Monday, 20 December 2010

کہتا ہوں سچ



نحمدہ

کہتا ہوں سچ کہ جھوٹ کی عادت نہیں مجھے ..

آج سال نو ٢٠١٧ کے آغاز پر میں اللہ رب العزت کا نام لے کر ایک نئے سلسلے کا آغاز کر رہا ہوں. یعنی اب تحریر کے ساتھ ساتھ میری کوشش ہوگی کہ گاہے بگاہے آپ سے ویڈیوز کے ذریعے بھی مخاطب ہوسکوں. آپ میں سے اکثر احباب مجھ سے واقف ہیں مگر جو نہیں جانتے انکے لئے عرض کردوں کہ میرا نام عظیم الرحمٰن عثمانی ہے. میں نہ تو عالم ہوں نہ فاضل اور نہ ہی کوئی مستند تحقیق نگار. زبان اردو میں اگر کوئی لفظ میرا تعارف آپ کو فراہم کرسکتا ہے تو وہ ہے مرکب لفظ 'طالب علم' . میں ایک معمولی طالبعلم ہوں کتاب الله قران کا اور دین الله اسلام کا. یوں تو ہر انسان کے کہے اور لکھےمیں غلطی کا احتمال ہوتا ہے مگر میری کم علمی کے سبب یہ امکان مزید تقویت حاصل کرلیتا ہے. چنانچہ ناظرین سے استدعا ہے کہ وہ میری بات کو ایک دین کے ابتدائی  طالبعلم کی حیثیت سے ہی ملاحظہ کریں اور اگر کسی بات کو دلیل یا مشاہدہ کے خلاف پائیں تو بلاجھجھک مسترد کردیں. 

میرا تعلق عثمانی خاندان سے ہے . مولانا یعقوب الرحمٰن عثمانی میرے سگے دادا، شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی میرے دادا کے سگے چچا اور اس نسبت سے میرے پردادا ہیں. اسی طرح اور بھی بہت سے جید اہل علم اسی خاندان کا حصہ رہے ہیں جیسے میرے رشتے کے چچا مدیر رسالہ تجلی مولانا عامر عثمانی اور تقابل ادیان کے ماہر مولانا شمس نوید عثمانی وغیرہ. دور موجود میں مفتی تقی عثمانی ، مفتی رفیع عثمانی صاحب سے میرا کیا رشتہ بنتا ہے؟ بنتا بھی ہے یا نہیں بنتا؟ یہ میں نہیں جانتا مگر کوئی دور دراز کا تعلق ضرور ہے جو آپ مفتیان ہمارے خاندان کی شادیوں یا جنازوں میں شرکت کرتے نظر آتے ہیں.

ان جبال علم ناموں کے خاندان سے تعلق رکھنا میرے لئے باعث سعادت بھی ہے اور باعث ندامت بھی. سعادت اس لئے کہ ان کے تعلق سے ایک علمی روایت سے نسبت محسوس ہوتی ہے اور ندامت اسلئے کہ میں خود اس میراث کو بڑی حد تک گنوا بیٹھا ہوں. تقسیم ہند کے بعد میرے والد اور خاندان کے دیگر نوجوان جب وطن عزیز میں ہجرت کرکے آئے تو غم معاش اور فکر روزگار نے ایسا جکڑا کہ بس اسی کے ہوکر رہ گئے. نتیجہ یہ ہے کہ اب اس خاندان میں علماء دین شاذ شاذ ہی نظر آتے ہیں.دیگر خاندانوں کی طرح اب علمی روایت کا امین یہ خاندان بھی صرف مال کمانے کی جہد میں لگا ہوا ہے. اس پر سانحہ یہ ہے کہ اس گم گشتہ علمی میراث کو واپس حاصل کرنے کی تمنا بھی اب نظر نہیں آتی

وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا

میں الحمدللہ اپنا شمار اس خاندان کے ان چند اذہان میں کرتا ہوں جو کم از کم اس علمی نقصان کا صدمہ محسوس کرتے ہیں اور دین سے اپنا علمی و عملی تعلق بڑھانے کے خواہاں ہیں. اگر اسوقت میں آپ سب سے پوچھوں کہ وہ کون سی سورہ ہے جس کی تلاوت کرنا یا سننا آپ کو سب سے زیادہ خوش کن محسوس ہوتا ہے ؟ تو امکان ہے آپ میں سے اکثر سورہ الرحمٰن کا نام لیں. اسی سورہ کی چند ابتدائی آیات کو اس موضوع کی اہمیت کے حوالے سے پیش کرنا چاہتا ہوں. 
.
الرَّحْمَنُ (1) عَلَّمَ الْقُرْآنَ (2) خَلَقَ الْإِنْسَانَ (3) عَلَّمَهُ الْبَيَانَ (4)
الرَّحْمَنُ یعنی نہایت مہربان. محققین کے نزدیک الله پاکی کی نمائندہ ترین صفت رحم کرنا اور اونچا ترین صفاتی نام الرَّحْمَنُ ہے. جیسے سورہ الاسراء میں ارشاد ہوتا ہے کہ 
"کہہ دو الله کہہ کر یا رحمٰن کہہ کر پکارو جس نام سے پکاروسب اسی کے عمدہ نام ہیں ..." یا پھر بسم اللہ الرحمٰن الرحیم  .. یا پھر الحمد اللہ رب العالمین الرحمٰن  الرحیم .. یا پھر وہ حدیث قدسی جس میں ارشاد ہوا کہ اللہ کی رحمت نے الله کے غضب کو ڈھانپ رکھا ہے
.
عَلَّمَ الْقُرْآنَ یعنی اسی نے قرآن کی تعلیم فرمائی. یوں تو دین ہر علم کی حوصلہ افزائی اور اسکے حصول کی تلقین کرتا ہے مگر تمام علوم میں سب سے چوٹی کا علم قران کا علم ہے. اسی کو حدیث مبارکہ میں کچھ ان الفاظ میں بیان کیا گیا کہ "تم لوگوں میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جو قرآن مجید سیکھے اور دوسروں کو سکھائے"
.
خَلَقَ الْإِنْسَانَ یعنی اسی نے انسان کو پیدا کیا - اب سب سے اونچی صفت اور سب سے بلند علم کے ذکر کے بعد خالق اپنی بہترین مخلوق کا ذکر کر رہے ہیں یعنی وہی انسان جسے خلیفہ الارض کی خلعت پہنائی گئی. اسی ضمن میں سورہ تین میں ارشاد ہوتا ہے کہ
.
لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ 
کہ ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا ہے
.
عَلَّمَهُ الْبَيَانَ یعنی اسی نے اسکو بیان کی صلاحیت دی - سب سے اونچی صفت رحمٰن ، سب سے بلند علم قران، سب سے مکرم تخلیق انسان کے ذکر کے بعد اس انسان کی افضل ترین صفت یا صلاحیت یعنی 'قوت بیان' کا ذکر ہوا. یہ بیان ہی کی قوت ہے جس کے استمعال سے انسان دیگر مخلوقات کی بانسبت کہیں زیادہ تیزی سے شعوری ارتقاء کرتا چلا گیا. یہی وہ بیان کی قوت ہے جسے آج سوشل میڈیا پر مجھ جیسے خود ساختہ لکھاری یا دیگر حقیقی دانشور استعمال کررہے ہیں. لہٰذا آج اس ویڈیو سلسلے کا محرک بھی یہی ہے کہ اللہ پاک کی اس عطا کردہ بیان کی صلاحیت کا استعمال کیا جائے. 

ارادہ یہی ہے کہ اس ویڈیو سلسلے میں صرف مذھبی نہیں بلکہ وقتن فوقتن سماج، سیاسی اور معاشرتی حوالوں سے بھی گفتگو کی جائے. یہ بھی خیال ہے کہ ان ویڈیوز کو بیک وقت فیس بک اور یوٹیوب دونوں پر اپلوڈ کیا جائے. مجھے امید ہے کہ آپ اس سلسلے میں تائید و تنقید سے میری معاونت کریں گے. میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے بتائیں کہ کیا یہ ویڈیوز بنانے کا آئیڈیا آپ کے خیال سے اچھا ہے؟ اگر ہاں تو کن کن موضوعات پر بات کی جائے؟ وہ کون سے سوالات ہیں جن کے جوابات آپ چاہتے ہیں؟ وہ کون سے مسائل ہیں جن پر آپ میری رائے سننا چاہتے ہیں؟ آپ کے حساب سے ان ویڈیوز کا دورانیہ کیا ہونا چاہیئے؟ ہفتہ یا مہینے میں کتنی ویڈیوز ہونی چاہیئے؟کوئی اور تجویز جو آپ مجھے دے سکیں. وہ کمٹس میں ضرور دیجیئے. یاد رکھیں کہ آپ کی تائید و توثیق ہی میرے لئے یہ فیصلہ کرے گی کہ اس سلسلے کو جاری رکھا جائے یا نہیں. آخر میں یہی دعا کہ اللہ پاک آپ کو خیر ہی خیر عطا فرمائیں اور آپ کی ذات سے ہمیشہ خیر ہی کا صدور فرمائیں. آمین 

وآخر 

Monday, 13 December 2010

گناہ کیا ؟ کہتا ہوں سچ



کہتا ہوں سچ کہ جھوٹ کی عادت نہیں مجھے

دوستو کبھی آپ نے سوچا کہ ثواب اور گناہ اپنی حقیقت میں ہے کیا؟ یہ نہ کہیئے گا کہ ثواب فلاں فلاں اعمال ہیں اور گناہ فلاں فلاں اعمال. یہ تو ہم سب جانتے ہیں. میں پوچھ یہ رہا ہوں کہ کبھی آپ نے سوچا کہ وہ کون سا پیرا میٹر ہے کسوٹی ہے جس کی بنیاد پر رب کریم کسی ایک عمل کو ثواب اور دوجے کپ گناہ قرار دیتے ہیں؟ 
غور کیجیئے تو ثواب ہر وہ کام ہے جس سے آپ کا روحانی و اخلاقی وجود ترقی پاتا ہے اور گناہ وہ اعمال ہیں جو آپ کی اس روحانی ترقی پر روک لگاتے ہیں یا نفس کو آلودہ کرتے ہیں. اسی کو سورہ شمس میں بیان کیا گیا ہے

وَنَفْسٍ وَّمَا سَوَّاهَا (7)
اور جان کی اور اس کی جس نے اس کو درست کیا۔
فَاَلْهَـمَهَا فُجُوْرَهَا وَتَقْوَاهَا (8)
پھر اس کو اس کی بدی اور نیکی سمجھائی۔
قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا (9)
بے شک وہ کامیاب ہوا جس نے اپنی روح کو پاک کر لیا۔
وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّاهَا (10)
اور بے شک وہ غارت ہوا جس نے اس کو آلودہ کر لیا۔

دوسرے الفاظ میں آپ کی شخصیت پر آپ کا ہر عمل ایک اثر مرتب کرتا ہے اور گناہ و ثواب کا فیصلہ اسی اثر کے تحت ہوتا ہے. ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم ثواب کو اسکے اثر کی نیت سے نہیں بلکہ تعداد کے حساب سے کرتے ہیں. ہمیں یہ تربیت نہیں دی جاتی کہ ہم عبادت یا اطاعت کے نام پر جو بھی عمل کریں اسے احسن انداز میں سرانجام دیں تاکہ اسکا بہترین نتیجہ ہماری شخصیت پر منطبق ہو، بلکہ اسے برعکس ہمیں یہ تعلیم دی جاتی ہے کہ فلاں عمل اگر اتنی اتنی دفعہ کرو گے یا پڑھو گے تو زیادہ ثواب پاؤ گے. نتیجہ یہ ہے کہ آج ہماری نظر اعمال و اذکار کی روح پر نہیں بلکہ اعداد و شمار میں اٹک کر رہ گئی ہے. ہم یہ بھول گئے ہیں کہ روح سے خالی کوئی بھی عمل ہمارے منہ پر دے مارا جاۓ گا اور صحیح نیت سے کیۓ ہوے مٹھی بھر اعمال بھی ہماری بخشش کا سامان بن سکیں گے. یہ جو بیان ہوتا ہے کہ مسجد میں نماز کا اتنا گنا ثواب زیادہ ہے یا کعبہ میں طواف کی جزا اتنی گنا زیادہ ہے، اس سب سے مراد وہی اثر کا زیادہ ہونا ہے جسکا حصول مسجد یا حرم میں کئی گنا آسان ہوتا ہے. تہجد کا وقت یا کوئی اور قبولیت کے وقت کا ذکر بھی اسی حوالے سے ہوتا ہے کہ یہ وہ اوقات ہیں جن میں طبیعت پر زیادہ اثر مرتب ہوتا ہے. اسے صرف تعداد میں الجھا کر دیکھنا، حقیقت سے دوری ہے. یہ بھی سمجھیں کہ اکثر احادیث کا اسلوب، اصول سے زیادہ ترغیب کا ہوتا ہے. اصول کو کتاب الله متعین کرتی ہے اوراحادیث میں اکثر ترغیب کی غرض سے عام انسانوں کو زیادہ سے زیادہ اجر دکھا کر عمل کی جانب بلایا جاتا ہے. اقبال کا الله سے وہ استفسار یاد آرہا ہے:

ہو نقش اگر باطل ، تکرار سے کیا حاصل ؟
کیا تجھ کو خوش آتی ہے آدم کی یہ ارزانی ؟

ہمیں بعض استثنائی صورتوں میں کسی عمل کے ثواب یا گناہ ہونے پر کنفیوژن ہوجاتا ہے. ایسی صورت میں سنن احمد اور سنن دارمی کی اس حدیث کو یاد رکھیں جس میں 
حضرت وابصہ بن معبد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا:’’اے وابصہ، تم نیکی اور بدی کے بارے میں پوچھنے کے لیے آئے ہو؟‘‘ انھوں نے کہا’’ہاں۔‘‘ آپ صلّی اللہ علیہ وسلّم نیاپنی انگلیاں جمع کیں اور ان کے ساتھ میرے سینے پر مارااور فرمایا:’’ اپنے دل سے فتویٰ پوچھ، اپنے دل سے فتویٰ پوچھ۔‘‘ آپ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے تین مرتبہ فرمایا:’’نیکی وہ ہے جس سے دل اطمینان پکڑے، دل اس کی طرف مطمئن ہو اور گناہ وہ ہے جو تیرے دل میں کھٹکھے اور سینے میں ترددپیدا کرے اگرچہ لوگ تجھ کو فتویٰ دیں۔‘‘
(سنن احمد/ سنن دارمی )
.

ایک استاد نے اپنے دو شاگردوں کو حکم دیا کہ وہ ایک ایک پیالہ پانی کا باہر رکھے مٹکے سے بھر کر لائیں. ساتھ ہی یہ خوشخبری بھی دے دی کہ اس کام میں جو جو قدم تم بڑھاؤ گے تو ہر قدم پر تمہیں اضافی نمبرز سے نوازا جائے گا جو سال کے آخر میں تمہارے مجموعی نتیجے کا حصہ بن جائیں گے. اب یہ غیر معمولی خوشخبری پاکر پہلا شاگرد مٹکے کی جانب خوشی خوشی گیا، پانی پیالے میں بھرا اور اسے سنبھال کر واپس استاد کے پاس لے آیا. نتیجہ یہ کہ استاد نے اسے شاباشی بھی دی اور وعدے کے مطابق اسے ہر قدم پر اضافی نمبرز سے بھی نوازا. دوسرے شاگرد نے چالاکی دیکھانا چاہی اور بجائے اس کے کہ پانی لے کر استاد کے پاس آتا، وہ مٹکے کے ارد گرد چکر لگانے لگا. سارا وقت وہ یہ سوچ کر یہاں وہاں گھومتا رہا کہ میرے ہر ہر قدم پر استاد مجھے اضافی نمبرز دیں گے اور یوں میں کامیاب ہوجاؤں گا. اب بتایئے اس دوسرے شاگرد کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہوگی؟ ظاہر ہے کہ ہر صاحب شعور ایسا منظر دیکھ کر اپنا سر پیٹ لے گا اور اس احمق کو سمجھائے گا کہ ہر قدم پر اضافی نمبرز تمھیں اسی صورت مل سکتے تھے جب تم استاد کا اصل حکم بھی پورا کرتے یعنی مٹکے سے پیالے میں پانی بھر کر واپس استاد کو لاکر دیتے. تم نے اصل مقصد فراموش کردیا اور ضمنی منسلک فضیلت کو اصل سمجھ لیا. لہٰذا تمہارا وقت بھی ضائع ہوا، استاد بھی ناراض ہوئے، تم خود بھی ہلکان ہوئے اور اضافی نمبرز بھی ہاتھ سے گئے. 
.
اگر میری عبادات میرے اخلاقی وجود کا تزکیہ نہیں کرتیں. 
اگر میرے بیوی ، بچے اور میرے قریبی اقرباء میرے اعلیٰ اخلاق کی گواہی نہیں دیتے. 
اگر میرا چہرہ داڑھی سے تو سجا ہے مگر مسکراہٹ کی سنّت سے خالی ہے. اگر میں شرعی احکام کی پابندی تو کرتا ہوں لیکن معاشرتی و سماجی معاملات میں بلکل کورا ہوں. 
اگر دین پر چلنے سے میری طبیعت میں نرمی نہیں بلکے سختی آ گئی ہے اور اگر میں دعوت کی جگہ  تکفیر کا رویہ اپنایا ہوا ہوں توجان لیں یہ وہ اسلام نہیں ہے جسکی تعلیم پیارے نبی صلالله و الہے وسلم نے دی تھی اور جسے صحابہ رضی الله نے اپنی زندگیوں میں سجایا تھا. 
ہم اپنی داڑھی کے طول اور شلوار کی اونچائی سے الله رب العزت کو دھوکا نہیں دے سکتے، ہرگز نہیں دے سکتے.


بعض لوگ سچ کڑوا ہوتا ہے، سچ کڑوا ہوتا ہے کی رٹ لگا کر ہر طرح کی بد تہذیبی کرتے جاتے ہیں. انہیں سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اکثر سچ کڑوا نہیں ہوتا بلکہ سچ بولنے والے کا انداز کڑوا ہوتا ہے. الفاظ تو خالی برتن کی طرح ہوتے ہیں انہیں مفھوم ہم عطا کرتے ہیں. کڑوی سے کڑوی بات بھی اگر تہذیب اور شائستگی سے کی جائے تو اس میں شیرنی گھل جاتی ہے. اسکی سب سے بڑی مثال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس ہے جنہوں نے ہمیشہ سچ اور حق بولا مگر کبھی کڑوا نہ بولا. اگر آپ سچ بولنے کی آڑ میں مخاطب کی دل آزاری کا سبب بن رہے ہیں تو یہ سچائی کا پرچار نہیں بلکہ آپ کی انا کی تسکین کا سامان ہے.

آخر میں یہی دعا کہ اللہ آپ کو خیر ہی خیر نصیب فرمائیں اور آپ کی ذات کو خیر ہی تقسیم کرنے والا بنائیں آمین. 

وآخر ..

Saturday, 11 December 2010

فرقے کہتا ہوں سچ



کہتا ہوں سچ کہ جھوٹ کی عادت نہیں مجھے ..

دوستو قران حکیم کا ہر طالبعلم یہ بات جانتا ہے کہ دین کی رو سے فرقہ واریت یا فرقہ بنانا قطعن حرام ہے. کلام اللہ کی متعدد آیات اسی حقیقت کا واشگاف اعلان کرتی ہیں. ان سب کو تو قلت وقت کی وجہ سے میں یہاں نہیں پیش کر سکتا لہٰذا صرف سورہ آل عمران کی ١٠٥ آیت پر اکتفاء کرتا ہوں جس میں مومنین کو اللہ رب العزت نے تاکید کی ہے کہ 

کہیں تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جو جو فرقوں میں بٹ گئے اور کھلی کھلی واضح ہدایات پانے کے بعد پھر اختلافات میں مبتلا ہوئے جنہوں نے یہ روش اختیار کی وہ اس روز سخت سزا پائیں گے 

اب سوال یہ ہے کہ اگر قران مجید کی بارہا آیات میں فرقہ واریت کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے تو پھر یہ تفرقہ سے آلودہ ذہنیت مختلف مذاہب اور فرقوں کی صورت کیسے اختیار کرتی رہی ؟ اس کا جواب بھی قران مجید کی سورہ الشعرا کی چودھویں آیت 

 اور انہوں نے فرقہ بندی نہیں کی تھی مگر اِس کے بعد جبکہ اُن کے پاس علم آچکا تھا محض آپس کی ضِد (اور ہٹ دھرمی) کی وجہ سے ..

گویا وجہ علم نہیں ہے بلکہ علم ہونے کے باوجود ہٹ دھرمی اور ضد تفرقہ کی اصل بنیاد ہے. یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ علمی اختلاف پر مبنی مسالک کا ہونا ایک بات ہے اور تفرقہ دوسری بات. علمی اختلاف تو علم کی دنیا میں ہمیشہ ہوتا آیا ہے بلکہ میں تو یہاں تک کہوں گا کہ علم و شعور کا ارتقاء اسی علمی اختلاف کا محتاج ہے. پھر وہ سوشل سائنسز ہوں یا فزیکل سائنسز. صحافت ہو یا سیاست. فلسفہ ہو یا مذہب. یہی سمجھ کا اختلاف ہے جو علم کی دنیا کو جلا بخشتا آیا ہے. میرا موضوع یہ تعمیری اختلاف نہیں بلکہ خالص تفرقہ ہے جہاں ایک فرقے کے نزدیک دوسری سمجھ باطل قرار پاتی ہے یا ایک دوسرے کے پیچھے نماز تک پڑھنا حرام ٹھیرتا ہے. ایک بدتمیز سا شعر یاد آرہا ہے کہ 

ہر ایک پر لگاتا ہے تو کفر کے فتوے 
اسلام تیرے باپ کی جاگیر تو نہیں 

دوستو مجھے کہنے دیجیئے کہ ہم نے تو مذھبی گالیاں بھی ایجاد کر رکھی ہے وہ شیعہ کھٹمل ہے، یہ سنی دشمن اہل بیت ہے .. وہ وہابی نجدی کافر ہے، یہ قبر پرست صوفی ہے .. وہ دیوبند کی گند ہیں ، یہ حلوہ خور بریلوی ہیں ... وہ ہرے طوطے ہیں، یہ یہودی ایجنٹ ہیں. ایک لمبی فہرست ہے گالیوں کی جسے ادا کر کے ہم اپنے مخاطب کی تذلیل کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ایسا کر کے ہم دین کی خدمت کر رہے ہیں. وہ اسلام جس نے کافروں کے جھوٹے خداؤں کو بھی گالی دینے سے روکا تھا ، آج اسکے نام لیوابڑے فخر سے اپنے کلمہ گو بھائیوں کو مذہبی گالیاں دیتے ہیں. 

آج ہمارے تفرقے اور نقاہیت اتفاق نے طاغوت کو اس قدر دلیر بنادیا کہ وہ شطرنج کی بازی کی طرح کبھی ہمیں آپس میں لڑواتا ہے۔ کبھی دھوکے سے مرواتا ہے۔ کبھی امداد سے کتراتا ہے۔ پھر طرح طرح سے ترساتا ہے۔ یعنی دولت بھی ہماری۔ ذلت بھی ہماری۔ کثرت بھی ہماری۔ قلت بھی ہماری۔ کبھی وہ اسرائیل کی زبان میں بولتا ہے۔ کبھی بشارالاسد کا پٹہ کھولتا ہے۔ کبھی فلسطینی بچوں کی چیخیں۔ کبھی کشمیری دلہن کی آہیں۔ کبھی تارکین افغانستان کا مسئلہ۔ کبھی حلب پر بربریت۔ کیا یہ وہی امت تفرقے میں ڈوب کر امریکا سے اپنی بقاء کی بھیک مانگ رہی ہے جو شہنشاہ دو جہاں صلی اللہ الہ وسلم کی امت ہے؟

سوال یہ ہے کہ تفرقہ کے خلاف اتنی واضح آیات اور احادیث ہونے کے باوجود وہ کون سی دلیل ہے جسے اختیار کرکے ہر فرقہ اپنی بنیاد رکھتا ہے؟ تو دراصل وہ دلیل صرف اور صرف ایک حدیث ہے جو الفاظ کے کچھ رد و بدل سے کئی کتب میں موجود ہے. اس مشھور زمانہ حدیث کے الفاظ کچھ ایسے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہود کے اکہتر فرقے ہوئے ان میں ایک جنتی ہے اور ستر دوزخی ہیں اور نصاری کے بہتر فرقے ہوئے ان میں اکہتر دوزخی ہیں اور ایک جنت میں جائے گا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے میری امت کے تہتر فرقے ہوں گے ایک فرقہ جنت میں جائے گا اور بہتر دوزخی ہوں گے۔ کسی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! جنتی کون ہوں گے؟ فرمایا الْجَمَاعَةُ۔ (سنن ابن ماجہ، کتاب فتنوں کا بیان)

بنی اسرائیل میں بہتر (72) فرقے بن گئے تھے ۔جبکہ میری امت میں تہتر (73)بنیں گے ،
اور یہ سارے فرقے جہنمی ہوں گے ۔سوائے ایک جماعت کے ،،،
صحابہ کرام نے پوچھا ،وہ کون سے لوگ ہیں ،جو ان فرقوں میں جہنمی نہیں ؟
فرمایا :جو اس دین پر ہونگے جس پر آج میں ،اور میرے صحابہ ہیں

الله اکبر .. یہ تو بڑی ہولناک بات ہے. سوچیں کہ پوری دنیا کی انسانی آبادی میں مسلمان تیئیس فیصد سے زیادہ نہیں ہیں. ان تئیس فیصد مسلمانوں میں بھی کم از کم ٧٣ فرقوں کی موجودگی ہے اور ان میں سے صرف ایک فرقہ سے منسلک لوگ جنت میں جائیں گے پھر اس ایک مسلک میں بھی ظاہر ہے سب تو نہیں جائیں گے ان میں بیشمار اپنے گناہوں کی وجہ سے جہنم واصل ہوجائیں گے . یہ تو بڑی الارمنگ سچویشن ہے بھئی.

لیکن ذرا غور کریں تو جیسا میں نے ابتدا میں کہا کہ فرقہ بنانا یا فرقہ پرستی میں ملوث ہونا قران حکیم کی رو سے حرام ہے. تو پھر یہ کیسے ہوگا کہ ایک فرقہ جنت میں جائے گا. یہ کچھ ایسا لگ رہا ہے کہ سو لوگ شراب پئیں گے جن میں سے ایک شرابی جنت میں جائے گا. اب یہ بات سمجھ نہیں آتی جب شراب حرام ہے تو ایک شرابی کیسے جنت میں جا سکتا ہے. اسی طرح فرقہ بنانا حرام ہے تو ایک فرقہ والا جنت میں جاسکتا ہے؟