Tuesday, 6 May 2014

چار منطقی سوالات - چار سادہ جوابات

 

چار منطقی سوالات - چار سادہ جوابات

 

ملحدین کی جانب سے کچھ ایسے سوالات اٹھائے جاتے ہیں جو سننے والے کو منطقی الجھاؤ میں مبتلا کردیتے ہیں. سوالات درج ذیل ہیں
١. کیا خدا شر کو روکنا چاہتا ہے مگر روک نہیں سکتا؟ اگر ایسا ہے تو خدا ہر چیز پر قادر نہیں
٢. کیا خدا قابل تو ہے مگر روکنا نہیں چاہتا؟ اگر ایسا ہے تو وہ شر پسند ہے
٣. کیا خدا شر کو روکنا چاہتا ہے اور روکنے کے قابل بھی ہے ؟ اگر ایسا ہے تو شر آتا کہاں سے ہے ؟
٤. اگر وہ نہ شر کو روکنا چاہتا ہے اور نہ ہی اس پر قادر ہے تو اسے خدا کیوں کہیں؟
========================================================
ان سوالات کے سیدھے اور سادے جوابات پیش ہیں
========================================================
١. کیا خدا شر کو روکنا چاہتا ہے مگر روک نہیں سکتا؟ اگر ایسا ہے تو خدا ہر چیز پر قادر نہیں
ج. خدا جو چاہتا ہے وہ صرف یہ ہے کہ انسان کو اس زندگی میں ارادہ و اختیار کی آزادی دی جائے. وہ چاہے تو خیر کو چنے اور چاہے تو شر اختیار کرے. اس رویہ کی بنیاد پر وہ ہر شخص کو اس کا اجر یا سزا دے. اس سے الله کی قدرت پر کوئی سوال نہیں پیدا ہوتا
٢. کیا خدا قابل تو ہے مگر روکنا نہیں چاہتا؟ اگر ایسا ہے تو وہ شر پسند ہے
ج. خدا نے اس دنیا کو امتحان کے اصول پر بنایا ہے اور یہی مقدمہ الہامی کتابیں پیش کرتی ہیں. وہ آپ سے آپکا آزادی ارادہ و اختیار نہیں چھیننا چاہتا. لہٰذا برائی سے وہ زبردستی نہیں روکتا بلکہ ترغیب و دعوت سے سمجھاتا ہے اور ساتھ ہی وعدہ کرتا ہے مکمل انصاف کا. اگر وہ شر پسند ہوتا تو کبھی پیغمبروں اور الہامی صحائف سے تلقین و تنبیہہ کا مسلسل سلسلہ جاری نہ کرتا. آپ کی یہ چاہت کہ خدا زبردستی برائی کو روک دے ، دراصل انسان کے ارادہ و اختیار کو سلب کرنے کے مترادف ہے. یہ راہ متعین کرنے کی آزادی ہی تو انسانیت کا اعجاز ہے، آپ انسان کو اس سے کیوں محروم کرنا چاہتے ہیں؟
٣. کیا خدا شر کو روکنا چاہتا ہے اور روکنے کے قابل بھی ہے ؟ اگر ایسا ہے تو شر آتا کہاں سے ہے ؟
ج. اس سوال کے جواب میں میرے کچھ سوالات کا جواب دیں. کیا اندھیرے کا کوئی حقیقی وجود ہے ؟ اگر ہاں تو ہم اسے کیسے بیان کر سکتے ہیں؟  آج سائنس کی رو سے ہم سب روشنی کی رفتار سے واقف ہیں مگر اندھیرے کی رفتار کیا ہے ؟ کیا آپ بتا سکتے ہیں؟ اگر اندھیرا واقعی ایک حقیقی وجود رکھتا ہے تو ہم اسکی رفتار کا حساب کیوں نہیں لگا سکتے؟

جواب یہ ہے کہ اندھیرے کا فی الواقع کوئی حقیقی وجود نہیں ہے. اندھیرا تو نام ہے روشنی کی عدم موجودگی کا ! حقیقی وجود تو صرف روشنی کا ہے ، اسکی ضد یعنی اندھیرے کا تصور محض تصوراتی ہے یہ تو بس ایک نام ہے جو ہم نے روشنی کے نہ ہونے والی صورتحال کو بیان کرنے کیلئے اختیار کرلیا ہے. اسی طرح ٹھنڈک کا تصور حقیقی نہیں خیالی و تصوراتی ہے، حقیقی وجود تو گرمی یا حرارت کا ہے. سائنس بس یہی بتاتی ہے کہ ایک شے زیادہ گرم ہے، بہت زیادہ گرم ہے، کم گرم ہے یا بہت کم گرم ہے. وہ ہمیں حرارت یعنی ٹمپریچر بیان کرتی ہے، اس سے زیادہ کچھ نہیں. ٹھنڈک تو بس ایک لفظ ہے جو ہم نے کم حرارت والی کیفیت کو بیان کرنے کیلئے اختیار کرلیا ہے. اسی اصول پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ شر کا کوئی حقیقی وجود نہیں ، یہ بس خیر کی عدم موجودگی کا نام ہے. الله نے کبھی شر کو تخلیق نہیں کیا، اس نے تو صرف خیر کو پیدا فرمایا لیکن ساتھ ہی انسان کو آزمانے کے لئے اختیار کی آزادی دی کہ وہ چاہے تو خیر کو اپنا لے یا نہ اپنائے. یہ ہمارا خیر کو نہ اپنانا ہے جو شر کو جنم دیتا ہے، ہمارے اردگرد پھیلا ہوا شر ہمارا اپنے ہاتھوں سے لایا ہوا ہے ، خدا نے تو خیر پیدا کیا اور اسی کو اپنانے کا حکم دیا. مثال کے طور پر اس نے  زمین میں ہر مخلوق کیلئے رزق بکثرت رکھ دیا لیکن یہ انسان کی غیرمنصفانہ تقسیم ہے جس نے بھوک و افلاس کو جنم دیا. ہاں یہ ضرور ہے کہ ایک مخلوق کی ضرورت دوسری مخلوق کے لئے شر بن جائے. جیسے شیر کی بھوک بکری کے لئے بظاہرشر بن سکتی ہے یا بکری کا چرنا گھاس پھونس کیلئے شر کہلاسکتا ہے. یہ فطرت کے اصول ہیں جو اس نظم کائنات کو برقرار رکھنے کیلئے الله رب العزت نے مختص کئے ہیں مگر اس سے یہ نتیجہ ہرگز نہیں نکالا جاسکتا کہ اس نے شر کو پیدا   کیا جیسا کہ قتل ، چوری، فاقہ وغیرہ یہ انسان کا اپنا ارادے کا سوئے استمعال ہے جو شر وجود میں لاتا ہےابلیس کو بھی ملعون الله نے پیدا نہیں کیا بلکہ اسکے ارادے کے غلط استمعال نے بنایا
سوال کا جواب یہ بنا کہ خدا کو مکمل اختیار ہے روکنے کا، مگر چونکہ اس نے یہ دنیا امتحان کے اصول پر تخلیق کی ہے اور وہ اس دنیا میں ہماری اختیار کی آزادی کو قائم رکھنا چاہتا ہے لہٰذا وہ زبردستی جبر سے برائی نہیں روکتا بلکہ تلقین و ترغیب کا رویہ اپناتا ہے. اب یہ نقطہ کہ شر آتا کہاں سے ہے؟ یہ اپر درج کردیا گیا ہے کہ یہ انسان کا اپنے ہاتھوں سے لایا ہوا ہوتا ہے. خدا کو مورد الزام نہیں ٹہرایا جا سکتا.
٤. اگر وہ نہ شر کو روکنا چاہتا ہے اور نہ ہی اس پر قادر ہے تو اسے خدا کیوں کہیں؟
ج. وہ اس دنیا میں ہماری اختیار کی آزادی کو قائم رکھنا چاہتا ہے لہٰذا باوجود قدرت رکھنے کے وہ شر روکنے کیلئے محض تلقین و تعلیم کا طریق اختیار کرتا ہے اور ساتھ ہی اس روز حساب کی خبر دیتا ہے جب ہر شخص اپنے اعمال کا نتیجہ بھگتے گا. ایسی بااختیار اور منصف ہستی کو کوئی کیوں نہ خدا تسلیم کرے؟

====عظیم نامہ====

Friday, 2 May 2014

کیا ہم بچپن سے ہی نسل پرست ہیں ؟

 
 

کیا ہم بچپن سے ہی نسل پرست ہیں ؟

 

 
 
 
نیلسن منڈیلا اور بہت سے دوسرے مفکرین یہ بتاتے ہیں کہ بچے نسلی تعصب سے پاک ہوتے ہیں ، وہ جلد کی رنگت دیکھ کر
فیصلہ نہیں کرتے
 
 
میں خود اسی فکر کو مانتا آیا تھا لیکن پچھلے دنوں ایک تحقیقی دستاویز نظر سے گزری جس نے اس من پسند تصوراتی محل کو مسمار کردیا. دستاویز میں بہت سے سیاہ فام اور سفید فام بچوں سے سوالات کئے گئے. بچوں کی عمر پانچ سے بارہ سال کے درمیان تھی. ان سب کو ایک ایک کرکے بلایا گیا اور ان کے سامنے دو گڑیایں رکھی گئیں، دونوں گڑیاؤں کے خد و خال بلکل ایک جیسے تھے مگر ایک کی رنگت سفید تھی اور دوسری کی سیاہ
 
 
ان بچوں سے انفرادی سطح پر تنہائی میں  باری باری کچھ سوالات کئے گئے جیسے وہ کون سی گڑیا رکھنا چاہتے ہیں؟ ان میں سے کون سی گڑیا اچھی ہے اور کون سی بری ؟ کون سی گڑیا نیک ہے اور کون سی مجرم ؟ کون سی گڑیا زہین ہے اور کون سی احمق ؟
 
 
دل توڑنے والا انکشاف یہ تھا کہ تمام سیاہ فام اور سفید فام بچوں نے سیاہ گڑیا کو برا، مجرم اور احمق کہا جب کہ سفید گڑیا کو اچھا، نیک اور زہین قرار دیا
 
 
جب پوچھا گیا کہ ایسا کیوں ؟ تو جواب ملا کہ گڑیا کی جلد، بالوں اور آنکھوں کا رنگ اسے اچھا یا برا بناتا ہے پھر پوچھا گیا کہ وہ کون سی گڑیا جیسا بننا چاہتے ہیں؟ تو سب بچوں کا تنہائی میں انفرادی جواب سفید گڑیا کے حق میں تھا
جب بچوں نے سیاہ گڑیا کو برا، خراب، مجرم وغیرہ کہہ دیا تو صرف سیاہ بچوں سے ایک ایک کرکے اکیلے میں پوچھا گیا کہ وہ خود کو کون سی گڑیا جیسا دیکھتے ہیں؟ تو سیاہ بچوں نے شرم سے سر جھکا کر سیاہ گڑیا کی طرف اشارہ کیا
 
میرے اپنے لئے یہ بہت ہی اداس کرنے اور چونکا دینے والا انکشاف تھا، یعنی نسلی تعصب بچپن میں ہی بچوں کے ذہن میں
آجاتا ہے؟
 
  
اس دستاویز پر کافی سوچتا رہا اور بہت سوچنے کے بعد اسکی جو توجیہہ سمجھ آئی وہ یہ ہے کہ انسان روشنی کو پسند کرتا ہے اور اندھیرے سے گھبرا جاتا ہے. اس حقیقت کا مشاہدہ بچے بہت کم عمر میں ہی کرلیتے ہیں. وہ کسی بھی اندھیری جگہ پر جانے سے خوف زدہ ہوتے ہیں، اندھیرا چونکہ سیاہ ہوتا ہے غالباً اسی لئے وہ سیاہ فام رنگت کے بارے میں منفی گمان قائم کرلیتے ہیں. یہ تجربہ سیاہ فام بچوں کو بھی ہوتا ہے لہٰذا انکا نتیجہ بھی رنگت کے اعتبار سے سفید کے حق میں اور سیاہ کی مخالفت میں نکلتا ہے. اندھیرے میں کیونکہ انسان کو کچھ نظر نہیں آتا اور اسکی بنیادی صلاحیتیں معطل ہو جاتی ہیں چنانچہ ایسے میں گھبراہٹ طاری ہونا عین فطری ہے
 
 
یہ سوال بھی پیدا ہوا کہ اگر اس پسند ناپسند کی بنیاد اندھیرے کے جبلی خوف پر ہے تو پھر یہ رویہ دوسری اشیاء کے بارے میں کیوں نظر نہیں آتا؟ مثال کے طور پر اگر گڑیا کی جگہ سفید اور کالی کھلونا گاڑی رکھ دی جائے تو نتیجہ یقیناً مختلف ہوگا. پھر سمجھ آیا کہ بچے بخوبی آگاہ ہوتے ہیں کہ گاڑی مختلف رنگوں کی ہوتی ہیں جیسے سرخ، سبز، کالی، سفید وغیرہ لہٰذا وہ اندھیرے کے اس خوف کا اطلاق ان اشیاء پر نہیں کرتے. یہ ان کے لئے محض چیزیں ہیں، جبکہ گڑیا کی شکل میں وہ
اپنے وجود کو دیکھتے ہیں
 
 
اب تواس پر بھی شک ہونے لگا ہے کہ 'حسن دیکھنے والے کی آنکھ میں ہوتا ہے' ، یہ بات انفرادی یا ایک محدود درجہ میں تو درست ہوسکتی ہے مگر عمومی و مجموئی مشاہدہ اس کی نفی کرتا ہے. لہٰذا کوئی چینی اپنی دبی ہوئی چھوٹی آنکھوں کو حسن نہیں سمجھتا اور نہ ہی دنیا میں کوئی اور اسکی گواہی دیتا ہے. کوئی افریقی موٹے لٹکے ہونٹوں کو حسن کی معراج نہیں کہتا اور نہ ہی دنیا میں کسی اور کو ایسا گمان ہوتا ہے. کوئی جاپانی چھوٹے ناٹے قد کو خوبی نہیں بتاتا اور نہ ہی دنیا میں دیگر افراد کو کوئی ایسا مغالطہ ہوتا ہے. ہاں اگر انفرادی طور پر کسی کی طبیعت عمومی رویہ کے برخلاف مائل ہوجائے تو اسے استثنا سمجھا جائے گا لیکن عمومی نتیجہ عمومی رویہ کو دیکھ کر ہی اخذ کیا جاسکتا ہے. بہرحال یہ موضوع  نہیں تھا بلکہ موضوع وہ نسلی تعصب تھا جو بچے بچپن میں ہی اپنا لیتے ہیں
 
 
یہ دھیان رہے کہ یہ میرا ذاتی احساس ہے جو الفاظ کی صورت لے کر یہاں درج ہوگیا. اس میں یقیناً غلطی کا احتمال ہے اور قارئین سے گزارش ہے کہ وہ اپنی رائے اپنے غور و تدبر سے قائم کریں. ممکن ہو تو مجھے بھی مستفید کریں.
 

====عظیم نامہ====

Thursday, 1 May 2014

جزو اور کُل میں بندھی کائنات - ایک تجزیہ


جزو اور کُل میں بندھی کائنات - ایک تجزیہ



 ہر جزو ایک کُل ہے اور ہر کُل خود سے برتر کُل کا جزو. جزئیات کا سفر کئے بناء کُل کی تفصیل و حقیقت معلوم کرنا ناممکن ہے اور کُل کا مشاہدہ کئے بغیر جزئیات کا باہمی ربط نہیں سمجھا جاسکتا. یہ ساری کائنات اسی جزو اور کُل کی تفریق میں بٹی اور جڑی ہوئی ہے

ایک سبز پتے کا مشاہدہ کیجئے، وہ اپنی مخصوص ساخت، دلکش رنگت اور منفرد چھاپ کی بنیاد پر ایک مکمل وجود رکھتا ہے. اپنے آپ میں اسے کُل کی حیثیت حاصل ہے مگر یہی پتہ جب کسی پھول سے منسلک ہوکر ٹہنی سے چمٹتا ہے تو اب یہ "ٹہنی" کُل کے مقام پر فائز ہوجاتی ہے اور پتہ کُل سے جزو بن جاتا ہے. یہ ٹہنی آگے بڑھ کر شاخ سے جڑتی ہے تو اب یہ شاخ کُل کی حیثیت اختیار کرتی ہے اور ٹہنی جزو کہلاتی ہے. اسی طرح یہ شاخ تنے میں اور یہ تنا جڑ میں اور یہ جڑ کھاد و مٹی میں اور پھر یہ مٹی زمین کی گود میں ضم ہوتے چلے جاتے ہیں. جو پہلے مرحلے پر کُل قرار پاتا ہے وہ اب دوسرے مرحلے پر جزو بن جاتا ہے  اور جو پہلے جزو تھا وہ اب کُل کہلاتا ہے

یہی مثال انسانی وجود کی ہے. ایک خلیہ اپنے خدوخال، درج معلومات ، خاص ساخت اور بہترین تناسب کے اعتبار سے ایک مکمل کُل کی حیثیت رکھتا ہے مگر یہی خلیہ جب ناخن کی صورت میں ڈھلتا ہے تو اب خلیہ جزو اور ناخن کُل کہلاتا ہے. پھر یہی ناخن انگلی میں، انگلی ہاتھ میں، ہاتھ بازو میں اور بازو دھڑ سے جڑتا جاتا ہے. ہر درجہ پر ایک مکمل کُل موجود ہوتا ہے مگر اگلے درجہ پر یہی کُل جزو بن جاتا ہے



یہ معاملہ صرف عناصر کی ترتیب سے متعلق ہی نہیں ہے بلکہ اسی تناظر میں جب ہم انسان سمیت تمام مخلوقات جیسے حیوانات، نباتات، جمادات، حشرات، ملائکہ وجنات وغیرہ کا جائزہ لیتے ہیں تو حیرت انگیز طور پر ان سب کو ایک باہمی تعلق میں جکڑا پاتے ہیں. یہ وہی باہمی تعلق ہے جو جزو اور کُل کے اصول پر دو مختلف عناصر یا مخلوقات کو آپس میں جوڑے رکھتا ہے. بقول اسد الله غالب 

قطرے میں دجلہ دکھائی نہ دے اور جزو میں کُل
کھیل لڑکوں کا ہوا، دیدہء بینا نہ ہوا

یہ امر بھی قابل غور ہے کہ محض جزئیات کو واپس اکھٹا کر دینے یا جوڑ دینے سے کُل وجود میں نہیں آتا ، یہاں تک کہ ان میں ایک تناسب و تعلق پیدا نہ ہو. لہٰذا ضروری نہیں کہ چاول، دودھ اور چینی کو اکھٹا کردینے سے کھیر لازماً وجود میں آجائے . حتیٰ کہ ان میں ایک خاص تناسب، ترتیب اور تعلق قائم ہو. یہ بھی دیکھیں کہ اگر کسی کُل میں سے جزو کو جدا کردیا جائے تو وہ اپنی سابقہ معنویت کھو بیٹھتا ہے اور ایک نئے کُل  کا جزو بن جاتا ہے، جیسے کسی تحقیقی مقالہ کے ایک جزو یا حصہ کو اس سے علیحدہ کر کے کسی دوسرے مقالہ میں استمعال کیا جائے تو جزو تو وہی رہے گا مگر اب وہ ایک نئے کُل کا حصہ کہلائے گا

اسی اعتبار سے ہماری زمین ایک کُل ہے اور اس میں موجود پہاڑ، وادیاں، دریا، سمندر، صحرا، جنگلات، مخلوقات وغیرہ سب اسکے جزو کی حیثیت رکھتے ہیں. یہی زمین جب ہمارے نظام شمسی کا حصہ بنتی ہے تو اچانک کُل سے جزو کے درجہ پر آجاتی ہے اور کُل کا لقب نظام شمسی کو دے دیتی ہے. پھر یہی نظام شمسی سورج، چاند، زمین، مریخ وغیرہ باقی اور بہت سے سیاروں اور نظاموں کیساتھ مل کر "ملکی وے" نامی کہکشاں سے منسلک ہوتے ہیں تو اب یہ کہکشاں کُل کہلاتی ہے اور اس میں موجود تمام سیارے بشمول ہمارے نظام شمسی کے ، سب کے سب جزو یا جزئیات قرار پاتے ہیں. یہ سلسلہ یوں ہی مستقل دراز ہوتا جاتا ہے اور صاحب شعور پر یہ منکشف ہوتا ہے کہ ریت میں دفن ایک حقیر ذرے سے لے کر عظیم تر کہکشاؤں اور خلاؤں تک، پوری کائنات درحقیقت ایک ہی اکائی ہے. یہ مادی دنیا جزو اور کُل  کے ایک لامتناہی سلسلے میں پیوستہ ہے. ایک ایسا سلسلہ جس میں موجود ہر جزو دوسرے جزو سے مادی قوانین کے ذریعے مربوط انداز میں جڑا ہوا ہے. جیسے کشش ثقل کے قانون نے پوری کائنات کو ایک نادیدہ قوت، ایک بیمثال حسن، ایک عظیم تناسب سے جکڑ رکھا ہے. یہ تمام جزئیات کائنات نامی کُل کا حصہ ہیں جو ایک دوسرے کے باہمی اشتراک سے اس کُل  کو کُل  بناتے ہیں

 جب یہ حقیقت سمجھ آگئی کہ یہ کائنات  کُل ہے اور بقیہ تمام اندرونی وجود اسکا جزو ہیں تو پھر یہ ممکن نہیں ہے کہ کسی جزو کی حرکت سے کُل متاثر نہ ہو. جسطرح گاڑی ایک کُل  ہے اور انجن، پہیہ، ڈھانچہ وغیرہ اسکے جزئیات ہیں تو یہ ماننا ہوگا کہ اگر کسی ایک جزو میں بھی خرابی پیدا ہو جائے یا اسکی استعداد کم و زیادہ ہو جائے تو وہ بقیہ جزئیات سے میل نہ کھاکر پورے کُل پر ایک حد میں اپنا اثر مرتب کرے گا. سائنس میں بھی ایک تھوری "بٹر فلائی افیکٹ" کے نام سے رائج ہے  جو بیان کرتی ہے کہ کائنات کے ایک حصہ میں تتلی کا پنکھ ہلانا کسی دور دراز دوسرے حصے میں کسی بڑے حادثے جیسے آتش فشاں وغیرہ کا محرک و باعث بن سکتا ہے

اگر سوچنے والے سوچیں تو یہ اپنے آپ میں ایک انکشاف ہے کہ کس حسن سے اس کائنات کا زرہ زرہ ایک ہی لڑی میں پرویا ہوا ہے؟ کس طرح ہر شے اپنا مکمل وجود رکھ کر بھی جزئیات کی محتاج ہے اور اپنے سے بڑے کُل میں گم ہونے کو بے قرار؟ ، یہ حقیقت اس  کائنات میں ہمیں ہمارے اپنے مقام سے روشناس کراتی ہے، ہمیں باشعور ہونے کی نعمت سمجھاتی ہے ، ہمیں اس پرہیبت نظام کا حصہ بناتی ہے اور اس کائنات کو اپنا خاندان جان کر ذمہ داری اٹھانے کا احساس دلاتی ہے. ہمارا مشاہدہ چونکہ صرف مادی اشیاء تک محدود ہے لہٰذا جزو اور کُل کے اس سفر کو ہمیں اسی تناظر میں دیکھنا، سمجھنا اور محدود رکھنا چاہیئے. مابعدالطبیعات کے حقائق جیسے خالق، ملائکہ، جنت و جہنم، برزخ وغیرہ پر اس اصول کا اطلاق . نہیں کیا جاسکتا. موجودات کی کثرت میں ایک پوشیدہ وحدت ضرور پنہاں ہے، جسے راقم نے اس مضمون میں بیان کرنے کی سعی کی ہے. مگر احقر کی سمجھ میں یہ وحدت ذات کی نہیں بلکہ کلمہ 'کن فیکون' کی تفسیر ہے. یہی وہ رعایت ہے جسکی بنیاد پر میں وحدت الشہود کو وحدت الوجود سے زیادہ حقیقت کے قریب پاتا ہوں. البرٹ آئین اسٹائن سے لے کر اسٹیفن ہاکنگ تک سائنس 'تھیوری آف ایوری تھنگ' کی تلاش میں سرگرداں نظر آتی ہے جو اپنی اصل میں اسی 'کن فیکون' کی کھوج ہے
.====عظیم نامہ==== 

عورت کو ہر معاشرے میں عزت کیوں نہ مل سکی ؟



عورت کو ہر معاشرے میں عزت کیوں نہ مل سکی ؟

 
سارا معاملہ پہلی ترجیح کا ہے. مرد نے ابتدا سے عزت کے حصول کو اپنی اولین ترجیح بنایا، عزت و وقار کو پانا مرد کی شدید خواہش ہے اور اس حوالے سے وہ نہایت حساس ہے. اسکے برعکس عورت نے اپنا پہلا تقاضہ محبت کو بنایا، وہ مرد کی طرح محض محبت کو پسند ہی نہیں کرتی بلکہ ہمہ وقت اسکی تلاش میں سرگرداں رہتی ہے. وہ چاہتی ہے کہ اس سے محبت کی جائے اور اسی کے حصول کو وہ اپنا مقصد و منتہا بنا لیتی ہے. اب چونکہ محبت کے لئے توجہ حاصل کرنا لازم ہے اور خوبصورتی وہ شے ہے جو توجہ کو مبذول کرتی ہے لہٰذا عورت نے ہمیشہ بناؤ سنگھار کو اپنایا یا سادہ الفاظ میں کہیئے تو اپنی 'ذات' کو سجایا تاکہ یہ توجہ اور محبت حاصل ہو سکے. دوسری طرف مرد کیونکہ عزت و وقار کا طالب تھا تو اس نے اپنی ذات پر نہیں بلکہ 'صفات' پر زیادہ زور دیا. وہ ہر وقت اس تگ و دو میں لگا رہا کہ غیرت، شجاعت، ایجاد جیسی صفات کو نشونما دے کر عزت و وقار کو پاسکے. 

مرد اور عورت نے وہی پایا ہے جسکی ان دونوں نے اپنی اپنی جنس میں بحیثیت مجموئی کوشش کی. مرد نے اجتماعی اعتبار سے عزت و وقار کو حاصل کرلیا جبکہ عورت نے محبت و توجہ پالی. مرد کو کمتر درجہ میں محبت ملی اور عورت کو کمتر درجہ میں عزت. البتہ یہی عورت جب ماں کا روپ اختیار کرتی ہے تو اس کردار کو نبھانے میں وہ 'ذات' کو نہیں بلکہ 'صفات' کو اپنالیتی ہے. وہ بناؤ سنگھار کی جگہ ایثار، قربانی، صبر جیسی صفات کے ذریعے اپنی اولاد کو پروان چڑھاتی ہے، شائد یہی وجہ ہے کہ ماں کے روپ میں وہ اپنی اولاد سے اعلیٰ درجہ کی عزت و توقیر حاصل کرلیتی ہے.



====عظیم نامہ====