Tuesday, 15 July 2014

محبت اور اطاعت رسول


محبت اور اطاعت رسول 



کہتے ہیں کہ مجنوں نے ایک روز اپنی لیلیٰ کی آمد کا سنا تو اسکی جھلک دیکھنے کے لئے اونٹ سے چھلانگ لگا دی. نتیجہ یہ نکلا کہ زخمی ہو گیا مگر شوق بیتابی میں آگے بڑھتا گیا. اب عقلمند یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اس بیوقوف نے چھلانگ کیوں لگائی ؟ آرام سے سلیقے سے اتر آتا تو چوٹ نہ لگتی. لیکن انہیں کون سمجھائے؟ کہ عشق و محبت میں انسان ایسے حساب کتاب سے ناآشنا ہوتا ہے.


ایک روز دوران خطبہ ، رسول پاک صلی الله و الہے وسلم نے صحابہ اکرام رضی الله اجمعین کو حکم دیا کہ وہ بیٹھ جائیں لہٰذا سب بیٹھ گئے. ایک صحابی رضی الله عنہا ابھی مسجد سے باھر ہی تھے لیکن جیسے ہی یہ حکم سنا تو وہیں بیٹھ گئے. کسی نے سمجھایا کہ بھائی نبی اکرم صلی الله و الہے وسلم کا حکم مسجد کے اندر والوں کیلئے تھا تو آپ اندر جاکر بیٹھ جاؤ، جواب دیا کہ کیا اتنی دیر میں حکم کی تعمیل نہ کروں جبکہ رسول کا حکم میرے کانوں تک جا پہنچا ہے ؟ .. ایک اور صحابی نے رسول الله صلی الله و الہے وسلم سے ایک ہی بار ملاقات کی، جسوقت ملے اسوقت آپ ص کی قمیض کا گریبان کچھ کھلا ہوا تھا بس پھر ساری زندگی ان صحابی نے بھی اپنی قمیض کو وہاں سے کھلا رکھا. ایک تیسرے صحابی نے دوران سفر رسول کریم صلی الله و الہے وسلم کو ایک درخت کے نیچے سے جھک کر گزرتے دیکھا تو پھر ساری زندگی وہ صحابی رض جان کر اس درخت کے نیچے سے جھک کر گزرتے رہے. ایسے ہی اور متعدد قصے موجود ہیں.

.
محبت ایسی ہی بےلوث ہوتی ہے ، یہ محبت جب بڑھ کر عقیدت بنتی ہے تو وہ محبوب کی ہر ادا کو اپنا لیتی ہے. اسی کو پنجابی شاعر کچھ یوں کہتا ہے

.
رانجھا رانجھا کر دی نی میں ، آپے رانجھا ہوئی
سدّو نی مینوں دھیدو رانجھا ، ہیر نہ آکھو کوئی
.

محبت اس بات کی محتاج ہرگز نہیں ہوتی کہ محبوب کی پیروی صرف اسی صورت میں کی جاۓ جب اس ادا کی حکمت و مقصد سے آشنائی ہو. وہ تو بس محبوب کی ہر ہر ادا پر فنا ہونا جانتی ہے. وہ تو محبوب کے ہر حکم پر سر تسلیم خم رکھتی ہے. رسول عربی صلی الله و الہے وسلم کی عادات اور مزاج کے متعلق جو معلومات ہمیں حدیث مبارکہ سے منتقل ہوئی ہیں، انکی پیروی بھی اسی جذبہ سے کی جاتی ہے. یہ اور بات کہ آپ صلی الله و الہے وسلم کی ہر سنت میں حکمت ضرور ہے جسے جان لینا احسن ہے. مثال کے طور پر مسواک کا مقصد دانتوں کی صفائی ہے، لہٰذا اس سنت کے مقصد کو پانے کیلئے آج ٹوتھ برش بھی استمعال کیا جاسکتا ہے لیکن اگر کوئی آج بھی مسواک ہی کو عادت بناتا ہے تو اس کے اس جذبہ پر تنقید نہیں کرنی چاہیئے. ہاں یہ ضرور ہے کہ وہ شخص بھی اس سنت کی حکمت سے آگہی رکھے تو یہ اسکے لئے بہتر ہے
.
====عظیم نامہ====