایت سے یہ بہت ممکن ہے کہ حسد اور کینہ سانپ بچھو بن کر عذاب کا بائث بن جاۓ. مگر یہ سب احوال روحانی سطح پر ہونگے. عذاب قبر سے متعلق موجود تمام احادیث غالباً اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں. اس کے لئے عالم برزخ کی اصطلاح رائج ہے. یعنی یہ ایک علیحدہ روحانی عالم ہے ، یہ لفظ برزخ دراصل 'پردہ ' کا متبادل ہے اور اُس حد فاصل کے لیے استعمال ہوا ہے ، جہاں مرنے والے قیامت تک رہیں گے۔یہ گویا ایک روکاٹ ہے جو اُنہیں واپس آنے نہیں دیتی

.
" 'من ورائھم برزخ الی یوم یبعثون "

'( اُنکے آگے ایک پردہ ہے اُس دن تک کے لیے،جب وہ اُٹھائے جائیں گے (المومنون٢٣: ١٠٠) ۔

.
اسے صرف قبر کے گڑھے تک محدود رکھنا شائد درست نہ ہو. ہم جانتے ہیں کہ بہت سے لوگوں کو قبر میسر ہی نہیں ہوتی ، بعض پانی میں ڈوب جاتے ہیں، بعض کو جنگلی درندے کھا جاتے ہیں، بعض کو جلادیا جاتا ہےاور وہ جنہیں قبر میسر آجائے ، انکے اجسام کو بھی ایک وقت بعد کیڑے کھا جاتے ہیں اور ان کیڑوں کو بھی دوسرے کیڑے کھا جاتے ہیں لہٰذا قبر میں جسمانی سطح پر جزا و ثواب کا نظریہ ایک مشکل نظریہ ہے. حد سے حد یہ کہا جاسکتا ہے کہ مرنے کے بعد بھی روح کا کوئی نہ کوئی تعلق جسم کہ ذرات سے باقی رہتا ہے مگر جزا و ثواب کے احوال اسکی روح پر ہی وارد ہوتے ہیں. غور کریں تو یہی معاملہ ہمیں خواب میں بھی درپیش آتا ہے، مثال کے طور پر آپ خواب میں دیکھتے ہیں کہ کوئی شخص آپ کے پیچھے خنجر لئے دوڑ رہا ہے یا آپ کے پیچھے بھیانک کتے لگے ہوئے ہیں اور آپ ان سے بچنے کی خاطر سرپٹ دوڑ رہے ہیں، اچانک آپ کی آنکھ کھل جاتی ہے، معلوم ہوتا ہے کہ .سارا جسم پسینہ میں شرابور ہے، سانس تیز تیز چل رہی ہے اور خوف سے دل بھی زور زور دھڑک رہا ہے . حالانکہ نہ تو حقیقت میں کوئی آپ کے پیچھے بھاگ رہا تھا اور نہ ہی آپ کسی سے بچ رہے تھے. اس سے تین اہم باتیں ثابت ہوتی ہیں پہلی یہ کہ اصل تکلیف یا فرحت روح محسوس کرتی ہے، دوسری یہ کہ روح پر گزرے احوال آپ کے جسم پر بھی اثرات مرتب کرتے ہیں اور تیسری یہ کہ خواب کے دوران آپ خواب ہی کو اصل حقیقت تسلیم کرتے ہیں. برزخ میں بھی جو فرحت و عذاب آپ کی اصل نفسانی شخصیت یعنی روح پر وارد ہونگے اس کا احساس بلکل حقیقی محسوس ہوگا ، یہ بھی ممکن ہے کہ آپ کا جسم جو شائد ذرات کی صورت میں کہیں موجود ہو وہ بھی ایک نامعلوم تعلق کی بنیاد پر اس اثر کو محسوس کرے مگر وہ تعلق کتنا مظبوط ہے؟ ہے بھی یا نہیں؟ اگر ہے تو کیا وہ وقتاً فوقتاً کمزور ہوتا جاتا ہے؟ ان سب باتوں سے قطع نظر حقیقی معاملہ دراصل روح ہی کو پیش ہوگا اور قبر کی شکل یا ان میں سوال و جواب بھی شائد تمثیلی روحانی سطح پر ہی ہونگے البتہ روح اپنے جسم سے انسیت کے باعث اس سے ایک غیبی تعلق برقرار رکھے گی

.
شائد اسی بنیاد پر احادیث میں یہ آتا ہے کہ منکر و نکیر فرشتوں کے سوالات کے بعد قبر میں جنت یا جہنم کی کھڑکی کھول دی جاۓ گی جس میں صاحب قبر اپنے ٹھکانے کا شب و روز مشاھدہ کرے گا. قبر کو اعمال کے اعتبار سے خوب کشادہ کر دیا جاۓ گا یا پھر نہایت تنگ. یہاں قبر سے مراد میرے نزدیک برزخی یعنی روحانی قبر ہے جسکا تعلق اس مادی قبر سے انس کی بنیاد پر قائم رہتا ہے .زندہ انسان کی آنکھوں کے سامنے چونکہ صرف مرنے والے کی مادی قبر ہے اور وہ برزخ کو نہیں دیکھ پاتا لہٰذا اس کی دعا اسی قبر کے سرہانے ہوتی ہے. جسے صاحب قبر الله کی اجازت سے اور اس غیبی تعلق کی بنیاد پر اپنے حقیقی برزخی ٹھکانے میں سن پاتا ہے. ہم اپنی سمجھ کی آسانی کیلئے اصحاب قبر کو تین گروہ میں کرکے دیکھ سکتے ہیں. پہلے وہ جو سرکش تھے، دوسرے وہ جو نیک و پارسا تھے اور تیسرے وہ جن کی زندگی گناہ و ثواب دونوں میں گڈمڈ گزری

قرآن سے یہ بات واضع ہوتی ہے کہ جن لوگوں کا معاملہ اِس پہلو سے بالکل واضح ہوگا کہ وہ سرکشی اور تکبر سے جھٹلانے والے اور اپنے پروردگار کے کھلے نافرمان تھے یا ہونگے ۔ اُن کے لیے ایک نوعیت کا عذاب بھی اِسی عالم برزخ میں شروع ہوجائے گا۔ اسی مشاہدے کی دلیل ہمیں قران پاک کی سورۂ مومن (غافر) میں ملتی ہے جہاں فرمایا :

.
وَحَاقَ بِآلِ فِرْعَوْنَ سُوءُ الْعَذَاب

النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَعَشِيًّا وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ أَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَاب

.
فرعون والوں کو برے عذاب نے گھیر لیا ، صبح اور شام آگ کے سامنے لائے جاتے ہیں اور قیامت کے دن تو فرعون والوں کے لئے کہا جائے گا ان کو سخت عذاب میں لے جاؤ۔

( غافر:40 - آيت:45-46 )

.
یعنی صاف ظاہر ہے کہ آل فرعون پر قبر میں عذاب اسی صورت میں ہوتا ہے کہ انہیں انکا ٹھکانہ دکھایا جاتا رہتا ہے جسے دیکھ کر وہ خوفزدہ ہوتے ہیں اور روز آخر انہیں اس عذاب میں حقیقی طور پر داخل کردیا جاۓ گا

.
قرآن کے بیان سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جن لوگوں کا معاملہ اِس پہلو سے بالکل واضح ہوگا کہ انہوں نے اپنے پروردگار کے لیے درجہ کمال میں وفاداری کا حق ادا کیا ہے اور کرنے والے ہیں ۔ اُن کے لیے ایک نوعیت کا ثواب اِسی عالم میں شروع ہوجائے گا ۔قرآن کے مطابق اِس کی مثال وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں اپنے پروردگار کے حکم پر اُس کے دشمنوں سے جنگ کی اور پھر شہید ہوگئے۔

.
قرآن کا ارشاد ہے کہ وہ زندہ ہیں،اور اپنے پروردگا کی عنایتوں سے بہرہ یاب ہورہے ہیں (آل عمران٣: ١٦٩-١٧١) ۔

.
ان دو انتہاؤں کے بیچ بیچ جو افراد ہونگے ، جن کے گناہ و ثواب دونوں بکثرت موجود ہوں ایسے افراد کے لئے جنت و جہنم دونوں امکانات کا مشاہدہ رکھا جاۓ گا اور انکا حتمی اعلان آخرت میں حساب و کتاب سے ہی واضح ہو پاۓ گا. ان پر ایک طرح کی نیند طاری رہے گی جس میں یہ خوابیدہ مشاہدہ مختلف شعوری سطح پر کرتے رہے گے. یہ زندگی چونکہ جسم کے بغیر ہوگی لہٰذا روح کے شعور،احساس اور مشاہدات وتجربات کی کیفیت اِس زندگی میں کم وبیش وہی ہوگی جو خواب کی حالت میں ہوتی ہے۔ چنانچہ فرمایا ہے کہ قیامت کے صور سے یہ خواب ٹوٹ جائے گا، روح کو جسم سے پھر جوڑا جاۓ گا اور مجرمین اپنے آپ کو یکایک میدان حشر میں جسم و روح کے ساتھ زندہ پاکر کہیں گے

.
'یویلنا من بعثنا من مرقدنا

ہائے ہماری بد بختی ،یہ ہماری خواب گاہوں سے ہمیں کون اُٹھالایا ہے (یس٣٦: ٥٢)۔

.
یہ وہ مختصر روداد ہے جو احوال قبر کے بارے میں میرے نقطہ نظر کو بیان کرتی ہے. میری پھر استدعا ہے کہ اسے محض ایک علمی کاوش سمجھا جاۓ اور کوئی بھی نتیجہ انفرادی تحقیق کے بعد قائم کیا جاۓ. الله رب العزت ہم سب کو اپنے دین کی ٹھیک سمجھ اور اچھا عمل عطا کرے. آمین.

.
واللہ و عالم بلصواب

.

====عظیم نامہ====

Friday, 1 August 2014

کیا الفاظ جذبات کے عکاس ہیں ؟

 

کیا الفاظ جذبات کے عکاس ہیں ؟

 



الفاظ جذبات کے ترجمان بن تو جاتے ہیں مگر یہ احساس کی مطلق عکاسی سے قاصر ہوتے ہیں. ہم الفاظ کو صرف انکے لغوی یا معاشرتی معنوں سے نہیں سمجھتے بلکہ ہر سننے والا ، الفاظ کو اپنی داخلی کیفیت سے سمجھنے کی سعی کرتا ہے. اب چونکہ ہر شخص کی داخلی کیفیت انفرادیت رکھتی ہے اور عمومی کیفیت سے اس کا تعلق مشابہت تک محدود ہوتا ہے لہٰذا یہ ممکن نہیں کہ بناء تجرباتی احساس کے آپ صرف الفاظ کی ادائیگی سے وہ تاثر قائم کرسکیں جو مطلوب ہے. ہاں یہ ضرور ہے کہ جو بات دل سے نکلتی ہے وہ اثر رکھتی ہے
.
لفظ تاثیر سے بنتے ہیں تلفظ سے نہیں
اہلِ دل آج بھی ہیں اہل زباں سے آگے
.
====عظیم نامہ====

انمول موتی

 انمول موتی

 
 
یوں تو روز ہم اچھی باتیں سنتے ہیں مگر کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں یا یوں کہیں کہ ایسے موقع پر کہی جاتی ہیں کہ وہ قلب و ذہن دونوں کا احاطہ کرلیتی ہیں، میں ان ہی میں سے کچھ باتوں کو درج کر رہا ہوں جو میرے ذہن سے چپک گئیں اور مجھے مسلسل اپنے محاسبہ پر ابھارتی رہیں. ممکن ہے کہ یہ پڑھنے والوں کے لئے اتنی پراثر نہ ہوں جتنی اثرانگیز میری طبیعت پر ثابت ہوئیں پھر بھی لکھ رہا ہوں. یہاں یہ دھیان رہے کہ یہ مفھوم ہے ان اقوال کا جو میں اپنی یادداشت سے تحریر کر رہا ہوں ، اس میں لفظی فرق ہونے کا قوی امکان ہے


 

 
.
 ہاں جو شخص الله کے پاس پاک دل لے کر آیا (وہ بچ جائے گا) - القران سورہ الشعراء ٨٩
 
.
 اپنے دل سے فتویٰ لو‘ اور یہ کہ ’گناہ وہ ہے جو تمہارے دل کو کھٹکے چاہے تمہیں فتویٰ دینے والوں نے فتویٰ کیوں نہ دے دیا ہو‘... الحدیث
 
.
اے عمر .. کبھی نفل عمل کو فرض عمل پر ترجیح مت دینا (حضرت ابو بکر رض)
 
.
نماز پڑھ پڑھ کر اور روزہ رکھ رکھ کر تیری کمر ہی کیوں نہ دھری ہو جائے ، جب تک حرام سے اجتناب نہ کرے گا تو کوئی فائدہ نہیں (حاضر عمر رض)
 
.
مومن وہ نہیں کہ جس کی محفل پاک ہو بلکہ مومن تو وہ ہے جس کی تنہائ بھی پاک ہو (حضرت علی رض)
 
.
بدنصیب ہے وہ شخص جو توبہ کی امید پر گناہ کرے اور زندگی کی امید پر توبہ کو ملتوی رکھے (حضرت علی رض)
 
.
یہ نہ سوچو کہ ادھر توبہ کرتا ہوں اور ادھر ٹوٹ جاتی ہے بلکہ یہ سوچو کہ ادھر توبہ کی اور ادھر سارے گناہ معاف (مولانا طارق جمیل)
 
.
ساری نیکی کی جڑ یہ ہے کہ خدا کو اپنی ترجیح اول بنا لو (پروفیسر احمد رفیق اختر)
 
.
شیطان کا سب سے بڑا دھوکہ احساس پارسائی ہے (ارسلان نیر)
 
.
شیطان کا مہلک ترین وار یہ ہے کہ وہ آپ سے گناہ اس طرح کروائے کہ آپ اسے ثواب سمجھ کر سرانجام دیں (جنید الرحمٰن عثمانی)
 
.
عظیم بھائی ، دھیان رکھیں کہ کہیں عمل کا میدان کلاس روم بن کر نہ رہ جائے (نعمان عباس)
 
.
خود کو دھوکہ مت دو .. ایمان اتنا ہی ہے جتنا تمہارا عمل ہے (احمد جاوید صاحب)
 
.
تم اپنی داڑھی کے طول اور شلوار کی اونچائی سے الله کو دھوکہ نہیں دے سکتے (ڈاکٹر اسرار احمد)
 
.
یہ عارضی زندگی درحقیقت آپ کے اخلاق کا امتحان ہے اور اس امتحان کا سب سے بڑا میدان آپ کا اپنا گھر ہے (جاوید احمد غامدی)
 
.
ہم نے اپنا کام کرتے رہنا ہے ، نتیجہ ہمارے ہاتھ میں نہیں، ہم تو دھاڑی کے مزدور ہیں (مولانا مودودی)
 
.
خدا کی معرفت ایک شعوری دریافت ہے (مولانا وحید الدین خان)
 
 
 .
====عظیم نامہ====