Thursday, 24 January 2013

کتے کی جبلت کیا ہے



’’کتے کی جبلت کیا ہے؟
حرص و آز، چلتے پھرتے اس کی ناک زمین سونگھنے ہی میں لگی رہتی ہے کہ شاید کہیں سے بوئے طعام آجائے۔ اسے پتھرماریں تب بھی اس کی توقع دور نہیں ہوتی کہ شاید یہ چیز جو پھینکی گئی ہے کوئی ہڈی یا روٹی کا ٹکڑا ہو۔
پیٹ کا بندہ تو ایک دفعہ لپک کر اس کو بھی دانتوں سے پکڑ ہی لیتا ہے۔ اس سے بے اتفاقی کیجئے تب بھی وہ لالچ کا مارا ، توقعات کی ایک دنیا دل میں لئے ، زبان نکالے ہانپتا کانپتا کھڑا ہی رہے گا۔
ساری دنیا کو وہ بس پیٹ ہی کی نگاہ سے دیکھتا ہے، کہیں کوئی بڑی سی لاش پڑی ہو، جو کئی کتوں کے کھانے کو کافی ہو، تو ایک کتا اس میں سے صرف اپنا حصہ لینے پر اکتفا نہ کرے گا بلکہ اسے صرف اپنے ہی لیے مخصوص رکھنا چاہے گا اور کسی دوسرے کتے کو اس کے پاس نہ بھٹکنے دے گا۔
اس شہوت شکم کے بعد اگر اس پر کوئی چیز غالب ہے تو وہ ہے شہوت فرج۔ اپنے سارے جسم میں صرف شرمگاہ ہی وہ چیز ہے جس سے وہ دلچسپی رکھتا ہے اور اس کو سونگھنے اور چاٹنے میں مشغول رہتا ہے۔
پس تشبیہ کا مدعا یہ ہے کہ دنیاپرست آدمی جب علم اور ایمان کی رسی توڑ کر بھاگتا ہے اور نفس کی اندھی خواہشات کے ہاتھ میںے اپنی باگیں دے دیتا ہے تو پھر کتے کی حالت کو پہنچے بغیر نہیں رہتا، ہمہ تن پیٹ اورہمہ تن شرمگاہ۔''
مولانا مودودی علیہ الرحمہ
(تفہیم القرآن صفحات: 101-102، جلد دوم)

No comments:

Post a Comment