Friday, 28 March 2014



گناہ کی لت کو کیسے چھوڑوں  ؟



ثواب ہر وہ کام ہے جس سے آپ کا روحانی و اخلاقی وجود ترقی پاتا ہے اور گناہ وہ اعمال ہیں جو آپ کی اس روحانی ترقی پر روک لگاتے ہیں یا نفس کو آلودہ کرتے ہیں. دوسرے الفاظ میں آپ کی شخصیت پر آپ کا ہر عمل ایک اثر مرتب کرتا ہے اور گناہ و ثواب کا فیصلہ اسی اثر کے تحت ہوتا ہے. ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم ثواب کو اسکے اثر کی نیت سے نہیں بلکہ تعداد کے حساب سے کرتے ہیں. ہمیں یہ تربیت نہیں دی جاتی کہ ہم عبادت یا اطاعت کے نام پر جو بھی عمل کریں اسے احسن انداز میں سرانجام دیں تاکہ اسکا بہترین نتی...جہ ہماری شخصیت پر منطبق ہو، بلکہ اسے برعکس ہمیں یہ تعلیم دی جاتی ہے کہ فلاں عمل اگر اتنی اتنی دفعہ کرو گے یا پڑھو گے تو زیادہ ثواب پاؤ گے. نتیجہ یہ ہے کہ آج ہماری نظر اعمال و اذکار کی روح پر نہیں بلکہ اعداد و شمار میں اٹک کر رہ گئی ہے. ہم یہ بھول گئے ہیں کہ روح سے خالی کوئی بھی عمل ہمارے منہ پر دے مارا جاۓ گا اور صحیح نیت سے کیۓ ہوے مٹھی بھر اعمال بھی ہماری بخشش کا سامان بن سکیں گے. یہ جو بیان ہوتا ہے کہ مسجد میں نماز کا اتنا گنا ثواب زیادہ ہے یا کعبہ میں طواف کی جزا اتنی گنا زیادہ ہے، اس سب سے مراد وہی اثر کا زیادہ ہونا ہے جسکا حصول مسجد یا حرم میں کئی گنا آسان ہوتا ہے. تہجد کا وقت یا کوئی اور قبولیت کے وقت کا ذکر بھی اسی حوالے سے ہوتا ہے کہ یہ وہ اوقات ہیں جن میں طبیعت پر زیادہ اثر مرتب ہوتا ہے. اسے صرف تعداد میں الجھا کر دیکھنا، حقیقت سے دوری ہے. یہ بھی سمجھیں کہ اکثر احادیث کا اسلوب، اصول سے زیادہ ترغیب کا ہوتا ہے. اصول کو کتاب الله متعین کرتی ہے اوراحادیث میں اکثر ترغیب کی غرض سے عام انسانوں کو زیادہ سے زیادہ اجر دکھا کر عمل کی جانب بلایا جاتا ہے. اقبال کا الله سے وہ استفسار یاد آرہا ہے:

ہو نقش اگر باطل ، تکرار سے کیا حاصل ؟
کیا تجھ کو خوش آتی ہے آدم کی یہ ارزانی ؟ 


  
اس امر سے تو ہم سب واقف ہیں کہ گناہوں سے پاک ہونے میں ہی ہماری عافیت پوشیدہ ہے. مگر ساتھ ہی یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ انسان بعض اوقات چاہ کر بھی انسان اپنی اصلاح نہیں کرپاتا. گناہ کسی لاعلاج بیماری یا مستقل عادت کی طرح ہماری شخصیت سے چپک جاتے ہیں. سوال یہ ہے کہ وہ کون سے طریقے یا تدبیریں ہیں جو قران و سنت سے ثابت ہوں اور جنہیں اختیار کرکے ہم مختلف گناہوں کو ترک کرسکتے ہیں ؟

یہ مضمون اسی سلسلے میں ایک تحقیقی کاوش ہے


١. گناہ کو گناہ سمجھو


گناہ کو گناہ سمجھنا نہایت ضروری ہے، یہ بات بظاہر اہم محسوس نہیں ہوتی مگر حقیقت یہ ہے کہ اگر انسان میں احساس ندامت باقی رہے تو پلٹ آنے کی امید باقی رہتی ہے. مگر اگر گناہ کی سنگینی کا احساس دل سے رفو ہو جائے تو پھر ایسا شخص پوری زندگی اسی عمل میں ملوث رہتا ہے. ہم جانتے ہیں کہ ابلیس نے الله رب العزت کے حکم کو ماننے سے انکار کیا تھا اور ہم اس سے بھی واقف ہے کہ آدم الہے سلام نے بھی ممنوعہ شجر کا پھل کھاکر الله رب العزت کے صریح حکم کی خلاف ورزی کی تھی. پھر وہ کون سا فرق تھا جس کی بنیاد پر ابلیس تاقیامت ملعون قرار پایا اور آدم الہے سلام کو پھر بھی خلیفہ الارض کی خلعت پہنائی گئی؟
فرق اس سے زیادہ کچھ نہ تھا کہ ابلیس نے اعتراف جرم کی بجائے ، الله تعالیٰ پر بھٹکانے کا الزام لگایا. جبکہ آدم الہے سلام نے اپنی غلطی کا اعتراف کر کے احساس ندامت ظاہر کیا. اس سے معلوم ہوتا ہے کہ احساس ندامت رکھنا کس قدر موثر اور ضروری ہے.
بچپن میں میرے والد مجھے ایک کہانی سنایا کرتے تھے، وہ کہتے تھے کہ شروع شروع میں شیطان بہت پریشان رہا کرتا تھا، وہ بڑی سخت محنت کے بعد کسی کو گناہ پر آمادہ کرتا. اسے نماز پڑھنے سے روکتا یا جھوٹ بولنے پر اکساتا مگر جیسے ہی اس شخص کو اپنے گناہ کا احساس ہوتا تو وہ فوری الله پاک سے معافی مانگ لیتا. نتیجہ یہ کہ میری رب کی رحمت سے وو نہ صرف معافی حاصل کرلیتا بلکہ بعض اوقات اسکا مرتبہ بھی بڑھا دیا جاتا. یہ دیکھ کر شیطان نے ایک نئی پالیسی بنائی ، اور وہ یہ کہ انسان سے گناہ کچھ اس ڈھنگ میں کرواۓ جایئں کہ وہ انہیں گناہ سمجھ کر نہیں بلکہ ثواب جان کر انجام دے. اب جب کسی عمل کو گناہ سمجھا ہی نہ جائے بلکہ یہ سوچا جائے کہ اس سے آپ متقی ہو رہے ہیں تو پھر ظاہر ہے کہ توبہ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا. لہٰذا ہم دیکھتے ہیں کہ آج لوگ ثواب سمجھ کر کبھی تو کسی پیر کو سجدہ کرتے ہیں تو کبھی ہزاروں بیگناہوں کو جان سے مار دیتے ہیں. ضروری ہے کہ کم از کم گناہ کو گناہ تسلیم کیا جائے ، اس کے کرنے کے لئے کوئی بہانہ یا تاویل نہ گھڑی جائے

٢. مستقل پاکیزگی کا اہتمام

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جس طرح باطن کی اصلاح ظاہر سے عیاں ہونے لگتی ہے، ویسے ہی ظاہر کو سنوارے رکھنا باطن کی تزئین میں مدد فراہم کرتا ہے. قران و حدیث میں جسمانی پاکیزگی پر خوب زور دیا گیا ہے. اگر انسان گناہوں سے بچنا چاہتا ہے یا انہیں ترک کرنا چاہتا ہے تو ضروری ہے کہ وہ اپنی ذات اور اپنے ارد گرد کے ماحول کی صفائی پر دھیان دے. جیسے حدیث میں ارشاد ہے کہ 'صفائی نصف ایمان ہے'. رسول الله صلی الله و الہے وسلم نے اپنے اقوال و احوال دونوں سے ہمیں اس پاکیزگی کا درس دیا ہے. غسل کرتے رہنا، جسم کے غیر ضروری بالوں کو کاٹنا، ناخن تراشنا، صاف کپڑے پہننا، دن میں کئی بار مسواک کرنا، کھانا تناول کرنے کے آداب، سر کے بال سلیقے سے بنانا، تیل لگانا، خوشبو استمعال کرنا وغیرہ یہ سب وہ اطوار ہیں جو ہمیں حبیب پاک صلی الله و الہے وسلم سے بطور سنت عطا ہوئے ہیں. یہ امر بھی قابل غور ہے کہ سفلی یا شیطانی عمل کرنے والے افراد بلخصوص گندگی اور غلاظت کو اختیار کرتے ہیں، ایسا کرنے سے انہیں شیاطین کی قربت حاصل ہوتی ہے. اس کے برعکس اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ ان شیاطین سے دوری رکھی جائے تو لازم ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ صفائی کا اہتمام کریں


٣. باوضو رہنا

وضو صرف ایک جسمانی فعل نہیں ہے بلکہ اس سے ہمیں ایک درجے میں روحانی پاکیزگی بھی حاصل ہوتی ہے. حدیث میں صراحت ہے کہ وضو کرتے ہوئے یہ تصور قائم رکھو کہ ہاتھ دھوتے ہوئے ہاتھ سے سرزد گناہ دھل رہے ہیں، منہ سے کلی کرتے ہوئے غیبت یا بد گوئی جیسے گناہ صاف ہو رہے ہیں وغیرہ. یہ احساس بڑا قیمتی ہے اور ایک درجہ میں حضوری کا تصور پیدا کرتا ہے. گناہ چھوڑنے والے سالک کے لئے ضروری ہے کہ وہ باوضو رہنے کی کوشش کرے. جب وضو ٹوٹے تو دوبارہ کرلے اور اگر وضو قائم بھی ہو تب بھی نماز کے وقت دوبارہ وضو کر لے. رسول پاک صلی الله و الہے وسلم نے وضو کو غصہ ٹھنڈا کرنے کیلئے تجویز بھی فرمایا ہے. سونے سے قبل باوضو ہونا بھی خواب و خیالات کی پاکیزگی میں مدد کرتا ہے


 ٤. گناہ کبیرہ سے گریز

یوں تو گناہ کے ہر کام سے بچنا ہم پر فرض ہے مگر کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کے فرق کو ملحوظ رکھ کر کم سے کم یہ یقینی بنایا جائے کہ کسی حال بھی کبیرہ کا ارتکاب نہ ہو. یہ حقیقت بھی سامنے ہو کہ اگر کسی صغیرہ گناہ کو مستقل اختیار کرلیا جائے یعنی اسکی عادت ہی ہو جائے تو وہ صغریٰ گناہ اب صغیرہ نہیں رہتا بلکہ کبیرہ گناہ بن جاتا ہے

سورہ نساء کی ٣٠ آیت میں ارشاد ہے

اگر تم بڑے بڑے گناہوں سے جن سے تم کو منع کیا جاتا ہے اجتناب رکھو گے تو ہم تمہارے (چھوٹے چھوٹے) گناہ معاف کردیں گے اور تمہیں عزت کے مکانوں میں داخل کریں گے

Saturday, 15 March 2014

حضرت عائشہ رضی الله عنہا - کم عمری میں نکاح کیوں ؟




حضرت عائشہ رضی الله عنہا کی عمر کیا تھی ؟ اور کم عمری میں نکاح کیوں ؟



ایک سوال جو اسلام کے حوالے سے اکثر پوچھا جاتا ہے ، وہ حضرت عائشہ رضی الله عنہا کی عمر کے متعلق ہے. آپ کی عمر کو لے کر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ اسلام ایک ظالم اور غیرفطری دین ہے. یہ پوچھا جاتا ہے کہ وقت کا نبی کیسے ایک کم عمر لڑکی سے نکاح کرسکتا ہے ؟ . چلیں اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ یہ الزام واقعی درست ہے ؟ اور اسے دیکھنے کے کیا ممکنہ پہلو ہوسکتے ہیں؟


سب سے پہلے تو یہ جان لیں کہ جہاں علماء کی ایک بڑی تعداد کچھ صحیح احادیث کی بنیاد پر یہ راۓ رکھتی ہے کہ حضرت عائشہ رضی الله عنہا کی عمر بوقت نکاح ٩ برس تھی. وہاں علماء کے ایک گروہ کی راۓ دوسری احادیث کی بنیاد پر یہ بھی ہے کہ آپ کی عمر نکاح کے وقت ٩ برس ہرگز نہیں بلکہ ٢١ برس تھی. یہ راۓ انہوں نے حضرت اسماء رضی الله عنہا کی ثابت شدہ عمر اور وقت وفات سے اخذ کی ہے. مورخین کے حساب سے حضرت اسماء حضرت عائشہ سے پورے دس سال بڑی تھی اور دونوں کی ولادت و وفات کی تاریخوں سے یہ لگتا ہے کہ حضرت عائشہ رضی الله عنہا نکاح کے وقت ٢١ سال کی تھی. اسی طرح سے کچھ محققین نے حضرت عائشہ رضی الله عنہا کی عمر ١٩ برس بیان کی ہے ، وہ اپنی دلیل عربی زبان کے اسلوب سے پکڑتے ہیں جہاں کبھی ١٧ کو ٧ اور ١٩ کو ٩ کہا جاتا ہے. لہٰذا ان حضرات کے بقول جو احادیث حضرت عائشہ رضی الله عنہا کی عمر ٩ برس کہہ رہی ہیں وہاں مراد ١٩ برس ہے.

سوال یہ نہیں ہے کہ ان میں سے کون سی راۓ زیادہ مستند ہے بلکہ سوچنا یہ ہے کہ اگر آپ رضی الله عنہا کی عمر مبارک میں ممکنہ اختلاف موجود ہے تو کیا اس بنیاد پر کوئی بھی اعتراض کیا جا سکتا ہے ؟ کیا یہ ٹھیک ہوگا کہ ایک تاریخ سے متعلق بات جو پوری طرح ثابت نہیں ہے، اسے موضوع بنایا جاۓ ؟ مجھے امید ہے کہ آپ کا جواب بھی میری طرح نفی میں ہوگا. لیکن چلیں ہم اسے مزید کھوجتے ہیں.

کیا آپ جانتے ہے ؟ کہ صحیح احادیث کے اعتبار سے حضرت عائشہ راضی الله عنہا کا نکاح رسول پاک صلی الله و الہے وسلم سے قبل ایک اور جگہ طے تھا ؟ اب اسکی دو ہی توجیہات کی جاسکتی ہیں. پہلی توجیح یہ کہ عرب میں کم عمر میں نکاح ہوجانا ہرگز بھی معیوب نہ تھا اور دوسری توجیح یہ کہ حضرت عائشہ رضی الله عنہا کی عمر اسوقت اتنی تھی جس میں لڑکیوں کا نکاح کیا جاسکے. دونوں صورتوں میں ہی رسول پاک صلی الله الہے وسلم پر اعتراض نہیں کیا جاسکتا. یہ بھی سوچیں کہ وہ مشرکین مکہ جو نبی کریم صلی الله الہے وسلم پر  الزام لگانے کے معمولی مواقع بھی نہیں جانے دیتے تھے ، وہ کیونکر اتنے بڑے واقعہ پر خاموشی سادھے رہے ؟ اس سے تو یہی ظاہر ہے کہ جو ہوا وہ معاشرے میں ہرگز معیوب نہ تھا. پھر حضرت عائشہ رضی الله عنہا کے والد حضرت ابو بکر رضی الله عنہ رسول پاک صلی الله الہے وسلم کے قریبی ترین ساتھ ہیں. کیا وہ اپنی بیٹی کے ساتھ کسی غیرمنصفانہ اقدام پر رنجیدہ نہ ہوتے ؟ حضرت عائشہ رضی الله عنہا کیا اپنی ساری عمر میں اس پر ایک بار بھی احتجاج نہ کرتی ؟ 

یہاں اس بات کو خوب سمجھ لیں کہ میں ہرگز یہ نہیں کہہ رہا کہ آپ رضی الله عنہا کی عمر کیا تھی ؟ میں صرف اتنا کہہ رہا ہوں کہ عمر میں اختلاف ہے اور وہ عمر جتنی بھی تھی بہرحال حاضرین کے لئے معیوب یا قابل اعتراض  ہرگز نہ تھی. اس تمام تحقیق کے باوجود اگر ہم اس ٩ برس والی راۓ پر ہی اکتفا کرنا چاہتے ہیں تب بھی میرے نزدیک اسمیں کوئی حرج نہیں. لیکن پھر یہ دیکھنا ہوگا کہ ایسی اجازت کیوں دی گئی؟ اسی پہلو کا اب ہم مختصر جائزہ لیتے ہیں.

اگر میں آپ سے کہوں کہ آپ اپنے نوزائدہ بچے کو اٹھا کر ایک بہتے دریا میں پھینک دیں ؟ تو آپ کی راۓ میرے بارے میں کیا ہوگی؟ ... یا پھر اگر میں آپ سے کہوں کہ آپ اپنے اکلوتے بیٹے کی گردن پر چھری پھیر دیں ، تو آپ میری اس بات کو کس طرح سے لیں گے ؟ .. کیا آپ میری بات مان جائیں گے؟ .. ظاہر ہے کہ آپ کا جواب نفی میں ہوگا بلکہ بہت ممکن ہے کہ اس ظالمانہ بات پر آپ مجھ سے الجھ بھی پڑیں مگر ذرا سوچیں جب یہی بات حضرت موسیٰ الہے سلام کی ماں سے کہی گئی کہ اپنے نوزائدہ بچے کو دریا میں ڈال دو ! اور جب یہی حکم حضرت ابراہیم الہے سلام کو دیا گیا کہ اپنے اکلوتےبیٹے کو ذبح کردو ! تو نہ صرف ان دونوں نے بلاجھجھک ایسا کیا بلکہ ہم آج تک انکی اس بات کی تعریف کرتے ہیں اور قیامت تک کرتے رہیں گے.  کیوں؟؟ اسلیے کہ وہ حکم الله رب العزت کی جانب سے تھا اور وہ بظاہر ظالمانہ حکم الله کی مشیت و حکمت میں ظالمانہ نہیں تھا اور وقت نے یہ ثابت بھی کیا.، جب حضرت موسیٰ الہے سلیم کی جان بچ گئی اور حضرت اسمعیل الہے سلام کو بچا لیاگیا 

ثابت ہوا کہ اگر کوئی امر الله کی جانب سے ہو تو ہم اس عمل کے ظاہر کو دیکھ کر اسکے غیر فطری ہونے کا فیصلہ نہیں کرتے بلکہ الله کے علم و مشیت پر بھروسہ کرتے ہیں . حضرت عائشہ رضی الله عنہا کے نکاح کا فیصلہ بھی الله ہی کی جانب سے تھا جو صحیح بخاری کی حدیث کے مطابق رسول الله صلی الله و الہے وسلم کو ویسے  ہی خواب میں دیا گیا جیسے ابراہیم الہے سلام کو قربانی کے متعلق دیا گیا تھا. یہ آپ صلی الله الہے وسلم کی پسند یا ناپسند نہ تھی بلکہ وحی الہی کا معاملہ تھا. وقت نے ثابت کیا کہ بی بی عائشہ رضی الله عنہا عورتوں میں سب سے بڑی عالمہ اور حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کے بعد سب سے زیادہ احادیث کو پہچانے والی بنی  

====عظیم نامہ====





Friday, 7 March 2014

قران کیسے پڑھوں ؟


قران کیسے پڑھوں ؟


قرآن کس لیے نازل کیا گیا تھا ؟ .. دلہن کی رخصتی میں سر پر رکھنے کے لیے؟ جنّات اتارنے کے لیے ؟ تعویز بنانے کے لیے ؟ تبرک یا برکت کے لیے ؟ میّت کے ایصال ثواب کے لیے ؟ بنا سمجھے طوطے کی طرح پڑھنے کے لیے ؟؟ ... یا پھر قرآن کا مقصد یہ تھا کہ اسے سمجھ کر اس پر غور و فکر کیا جائے ؟ اس کی ہدایات کو جان کر اپنی زندگی کو اسکے مطابق بنایا جائے ؟ ... قرآن کے بیان کہ مطابق اس کتاب کی حفاظت کا ذمہ خود الله رب العزت نے اپنے ہاتھوں میں لے لیا ہے لہٰذا ہم یہود و نصارا کی طرح اسکے الفاظ کو تو نہ بدل سکے مگر اسکے حقیقی مقصد کو ہم نے بدل ڈالا ہے. الله اپنی کتاب میں اس وقت کے جاہل عرب دیہاتیوں کو اور ساری انسانیت کو مخاطب کرکے بار بار اعلان کرتے ہیں کہ ہم نے اس کتاب کو سمجھنے کیلیے آسان بنا دیا ہے تو ہے کوئی ہدایت حاصل کرنے والا؟ لیکن ہمیں اس آیت کا مطلب یہ سمجھا دیا گیا ہے کہ اس کتاب کو صرف مولوی حضرات کے سمجھنے کیلیے آسان بنا دیا گیا ہے. قران میں ارشاد ہے کہ روز آخرت نبی پاک (ص) الله سے شکوہ کریں گے کہ میری امّت نے قرآن کو فراموش کرکے اسے کھیل بنا لیا تھا


غیب پر ایمان کا سادہ مطلب بنا دیکھے ایمان لانا ہے بنا سمجھے ہرگز نہیں. دنیا کے دیگر مذاھب اپنے پیروکاروں کو عقیدے کی افیون پلا کر انکے غور و فکر کی صلاحیت کو سلب کر لیتے ہیں. لیکن قرآن وہ واحد الہامی کلام ہے جو اپنے قاری کو تحقیق و تدبر پر ابھارتا ہے. وہ کہتا ہے ' افلا تعقلون ' (تم عقل کیوں نہیں استعمال کرتے؟) وہ کہتا ہے ' افلا یدبرون' (تم تدبر کیوں نہیں کرتے؟) وہ اس انسان کو انسان ماننے تک سے انکار کرتا ہے جو اپنی عقل استمعال نہ کرے اور ایسے انسان کو بدترین جانور سے تعبیر کرتا ہے جو گونگا بہرہ بھی ہو. وہ دلیل پیش کرتا ہے اور جواب میں دلیل کا تقاضہ کرتا ہے. وہ اپنے باپ دادا کی اندھی تقلید سے روکتا ہے. وہ کہتا ہے کہ اگر تم سچے ہو تو انجیل، تورات یا کوئی اور بڑی دلیل پیش کرو. وہ مکالمے کی فضا کو فروغ دیتا ہے اور جاہل کو بھی سلام کہہ کر چھوڑ دینے کو کہتا ہے. وہ غیر مذاھب کے خود ساختہ خداؤں کو بھی برا کہنے سے روک دیتا ہے. وہ زمین و آسمان پر غور کرنے کو عبادت بنا دیتا ہے اور تاریخ سے سیکھنے کی ترغیب دیتا ہے


قران اپنے قاری سے یہ تقاضہ کرتا ہے کہ وہ اسکے پیغام پر ایمان لانے سے پہلے تمام فرسودہ خیالات اور نظریات کو اپنے ذہن کی تختی سے کھرچ پھینکے. لہٰذا وہ پہلے انسان سے باطل کی نفی کرواتا ہے اور پھر اسے حق کو قبول کرنے کی دعوت دیتا ہے. وہ کہتا ہے کہ "نہیں ہے کوئی خدا، مگر سواۓ الله کے " .. وہ بتاتا ہے کہ "نہیں پیدا کیا میں نے انسان اور جنّات کو، مگراسلئے کے وہ میری عبادت کریں" .. وہ اطلاع دیتا ہے کہ "نہیں بھیجی ہم نے کوئی امّت، مگر اس میں کوئی نہ کوئی خبردار کرنے والا بھیجا" .. وہ اعلان کرتا ہے کہ "نہیں بھیجا ہم نے آپ کو (محمد ص) کو ، مگر تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر" .. قران کی ہدایت کو مکمل جذب کرنے کا واحد اورصحیح طریق یہی ہے کہ اپنے سابقہ نظریات کو پیچھے چھوڑ کر اس کتاب کے الہامی پیغام کے سامنے سر جھکا دیا جاۓ. ورنہ قاری قران کی آیات میں بھی اپنے سابقہ خیالات کی توجیح تلاش کرتا رہ جاۓ گا

====عظیم نامہ====

Wednesday, 5 March 2014

الحاد کا جائزہ - خدا کے وجود کو کیوں تسلیم کروں ؟



فلسفہ لادینیت کا تحقیقی جائزہ

 اور

 وجود باری تعالیٰ کے دلائل



اسد الله غالب کا ایک مشہور زمانہ شعر ہے

کچھ نہ تھا تو خدا تھا، کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
ڈبویا مجھ کو ہونے نے، نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا ؟

اہل علم انسان کو حیوان ناطق کے نام سے تعبیر کرتے ہیں اسکی ایک واضح وجہ یہ ہے کہ انسان اور حیوان میں بے شمار اقدار مشترک ہیں. حیوان کھاتے پیتے ہیں، آرام کرتے ہیں .. ہم بھی کرتے ہیں. حیوان خوشی، درد، تکلیف محسوس کرتے ہیں .. ہم بھی کرتے ہیں. وہ جنسی تعلق قایم کرتے ہیں، قبیلوں میں رہتے ہیں .. ہم بھی یہی سب کرتے ہیں. وہ کہتے ہیں نا کہ انسان ایک معاشرتی جانور ہیں. تو وہ کونسی قدر ہے جو انسان کو حیوانات سے ممتاز کرتی ہے ؟ علم و فلسفہ، مذھبی و لا دین سب اس سوال کا ایک ہی جواب دیتے ہیں کہ یہ عقل و شعور کی وہ عظیم نعمت ہے جسکے زریعے ایک عالم اسکے سامنے سرنگوں نظر آتا ہے. یہ عقل جہاں رکتی ہے وہاں ایک بت بن جاتا ہے. جہاں اس عقل کی جستجو رک جائے وہاں ایک بت خانہ تعمیر ہوجاتا ہے. اسکا مقدر مسلسل حالت سفر ہے. یہی تو اسکا اعجاز ہے اور یہی اسکا افتخار

کوئی شیخ، کوئی پیر، کوئی دانشور، کوئی سیاستداں، کوئی فلسفی، کوئی تحریک، کوئی مذھب اگر انسان کے اس عقلی سفر پر پابندی لگاتا ہے تو وہ دراصل اسکے شعوری ارتقاء کو روکتا ہے. اگر علم ، تحقیق، تنقید اور استدلال کی نفی کرتا ہے تو درحقیقت وہ انسان کو اسکے شرف سے محروم کرتا ہے. مکالمہ فہم و ادراک کے لئے ناگزیر ہے

غیب پر ایمان کا سادہ مطلب بنا دیکھے ایمان لانا ہے بنا سمجھے ہرگز نہیں. دنیا کے دیگر مذاھب اپنے پیروکاروں کو عقیدے کی افیون پلا کر انکے غور و فکر کی صلاحیت کو سلب کر لیتے ہیں. لیکن قرآن وہ واحد الہامی کلام ہے جو اپنے قاری کو تحقیق و تدبر پر ابھارتا ہے. وہ کہتا ہے ' افلا تعقلون ' (تم عقل کیوں نہیں استعمال کرتے؟) وہ کہتا ہے ' افلا یدبرون' (تم تدبر کیوں نہیں کرتے؟) وہ اس انسان کو انسان ماننے تک سے انکار کرتا ہے جو اپنی عقل استمعال نہ کرے اور ایسے انسان کو بدترین جانور سے تعبیر کرتا ہے جو ساتھ ہی گونگا بہرہ بھی ہو. وہ دلیل پیش کرتا ہے اور جواب میں دلیل کا تقاضہ کرتا ہے. وہ اپنے باپ دادا کی اندھی تقلید سے روکتا ہے. وہ کہتا ہے کہ اگر تم سچے ہو تو انجیل، تورات یا کوئی اور بڑی دلیل پیش کرو. وہ مکالمے کی فضا کو فروغ دیتا ہے اور جاہل کو بھی سلام کہہ کر چھوڑ دینے کو کہتا ہے. وہ غیر مذاھب کے خود ساختہ خداؤں کو بھی برا کہنے سے روک دیتا ہے. وہ زمین و آسمان پر غور کرنے کو عبادت بنا دیتا ہے اور تاریخ سے سیکھنے کی ترغیب دیتا ہے.

دستک دو گے تو دروازہ کھولا جائے گا، سوال پوچھو گے تو جواب ملے گا. پوچھو گے نہیں تو سوال ختم نہیں ہوگا بلکہ لاشعور میں کہیں دفن رہے گا اور ایک تشکیک زدہ ایمان کا باعث بنے گا. ایک اندھا، بہرہ ، گونگا ایمان جو جب کسی دوسرے فلسفے کا سامنا کرے گا تو یا تو ہتھیار ڈال دیگا یا پھر جھنجھلاہٹ اور جذباتیت کے رستے راہ فرار ڈھونڈے گا. 


علمی قحط کے اس دور میں جب تدبر جرم قرار پایا ہے. جہاں تحقیق کی جگہ تقلید اور عقیدے کی جگہ عقیدت نے لے لی ہے. جب مذاھب نے مافیا کی صورت اختیار کرلی ہے. حتیٰ کہ وہ دین جسکا آغاز ہی لفظ 'اقراء'سے ہوا تھا ، اسکے نام لیوا بھی علمی دنیا کے سب سے نالائق بن گئے. لہٰذا نتیجہ یہ نکلا کہ آج کی نوجوان نسل جو سائنسی اور مختلف مغربی فلسفوں کی موشگافیوں میں پلی بڑھی ہے ، وہ یا تو اپنے دین سے متنفر ہو کر لا دینیت کی جانب راغب ہوگئے یا پھر اپنی آنکھوں پر اندھی تقلید کا چشمہ لگا کر عقل و خرد کو طلاق دے بیٹھے. معمولی اختلاف پر انکی رگیں پھولنے لگتی ہیں اور آواز بلند ہوجاتی ہے. کاش وہ جان لیتے کہ آواز اونچی کرنے سے کہیں بہتر ہے کہ اپنی دلیل کو مضبوط کرلیا جائے.

یقین اور تشکیک دونوں ہی تجسس کی گود میں پرورش پاتے ہیں. تجسس ہی وہ جذبہ ہے جو متلاشی حق کو شکوک کی گھاٹیوں سے گزار کر بلاخر اطمینان و یقین کی منزل پر پہنچا دیتا ہے. یہ ممکن نہیں کہ شعوری طور پر زندہ انسان تجسس سے خالی ہو. معرفت الہی بھی موروثی نہیں بلکہ شعوری دریافت کا نام ہے اور اسکا محرک تجسس ہی ہے. یہی تجسس جب الفاظ میں ڈھلتا ہے تو سوال بن کر ادا ہوجاتا ہے.

یہ کوئی اتفاق نہیں ہے کہ مسلم نوجوان نسل میں مقبول اسکالروں کی اکثریت آج روایتی مدرسوں کے فارغ التحصیل نہیں ہیں. ڈاکٹر اسرار احمد سے لیکر جاوید احمد غامدی تک، ڈاکٹر ذاکر نائیک سے لے کر شیخ احمد دیدات تک، مولانا مودودی سے لیکر پرفیسر احمد رفیق تک، یاسر قاضی سے لیکر نعمان علی خان تک. یہ سب اور بہت سے مزید مقبول اشخاص جو مسلم نسل کی ذہن سازی کر رہے ہیں وہ سب جدید علوم پر دسترس رکھتے ہیں. روایتی علماء کا بدقسمتی سے یہ حال ہے کہ انہیں بخاری شریف تو زبانی یاد ہوگی، مثنوی روم کے دقیق نقطے تو وہ با آسانی بیان کر سکتے ہونگے مگر جدید اذہان میں پیدا ہونے والے سوالات سے وہ ربط پیدا نہیں کرسکتے. وہ نہیں جانتے کہ چارلس ڈارون ، کارل مارکس ، رچرڈ ڈاکن کون ہیں ؟ نظریہ ارتقاء کیا بلا ہے ، تھیوری آف ریلٹوٹی کس چڑیا کا نام ہے ؟ لہٰذا انکا ہتھیار یہی ہوتا ہے کہ ایسے کفریہ سوال نہ پوچھو، اسلام سے باہر ہو جاؤ گے. نتیجہ الحاد اور شکوک کی صورت میں برآمد ہوا

الحاد کے خد و خیال


اس وقت دنیا میں صرف دو ہی نظریات اور فلسفے پھل پھول رہے ہیں. پہلا دین اسلام جو مذہب کا مقدمہ پیش کر رہا ہے اور سب سے تیزی سے پھیلنے والا مذہب ہے. دوسرا فلسفہ لادینیت یعنی خدا کے انکار کا ہے ، یہ بھی روشن خیالی کے پردے میں اپنی پوری قوت سے پھل رہا ہے. ان دو فلسفوں کے علاوہ بقیہ جتنے بھی نظریات ہیں وہ یا تو منجمد ہیں یا پھر آھستہ آھستہ دم توڑ رہے ہیں اور ان دو فلسفوں میں سے کسی ایک کو اپنا رہے ہیں. بہت سے مسلمان ایسے ہیں جو اپنے آبائی دین کو چھوڑ کر دہریت یا لادینیت کو اختیار کر چکے ہیں اور بیشمار منکرین خدا ایسے ہیں جو اسلام کی حقانیت کو پہچان کر اسے اپنی شناخت بنا چکے ہیں. میری ناقص راۓ میں آخری ٹکراؤ جسے مذہب اور دجالی قوتوں کا ٹکراؤ کہا جاتا ہے وہ انہی دونوں کے درمیان ہوگا. باقی بچے کھچے فلسفے محض تماشائی یا سپورٹنگ کریکٹر کا کردار ادا کریں گے. ضرورت ہے اس امر کی کہ مسلمان خود کو قرآن حکیم سے جوڑیں اور اسے پھیلانے کی کوشش کریں کہ صرف یہی لادینیت پر بند باندھ سکتا ہے

کہا فرعون نے خدا ہوں میں 
ڈارون بولا بوزنا ہوں میں

ہنس کر کہنے لگا میرا اک دوست
عقل ہرکس بقدر ہمت اوست


جس شخص نے بھی قران حکیم کو فکر و تدبر سے پڑھا ، اسکے لئے خدا کا تصور تصوراتی نہیں رہا بلکے ایک عقلی حقیقت بن کے اجاگر ہوگیا. قران کا خالق اس دین کی حقانیت پر اتنا پر اعتماد ہے یا یوں کہیئے کہ اتنا نازاں ہے کہ وہ انسانی عقل و شعور پر پہرے نہیں بٹھاتا بلکہ دعوت دیتا ہے غور و حوض کی. اسے پورا یقین ہے کہ جس کسی نے اس کتاب کا موطالع غیر جانبداری سے فہم کی روشنی میں کیا، اسکے لئے کوئی امکان نہیں کہ وہ خدا کے وجود کا منکر ہو سکے. الحاد اس وقت فروغ پاتا ہے جب ایک شخص دین پر تحقیق کا رستہ ترک کر دیتا ہے اور ارد گرد کے حالات و واقعات کو اسلام کی اصل سمجھ بیٹھتا ہے. وہ دین کا مقدمہ الہامی کتاب سے جاننے کے بجاے ، کسی مولوی صاحب کی ناقص سمجھ سے جاننا چاہتا ہے. اس غلط روش سے وہ الحاد کی جانب راغب ہوتا ہے اور اسے اپنی دریافت گردانتا ہے ، حالانکہ یہ اسکی عقلی خود کشی کا ثبوت ہے

 ایک مثال لیں، مجھے ہاکی اور باکسنگ سے کوئی خاص دلچسپی نہیں لہٰذا میں اس کے بارے میں بات بھی نہیں کرتا. مجھے ایک خاص سبزی ناپسند ہے چنانچہ میں اسکا کوئی ذکر نہیں کرتا. مجھے کچھ سیاستدان اور لیڈر ظلم کی وجہ سے سخت برے لگتے ہیں، نتیجہ یہ ہے کہ میں انکے بارے میں زیادہ بات کرنے سے اجتناب کرتا ہوں. مگر ملحدین یا منکرین خدا کا معاملہ عجیب ہے، یہ دعوا کرتے ہیں کہ مذھب جھوٹ یا شر پر مبنی ہے اور انہیں اس سے ذرا دلچسپی نہیں ! لیکن سارا سارا دن اور ساری ساری رات مذھب پر ہی بات کرتے رہتے ہیں. بات سیاست کی ہو یا سماجیات کی، سائنس کی ہو یا اخلاقیات کی .. یہ مذھب کو گھسیٹ لاتے ہیں. ہر مجرم کا جرم انہیں اسکی مذھبی وابستگی میں نظر آتا ہے. یوں لگتا ہے کہ ایک ملحد جتنا خدا کا ذکر کرتا ہے، اتنا ذکر توشائد ایک زاہد بھی نہیں کر پاتا. انسان کی نفسیات کا مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ اگر آپ زبان سے ایک بات کو شر کہیں ! اور پھر سارا وقت اسی شے کا راگ الاپتے رہیں تو درحقیقت لاشعوری طور پر آپ آج بھی اسی شے سے پوری طرح منسلک ہیں اور اپنی مخالفت یا تنقید یا ناپسندیدگی میں اپنے ہی آپ سے جھوٹ بول رہے ہیں. اسے علم نفسیات کی اصطلاح میں 'گلٹی کانشیش (احساس جرم) ' کہا جاتا ہے.
.

آپ ملحدین سے الحاد کی تعریف پوچھ کر دیکھیے، بہت مشکل ہے کہ دو ملحد کوئی ایک تعریف آپ کے سامنے رکھ پائیں. کوئی خوش فہم ملحد اسے روشن خیالی کا نام دے گا تو کوئی مذہب کے خلاف مدافعت کا ! .. کوئی اسے عقل و شعور کی معراج بتاۓ گا تو کوئی اسے علمی انقلاب سمجھنے کے مرض میں گرفتار ہوگا. حقیقت یہ ہے کہ الحاد آج ایک خود ساختہ اور بند ذہن کے مذہب کی صورت اختیار کر گیا ہے. مذہب پر کیچڑ اچھالتے اچھالتے آج یہ خود ایک مذہب کا روپ دھار چکے ہیں. یہ صرف زبان سے دلیل کی بات کرتے ہیں مگر انکے کردار پر تعصب کی پٹی بندھی ہوئی ہے. کسی نام نہاد جنونی مذھبی کی طرح ذرا سی بات پر آگ بگولہ ہوجانا، گندی زبان کا استمعال کرنا، انسانیت کا صرف نام لینا مگر دوسرے انسانوں کی قابل احترام شخصیات کی تضحیک کرنا، دنیا کی ہر برائی کو زبردستی مذہب سے جوڑنا، الحاد پر کسی حوالے سے بھی تنقید نہ کرنا، صرف اپنے حق میں موجود کتابوں کا مطالعہ کرنا اور الہامی کتابوں پر تحقیق سے انکار کرنا، مکالمہ کی آڑ میں اپنی نفرت و بغض کا اظہار کرنا وغیرہ .. یہ سب آج کے ملحد کے خد و خال ہیں. 

ان کا حال یہ ہے کہ امریکہ، انگلینڈ کی مالا ایسے جپتے ہیں جیسے یہ ممالک ملحد ہوں حالانکہ ایسا ہرگز نہیں ہے. آج ایک بھی ملک ایسا نہیں ہے جو خود کو ملحد کہتا ہو اور دعا کریں کہ الله انسانیت کو انکا اقتدار نہ دکھاۓ. کیونکہ یہ تو ایسے تنگ نظر ہیں کہ جسکی کوئی مثال نہیں. تاریخ گواہ ہے کہ جوزف سٹالن اور مسولونی جیسے کتنے ہی ملحد ذہنیت کے افراد نے کروڑوں بیگناہوں کی جان لی مگر مذہب نے کبھی اس ظلم کا ناطا الحاد سے نہیں جوڑا. دوسری طرف ان ملحدین کا یہ حال ہے کہ یہ ہر سیاسی مقاصد پر کی گئی قتل و غارت کو بھی زبردستی مذہب سے جوڑ دیتے ہیں. آئین سٹائن ، نیوٹن جیسے ہزاروں لاکھوں سائنسدان گزرے جو خدا پر یقین رکھتے تھے اور جنہوں نے سائنس کو اسکی اصل بنیاد عطا کی مگر ہم نے کبھی سائنس کو دینیت اور لادینیت کی بحث میں نہیں الجھایا مگر انکا حال یہ ہے کہ آج جو سائنسدانوں میں ملحدین کی تعداد زیادہ ہے تو یہ پوری سائنس کو ہی اپنی ذاتی جاگیر سمجھ بیٹھے ہیں. سوچنا یہ ہے کہ آج تک انہیں اقتدار حاصل نہیں ہوا ہے تب یہ انسانیت کو اتنا نقصان پہنچاتے رہے ہیں، کہیں انہیں طاقت حاصل ہوگئی تو تنگ نظری کی وہ مثالیں قائم ہونگی جو انسان کو انسانیت کے شرف سے محروم کردیں.

یہ ممضمون اس امر کا تحقیقی جائزہ ہے کہ  وجود باری تعالیٰ کے متعلق دین اسلام کونسا عقلی و منتقی مقدمہ پیش کرتا ہے ؟
 
عمومی طور پر ہم کسی بھی واقعہ، شخصیت یا فلسفے کو جانچنے کے لئے  پانچ تحقیقی میعارات اختیار کرتے ہیں.  ان پانچ میں سے اگر کوئی ایک بھی صحت کے ساتھ ہم پر ثابت ہو جائے تو ہم اسے ایک حقیقت کے طور پر تسلیم کرتے ہیں
.
١. فطرت کی گواہی
٢. عقلی  استدلال
٣. تاریخ کی شہادت
٤. معتبر گواہ
٥. قابل اعتبار ثبوت


میں ان پانچوں حوالوں سے وجود خدا اور دین کے مقدمے کو انشااللہ ثابت کروں گا اور آپ دیکھیں گے کہ کسی سلیم العقل شخص کے لئے یہ گنجائش نہیں کہ وہ اپنے خالق کا انکار کرسکے
  

فطرت کا تقاضہ


اس سے پہلے کہ ہم قرانی یا منتقی دلائل کو پیش کریں ، ضروری ہے کہ یہ جائزہ لیا جائے کہ کیا ہماری عقل و فہم  خالق کے وجود کا تقاضہ کرتی ہے ؟ کیا ہماری فطرت ایک برتر ہستی کے نظریے کوآگے بڑھ کر قبول کرتی ہے کیونکہ اگر ہماری فطرت میں یہ تقاضہ ہی موجود نہیں ہے تو پھر تو یہ ایسا ہے کہ ایک شخص کو پیاس نہ لگی ہو اور آپ زبردستی اسے پانی پلانے لگیں. ایسے میں اسکا جسم پانی اگل دیگا کیونکہ اس میں طلب ہی نہیں ہے. سوال یہ ہے کہ کیا انسان میں ایک خالق کی پیاس ہے ؟ کیا اسکی فطرت اپنا پروردگار طلب کرتی ہے؟

تاریخ انسانی اس بات پر گواہ ہے کہ انسان نے ہر دور میں اور ہر علاقے میں ایک برتر ہستی کے تصور کو تسلیم کیا ہے. ایک ثابت شدا چیز کو ثابت نہیں کیا جاتا بلکہ اسکے رد کرنے والے سے استدلال طلب کیا جاتا ہے. انسانیت کی عدالت نے تاریخی اعتبار سے خدا کے وجود میں پیش کیۓ جانے والے مقدمے کو قبول کیا ہے، اب آپ لاکھ ان ثبوت و دلائل کا انکار کریں، اس تاریخی سچ کو بدلنے کی آپکی حیثیت نہیں ہے. یہ دعویٰ انسانیت نے ہر دور میں اجتمائی حثییت سے قبول کیا ہے،  اب اگر کچھ سر پھرے اٹھتے ہیں اور انسانیت کے اس متفقہ فیصلے کو رد کرتے ہیں تو ان سے پوچھا جاۓ گا کہ استدلال پیش کریں . یہ بلکل ایسا ہی ہے جیسے انسان یہ خوب جانتا ہے کہ ممتا کا جذبہ ماں میں الہامی طور پر ودیعت شدہ ہے ، اسکا اظہار مختلف ماحول میں مختلف طریق سے ہوسکتا ہے مگر اس جذبے کا فطری ہونا سب کو قبول ہے. اسی طرح ایک خالق کا تصور ہمیشہ ہر ماحول میں انسانیت کا مشترکہ اثاثہ رہا ہے، اسے کبھی الله، کبھی خدا، کبھی پرماتما اور کبھی آسمانی باپ کہہ کر پکارا گیا. نام جو بھی دیں مگر ایک برتر ہستی کے تصور کو انسانیت نے ہمیشہ آگے بڑھ کر قبول کیا

خدا کا تصور صرف گردوپیش سے پیش نہیں ہوتا، الله کا تصور ہم محض تجربات و مشاہدات سے نہیں پاتے ، یہ ایک فکری مغالطہ ہے. حقیقت یہ ہے کے اس کی کونپل فطرت کی گود میں پروان پاتی ہے یہ اندر سے باہر کا سفر شروع کرتا ہے. یہی وجہ ہے کہ ایک بچہ  چاہے وہ امریکہ میں  پیدا ہوا ہو یا پاکستان میں ، چین سے تعلق رکھتا ہوں یا افریقہ کے زولو قبیلے سے .. وہ اپنے والدین سے بچپن میں یہ سوال ضرور کرتا ہے کہ  مجھے کس نے بنایا ؟ یا میں کہاں سے آیا؟  . آپ اسے کہتے ہیں کہ میں نے تمہیں  درخت سے توڑ لیا یا ایک فرشتہ ہمیں دے گیا یا  مارکیٹ سے خرید لیا. آپ اس بچے کو مطمئن کرنے کیلئے جو بھی جواب دیں، مگر اس کا یہ معصوم سوال اس حقیقت کا اعلان کر رہا ہے کہ خدا کے وجود کی طلب انسان کے اندر فطری طور پر موجود ہے . انسانی رویوں پر کی جانے والی بہت سی تحقیقات ، جن میں آکسفورڈ یونیورسٹی کی حالیہ تحقیق بھی شامل ہے ، وہ سب یہی بتاتی ہیں کہ انسان میں فطری و جبلی طور پر ایسے داعیات موجود ہیں جو اسے ایک خدا پر ایمان رکھنے پر آمادہ کرتے ہیں. تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ سخت ترین ملحد بھی انتہائی مشکل حالت میں بے اختیار ایک برتر ہستی کو پکار اٹھتا ہے

تو دل میں تو آتا ہے، سمجھ میں نہیں آتا 
بس جان گیا میں ، تیری پہچان یہی ہے

عقل کا استدلال






پس یہ تو ثابت ہوگیا کہ الله کے وجود کی پہلی گواہی، پہلا مطالبہ انسان کے اندر سے وقوع پزیر ہوتا ہے. اب ذرا اس بات کا بھی جائزہ لے لیتے ہے کہ کیا انسان کا عقلی تقاضہ بھی یہی ہے کہ ایک خالق کے تصور کو تسلیم کیا جائے؟ یا نہیں . اب میں  ایک کے بعد ایک کچھ عقلی تناظر پیش کرونگا، جنکا غیرجانبدارانہ تجزیہ کرنے والا ہر شخص ضرور یہ جان لے گا کہ خالق کے وجود کو تسلیم کرنا نہ صرف فطرت کا تقاضہ ہے بلکہ عقل کی آواز بھی ہے

١. انسان کا جسمانی وجود 

میں جب کسی حضرت سے ملتا ہوں جو الله کے وجود کے منکر ہوں تو ان سے سوال پوچھتا ہوں کہ بھائی آپ کی آنکھوں کے وجود کا کیا مقصد ہے؟ وہ ایک لمحہ سوچے بنا جواب دیتے ہیں کہ 'چیزوں کو دیکھنا' ... میں پوچھتا ہوں کہ آپ کے کانوں کے وجود کا کیا مقصد ہے؟ فوری جواب ملتا ہے کہ 'آواز کو سننا' .. میں پوچھتا ہوں کہ یہ کہیے کے آپ کہ ہاتھوں کے وجود کا کا کیا مقصد ہے؟ جواب آتا ہے کہ 'چیزوں کو تھامنا' ..میں مزید استفسار کرتا ہوں کہ آپ کی ٹانگوں کے وجود کا کیا مقصد ہے؟ جھنجھلا کر کہتے ہیں کہ ' بھائی چلنا اور کیا ؟ !' .. میں آخری سوال پوچھتا ہوں کہ حضرت آپ کے اپنے وجود کا کیا مقصد ہے؟ ........... یہ وہ مرحلہ ہے جب میرا مخاطب پھٹی آنکھوں سے میری جانب دیکھتا ہے اور کچھ نہیں کہہ پاتا. لوگ پورا یقین رکھتے ہیں کہ ہر شے جس کا وجود ہے اس کا ایک مقصد ہے. لیکن اپنے وجود کے بارے میں خیال کرتے ہیں کہ وہ بغیر کسی مقصد کے اس دنیا میں موجود ہیں. یہ کیسی حماقت ہے؟

٢. انسان کا غیبی و نفسی وجود 

جب میں کہتا ہوں کہ فلاں کام 'میں' نے کیا ہے تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ یہ 'میں' ہے کون ؟؟ ... کیا اس سے مراد میرا جسمانی وجود ہے ؟ اگر ایسا ہے تو کیا ہو جو میرا خدانخواستہ ایکسیڈنٹ ہو جائے اور میں اپنے ہاتھ یا پیر یا آنکھ سے محروم ہو جاؤں ؟ .. سوچنا یہ ہے کہ کیا پھر بھی میں 'میں' رہوں گا ؟؟ ... جواب ہے کہ بلکل رہونگا. میرے کسی حصے کے جسم سے الگ ہوجانے سے میری 'میں' کو کوئی فرق نہیں پڑتا. ثابت ہوا کہ یہ 'میں' میرا جسمانی وجود نہیں ہے بلکے یہ تو اس جسمانی ہیولے کے اندر چھپا کوئی نادیدہ روحانی وجود ہے جو مجھے 'میں' بناتا ہے. ہم اس وجود کا مشاہدہ نہیں کر سکتے لیکن ہماری اصل حقیقت یہی غیبی وجود ہے. جسطرح ہم اپنی اس چھپی ہوئی ذات کا براہ راست مشاہدہ نہیں کرسکتے لیکن پھر بھی اپنی 'میں' کے ہونے پر یقین رکھتے ہیں، اسی طرح الله کی ذات کا مشاہدہ بھی ہمارے ادراک سے باہر ہے مگر اس سے ہرگز یہ دلیل نہیں لی جاسکتی کہ وہ موجود نہیں ہے. بلکہ ہمارا اپنی غیبی وجود ، اس برتر غیبی وجود کے ہونے پر قوی دلیل ہے

٣. ارتقاء میں ذہانت 

کسی منکر خدا سے سوال کیجیے کہ بھائی یہ آپ کی ناک آپ کے چہرے پر کیوں واقع ہے؟ نظریہ ارتقاء کے اعتبار سے ایسا کیوں نہ ہوا کہ آپ کی یہ ناک مبارک آپ کے پیٹ یا گھٹنے پر نکل آتی ؟ یہ ہی کیوں ضروری تھا کہ اسکا وجود عین آپ کی آنکھوں کے نیچے اور منہ کے اپر یعنی ان دونوں کے درمیان واقع ہو؟ ... اس سوال کا جواب اس حقیقت کے سوا اور کچھ نہیں ہے کہ یہ دراصل ایک 'ذہانت بھرے ڈیزائن' کا نتیجہ ہے. ہم آنکھوں سے کسی شے کا جائزہ لیتے ہیں پھر ناک سے اسے سونگھ کر مزید جانتے ہیں اور پھر اگر اسے کھانے کے لائق پائیں تو منہ سے اسے چکھتے ہیں یا کھا جاتے ہیں. یہ خوبصورت 'ذہانت بھرا ڈیزائن' ایک ایسی ذہین ہستی کے وجود کا واشگاف اعلان کر رہا ہے جس نے اسے سوچ سمجھ کر وجود بخشا ہے. -- بس وہی خدا ہے.

یاد رکھیں انسان لاکھ غلطیاں کر کے بھی انسان رہ سکتا ہے مگر خدا ایک غلطی کر کے خدا نہیں رہ سکتا. وہ ہر طرح کی کوتاہی سے پاک ہے. قرآن الله کا قول ہے اور سائنسی دریافت الله کا فعل. کسی بھلے آدمی کے قول و فعل میں تضاد نہیں ہوا کرتا پھر الله رب العزت کے قول و فعل میں تضاد کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا.

٤. کائنات کی تکوین 

گلاس کو زمین یا دیوار پر دے ماریں، وہ دھماکے سے کرچی کرچی ہوکر زمین پر بکھر جائے گا. آپ ایسا ایک بار کیجیۓ یا ہزار دفعہ، نتیجہ ہمیشہ تباہی کی صورت میں ہی نکلے گا. ایسا ممکن نہیں ہے کہ وہ گلاس خود بخود ٹوٹ کر پلیٹ یا چمچوں کا روپ دھار لے. ایسا تو صرف اسی صورت ممکن ہے جب اس دھماکے کے پیچھے کوئی ذہانت یا صاحب عقل ہو، جو اسے منظم کرکے اسکی صورت گری کرے. یہ ہمارا روز کا مشاہدہ ہے کہ دھماکے کا نتیجہ ہمیشہ تخریب کی صورت میں نکلتا ہے ، اس کے زریعے خود بخود ترتیب و تعمیر ممکن نہیں ہو سکتی. پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آج سے کروڑوں سال قبل بگ بینگ نامی ایک دھماکہ ہو جس سے ہماری یہ عظیم الشان کائنات اور اسکا ناقابل یقین نظم خود بخود وجود میں آگیا ہو ؟ لازم ہے کہ اس عظیم دھماکے کے پیچھے بھی ایک عظیم تر ذہانت موجود ہو. قران اور سائنس دونوں بگ بینگ کے نظریے کی تائید کرتے نظر آتے ہیں مگر کسی منکر خدا اور مومن میں فرق یہ ہے کہ ایک فریق اندھے بہرے مجنون مادے کی خدائی کو تسلیم کرتا ہے اور دوسرا فریق برتر ذہانت والے مسبب الاسباب خدا کے نظریے کو مانتا ہے. ملحد کا دعوا یہ ہوتا ہے کہ گلاس ٹوٹ کر خود بخود ڈنر سیٹ بن سکتا ہے، جبکہ مومن کہتا ہے کہ گلاس کو ڈنر سیٹ بنانے کے لئے ذہانت درکار ہے.

یہ زمین یہ فلک ان سے آگے تلک
جتنی دنیائیں ہیں ، سب میں تیری جھلک

٥. تحریر شدہ خلیات  

ایک تجربے کے طور پر سیاہی کو کسی بھی سادہ کاغذ پر بکھیر دیجیۓ، یہی عمل آپ ہزار دفعہ دوہرایں، ممکن ہے کہ ہر بار ایک بھدا سا نشان پڑ جائے. یہ بھی امکان ہے کہ کسی وقت ایک جاذب نظر نقش ابھر آئے، جیسے کوئی ایبسٹریکٹ آرٹ کا نمونہ. مگر اس بات کا سرے سے کوئی امکان نہیں کہ اس سیاہی کو بکھیرنے سے کوئی تحریر وجود میں آجاۓ. یہ نہیں ہو سکتا کہ محض سیاہی کو پھینکنے سے کسی زبان کا مضمون تشکیل پاجائے. ثابت ہوا کہ امکانی یا حادثاتی قسمت سے یہ تو پھر شائد کسی کمتر درجے میں ممکن ہو کہ ایک دلکش نقش دکھائی دینے لگے مگر یہ ناقابل یقین ہے کہ کسی حادثے یا اتفاق کے نتیجے میں ایک تحریر یا معلومات پیدا ہو سکیں. اب ذرا اس سائنسی حقیقت پر غور کریں کہ ہمارا جسم جن لاکھوں کروڑوں خلیات پر مبنی ہے، ان میں سے ہر خلیہ اپنے اندر ایک معلومات کی ضحیم کتاب رکھتا ہے، جس میں یہ درج ہوتا ہے کہ وہ انسان کیا رنگ رکھے گا؟ کیا رویہ اپناۓ گا ؟ اسکے خد و خال کیسے ہونگے ؟ وغیرہ. جس طرح انسانوں نے کمپیوٹر کے لئے مختلف کوڈ ایجاد کر رکھے ہیں، اسی طرح ہمارے ان خلیات میں ہمارے خالق نے ایسے کوڈ قدرتی طور پر ڈال رکھے ہیں جو آپس میں نہ صرف گفتگو کرتے ہیں بلکہ اسکے زریعے مختلف جسمانی حرکات انجام دیتے ہیں. سائنسدان اس طرح کے کوڈ کو - ڈی این اے کوڈ کے نام سے تعبیر کرتے ہیں. سمجھنے والوں کے لئے یہ ایک واضح نشانی ہے کہ اس ذہین ترین نظام کو چلانے والی ایک برتر ذہانت موجود ہے.

٦. عقل کا ہونا عاقل خالق کی گواہی 

ایک سوال اور ذہن پر دستک دیتا ہے وہ یہ ہے کہ کیا محض اجزاء کی کیمیائی ترکیب سے ایک عاقل ، ذہین اور باشعور وجود کا بن جانا ممکن ہے ؟ اگر کوئی کہتا ہے کہ ہاں ممکن ہے تو ایسا کیوں نہیں ہوتا کہ ہم مردہ انسانی اجزاء کو آپس میں جوڑ کر ایک جیتا جاگتا عاقل وجود کھڑا کر دیں ؟ ہمارا معاملہ تو یہ ہے کہ باوجود تمام تر علمی دریافتوں کے، ہم ایک باشعور وجود تو درکنار محض زندگی پیدا کردینے سے بھی قاصر ہیں. یہ ایک بدیہی حقیقت ہے کہ انسان نے خود بیشمار تخلیقات کی ہیں ، جن میں بہت سی تخلیقات ذہین بھی ہیں جیسے کمپیوٹر یا روبوٹ وغیرہ. مگر ان تمام ذہین تخلیقات میں جو قدر مشترک ہے وہ یہ ہے کہ کسی تخلیق کو ذہین بنانے کے لئے اس میں ذہانت باہر سے ڈالنی پڑتی ہے، یہ اندر سے نہیں پھوٹتی. دوسرے لفظوں میں ذہانت کی اپنی جداگانہ حیثیت ہے اور یہ صرف اجزاء کی ترتیب سے ازخود حاصل نہیں ہوسکتی. کمپیوٹر کی مثال لیجنے ، آپ اس کے بیرونی اور اندرونی اجزاء کو جوڑ کر اسے میکانکی حرکت میں تو لاسکتے ہیں مگر اس میں ذہانت ڈالنے کے لئے آپ کو لازمی ایک جدا سافٹ وئیر کو انسٹال کرنے کی ضرورت ہو گی. محض ہارڈ وئیر کو ترتیب دے لینے سے یا اس میں برقی توانائی کے بہاؤ سے آپ 'ذہانت' نہیں پیدا کرسکتے. انسانی جسم کی ترتیب کا بھی یہی معاملہ ہے ، آپ حد سے حد جسمانی و کیمیائی اجزاء کو ہارڈ وئیرکی طرح یکجا کرسکتے ہیں مگر اس میں ذہانت پیدا کرنے کے لئے لازم ہے کہ نفس (سول) نام کا سافٹ وئیر منطبق کیا جاۓ. اسکے علاوہ کسی اور راۓ کا اظہار محض حقیقت سے فرار ہے. کمپیوٹر ایک زہین تخلیق ہے اور وہ اپنے وجود سے یہ منادی کر رہی ہے کہ میرا تخلیق کار  انسان ایک عظیم تر ذہانت کا مالک ہے، تو یہ کیسے ممکن ہے کہ انسان نامی یہ زہین مخلوق بناء کسی خالق کے خود بخود وجود پا جائے؟

٧. غیر فانی طاقت کا عقلی اعتراف 

لطف کی بات یہ ہے کہ ملحدین سائنس کے قانون توانائی (لاء آف تھرمو ڈائیںمکس) کو بڑے زور و شور سے مانتے ہیں، جس کے حساب سے توانائی کو نہ پیدا کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی اسے ختم کیا جاسکتا ہے. سادہ الفاظ میں توانائی غیر فانی ہے. لیکن اگر کہیں غلطی سے کوئی یہی صفات خدا کے نام سے بیان کردے تو سمجھیں قیامت آگئی. مومنین اور منکرین خدا کی جماعت میں بس اتنا فرق ہے کہ ایک  مجنون مادے یا توانائی کی خدائی کو تسلیم کرتا ہے اور دوسرا فریق برتر ذہانت والے مسبب الاسباب کی خدائی کا قائل ہے. ملحد کا دعوا یہ ہوتا ہے کہ گلاس ٹوٹ کر خود بخود ڈنر سیٹ بن سکتا ہے جبکہ مومن کہتا ہے کہ گلاس کو ڈنر سیٹ میں ڈھالنے کے لئے ذہاںت لازمی درکار ہے.

٩. حاضر کو دیکھ کر غیب پر یقین  

ہم ایک تصویر کو دیکھتے ہیں اور ایک مصور ہونے کا ہمیں یقین ہوجاتا ہے حالنکہ ہم نے مصور کو نہیں دیکھا ہوتا. ہم ایک گھر کو دیکھتے ہیں اور اسکے معمار کے وجود پر بناء دیکھیے ایمان لے آتے ہیں. الیکٹران، پروٹون جیسی بے شمار سائنسی حقیقتیں ایسی ہیں جن کا ہم نے آنکھ سے مشاہدہ نہیں کیا بلکہ علمی طور پر سمجھا ہے. اسکی ایک بڑی مثال کشش ثقل کی ہے، کشش ثقل کو آج تک کسی سائنسدان نے نہیں دیکھا مگر اسکے اثرات کا جائزہ لیکر ہم پورے اطمینان سے اسے ایک سائنسی حق تسلیم کرتے ہیں. عقل محسوس سے غیر محسوس کا استنباط کرتی ہے، حاضر سے غیر حاضر کا سراغ پالتی ہے



 ١٠. مخلوق میں مقصدیت

گاۓ چارہ کھاتی ہے ہرا ، اس سے اسکا خون بنتا ہے لال ، پھر وہ گوبر کرتی ہے پیلا ... وہ چارہ میرے کسی کام کا نہیں، وہ خون میرے لیے شریعت میں حرام اور وہ گوبر اپنے اصل میں میرے لئے نجس ! .... یہ میرا پروردگار ہے جس نے اس حرام اور نجس کے بیچ میرے لئے دودھ کی صاف اور پاک فیکٹری لگا رکھی ہے. ذرا سوچیے ! مچھلی کے بچے کو تیرنا کس نے سکھا دیا ؟ سانپ کا سنپولا رینگنا کیسے سیکھ گیا ؟ ایک مرغی کا چوزا انڈے کے خول میں دوڑنا بھاگنا کیسے جان گیا ؟ ایک ناپاک پانی کے قطرے سے جیتا جاگتا باشعور انسان کیسے اٹھا کھڑا ہوتا ہے؟ ایک ماں کے سینے میں بچے کے پیدا ہوتے ہی دودھ کیسے اتر آتا ہے؟  آپ شیر کو گھانس دیں ، وہ کبھی نہیں کھاےگا. آپ بکری کو گوشت پیش کریں ، وہ صاف منہ پھیر لیگی کہ میرا پرہیز ہے. شیر کو گوشت دیں وہ کھاے گا ، بکری کو گھانس دیجئے وہ کھاے گی. انہیں یہ سمجھ کون سمجھا گیا ؟ اس کائنات کا زرہ زرہ زبان حال سے گواہی دے رہا ہے کہ

کوئی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے .. وہی خدا ہے 
دکھائی بھی جو نہ دے نظر بھی جو آرہا ہے .. وہی خدا ہے


١١. سائنس کا دائرہ کار

مثال لیں کہ آپ کی والدہ نے آپ کے لئے بہت محبت سے ایک کیک بنایا. فرض کیجیئے کہ آپ اس کیک کو سمجھنے کیلئے کسی سائنسی ماہر سے رجوع کرلیتے ہیں. وہ کیک کے مادی و ظاہری وجود کا باریکی سے تجزیہ کرے گا اور بتا دے گا کہ اس میں کون کون سے اجزاء استمعال ہوئے ہیں، ان کا آپس میں تناسب کیا ہے؟ ان اجزاء میں کون سی چیز پہلے اور کونسی بعد میں شامل کی گئی ہے وغیرہ. مگر کیا وہ کبھی یہ بتا سکتا ہے ؟ کہ اس کیک کو بطور تحفہ پاکر آپ کے اندرونی احساسات کیا تھے؟ یا اس کیک کو بناتے ہوئے ایک ماں کی ممتا اس میں کیسے شامل رہی ؟ .. ایک انسان کے وجدانی وجود کی اس سے بڑی توہین اور کیا ہوسکتی ہے ؟ کہ کوئی ممتا کے اس پاکیزہ جذبہ کو محض ایک 'میکانکی کیمیکل ری ایکشن' کا نام دے دے. سائنس مادی علوم کا مجموعہ ہے ، یہ اس وقت تک معتبر رہتی ہے جب تک اس کا دائرہ مادی اشیاء تک ہی محدود رہے. جب بھی یہ اپنی حدود سے تجاوز کرے گی تو بھٹک کر غلط نتائج برآمد ہونگے. وجود باری تعالیٰ ، روح، ملائکہ یہ سب مادی کائنات سے تعلق رکھ کر بھی ان میں شامل نہیں ہیں. ان سب پر سائنس یعنی مادی علوم کا اطلاق کرنا حقیقت سے دوری ہے


١٢. ایک ہی نقطہ آغاز

وجود کو عدد سے جدا نہیں کیا جاسکتا .. اعداد کا آغاز " ایک " سے ہوتا ہے .. یعنی وجود کا آغاز " ایک " سے ہوتا ہے .. " ایک " سے پہلے کچھ بھی نہیں تھا .. اس کچھ بھی نہیں کو خیالی طور پر سمجھنے کے لئے ہم " صفر " کہتے ہیں .. " ایک " ہی سے نقطہ آغاز ہے .. " ایک " ہی سے سب کی ابتدا ہے ... " ایک " ہی ہمیشہ سے ہے
.
کچھ نہ تھا تو خدا تھا .. کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
ڈبویا مجھ کو ہونے نے .. نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا


آپ نے دیکھا کہ نہ صرف فطری بلکہ عقلی طور پر بھی اس کائنات اور ہمارے اپنے وجود کی توجیح صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ ہم ایک برتر ذہانت والے رب کے تصور کو قبول کریں. یہ چند عقلی دلائل ہیں جو میں نے پیش کر دئیے ، اسی طرح بیشمار اور زاویے بھی ہیں جو میں طوالت کے پیش نظر نہیں لکھ رہا. اس یقین کے ساتھ کہ ہر سلیم الفطرت شخص کے لئے مندرجہ بالا عقلی استدلال بہت کافی ہیں

=================================================

مندرجہ بالا دلائل صرف خدا کے وجود کے ہونے پر وکالت کرتے ہیں اور کسی بھی سچے طالب حق کی تلاش کے لئے کافی ہیں. ان دلائل کو اسلام کے مقدمہ سے نہیں بلکہ محض فطری و عقلی استدلال سے وپیش کیا گیا ہے. مجھے امید ہے کہ اس مقام پر آپ کو ایک برتر ہستی یا خالق کی موجودگی پر کوئی شک باقی نہ رہا ہوگا. لیکن اگر اب بھی کوئی ذہنی اشکال ہے تو آگے پڑھنے کے بجاۓ اپر درج استدلال کو ایک بار اور غور سے پڑھیں اور پھر دیانتداری سے اسکے منتقی یا غیر منتقی ہونے کا فیصلہ کریں. مجھے یقین ہے کہ ہر صاحب  شعور ایک صاحب اختیار خالق کو ماننے پر خود کو راضی پاۓ گا. 

=================================================

اب ہم مزید زاویوں سے الله کی موجودگی کا جائزہ لیں گے اور اب آزادانہ استدلال اسلام کی جانب سے بھی پیش ہوگا. اک ملحد اور مسلم میں بس اتنا فرق ہوتا ہے کہ ملحد کے بقول "کوئی خدا نہیں" اور مسلم کے بقول "کوئی خدا نہیں سوا الله کے" ، آدھا ایمان تو ملحد و مسلم کا مشترک ہے، بس اب دوسرے حصہ کو پرکھنا ہے

جو 'لا' کہا، وہ 'لا' ہوا 
وہ 'لا' بھی اسمیں 'لا'ہوا 

جزو 'لا' ہوا ، کل 'لا' ہوا 
پھر کیا ہوا ؟ الله ہوا 

 نسل در نسل علمی تواتر

ہم بہت سی حقیقتوں کو نہ فطرت کی گواہی سے مانتے ہیں اور نہ ہی عقلی استدلال سے ، بلکہ ان تک ہم علمی تواتر سے پہنچتے ہیں. ہم جانتے ہیں کہ غالب ایک شاعرگزرا ہے اور  دیوان غالب ان ہی کا کلام ہے. ہم مانتے ہیں کہ افلاطوں ایک عظیم .فلسفی گزرا ہے ، اس نے 'دی ریپبلک' تصنیف کی تھی . ہم یہ یقین رکھتے ہیں کہ سکندر اعظم تاریخ میں ایک بہت بڑا فاتح . رہا ہے. کیا آپ نے کبھی سوچا ؟ کہ ہم میں سے کوئی بھی ان شخصیات سے نہیں ملا لیکن ہم انکے وجود اور پیغام پر یقین رکھتے ہیں. وجہ اسکے سوا اور کچھ نہیں کہ انکی ذات و تعلیمات کی خبر ہم تک نسل در نسل متواتر پہنچی ہے. دین کا مقدمہ اور وجود خدا کی شہادت بھی ہم تک اسی اسلوب سے نسل در نسل پہنچی ہے. تاریخ ثابت کرتی ہے کہ الله اور اسکے کلام کی خبر انسانیت کو کسی ایک وقت میں کسی ایک آدمی سے نہیں ملی بلکہ پے در پے رسول ہر دور میں اور ہر علاقے میں معبوث ہوۓ جنکی صداقت کو انسانیت نے رنگ و نسل سے بلند ہو کر محض صداقت کی بنیاد پر قبول کیا

آپ سے پوچھوں کہ آپ کے دادا کے دادا کے دادا کے دادا اس دنیا میں کبھی موجود رہے ہیں ؟ تو آپ کا یقینی جواب ہوگا کہ ہاں موجود رہے ہیں، مگر کیا ہو اگر میں آپ سے اسکا ثبوت مانگوں ؟ کیا آپ کبھی ان سے ملے ہیں؟.. آپ کے پاس اپنے دعوی کی دو ہی  ممکنہ دلیلیں ہوسکتی ہیں. پہلی یہ کے آپ کا اپنا اس دنیا میں موجود ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ کےدادا .کے دادا کے دادا بھی کبھی موجود رہے ہونگے. دوسرا یہ  کہ انکے وجود کی خبر آپ تک نسل در نسل ہوتی ہوئی اپ کے دادا اور والدین سے پہنچی ہے لہٰذا آپ پورے اطمینان سے انکے وجود کا یقین رکھتے ہیں. اسی اصول پر آپ اب وجود خدا اور دین کے عمومی مقدمے کو دیکھ لیں ، تخلیق کا موجود ہونا خالق کے ہونے پر دلیل ہے اور اس خالق کے پیغام کی گواہی چاہے وہ پیغمبر ہوں، صحیفے ہوں یا معجزات ہم تک نسل در نسل منتقل ہوتی آائی ہے

معتبر گواہ

الله عزوجل نے انسانیت کی تربیت کے لیے ہر دور میں اپنی الہامی کتاب نازل کی. ان کتابوں کا بنیادی مقدمہ ہمیشہ یکساں رہا. قران کے بیان سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسلام ہی وہ دین ہے جو تمام انبیاء کو عطا کیا گیا اور ہر کتاب ایک آنے والے آخری نبی کی بشارت دیتی رہی. وہ توحید کا عقیدہ ہو یا سزا و جزا کی خبر، وہ ملائکہ و جنات پر ایمان کا معاملہ ہو یا وحی و تقدیر پر ایمان کا تقاضہ. تمام ایمانیات اسی طرح سے سابقہ الہامی کتابوں میں درج ہیں جس طرح قران حکیم میں مذکور ہیں.
یہی معاملہ من و عن عبادات کے حوالے سے بھی ہے، لہٰذا سابقہ مذاہب میں تحریف کے باوجود آج تک نماز کے حوالے سے پرستش کا تصور موجود ہے، چیرٹی کے نام پر زکات و صدقات کی ترغیب ہو یا روزہ، قربانی و حج کی دیگر روایات، تمام تر مالی و بدنی عبادات اصولی سطح پر ہر نبی کی امت کو عطا کی گئی. یہ اور بات ہے کہ انکے اظہار کی حرکات و سکنات اور وقت کا تعین زمانی لحاظ سے ایک دوسرے سے مختلف رکھا گیا ہے جو 
کے معمولی و ثانوی بات ہے

یہاں یہ بات تو واضح ہوتی ہے کہ دین کا اصل مقدمہ تمام تر تحریفات کے باوجود بھی اپنی اصل میں یکساں ہے. مگر کوئی بھی عدالت کسی مقدمے کو سمجھنے کے لئے معتبر گواہ  کا مطالبہ کرتی ہے. اسلام کا مقدمہ یوں تو سب ہی پیغمبروں نے پیش کیا لیکن معلوم تاریخ میں اسکے نمائندہ گواہ و مبلغ رسول عربی محمد صلی الله الہے وسلم ہیں. اب یہ جائزہ لینا ہوگا کہ کیا انکی گواہی کردار و تعلیمات کے حساب سے معتبر ہے ؟


اگرغور کریں توکوئی شخص نبوت کا جھوٹا دعویٰ صرف تین صورتوں میں ہی کر سکتا ہے. 

پہلا یہ کہ وہ کردار کے لحاظ سے  جھوٹا ہو. 
دوسرا کہ وہ ذہنی حوالے سے دھوکے زدہ ہو. 
اور تیسرا یہ کے وہ اس دعوے سے کوئی مال و رتبے کا حصول چاہتا ہو. 

جب ہم محمد (ص) کی حیات کہ جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں فوری معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ تینوں الزام آپ (ص) پر نہیں لگ سکتے.
پہلا اعتراض
 نبوت سے پہلے ہی تمام اہل مکہ آپ کو اس درجے میں سچا تسلیم کرتے تھے کہ آپ کا لقب ہی صادق اور امین رکھ دیا گیا. لہٰذا تاریخ و منطق کے حساب سے آپ ہرگز جھوٹے نہ تھے.
دوسرا اعتراض
جب آپ (ص) کے اکلوتے صاحبزادے کا انتقال ہوا تو اسی وقت سورج گرہن ہو گیا، صحابہ نے کہا کہ یہ ضرور رسول (ص) کا معجزہ ہے. آپ (ص) نے ارشاد فرمایا کہ نہیں !! سورج گرہن ایک قدرتی مظہر ہے اور اس کا ہونا نہ ہونا کسی کی زندگی موت سے وابستہ نہیں ہے. اگر آپ (ص) کسی ذہنی دھوکے کا شکار ہوتے تو کبھی اس کی تردید نہ فرماتے.
تیسرا اعتراض
 یہ بھی سچ ہے کہ جب شدید مشکل کے دور میں سردار مکہ نے یہ پیشکش رکھی کہ وہ آپ کو حکومت دینے، مال و دولت دینے اور خوبصورت عورتیں فراہم کرنے کو تیار ہیں، بس شرط اتنی ہے کہ آپ دعوت دین ترک کر دیں تو آپ (ص) نے یہ کہہ کر صاف انکار کردیا کہ اگر تم میرے ایک ہاتھ پر سورج اور دوسرے پر چاند بھی لا رکھو تو میں کلمہ حق کہنے سے باز نہ آؤں گا. جب آخر میں حکومت، شہرت اور طاقت حاصل بھی ہوئی تو آپ نے دانستہ اپنے لیے فقر یعنی غربت کا انتخاب کیا تاکہ کل کوئی انگلی اٹھا کر یہ نہ کہہ سکے کہ آپ (ص) نے دین کی محنت مال و رتبے کے لیے کی. جو کوئی دیانت داری سے آپ کی زندگی کا جائزہ لےگا وہ آپ (ص) کی حقانیت کو ضرور جان لے گا.

معتبر شہادت/ثبوت

یہ اپنی جگہ ایک حقیقت ہے کہ گواہ کی قبولیت کے لئے اسکا قابل اعتبار ہونا ضروری ہے، جو الحمداللہ ہم نے اپر اختصار سے بیان کردیا. البتہ گواہ کے ساتھ ساتھ کوئی بھی عدالت ثبوت کا بھی تقاضہ کرتی ہے. یوں تو تمام الہامی کتابیں دین کے مقدمے کا ثبوت ہے مگر اس کی سب سے بڑی اور محفوظ شہادت قران حکیم ہے.

تاریخ گواہ ہے کہ ماضی میں بہت سے افراد نے نبوت کا جھوٹا دعوا کیا اور کچھ لوگوں کو اپنا ہم خیال بنانے میں بھی کامیاب رہے مگر رسالت کا جھوٹا دعوا کوئی نہ کر پایا. وجہ یہ ہے کہ رسول صرف پچھلے پیغمبروں کی تائید ہی نہیں کرتا بلکے ایک الہامی کتاب بھی پیش کرتا ہےکسی صحیفے یا کتاب کو خدائی کلام کہنا اتنی بڑی جرات اور ہمت کا کام ہے کہ کوئی فریبی اسکا ارتکاب نہیں کرسکتا. اگر کوئی کر بھی بیٹھے تو کامیاب نہیں ہو سکتا. لہٰذا رسول عربی محمد (ص) کے بعد جتنے بھی افراد دین کی تعبیر لے کر آے انہوں نے یا تو نبوت و رسالت کا دعوا سرے سے کیا ہی نہیں جسے کہ گرو نانک، گرو رجنیش اوشو، سائیں بابا وغیرہ یا پھر اگر دعوا کیا بھی تو رسالت کا نہیں بلکے نبوت کا جھوٹا دعوا کیا جسے کہ مرزا قادیانی، مسلمہ کذاب، بہاالدین بہائی وغیرہ.

اس کتاب کے الہامی ہونے کے اتنے دلائل ہیں کہ اگر مجھ جیسا ناقص العلم بھی اسے بیان کرے تب بھی ایک پوری کتاب اسی موضوع پر درکار ہو. لہٰذا یہاں قران کے صرف اسلوب و زبان کے حوالے سےمختصر اشارے کیۓ جاییں گے

سوره یٰسین کی چالیسویں آیت میں ارشاد ہے کہ " نہ تو سورج ہی سے ہوسکتا ہے کہ چاند کو جا پکڑے اور نہ رات ہی دن سے پہلے آسکتی ہے۔ اور آسمان میں سب اپنے اپنے دائرے میں تیر رہے ہیں" ، حیرت انگیز بات یہ ہے کہ قران نے عربی کے جن الفاظ کا انتخاب کیا ہے وہ کچھ یہ ہیں "کل فی فلک .. یسبحون " .. غور کیجنے آپ "کل فی فلک" کو دونوں جانب سے پڑھیں گے تو ایک ہی جملہ بنے گا یعنی یہ الفاظ بھی تسبیح کے مدار کی طرح گھوم رہے ہیں (ک ل ف 'ی' ف ل ک). کیا یہ کسی انسان کے لئے ممکن ہے کہ وہ جملے میں اپنا ...مدعا بیان کرتے ہوے اس جملے کی عملی شکل بھی اس پیغام کے مطابق کردے؟ .. ایک اور مثال ملاحظہ ہو سوره مدثر کی تیسری آیت میں الله رب العزت نے محمد (ص) کو حکم دیا ہے کہ " اور اپنے پروردگار کی بڑائی کرو" .. خوبصورت بات یہ ہے کہ یہاں بھی جن الفاظ کا انتخاب کیا گیا ہے وہ ہیں "ربک فکبر" .. دونوں جانب سے پڑھ کر دیکھ لیجیے ایک ہی جملہ وجود اور ایک ہی ترتیب وجود پزیر ہوگی. (ر ب ک 'ف' ک ب ر). یہاں صرف دو امثال بیان کی گئی ہیں ورنہ قران اپنی زبان اور اسلوب دونوں حوالوں سے عجائب کا خزانہ ہے

قرآن مجید میں اعداد کا بھی خاص خیال رکھا گیا ہے جو اس کلام کے الہامی ہونے کی دلیل ہے. قرآن میں بتایا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ الہے سلام کی مثال بلکل حضرت آدم الہے سلام جیسی ہے. حیرت انگیز طور پر دونوں پیغمبروں کا ذکر پچیس پچیس بار آیا ہے. قرآن میں لفظ مرد یعنی 'رجل' کا ذکر چوبیس بار آیا ہے اور عورت یعنی 'امرا' کا ذکر بھی چوبیس بار آیا ہے. قرآن میں شیطان کا ذکر اڑسٹھ ٦٨ بار آیا ہے اور فرشتے کا ذکر بھی اڑسٹھ ٦٨ بار ہی آیا ہے. قرآن اس دنیا کی زندگی کا ایک سو پندرہ ١١٥ بار تذکرہ کرتا ہے اور آخرت کی زندگی کا بھی ایک سو پندرہ ١١٥ بار ذکر کرتا ہے. ہم میں سے ہر ایک بتا سکتا ہے کہ سال میں تین سو پینسٹھ دن ہوتے ہیں لیکن سوچنے کہ قرآن دن یعنی یوم لفظ کا استمعال پورے تین سو پینسٹھ بار کرتا ہے. قرآن پاک میں سورہ توبہ کی آخری آیات میں الله عزوجل نے صاف فرما دیا ہے کہ اس نے ہر ایک چیز عدد میں گن رکھی ہے. ہر باشعور انسان جو دیانت داری سے غور کرے، اسکے لئے کوئی اس کتاب کے الہامی ہونے سے انکار کا کوئی امکان باقی نہیں رہتا

Tuesday, 4 March 2014

ثواب کیا ؟ نیک کون؟ شریعت کی پابندی کیوں؟

ثواب کیا ؟ نیک کون؟ شریعت کی پابندی کیوں؟

آپ کو بہت سے ایسے بھلے مانس مسلمان ملیں گے جو آپ کو بتاییں گے کہ نماز سے کتنی اچھی جسمانی ورزش ہوتی ہے یا
روزہ رکھنے سے انسان کتنا فٹ رہتا ہے. کچھ کہیں گے کہ ہاتھ سے کھانا اسلئےکھانا چاہیئے کہ آپ کہ ہاتھوں کی انگلیوں سے ایسی شعائیں نکلتی ہیں جن سے آپ کا ہاضمہ بہترین رہتا ہے. یا پھر یہ ارشاد ہوگا کہ داڑھی اسلیۓ رکھو کہ اس سے مردوں کو جلد کا کینسر نہیں ہوتا. اپنی بات کی تاویل میں عین ممکن ہے کہ وہ کسی گمنام سائنسی تحقیق کا بھی حوالہ دے ڈالیں. میں نہیں جانتا کہ ان میں سے کس بات میں کتنی صداقت پوشیدہ ہے یا پھر یہ سب صرف عقیدت پر مبنی مفروضے ہیں. بات جو بھی ہو پر سوچنا یہ ہے کہ ہم نماز روزہ یا کوئی اور مذہبی عمل اسلیۓ نہیں کرتے کہ اس سے کوئی جسمانی فائدہ حاصل ہو بلکے صرف خالص احکام الہی کی تعمیل میں کرتے ہیں. جسمانی تندرستی کے لئے اور بہت سے بہتر طریقے موجود ہیں. لہٰذا میری ناقص راۓ میں دینی احکام کو دنیاوی فوائد سے جوڑ کر پیش کرنا درست رویہ نہیں ہے. اس سے بعض دفع غلط پیغام جاتا ہے. اس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں کہ توپ سے آپ مکھی بھی مار سکتے ہیں ، مگر توپ کی فضیلت یا مصرف بتاتے ہوۓ کوئی بھی صاحب عقل اسکا ذکر نہیں کرے گا. دینی احکام کی حکمت و مقاصد بھی ان سطحی باتوں سے بہت بلند ہیں. اہل ایمان کی جانب سے بس اتنی دلیل کافی ہے کہ ہم دین پر عمل اپنے اخلاقی وجود کے تزکیے اور اپنے رب کے قرب کے واسطے کرتے ہیں.
ہم نماز کی ہر رکعت میں 'اھد نا صراط المستقیم' کے الفاظ ادا کرکے الله رب العزت سے یہ دعا مانگتے ہیں کہ وہ ہمیں ھدایت کا سیدھا رستہ دکھاۓ اور اس پر قائم فرماۓ. یہ جانتے ہوۓ کہ قران کی صورت میں ہدایت کا پورا نسخہ ہمارے پاس موجود ہے، ہمیں پھر بھی ہدایت کے حصول کی دعا کرتے رہنے کا حکم ہے. اس رویہ سے انسان کبھی جمود یا خودپرستی کا شکار نہیں ہوتا بلکہ ہر وقت شعوری ارتقاء اور خود احتسابی کے عمل سے گزرتا رہتا ہے. ضروری ہے کہ ہم خود کو عقل کل نہ سمجھ بیٹھیں بلکے یہ احساس ہر وقت ہمارے وجود کا حصہ ہو کہ کیا معلوم کہ کن قرانی ہدایات و تصورات کے بارے میں میری راۓ غلطی پر ہو ؟ اس احساس سے مزین ہو کر آپ دوسروں کی آراء کو نہ صرف احسن انداز سے برداشت کر سکیں گے بلکہ اپنی تصیح کرنے میں بھی کوئی اشکال محسوس نہیں کریں گے
ثواب ہر وہ کام ہے جس سے آپ کا روحانی و اخلاقی وجود ترقی پاتا ہے اور گناہ وہ اعمال ہیں جو آپ کی اس روحانی ترقی پر روک لگاتے ہیں یا نفس کو آلودہ کرتے ہیں. دوسرے الفاظ میں آپ کی شخصیت پر آپ کا ہر عمل ایک اثر مرتب کرتا ہے اور گناہ و ثواب کا فیصلہ اسی اثر کے تحت ہوتا ہے. ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم ثواب کو اسکے اثر کی نیت سے نہیں بلکہ تعداد کے حساب سے کرتے ہیں. ہمیں یہ تربیت نہیں دی جاتی کہ ہم عبادت یا اطاعت کے نام پر جو بھی عمل کریں اسے احسن انداز میں سرانجام دیں تاکہ اسکا بہترین نتی...جہ ہماری شخصیت پر منطبق ہو، بلکہ اسے برعکس ہمیں یہ تعلیم دی جاتی ہے کہ فلاں عمل اگر اتنی اتنی دفعہ کرو گے یا پڑھو گے تو زیادہ ثواب پاؤ گے. نتیجہ یہ ہے کہ آج ہماری نظر اعمال و اذکار کی روح پر نہیں بلکہ اعداد و شمار میں اٹک کر رہ گئی ہے. ہم یہ بھول گئے ہیں کہ روح سے خالی کوئی بھی عمل ہمارے منہ پر دے مارا جاۓ گا اور صحیح نیت سے کیۓ ہوے مٹھی بھر اعمال بھی ہماری بخشش کا سامان بن سکیں گے. یہ جو بیان ہوتا ہے کہ مسجد میں نماز کا اتنا گنا ثواب زیادہ ہے یا کعبہ میں طواف کی جزا اتنی گنا زیادہ ہے، اس سب سے مراد وہی اثر کا زیادہ ہونا ہے جسکا حصول مسجد یا حرم میں کئی گنا آسان ہوتا ہے. تہجد کا وقت یا کوئی اور قبولیت کے وقت کا ذکر بھی اسی حوالے سے ہوتا ہے کہ یہ وہ اوقات ہیں جن میں طبیعت پر زیادہ اثر مرتب ہوتا ہے. اسے صرف تعداد میں الجھا کر دیکھنا، حقیقت سے دوری ہے. یہ بھی سمجھیں کہ اکثر احادیث کا اسلوب، اصول سے زیادہ ترغیب کا ہوتا ہے. اصول کو کتاب الله متعین کرتی ہے اوراحادیث میں اکثر ترغیب کی غرض سے عام انسانوں کو زیادہ سے زیادہ اجر دکھا کر عمل کی جانب بلایا جاتا ہے. اقبال کا الله سے وہ استفسار یاد آرہا ہے:

ہو نقش اگر باطل ، تکرار سے کیا حاصل ؟
کیا تجھ کو خوش آتی ہے آدم کی یہ ارزانی ؟
اگر میری عبادات میرے اخلاقی وجود کا تزکیہ نہیں کرتیں. اگر میرے بیوی ، بچے اور میرے قریبی اقرباء میرے اعلیٰ اخلاق کی گواہی نہیں دیتے. اگر میرا چہرہ داڑھی سے تو سجا ہے مگر مسکراہٹ کی سنّت سے خالی ہے. اگر میں شرعی احکام کی پابندی تو کرتا ہوں لیکن معاشرتی و سماجی معاملات میں بلکل کورا ہوں. اگر دین پر چلنے سے میری طبیعت میں نرمی نہیں بلکے سختی آ گئی ہے اور اگر میں دعوت کی جگہ  تکفیر کا رویہ اپنایا ہوا ہوں توجان لیں یہ وہ اسلام نہیں ہے جسکی تعلیم پیارے نبی صلالله و الہے وسلم نے دی تھی اور جسے صحابہ رضی الله نے اپنی زندگیوں میں سجایا تھا. ہم اپنی داڑھی کے طول اور شلوار کی اونچائی سے الله رب العزت کو دھوکا نہیں دے سکتے، ہرگز نہیں دے سکتے.


بعض لوگ سچ کڑوا ہوتا ہے، سچ کڑوا ہوتا ہے کی رٹ لگا کر ہر طرح کی بد تہذیبی کرتے جاتے ہیں. انہیں سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اکثر سچ کڑوا نہیں ہوتا بلکہ سچ بولنے والے کا انداز کڑوا ہوتا ہے. کڑوی سے کڑوی بات بھی اگر تہذیب اور شائستگی سے کی جائے تو اس میں شیرنی گھل جاتی ہے. اگر آپ سچ بولنے کی آڑ میں مخاطب کی دل آزاری کا سبب بن رہے ہیں تو یہ سچائی کا پرچار نہیں بلکہ آپ کی انا کی تسکین کا سامان ہے.
الله نے انسان کو اپنی فطرت اور سمجھ کے مطابق زندگی گزارنے کی پوری آزادی دی ہے. وہ صرف انہی معاملات میں مداخلت کرتے ہیں جہاں انسانی فہم کو دھوکا کھانے کا اندیشہ ہو. مثال کے طور پر تاریخ انسانی اس بات پر شاہد ہے کہ گھانس پھونس کھانے والے گھریلو مویشیوں جسے گاۓ، بکری، اونٹ وغیرہ کے گوشت سے ہمیشہ استفادہ حاصل کیا گیا ہے اور درندوں جیسے شیر، چیتے، ریچھ وغیرہ کے گوشت سے انسانی فطرت نے ہر دور میں اجتناب کیا ہے. لہٰذا قران ان دونوں طرح کے جانوروں کی حرمت کے بارے میں کوئی آیت پیش نہیں کرتا تاکہ انسان اسی فطری رغبت کو جاری رکھے. لیکن خنزیر یا سور کے گوشت کی حرمت کے بارے میں انسانی سمجھ مغالطہ کھاسکتی ہے. یہ ایک ایسا جانور ہے جو گھانس پھونس اور گوشت دونوں کھاتا ہے. یعنی یہ بیک وقت چوپایوں اور درندوں دونوں کی صفات رکھتا ہے. قران نے اسی لیۓ مداخلت کرتے ہوے انسانی فہم کو اس ضمن میں رہنمائی عطا کی اور اسے درندوں کی طرح حرام قرار دے دیا. ایک اور مثال لیجنے ، انسانی فہم نے ہمیشہ ناحق قتل کو ایک گھناونا عمل جانا ہے مگر انسانی عقل قاتل کی سزا کے بارے میں دو مختلف انتہاؤں کا شکار رہی ہے. کبھی تو معاملہ یہ ہوتا ہے کہ قاتل کو حد سے زیادہ ازیت دے کر مارا جاتا ہے جیسے زندہ انسان کی کھال اتار لینا یا اسکا ایک ایک عضو باری باری کاٹ دینا وغیرہ. اور دوسری انتہا یہ دیکھنے کو ملتی ہے کہ انسان کہنے لگتا ہے کہ بھائی قاتل کا کوئی قصور نہیں ہے، وہ تو اپنے گھریلو حالات کے نتیجے میں ایسا عمل کر بیٹھتا ہے، لہٰذا اسے سزا نہ دی جائے بلکہ ہمدردی رکھ کر علاج کروایا جائے. قران نے انسانیت کو اس مخمصے سے نکال کر ایک انتہائی سزا بیان کر دی او اسکا طریق بھی بتادیا. اب کسی بھی مومن کیلئے یہ ممکن نہیں کہ وہ سزا کا فیصلہ کرتے وقت کوئی بھی انتہائی رویہ اختیار کرے.
تقویٰ کا معیار یہ ہرگز نہیں ہے کہ کون کتنا صاحب کرامت ہے؟ اس لیۓ میں کسی بزرگ سے محض اس لیۓ مرعوب نہیں ہو سکتا کہ وہ پانی پر چلتے تھے یا ہوا میں اڑتے تھے. میرے نزدیک تو بس وہ ہی ولی الله ہے جس کی گفتار قرآن ہو جس کا کردار قرآن ہو. بقول اقبال

 ... یہ راز کسی کو نہیں معلوم کہ مومن !
 .. قاری نظر آتا ہے ، حقیقت میں ہے قرآن !
حضرت ابوبکر رض نے خلافت منتقل کرنے سے قبل حضرت عمر رض کو چند نصیحتیں کیں. ان میں سے ایک اہم ہدایت یہ بھی تھی کہ نفل اعمال کو کبھی فرائض پر ترجیح نہ دینا. آپ کی یہ نصیحت محض عبادات کے لئے نہیں تھی بلکے ان حکومتی اور انتظامی امور و معاملات کا احاطہ بھی کرتی تھی جو آگے چل کر نئے خلیفہ کو پیش آنے تھے. ہماری زندگیوں میں بھی اکثر یہ المیہ درپیش ہوتا ہے کہ آپ نفل اعمال کی چاہ میں فرائض سے غفلت برت جاتے ہیں. شیخ کے پاؤں دابے جارہے ہیں اور والدین کے لئے وقت ہی نہیں. مسجدوں میں ایرانی قالین بچھا رہے ہیں اور پڑوسی بھوکا سو رہا ہے. فیس بک پر دینی مذاکرے ہورہے ہیں اور صلات کا کوئی ہوش نہیں. ہم اکثر ترجیحات کی تقسیم میں غلطی کر جاتے ہیں. مومن کی اولین ترجیح اپنے رب کا عرفان ہے. اگر ہم حقیقت میں الله کو اپنی ترجیح اول بنالیں تو بس سمجھیں بیڑا پار ہوگیا ! 
====عظیم نامہ==== 

دین کی محبت میں جھوٹ بولنا کیسا ہے ؟

دین کی محبت میں جھوٹ بولنا کیسا ہے ؟




جھوٹ بولنا گناہ ہے لیکن دین کو استمعال کرکے جھوٹ بولنا صرف گناہ نہیں بلکہ ایک شدید جرم ہے. آج یہ فتنہ عام ہے کہ آپ کو ایسے موبائل میسج ملیں گے جس میں لکھا ہوگا کہ " فلاں بزرگ کو ایک خواب آیا جس میں انہوں نے بی بی زینب کو دیکھا یا رسول اکرم صلی الله و الہے وسلم کی زیارت کی اور کہا کہ فلاں ذکر یا درود اتنی مرتبہ پڑھواور کم از کم دس سے بیس افراد کو آگے بھیجو. ساتھ ہی یہ دھمکی بھی مذکور ہوگی کہ ایک آدمی نے یہ پیغام آگے بھیجا تو اسے ایک بڑا مالی فائدہ ہوا اور ایک نے نہیں بھیجا تو اسکا ایکسیڈنٹ میں انتقال ہوگیا " .. اسطرح کے پیغام موصول ہوتے ہی ہمارے سادہ لوح بہن بھائی فوری طور پر اسے زیادہ سے زیادہ پھیلانے لگتے ہیں تاکہ برکت حاصل ہو یا کسی ممکنہ عذاب سے محفوظ رہیں. پہلی بات سوچنے کی یہ ہے کہ کوئی بھی بات بناء تصدیق کے ماننا یا دوسروں میں پھیلانا قرآن کی رو سے گناہ ہے. دوسری بات یہ کہ علماء کا اجماع ہے کہ نبی کے سوا کسی بھی انسان کا خواب شریعت میں ہرگز حجت نہیں ہے. تیسری بات کہ یہ تو پھر ممکن ہے کہ کوئی اچھا خواب آپ کی اپنی اصلاح کے لئے ہو، شرط یہ ہے کہ اس سے قران و سنّت کے کسی حکم کی نفی نہ ہوتی ہو .. لیکن کسی ایک آدمی کا ذاتی خواب پوری امّت کے لئے حجت ہو؟ یہ ہرگز ممکن نہیں. قران و سنّت کی واضح تعلیم کو چھوڑ کر اگر کوئی شخص دین کو ان جھوٹی بیساکھیوں پر چلانا چاہتا ہے تو وہ ایک عظیم غلطی کا ارتکاب کررہا ہے. اگر آپ کسی ایسے پیغام کے خالق ہیں تو ایک مجرم ہیں اور اگر ایسے پیغام کو خاموشی سے قبول کرکے آگے پھیلانے میں معاون ہیں تو مجرم کے خاموش ساتھی ہیں
.
کچھ عرصہ پہلے، میں دوستوں کی ایک محفل میں گیا.دیکھتا ہوں کہ سب دوست یار ایک کمپیوٹراسکرین کے گرد جمع ہیں اور سبحان الله ماشاءالله کے نعرے بلند ہورہے ہیں . میں بھی جذبہ ایمانی میں سرشار آگے بڑھا اور وجہ پوچھی، معلوم ہوا کہ ایک ویب سائٹ پر خبر ہے کہ جزیرہ نما عرب کے کسی ملک میں ایک ایسا درخت دریافت ہوا ہے جو با آواز بلند ! .. جی ہاں، با آواز بلند الله کی تسبیح بیان کر رہا ہے. زمین کا مالک درخت کو کٹوانا چاہتا ہے تاکہ ایک بلڈنگ تعمیر کرسکے لیکن جناب ہر جدید و قدیم نسخہ آزما لیا گیا لیکن وہ درخت کوئی نہیں کاٹ پایا.زمین کے مالک نے اسے کاٹنے پر ایک موٹی رقم انعام کی بھی رکھ دی ہے. یہی وہ ایمان افروز انکشاف تھا جسے جان کر میرے سارے دوست جھوم رہے تھے. میں نے بھی زور سے کہا ، سبحان الله !! .. بھائیوں یہ تو کمال ہو گیا ! ... مجھے تو یہ موسیٰ الہے سلام کی لاٹھی سے بھی بڑا معجزہ معلوم ہوتا ہے، اس پر فوری ایک لائیو ڈاکومینٹری بنانی چاہیے اور ہمیں اسی وقت گنیز بک یا دیگر اداروں کو اطلاع دینی چاہیے کہ دیکھ لو !آج اسلام کی حقانیت معجزاتی طور پر ثابت ہو چکی...... میرا یہ مشورہ سن کر سارے دوست خاموش، کسی کا کوئی جواب نہیں. وجہ یہ تھی کہ اندر ہی اندر وہ سب اس بات سے خوب واقف تھے کہ یہ سب جھوٹی کہانیاں ہیں اور ان کا حقیقت یا دین سے کوئی تعلق نہیں. لیکن کیونکہ یہ جھوٹ اسلام کا نام لیکر بولا گیا تھا، اسلیے کسی میں اتنی اخلاقی جرات نہ تھی کہ اسے رد کرسکے. اسطرح کی مافوق الفطرت کہانیوں کو خود سے گھڑ کر یا بناء تحقیق انہیں پھیلا کر ہم دین کی خدمت نہیں کرتے بلکے اسکا مذاق بنا دیتے ہیں. اہل علم جانتے ہیں کہ قرآن حکیم دین کی برہان ہے اور اپنی حقانیت ثابت کرنے کے لئے کسی جھوٹ کا محتاج ہرگز نہیں
====عظیم نامہ====

خدا کو کس نے تخلیق کیا؟


 

خدا کو کس نے تخلیق کیا؟





ہر وہ شے، چیز یا وجود جسے کسی حد میں قید کیا جاسکے وہ 'مخلوق' ہے. کوئی بھی محدود وجود خالق نہیں کہلا سکتا. محدود ہونا نہ صرف عجز کی نشانی ہے بلکہ اس بات کی بھی علامت ہے کہ یہ وجود اپنے سے پیشتر کسی اور وجود سے وجود پذیر ہوا ہے. لہٰذا خالق ہونے کے لئے یہ لازمی کلیہ ہوا کہ وہ اپنی ذات و صفات دونوں حوالوں سے لامحدود ہو، جس کا منطقی نتیجہ یہی ہے کہ اسے ازلی تسلیم کیا جائے اور اس سے قبل کسی اور وجود کے ہونے کو یکسر مسترد کردیا جائے.
.
اس مادی کائنات میں ہر شے محدود ہے لہٰذا مخلوق ہے. یہ صوفہ جس پر میں بیٹھا ہوں محدود ہے، یہ صوفہ جس کمرے میں موجود ہے وہ اس صوفے سے بہت بڑا ہے مگر محدود ہے. یہ کمرہ جس مکان، یہ مکان جس شہر، یہ شہر جس ملک اور یہ ملک جس زمین پر واقع ہے، وہ سب محدود ہے. سادہ الفاظ میں محدود اشیاء کا مجموعہ بھی محدود ہی ہوا کرتا ہے. اسی اصول پر کائنات کو پرکھتے جایئے تو معلوم ہوگا کہ بھلے یہ کہکشائیں ہمارے تصور سے بھی زیادہ وسیع ہیں، مگر اپنے اصل میں یہ سب محدود ہیں چانچہ مخلوق ہیں
.
سائنسی علوم نے مادے کا تجزیہ کر کے حتمی طور پر بتا دیا ہے کہ کوئی بھی مادی وجود ازخود تخلیق نہیں ہو سکتا بلکے لازم ہے کہ اس کی کوئی نہ کوئی علت پہلے سے موجود ہو. یہ بھی طبیعات کی دنیا میں مسلمہ حقیقت ہے کہ اس پوری مادی کائنات کی ایک ابتدا اور ایک انتہا ہے. یہ وہ بنیاد ہے جس پر ہم پورے اطمینان سے کہہ سکتے ہیں کہ چونکہ یہ کائنات ازخود تخلیق نہیں ہوئی لہٰذا اس کو تخلیق کرنے والی ایک عظیم ذات موجود ہے. اب اس پر کسی کا یہ استفسار کہ پھر اس ہستی یعنی خدا کو کس نے تخلیق کیا؟ اپنے اصل میں ایک بےبنیاد سوال ہے. ہم علت کے موجود ہونے کی شرط اپنے طبیعاتی مشاہدات کی وجہ سے کسی مادی وجود پر تو لگا سکتے ہیں لیکن کسی ایسی ہستی پر اسکا اطلاق نہیں کر سکتے جو مابعدالطبیعات سے متعلق ہو. دین اپنا مقدمہ پیش کرتے ہوے صاف کہتا ہے کہ خدا زمان و مکان کی بندش سے آزاد ایک غیر مادی وجود ہے جسکی اس مادی دنیا میں کوئی مثال موجود نہیں.   
====عظیم نامہ====

روحانیت اور تصّوف کیا ہے؟

روحانیت اور تصّوف کیا ہے؟ 

روحانیت اور تصّوف کو عام طور پر ہم معنی الفاظ سمجھا جاتا ہے. یہ نظریہ درست نہیں ہے. ہر صوفی کے لئے روحانیت کا ہونا لازمی شرط ہے لیکن ہر روحانیت رکھنے والا شخص صوفی بھی ہو، یہ ہرگز ضروری نہیں. اسے اس مثال سے سمجھتے ہیں کہ ہر سیب خواہ وہ سرخ ہو، سبز ہو یا زرد ، ہر سیب ایک پھل ہے لیکن ہر پھل سیب ہو یہ ضروری نہیں. ہر عمل کا ایک ظاہر ہوتا ہے اور ایک باطن .. شریعت میں قران، سننت یا اجماع صحابہ سے ثابت اعمال کو اس کی روح کے ساتھ ادا کردینا روحانیت کی بنیاد ہے. اسکے برعکس تصّوف کےاہداف اس سے بہت آگے ہیں ، وہ مباحات کا سہارا لے کر نئے مجاہدوں اور ریاضتوں کو جنم دیتا ہے. ضربی ذکر، سماع، قوالی، گودڑی پہننا یہ سب اسی کی کڑیاں ہیں. روحانیت سے مراد شریعت کی روح کو پانا ہے جبکہ تصّوف علم نفس کا ایک باقاعدہ فن ہے، جسے مشاہدات اور نفسی تجربوں کی بنیاد پر مرتب کیا گیا ہے. لہٰذا وہ وحدت الوجود یا فنا فی الشیخ جیسے عقائد ہوں یا پھر غوث، قطب یا ابدال جیسے درجات و خطابات .. یہ سب انہی تجربات کا نتیجہ ہیں
 
====عظیم نامہ====

قران کا معجزاتی اسلوب

قران کا معجزاتی اسلوب

سوره یٰسین کی چالیسویں آیت میں ارشاد ہے کہ " نہ تو سورج ہی سے ہوسکتا ہے کہ چاند کو جا پکڑے اور نہ رات ہی دن سے پہلے آسکتی ہے۔ اور آسمان میں سب اپنے اپنے دائرے میں تیر رہے ہیں" ، حیرت انگیز بات یہ ہے کہ قران نے عربی کے جن الفاظ کا انتخاب کیا ہے وہ کچھ یہ ہیں "کل فی فلک .. یسبحون " .. غور کیجنے آپ "کل فی فلک" کو دونوں جانب سے پڑھیں گے تو ایک ہی جملہ بنے گا یعنی یہ الفاظ بھی تسبیح کے مدار کی طرح گھوم رہے ہیں (ک ل ف 'ی' ف ل ک). کیا یہ کسی انسان کے لئے ممکن ہے کہ وہ جملے میں اپنا ...مدعا بیان کرتے ہوے اس جملے کی عملی شکل بھی اس پیغام کے مطابق کردے؟ .. ایک اور مثال ملاحظہ ہو سوره مدثر کی تیسری آیت میں الله رب العزت نے محمد (ص) کو حکم دیا ہے کہ " اور اپنے پروردگار کی بڑائی کرو" .. خوبصورت بات یہ ہے کہ یہاں بھی جن الفاظ کا انتخاب کیا گیا ہے وہ ہیں "ربک فکبر" .. دونوں جانب سے پڑھ کر دیکھ لیجیے ایک ہی جملہ وجود اور ایک ہی ترتیب وجود پزیر ہوگی. (ر ب ک 'ف' ک ب ر). یہاں صرف دو امثال بیان کی گئی ہیں ورنہ قران اپنی زبان اور اسلوب دونوں حوالوں سے عجائب کا خزانہ ہے.
 


====عظیم نامہ====

جادو یا جنات کیسے حملہ کرتے ہیں ؟


جادو یا جنات کیسے حملہ کرتے ہیں ؟




جادو یا جنّات کا حملہ انسانی جسم پر نہیں بلکے اسکی نفسیات پر ہوتا ہے اور یہ کسی ہپناٹزم کے ماہر کی طرح آھستہ آھستہ
ذہن پر اپنا تسلط قائم کرتا ہے

مشاہدہ ہے کہ اکثر جادو و جنّات کا شکار خواتین یا کم سن بچے ہوتے ہیں. اسکی وجہ بعض لوگ غلط طور پر یہ بیان کرتے ہیں ک جنّات شاید حسن پرست ہیں اور اسی لئے وہ عورتوں پر عاشق ہوجاتے ہیں. بات یہ نہیں ہے بلکہ سمجھ میں آنے والی بات یہ ہے کہ بچے اور خواتین عمومی طور پر وہم کا شکار جلدی ہوجاتے ہیں. خوف کی کیفیت ان پر با آسانی طاری ہوجاتی ہے. ...لہٰذا کسی جن یا جادو کا ان پر کارگر ہونا زیادہ آسان ہوتا ہے.

یہ نفسیاتی حملہ ایسی جگہ مزید آسان ہوجاتا ہے جہاں انسانی ذہن سستی یا خوف محسوس کرے، جیسے رات میں کوئی برگد کا پرانا درخت یا پھر کوئی بوسیدہ قبرستان. کیونکہ یہ خالص نفسیاتی معاملہ ہے، اسلیے اسکے توڑ کے لئے نفسی علوم اور انکے ماہر موجود ہیں.

یہ ماہرین ہر مذہب میں پاۓ جاتے ہیں اور انکا طریقہ علاج دین سے زیادہ 'یقین' پر بنیاد رکھتا ہے. . اسلام نے بھی ایسی صورت میں جن آیات کی تلاوت کا حکم دیا ہے ، وہ واضح طور پر پڑھنے والے کے یقین کو اپنے رب پر قوی کرتی ہیں. اسی لئے ہم دیکھتے ہیں کہ ایک ہندو جنتر منتر پڑھ کر، ایک عیسائی کراس یا ہولی واٹر دکھا کر اور ایک مسلمان قرانی آیات کی تلاوت کرکے جنّات و جادو کا کامیاب توڑ کرلیتا ہے. جس طرح طبیعاتی علاج میں مریض کی قوت مدافعت کے بناء کوئی بہترین ڈاکٹر بھی کچھ نہیں کر پاتا، بلکل اسی طرح ایک آسیب زدہ جب تک یہ ٹھان نہ لے کہ وہ اس بیرونی اثر کا آگے بڑھ کر مقابلہ کرے گا تب تک کوئی پیر، فقیر یا عامل اسکی مدد نہیں کر سکتا.
 
====عظیم نامہ====

اسلام میں اعداد کا حیرت انگیز استعمال

 

اسلام میں اعداد کا حیرت انگیز استعمال

 
یہ امر حتمی تو نہیں ہے مگر دین اسلام کا عمومی جائزہ لیں تو کچھ اعداد ایسے ہیں جواپنے مقام و مماثلت کے اعتبار سے جائزہ لینے والے کو حیرت میں مبتلا کر دیتے ہیں. انہی میں سے ایک عدد چار ہے. ہم جانتے ہیں کہ الله نے لاتعداد فرشتوں کو پیدا فرمایا ہے لیکن ان میں سے چار کو خصوصی شہرت و مقام دے دیا. یعنی جبرئیل، میکائیل، اسرافیل اور عزرائیل. ہم جانتے ہیں کہ الله رب العزت نے ہر دور میں رسول بھیجے لیکن ان میں سے چار کو خصوصی مقام مل گیا یعنی ابراہیم، موسیٰ، عیسیٰ اور محمّد (الہے سلام اجمعین). ہم واقف ہیں کہ بیشمار صحائف نازل کیے گئے مگر چار کی حتمی شناخت قایم رکھی گئی یعنی تورات، انجیل، زبور اور قرآن. ایک لاکھ سے زائد صحابہ میں سے چار کو امّت میں خاص مقام حاصل ہوا یعنی ابوبکر، عمر، عثمان اور علی (رضی الله اجمعین). مسالک بہت سے بنے مگر عام شہرت اکثریت میں چار کو حاصل ہوئی یعنی حنفی، شافعی، حنبلی اور مالکی. بارہ میں سے چار مہینے فضیلت والے کہلاے یعنی رجب، شعبان، رمضان اور محرم. یہ احساس ہوتا ہے کہ شائد رب العزت کثیر تعداد میں سے چار کا خصوصی انتخاب کرلیتے ہیں. واللہ عالم.


ایک اور عدد چالیس کا ہے. رسول اکرم (ص) کو چالیس برس میں نبوت دی گئی. سورہ بقرہ کی آیت ٥١ کے مطابق موسیٰ الہے سلام کو تورات کے احکام وادی سینا میں چالیس رات کی مدت میں عطا کیے گئے. قرآن میں سوره احقاف کی آیت ١٥ میں واضح اشارہ دیا گیا ہے کہ انسانی ذہن کی مکمل بلوغت کی عمر چالیس برس ہے. سورہ مائدہ کی ٢٦ آیت میں بنی اسرائیل کو چالیس برس کے لئے دربدر ہونے کی سزا سنائی گئی. یوں محسوس ہوتا ہے کہ چالیس کا عدد کسی بھی خاص تربیت کی تکمیل کا دورانیہ بیان کرتا ہے. اسی کا لحاظ کر کے چلّے کی اصطلاح رائج ہوئی ہے.

اسی طرح سات کے عدد کا جائزہ لیں تو قرآن کے بیان کے مطابق سات آسمان ہیں، سات زمینوں کی جانب بھی اشارہ ہے. حج میں کعبہ کے گرد سات طواف کیے جاتے ہیں. صفا اور مروا کے سات چکر مکمل کیے جاتے ہیں. حدیث میں گناہ کبیرہ سات بیان کیے گئے ہیں ، سات جہنم کے دروازے ہیں، سات کنکریاں شیطان کو حج میں ماری جاتی ہیں، عید کی تکبیریں بھی سات ہیں. یہ احساس ہوتا ہے کہ سات کا عدد بیک وقت کثرت اور تکمیل کی طرف اشارہ کرتا ہے. یہی سات کا عدد جب کسی دوسرے عدد سے ملتا ہے تو اس کے ایک معنی کثیر تعداد کے نکلتے ہیں. سات اور تین کو ملا کر تہتر فرقوں کا ذکر آیا ہے کہ امّت مسلمہ آخری وقتوں تک تہتر ٧٣ (سات اور تین) فرقوں میں بٹ جائے گی. یعنی بہت سے فرقے. سات اور دو کو جوڑ کر دیکھیے تو ٧٢ حوروں کی جو حدیث ہے وہ بھی شائد اسی جانب اشارہ کر رہی ہے کہ بہت سی حوریں.

ایک صحیح حدیث کے مطابق رسول پاک (ص) نے ارشاد فرمایا ہے کہ الله طاق ہے اور طاق اعداد کو پسند فرماتا ہے. شائد یہی وجہ ہے کہ ہم عمومی طور پر طاق تعداد میں وضو کرتے ہیں یعنی تین دفع ہاتھ دھونا، تین بارمنہ صاف کرنا وغیرہ. مغرب کی تین رکعات کے ذریعے ہم دن کی ادا کی ہوئی نمازوں کو طاق عدد کرتے ہیں. پھر عشاء اور قیام الیل کے بعد ایک یا تین یا پانچ رکعات ادا کی جاتی ہیں تاکہ رات کی یہ عبادت بھی طاق ہو جائے.

بات یہیں تک نہیں ہے بلکے قرآن مجید میں بھی ان اعداد کا خاص خیال رکھا گیا ہے جو اس کلام کے الہامی ہونے کی دلیل ہے. قرآن میں بتایا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ الہے سلام کی مثال بلکل حضرت آدم الہے سلام جیسی ہے. حیرت انگیز طور پر دونوں پیغمبروں کا ذکر پچیس پچیس بار آیا ہے. قرآن میں لفظ مرد یعنی 'رجل' کا ذکر چوبیس بار آیا ہے اور عورت یعنی 'امرا' کا ذکر بھی چوبیس بار آیا ہے. قرآن میں شیطان کا ذکر اڑسٹھ ٦٨ بار آیا ہے اور فرشتے کا ذکر بھی اڑسٹھ ٦٨ بار ہی آیا ہے. قرآن اس دنیا کی زندگی کا ایک سو پندرہ ١١٥ بار تذکرہ کرتا ہے اور آخرت کی زندگی کا بھی ایک سو پندرہ ١١٥ بار ذکر کرتا ہے. ہم میں سے ہر ایک بتا سکتا ہے کہ سال میں تین سو پینسٹھ دن ہوتے ہیں لیکن سوچنے کہ قرآن دن یعنی یوم لفظ کا استمعال پورے تین سو پینسٹھ بار کرتا ہے. قرآن پاک میں سورہ توبہ کی آخری آیات میں الله عزوجل نے صاف فرما دیا ہے کہ اس نے ہر ایک چیز عدد میں گن رکھی ہے.

واللہ عالم بصواب

====عظیم نامہ====