Friday, 19 December 2014

تزکیہ قلب کیسے حاصل ہو؟

تزکیہ قلب کیسے حاصل ہو؟

 انسان کا قلب ایک آئینے کی مانند ہے جو اگر شفاف ہو تو اس میں تجلیات کا عکس نظر آنے لگتا ہے. چار امور ایسے ہیں جنہیں اپنا کر یہ عکس حاصل ہوجاتا ہے
.
١. پہلا ہے گناہوں کو ترک کی کوشش کرنا بلخصوص وہ گناہ جو جنسی شہوات یا منفی جذبات و خیالات سے متعلق ہوں
.
٢. دوسرا ہے استغفار کی کثرت ، یہ دل پر موجود گناہوں کی تاریکی کو مٹاتا ہے
.
٣. تیسرا ہے خاموشی اور تنہائی میں ذکر الٰہی یعنی تسبیحات میں مشغول رہنا ، یہ اس آئینے کو چمک فراہم کرتا ہے
.
٤. چوتھا ، آخری اور سب سے زیادہ ضروری امر ہے آیات قرانی، صحیفہ کائنات، موجودات، نفس انسانی اور واقعات و حالات پر قران حکیم کی روشنی میں مسلسل تدبر و تفکر کرنا. اس سے اس آئینے کو صحیح زاویہ اور رخ عطا ہوتا ہے
.


یہ دھیان رہے کہ مومن کی تمام کوشش و عبادات کا مقصد الله پاک کی قربت، خوشنودی اور عرفان ہوتا ہے. کسی کمتر درجے میں بھی آپ کا مقصد کشف و الہام نہیں ہونا چاہیئے. یہ اور بات ہے کہ ان چاروں امور کی بجا آوری سے اکثر روحانی وارداتوں کی کھڑکی کھل جاتی ہے. سچے خواب، ماوراء عقل واقعات، کشف، الہام، سکون و سرشاری، دل کی نرمی، آنسوؤں کا جاری ہونا، خود کو ہلکا پھلکا اڑتا محسوس کرنا، سینہ کشادہ محسوس ہونا، چیزیں زیادہ روشن نظر آنا، دعاؤں کی حیرت انگیز قبولیت وغیرہ اس مرحلے پر حاصل ہونے لگتے ہیں. یہی وہ موقع ہے جب شیطان دو دھاری تلوار سے حملہ اور ہوتا ہے.
.
١. پہلا وار یہ کہ اسکی جانب سے گناہ اور شہوات نفسانی کی تبلیغ و دعوت کئی گنا زیادہ کر دی جاتی ہے تاکہ کسی طرح سے سالک کو واپس دھکیلا جاسکے.
.
٢. دوسرا کاری وار یہ کہ وہ سالک کو خود پسندی میں مبتلا کردے یعنی یہ کہ تم کتنے نیک ہو، کتنے الله والے ہو گئے ہو، تم تو روحانیت رکھتے ہو وغیرہ.
.
اگر سالک اس دوسرے وار میں آجائے تو آھستہ آھستہ اس کا اعتبار اپنے ان نفسی تجربات پر اتنا بڑھ جاتا ہے کہ وہ قران و شریعت کو ان تجربات کی عینک سے دیکھنے لگتا ہے. یہ بیماری بڑھتی چلی جائے تو انسان نبوت یا مہدیت کا دعویٰ کرنے سے بھی نہیں چوکتا. شیطان غیرمحسوس انداز میں اپنے شیطانی اعمال کو روحانیت کے دھوکے میں اس شخص پر مسلط کرتا چلا جاتا ہے، یہاں تک کہ نہ صرف وہ شخص خود برباد ہوتا ہے بلکہ اپنے اردگرد معتقدین کا جھمگھٹ لگا کر انہیں بھی تباہ کردیتا ہے. اس سے بچنے کا واحد علاج یہ ہے کہ سالک سختی سے قران حکیم کو حق و باطل میں فرق کرنے والی کسوٹی بنائے رکھے. جو خواب، کشف، الہام وغیرہ قران و سنت سے متصادم نہ ہو اسے صرف اپنی ذات کے اعتبار سے قبول و رد کرے ، اسکا اطلاق کسی دوسرے پر نہ کرے اور اگر یہ تجربہ قران و سنت سے کسی بھی درجے میں ٹکراتا نظر آئے تو اسے ردی کی ٹوکری میں پھینک دے. الله سے مستقل توفیق مانگتا رہے اور یہ جانے کہ شیطان کا سب سے مہلک وار احساس پارسائی ہے..
.
ہے ذوق تجلی بھی اسی خاک میں پنہاں
غافل تو نرا صاحب ادراک نہیں ہے
.

====عظیم نامہ====

Thursday, 18 December 2014

تحریک طالبان پاکستان اور اسکول پر حملہ

 

 تحریک طالبان پاکستان اور اسکول پر حملہ




جنگ کی صورت میں بچوں کو نہ مارنا، بوڑھوں اور عورتوں پر ہاتھ نہ اٹھانا، پھل دار درخت بھی نہ کاٹنا، کوئی ہتھیار ڈال دے تو نہ مارنا، کوئی کلمہ پڑھ لے تو نہ مارنا، جانوروں پر ظلم نہ کرنا، کھیتیاں نہ اجاڑنا .. یہ سب کس دین کی تعلیمات ہیں ؟ وہ کون سا اسلام تھا ؟ یہ کون سا اسلام ہے ؟ ... تہمارا غصہ، تمہارا بدلہ ، یہ جو بھی ہے مگر خدا کے لئے یہ سب خدا کا نام لے کر تو نہ کرو ! اگر تم پر ظلم ہوا ہے تو کیا دین میں ظلم کا جواب ظلم ہے؟.. یہود و ہنود تو دشمن بن کر حملہ آور ہوتے ہیں .. ہم ا...نہیں کھل کر گالی دے لیتے ہیں مگر تم تو کلمہ گو ہو ، صوم و صلات اور شریعت کی باتیں کرتے ہو .. ہم تمھیں کیا کہیں ؟ .. مغربی پروپیگنڈا یا طاغوتی میڈیا سے تو ہم لڑ سکتے ہیں مگر تمہارا کیا کریں ؟ تمہارے عمل نے لوگوں کو دین سے جوڑنے کی بجائے اسلام سے متنفر کر دیا ہے. عام انسان کیلئے شریعت، خلافت، جہاد وغیرہ کی اصطلاحات خوف کی علامت بن گئے ہیں. جہاد کا نام سن کر ان کے سامنے کٹے ہوئے سر آجاتے ہیں، خلافت کا نام سن کر آج ان کی آنکھوں میں دور فاروقی رض کی علمی ترقی نہیں آتی بلکہ جدید علوم پر پابندیاں نظر آتی ہیں، شریعت سے انصاف کا تصور ذہن میں نہیں ابھرتا بلکہ کوڑے برستے نظر آتے ہیں. یہ کیسا دین کا مقدمہ ہے جو تم پیش کر رہے ہو؟ یہ اسلام دوستی نہیں .. اسلام دشمنی ہے. شیطان کا یہ وطیرہ ہے کہ وہ برائی کو خوبصورت لبادہ پہنا کر پیش کرتا ہے. میں زیادہ نہیں جانتا مگر یہ وہ اسلام نہیں ہے ، قطعاً نہیں ہے جو رسول عربی صلی الله و الہے وسلم نے ہمیں دیا تھا.
.
زید حامد صاحب کو ہر ناکامی میں انڈیا اور اسرائیل کا ہاتھ نظر آتا ہے. مگر ہم جانتے ہیں کہ انکی یہ اپروچ درست نہیں. اسی طرح ان اسلام کا نام لینے والے قبائلی گروہوں کے جرائم کو ہم محض میڈیا پرپیگنڈا قرار دے کر چشم پوشی نہیں کر سکتے. ہم جانتے ہیں کہ میڈیا بکا ہوا ہے مگر ہمیں یہ بھی جاننا چاہیے کہ ان قبائلیوں کی سوچ تباہ کن ہے. میں کتنے ہی ٹی ٹی پی کے ہمدردوں سے بات کر چکا ہوں اور ہمیشہ انہیں متشدد تفسیریں کرتا ہوا پایا ہے. ابھی کجھ دنوں قبل فیس بک پر ایک ٹی ٹی پی کی ہمدرد خاتون مجهے دین کی روشنی میں سمجھا رہی تھیں کہ عمارتوں کو تباہ کرنا جس میں بے گناہ موجود ہوں پوری طرح جائز ہے. اسی سوچ کے علمبردار دوسرے گروہ جیسے انگلینڈ میں المہاجرون یا داعش وغیرہ سے گفتگو کریں، آپ کو معلوم ہوگا کہ یہ سوچ صرف میڈیا پروپیگنڈہ هرگز نہیں ہے.
.
جیسے میں نے پہلے بھی لکھا کہ اسے ایک ظالم سے دوسرے ظالم کا بدلہ کہہ لیں مگر خدارا اسے اسلام کا نام دے کر رسوا نہ کریں. ڈرونز سے بےگناہوں کی ہلاکت ظلم ہے مگر اس کا اسلامی یا انسانی جواب اسکول کے بچوں کو مارنا نہیں ہو سکتا. یہ کیسی خلافت کی بات کرتے ہیں؟ جس میں نہ اقتصادی نظام کی کوئی ٹھوس صراحت پیش کی جاتی ہے اور نہ حکومتی ڈھانچے کا کوئی منشور رکھا جاتا ہے. کیا خلافت صرف داڑھی، برقعوں اور کوڑوں تک محدود ہے ؟ اگر یہ سچ نہیں ہے تو ان کا ڈاکیومینٹڈ منشور دکھایا جائے جس میں تعلیم، صحت، اقتصادیات وغیرہ کا بیان ہو. یہ محض جنگجو ہیں جنہیں کسی نہ کسی بہانے لڑنا ہے. سامنے روس امریکا ہوں یا مخالف قبائل .. نعرہ اسلام کا ہو یا قبائلی برتری کا .. کوئی فرق نہیں پڑتا
.
====عظیم نامہ====

Wednesday, 10 December 2014

چار غیبی محافظ



چار غیبی محافظ 


انسان کو جب کسی گناہ کا موقع میسر ہوتا ہے تو چار محافظ اسے روکنے کی سعی کرتے ہیں. اول 'عقل' چشم زدن میں یہ پیغام دیتی ہے کہ ایسا کرنا غلط یا گناہ ہے. دوئم 'حیا' اسے اپنے رب، ملائکہ اور افراد سے شرم دلاتی ہے. سوئم 'نفس لوامہ' اسے ایسا سوچنے پر ملامت کرتا ہے اور چہارم اس کا 'تقویٰ' بیچ میں رکاوٹ بنتا ہے. کوئی شخص جب ان چاروں محافظوں یا واعظوں کا رد کرتا ہے ، تب ہی گناہ کا ارتکاب کرپاتا ہے
.
====عظیم نامہ====


عورت طلاق کیوں نہیں دے سکتی اورحلالہ کیوں ؟

عورت طلاق کیوں نہیں دے سکتی اور عورت کو حلالہ کیوں کروانا ہوتا ہے ؟

.
اسے سمجھنے کے لئے سب سے پہلے یہ جان لیں کہ اسلام میں 'خاندان' ایک نہایت اہم ادارہ ہے. ایسا ادارہ جہاں فرد کی تعمیر ہوتی ہے، جہاں نسل زندگی پاتی ہے، جہاں سے ایک تربیت یافتہ معاشرے کی بنیاد پڑتی ہے. کسی بھی خاندان کی ابتدا ایک مرد اور عورت مل کر شروع کرتے ہیں. یہ رشتہ جو ان کے درمیان قائم ہوتا ہے اسے کامیاب بنانے کیلئے کچھ الہامی ہدایات دی گئی ہیں. جس طرح کسی ادارے کی کامیابی کیلئے لازم ہے کہ اسکا ایک سربراہ ہو ، اسی طرح خاندان کے ادارے کو کامیاب بنانے کیلئے شوہر کو سربراہ بنایا گیا ہے. اس سے ہرگز یہ نہ سمجھیں کہ مرد عورت سے افضل ہے. دونوں کو برابر عزت و توقیر دی گئی ہے مگر مختلف صورتوں میں مختلف 'حفظ مراتب' کا خیال رکھا گیا ہے. لہٰذا ماں باپ کے درجات میں ماں کو تین گنا زیادہ درجہ حاصل ہے حالانکہ باپ مرد ہے اور ماں عورت. خاندان کے ادارے کی صورت میں شوہر کو مراتب میں سربراہ بنایا گیا ہے. یعنی کسی صورت میں ایک کی دوسرے پر برتری جنس کے حوالے سے نہیں بلکہ رشتہ کے مراتب کی بنیاد پر ہے.ہمسفر، شریک حیات، جیون ساتھی، لباس ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ مراتب میں فرق نہیں ہوسکتا. سفر میں بھی نظم قائم رکھنے کیلئے ایک کو 'امیر' بنایا جاتا ہے. اس مراتب کے فرق کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ دونوں انسانوں میں دوستی کا رشتہ نہیں ہوگا. یہ ایسا ہی ہے جیسے ایک ماں اپنی بیٹی کی بہت اچھی دوست ہوسکتی ہے مگر مراتب کا فرق پھر بھی برقرار ہوگا. جب یہ بات سمجھ آگئی تو ہم جانتے ہیں کہ کسی بھی ادارے میں شمولیت ادارے کے سربراہ اور ادارے کے رکن دونوں کی باہمی رضامندی سے ہوا کرتی ہے. لیکن جب برطرفی کا معاملہ ہو تو سربراہ آپ کو براہ راست برطرف کر سکتا ہے اور رکن درخوست کے ذریعے علیحدگی اختیار کرسکتا ہے. آسان لفظوں میں ایک 'ڈس مس' کر سکتا ہے اور دوسرا 'ریزائن '. یہی معاملہ طلاق کا ہے ، ایک براہ راست طلاق دے کر رشتہ ختم کرسکتا ہے جبکہ دوسرا درخواست یعنی خلع کے ذریعے علیحدہ ہوسکتا ہے.
.
طلاق تین مختلف اوقات پر دی جاتی ہے ، اور ہر طلاق کے بعد ایک مدت مقرر ہے جس میں دونوں فریق سوچ سمجھ کر ترک یا رجوع کا رستہ اپنا سکتے ہیں. اب اگر ایک شوہر گھر کا سربراہ تو بن گیا مگر خدا کی جانب سے دی گئی اس ذمہ داری کو اس نے مذاق بنا لیا. اس نے ایک بار طلاق دی پھر رجوع کر لیا ، دوسری بار دی پھر رجوع کرلیا لیکن اس کے بعد پھر تیسری بار طلاق دے بیٹھا. اب ظاہر ہے کہ ایسے شخص نے اس انتہائی نازک معاملے کو تماشہ بنا لیا ہے. ایسی صورت میں اب وہ رجوع کا اختیار کھو بیٹھا. اس عورت کو اب اجازت ہے کہ وہ اپنی زندگی کسی دوسرے مرد سے منسوب کر کے نکاح کرلے. یہ دوسرا نکاح عارضی نہیں ہوسکتا ، حلالہ کے نام پر آپ عارضی نکاح نہیں کرسکتے. اس طرح کے حلالہ پر رسول پاک صلی اللہ و الہے وسلم نے لعنت فرمائی ہے اور کرائے کے سانڈ جیسے سخت الفاظ سے تعبیر کیا ہے. یہ دوسرے شخص سے نکاح اس نیت سے ہی کیا جائے گا کہ ایک نیا کامیاب خاندانی ادارہ قائم ہو. لیکن خدا نہ کرے اگر اس بار بھی کوئی بات بگڑگئی اور طلاق واقع ہوگئی تو اب عورت آزاد ہے کہ وہ کسی تیسرے شخص یا اسی پہلے شوہر سے واپس نکاح کرلے.
.
یہ امر بھی غور طلب ہے کہ نکاح نامہ میں ایسی شقیں موجود ہیں جس میں خاتون طلاق کے متعلق اپنی شرائط رکھ سکتی ہیں لیکن اکثر اسے بتایا نہیں جاتا بلکہ اس حصہ پر کاٹی لگادی جاتی ہے. اسی طرح اگر کوئی شرعی قدغن نہ ہو تو نئی شرائط کو بھی اہل علم کے ذریعے متعین کیا جاسکتا ہے. اس کی مثال بھی ایسی ہی ہے جیسے ایک ادارے کا سربراہ اور رکن معائدے کے آغاز ہی میں عموم سے ہٹ کر کچھ اضافی شرائط طے کرلیں. اللہ و عالم بلصواب
.
====عظیم نامہ====
.
(نوٹ: یہ میری ناقص سمجھ ہے، جس میں غلطی کا احتمال ہے. لہٰذا اس سے کوئی حکم اخذ نہ کیا جائے بلکہ اسے ایک طالبعلم کی سعی سمجھا جائے)
Like ·  · 

Tuesday, 28 October 2014

اردو بازار

 

اردو بازار

 
پاکستان جانے کی ایک بڑی کشش میرے لئے یہ بھی ہوتی ہے کہ وہاں سے میں اپنی من پسند کتابوں کی خریداری کرتا ہوں جو اکثر بلواسطہ یا بلاواسطہ دین سے متعلق ہوتی ہیں. اس بار بھی ایک لمبی فہرست لے کر اردو بازار کراچی جا پہنچا. جن کتابوں کو خریدنے کا متمنی تھا ، ان میں ایسی تصنیفات شامل تھیں جو آسانی سے کسی دکان پر میسر نہیں تھیں. ایک بڑی دکان پر یہ طے پایا کہ مالک دکان اپنے ملازمین کے ذریعے ان کتابوں کو پورے اردو بازار میں تلاش کروائے گا اور پھر میں اسے کچھ زیادہ دام دے کر خرید سکوں گا.... ایک ایک کر کہ کتابیں ملتی گئیں، یہ کتابیں ضحیم اور نادر ہونے کہ باوجود بھی نہایت مناسب قیمت میں مجھے حاصل ہو گئیں. اسی اثناء میں میلے کچیلے کپڑوں میں ملبوس ایک شخص آیا اور اس نے کسی کتاب کا دکان مالک سے تقاضہ کیا. وہ ایک بہت چھوٹا سا کتابچہ تھا، اس غریب آدمی نے قیمت پوچھی تو دکاندار نے کہا ٨٠٠ روپے !! .. میں چونکا کہ مجھے تو ہزاروں صفحات کی نادر کتاب بھی ٦٠٠ روپے تک میں حاصل ہو رہی ہے تو پھر اس چند صفحات کے کتابچے میں ایسا کیا ہے جو یہ ٨٠٠ روپے کا ہے ؟ غریب گاہک نے تقاضہ کیا کہ بھائی سات سو میں یہ کتابچہ دے دو، مگر مالک دکان نے جھڑک کر کہا کہ ایک پیسہ بھی کم نہ ہو گا ! لینا ہے تو لو ورنہ نکلو. اس میلے کچیلے لباس والے نے ٨٠٠ روپے جیب سے نکالے اور جھپٹ کر وہ کتابچہ لے لیا
 
.
میں حیرت سے یہ ماجرا دیکھتا رہا، اس کے جاتے ہی میں نے دکان مالک سے پوچھا کہ بھائی یہ کیسی کتاب تھی جس کی اتنی اہمیت ہے ؟ .. دکاندار نے نرم لہجے میں کہا ، سر آپ اسے چھوڑ دیں. میں نے مسلسل اصرار کیا تو اس نے مجبور ہوکر بتایا کہ یہ ہندووں کے سفلی عملیات کی ایک تصنیف تھی جس کے منہ مانگے دام مل جاتے ہیں. اس نے مزید بتایا کہ اس طرح کی اور بھی کئی کتابیں ہیں اور سب سے زیادہ اردو بازار میں یہی بکتی ہیں. میری موجودگی میں ہی کتابیں سپلائی کرنے والا ایک شخص وہاں آیا تو میں یہ دیکھ کر دنگ رہ گیا کہ ان اسلامی یا علمی کتب کے بیچ میں کتنے ہی ایسے چھوٹے چھوٹے عملیات کے کتابچے رکھے ہوئے تھے، جنہیں دکاندار نے فوری خرید لیا. میں افسردہ دل سے وہاں کھڑا رہ گیا ، آج میرا یہ بھرم بھی ٹوٹ گیا تھا کہ ان کتابوں سے سجی دکانوں کی رونق صرف علم دوست اشخاص سے ہے. یہاں تو علم کے عین درمیان میں جہل بک رہا تھا ، یہاں تو دین کی صدا لگا کر کفر کا بازار گرم تھا. میں نے اپنی خریدی ہوئی کتابوں کی قیمت ادا کی اور بوجھل قدموں سے گھر کی راہ لی
.
====عظیم نامہ====

شیطان کا سب سے کاری وار کون سا ہے؟

 

شیطان کا سب سے کاری وار

 
شیطان بڑا کایاں ہے. یہ بڑے صبر ،عقل اور تدریج سے اپنے شکار پر وار کرتا ہے. یہ کسی دینی رجحان والے حضرت کو یہ نہیں کہتا کہ جاکر جوا کھیلو یا شراب پیؤ. وہ واقف ہے کہ ایسا وسوسہ ڈالنے سے یہاں کام نہیں بنے گا. وہ اب اپنی پالیسی بدل کر اس دینی شخص کو یہ سمجھاتا ہے کہ واہ بھائی تم تو بڑے نیک ہو، الله والے ہو. وہ پیٹھ تھپتھپا کر سرگوشی کرتا ہے کہ دیکھو کتنے لوگ تمھاری علمیت کے مداح ہیں. آھستہ آھستہ وہ اپنے شکار کے نفس کو قائل کرتا ہے کہ اس کے نام کے ساتھ لوگ بہت سے ستائشی القابات جوڑ دیں جیسے پیران پیر یا مجدد العصر وغیرہ ، اس کے ہاتھوں کو چومیں اور ٹانگوں کو دبائیں. اس کے ایک اشارے پر خدمت گزار حاضر ہوں. وہ اس دھوکے میں یہ بلکل بھول جاتا ہے کہ کسی صحابی نے یہ خدمت کروانے والا طریق نہیں اپنایا تھا اور رسول صلی اللہ و الہے وسلم اپنے معمولی کام بھی اپنے ہاتھ سے انجام دینا پسند کرتے تھے.
.

اسی طرح وہ دینی لوگ جو نفسی تجربات سے روشناس ہوتے ہیں. انہیں بھی شیطان ایک نئے ڈھب سے پھانستا ہے. وہ پہلے سامنے نیک اور سچا بن کر اپنے شکار کا بھروسہ جیتتا ہے اور پھر خود فریبی کی دلدل میں اسے دفن کردیتا ہے. یہ یاد رکھیں کہ اس غیبی دنیا میں بہت سے درجات ہیں اور اس میں داخلہ ہر مسلم، ہندو، سکھ عیسائی کر سکتا ہے مگر ہر ایک کی استعداد مختلف ہوتی ہے. میرا اپنا ایک عیسائی دوست جس کے سچ بولنے پر مجھے اطمینان ہے .. اسکے بقول وہ خدا کی آواز سنتا ہے اور مجھے بھی وہ میری اپنی ایسی ذاتی باتیں بتا چکا ہے جو اس کے علم میں نہیں ہو سکتی تھیں. اس نفسی عالم میں خیر اور شر یعنی ملائک اور شیاطین دونوں کام کر رہے ہیں. ہوتا کچھ یوں ہے کہ کچھ عرصہ ایک شخص مختلف 'نفسی' وارداتوں سے گزرتا ہے جسے اکثر روحانی تجربہ کہہ دیا جاتا ہے. سچے خواب دیکھتا ہے یا عجیب واقعات سے گزرتا ہے جو اسے مدد کرتے ہیں. رفتہ رفتہ اس شخص کا اعتبار ان تجربات یا وارداتوں پر محکم ہوجاتا ہے. وہ شخص اب یہ ضرورت محسوس نہیں کرتا کہ اپنے اس تجربہ کو قران و سنت کی کسوٹی پر پرکھ لے. بھروسہ جیتنے کے بعد یہی وہ نقطہ آغاز ہے جہاں شیطان اپنی اصل کاروائی کرتا ہے. اب انہی خوابوں یا تجربات کے ذریعے وہ نہایت خوش نمائی سے اسے شرک، بدعت ، کفر کی جانب لیتا جاتا ہے. غلام احمد قادیانی ہو یا بہاالدین بہائی یہ سب شیطان کی اسی چال کا شکار ہوکر جھوٹی نبوت کے دعویدار بنے. کتنوں نے خدائی اور کتنوں نے امام مہدی ہونے کا دعوا کیا. ضرورت اس امر کی ہوتی ہے کہ سالک اپنے ہر نفسی یا روحانی تجربہ کو چاہے وہ کتنا ہی واضح کیوں نہ ہو ، قران و سنت کی کسوٹی پر جانچے اور اگر وہ اس سے کسی درجے میں متصادم ہو تو ایسے تجربہ کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دے.
.

میں نے کتنے ہی دینی رہنما ایسے دیکھے ہیں جو خود کو بہت اونچا زاہد و عابد سمجھتے ہیں، میں نے کتنے ہی ایسے روشن خیال مفکرین دیکھے ہیں جو قران حکیم پر اپنی علمیت کے حوالے سے مغرور ہیں، میں نے کتنے ہی ایسے پیر درویش دیکھے ہیں جو اپنی روحانیت پر نازاں ہیں. یاد رکھیں، شیطان کا سب سے مہلک وار .. احساس پارسائی ہے.
.
====عظیم نامہ====

Friday, 26 September 2014

بدگمانی سے پرہیز کتنا ضروری ہے؟

 

بدگمانی سے پرہیز کتنا ضروری ہے؟

 
 
 
دو سال قبل جب میں نے ایک کمپنی میں ملازمت کی تو وہاں کم و بیش سب ہی خوش مزاج لوگ تھے. مگر ایک انگریز نوجوان ایسا بھی تھا جو اکثر میری بات کا جواب نہیں دیتا، میں اسے آواز دیتا تو بعض اوقات وہ میری طرف دیکھنا بھی گوارا نہ کرتا اور کبھی میں مذاق کرتا تو مسکراتا تک نہیں. میرے دل میں یہ بات آگئی کہ کیسا بدمزاج آدمی ہے ، شائد اپنی گوری چمڑی پر نازاں ہے ..... یہاں تک کہ ایک سال یوں ہی گزر گیا ، پھر ایک روز اس نے کسی بات کے دوران مجھے بتایا کہ وہ سماعت سے جزوی طور پر محروم ہے ، اسلئے اکثر لوگوں کی باتیں سن نہیں پاتا. مجھ پر گھڑوں پانی پڑ گیا کہ میں کیسے اس سے اتنا عرصہ بدگمان رہا !
.
میرے گھر سے قریبی علاقے میں ایک شخص مجھے اکثر نظر آتا ، وہ ڈبل روٹی یا چپس کھاتا تو کافی سارا کونے میں پھینک دیتا. میں سوچنے لگا کہ کیسا ناشکرا ہے، رزق کی بے حرمتی کرتا ہے، اسے ضائع کردیتا ہے ، اگر نہیں کھانا ہوتا تو تھوڑا لیا کرے. یہی سوچتے ایک روز اس سے آنکھیں چار ہوئی تو اس نے مسکرا کر چمکتی آنکھوں کے ساتھ کہا کہ 'بھائی یہ دیکھو ، یہ میں کیڑوں کو کھانا ڈالتا ہوں ، الله انہیں کیسے رزق دیتا ہے' .. میں ٹھٹھک کر رک گیا ، میں جسے ناشکرا سمجھتا تھا، وہ تو الله کی ناتواں مخلوق کو رزق دینے کا ذریعہ بنا ہوا تھا. ندامت سے میرا سر جھک گیا.
.
یہاں انگلینڈ میں رواج ہے کہ ہمارے دیسی لوگ اپنا نام بدل کر انگریزو جیسا بنا لیتے ہیں. جیسے جمشید بدل کر 'جم' بن جاتا ہے یا تیمور بدل کر ' ٹم ' رہ جاتا ہے وغیرہ .. ایک روز اپنے دوستوں سے ملنے ایک دوسرے علاقے گیا تو وہاں دیکھا کہ سب گورے میرے ایک دوست محمد کو 'مو' کہہ کر بلا رہے ہیں. مجھے شدید تکلیف ہوئی کہ کائنات کے حسین ترین نام کو بدل کر کیسا کرڈالا ؟ صرف اسلئے کہ گوروں سے مناسبت ہو جائے؟ .. اسی خیال کو دل میں دبائے رکھا لیکن کہا نہیں. واپس گھر آگیا. کچھ عرصہ بعد پھر ملاقات ہوئی اسی دوست سے، اس بار نہیں رہا گیا. میں نے کہا محمد تمہارا نام تو سب سے بلند ہے اور تم نے اسے بدل کر 'مو' کر دیا ، ایسا نہ کرو ! ... میری بات سن کر اس نے جواب دیا کہ 'عظیم بھائی ، میں نے ایسا جان کر کیا ہے، جب کام پر ہوتا ہوں تو یہ لوگ غصہ یا مذاق میں مجھے گالیاں دیتے ہیں، میں نہیں چاہتا تھا کہ میرے نبی کے نام کے ساتھ کوئی نازیبا کلمہ یہ کہیں، لہٰذا میں نے اپنا نام 'مو' لکھوا دیا تاکہ یہ 'مو' کو گالی دیں ، 'محمد' کو نہیں ! ...... یہ سن کر میری حالت ایسی تھی کہ کاٹو تو لہو نہیں ، میں دہل گیا کہ اگر آج میری ملاقات نہ ہوتی اور میں اس سے یہ نہ پوچھتا تو ساری زندگی میں اپنے اس بھائی کے بارے میں بدگمانی سینے میں دبائے رکھتا. وہ حرکت جسکا کرنا مجھے گستاخی لگتا تھا ، وہ تو حب رسول کا اعلی نمونہ تھی.
.
میں اب جان گیا ہوں، میں اب سمجھ گیا ہوں کہ میری یہ آنکھ مجھے جو بھی دکھائے ، میں کسی کے بارے میں بدگمانی نہیں رکھوں گا ! میرے رب نے اپنی کتاب میں سچ کہا ہے کہ
.
سورہ الحجرات ١٢
''اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو، گمانوں سے بہت اجتناب کیا کرو، کیونکہ بعض گمان صریح گناہ ہوتے ہیں؛ اور ٹوہ میں نہ لگو
  
.
====عظیم نامہ====

Wednesday, 17 September 2014

ہمارے اس دور میں اہل علم کیوں موجود نہیں ؟

ہمارے اس دور میں اہل علم کیوں موجود نہیں ؟



انسان کی ناقدری کا عالم یہ ہے کہ وہ اپنے گزرے ہوئے سلف کو تو بڑھا چڑھا کر یاد رکھتا ہے مگر اپنے زمانہ موجود میں اہل علم کی قدر نہیں کرتا. میں خود کو خوش نصیب سمجھتا ہوں کہ میں نے اپنی زندگی میں
.
ڈاکٹر اسرار احمد جیسے مفکر کو پایا
جاوید احمد غامدی جیسے محقق کو پایا

احمد جاوید جیسے صوفی کو پایا 
پروفیسر احمد رفیق جیسے استاد کو پایا
اشفاق احمد جیسے مصنف کو پایا
مولانا طارق جمیل جیسے مبلغ کو پایا
ڈاکٹر ذاکر نائیک جیسے داعی کو پایا
مولانا وحید الدین خان جیسے ناصح کو پایا
.

یہ اور بہت سے دیگر اہل علم ہمارے اسی دور میں اور ہماری زندگی میں وارد ہوئے ہیں کہ جنکے علمی کام کو زمانوں یاد رکھا جائے گا. بدنصیب ہے وہ شخص جو کسی اختلاف یا تفرقہ کی بناء پر ان اشخاص کی قابلیت سے استفادہ حاصل نہ کرے. اس فہرست میں اور بھی کئی نام شامل کئے جاسکتے ہیں، مگر یہ وہ چند استاد الاساتذہ ہیں جن کی دانش سے میں مستفید ہوا ہوں
.
====عظیم نامہ====

Wednesday, 10 September 2014

سبق آموز لطائف

 

سبق آموز لطائف

 
 
ایک صاحب فٹ پاتھ پر سکون سے چلے جارہے تھے کہ اچانک ایک گاڑی تیزی سے فٹ پاتھ پر چڑھ گئی اور صاحب کو ٹکر مار دی. ابھی وہ صاحب زمین سے اٹھے بھی نہ تھے کہ گاڑی کا دروازہ کھلا اور ایک خاتون آگ بگولہ ہوئی باہر نکلیں اور بولی "اندھے ہو گئے ہیں سب کے سب ! صبح سے یہ ساتواں آدمی ہے جو میری گاڑی سے آکر ٹکرایا ہے"
.
میرے لئے یہ محض لطیفہ نہیں ہے بلکہ ایک بہت بڑی حقیقت کا بیان ہے. ہمارے ارد گرد ایسے بیشمار لوگ ہوتے ہیں جو کسی حال اپنی غلطی ماننے کو رضامند نہیں ہوتے ، لوگ بار بار انکی کسی... اخلاقی کمی کی جانب اشارہ کرتے ہیں مگر وہ بجائے اپنی اصلاح کرنے کے ، اسی گردان میں مشغول رہتے ہیں کہ میرا کوئی قصور نہیں باقی سب برے ہیں. یہاں فیس بک پر بھی معاملہ مختلف نہیں، آپ کو ایسے احباب بآسانی میسر آجائیں گے جنہیں ہر دوسرے تیسرے ہفتے یہ شکایت ہوتی ہے کہ فلاں نے مجھے بلاک کردیا جبکہ میری کوئی بھی غلطی نہ تھی. وہ اس بات پر نظرثانی کرنے کو قطعاً تیار نہیں ہوتے کہ ان کا لہجہ یا الفاظ کا غلط انتخاب اسکی وجہ ہوسکتا ہے. پھر اس پر طرہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اسے حق گوئی سے تعبیر کرنے لگتے ہیں. یہ ان حضرات کا پسندیدہ جملہ ہوتا ہے کہ 'سچ کڑوا ہوتا ہے' .. کاش کے انہیں کوئی سمجھائے کہ کڑوا اکثر سچ نہیں ہوتا ، بلکہ کڑوا اکثر آپ کا لہجہ یا الفاظ کا انتخاب ہوتا ہے
 
============
 
============ 
ایک شخص اکثر کہتا میں غلیل بناؤں گا اور چڑیا ماروں گا .
میں غلیل بناؤں گا اور چڑیا ماروں گا .
.
ایک دن اسکو پاگلوں کے ڈاکٹر . کے پاس لے گئے ؟
اس کا علاج ہوا اور وہ ٹھیک ہو گیا . ...
.
پھر اس سے ڈاکٹر . نے پوچھا : اب جا کے کیا کرو گے ؟
اس نے کہا : میں سب سے پہلے شادی کروں گا .
ڈاکٹر . نے کہا : بہت اچھا پھر ؟
میرے بچے ہونگے .
ڈاکٹر . : گڈ پھر ؟
ان کی برتھ ڈے پر اچھی سی نیکر اور شرٹ لا کر دونگا .
ڈاکٹر . : فائن پھر ؟
انکی نیکر سے لاسٹک نکالوں گا پھر غلیل بناؤں گا اور چڑیا ماروں گا
.
ذرا غور کریں تو ہماری حکومتی پالیسیوں کا آج تک یہی حال رہا ہے کہ لاسٹک نکالوں گا پھر غلیل بناؤں گا اور چڑیا ماروں گا
 
====عظیم نامہ====

Wednesday, 3 September 2014

فرقہ پرستی کے خاتمے کا آزمودہ نسخہ


فرقہ پرستی کے خاتمے کا آزمودہ نسخہ




آج سے کم و بیش دو ڈھائی برس قبل ، دو تین دوستوں کے کہنے پر ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ اسکائپ پر روز جمع ہوں اور قران حکیم پر مل کر تفکر کریں. ایک دوسرے سے کسی بات پر متفق ہوں نہ ہوں مگر پھر بھی خوش اسلوبی سے سب کو سنا جائے اور کسی قسم کے تفرقہ کو موضوع بننے نہ دیا جائے. قران حکیم ہی وہ کتاب ہے جس کی سند و اہمیت ہر مسلک و فرقہ کا اجماع ہے. طریقہ یہ رکھا گیا کہ پہلے چند آیات کی تلاوت لگائی جائے ، پھر ایک بھائی اس کا ترجمہ پڑھے اور پھر باری باری سب اس پر اظہار خیال کریں. کیونکہ دوستوں کا تعلق مختف فرقوں اور مسالک سے تھا لہٰذا اسکی مکمل اجازت رکھی گئی کہ ہر ایک اپنے مسلک کے عالم کی تفسیر کو پیش کر سکے. مولانا مودودی، مولانا اصلاحی، ڈاکٹر اسرار، جاوید غامدی صاحب، مولانا تقی عثمانی، مولانا شبیر عثمانی، نعمان علی خان اور دیگر کئی مفسرین و مبلغین کی سمجھ پیش کی جانے لگی. جب کبھی کوئی اختلافی آراء آتی تو یہ کہہ کر بات کو فوری سمیٹ دیا جاتا کہ "یہ علماء کی اختلافی رائے ہیں ، آپ سب خود غور کر کے اپنی سمجھ قائم کریں" یوں پیار محبت سے یہ سلسلہ جاری ہوگیا

.
رفتہ رفتہ دوستوں کی دلچسپی اور تعداد بڑھنے لگی. تین چار افراد سے دس، دس سے بیس اور بیس سے چالیس. نئے آنے والوں کے لئے اس بات کا بار بار اعلان کیا جاتا کہ ہم میں سے نہ کوئی عالم ہے، نہ فاضل، نہ ہی کوئی مستند تحقیق نگار اور اگر اردو میں کوئی لفظ ہمارا تعارف فراہم کرسکتا ہے تو وہ ہے لفظ "طالبعلم". ہم دین اور قران حکیم کے معمولی طالبعلم ہیں جن سے سمجھ میں غلطی ہو سکتی ہے. جہاں کوئی مشکل پیش آتی تو کسی مقامی عالم سے جاکر پوچھ لیتے. اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ کوئی گدی نشینی نہ ہو، یعنی سب کو بولنے کا نہ صرف حق ہو بلکہ ایسا کرنے پر اسکی حوصلہ افزائی کی جائے. ترجمہ بھی ہر بار مختلف شخص پڑھے تاکہ عملی شمولیت کا احساس سب کو رہے. قران مجید کے اس مسلسل مطالعہ کا اثر تمام دوستوں پر نظر آنے لگا، جو نماز نہ پڑھتا تھا وہ نمازی ہوگیا، جو صدقہ میں کنجوس تھا اسکا ہاتھ فراخ ہوگیا، حقوق العباد ترجیح بن گئے، الله رسول کی محبت دلوں میں گھر کرنے لگی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ تفرقہ کی سوچ کا خاتمہ ہوگیا. اب نہ کوئی سنی تھا نہ شیعہ، نہ دیوبندی نہ بریلوی، نہ صوفی اور نہ کوئی اہل حدیث. سب نے خود کو صرف مسلمان کہنے پر اکتفاء کرلیا. اختلافات گھٹ کر علمی رائے میں تبدیل ہوگئے اور برداشت پیدا ہونے لگی. دوستوں کی یہ محفل چونکہ مختلف شعبوں سے وابستہ پڑھے لکھے افراد پر مشتمل تھی لہٰذا ایمان و عمل کے ساتھ ساتھ عقل و فہم اور مکالمہ کی صلاحیت میں بھی تیزی سے اضافہ ہوگیا
.
ایسے بہت سے لوگ ہم میں شامل ہو گئے جنہیں ہم نے دیکھ بھی نہ رکھا تھا، لہٰذا یہ فیصلہ کیا کہ مہینہ میں ایک بار سب کسی کے گھر پر اکٹھا ہو جائیں اور آپس میں دین پر گفتگو کریں. دو تین بھائیوں نے مختلف موضوعات جیسے 'قران سے تعلق'، 'تزکیہ نفس'، 'اتحاد امت' وغیرہ پر خوب تحقیق کرکے لیکچر تیار کئے. محفل کا فورمٹ یہ رکھا گیا کہ پہلے ایک بھائی اپنی تحقیق پیش کرے گا اور اس کے بعد باقی بھائی اس سے سوال جواب کریں گے. یہ تجویز بھی نہایت کامیاب ہوئی اور ہر مہینہ اس کا انعقاد کیا جانے لگا. شرط یہ کہ ہر بار کوئی نہ کوئی نیا بھائی موضوع تیار کرے گا اور یوں سب ایک دوسرے سے سیکھیں گے. جلد ہی بڑے بڑے محققین اور علماء ہم سے جڑنے لگے، یہ اہل علم فی سبیل اللہ آتے اور اس امر سے نہایت خوش ہوتے کہ اس محفل میں موجود شرکاء کی ذہنی و علمی قابلیت خاصی بلند ہے. لوگوں کو سارا مہینہ اس محفل کا انتظار رہنے لگا اور لوگوں کی شمولیت اتنی بڑھی کہ ایک بڑا ہال کرائے پر لینا پڑا. اس روایت کو برقرار رکھا گیا کہ ان اہل علم کے ساتھ ساتھ ہر بار کسی نئے دوست کو خطاب کا موقع دیا جائے. اس محفل میں ہر مسلک اور ہر نقطہ نظر کے مقررین اپنی تحقیق پیش کرتے اور حاظرین کھلے ذہن سے اس کو سن کر اپنے سوالات پیش کرتے. دوستوں کی وہ محفل جو کبھی بھانت بھانت کے فرقوں کی مبلغ تھی، آج تفرقہ سے دور اور دین سیکھنے کی جستجو سے سرشار ہو گئی، جہاں وہ مانا جاتا ہے جو قران و سنت کی دلیل سے ثابت ہو اور جہاں یہ بات تسلیم کی جاتی ہے کہ رائے کا اختلاف رکھ کر بھی آپس میں محبت سے رہا جا سکتا ہے


 اسی طرح اور بھی کئی تجویز اس محفل کے ذریعے روبہ عمل ہوئیں. جیسے خاندانوں کا تعلیم اور تفریح کیلئے جمع ہونا، دوسرے شہروں آباد دوستوں کے پاس جا کر اسی اصلاحی سلسلے کو جاری کرنا، عربی سیکھنے کی مشترکہ کوشش کرنا، صدقات دینے کی مشترکہ کاوش کرنا، ایک دوسرے کو مختلف دنیاوی علوم بھی فری سکھانا جیسے کمپیوٹر کورس وغیرہ

 

.
یہ سلسلہ الحمد الله آج دو سال بعد بھی پوری آب و تاب سے جاری ہے، جہاں ہفتے میں چھ دن ایک گھنٹے سے زائد سکائپ کلاس کا اہتمام کیا جاتا ہے، جہاں سب مسالک کے دوست مل کر مختلف تفاسیر ، ترجموں اور فہم سے غور کرتے ہیں. سوالات پوچھتے ہیں. اسی طرح ہر مہینہ ایک بڑی علمی محفل کا انعقاد ہوتا ہے جہاں مختلف علمی و فکری موضوع زیر بحث آتے ہیں اور بڑے اہل علم کا ساتھ ہوتا ہے. ایک دفع قران ختم کیا جاچکا ہے اور دوسری بار مزید گہرائی سے غور و تدبر جاری ہے. یہ دوست اب صرف دوست نہیں بھائی بن چکے ہیں. ایسی محبت ہے دلوں میں جو کسی بھی دنیاوی فائدے سے بےنیاز ہے اور الله کے قرب سے معمور ہے
 
.
جناب یہ ہے وہ آزمودہ عملی نسخہ جسے ہم نے اختیار کیا اور الله کے فضل کو خود پر برستا پایا. آپ بھی یہ کر سکتے ہیں، چند دوست مل کر روز یا ہفتے میں چند دن قران حکیم پر غور کرنے کیلئے بیٹھیں ، پھر دیکھیں الله پاک آپ کا ہاتھ کیسے تھام لیتے ہیں. الله ہمیں دین سیکھنے کی کوشش کرنے والا بنائے اور ہمارے لئے ہدایت کے دروازوں کو کھول دے. آمین یا رب العالمین
 
.
====عظیم نامہ=====

Monday, 18 August 2014

عمران خان اور پاکستانی سیاست


عمران خان اور پاکستانی سیاست




میں مانتا ہوں کہ عمران خان نے پاؤں پر کلہاڑی نہیں بلکہ کلہاڑی پر پاؤں مار لیا ہے. میں جانتا ہوں کہ سیاسی بصیرت کے حوالے سے عمران نے غلطی پر غلطی کی ہے. مجھے اعتراف ہے کہ میرے نزدیک وہ پہلے خیبر پختون خواہ میں تبدیلی برپا کریں پھر کسی انقلاب کی بات کریں. لیکن اس سب کے باوجود مجھے بھی ان سیاسی احمقوں میں شامل رکھیں جو آج بھی خان صاحب کو اس ملک کا وزیر اعظم دیکھنا چاہتے ہیں. مجھے خان جیسا سیاسی بیوقوف قبول ہے مگر زرداری و شریف جیسے وطن فروش نہیں. مجھے سیاسی پینتروں کا ماہر نہیں چاہیئے بلکہ مخلص و دیانتدار قیادت میرا تقاضا ہے


عمران کے ساتھ اور اردگرد اس وقت یقیناً بہت سے گندے انڈے موجود ہیں مگر عمران ہمیشہ سے ایک ڈکٹیٹر رہا ہے. اسے اسکی سوچ اور نظریہ چلاتا ہے. میرے نزدیک اس ملک کو ایک ڈکٹیٹر ہی چاہیئے. جمہوریت پڑھے لکھے معاشروں میں پھلتی پھولتی ہے ، ہمارے جیسے جاہل اور دیمک زدہ معاشروں میں وہ بدترین آمریت ثابت ہوتی ہے. جب تک اس قوم کی خاطر خواہ تربیت نہیں ہو جاتی تب تک اسے ایک مخلص ڈکٹیٹر کی ضرورت رہے گی. مجھے اعتماد ہے کہ خان صاحب کے ساتھ جو بھی کرپٹ شامل ہے وہ کبھی ویسے کھل کر کرپشن نہیں کر پائے گا جیسے ہماری دیگر نمائندہ سیاسی جماعتوں میں اپنا حق سمجھ کر کر پاتا 

عمران کو سمجھنا پہلےکرکٹ میں بھی مشکل تھا اور آج بھی مشکل ہے. آپ اسے خر کہیں یا درویش. مگر آج بھی جدید ذہن والے اسے طالبان خان کہہ کر تنقید کا نشانہ بناتے ہیں اور شلوار داڑھی والے اسے ناچ گانے والا زانی کہہ کر طعنے مارتے ہیں. خان کو اسکی فکر نہیں ہوتی کہ کوئی کیا کہتا ہے ؟ وہ بس اپنی دھن کا پکا ہے. جب تعلیم حاصل کی تو آکسفورڈ جیسی یونیورسٹی میں جاپہنچا، جب مغربی چمک دھمک اپنائی تو پوری دنیا کے اخباروں میں شہہ سرخی بنارہا، کرکٹ کھیلی تو اس کھیل کا اونچا ترین لیجنڈ مانا گیا، نمائندگی کی تو کبھی یونائیٹڈ نیشن کا سفیر بنایا گیا تو کبھی یونیورسٹی آف بریڈفور کا چانسلر قرار پایا، فلاحی کام کئے تو پاکستان کا پہلا کینسر ہسپتال بنا ڈالا، تعلیم پھیلانا چاہی تو نمل یونیورسٹی بنادی، سیاست میں آیا تو آج دھاندھلی زدہ الیکشن کے باوجود پاکستان کی دوسری بڑی پارٹی کا سربراہ بن چکا. اس تمام سفر کی روداد کو پڑھ لیں ، اسے ہمیشہ مجھ جیسوں نے تنقید کا نشانہ بنا کر ہنسی ہی اڑائ ہے. آج بھی وہی کر رہے ہیں. مگر عجب نہیں کہ جلد یا دیر سے خان وہ حاصل کرلے جو اس نے سوچ رکھا ہے. جو یہ سمجھتا ہے کہ عمران شہرت چاہتا ہے تو وہ جان لے کہ جو شہرت عمران کو دنیا بھر میں حاصل ہے اسکا عشر عشیر بھی نواز کے پاس نہیں ہے، جو یہ مانتا ہے کہ وہ اس سب سے پیسہ چاہتا ہے تو وہ جان لے کہ عمران کو پیسے کی نہ پہلے کبھی کمی تھی اور نہ آج ہے، جو یہ سوچتا ہے کہ وہ محض اقتدار کا بھوکا ہے تو وہ پھر جان لے کہ مشرف نے اسے ایک نہیں دو بار وزیر اعظم بنانا چاہا مگر عمران نے اسے ٹھوکر مار دی. خان کو صرف کرسی نہیں وہ اختیار درکار ہے جسکے ذریعے وہ اس پھپھوند زدہ نظام کو مٹا سکے. وہ یہ ٹھان چکا ہے ! وہ یہ ٹھان چکا ہے !


====عظیم نامہ====

اضافی نوٹ

یہ ممی ڈیڈی بچے ان توند نکالے مولویوں سے کہیں بہتر ہیں .. یہ ناچتے ہوئے نوجوان ، ان فتوے باز تکفیریوں سے کہیں اچھے ہیں .. یہ انقلابی بیوقوف ، ان عقلمند تجزیہ کاروں سے کہیں بلند ہیں. میرا دل اور دماغ دونوں عمران کے ساتھ ہے .. گو کے مجھے اندازہ ہے کہ اسے ایک دنیا گالیاں دے رہی ہے ، بیوقوف ضدی بچہ کہہ رہی ہے .. وہ اس نظام کو ٹکریں مار رہا ہے ، وہ ایک بڑی جماعت کھڑی کرنے میں کامیاب ہوچکا ہے. اسے نظر آرہا ہے کہ اگر اسی نام نہاد لنگڑی لولی جمہوریت پر چلتا رہا تو کبھی بھی یہ زرداری و نواز اسے آنے نہیں دیں گے. یہ ایک نورا کشتی ہے جو سالہا سال سے اس ملک میں جاری ہے، جہاں مقابلہ ہوتا نہیں بلکہ عوام کو دکھایا جاتا ہے. کچھ بھی کہتے رہیں مخالفین .. حقیقت یہ ہے کہ لڑکا کھیل ہی کھیل میں دوسری بڑی جماعت کا سربراہ بن چکا اور آج حکومت کے سر پر خطرہ بنا کھڑا ہے. حقیقت یہ ہے کہ زرداری سے لے کر نواز شریف تک، الطاف حسین سے لے کر فضل الرحمٰن تک، جنگ گروپ سے لے کر افتخار چوہدری تک اور پاک فوج سے لے کر امریکہ بہادر تک سب اس کے خلاف کھڑے ہیں. اگر کوئی سمجھتا ہے کہ عمران اتنا بیوقوف ہے کہ اسے یہ نہیں اندازہ کہ اس نے ایک دشمنوں کی فوج کھڑی کرلی ہے تو اسکی عقل کو میرا سلام ہے. آج اگر عمران خالی ہاتھ بھی واپس جاتا ہے تب بھی وہ ایک بہت بڑا مقصد حاصل کر چکا اور وہ یہ کہ اب حکومت خوب آگاہ ہے کہ اسے انصاف کرنا ہوگا ، وہ اپنے ماضی کی طرح معاملات کو گھسیٹ نہیں سکتی. اب ایک ایسی جنونی اپوزیشن کی نظر اس پر ہے جو کسی طرح کے مک مکا سے نہیں مانتی. 
.
عظیم الرحمٰن عثمانی

Thursday, 14 August 2014

جشن آزادی مبارک دوستو

جشن آزادی مبارک دوستو 

چودہ اگست ١٩٤٧ کی وہ سرد رات ..
شمال مشرق کی جانب سے ایک نوجوان .. اپنے چہرے پر میلوں کی مساوت کی تھکاوٹ سجائے ہوئے.....
اور بکسوں کی صورت ہاتھوں میں بار گراں اٹھائے ہوئے..
لڑکھڑاتا ڈگمگاتا .. چلا آرہا ہے ..
.
یہ نوجوان اپنی عمر بھر کی پونجی..
دوست، احباب، عزیز، رشتہ دار ..
سب گنوا چکا ہے ..
.
مگر چہرہ پر عجب سی طمانیت ہے .. لبوں پر مسکراہٹ رقصاں ہے .. اور آنکھیں ہیں کہ شکرانہ خدا سے بھیگی جاتی ہیں.. سرزمین خداداد پر پہنچتے ہی گرتا ہے .. اور سجدہ ریز ہوجاتا ہے ..
.
وقت تھم جاتا ہے .. چاروں اطراف خاموشی چھا جاتی ہے .. مگر چشم فلک کو کوئی اچمبا محسوس نہیں ہوتا ..
کیونکہ اس نے ان دنوں ایسے ہزاروں نہیں، لاکھوں نہیں، کروڑوں جیالوں کو ، بچوں کو، بوڑھوں کو، عورتوں کو .. اس سے زیادہ ابتر حالت میں اسی سرزمین پر سجدہ ریز ہوتے دیکھا تھا ..

.
ان تمام کے پاس نہ کھانے کو روٹی تھی، نہ پہننے کو کپڑا، نہ رہنے کو کوئی چھت ..
مگر دل میں اطمینان تھا .. کہ ہاں ! یہی ملک ہمارا سب کچھ ہے اور یہی وطن ہمیں ہمارا سب کچھ دے گا ..
.
آج تشکیل پاکستان کے پورے اڑسٹھ سال بعد ..
جب ہم دنیا کی ساتویں اور اسلامی دنیا کی پہلی ایٹمی قوت بن چکے ہیں ..
جب ہمارے دفاع و عسکری قوت کو ناقابل تسخیر تصور کیا جاتا ہے ..
جب ہمیں معدنیات سے مالامال سمجھا جاتا ہے ..
جب ہمارے پاسس بہترین و ذہین اذہان ہیں ...
جب ہماری معیشت کی بحالی کی سینکڑوں صورتیں موجود ہیں ..
.
تب .. دوستو .. تب
.
اٹھارہ کروڑ عوام کی زبان پر ایک ہی گردان جاری ہے ..
"میاں، اس ملک میں کچھ نہیں رکھا ، یہ وطن ہمیں کچھ نہیں دینے کا"
.
چودہ اگست کی اس رات کو ہمارے پاس کچھ نہیں تھا .. مگر سب کچھ تھا ..
اور آج کہنے کو ہمارے پاس بہت کچھ ہے .. لیکن سچ پوچھو تو کچھ بھی نہیں ہے ..
.
ہم نے الله رب العزت کی اس عظیم نعمت کی قدر نہ کی جو ہمیں آزادی کی صورت میں رضا الہی سے حاصل ہوئی .. ہم نے ان قربانیوں کو مدفون کر دیا جو آج بھی کہیں اسی سرزمین کی گود میں دفن ہیں ..
.
ہمارے سامنے آج پھر ایک اور جشن آزادی ہے جو خود غرضی اور استبداد سے کانپ رہا ہے ..
.
آنکھوں میں چھپائے اشکوں کو ..
ہونٹوں پر وفا کے بول لئے ..
اس جشن میں ، میں بھی شامل ہوں !
نوحوں سے بھرا کشکول لئے ..

.
عظیم نامہ

Tuesday, 12 August 2014

یہ عشق کیا ہے ؟ کیا یہ نکما بنا دیتا ہے ؟

 
 
سوال: یہ عشق کیا ہے ؟ کیا یہ نکما بنا دیتا ہے ؟
.


جواب: بھائی دیکھو .. عشق کوئی احسن شے نہیں ہے جسکے حصول کیلئے مجاہدہ کیا جائے. اگر کسی بیماری کی طرح زبردستی لگ جائے تو اور بات وگرنہ عشق ایک غیر متوازن رویہ ہے جس میں انسان خرد و توازن سے بیگانہ ہوکر ایک ہی جانب مرکوز و مبہوت ہوجاتا ہے. دین نے ہمیں محبت کرنا سکھایا ہے، شدید محبت کرنا سکھایا ہے مگر عشق کی تلقین بلکل نہیں کی. محبت میں توازن و حسن ہوتا ہے، یہ ایک ہی وقت میں بہت سے مخاطب بنا لیتی ہے. والدین سے محبت، رب سے محبت، رسول سے محبت، مسلمانو سے محبت، انسانوں سے محبت، بچوں سے محبت وغیرہ. عشق میں معشوق کے سوا سارے رشتے معدوم ہو کر رہ جاتے ہیں جو دین کی منشاء نہیں
.


معشوق اور محبوب میں فرق ہوتا ہے ، عاشق اور محب ہم معنی نہیں .. مجھے اندازہ ہے کہ اگر کسی عشق کے دعویدار کو یہ کہا جائے کہ وہ عاشق نہیں بلکہ محب ہے تو اسے یہ اپنے جذبہ کی توہین لگتی ہے مگر اکثر عاشق محب ہیں عاشق نہیں.

عشق میں دوئی ہوتی ہی نہیں ، وہ تو جنون ہے ، پاگل پن ہے، یکسوئی ہے. اس میں محبوب نظر کے سامنے نہ ہو تو سانس نہیں آتی ، صحت چاہ کر بھی ساتھ نہیں دیتی اور فراق جان لے کر دم لیتا ہے. یہی عشق کا دستور ہے. ہر چہرہ اپنے معشوق کا چہرہ دکھتا ہے اور حالت یہ ہوتی ہے کہ پہلے اردگرد بھول جاتا ہے اور پھر اپنا وجود بھی بھول کر محبوب کا عکس بن جاتا ہے. اسی کیفیت کو صوفیاء فنا فی الوجود سے تعبیر کرتے ہیں. عشق مجازی میں فرق بس اتنا ہے کہ اس میں محبوب خالق نہیں بلکہ ایک انسانی پیکر ہوتا ہے. یہ پنجابی شعر سنو

رانجھا رانجھا کر دی نی میں ، آپے رانجھا ہوئی
سدّو نی مینوں دھیدو رانجھا ، ہیر نہ آکھو کوئی


کہتے ہیں کہ مجنوں نے ایک روز اپنی لیلیٰ کی آمد کا سنا تو اسکی جھلک دیکھنے کے لئے اونٹ سے چھلانگ لگا دی. نتیجہ یہ نکلا کہ زخمی ہو گیا مگر شوق بیتابی میں آگے بڑھتا گیا. اب عقلمند یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اس بیوقوف نے چھلانگ کیوں لگائی ؟ آرام سے سلیقے سے اتر آتا تو چوٹ نہ لگتی. لیکن انہیں کون سمجھائے؟ کہ عشق میں انسان ایسے حساب کتاب سے ناآشنا ہوتا ہے. البتہ محبت میں شدید طلب میں بھی عقل کا ساتھ رہتا ہے

بوعلی سینا کے پاس ایک قریب المرگ لڑکا لایا گیا بوعلی سینا نے ملاحضے کے بعد ایک بندے کو کہا کہ اس شہر میں جتنے محلے ہیں انکا نام لو ، اس نے نام لیا بوعلی سینا نے نبض تھام رکھی تھی پھر ایک محلے پر کہا اسمیں جتنے گھر ہیں انکا نام لو اس نے نام لیا ایک گھر پر کہا کہ اس گھر میں جو افراد ہیں انکا نام لو ، ایک لڑکی کے نام پر کہا اسکی شادی اس سے کردو یہ مریض عشق ہے. یہ ہوتا ہے عشق ۔ نہ بیان ، نہ اقرار ، نہ وصل بس عشق ہی عشق یعنی کے بندہ عین عشق بن جائے کوئی بڑا حکیم ہی پہچان سکے
 

میری دعا ہے کہ الله آپ کے حق میں بہترین راستہ فراہم کریں اور آپ کو اس پر راضی کر دیں آمین. میری اپنی کہانی اگر میں آپ کو سناؤں تو حیران ضرور ہو جائیں ، کوئی پیمانہ تو نانپنے کے لئے نہیں ہے مگر شائد آپ میری کہانی کو زیادہ شدید پائیں مگر اسکے باوجود میں خود محبت کرنے والا سمجھتا ہوں عاشق نہیں
 
====عظیم نامہ====

Monday, 11 August 2014

کیا دعا مانگنا ایک مذہبی دھوکہ ہے ؟

 

کیا دعا مانگنا ایک مذہبی دھوکہ ہے ؟

 

اکثر افراد کا گمان یہ ہوتا ہے کہ غالباً دعا محض ایک تقاضہ کا نام ہے. یعنی وہ یہ گمان رکھتے ہیں کہ دعا کسی تقاضہ کو پیش کرنا ہے کہ میری فلاں خواہش پوری ہوجائے. یہ تعبیر درست نہیں ہے. دعا اپنے رب سے صرف ایک تقاضہ نہیں بلکہ یہ سائل کی داخلی کیفیت کا عکس بھی ہے. آپ کے اندر جو بھی کیفیت ہوتی ہے یہ اس کا مظہر ہے.  یہ بندہ کا اپنے رب سے زندہ تعلق ہے جسکے ذریعے وہ اپنے  بنانے والے سے مخاطب ہوتا ہےلہذا کسی شخص کا یہ سوچ کر دعا کو     ترک کر دینا کہ اس سے اسکا کوئی تقاضہ یا مراد نہیں بر آئی حماقت ہے . یہ ایسا ہی ہے کہ  آپ نے دعا  کے ایک پہلوپر غورکیا اور اسکے بقیہ تمام پہلوؤں کو نظر انداز کر دیا اور نتجتاً اسکے بشمار ثمرات سے خود کو محروم کر بیٹھے
ہم سب اس حدیث سے واقف ہیں جس میں بتایا گیا ہے کہ دعا عبادت کا مغز ہے. آپ نماز کا جائزہ لے کر دیکھیں ، معلوم ہوگا کہ سورہ فاتحہ سے لے کر التحیات تک اور درود شریف سے لے کر سلام بھیجنے تک سب کی سب دعا ہی ہے. اس کے علاوہ دعا کا ایک نمائندہ پہلو یہ بھی ہے کہ یہ آپ کی توجہ کا ارتکاز کرتی ہے. جب آپ کسی دعا کو مستقل مزاجی، خلاص اور قبولیت کے یقین کے ساتھ مسلسل کرتے ہیں تو اس دعا کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اس میں ادا کئے گئے کلمات عمل میں ڈھلتے چلے جاتے ہیں یعنی جب آپ بار بار صدق دل سے یہ استدعا کرتے ہیں کہ ' یا رب ! مجھے نیکی کی توفیق دے اور گناہ سے بچنے والا بنا ' .. تو کچھ ہی عرصہ میں آپ یہ محسوس کریں گے کہ آپ کا مزاج نیکی کی جانب پہلے سے زیادہ راغب ہوگیا ہے. یہ ایک فطری اثر ہے جو انسانی طبیعت پر مرتب ہوتا ہے. اس کا ایک تجربہ آپ یوں کر سکتے ہیں کہ کوئی دس بیس بار دن میں یہ دہرائیں کہ

 'یہ کیا بیکار زندگی ہے ؟ میری تو قسمت ہی خراب ہے'

آپ محسوس کریں گے کہ جلد ہی آپ کا ذہن اس مایوسی کو قبول کرلے گا اور اپنی زندگی سے اکتاہٹ محسوس ہونے لگے گی. اسی طرح اب آپ دس بیس بار دن میں یہ دہرا کر دیکھیں کہ

'میں لاکھوں کروڑوں لوگوں سے زیادہ خوش نصیب ہوں، یا میرے رب آپ کا بہت بہت شکریہ'

 کچھ ہی دنوں میں آپ واقعی اس بات کے قائل ہو جایئں گے اور جذبہ تشکر آپ کے دل میں گھر کرلے گا. کہنے کا مقصد یہ ہے کہ جہاں دعا کے پہلوؤں میں تقاضہ، داخلی کیفیت کا اظہار اور اپنے رب سے گفتگو شامل ہیں وہاں اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ یہ آپ کے ذہن کو مثبت سمت لے جاکر عمل کی جانب راغب کرتی ہے. دنیا بھر کے علم نفسیات کے ماہرین اور ہپناٹزم کے استاد یہی طریق اپناتے ہیں. وہ آپ کے ذہن کو بار بار مسلسل مثبت باتیں سناتے ہیں ، جنہیں انکی زبان میں مائنڈ سجیشن کہا جاتا ہے. رفتہ رفتہ یہ مثبت سجیشن آپ کی منفی سوچ و عادات کو ختم کرتے چلے جاتے ہیں اور بلاخر انسان وہ کیفیت حاصل کرپاتا ہے جس کا وہ متمنی تھا. اسکا لازمی نتیجہ عمل کی صورت میں نکلتا ہے. آج اسی طریق سے ہپناٹست ایکسپرٹ وزن کم کروانے سے لے کر سگریٹ نوشی ترک کرنے تک کا کام کر رہے ہیں

معاملہ صرف یہاں تک نہیں ہے بلکہ اگر آپ کی دعا آپ کی بھلائی میں ہے اور الله رب العزت کے اجتماعی نظم سے نہیں
ٹکراتی تو پھر اسے فرشتوں کی تائید حاصل ہو جاتی ہے. اسی حوالے سے یہ کہا جاتا ہے کہ فرشتے مومنین پر سکینت نازل کرتے ہیں یا وہ بھی ہماری دعاؤں پر آمین کہتے ہیں. یہ جاننا ضروری ہے کہ ملائکہ ، خالق کائنات کی جانب سے فطرت کی مختلف قوتوں پر مامور ہیں لہٰذا الله کی اجازت سے انکی تائید کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے اردگرد کے حالات و واقعات آپ کے موافق ہوتے چلے جائیں یعنی آپ دیکھیں گے کہ اچانک سے کوئی ایسی سبیل پیدا ہوگئی جو پہلے نگاہ سے اوجھل تھی یا وہ عوامل جو آپ کے خلاف شدت سے کام کر رہے تھے اب انکی شدت دم توڑ رہی ہے اور آہستہ آہستہ آپ کو موقع فراہم کرنے لگے
اس بات کو ہرگز یہ نہ سمجھیں کہ یہ کوئی مذہبی بھڑک ہے جو مذھبی افراد عقیدہ کی عینک سے ہی دیکھ سکتے ہیں. بلکہ مشہور غیرمذہبی افراد بھی اس غیبی مدد کو طرح طرح کے ناموں سے منسوب کرتے آئے ہیں. کچھ اسے فطرت ماں (مدر نیچر) کے پوشیدہ قوانین کہہ کر پکارتے ہیں تو کچھ کہ نزدیک یہ انسانی دماغ کی پوشیدہ کشش ہے. مغرب کے ایک مشہور مفکر نپولین ہل نے ١٩٣٨ میں ایک شاہکار کتاب تحریر کی، جس کا نام ہے ' تھنک اینڈ گرو رچ' .. یہ کتاب انسانی تاریخ کی سب سے زیادہ مشھور کتابوں میں شمار کی جاتی ہے. اپنے پہلے ایڈیشن سے لے کر ستر سال تک یہ بار بار بیسٹ سیلنگ لسٹ میں آتی رہی اور آج بھی لوگ اسے ایسے ہی زوق و شوق سے پڑھتے ہیں. اس کتاب میں ایسا کیا ہے ؟ تو جناب اس کتاب میں مصنف نے کامیابی کے لئے کامیاب سوچ کے طریقہ کار بیان کئے ہیں اور سب سے بڑھ کر صاحب کتاب نے ایک غیبی قانون کا انکشاف کیا ہے جسے وہ قانون جاذبیت یا لاء آف ایٹریکشن کے نام سے موسوم کرتا ہے. آپ یقیناً میری بات پر ہنسیں گے مگر اس پیش کردہ قانون کو بیان کرتے ہوئے نپولین صاحب وہی فرماتے ہیں جو آج کل بالی وڈ کے شاہ رخ خان اپنی ایک ہندی فلم میں فرماتے ہیں کہ
"کہتے ہیں اگر کسی چیز کو دل سے چاہو تو پوری کائنات اسے تم سے ملانے کی کوشش میں لگ جاتی ہے"


یعنی نپولین صاحب کے بقول اگر کوئی شخص سچے دل سے کوئی شے مانگتا ہے اور اسکے بارے میں مسلسل سوچتا رہتا ہے تو کچھ ہی دنوں میں اسکے اردگرد مواقع جنم لینے لگتے ہیں اور راستہ پیدا ہوجاتا ہے جس پر چل کر وہ شخص اپنی مراد کو پاسکتا ہے. اب وہ اسکے بعد عملی کوشش نہ کرے تو اور بات. اب یہ مواقع اور مدد کیسے پیدا ہوجاتی ہے ؟ اسکے بارے میں نپولین صاحب کچھ کہنے سے قاصر ہیں. بہرحال وہ اسے خدائی مدد کی جگہ ایک اندھے بہرے قانون کی حیثیت دیتے ہیں. نپولین کے بعد بیشمار مفکرین نے اسی وہ قانون جاذبیت یا لاء آف ایٹریکشن کو موضوع بنا کر ان گنت کتابیں تحریر کی ہیں
اسی طرح برطانیہ کے معروف ترین ہپناٹسٹ اور سیلف ہیلپ ایکسپرٹ ' پال میک کینا ' اپنی مشہور کتابوں جیسے ' انسٹنٹ کانفیڈنس (فوری اعتماد) ' میں یہ سکھاتا ہے کہ اگر کچھ حاصل کرنا چاہتے ہو تو اسے ذہن میں خوب سوچو ، یہاں تک کہ اگر وہ حقیقت میں حاصل نہ بھی ہو تب بھی تمھیں ایسا لگے کہ وہ تمھیں حاصل ہو چکی ہے. یعنی اگر رئیس بننا چاہتے ہو تو ذہن میں تصور کو پکا کرو کہ تمہارے پاس عالیشان بنگلہ ہے، بہترین گاڑی ہے، بے حساب پیسہ ہے. جب یہ تصور پکا ہو جائے تو اسکے حصول کی جانب قدم بڑھاؤ ، تم دیکھو گے کہ مشکلات آسان ہو رہی ہیں. غیبی مدد ہونے لگے گی ، یہاں تک کہ وہ من پسند خواہش حاصل ہو جائے گی. شرط صرف یہ ہے کہ پورے یقین کے ساتھ یہ تقاضہ اپنے ذہن میں بیٹھا لو. یہ کیسے ہوتا ہے ؟ اس کا کوئی قابل تشفی جواب حضرت کے پاس سے نہیں ملتا. دل چاہتا ہے کہ انہیں رسول الله صلی الله و الہے وسلم کی وہ احادیث سناؤں جن میں یہی تربیت کی گئی ہے کہ ہمیشہ قبولیت کے پورے یقین کے ساتھ دعا مانگو اور پھر عمل میں لگ جاؤ. نمونہ کے طور پر بخاری شریف کی ایک حدیث کا مفہوم درج کر رہا ہوں
ابو ہریرہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی پاک صلی اللہ و الہے وسلم نے فرمایا

تم میں سے کوئی ایسا نہ کہے کہ ' اے الله ، مجھے معاف کردیں اگر آپ چاہتے ہیں' (یا پھر) 'اے الله مجھ پر رحم فرمائیں اگر
 آپ چاہتے ہیں' بلکہ الله سے دعا پوری قبولیت کے یقین کے ساتھ مانگو، کوئی الله کو کسی کام کے کرنے پر اسکی مرضی کے خلاف مجبور نہیں کرسکتا
یہ کسی ایک ماہر نفسیات کا حال نہیں ہے بلکہ ایک عظیم اکثریت اسی طرح غیبی مدد کی تاویلیں گھڑتی نظر آتی ہے. اگر طوالت کا خوف دامن گیر نہ ہوتا تو میں آپ کو اور ایسے ہی ملتے جلتے فلسفے سناتا جو آج کی 'مہذب' دنیا نے الہامی کتابوں کا انکار کرکے بھی اپنا رکھے ہیں. ایسی ہی ایک اور مثال ان افراد کی ہے جو اکثر مذہب کے منکر ہوتے ہیں مگر خود کو روحانی یا سپرچولسٹ کہتے ہیں. ان کا ماننا یہ ہوتا ہے کہ جیسے ایک انفرادی شعور ہے ہر انسان کے پاس ، اسی طرح ایک اجتماعی شعور بھی اس کائنات میں کارفرما ہے جس سے اگر تعلق جوڑ لیا جائے تو غیبی امداد ہونے لگتی ہے
 یہ ان حضرات کی سمجھ ہے جو خدا پر یا تو یقین نہیں رکھتے اور اگر رکھتے بھی ہیں تو واجبی سا. ان میں اور ہم میں فرق بس اتنا ہے کہ ہمارے سامنے دعا کا ایک منظم تصور موجود ہے اور ہمیں معلوم ہے کہ یہ غیبی مدد ملائکہ کی حمایت اور ہمنوائی سے حاصل ہوتی ہے جبکہ یہ اپنی تاویلیں خود ایجاد کرتے رہتے ہیں. لہٰذا ایک برتر قوت کو تسلیم کرکے اس سے کوئی استدعا کرنا یعنی دعا مانگنا اور پھر عمل کرتے ہوئےغیبی مدد کی امید رکھنا کوئی دقیانوسی یا کھوکھلی بات نہیں ہے

 دعا کے تصور کو ٹھیک سے سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم تقدیر کے اسلامی تصور کو مختصر سمجھ لیں. تقدیر در حقیقت دو حصوں میں منقسم ہے. پہلا حصہ ہے ' تقدیر جبری ' یعنی وہ تقدیر جسے بدلا نہیں جاسکتا جیسے آپ کا رنگ، نسل، خاندان، موت کا طے شدہ وقت وغیرہ. دوسرا حصہ ہے ' تقدیر اختیاری ' یعنی وہ تقدیر کہ جسے الله نے آپ کے ارادے، عمل اور دعا سے مشروط کر رکھا ہے مثال کے طور پر فلاں شخص کو صحت مل جائے گی ' اگر ' وہ پرہیز کرے گا. یا فلاں شخص فتح یاب ہوگا ' اگر ' عمل کے ساتھ ساتھ دعا کا بھی اہتمام کرے گا وغیرہ

=====


دعائیں نظر نہیں آتیں مگر ناممکن کو ممکن بنا دیتی ہیں ۔...

مولانا وحیدالدین خان صاحب اپنی کتاب میں ایک خوبصورت مثال بیان کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ


ایک غریب خاندان کے لڑکے نے اپنے باپ سے کہا 'میرے لئے بائیسکل خرید دیجئے'.. باپ کے لئے بائیسکل خریدنا مشکل تھا' اس نے ٹال دیا.. لڑکا بار بار کہتا رہا اور باپ بار بار منع کرتا رہا.. آخرکار ایک روز باپ نے ڈانٹ کر کہا.. "میں نے کہہ دیا کہ میں بائیسکل نہیں خریدوں گا.. آئندہ مجھ سے
اس قسم کی بات مت کرنا.."
یہ سن کر لڑکے کی آنکھ میں آنسو آگئے.. وہ کچھ دیر تک چپ رہا.. اس کے بعد روتے ہوئے بولا.. "آپ ہی تو ہمارے باپ ہیں پھر آپ سے نہ کہیں تو کس سے کہیں _____!!"
اس جملہ نے باپ کو تڑپا دیا.. اچانک اس کا انداز بدل گیا.. اس نے کہا.. "اچھا بیٹے ! اطمینان رکھو.. میں تم کو ضرور بائیسکل دوں گا.." یہ کہتے ہوئے باپ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے.. کچھ دنوں میں اس نے پیسے پورا کرکے بیٹے کے لئے نئی بائیسکل خرید دی..


لڑکے نے بظاہر ایک لفظ کہا تھا مگر یہ ایسا لفظ تھا جس کی قیمت اس کی اپنی زندگی تھی جس میں اس کی پوری ہستی شامل ہو گئی تھی.. اس لفظ کا مطلب یہ تھا کہ اس نے اپنے آپ کو اپنے سرپرست کے آگے بالکل خالی کردیا ہے.. یہ لفظ بول کر اس نے اپنے آپ کو ایک ایسے نقطہ پر کھڑا کردیا جہاں اس کی درخواست اس کے سرپرست کے لئے بھی اتنا بڑا مسئلہ بن گئی جتنا وہ خود اس کے اپنے لئے تھی..

یہ انسانی واقعہ خدائی واقعہ کی تمثیل ہے.. اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کون سی دعا ہےجو لوٹائی نہیں جاتی.. یہ وہ دعا ہے جس میں بندہ اپنی پوری ہستی کو انڈہل دیتا ہے.. جب بندہ کی آنکھ سے عجز کا وہ قطرہ ٹپک پڑتا ہے جس کا تحمل زمین و آسمان بھی نہ کر سکیں.. جب بندہ اپنے آپ کو اپنے رب کے ساتھ اتنا زیادہ شامل کرلیتا ہے کہ "بیٹا"اور "باپ" دونوں ایک ترازو پر آجاتے ہیں..

یہ وہ لمحہ ہے جب کہ دعا محض زبان سے نکلا ہوا ایک لفظ نہیں ہوتی بلکہ اپنی شخصیت کو مٹا دینے' ختم کردینے کی انتہا بن جاتی ہے.. اس وقت خدا کی رحمتیں اپنے بندے پر ٹوٹ پڑتی ہیں.. بندگی اور خدائی دونوں ایک دوسرے سے راضی ہو جاتے ہیں.. قادر مطلق ___ عاجز مطلق کو اپنی آغوش میں لے لیتا ہے.. جب انسان اپنے رب پر اس قدر بھروسا کر لیتا ہے کہ اس کے علاوہ کوئی بھی اسکی ضرورت پوری کرنے والا نہیں تو اللہ بھی اپنے بندے کو مایوس نہیں لوٹاتا.. اس کی دعا ضرور قبول کرتا ہے_____!!

"""" مولانا وحیدالدین خان """""

حقیقی دعا آدمی کی پوری ہستی سے نکلتی ہے نہ کہ زبانی الفاظ سے.. یہ ایک حقیقت ہے کہ خدا سے مانگنے والا کبھی محروم نہیں رہتا مگر مانگنا صرف الفاظ دہرانے کا نام نہیں..
مانگنا صرف وہی مانگنا ہے جس میں آدمی کی پوری ہستی شامل ہوگئ ہو.. ایک شخص زبان سے کہ رہا ہو.. "خدایا مجھے اپنا بنالے.." مگر عملا" وہ اپنی ذات کا بنا رہے تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس نے مانگا ہی 
نہیں..

ایک بچہ اپنی ماں سے روٹی مانگے تو یہ ممکن نہیں کہ ماں اس کے ہاتھ پر انگارہ رکھ دے..
خدا اپنے بندوں پر تمام مہربانوں سے زیادہ مہربان ہے.. یہ ممکن نہیں کہ آپ خدا سے خشیت مانگیں اور وہ آپ کو قساوت دے دے.. آپ خدا کی یاد مانگیں اور وہ آپ کو خدافراموشی میں مبتلا کردے.. آپ آخرت کی تڑپ مانگیں اور خدا آپ کو دنیا کی محبت میں ڈال دے.. آپ کیفیت سے بھری ہوئی دینداری مانگیں اور اور خدا آپ کو بےروح دینداری میں پڑا رہنے دے.. آپ حق پرستی مانگیں اور خدا آپ کو گمراہی کے اندھیروں میں بھٹکتا رہنے دے..
آپ کی زندگی میں مطلوب چیز کا نہ ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ نے اس کو مانگا ہی نہیں..

اگر آپ کو دودھ خریدنا ہو اور آپ چھلنی لے کے بازار جائیں تو آپ پیسے خرچ کرنے کے باوجود خالی ہاتھ واپس آئیں گے.. اسی طرح اگر آپ زبان سے کلمات دہرا رہے ہوں اور آپ کی اصل ہستی کسی اور چیز کی طرف متوجہ ہو تو یہ کہنا مناسب ہوگا کہ نہ آپ نے مانگا اور نہ ہی آپ کو ملا..
کائنات کا مالک تو ہر صبح و شام اپنے تمام خزانوں کے ساتھ آپ کے قریب آکر آواز دیتا ہے.. "کون ہے جو مجھ سے مانگے تاکہ میں اسے دوں....." مگر جنہیں لینا ہے وہ غافل بنے ہوۓ ہیں تو اس میں دینے والے کا کیا قصور_________!!

مولانا وحیدالدین خان.. " کتابِ معرفت " صفحہ 361..

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
” بے شک دعا ہی عبادت ہے“
)ترمذی(
بعض لوگوںکا خیال ہے کہ ہم گناہ گار ہیں گنہگاروں کی دعا قبول نہیں ہوتی۔
یہ خیال شریعت کی رو سے بالکل غلط ہے۔
اے کاش ہم قرآن کو سمجھ کر پڑھیں تاکہ ہماری زندگیاں بدل جائیں۔
کیا شیطان سے بڑا مردود و ملعون بھی کوئی ہو سکتا ہے؟ نہیں۔
اس نے کھلم کھلا اللہ کے حکم کی نافرمانی کی اور اس کے بعد دعا کی ۔
” اے اللہ مجھے قیامت تک )لوگوں کو گمراہ کرنے کی( مہلت دے ۔
تو اللہ نے اس کی پکار قبول کرکے مہلت دے دی
)الحجر36:(
شیطان نے کسی نیک مقصد کے لئے دعا نہیں کی مگر پھر بھی قبول ہو گئی تو یہ سمجھنا کہ گناہ گاروں کی دعا قبول نہیں ہوتی محض شیطانی فریب و دھوکہ ہے۔
اگر کوئی شخص دعا کرتا ہے اور وقتی طور پر دعا قبول نہ ہو پھر دعا مانگنا چھوڑ دے یہ بھی غلط ہے۔
کیونکہ قبولیت دعا کی تین صورتیں ہیں۔
)۱( دعا بندے کی خواہش کے مطابق فوراََ قبول ہوجاتی ہے۔
)۲( اس کے بدلے اس کی دنیاوی کوئی آفت ٹل جاتی ہے۔
)۳( یااس کی دعا آخرت کے لئے ذخیرہ کردی جاتی ہے۔
)رواہ احمد

======

"دعا کی اھمیت"
*اگراللہ تمھاری دعائیں پوری کررھا ھے تو وہ تمھارا "یقیں"بڑھارھا ھے.....
*اگردعائیں پوری کرنے میں دیر کررھا ہے تووہ تمھارا"صبر"آزمارھا ھے...............
*اگرتمھاری دعاؤں کا جواب نھیں دے رھا تو وہ تمہیں آزمارھاھے.......
اس لیے ھمیشہ "دعا"مانگتے رھو کہ"دعا" ایک دستک کی طرح ھے اوربارباردستک دینے سے دروازہ کھلتاضرور ھے

======
أَمَّن يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاءَ الْأَرْضِ ۗ أَإِلَٰهٌ مَّعَ اللَّهِ ۚ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَ
النمل:62
ترجمہ: بھلا کون بیقرار کی التجا قبول کرتا ہے۔ جب وہ اس سے دعا کرتا ہے اور (کون اس کی) تکلیف کو دور کرتا ہے اور (کون) تم کو زمین میں (اگلوں کا) جانشین بناتا ہے (یہ سب کچھ خدا کرتا ہے) تو کیا خدا کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے (ہرگز نہیں مگر) تم بہت کم غور کرتے ہو

======
ہمارےمعاشرے میں دعا مانگنے کے عمل کے ساتھ ایک بڑا ہی عجیب سا رویہ بنا کر رکھا جاتا ہے۔ ضرورت کے وقت میں یا اللہ اور اے اللہ کی تکرار پوری رقت کے ساتھ کی جاتی ہےاور جب ضرورت ختم ہوئی تو دعائیں بھی ختم۔
اکثر و بیشتر صورتحال یوں ہوتی ہے کہ شیخ صاحب کی والدہ ہسپتال میں داخل ہوئی تو وہ نا صرف خود بلکہ امام صاحب کو کہہ کر دوسرے نمازیوں سے بھی نہایت خشوع و خضوع سے دعائیں منگواتے ہیں۔
میاں صاحب اپنے بیٹے کے مستقبل سے پریشان ہر نماز کے بعد اپنی پوری عاجزی نچھاور کرتے ہوئے دعاگو ہوتے ہیں۔
ملک صاحب اپنے مقدمے کی پریشانی میں، تو چودھری صاحب شفعہ اپنے حق میں کرانے کیلئے اللہ کے حضور میں دست بدعا ہوتے ہیں۔
یہ مناظر تبدیل ہو جائیں تو میاں صاحب کچھ یوں کہتے نظر آتے ہیں کہ بھائی دعائیں مانگ کر اور کرا کر بھی دیکھ لیں کوئی اثر نہیں ہوتا، اب تو میرا دعا مانگنے کو بھی دل نہیں کرتا۔
ملک صاحب اور چودھری صاحب تو بس بمشکل نماز ختم ہونے کا ہی انتظار کرتے ہیں کہ بیٹھک میں انہوں نے اپنے ملاقاتیوں سے جا کر ملنا ہوتا ہے ،
جبکہ شیخ صاحب تو امام مسجد کی 'پکی روٹی' نامی کتاب سے یاد کردہ روٹین کی دعاؤں کو ہی کافی سمجھتے ہیں ...
--------------
دعاؤں کیلئے ہمارا رویہ کیا ہونا چاہیئے؟

ہم روز پڑھتے اور سنتے ہیں کہ اصل عبادت دعا ہی ہوتی ہے اور دعا پورے بھروسے اور یقین کے ساتھ اسی طرح مانگی جائے جس طرح مزدور کام کر چکنے کے بعد مزدوری کا مطالبہ کرتا ہے۔
خود حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہما کو کئی دعائیں بالکل اس طرح یاد کرایا کرتے تھے جس طرح کہ قرآن کی آیتیں۔

ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم دعا تب مانگتے ہیں جب قرض سر پر چڑھ جائے ، گھر میں کوئی مریض ہو جائے یا امتحان سر پر ہوں۔ یا اگر ہم یہ دعا مانگیں کہ اے اللہ ہماری مغفرت فرما دے اور ہم پر رحم فرما دے ،تو بے دھیانی اور عدم رغبتی سے مانگتے ہیں۔

دعا اس وقت بھی مانگنی چاہیئے جب گھر پر سارے بچے ٹھیک ٹھاک ہوں اور زندگی مزے سے گزر رہی ہو اور اُس وقت بھی مانگنی چاہیئے کہ جب معاملات اس نہج پر ہوں کہ قادر مطلق کے بغیر کوئی مشکل کشائی کرنے والا نا 
ہو۔ بس اسی بات کی یاد دہانی کیلئے یہ آیت کریمہ پڑھیئے۔
إِنَّهُمْ كَانُوا يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَيَدْعُونَنَا رَغَبًا وَرَهَبًا ۖ وَكَانُوا لَنَا خَاشِعِينَ ﴿٩٠-سورة الأنبياء﴾
" یہ لوگ نیکی کے کاموں میں دَوڑ دھوپ کرتے تھے اور ہمیں رغبت اور خوف کے ساتھ پکارتے تھے، اور ہمارے 

آگے جھکے ہوئے تھے ۔"

===========


Tuesday, 5 August 2014

کیا دین آسان ہے ؟

 

کیا دین آسان ہے ؟

بعض حضرات دین کو اپنے اور دوسروں کیلئے مشکل بنانے میں جان لڑا دیتے ہیں. انہیں یہ نفسیاتی بیماری لاحق ہوجاتی ہے کہ غالباً مشکل رستہ اپنانے میں ہی حقیقی نجات ہے. وہ مائیکروسکوپ لگا کر چیزوں کو حرام قرار دیتے رہتے ہیں. جہاں حرام کہنے کی جگہ نہ ملے تو اسے مکروہ کے زمرے میں ڈال دیتے ہیں. سمندر کی مخلوقات میں سے ڈھونڈ ڈھونڈ کر حرام و مکروہ جانور پیش کرتے ہیں. کوئی بھی خبر مل جائے جو کسی روزمرہ کےکھانے کی شے کو حرام کرتی ہو تو بناء تصدیق کئے ، اسکے مبلغ بن جاتے ہیں. چاکلیٹ ، چپس سے لے کر کولڈ ڈرنک تک کوئی شے ان کے اس حرام مائیکروسکوپ سے محفوظ نہیں رہتی. کچھ کے نزدیک پینٹ شرٹ پہننا حرام اور کچھ کے نزدیک مکروہ قرار پاتا ہے. قصر نماز کی رعاعیت کو اس طرح ختم کرتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ لمبے سفر کی شرط لگا دی جائے. ظہر اور عصر کو شدید ضرورت میں بھی ملانے نہیں دیتے، یہ کہہ کر کہ اس آسانی کا مطلب یہ ہے کہ ٹھیک اس لمحہ نماز پڑھو جب ظہر ڈھل رہی ہو اور عصر شروع ہو رہی ہو. اب ظاہر ہے ایسا کمال کا حساب تو کوئی عام انسان کرنے سے رہا لہٰذا اس آسانی کا ہی خاتمہ ہوجاتا ہے. مشکل صورت میں جو موزوں پر مسح کرنے کی اجازت دی گئی ہے .. اسے بھی یہ کہہ کر ناممکن سا بنا دیا گیا ہے کہ اگر چمڑے کے موزے نہ ہوں تو مسح جائز نہیں .. یہاں بھی نہیں رکتے بلکے کہتے ہیں کہ ایسے موزے کو پہن کر اتنے میل چل سکتے ہو اور وہ نہ پھٹے تب جائز ہے. اب بتایئے کون مسح کرے گا ؟
 
 
سنت نمازوں کو بھی بلکل فرض بنا دیں گے اور اسکی بھی قضاء پڑھنے پر اصرار کریں گے. سفر میں اگر کوئی روزہ چھوڑنا چاہے تو اسے کہتے ہیں کہ اب پہلے جیسا سفر نہیں لہٰذا روزہ چھوڑنا جائز نہیں. یہ اور  جیسی معلوم نہیں کتنی خود ساختہ پابندیاں عائد کر کے یہ اس احساس میں سرشار رہتے ہیں کہ دین کی خدمت ہو رہی ہے. اسلام سے باہر ہونے سے لے ک نکاح منسوخ ہو جانے کی دھمکی تک سے نہیں چوکتے. قران مجید میں بارہا یہ بیان ہوا ہے کہ دین پر عمل کو آسان بنادیا گیا ہے. یہ بھی بتایا گیا ہے کہ تم ہوتے کون ہو اللہ کی زینتوں کو خود سے حرام کرنے والے؟ بخاری کی ایک حدیث میں بھی یہ کہا گیا ہے کہ 
 
بیشک دین آسان ہے اور جو شخص دین میں سختیوں کو اختیار کرے گا ، دین اس پر غالب آجائے گا (یعنی وہ دین پر اس سختی سے ٹھیک طرح نہیں چل سکے گا) تو اپنے اعمال پر پختگی اختیار کرو اور جہاں تک ممکن ہو میانہ روی برتو اور خوش ہوجاؤ 
 
اسی طرح بخاری میں ہی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
 
جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو چیزوں میں سے ایک کو اختیار کرنے کا اختیار دیا گیا تو آپ نے ہمیشہ ان میں آسان چیزوں کو اختیار فرمایا ..
 
 شریعت کو اپنے لئے مشکل بنا لینا قران حکیم کے بیان کے مطابق بنی اسرئیل کے بھٹکے ہوئےعلماء کا عمل تھا جس کی بھرپور مذمت کی گئی ہے. الله ہمارے لئے دین پر عمل کو آسان بنائیں اور ہمیں آسانیاں تقسیم کرنے والا بنا دیں. آمین
.
 
====عظیم نامہ====

Monday, 4 August 2014

امام مہدی رح -- حقیقت یا فسانہ -- ایک تحقیقی جائزہ

امام مہدی رح 

حقیقت یا فسانہ -- ایک تحقیقی جائزہ


 
 
 
حضرت مولانا مفتی نظام الدین شامزئی شہید رح کی تصنیف 'عقیدہ ظہور مہدی' کا حال ہی میں مطالعہ کیا ہے ، ساتھ ہی امام مہدی کے نزول کے مخالف جو رائے کچھ اہل علم نے پیش کی ہے ، اسکو بھی سمجھنے کی کوشش کی. کچھ حقائق جو سامنے آئے ہیں ، انکا خلاصہ یہاں درج کر رہا ہوں
 
 
١. نزول مہدی کے متعلق کوئی بھی واضح حدیث صحیحین یعنی صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں موجود نہیں ہے
 
٢. حدیث کی پہلی نمائندہ کتاب موطا ابن مالک میں بھی اس حوالے سے کوئی حدیث موجود نہیں ہے
 
٣. نزول مہدی سے متعلق جن احادیث کا ذکر کیا جاتا ہے وہ حدیث کی دوسرے درجہ کی کتب میں درج ہیں جیسے سنن ابن ماجہ ، سنن ترمزی، سنن ابو داؤد وغیرہ
 
٤. ان درج احادیث کی اکثریت ضعیف یا موضوع ہے
 
٥. گنتی کی چند احادیث ایسی ہیں جنہیں کچھ محدثین نے صحیح یا حسن کا درجہ دیا ہے
 
٦. احادیث بہت زیادہ کثرت اور تواتر سے موجود ہیں. ان کی تعداد درجنوں میں ہے. اگر بغیر مہدی کے نام والی احادیث بھی شامل کر لی جائیں جو مہدی کی طرف کسی نہ کسی حوالے سے اشارہ کرتی ہیں تو یہ تعداد بڑھ کر سو سے زیادہ ہو جائے
 
٧. امام مہدی کا نام مہدی نہیں ہوگا. مہدی تو دراصل ایک خطاب ہے جس کے معنی ہیں ہدایت والا
 
٨. امام مہدی کا نام محمد اور والد کا نام عبداللہ بتایا گیا ہے
 
٩. یہ عرب نسل ہونگے اور بی بی فاطمہ رضی الله عنہا کی نسل سے پیدا ہونگے
 
١٠. خراسان سے ایک فوج نکلے گی جو سیاہ جھنڈے والی ہوگی اور ہتھیاروں میں عرب اقوام سے جدید و طاقتور ہوگی. اسکی کمان ایک وقت بعد مہدی سنبھالیں گے
 
١١. مہدی کی فوج جب باطل سے ٹکرائے گی تو ایک وقت میں وہ تین جھنڈوں کے نیچے ہونگے اور باطل سات جھنڈوں کے نیچے ہونگے
 
١٢. کچھ بڑے علماء اور محدثین امام مہدی کے ضمن میں درج روایات کو تواتر کے اصول پر تسلیم کرتے ہیں جیسے امام ذہبی، امام جلال الدین سیوطی ، علامہ شوکانی وغیرہ
 
١٣. کچھ علماء اس ضمن کی کی احادیث کو صحیح کہتے ہیں جیسے امام ابن تیمیہ رح ،علامہ شبیر احمد عثمانی رح ، ملا علی قاری ، امام ابو داؤد وغیرہ
 
١٤. صحیح بخاری میں گو براہ راست کوئی حدیث ایسی نہیں جسے امام مہدی پر حتمی قیاس کیا جاسکے مگر ایک حدیث کے الفاظ سے مہدی کے لئے علماء استدلال کرتے ہیں. الفاظ ہیں وامامکم منکم
 
١٥. حافظ ابن حجر رح جنہوں نے بخاری کی سب سے عمدہ شرح فتح الباری لکھی ہے وہ بھی امام مہدی کے نزول کے تواتر کی بنیاد پر قائل ہیں
 
١٦. امام ترمزی اور امام ابو داؤد نے نہ صرف احادیث بیان کی ہیں بلکہ نزول مہدی پر پورا علیحدہ باب وقف کیا ہے
 
١٧. امام مہدی کی آمد کو یکسر مسترد کرنے والے اور اس ضمن کی تمام احادیث کو ضعیف کہنے والے سب سے پہلے اور نمایاں اسلامی شخصیت ، امام ابن خلدون رح کی ہے
 
١٨. ابن خلدون گو کے ایک بڑے صاحب علم تھے مگر ان کی اصل شہرت اور مہارت مورخ کی ہے یعنی وہ ایک تاریخ دان
تھے
 
١٩. ایک قلیل علماء کی تعداد ابن خلدون کی رائے کو تسلیم کرتی ہے جیسے مولانا اختر شیرانی یا جاوید احمد غامدی صاحب
 

٢٠. کچھ علماء ایسے بھی ہیں جو اس ضمن میں پیش کردہ صحیح احادیث کو خلیفہ عمر بن عبدالعزیز پر قیاس کرتے ہیں جیسے جاوید احمد غامدی صاحب

٢١. مولانا ابو اعلی مودودی رح بھی امام مہدی کی آمد کے قائل ہیں مگر صاف کہتے ہیں کہ چونکہ یہ عقیدہ قران مجید میں مذکور نہیں اسلئے اسے ماننا یا نہ ماننا ایمان کا حصہ نہیں
 
=======================
یہ سب باتیں یہاں درج کرنے کا مقصد کچھ ثابت کرنا نہیں ہے بلکہ اپنے حالیہ مطالعہ کو آپ سے بانٹنا ہے
=======================
.
====عظیم نامہ====