Saturday, 5 April 2014

معجزہ کیا ہے ؟ کیا یہ سب الف لیلیٰ کی کہانی نہیں ؟


معجزہ کیا ہے ؟ کیا یہ سب الف لیلیٰ کی کہانی نہیں ؟ 


سب سے پہلے تو یہ جان لیں کہ معجزہ - قران کی اصطلاح نہیں ہے. قران حکیم میں معجزہ کے لئے لفظ "آیت" یا پھر "سلطان" استمعال کیۓ گئے ہیں. معجزہ کا مادہ لفظ "عجز" ہے جسکے معروف معنی  مجبور کردینے کے ہیں. معجزہ درحقیقت وہ عمل یا فعل ہے جو الله رب العزت کی جانب سے وقت کے رسول کو عطا کیا جاتا ہے اور اسکا مقصد مخاطب قوم کے حاضر علم کو عاجز یا مجبور کردینا ہوتا ہے  معجزہ ایک ایسا عمل ہے جو اپنے اندر بیک وقت دو خصوصیات سموئے ہوتا ہے



١. یہ فطرت کے معلوم اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا لہٰذااسکی کوئی عقلی توجیح ممکن نہیں  

٢. یہ وہ عمل ہوتا ہے جسکے زریعے نبی یا رسول اپنی قوم کے موجودہ علم کو للکارے اور قوم کا علم معجزہ کے سامنے 'عاجز' ہوجاۓ , اسی رعایت سے اسے معجزہ کہا جاتا ہے

معجزات کے انتخاب کی بنیاد رسول کی اپنی پسند ناپسند نہیں ہوتی بلکہ یہ خالص منشاء الہی پر منحصر ہے کہ وہ اپنی مشیت سے کس رسول کو کونسا معجزہ عطا فرما دے؟ ہم اس حقیقت سے بھی خوب آشنا ہیں کہ ہمارے پروردگار کا کوئی بھی حکم بناء حکمت کے نہیں ہوتا ، جائزہ لیں تو صاف ظاہر ہے کہ الله پاک رسولوں کو وہی معجزہ عطا فرماتے ہیں جسکے زریعے انکی مخاطب قوم کے نمایندہ علم کو عاجز کر دیا جاۓ. تاریخ شاہد ہے کہ آل فرعون کا نمایندہ علم جادو و سحر تھا، برٹش میوزیم میں موجود سابقہ آثار  آج بھی اسی کی گواہی دے رہے ہیں لہٰذا موسیٰ الہے سلام کو ایسے معجزات دیئے گئے جو جادو کو اسی کے طریق سے نیچا دکھا دینے والے ہوں. لاٹھی کا سانپ بننا یا ہاتھ کا روشن ہوجانا اسی امر کی دلیل ہیں. دوسری مثال لیں، حضرت عیسیٰ الہے سلام کا زمانہ گریک میڈیسن کے عروج کا تھا چنانچہ آپ کے معجزات علاج و شفاء کی نوعیت کے ہیں. جیسے پیدائشی اندھے کو بینائی حاصل ہوجانا، جلدی بیماری برص کو ٹھیک کر دینا، مردہ یا مرتے ہوۓ انسان کو الله کے حکم سے زندگی لوٹانا وغیرہ. ایک آخری مثال رسول الله محمد صلی الله و الہے وسلم کی ہے، ہم سب واقف ہیں کہ عرب اپنی زبان اور شاعری پر اس حد تک نازاں تھے کہ وہ غیرعرب اشخاص کو حقارت سے عجمی کہا کرتے تھے. عجمی یعنی گونگے، عربوں کے نزدیک غیر عرب کی مثال گونگوں کی تھی. عرب میں بڑے بڑے شاعر موجود تھے، جنکے کلام کے مقابلے منعقد کیۓ جاتے تھے. ایسے میں محمد صلی الله و الہے وسلم کی زبان اطہر سے الله رب العزت نے قران کریم کو بطور معجزہ جاری فرمایا. اس معجزہ میں عرب اقوام کو زبان و کلام کے حوالے سے للکارا گیا، پہلے کہا گیا کہ قران جیسا کلام بنا کر لے آؤ؟ پھر کہا گیا کہ اگر یہ ممکن نہیں تو پھر دس سورتیں پیش کر دو ؟ پھر مزید کہا گیا کہ اچھا اگر اتنا بھی ممکن نہیں تو سارے انسان و جنات ملکر ایک سورت ایسی لا کر دکھا دو؟ .. سادہ الفاظ میں قران نے بطور معجزہ عربوں کے علمی غرور کو عاجز کردیا. یہ چیلنج یا للکار آج بھی ساری دنیا کے موجود ہے لیکن اسکا جواب نہ کل کوئی قابل تشفی دے پایا اور نہ ہی آئندہ دے پائے گا


غور کریں تو فطرت ازخود اپنی ہر ہر ادا میں معجزات سمیٹے ہوۓ ہے، مگر چونکہ یہ سب ہمارے مستقل مشاہدے میں ہے ، اسی لئے ہم اسے معجزہ تسلیم نہیں کرتے. اپنی پیدائش پر ہی غور کر لیں، کس طرح ایک گندے پانی کی بوند سے ایک جیتا جاگتا باشعور انسان وجود پاجاتا ہے؟. آنکھوں کی صورت میں جدید ترین کیمرے، کانوں کی صورت بہترین مائکروفون ، آواز کی صورت میں بہترین ساؤنڈ اسپیکر اور دماغ کی صورت میں تیزترین سوپر کمپیوٹر کیسے وجود پاجاتا ہے؟  ایسے ان گنت واقعات ہمارے اردگرد رونماء ہوتے رہتے ہیں ، جو کسی معجزہ سے کم نہیں مگر کیونکہ ان واقعات نے مشاہدے اور فطری قوانین کا چوغہ اوڑھ رکھا ہے اسلیئے ہم اسے نارمل یا فطری گردانتے ہیں. ایک مومن اس پر ایمان رکھتا ہے کہ وہ خالق جو فطرت کے اصول بنا سکتا ہے، وہ اس پر بھی پوری طرح قادر ہے کہ انہیں کسی وقت معطل یا تبدیل کر دے. درحقیقت معجزات کا وجود تو خالق کے وجود پر ایک قوی اور اضافی دلیل ہے. یہ اور بات کہ جو شخص عقلی استدلال کو خاطر میں نہیں لاتا وہ معجزات کو قبول کرنے سے بھی قاصر ہوتا ہے. قوموں کے انکار کی وجہ یہی اندھے انکار کی روش رہی ہے

مسلمانوں کا ایک گروہ معجزات کا انکار یہ کہہ کر کردیتا ہے کہ معجزہ فطرت کی خلاف ورزی ہے ، فطرت الله کی سنت ہے  اور ہم قران سے یہ بات جانتے ہیں کہ الله اپنی سنت کی خلاف ورزی کبھی نہیں کرتے. یہ ایک منتقی الجھاؤ ہے ، جو ایک سادہ مثال سے واضح کیا جاسکتا ہے. مثال لیں کہ زید عمومی طور پر کھیر نہیں کھاتا مگر عید یا کسی خاص موقع پر وہ ہمیشہ کھیر ہی کھاتا ہے. اب ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ کھیر کھانا زید کی سنت نہیں ہے بلکہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ خصوصی مواقع پر کھیر کھانا زید کی سنت ہے. اسی طرح معجزہ الله کی وہ سنت ہے جسکا ظہور صرف خاص حالات و مواقع میں ہی ہوتا ہے

محققین کے نزدیک معجزہ اور خرق عادت کرامت میں بھی ایک واضح فرق موجود ہے. خرق عادت کسی ایسی چیز کا رونما ہونا  ہے، جو الله کی جانب سے وقتی مدد  ہو مگر کیونکہ اس میں چیلنج کا عنصر نہیں ہوتا اسلیئے اسے معجزہ نہیں قرار دیا جاسکتا. مثال کے طور پر آگ کی فطرت ہے کہ وہ جلاتی ہے مگر ابراہیم الہے سلام کے لئے اسی آگ کو وقتی طور پر ٹھنڈا و سلامتی والا بنا دیا گیا. یہ ایک وقتی مدد تھی اور اسکا ظہور مستقل نہ تھا، یعنی ایسا نہیں تھا کہ آگ کبھی بھی ابراہیم الہے سلام کو نہیں جلاسکتی تھی. لہٰذا اس عظیم واقعہ کو خرق عادت سے تعبیر کیا جائے گا اور یہ معجزہ نہیں قرار پائے گا. معجزہ ہونے کے لئے کسی عمل کا صرف غیرفطری ہونا کافی نہیں ہے بلکہ ضروری ہے کہ اسے مستقل طور پر مخاطب قوم کے سامنے چیلنج کے طور پر پیش کیا جاۓ 

واللہ عالم بلصواب 

====عظیم نامہ====

2 comments: