Monday, 20 December 2010

کہتا ہوں سچ



نحمدہ

کہتا ہوں سچ کہ جھوٹ کی عادت نہیں مجھے ..

آج سال نو ٢٠١٧ کے آغاز پر میں اللہ رب العزت کا نام لے کر ایک نئے سلسلے کا آغاز کر رہا ہوں. یعنی اب تحریر کے ساتھ ساتھ میری کوشش ہوگی کہ گاہے بگاہے آپ سے ویڈیوز کے ذریعے بھی مخاطب ہوسکوں. آپ میں سے اکثر احباب مجھ سے واقف ہیں مگر جو نہیں جانتے انکے لئے عرض کردوں کہ میرا نام عظیم الرحمٰن عثمانی ہے. میں نہ تو عالم ہوں نہ فاضل اور نہ ہی کوئی مستند تحقیق نگار. زبان اردو میں اگر کوئی لفظ میرا تعارف آپ کو فراہم کرسکتا ہے تو وہ ہے مرکب لفظ 'طالب علم' . میں ایک معمولی طالبعلم ہوں کتاب الله قران کا اور دین الله اسلام کا. یوں تو ہر انسان کے کہے اور لکھےمیں غلطی کا احتمال ہوتا ہے مگر میری کم علمی کے سبب یہ امکان مزید تقویت حاصل کرلیتا ہے. چنانچہ ناظرین سے استدعا ہے کہ وہ میری بات کو ایک دین کے ابتدائی  طالبعلم کی حیثیت سے ہی ملاحظہ کریں اور اگر کسی بات کو دلیل یا مشاہدہ کے خلاف پائیں تو بلاجھجھک مسترد کردیں. 

میرا تعلق عثمانی خاندان سے ہے . مولانا یعقوب الرحمٰن عثمانی میرے سگے دادا، شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی میرے دادا کے سگے چچا اور اس نسبت سے میرے پردادا ہیں. اسی طرح اور بھی بہت سے جید اہل علم اسی خاندان کا حصہ رہے ہیں جیسے میرے رشتے کے چچا مدیر رسالہ تجلی مولانا عامر عثمانی اور تقابل ادیان کے ماہر مولانا شمس نوید عثمانی وغیرہ. دور موجود میں مفتی تقی عثمانی ، مفتی رفیع عثمانی صاحب سے میرا کیا رشتہ بنتا ہے؟ بنتا بھی ہے یا نہیں بنتا؟ یہ میں نہیں جانتا مگر کوئی دور دراز کا تعلق ضرور ہے جو آپ مفتیان ہمارے خاندان کی شادیوں یا جنازوں میں شرکت کرتے نظر آتے ہیں.

ان جبال علم ناموں کے خاندان سے تعلق رکھنا میرے لئے باعث سعادت بھی ہے اور باعث ندامت بھی. سعادت اس لئے کہ ان کے تعلق سے ایک علمی روایت سے نسبت محسوس ہوتی ہے اور ندامت اسلئے کہ میں خود اس میراث کو بڑی حد تک گنوا بیٹھا ہوں. تقسیم ہند کے بعد میرے والد اور خاندان کے دیگر نوجوان جب وطن عزیز میں ہجرت کرکے آئے تو غم معاش اور فکر روزگار نے ایسا جکڑا کہ بس اسی کے ہوکر رہ گئے. نتیجہ یہ ہے کہ اب اس خاندان میں علماء دین شاذ شاذ ہی نظر آتے ہیں.دیگر خاندانوں کی طرح اب علمی روایت کا امین یہ خاندان بھی صرف مال کمانے کی جہد میں لگا ہوا ہے. اس پر سانحہ یہ ہے کہ اس گم گشتہ علمی میراث کو واپس حاصل کرنے کی تمنا بھی اب نظر نہیں آتی

وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا

میں الحمدللہ اپنا شمار اس خاندان کے ان چند اذہان میں کرتا ہوں جو کم از کم اس علمی نقصان کا صدمہ محسوس کرتے ہیں اور دین سے اپنا علمی و عملی تعلق بڑھانے کے خواہاں ہیں. اگر اسوقت میں آپ سب سے پوچھوں کہ وہ کون سی سورہ ہے جس کی تلاوت کرنا یا سننا آپ کو سب سے زیادہ خوش کن محسوس ہوتا ہے ؟ تو امکان ہے آپ میں سے اکثر سورہ الرحمٰن کا نام لیں. اسی سورہ کی چند ابتدائی آیات کو اس موضوع کی اہمیت کے حوالے سے پیش کرنا چاہتا ہوں. 
.
الرَّحْمَنُ (1) عَلَّمَ الْقُرْآنَ (2) خَلَقَ الْإِنْسَانَ (3) عَلَّمَهُ الْبَيَانَ (4)
الرَّحْمَنُ یعنی نہایت مہربان. محققین کے نزدیک الله پاکی کی نمائندہ ترین صفت رحم کرنا اور اونچا ترین صفاتی نام الرَّحْمَنُ ہے. جیسے سورہ الاسراء میں ارشاد ہوتا ہے کہ 
"کہہ دو الله کہہ کر یا رحمٰن کہہ کر پکارو جس نام سے پکاروسب اسی کے عمدہ نام ہیں ..." یا پھر بسم اللہ الرحمٰن الرحیم  .. یا پھر الحمد اللہ رب العالمین الرحمٰن  الرحیم .. یا پھر وہ حدیث قدسی جس میں ارشاد ہوا کہ اللہ کی رحمت نے الله کے غضب کو ڈھانپ رکھا ہے
.
عَلَّمَ الْقُرْآنَ یعنی اسی نے قرآن کی تعلیم فرمائی. یوں تو دین ہر علم کی حوصلہ افزائی اور اسکے حصول کی تلقین کرتا ہے مگر تمام علوم میں سب سے چوٹی کا علم قران کا علم ہے. اسی کو حدیث مبارکہ میں کچھ ان الفاظ میں بیان کیا گیا کہ "تم لوگوں میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جو قرآن مجید سیکھے اور دوسروں کو سکھائے"
.
خَلَقَ الْإِنْسَانَ یعنی اسی نے انسان کو پیدا کیا - اب سب سے اونچی صفت اور سب سے بلند علم کے ذکر کے بعد خالق اپنی بہترین مخلوق کا ذکر کر رہے ہیں یعنی وہی انسان جسے خلیفہ الارض کی خلعت پہنائی گئی. اسی ضمن میں سورہ تین میں ارشاد ہوتا ہے کہ
.
لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ 
کہ ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا ہے
.
عَلَّمَهُ الْبَيَانَ یعنی اسی نے اسکو بیان کی صلاحیت دی - سب سے اونچی صفت رحمٰن ، سب سے بلند علم قران، سب سے مکرم تخلیق انسان کے ذکر کے بعد اس انسان کی افضل ترین صفت یا صلاحیت یعنی 'قوت بیان' کا ذکر ہوا. یہ بیان ہی کی قوت ہے جس کے استمعال سے انسان دیگر مخلوقات کی بانسبت کہیں زیادہ تیزی سے شعوری ارتقاء کرتا چلا گیا. یہی وہ بیان کی قوت ہے جسے آج سوشل میڈیا پر مجھ جیسے خود ساختہ لکھاری یا دیگر حقیقی دانشور استعمال کررہے ہیں. لہٰذا آج اس ویڈیو سلسلے کا محرک بھی یہی ہے کہ اللہ پاک کی اس عطا کردہ بیان کی صلاحیت کا استعمال کیا جائے. 

ارادہ یہی ہے کہ اس ویڈیو سلسلے میں صرف مذھبی نہیں بلکہ وقتن فوقتن سماج، سیاسی اور معاشرتی حوالوں سے بھی گفتگو کی جائے. یہ بھی خیال ہے کہ ان ویڈیوز کو بیک وقت فیس بک اور یوٹیوب دونوں پر اپلوڈ کیا جائے. مجھے امید ہے کہ آپ اس سلسلے میں تائید و تنقید سے میری معاونت کریں گے. میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے بتائیں کہ کیا یہ ویڈیوز بنانے کا آئیڈیا آپ کے خیال سے اچھا ہے؟ اگر ہاں تو کن کن موضوعات پر بات کی جائے؟ وہ کون سے سوالات ہیں جن کے جوابات آپ چاہتے ہیں؟ وہ کون سے مسائل ہیں جن پر آپ میری رائے سننا چاہتے ہیں؟ آپ کے حساب سے ان ویڈیوز کا دورانیہ کیا ہونا چاہیئے؟ ہفتہ یا مہینے میں کتنی ویڈیوز ہونی چاہیئے؟کوئی اور تجویز جو آپ مجھے دے سکیں. وہ کمٹس میں ضرور دیجیئے. یاد رکھیں کہ آپ کی تائید و توثیق ہی میرے لئے یہ فیصلہ کرے گی کہ اس سلسلے کو جاری رکھا جائے یا نہیں. آخر میں یہی دعا کہ اللہ پاک آپ کو خیر ہی خیر عطا فرمائیں اور آپ کی ذات سے ہمیشہ خیر ہی کا صدور فرمائیں. آمین 

وآخر 

Monday, 13 December 2010

گناہ کیا ؟ کہتا ہوں سچ



کہتا ہوں سچ کہ جھوٹ کی عادت نہیں مجھے

دوستو کبھی آپ نے سوچا کہ ثواب اور گناہ اپنی حقیقت میں ہے کیا؟ یہ نہ کہیئے گا کہ ثواب فلاں فلاں اعمال ہیں اور گناہ فلاں فلاں اعمال. یہ تو ہم سب جانتے ہیں. میں پوچھ یہ رہا ہوں کہ کبھی آپ نے سوچا کہ وہ کون سا پیرا میٹر ہے کسوٹی ہے جس کی بنیاد پر رب کریم کسی ایک عمل کو ثواب اور دوجے کپ گناہ قرار دیتے ہیں؟ 
غور کیجیئے تو ثواب ہر وہ کام ہے جس سے آپ کا روحانی و اخلاقی وجود ترقی پاتا ہے اور گناہ وہ اعمال ہیں جو آپ کی اس روحانی ترقی پر روک لگاتے ہیں یا نفس کو آلودہ کرتے ہیں. اسی کو سورہ شمس میں بیان کیا گیا ہے

وَنَفْسٍ وَّمَا سَوَّاهَا (7)
اور جان کی اور اس کی جس نے اس کو درست کیا۔
فَاَلْهَـمَهَا فُجُوْرَهَا وَتَقْوَاهَا (8)
پھر اس کو اس کی بدی اور نیکی سمجھائی۔
قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا (9)
بے شک وہ کامیاب ہوا جس نے اپنی روح کو پاک کر لیا۔
وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّاهَا (10)
اور بے شک وہ غارت ہوا جس نے اس کو آلودہ کر لیا۔

دوسرے الفاظ میں آپ کی شخصیت پر آپ کا ہر عمل ایک اثر مرتب کرتا ہے اور گناہ و ثواب کا فیصلہ اسی اثر کے تحت ہوتا ہے. ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم ثواب کو اسکے اثر کی نیت سے نہیں بلکہ تعداد کے حساب سے کرتے ہیں. ہمیں یہ تربیت نہیں دی جاتی کہ ہم عبادت یا اطاعت کے نام پر جو بھی عمل کریں اسے احسن انداز میں سرانجام دیں تاکہ اسکا بہترین نتیجہ ہماری شخصیت پر منطبق ہو، بلکہ اسے برعکس ہمیں یہ تعلیم دی جاتی ہے کہ فلاں عمل اگر اتنی اتنی دفعہ کرو گے یا پڑھو گے تو زیادہ ثواب پاؤ گے. نتیجہ یہ ہے کہ آج ہماری نظر اعمال و اذکار کی روح پر نہیں بلکہ اعداد و شمار میں اٹک کر رہ گئی ہے. ہم یہ بھول گئے ہیں کہ روح سے خالی کوئی بھی عمل ہمارے منہ پر دے مارا جاۓ گا اور صحیح نیت سے کیۓ ہوے مٹھی بھر اعمال بھی ہماری بخشش کا سامان بن سکیں گے. یہ جو بیان ہوتا ہے کہ مسجد میں نماز کا اتنا گنا ثواب زیادہ ہے یا کعبہ میں طواف کی جزا اتنی گنا زیادہ ہے، اس سب سے مراد وہی اثر کا زیادہ ہونا ہے جسکا حصول مسجد یا حرم میں کئی گنا آسان ہوتا ہے. تہجد کا وقت یا کوئی اور قبولیت کے وقت کا ذکر بھی اسی حوالے سے ہوتا ہے کہ یہ وہ اوقات ہیں جن میں طبیعت پر زیادہ اثر مرتب ہوتا ہے. اسے صرف تعداد میں الجھا کر دیکھنا، حقیقت سے دوری ہے. یہ بھی سمجھیں کہ اکثر احادیث کا اسلوب، اصول سے زیادہ ترغیب کا ہوتا ہے. اصول کو کتاب الله متعین کرتی ہے اوراحادیث میں اکثر ترغیب کی غرض سے عام انسانوں کو زیادہ سے زیادہ اجر دکھا کر عمل کی جانب بلایا جاتا ہے. اقبال کا الله سے وہ استفسار یاد آرہا ہے:

ہو نقش اگر باطل ، تکرار سے کیا حاصل ؟
کیا تجھ کو خوش آتی ہے آدم کی یہ ارزانی ؟

ہمیں بعض استثنائی صورتوں میں کسی عمل کے ثواب یا گناہ ہونے پر کنفیوژن ہوجاتا ہے. ایسی صورت میں سنن احمد اور سنن دارمی کی اس حدیث کو یاد رکھیں جس میں 
حضرت وابصہ بن معبد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا:’’اے وابصہ، تم نیکی اور بدی کے بارے میں پوچھنے کے لیے آئے ہو؟‘‘ انھوں نے کہا’’ہاں۔‘‘ آپ صلّی اللہ علیہ وسلّم نیاپنی انگلیاں جمع کیں اور ان کے ساتھ میرے سینے پر مارااور فرمایا:’’ اپنے دل سے فتویٰ پوچھ، اپنے دل سے فتویٰ پوچھ۔‘‘ آپ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے تین مرتبہ فرمایا:’’نیکی وہ ہے جس سے دل اطمینان پکڑے، دل اس کی طرف مطمئن ہو اور گناہ وہ ہے جو تیرے دل میں کھٹکھے اور سینے میں ترددپیدا کرے اگرچہ لوگ تجھ کو فتویٰ دیں۔‘‘
(سنن احمد/ سنن دارمی )
.

ایک استاد نے اپنے دو شاگردوں کو حکم دیا کہ وہ ایک ایک پیالہ پانی کا باہر رکھے مٹکے سے بھر کر لائیں. ساتھ ہی یہ خوشخبری بھی دے دی کہ اس کام میں جو جو قدم تم بڑھاؤ گے تو ہر قدم پر تمہیں اضافی نمبرز سے نوازا جائے گا جو سال کے آخر میں تمہارے مجموعی نتیجے کا حصہ بن جائیں گے. اب یہ غیر معمولی خوشخبری پاکر پہلا شاگرد مٹکے کی جانب خوشی خوشی گیا، پانی پیالے میں بھرا اور اسے سنبھال کر واپس استاد کے پاس لے آیا. نتیجہ یہ کہ استاد نے اسے شاباشی بھی دی اور وعدے کے مطابق اسے ہر قدم پر اضافی نمبرز سے بھی نوازا. دوسرے شاگرد نے چالاکی دیکھانا چاہی اور بجائے اس کے کہ پانی لے کر استاد کے پاس آتا، وہ مٹکے کے ارد گرد چکر لگانے لگا. سارا وقت وہ یہ سوچ کر یہاں وہاں گھومتا رہا کہ میرے ہر ہر قدم پر استاد مجھے اضافی نمبرز دیں گے اور یوں میں کامیاب ہوجاؤں گا. اب بتایئے اس دوسرے شاگرد کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہوگی؟ ظاہر ہے کہ ہر صاحب شعور ایسا منظر دیکھ کر اپنا سر پیٹ لے گا اور اس احمق کو سمجھائے گا کہ ہر قدم پر اضافی نمبرز تمھیں اسی صورت مل سکتے تھے جب تم استاد کا اصل حکم بھی پورا کرتے یعنی مٹکے سے پیالے میں پانی بھر کر واپس استاد کو لاکر دیتے. تم نے اصل مقصد فراموش کردیا اور ضمنی منسلک فضیلت کو اصل سمجھ لیا. لہٰذا تمہارا وقت بھی ضائع ہوا، استاد بھی ناراض ہوئے، تم خود بھی ہلکان ہوئے اور اضافی نمبرز بھی ہاتھ سے گئے. 
.
اگر میری عبادات میرے اخلاقی وجود کا تزکیہ نہیں کرتیں. 
اگر میرے بیوی ، بچے اور میرے قریبی اقرباء میرے اعلیٰ اخلاق کی گواہی نہیں دیتے. 
اگر میرا چہرہ داڑھی سے تو سجا ہے مگر مسکراہٹ کی سنّت سے خالی ہے. اگر میں شرعی احکام کی پابندی تو کرتا ہوں لیکن معاشرتی و سماجی معاملات میں بلکل کورا ہوں. 
اگر دین پر چلنے سے میری طبیعت میں نرمی نہیں بلکے سختی آ گئی ہے اور اگر میں دعوت کی جگہ  تکفیر کا رویہ اپنایا ہوا ہوں توجان لیں یہ وہ اسلام نہیں ہے جسکی تعلیم پیارے نبی صلالله و الہے وسلم نے دی تھی اور جسے صحابہ رضی الله نے اپنی زندگیوں میں سجایا تھا. 
ہم اپنی داڑھی کے طول اور شلوار کی اونچائی سے الله رب العزت کو دھوکا نہیں دے سکتے، ہرگز نہیں دے سکتے.


بعض لوگ سچ کڑوا ہوتا ہے، سچ کڑوا ہوتا ہے کی رٹ لگا کر ہر طرح کی بد تہذیبی کرتے جاتے ہیں. انہیں سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اکثر سچ کڑوا نہیں ہوتا بلکہ سچ بولنے والے کا انداز کڑوا ہوتا ہے. الفاظ تو خالی برتن کی طرح ہوتے ہیں انہیں مفھوم ہم عطا کرتے ہیں. کڑوی سے کڑوی بات بھی اگر تہذیب اور شائستگی سے کی جائے تو اس میں شیرنی گھل جاتی ہے. اسکی سب سے بڑی مثال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس ہے جنہوں نے ہمیشہ سچ اور حق بولا مگر کبھی کڑوا نہ بولا. اگر آپ سچ بولنے کی آڑ میں مخاطب کی دل آزاری کا سبب بن رہے ہیں تو یہ سچائی کا پرچار نہیں بلکہ آپ کی انا کی تسکین کا سامان ہے.

آخر میں یہی دعا کہ اللہ آپ کو خیر ہی خیر نصیب فرمائیں اور آپ کی ذات کو خیر ہی تقسیم کرنے والا بنائیں آمین. 

وآخر ..

Saturday, 11 December 2010

فرقے کہتا ہوں سچ



کہتا ہوں سچ کہ جھوٹ کی عادت نہیں مجھے ..

دوستو قران حکیم کا ہر طالبعلم یہ بات جانتا ہے کہ دین کی رو سے فرقہ واریت یا فرقہ بنانا قطعن حرام ہے. کلام اللہ کی متعدد آیات اسی حقیقت کا واشگاف اعلان کرتی ہیں. ان سب کو تو قلت وقت کی وجہ سے میں یہاں نہیں پیش کر سکتا لہٰذا صرف سورہ آل عمران کی ١٠٥ آیت پر اکتفاء کرتا ہوں جس میں مومنین کو اللہ رب العزت نے تاکید کی ہے کہ 

کہیں تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جو جو فرقوں میں بٹ گئے اور کھلی کھلی واضح ہدایات پانے کے بعد پھر اختلافات میں مبتلا ہوئے جنہوں نے یہ روش اختیار کی وہ اس روز سخت سزا پائیں گے 

اب سوال یہ ہے کہ اگر قران مجید کی بارہا آیات میں فرقہ واریت کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے تو پھر یہ تفرقہ سے آلودہ ذہنیت مختلف مذاہب اور فرقوں کی صورت کیسے اختیار کرتی رہی ؟ اس کا جواب بھی قران مجید کی سورہ الشعرا کی چودھویں آیت 

 اور انہوں نے فرقہ بندی نہیں کی تھی مگر اِس کے بعد جبکہ اُن کے پاس علم آچکا تھا محض آپس کی ضِد (اور ہٹ دھرمی) کی وجہ سے ..

گویا وجہ علم نہیں ہے بلکہ علم ہونے کے باوجود ہٹ دھرمی اور ضد تفرقہ کی اصل بنیاد ہے. یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ علمی اختلاف پر مبنی مسالک کا ہونا ایک بات ہے اور تفرقہ دوسری بات. علمی اختلاف تو علم کی دنیا میں ہمیشہ ہوتا آیا ہے بلکہ میں تو یہاں تک کہوں گا کہ علم و شعور کا ارتقاء اسی علمی اختلاف کا محتاج ہے. پھر وہ سوشل سائنسز ہوں یا فزیکل سائنسز. صحافت ہو یا سیاست. فلسفہ ہو یا مذہب. یہی سمجھ کا اختلاف ہے جو علم کی دنیا کو جلا بخشتا آیا ہے. میرا موضوع یہ تعمیری اختلاف نہیں بلکہ خالص تفرقہ ہے جہاں ایک فرقے کے نزدیک دوسری سمجھ باطل قرار پاتی ہے یا ایک دوسرے کے پیچھے نماز تک پڑھنا حرام ٹھیرتا ہے. ایک بدتمیز سا شعر یاد آرہا ہے کہ 

ہر ایک پر لگاتا ہے تو کفر کے فتوے 
اسلام تیرے باپ کی جاگیر تو نہیں 

دوستو مجھے کہنے دیجیئے کہ ہم نے تو مذھبی گالیاں بھی ایجاد کر رکھی ہے وہ شیعہ کھٹمل ہے، یہ سنی دشمن اہل بیت ہے .. وہ وہابی نجدی کافر ہے، یہ قبر پرست صوفی ہے .. وہ دیوبند کی گند ہیں ، یہ حلوہ خور بریلوی ہیں ... وہ ہرے طوطے ہیں، یہ یہودی ایجنٹ ہیں. ایک لمبی فہرست ہے گالیوں کی جسے ادا کر کے ہم اپنے مخاطب کی تذلیل کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ایسا کر کے ہم دین کی خدمت کر رہے ہیں. وہ اسلام جس نے کافروں کے جھوٹے خداؤں کو بھی گالی دینے سے روکا تھا ، آج اسکے نام لیوابڑے فخر سے اپنے کلمہ گو بھائیوں کو مذہبی گالیاں دیتے ہیں. 

آج ہمارے تفرقے اور نقاہیت اتفاق نے طاغوت کو اس قدر دلیر بنادیا کہ وہ شطرنج کی بازی کی طرح کبھی ہمیں آپس میں لڑواتا ہے۔ کبھی دھوکے سے مرواتا ہے۔ کبھی امداد سے کتراتا ہے۔ پھر طرح طرح سے ترساتا ہے۔ یعنی دولت بھی ہماری۔ ذلت بھی ہماری۔ کثرت بھی ہماری۔ قلت بھی ہماری۔ کبھی وہ اسرائیل کی زبان میں بولتا ہے۔ کبھی بشارالاسد کا پٹہ کھولتا ہے۔ کبھی فلسطینی بچوں کی چیخیں۔ کبھی کشمیری دلہن کی آہیں۔ کبھی تارکین افغانستان کا مسئلہ۔ کبھی حلب پر بربریت۔ کیا یہ وہی امت تفرقے میں ڈوب کر امریکا سے اپنی بقاء کی بھیک مانگ رہی ہے جو شہنشاہ دو جہاں صلی اللہ الہ وسلم کی امت ہے؟

سوال یہ ہے کہ تفرقہ کے خلاف اتنی واضح آیات اور احادیث ہونے کے باوجود وہ کون سی دلیل ہے جسے اختیار کرکے ہر فرقہ اپنی بنیاد رکھتا ہے؟ تو دراصل وہ دلیل صرف اور صرف ایک حدیث ہے جو الفاظ کے کچھ رد و بدل سے کئی کتب میں موجود ہے. اس مشھور زمانہ حدیث کے الفاظ کچھ ایسے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہود کے اکہتر فرقے ہوئے ان میں ایک جنتی ہے اور ستر دوزخی ہیں اور نصاری کے بہتر فرقے ہوئے ان میں اکہتر دوزخی ہیں اور ایک جنت میں جائے گا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے میری امت کے تہتر فرقے ہوں گے ایک فرقہ جنت میں جائے گا اور بہتر دوزخی ہوں گے۔ کسی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! جنتی کون ہوں گے؟ فرمایا الْجَمَاعَةُ۔ (سنن ابن ماجہ، کتاب فتنوں کا بیان)

بنی اسرائیل میں بہتر (72) فرقے بن گئے تھے ۔جبکہ میری امت میں تہتر (73)بنیں گے ،
اور یہ سارے فرقے جہنمی ہوں گے ۔سوائے ایک جماعت کے ،،،
صحابہ کرام نے پوچھا ،وہ کون سے لوگ ہیں ،جو ان فرقوں میں جہنمی نہیں ؟
فرمایا :جو اس دین پر ہونگے جس پر آج میں ،اور میرے صحابہ ہیں

الله اکبر .. یہ تو بڑی ہولناک بات ہے. سوچیں کہ پوری دنیا کی انسانی آبادی میں مسلمان تیئیس فیصد سے زیادہ نہیں ہیں. ان تئیس فیصد مسلمانوں میں بھی کم از کم ٧٣ فرقوں کی موجودگی ہے اور ان میں سے صرف ایک فرقہ سے منسلک لوگ جنت میں جائیں گے پھر اس ایک مسلک میں بھی ظاہر ہے سب تو نہیں جائیں گے ان میں بیشمار اپنے گناہوں کی وجہ سے جہنم واصل ہوجائیں گے . یہ تو بڑی الارمنگ سچویشن ہے بھئی.

لیکن ذرا غور کریں تو جیسا میں نے ابتدا میں کہا کہ فرقہ بنانا یا فرقہ پرستی میں ملوث ہونا قران حکیم کی رو سے حرام ہے. تو پھر یہ کیسے ہوگا کہ ایک فرقہ جنت میں جائے گا. یہ کچھ ایسا لگ رہا ہے کہ سو لوگ شراب پئیں گے جن میں سے ایک شرابی جنت میں جائے گا. اب یہ بات سمجھ نہیں آتی جب شراب حرام ہے تو ایک شرابی کیسے جنت میں جا سکتا ہے. اسی طرح فرقہ بنانا حرام ہے تو ایک فرقہ والا جنت میں جاسکتا ہے؟

Saturday, 23 October 2010

سوشل میڈیا پر ایک عملی مسلمان کے آداب اظہار


نحمدہ ونصلی علٰی رسولہ الکریم. عم بعد فااعوز باللہ من اشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم.
رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي* وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي* وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِّن لِّسَانِي * يَفْقَهُوا قَوْلِي
رب زدنی علما رب زدنی علما رب زدنی علما 
آمین یا رب العالمین 
.
عزیزان من 
.
میں الله پاک کا اور آپ تمام احباب کا تہہ دل سے شکرگزار ہوں کہ آپ نے مجھے یہ موقع عنایت کیا کہ میں آپ سے مخاطب ہوسکوں، گفتگو کرسکوں، اپنی گزارشات پیش کرسکوں. مجھے قلیل وقت دیا گیا ہے لہٰذا میری کوشش ہوگی کہ اختصار سے جامع بات آپ تک پہنچا پاؤں. اپنے تعارف میں، میں نے لکھ دیا تھا کہ میں نہ تو عالم ہوں نہ فاضل اور نہ ہی کوئی مستند تحقیق نگار. زبان اردو میں اگر کوئی لفظ میرا تعارف فراہم کرسکتا ہے تو وہ ہے مرکب لفظ 'طالب علم' . میں ایک معمولی طالبعلم ہوں کتاب الله قران کا اور دین الله اسلام کا. یوں تو ہر کسی کے لکھے یا کہے میں غلطی کا احتمال ہوا کرتا ہے مگر میری کم علمی کے سبب یہ امکان مزید تقویت اختیار کرلیتا ہے. لہٰذا آپ سب پر فرض ہے کہ میرے کہے کو حرف آخر نہ سمجھیں. جس بات کو دین کے مطابق پائیں اسے تو لپک کر قبول کرلیں اور جسے دین کے کسی حکم سے متصادم محسوس کریں تو اس بات کو ردی کی ٹوکری میں دال دیجیئے. جس موضوع پر گفتو کی ذمہ داری آج مجھے سونپی گئی ہے اس کا عنوان ہے کہ "سوشل میڈیا پر ایک عملی مسلمان کے آداب اظہار" مگر قبل اسکے کہ عنوان کی گہرائی میں اترا جائے. میں تمہیدا کچھ آیات آپ کے گوش گزار کرنا چاہتا ہوں. اگر اسوقت میں آپ سب سے پوچھوں کہ وہ کون سی سورہ ہے جس کی تلاوت کرنا یا سننا آپ کو سب سے زیادہ خوش کن محسوس ہوتا ہے ؟ تو امکان ہے آپ میں سے اکثر سورہ الرحمٰن کا نام لیں. اسی سورہ کی چند ابتدائی آیات کو اس موضوع کی اہمیت کے حوالے سے پیش کرنا چاہتا ہوں. 
.
الرَّحْمَنُ (1) عَلَّمَ الْقُرْآنَ (2) خَلَقَ الْإِنْسَانَ (3) عَلَّمَهُ الْبَيَانَ (4)
الرَّحْمَنُ یعنی نہایت مہربان. محققین کے نزدیک الله پاکی کی نمائندہ ترین صفت رحم کرنا اور اونچا ترین صفاتی نام الرَّحْمَنُ ہے. جیسے سورہ الاسراء میں ارشاد ہوتا ہے کہ 
"کہہ دو الله کہہ کر یا رحمٰن کہہ کر پکارو جس نام سے پکاروسب اسی کے عمدہ نام ہیں ..." یا پھر بسم اللہ الرحمٰن الرحیم  .. یا پھر الحمد اللہ رب العالمین الرحمٰن  الرحیم .. یا پھر وہ حدیث قدسی جس میں ارشاد ہوا کہ اللہ کی رحمت نے الله کے غضب کو ڈھانپ رکھا ہے
.
عَلَّمَ الْقُرْآنَ یعنی اسی نے قرآن کی تعلیم فرمائی. یوں تو دین ہر علم کی حوصلہ افزائی اور اسکے حصول کی تلقین کرتا ہے مگر تمام علوم میں سب سے چوٹی کا علم قران کا علم ہے. اسی کو حدیث مبارکہ میں کچھ ان الفاظ میں بیان کیا گیا کہ "تم لوگوں میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جو قرآن مجید سیکھے اور دوسروں کو سکھائے"
.
خَلَقَ الْإِنْسَانَ یعنی اسی نے انسان کو پیدا کیا - اب سب سے اونچی صفت اور سب سے بلند علم کے ذکر کے بعد خالق اپنی بہترین مخلوق کا ذکر کر رہے ہیں یعنی وہی انسان جسے خلیفہ الارض کی خلعت پہنائی گئی. اسی ضمن میں سورہ تین میں ارشاد ہوتا ہے کہ
.
لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ 
کہ ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا ہے
.
عَلَّمَهُ الْبَيَانَ یعنی اسی نے اسکو بیان کی صلاحیت دی - سب سے اونچی صفت رحمٰن ، سب سے بلند علم قران، سب سے مکرم تخلیق انسان کے ذکر کے بعد اس انسان کی افضل ترین صفت یا صلاحیت یعنی 'قوت بیان' کا ذکر ہوا. یہ بیان ہی کی قوت ہے جس کے استمعال سے انسان دیگر مخلوقات کی بانسبت کہیں زیادہ تیزی سے شعوری ارتقاء کرتا چلا گیا. یہی وہ بیان کی قوت ہے جسے آج سوشل میڈیا پر مجھ جیسے خود ساختہ لکھاری یا دیگر حقیقی دانشور استعمال کررہے ہیں. لہٰذا آج کے میرے موضوع کی اہمیت کو سمجھیئے اور پورے دھیان سے بات کو سمجھنے کی سعی کیجیئے. لازم ہے کہ باحیثیت ایک عملی مسلمان ہم وہ آداب اظہار سیکھیں جو دین نے ہمارے لئے متعین کئے ہیں. 
غور کریں تو کلمہ طیبہ میں تین مراحل ہیں. سب سے پہلے 'لا الا' کہہ کر کیا نہیں ماننا؟ اس کا اعلان کیا جاتا ہے. اس کے بعد 'الا اللہ' کہہ کر کیا ماننا ہے؟ اس کا اقرار کیا جاتا ہے. اور سب سے آخر میں 'محمد الرسول اللہ' پکار کر یہ جانا جاتا ہے کہ کیسے کرنا ہے؟

آج کی گفتگو بھی اسی طرز و ترتیب پر تین حصوں میں منقسم ہے یعنی ایک عملی مسلمان کو سوشل میڈیا پر کیا نہیں کرنا؟ کیا کرنا ہے؟ اور کیسے کرنا ہے؟

تو سب سے پہلے یہ جانتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر کیا نہیں کرنا ہے.؟

چھ باتیں ایسی ہیں جن سے مکمل اجتناب کرنا ہے.
 
سب سے پہلی بات یہ کہ پوری کوشش کرنی ہے کہ آپ کے قول و فیل میں تضاد نہ ہو
.
سورہ الصف میں ارھساد ہے کہ: 'اے ایمان والو! تم وہ باتیں کیوں کہتے ہو جو تم کرتے نہیں ہو. اللہ کے نزدیک بہت سخت ناپسندیدہ بات یہ ہے کہ تم وہ بات کہو جو خود نہیں کرتے (سورہ الصف ٢ -٣)
'
فیس بک پر ہمیں ایسی ان گنت مثالیں نظر آتی ہیں جہاں مجھ جیسے خود ساختہ دانشور اپنی تحریروں سے تو بلند و بانگ کردار کی ترغیب دیتے ہیں مگر خود ان کا عمل اپنے لکھے سے کوسوں دور ہوتا ہے.ظاہر ہے کہ ہم بشر ہیں اور بشر میں شر ہے مگر کم از کم اخلاص سے کوشش تو کرنی ہی چاہیئے کہ جو لکھیں اس پر عمل پیرا بھی ہوں. جیسا کے انبیاء اسلام کا پیغام پیش کرتے ہی یہ بھی کہتے تھے کہ میں سب سے پہلا مسلمان یعنی فرمانبردار ہوں

دوسری بات یہ کہ دعوت دین کا نام لے کر دینی حمیت و غیرت کو بھینٹ نہ چڑھایا جائے. ہم جانتے ہیں کہ فیس بک پر ایسے کئی پیجز موجود ہیں جہاں رسول ص کی کھلے عام کردار کشی کی جاتی ہے، گالیاں دی جاتی ہیں اور استہزا پر مبنی خاکے بنائے جاتے ہیں. ہمارے بہت سے بھولے بادشاہ ان پیجز پر موجود پوسٹوں پر کمنٹس کرتے ہیں. اس نیت سے کہ وہ ان کے اٹھائے سوالوں کے جواب دیں گے اور انہیں دین کی ترغیب دیں گے. لیکن تجربہ گواہ ہے کہ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی ملحد آپ کے عطا کردہ جواب سے مطمئن ہوگیا ہو. بلکہ ہوتا یہ ہے کہ مستقل ایسے ماحول کی پوسٹوں کو دیکھنے کی وجہ سے ایک عام مسلمان کے دل میں بھی کجی آنے لگتی ہے. آھستہ آہستہ یہ دکھ بھی مٹنے لگتا ہے کہ یہاں رسول ص اور رب پاک کی کھلی تکذیب و تذلیل کی جارہی ہے. خوب جان لیں کہ ایسی کمیونٹیز میں جانا ہرگز دین کی منشاء نہیں. اگر کوئی واقعی جوابات جاننا چاہتا ہے اور آپ علم رکھتے ہیں تو اس سے پرائیویٹ گفتگو پر رضامند کیجیئے اور اسے اسکائپ پر بلالیجیئے. سورہ النساء کی یہ آیت ملاحظہ ہو

 اور خدا نے تم (مومنوں) پر اپنی کتاب میں (یہ حکم) نازل فرمایا ہے کہ جب تم (کہیں) سنو کہ خدا کی آیتوں سے انکار ہورہا ہے اور ان کی ہنسی اڑائی جاتی ہے تو جب تک وہ لوگ اور باتیں (نہ) کرنے لگیں۔ ان کے پاس مت بیٹھو۔ ورنہ تم بھی انہیں جیسے ہوجاؤ گے۔ کچھ شک نہیں کہ خدا منافقوں اور کافروں سب کو دوزخ میں اکھٹا کرنے والا ہے (سورہ النساء ١٤٠)

تیسری بات یہ کہ دعوت دین دیتے ہوئے تذلیل نہیں کی جاتی اگر کوئی گندی زبان استمعال کررہا ہے تو جواب میں آپ ناشائستہ گفتگو نہیں کرسکتے.ہماری اکثریت کا حال یہ ہے کہ وہ ملحدین سے یا قادیانیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کے خودساختہ غلط عقیدوں کو گالی دینے لگتے ہیں جو صریح طور پر اسلام کے خلاف ہے. یاد رکھیں گالی صرف ماں بہن کی نہیں ہوتی بلکہ مذھبی بھی ہوتی ہیں

 اور خبردار تم لوگ انہیں برا بھلا نہ کہو جن کو یہ لوگ خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہیں کہ اس طرح یہ دشمنی میں بغیر سمجھے بوجھے خدا کو برا بھلا کہیں گے ہم نے اسی طرح ہر قوم کے لئے اس کے عمل کو آراستہ کردیا ہے اس کے بعد سب کی بازگشت پروردگار ہی کی بارگاہ میں ہے اور وہی سب کو ان کے اعمال کے بارے میں باخبر کرے گا (سورہ الانعام ١٠٨)

چوتھی بات یہ کہ ہم نے داروغہ نہیں بننا ہے پولیس میں نہیں بننا ہے بلکہ شائستگی سے پیغام پہنچانا ہے. اگر دوران گفتگو احساس ہوجائے کہ مخاطب کی بات درست ہے تو لپک کر قبول کرلیں اگر لگے کہ مخاطب کی رائے غلط ہے مگر پھر بھی اگر اپنی رائے پر مصر ہے تو ہرگز بدتمیزی نہ کریں بلکہ مکالمہ احسن انداز سے ختم کر دیں کہ پہنچانے کا کام ہوگیا

پانچویں بات یہ کہ تکبر سے بچا جائے. فیس بک پر علم کے تکبر سے لے کر تقویٰ پر استکبار تک نظر آتا ہے. اگر اللہ نے آپ کو لکھنے کی صلاحیت دی ہے تو اس کا استمعال انکسار سے کیجیئے ، اپنی برائیاں نہ مارییئے، مثل فرعون نہ بن جایئے

اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْــتَالًا فَخُــوْرَۨا 36؀ۙ [04/36]
بیشک خدا تکبر کرنے والے بڑائی مارنے والے کو دوست نہیں رکھتا۔

چھٹی بات یہ کہ دین کی ترویج کیلئے جھوٹ کی بیساکھی نہ لیجیئے. یہ لڑکیوں کی آئی ڈی بنا کر اسلامی تحریریں لکھنا کہ دین کی ترویج کر رہا ہوں ، شیطانی دھوکے کے سوا اور کچھ نہیں

ایک وقت تھا جب جعلی آئی ڈی بنانا کسی شہوت پرست کا ہی کام سمجھا جاتا تھا مگر اب حال یہ ہے کہ بیشمار لمبی داڑھی والے صاحبان فیس بک پر "مما پاپا کی لاڈلی" بنے بیٹھے ہیں. طرہ یہ ہے کہ اس برقی جنسی تبدیلی کو مذہبی جواز دے کر طرح طرح کی تاویلیں بھی گھڑ لیتے ہیں. جیسے خواتین کی شناخت سے شائع کردہ دینی پوسٹوں کو لوگ زیادہ لائیک کرتے ہیں اور اس طرح دین کا پیغام زیادہ پھیلتا ہے. بہت معزرت کیساتھ مگر پھر ایک نیم برہنہ تصویر بھی لگا لیجیئے ، اس سے اور بھی لوگ آپ کی 'مذہبی' پوسٹیں لائیک کریں گے. ایک اور جواز یہ دیا جاتا ہے کہ ہم فلاں فلاں وجہ سے اپنی حقیقی شناخت نہیں بتاسکتے، اسلئے ایسی آئی ڈی بنانی پڑتی ہے. جناب اگر یہ بات ہے تو اپنا پروفائل نام 'طالب حق' یا 'طالب علم' یا اسی کے مساوی کوئی اور نام رکھ لیجیئے. اس کے لئے آپ کو شبانہ یا رقیہ بننے کی قطعی کوئی ضرورت نہیں.
 
.عرض اتنی ہے کہ آپ بصد شوق اپنی تسکین کے لئے مخالف جنس کی آئی ڈی بنائیں اور جھوٹ کے داعی بن کر خوش ہوں مگر اسے دین، تبلیغ یا مصلحت کا نام لے کر جواز نہ دیں. آپ میں اور کسی 'بوبی ڈارلنگ' میں کوئی زیادہ فرق نہیں ہے، بس اتنا ہی کہ وہ سامنے ساڑھی پہن لیتے ہیں اور آپ انٹرنیٹ پر. پھر امکان تو یہ بھی ہے کہ برقی عورت بننے کے شوقین حقیقی زندگی میں بھی بناؤ سنگھار کرکے اور گھاگھرا چولی پہن کر آئینہ میں خود پر فدا بھی ہوتے ہوں؟

اگر جھوٹ بولنا گناہ ہے تو اسلام کا نام لے کر جھوٹ بولنا گناہ کبیر ہے. آج ہم میں سے بہت سے افراد ایسے موبائل یا سوشل میڈیا پیغامات بھیجتے نظر آتے ہیں جن میں دعویٰ کیا گیا ہوتا ہے کہ فلاں صاحب کو ایک خواب آیا جس میں اس نے فلاں مقدس شخصیت جیسے بی بی زینب رض کو دیکھا جو کہہ رہی ہیں کہ فلاں عمل اتنی بار لازمی کرو. ساتھ ہی لکھا ہوتا ہے کہ فلاں نے عمل کیا تو اسے مالی فائدہ پہنچا اور فلاں نے عمل نہ کیا تو اسے نقصان ہوگیا یا وہ کسی حادثے سے دوچار ہوگیا (استغفراللہ). کیا اس طرح کی خرافات چاہے وہ بظاہر کتنی ہی مقدس کیوں نہ نظر آئیں، لوگوں میں پھیلا کر آپ کون سے دین کی خدمت کررہے ہیں؟ کیا اسلام کا پیغام معاذ اللہ اتنا اپاہج ہے کہ اسے پہنچانے کیلئے ان کہانیوں کا سہارا لینا پڑے؟ صحیح مسلم میں میرے نبی ص نے کی ایک حدیث کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ ” کسی کے جھوٹا ہونے کیلئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ کوئی بات سُنے اور بغیر تصدیق کے آگے بیان کر دے“۔


لکھاریوں کی تحریر پر تعریف کے ڈونگرے برسانا ممنوع ہے.

===================

اب جب یہ جان لیا کہ کیا نہیں کرنا؟ تو اب دیکھتے ہیں کہ کیا کرنا ہے؟

تین کام کرنے کے ہیں

سب سے اہم کام مسلمان کیلئے یہی ہے کہ وہ امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا اپنے دائرہ اختیار میں اہتمام کرے. لہٰذا سورہ آل عمران میں ارشاد ہوتا ہے

تم بہترین امت ہو جسے لوگوں کے لئے منظر عام پر لایا گیا ہے تم لوگوں کو نیکیوں کا حکم دیتے ہو اور برائیوں سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکہتے ہو .. (سورہ آل عمران ١١٠)

آج کل مذہبی حلقوں میں ایک جملے بہت مقبول ہے کہ
 "دوسرے کے عقیدہ کو چھیڑو نہیں .. اور اپنا عقیدہ چھوڑو نہیں"
 .
 مجھے تو یہ جملہ قرانی پیغام کی سراسر مخالفت نظر آتا ہے. اسلام میں تو 'مائنڈ یور اون بزنس' کی اپروچ نہیں سکھائی گئی. بحیثیت مسلمان اور مومن اگر مجھ پر کوئی حق ثابت ہو جاتا ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ میرا بھائی اس حق کے خلاف عقیدہ اپنائے ہوئے ہے تو مجھ پر فرض ہے کہ میں محبت اور احسن طریق سے اس کے عقیدہ کی اصلاح کی کوشش کروں. ٹھیک اسی طرح اگر مجھے اپنے عقیدہ کے برخلاف کوئی برتر حق معلوم ہوجاتا ہے تو مجھ پر فرض ہے کہ میں اپنا عقیدہ فوری چھوڑ کر اس برتر حق کو اپنا عقیدہ بنالوں. احتیاط بس اتنی کرنی ہے کہ ہمارا کام پیغام کو احسن طریق سے پہنچانا ہے اور ہر وقت حق کو قبول کرنے کیلئے راضی رہنا ہے. اگر اس کے باوجود اختلاف موجود رہتا ہے تو نفرت نہیں کرنی، تکفیری انداز نہیں اپنانا بلکہ بھائی سمجھ کر کوشش جاری رکھنی ہے

دوسرا اہم ترین کام یہ ہے کہ انکسار و اخلاص سے اور کسی فرقے کی شناخت اپنائے دعوت دین کا اہتمام کریں
جیسا کے سورہ الفصلت میں ارشاد ہے کہ

اور اس شخص سے بات کا اچھا کون ہوسکتا ہے جو خدا کی طرف بلائے اور عمل نیک کرے اور کہے کہ میں مسلمان ہوں

تیسرا کام اس وقت کرنے کا ہے جب دیکھو کہ دو مسلمان بھائیوں میں چپقلش ہوگئی ہے
.
 اور اگر مومنوں میں سے کوئی دو فریق آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں صلح کرا دو۔ اور اگر ایک فریق دوسرے پر زیادتی کرے تو زیادتی کرنے والے سے لڑو یہاں تک کہ وہ خدا کے حکم کی طرف رجوع لائے۔ پس جب وہ رجوع لائے تو وہ دونوں فریق میں مساوات کے ساتھ صلح کرا دو اور انصاف سے کام لو۔ کہ خدا انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے. مومن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ تو اپنے دو بھائیوں میں صلح کرادیا کرو۔ اور خدا سے ڈرتے رہو تاکہ تم پر رحمت کی جائے (سورہ  الحجرات ٩ -
١٠
افسوس کے ہمارے ہاں تو باقاعدہ چٹخارہ لیا جاتا ہےاور جملے کسے جاتے ہیں

چوتھا کام یہ ہے کہ لوگوں میں امید پیدا کی جائے. تنقید بھی تعمیری انداز (کنسترکٹو کرٹسزم) میں ہو جسے سن کر انسان میں اپنی اصلاح کا جذبہ پیدا ہو ، یہ نہ ہو کہ وہ مایوسی کی دلدل میں جاگرے



===================


اب جب یہ واضح ہو گیا کہ کیا نہیں کرنا،اور کیا کرنا ہے؟ تو اب یہ بھی جان لیتے ہیں کہ کیسے کرنا ہے؟

کوئی بھی تحریر پوسٹ کرنے یا مکالمہ کا آغاز کرنے سے پہلے اپنی نیت کی تجدید کریں. صحیح بخاری اور صحیح مسلم دونوں کی پہلی حدیث یہی ہے کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے. نیت کی تجدید کریں کہ اس پوسٹ یا جواب سے مراد واہ  واہ سمیٹنا نہیں ہے

دوسری عملی بات اور مکالمہ کا پہلا اصول حکمت اور تہذیب سے مخاطب ہونا ہے. سورہ النحل میں ارشاد ہوتا ہے

 لوگوں کو دانش اور نیک نصیحت سے اپنے پروردگار کے رستے کی طرف بلاؤ۔ اور بہت ہی اچھے طریق سے ان سے مناظرہ کرو۔ جو اس کے رستے سے بھٹک گیا تمہارا پروردگار اسے بھی خوب جانتا ہے اور جو رستے پر چلنے والے ہیں ان سے بھی خوب واقف ہے (سورہ النحل ١٢٥)

اب تو حال یہ ہے کہ جب تک مناظرہ میں متکلم کے منہ سے جھاگ نہ نکل رہا ہو تب تک وہ مناظرہ لگتا ہی نہیں ہے
مکالمہ کی بنیاد اور ابتدا مشترک عقائد اور باتوں سے کیجیئے
سورہ آل عمران میں بیان ہوا

کہہ دو کہ اے اہل کتاب جو بات ہمارے اور تمہارے دونوں کے درمیان یکساں (تسلیم کی گئی) ہے

جب یکساں باتوں پر گفتگو کرلیں گے تو اختلافی باتیں یا تو ختم ہو جائیں گی یا برداشت پیدا ہو جائے گی. پھر ایک دوسرے کی بات کو سمجھنا اور قبول کرنا کہیں آسان ہوگا

چوتھی بات اسی آیت کے دوسرے حصے میں بیان ہوئی اور وہ کہ ہمیشہ گفتگو میں ترتیب کو ملحوظ رکھا جائے

 کہہ دو کہ اے اہل کتاب جو بات ہمارے اور تمہارے دونوں کے درمیان یکساں (تسلیم کی گئی) ہے اس کی طرف آؤ وہ یہ کہ خدا کے سوا ہم کسی کی عبادت نہ کریں اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بنائیں اور ہم میں سے کوئی کسی کو خدا کے سوا اپنا کار ساز نہ سمجھے اگر یہ لوگ (اس بات کو) نہ مانیں تو (ان سے) کہہ دو کہ تم گواہ رہو کہ ہم (خدا کے) فرماں بردار ہیں سورہ آل عمران
3:64
ایک شخص خدا کو نہیں مانتا اور آپ اسے حضرت عائشہ رض کی عمر سمجھا رہے ہیں یا یہ بتا رہے ہیں کہ قران میں ڈائنو سار کیوں ذکر نہیں ہوئے
یہ کبھی نتیجہ خیز نہیں ہوگا

پانچویں بات یہ کہ اپنی بات دلیل سے کرنی ہےاور مخاطب سے بھی دلیل ہی کا تقاضا کرنا ہے

 یہ تو محض نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے ان کو دے رکھے ہیں۔ اللہ نے ان کی تائید میں کوئی غالب دلیل نہیں اُتاری۔ وہ محض ظن کی پیروی کررہے ہیں اور اُس کی جو نفس چاہتے ہیں۔ جبکہ اُن کے ربّ کی طرف سے یقیناً اُن کے پاس ہدایت آچکی ہے۔ (سورہ النجم ٢٤)

دین کے معاملے میں دلیل کا مطلب نصوص سے گفتگو کرنا ہے، جیسے سورہ القصص میں ارشاد ہوا

 کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو تم خدا کے پاس سے کوئی کتاب لے آؤ جو ان دونوں (کتابوں) سے بڑھ کر ہدایت کرنے والی ہو۔ تاکہ میں بھی اسی کی پیروی کروں (سورہ القصص ٤٩)

اگر کوئی شخص جذبات سے مغلوب جاہل ہے اور بدتمیزی سے بات کو سمجھنا ہی نہیں چاہتا بلکہ صرف جیتنا چاہتا ہے تو اس سے بحث ڈر بحث نہیں کرنی بلکہ اسے سلامتی کی دعا دے کر جدا ہوجانا ہے

 اور خدا کے بندے تو وہ ہیں جو زمین پر آہستگی سے چلتے ہیں اور جب جاہل لوگ ان سے (جاہلانہ) گفتگو کرتے ہیں تو سلام کہتے ہیں (سورہ الفرقان ٦٣)

ساتویں اور آخری اہم ترین بات یہ کہ دعوت محبت کے بنا نہیں دی جاسکتی. لازمی ہے کہ آپ اپنے مختبین کیلئے دل میں محبت محسوس کریں اور ان کی فلاح کیلئے دل سے دعا گو ہوں

"اللہ کی رحمت کے باعث آپ ان پر نرم دل ہیں اور اگر آپ ترش رو اور سخت دل ہوتے تو یہ سب آپ کے پاس سے چھٹ جاتے ۔سو آپ ان سے در گزر کریں اور ان کے لیے استغفار کریں ۔ "(سورہ ِ آل ِ عمران ، آیت نمبر 159)

٠ امت کیلئے رونا
"پس اگر یہ لوگ اس بات پر ایمان نہ لائیں تو کیا آپ ان کے پیچھے اسی رنج میں اپنی جان ہلاک کر ڈالیں گے ۔"(سورۃ الکہف ، آیت نمبر 6)

طالبعلمی کے دور میں ایک شعر پڑھا کرتے تھے. آج پھر یاد  آرہا ہے

چشم ساقی کی عنایات پر پابندی ہے
ان دنوں وقت پر حالات پر پابندی ہے

ہر محفل میں ہر چیز پر ہر بات پر پابندی ہے
باطل پر اطلاق حق آفات پر پابندی ہے

اور اتنی دیر میں جو دل کا حال بول دیا
یہ گھڑی کہہ رہی ہے اوقات کی پابندی ہے

میری گفتگو کا وقت تجاورز کرگیا. اجازت لیتا ہوں اس دعا کے ساتھ کہ جو حق کہا ہو وہ آپ کے کردار میں راسخ ہو جائے اور جو غلطی کی ہو وہ آپ کی یادداشت سے محو ہوجائے. اور یہ بھی کہ الله آپ کو خیر عطا فرمائیں اور ہمیشہ آپ کی ذات سے خیر کا صدور فرمائیں. آمین

وآخر دعوانا الحمدللہ رب العالمین

===================

٠ تورات یا انجیل یا کوئی اور دلیل

اگر تم سچ کہہ رہے ہو تو اس کی دلیل پیش کرو (111:2)

٠ نصوص سے گفتگو ہو

کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو تم خدا کے پاس سے کوئی کتاب لے آؤ جو ان دونوں (کتابوں) سے بڑھ کر ہدایت کرنے والی ہو۔ تاکہ میں بھی اسی کی پیروی کروں (سورہ القصص ٤٩)

٠ظن کی پیروی نہ کرو

یہ تو محض نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے ان کو دے رکھے ہیں۔ اللہ نے ان کی تائید میں کوئی غالب دلیل نہیں اُتاری۔ وہ محض ظن کی پیروی کررہے ہیں اور اُس کی جو نفس چاہتے ہیں۔ جبکہ اُن کے ربّ کی طرف سے یقیناً اُن کے پاس ہدایت آچکی ہے۔ (سورہ النجم ٢٤)

٠ داروغہ نہ بنو بات پہنچاؤ ہدایت صرف اللہ کے ہاتھ میں

آپ(ص) کے ذمہ صرف پیغام پہنچانا ھے اورحساب لینا ھماری ذمہ داری ھے" (الرعد#۴۰)
تمہارا پروردگار تم سے خوب واقف ہے۔ اگر چاہے تو تم پر رحم کرے یا اگر چاہے تو تمہیں عذاب دے۔ اور ہم نے تم کو ان پر داروغہ (بنا کر) نہیں بھیجا (الاسراء ٥٤)

٠ دو مسلمانوں میں صلح کرواؤ

اور اگر مومنوں میں سے کوئی دو فریق آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں صلح کرا دو۔ اور اگر ایک فریق دوسرے پر زیادتی کرے تو زیادتی کرنے والے سے لڑو یہاں تک کہ وہ خدا کے حکم کی طرف رجوع لائے۔ پس جب وہ رجوع لائے تو وہ دونوں فریق میں مساوات کے ساتھ صلح کرا دو اور انصاف سے کام لو۔ کہ خدا انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے. مومن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ تو اپنے دو بھائیوں میں صلح کرادیا کرو۔ اور خدا سے ڈرتے رہو تاکہ تم پر رحمت کی جائے (سورہ  الحجرات ٩ -١٠)

٠ نہی عن المنکر (کسی کو چھیڑو نہیں اپنی چھوڑو نہیں)

تم بہترین امت ہو جسے لوگوں کے لئے منظر عام پر لایا گیا ہے تم لوگوں کو نیکیوں کا حکم دیتے ہو اور برائیوں سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکہتے ہو .. (سورہ آل عمران ١١٠)

٠ جو ہم دونوں میں مشترک ہے

کہہ دو کہ اے اہل کتاب جو بات ہمارے اور تمہارے دونوں کے درمیان یکساں (تسلیم کی گئی) ہے .. سورہ آل عمران ٦٤ 3:64

٠ ترتیب میں گفتگو پہلے وجود خدا

کہہ دو کہ اے اہل کتاب جو بات ہمارے اور تمہارے دونوں کے درمیان یکساں (تسلیم کی گئی) ہے اس کی طرف آؤ وہ یہ کہ خدا کے سوا ہم کسی کی عبادت نہ کریں اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بنائیں اور ہم میں سے کوئی کسی کو خدا کے سوا اپنا کار ساز نہ سمجھے اگر یہ لوگ (اس بات کو) نہ مانیں تو (ان سے) کہہ دو کہ تم گواہ رہو کہ ہم (خدا کے) فرماں بردار ہیں سورہ آل عمران 3:64

٠ ان کے نقلی خداؤں کو برا بھلا نہ کہو

اور خبردار تم لوگ انہیں برا بھلا نہ کہو جن کو یہ لوگ خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہیں کہ اس طرح یہ دشمنی میں بغیر سمجھے بوجھے خدا کو برا بھلا کہیں گے ہم نے اسی طرح ہر قوم کے لئے اس کے عمل کو آراستہ کردیا ہے اس کے بعد سب کی بازگشت پروردگار ہی کی بارگاہ میں ہے اور وہی سب کو ان کے اعمال کے بارے میں باخبر کرے گا (سورہ الانعام ١٠٨)

٠ جو کہتے ہو کرتے نہیں

اے ایمان والو! تم وہ باتیں کیوں کہتے ہو جو تم کرتے نہیں ہو. اللہ کے نزدیک بہت سخت ناپسندیدہ بات یہ ہے کہ تم وہ بات کہو جو خود نہیں کرتے (سورہ الصف ٢ -٣)

٠ احسن انداز میں گفتگو کرو اُدعُ الیٰ سبیل ربک بالحکمہ

 لوگوں کو دانش اور نیک نصیحت سے اپنے پروردگار کے رستے کی طرف بلاؤ۔ اور بہت ہی اچھے طریق سے ان سے مناظرہ کرو۔ جو اس کے رستے سے بھٹک گیا تمہارا پروردگار اسے بھی خوب جانتا ہے اور جو رستے پر چلنے والے ہیں ان سے بھی خوب واقف ہے (سورہ النحل ١٢٥)

٠. جاہل کو سلام

اور خدا کے بندے تو وہ ہیں جو زمین پر آہستگی سے چلتے ہیں اور جب جاہل لوگ ان سے (جاہلانہ) گفتگو کرتے ہیں تو سلام کہتے ہیں (سورہ الفرقان ٦٣)

٠ اس محفل میں نہ بیٹھو جہاں مذاق اڑایا جائے

اور خدا نے تم (مومنوں) پر اپنی کتاب میں (یہ حکم) نازل فرمایا ہے کہ جب تم (کہیں) سنو کہ خدا کی آیتوں سے انکار ہورہا ہے اور ان کی ہنسی اڑائی جاتی ہے تو جب تک وہ لوگ اور باتیں (نہ) کرنے لگیں۔ ان کے پاس مت بیٹھو۔ ورنہ تم بھی انہیں جیسے ہوجاؤ گے۔ کچھ شک نہیں کہ خدا منافقوں اور کافروں سب کو دوزخ میں اکھٹا کرنے والا ہے (سورہ النساء ١٤٠)

٠ محبت سے دعوت

"اللہ کی رحمت کے باعث آپ ان پر نرم دل ہیں اور اگر آپ ترش رو اور سخت دل ہوتے تو یہ سب آپ کے پاس سے چھٹ جاتے ۔سو آپ ان سے در گزر کریں اور ان کے لیے استغفار کریں ۔ "(سورہ ِ آل ِ عمران ، آیت نمبر 159)

٠ امت کیلئے رونا

"پس اگر یہ لوگ اس بات پر ایمان نہ لائیں تو کیا آپ ان کے پیچھے اسی رنج میں اپنی جان ہلاک کر ڈالیں گے ۔"(سورۃ الکہف ، آیت نمبر 6)