Saturday, 16 February 2013

لونڈیوں کو خریدتے ہوئے جسمانی جانچ

لونڈیوں کو خریدتے ہوئے جسمانی جانچ پرکھ کا سوال
(تحریر کافی طویل ہو گئی، لیکن ناگزیر تھا)
لونڈیوں کی بحث سے متعلق یوں تو بہت سے فکری، فقہی اور سماجی پہلو قابل غور ہیں اور مختلف پہلووں پر وقتاً فوقتاً بات بھی ہوتی رہے گی، لیکن پیش کردہ بعض تفصیلات سے چونکہ کافی لوگوں کا ’’ایمان‘‘ بھی خطرے میں پڑ گیا ہے، اس لیے باقی پہلووں کو موخر کرتے ہوئے سردست اس ایک پہلو پر معروضات پیش کی جا رہی ہیں جو ’’ایمان‘‘ کے لیے زیادہ خطرناک ثابت ہو رہا ہے، یعنی لونڈیوں کو خریدتے ہوئے ان کی Physical Inspection کا پہلو۔ ظاہر ہے، جدید ذہن کے زاویہ نظر سے اس میں لونڈی کی تذلیل اور اس کی عزت نفس کو مجروح کرنے کا پہلو نمایاں ہے اور یہ باور کرنا مشکل محسوس ہو رہا ہے کہ اسلام، جو عورت کو شرف وعزت بخشنے کا دعویدار ہے، کیونکر اس چیز کو روا رکھ سکتا ہے۔
میرے نزدیک اس معاملے کو سمجھنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ اسے humanistic idealism کے بجائے سماجی پیچیدگیوں اور قانون کی محدودیتوں کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے اور یہ زاویہ اس بحث میں کوئی نیا زاویہ نہیں ہوگا، بلکہ آج ہم جس زاویہ نظر سے قدیم معاشروں میں غلامی کے پورے ادارے کا جواز تسلیم کرتے ہیں، اس میں یہ زاویہ پہلے سے موجود اور مسلم ہے۔ اگر جدید تصور کے مطابق شرف انسانی کے معیارات کے لحاظ سے دیکھا جائے تو غلامی کا تصور ہی غیر اخلاقی اور ناقابل قبول ہے، لیکن ہم اس دور کی سماجی ضرورتوں اور مجبوریوں کے تناظر میں اس کے جواز کو قبول کرتے ہیں۔ یہاں پیش نظر رکھنے کا نکتہ یہ ہے کہ جب آپ کسی مخصوص سماجی تناظر میں کسی چیز کا قانونی اور اخلاقی جواز تسلیم کر لیتے ہیں تو اس کے ساتھ وابستہ تمام تر مضمرات اور عملی نتائج کے ساتھ قبول کرتے ہیں۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ نفس تصور پر تو سمجھوتہ کر لیں، لیکن اس کے بعد اس سے جڑے ہوئے مضمرات ولوازم کو قبول نہ کریں۔ آپ کو قبول نہیں کرنا تو پہلے ہی مرحلے پر نفس تصور کو غیر اخلاقی قرار دے کر رَد کر دیں، لیکن نفس تصور کا قانونی جواز کسی بھی درجے میں قبول کرنے کے بعد اس کے لوازم کی نفی کرنا غیر منطقی بھی ہوگا اور عملاً اس جواز کی نفی کے بھی مترادف ہوگا جسے اصولاً قبول کیا گیا ہے۔
مثال کے طور پر ہم نے یہ قبول کر لیا کہ ایک انسان کا کسی بھی سماجی ضرورت کے تحت کسی دوسرے انسان کی ملکیت قرار پانا قانونی طور پر جائز ہے۔ یہ مانتے ہی کچھ قانونی اور عملی نتیجے خود بخود مرتب ہونا شروع ہو جائیں گے اور ہمیں وہ نتیجے جتنے بھی ناپسند ہوں، انھیں قبول کیے بغیر کوئی چارہ نہیں ہوگا۔ چنانچہ ایسا شخص اپنے بہت سے ایسے معاشرتی حقوق کھو دے گا اور ان بہت سی آزادیوں سے محروم ہو جائے گا جو معاشرے کے آزاد افراد کو حاصل ہیں۔ اس کی حیثیت معاشرے کے ایک دوسرے درجے کے فرد کی ہوگی جو کسی بھی لحاظ سے اپنے مالک اور اس کے ہم مرتبہ افراد کی برابری کا خواب نہیں دیکھ سکتا۔ وہ اپنی ذات پر کوئی اختیار نہیں رکھتا۔ اس کا مالک اسے جب چاہے اور جس کے ہاتھ چاہے، بیچ سکتا ہے۔ وہ اپنے مالک کی رضامندی کے بغیر شادی بیاہ تو درکنار، کہیں سیر وتفریح کے لیے بھی نہیں جا سکتا۔ اس کی کوئی ذاتی ملکیت نہیں ہو سکتی۔ جو کچھ اسے دیا جائے گا یا وہ اپنی محنت سے کمائے گا، وہ اس کے مالک کی ملکیت ہوگا۔ اب یہ تمام چیزیں جتنی بھی ناخوش کن اور انسانی شرف ووقار کے منافی لگیں، ان کی نفی نہیں کی جا سکتی، اس لیے کہ یہ ’’ملکیت‘‘ کے تصور کے ساتھ لازم وملزوم ہیں۔ اگر ملکیت ہے تو یہ سب چیزیں بھی ہیں۔ اگر یہ لوازم قابل قبول نہیں تو اس کے لیے نفس ملکیت کی نفی اور عدم جواز مانے بغیر کوئی دوسرا راستہ موجو دنہیں۔
یہی معاملہ باندی کا ہے۔ اگر آپ نے ایک دفعہ اس کے ’’مملوک‘‘ ہونے کے تصور کو قبول کر لیا ہے تو آپ مجبور ہیں کہ اس ملکیت پر مرتب ہونے والے تمام قانونی نتائج کو قبول کریں۔ ملکیت کو مان لینے کے بعد اس کے لوازم ونتائج سے اس بنیاد پر چھٹکارا نہیں مل سکتا کہ وہ شرف انسانی کے تصور کو گراں گزارتے ہیں۔ مثلاً ملکیت کے بعد، مالک کا یہ حق ماننا ناگزیر ہے کہ وہ اس سے جسمانی استمتاع کرے۔ اگر آپ کو یہ برا لگتاہے تو آپ پہلے ملکیت کے تصور کی نفی کریں۔ ملکیت کے تصور کو مان کر حق استمتاع کو نہ ماننا (جیسا کہ ہمارے دور کے بعض مفکرین نے یہ تصوراتی اعجوبہ پیش کیا ہے) ایک داخلی تضاد کی حامل بات ہے۔ اسی پر باقی لوازم کو بھی قیاس کر لیں۔ مالک کو باندی سے حق استمتاع بر بنائے ملکیت حاصل ہے تو مقاربت سے بچے کے ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ بھی مالک کرے گا۔ باندی یہ مطالبہ نہیں کر سکتی کہ بچہ پیدا کیا جائے یا نہ کیا جائے۔ اسی طرح اگر ایک مالک کی ملکیت میں باندی کا نکاح کسی شخص سے کر دیا گیا تو اس نکاح کا برقرار رہنا بھی سر تا سر مالک کے اختیار پر منحصر ہے۔ وہ آج باندی کو کسی دوسرے شخص کے ہاتھ بیچنے کا فیصلہ کر لے تو نئے مالک کی ملکیت میں جاتے ہی اس کا نکاح شوہر سے فسخ ہو جائے گا، چاہے باندی اپنے شوہر کے ساتھ کتنی ہی خوش کیوں نہ ہو، کیونکہ نئے مالک نے بھی اسے استمتاع ہی کی غرض سے خریدا ہے اور اس کا حق باندی اور اس کے شوہر، دونوں سے مقدم ہے۔ یہ اور اس نوعیت کے دیگر بہت سے امور، جیسا کہ عرض کیا گیا، ملکیت کے تصور کے لازمی اور منطقی نتائج ہیں جن سے کوئی راہ فرار اختیار نہیں کی جا سکتی۔
اب آتے ہیں اصل سوال، یعنی باندی کو خریدتے ہوئے اس کی جسمانی جانچ پرکھ کی طرف۔ غور فرمائیے، اگر باندی کا ’’مملوک‘‘ ہونا درست ہے اور مالک کا اس سے جسمانی استمتاع کرنا ملکیت کا لازمی تقاضا اور گویا باندی کو خریدنے کا ایک بنیادی مقصد ہے تو بتائیے، کس اصول کے تحت خریدار کو منع کیا جا سکتا ہے کہ وہ خریدنے سے پہلے باندی کے ان جسمانی پہلووں کی تحقیق نہ کرے جو کہ اس کی غرض سے براہ راست متعلق ہیں؟ اگر یہ باندیوں کی عزت نفس کے منافی ہونے کی وجہ سے قابل قبول نہیں تو کیا آج ایک، کل دوسر ے اور پرسوں تیسرے مالک کے ہاتھوں میں گردش کرنا اور باری باری ان سب کے تلذذ کا سامان بنتے رہنا عزت نفس اور شرف انسانی کے مطابق ہے؟ ظاہر ہے کہ نہیں، لیکن ہم نتائج کو قبول کرتے ہیں، اس لیے کہ حق ملکیت کو ماننا دراصل ان تمام ناگوار اور ناخوش کن نتائج کو بھی ماننا ہے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ جس حد تک نکاح کے لیے عورت کا انتخاب کرتے ہوئے اس کا ظاہری جائزہ لیا جاتا ہے، اسی حد تک باندیوں کا بھی جائز ہونا چاہیے، اس سے زیادہ نہیں۔ لیکن یہاں ہم بھول رہے ہیں کہ معاشرتی مقام اور احترام کے پہلو سے ہم آزاد عورت اور باندی کا فرق پہلے ہی تسلیم کر چکے ہیں۔ عورت کا انتخاب اس کی آزادانہ مرضی سے ایک معاہدے کے تحت ہوتا ہے، جبکہ باندی کی خریداری اس کی مرضی کے بغیر ایک ’’سامان‘‘ کے طور پر کی جاتی تھی۔
یہاں بات کی تفہیم کے لیے ایک نامناسب مثال دینا بھی شاید مناسب ہوگا۔ جدید مغربی معاشروں میں عورت کا یہ قانونی حق تسلیم کیا جاتا ہے کہ وہ جسم فروشی کرے۔ شرف انسانی کے لحاظ سے اس کا جو بھی درجہ متعین کیا جائے، اپنے اسباب کے تحت مغربی قانون اس کو ایک جائز قانونی حق قرار دیتا ہے۔ اب فرض کیجیے، کسی شخص کو جنسی تلذذ کے لیے کسی عورت کے ساتھ معاملہ کرنا ہے تو کیا عرف وقانون کی رو سے ’’خریدار‘‘ کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ معاملے کی ضروریات کے لحاظ سے عورت کے جسمانی خصائص کا جائزہ لے؟ اس کے لیے مغربی قوانین میں عملاً کیا ضابطہ ہائے اخلاق وضع کیے گئے ہیں، مجھے نہیں معلوم (شاید انعام رانا اس پر روشنی ڈال سکیں)، لیکن خریدار کو اس حق کا حاصل ہونا کامن سینس کی بات ہے۔ باندی کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے، اس فرق کے ساتھ کہ جسم فروشی کرنے والی عورت، مرد کو جنسی عمل کا اختیار بھی اپنی مرضی سے دیتی ہے اور اس سے پہلے جسمانی جائزہ لینے کا بھی، جبکہ باندی، مالک کا بستر گرم کرنے کے لیے بھی مجبور ہے اور ملکیت میں آنے سے پہلے خود کو جسمانی جائزہ کے لیے پیش کرنے پر بھی مجبور ہے۔
تاریخ کی کیسی ستم ظریفی ہے کہ باندی اپنی ’’مجبوریوں‘‘ پر مجبور ہے اور معاشرتی قانون (چاہے وہ اسلام کا ہو یا کسی اور مذہب کا) اس کی ان ’’مجبوریوں‘‘ کو قانونی جواز دینے پر مجبور۔
ہذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم وعلمہ اتم واحکم