Sunday, 31 December 2017

تعارف

تعارف  

 "ڈوبتے سورج نے اہل زمین سے پوچھا ، "میرے بعد اس دنیا کو کون روشن کرے گا ؟

ایک ٹمٹماتا چراغ بولا ، میں کوشش کروں گا


میرا نام عظیم الرحمٰن ہے. میں نہ تو عالم ہوں نہ فاضل اور نہ ہی کوئی مستند تحقیق نگار. زبان اردو میں اگر کوئی لفظ میرا تعارف فراہم کرسکتا ہے تو وہ ہے مرکب لفظ 'طالب علم' . میں ایک معمولی طالبعلم ہوں کتاب الله قران کا اور دین الله اسلام کا

علماء کے قحط اور علمی انحطاط کے اس دور میں جب اجتہاد و تحقیق اجنبی الفاظ بن گۓ اور سوچنا جرم قرار پایا ہے. یہ امر لازم ہوگیا ہے کہ قران حکیم اور جدید علوم دونوں  سے آگاہی رکھنے والے افراد سامنے آکر یہ جائزہ لیں کہ قران پاک نئی تحقیقات کی روشنی میں کیا مطالب فراہم کر رہا ہے ؟
عبدالله ابن عباس رضی الله عنہ کو مفسر اعظم تسلیم کیا جاتا ہے، جب آپ کے انتقال کے ایام قریب تھے تو لوگوں نے استفسار کیا کہ اے عبداللہ ! آپ کے بعد کون ہمیں قران کے خزائن بتاۓ گا ؟ کون قران کی تفسیر کرے گا ؟ اس موقع پر آپ رضی الله عنہ نے وہ تاریخ ساز الفاظ کہے جو وقت اور اذہان دونوں پر ثبت ہو گئے. آپ کے فرمان کا خلاصہ ہے کہ

"قران ہر آنے والے دور میں اپنی تفسیر خود فراہم کرتا ہے"

المیہ یہ ہے کہ ہمارے علماء کی ایک کثیر تعداد نے خود کو تقلید اور تفرقے کے خول میں قید کرلیا. دنیا اور دین کے علوم میں فرق کرکے ایسی تخصیص کی کہ جدید فلسفوں سے بلکل نابلد ہو گئے. بقول اقبال

حقیقت خرافات میں کھو گئی
یہ امت روایت میں کھو گئی


یہ کوئی اتفاق نہیں ہے کہ مسلم نوجوان نسل میں مقبول اسکالروں کی اکثریت آج روایتی مدرسوں کے فارغ التحصیل نہیں ہیں. ڈاکٹر اسرار احمد سے لیکر جاوید احمد غامدی تک، ڈاکٹر ذاکر نائیک سے لے کر شیخ احمد دیدات تک، مولانا مودودی سے لیکر پرفیسر احمد رفیق تک، یاسر قاضی سے لیکر نعمان علی خان تک. یہ سب اور بہت سے مزید مقبول اشخاص جو مسلم نسل کی ذہن سازی کر رہے ہیں وہ سب جدید علوم پر دسترس رکھتے ہیں
روایتی علماء کا بدقسمتی سے یہ حال ہے کہ انہیں بخاری شریف تو زبانی یاد ہوگی، مثنوی کے دقیق نقطے تو وہ با آسانی بیان کر سکتے ہونگے مگر جدید اذہان میں پیدا ہونے والے سوالات سے وہ ربط پیدا نہیں کرسکتے. وہ نہیں جانتے کہ چارلس ڈارون ، کارل مارکس ، رچرڈ ڈاکن کون ہیں ؟ نظریہ ارتقاء کیا بلا ہے ، تھیوری آف ریلٹوٹی کس چڑیا کا نام ہے ؟ لہٰذا انکا ہتھیار یہی ہوتا ہے کہ ایسے کفریہ سوال نہ پوچھو، اسلام سے باہر ہو جاؤ گے. نتیجہ الحاد اور شکوک کی صورت میں برآمد ہوا
یہی وجہ ہے کہ مجھ جیسا احقر طالبعلم اپنی تمام تر ناقص العلمی کے اعتراف کے باوجود یہ کاوش کرنے پر مجبور ہے کہ ان جدید فلسفیانہ شکوک کے جوابات دے، دین کی گم گشتہ حکمت کو کھوجنے کی کوشش کرے اور پھر اہل علم کو اپنی اس کوشش پر علمی تنقید و اصلاح کی دعوت دے. یہ بلاگ اسی کی کڑی ہے. میری اپنے رب سے دعا ہے کہ وہ اسے قبول کرے. آمین یا رب العالمین 

===عظیم نامہ====

Monday, 12 June 2017

سورہ الحشر


سورہ الحشر


افف سورہ الحشر کی یہ آیات کس قدر پرہیبت اور طاقتورہیں.
رب العزت کے صفاتی ناموں کا جیسے ایک حسین گلدستہ ہو.
 ذرا ان درج ذیل آیات کی تلاوت و ترجمہ کو ایک بار دھیان سے پڑھیئے اور اس میں موجود ہیبت و کیفیت کو اپنے قلب میں محسوس کیجیئے. سبحان اللہ. میں نے تو نیت کرلی ہے کہ آج کل میں انہیں حفظ کرکے اپنی یاداشت کا حصہ بنالوں گا اور انہیں دہرا کر اپنے مالک سے مناجات 
کیا کروں گا. ان شاء اللہ

هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ (22)
 هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلَامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ سُبْحَانَ اللَّهِ عَمَّا يُشْرِكُونَ (23)
هُوَ اللَّهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى يُسَبِّحُ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (24)
.
 وہ اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، غائب اور ظاہر ہر چیز کا جاننے والا، وہی رحمٰن اور رحیم ہے (22)
 وہ اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ بادشاہ ہے نہایت مقدس، سراسر سلامتی، امن دینے والا، نگہبان، سب پر غالب، اپنا حکم بزور نافذ کرنے والا، اور بڑا ہی ہو کر رہنے والا پاک ہے اللہ اُس شرک سے جو لوگ کر رہے ہیں (23)
 وہ اللہ ہی ہے جو تخلیق کا منصوبہ بنانے والا اور اس کو نافذ کرنے والا اور اس کے مطابق صورت گری کرنے والا ہے اس کے لیے بہترین نام ہیں ہر چیز جو آسمانوں اور زمین میں ہے اُس کی تسبیح کر رہی ہے، اور وہ زبردست اور حکیم ہے (24)

مولوی و لبرل اور رمضان


 مولوی و لبرل



وہ مولوی پر جملے کس رہے ہیں ۔۔ یہ لبرل کا بینڈ بجا رہے ہیں
۔
وہ ان کے اکابر کی توہین کر رہے ہیں ۔۔ یہ ان کے اسکالرز کو گالی دے رہے ہیں
۔
وہ حکومتی لیڈر کو ذلیل کررہے ہیں ۔۔ یہ اپوزیشن لیڈر کی کردار کشی میں مصروف ہیں
۔ 
وہ سعودیہ کو بدمعاش کہہ رہے ہیں ۔۔ یہ ایران کو فسادی ثابت کررہے ہیں
۔ 
 غرض یہ کہ فیس بک پر رمضان المبارک کا مقدس مہینہ پورے مذہبی جوش و خروش سے منایا جارہا ہے۔ ایک عشرہ بیت چکا ہے، بس اب باقی دو عشروں میں اسی جذبے کو قائم رکھنے کی ضرورت ہے۔ لگے رہیں کہ اسی طرح کی پوسٹیں لکھنے میں آپ کی نجات پوشیدہ ہے۔ اگر مخاطب کو ذلیل کرنے والی پوسٹ نہیں لکھ سکتے تو پلیز کمنٹس میں ضرور ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالیں۔ اگر کمنٹ بھی نہیں کرسکتے تو نفرت انگیز پوسٹوں کو بڑھ چڑھ کر لائیک ضرور کریں اور یہ فیس بکی خودساختہ ایمان کا آخری درجہ ہے۔
۔
 ====عظیم نامہ====

پوچھوں گا خدا سے


پوچھوں گا خدا سے



فیس بک اسٹیٹس:
حشر کے روز میں پوچھوں گا خدا سے پہلے 
تونے روکا نہیں کیوں مجھ کو خطا سے پہلے
۔
ہمارا تبصرہ:
 اس نے تو ہمیشہ روکا۔ کبھی رسولوں کے زریعے، کبھی کتابوں کے زریعے، کبھی ضمیر کے زریعے اور کبھی فطرت سلیمہ کے زریعے۔
۔
 بس تمارے آزادی ارادہ و اختیار کو قائم رکھنے کیلئے تمہیں بندوق کے زور پر مجبور نہیں کیا۔ یہی آزادی اختیار تو انسان کو انسان بناتا ہے اور یہی تو اس دارالامتحان کی بنیاد ہے
۔
 ====عظیم نامہ====

روزمرہ کے فقہی مسائل


روزمرہ کے فقہی مسائل 


تین گھونٹ میں پانی پینا اکثر صورتوں میں اچھا ہے، مستحب ہے مگر لازمی نہیں. احادیث میں دو یا تین گھونٹ میں پانی پینے کی صراحت آئی ہے. اسی طرح بوقت ضرورت تین سے زائد گھونٹ میں پانی پینا بھی جائز ہے. گو چونکہ تعداد کو وتر کرنا احسن ہے، اسلئے بہتر ہے کہ تین، پانچ یا سات گھونٹوں میں پانی ختم کرلے. اصل ترغیب سکون و اطمینان سے پانی پینے کی ہے اور اصل ممانعت دو باتوں کی ہے، پہلی ایک گھونٹ یا ایک جھٹکے میں پانی پی جانے کی کوشش کرنا اور دوسری پانی کے برتن یا گلاس میں سانس لینا. دوسری ممانعت پر تو علماء کا اتفاق ہے مگر کچھ اہل علم نے پہلی ممانعت کی بھی اجازت دے دی ہے کہ اگر پانی کم ہو اور سکون سے ایک ہی گھونٹ میں پیا جاسکتا ہو تو یہ جائز ہے. مشاہدہ ہے کہ کچھ احباب عام سائز سے بڑے لسی کے گلاس میں بھرے پانی کو بھی زبردستی تین گھونٹوں میں ختم کرنے کی سعی کرتے ہیں اور نتیجے میں سکون سے پانی نہیں پی پاتے..
 عام طریق یہی ہے کہ بیٹھ کر پانی پیا جائے، اسی کی ترغیب دینی چاہیئے مگر اگر کسی وقت بیٹھنے کا موقع نہ مل سکے یا بیٹھنا کھڑے ہونے کے مقابلے میں سکون کے منافی ہو تو کھڑے ہوکر پانی پینا جائز ہے. رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے آب زم زم کھڑے ہو کر پیا. کچھ محققین صرف آب زم زم ہی کو کھڑے ہوکر پینا جائز کہتے ہیں. لیکن ہم تک حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ایک مستند روایت بھی پہنچی ہے، جس میں آپ نے کھڑے ہو کر پانی پیا اور حاضرین کو بتایا کہ انہوں نے یہ اسلئے کیا کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی کھڑے ہوکر پانی پی لیا کرتے تھے. حال ہی میں مولانا طارق جمیل صاحب نے وکلاء برادری سے خطاب کرتے ہوئے کھڑے ہوکرپانی پیا اور سامعین کو بتایا کہ ایسا کرنا جائز ہے. مشاہدہ ہے کہ کچھ احباب شدید اذیت میں پنجوں کے بل بیٹھ کر پانی پینے کی کوشش کرتے ہیں اور نتیجے میں پانی سکون سے نہیں پی پاتے.
.
 تمام مسلمانوں کی یہ تربیت ہے کہ پاکی کا خیال رکھنے کیلئے بیٹھ کر پیشاب کرتے ہیں. یہی عمومی سنت ہے. مگر اگر کسی خصوصی صورت میں پاکی کا کھڑے ہو کر حاصل کرنا زیادہ آسان ہو یا بیٹھ کر گندگی آنے کا زیادہ امکان ہو تو ایسے میں کھڑے ہو کر فارغ ہولینا جائز ہے. صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی متفقہ علیہ حدیث کے مطابق رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایک بار ایسا ہی کیا. اصل اہتمام گندگی سے بچنا ہے جو ظاہر ہے کہ عمومی صورتحال میں بیٹھ کر زیادہ ممکن ہے. البتہ کبھی کبھی ایسے حالات ہو جاتے ہیں جہاں بیٹھنا ممکن نہیں ہوتا جیسے شدید ضرورت میں کسی غلیظ پبلک ٹوائلٹ میں گندگی سے بچنا صرف کھڑے ہوکر ہی ممکن ہے. ظاہر ہے یہاں مخاطب مرد حضرات ہیں. 
.
 رفع حاجت سے فراغت کے بعد پانی سے طہارت حاصل کرنا احسن ہے اور اسی کا اہتمام رکھنا چاہیئے مگر یہ لازمی نہیں ہے. مثال کے طور پر آپ کسی غیر مسلم ملک میں ہیں یا کسی اور ایسی صورت میں ہیں جہاں پانی کا ٹوائلٹ میں حصول ناممکن یا مشکل ہورہا ہے اور صرف ٹائلٹ ٹشوز موجود ہیں تو ان سے بھی خود کو صاف کیا جاسکتا ہے. یہ ایسا ہی ہے جیسے لوگ دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں پتھر یا پاک مٹی کے ڈھیلے سے خود کو صاف کرلیا کرتے تھے. آپ اس کے بعد نماز بھی پڑھ سکتے ہیں یا دیگر عبادات بلکل عام حالات کی طرح کرسکتے ہیں. اصل حکم طہارت کا حصول ہے. اگر ایسی صورت درپیش ہو بہتر ہے کہ کم از کم تین بار ٹشوز استعمال کیئے جائیں. گو جیسا درج کیا کہ پانی کا استعمال پاکی کیلئے سب سے بہتر ہے اور ایک مسلم کی طبیعت طہارت کیلئے اسی کو پسند کرتی ہے. 
.
====عظیم نامہ====
.
 (نوٹ: یہ ایک طالبعلم کی ناقص سمجھ ہے جو اس نے احادیث صحیحہ اور علماء کی آراء پر قائم کی ہے. گو اس میں اختلاف کا امکان ہے)

Wednesday, 7 June 2017

تلاوت


تلاوت 



نماز کے قیام میں سورہ الفاتحہ لازمی ہے. اس کی تلاوت کے بعد جو قران حکیم پڑھا جاتا ہے، اس کے کئی طریق ہوسکتے ہیں 
.
1. آپ کوئی بھی ایک سورہ تلاوت کرلیں جیسے سورہ الاخلاص 
.
22. آپ ایک سے زائد سورتوں کی ایک ہی رکعت میں تلاوت کرلیں. یہ سورتیں دو، تین، چار یا اس سے بھی زائد ہوسکتی ہیں. جیسے سورہ الکافرون، سورہ الاخلاص، سورہ الفلق اور سورہ الناس ایک ساتھ.
.
3.  تلاوت میں سورتوں کی ترتیب اگر قران حکیم کے موجودہ نظم کے مطابق ہو تو احسن ہے مگر اگر ترتیب آگے پیچھے ہو جائے جیسے سورہ الناس پہلے پڑھ لی اور سورہ الکوثر بعد میں تب بھی نماز میں ان شاء اللہ کوئی نقص نہ آئے گا. یہ بھی سنت سے ثابت ہے. بہتر ہے کہ اسے مستقل عادت نہ بنائیں.
.
4. آپ سورہ کی تلاوت کرنے کے بجائے کوئی تین یا زائد آیات کی بھی تلاوت کرسکتے ہیں جو حجم میں قران حکیم کی مختصر ترین سورت یعنی او سورہ الکوثر یا سورہ العصر کے برابر یا زیادہ ہو.
.
5. اگر طویل ہو تو آپ ایک آیت بھی تلاوت کرسکتے ہیں جیسے آیت الکرسی 
.
66. اگر ایک ہی سورہ دونوں رکعات میں پڑھی تب بھی نماز ہو جائے گی. گو کچھ کے نزدیک فرض نماز میں بناء عذر ایک ہی سورت کی تمام رکعات میں تلاوت مکروہ ہے اور فرض کے علاوہ نمازوں میں مکروہ نہیں ہے. یاد رہے کہ کسی بات کا مکروہ ہونا ایک بات ہے اور حرام ہونا دوسری بات 
.
77. اگر کسی ایک سورہ جیسے سورہ الاخلاص سے آپ کو شدید دلی لگاؤ ہے تو آپ اسے اکثر یا ہمیشہ دیگر سورتوں کی تلاوت کے ساتھ شامل کرسکتے ہیں. احادیث میں ایک واقعہ ایسا موجود ہے جس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی رض کے ہمیشہ سورہ الاخلاص دیگر سورتوں کی تلاوت سے قبل پڑھنے کو منع نہیں کیا. گو ایسا کرنا نہ سنت ہے اور نہ ہی صحابہ کے اجتماعی عمل سے ظاہر ہے. 
.
واللہ اعلم بلصوب 
.
====عظیم نامہ====
.
 (میں ناقص العلم انسان ہوں اور اس پوسٹ کو فقط دین کے ایک طالبعلم کا فہم سمجھا جائے.)

Monday, 5 June 2017

ایجوکیشنل اور جاب کیرئیر



ایجوکیشنل اور جاب کیرئیر


اپنے ایجوکیشنل اور جاب کیرئیر کے متعلق زندگی میں ہر شخص کئی اہم فیصلے کیا کرتا ہے. یہ فیصلے اگر جلد بازی اور حماقت پر مبنی ہوں یا دور اندیشی سے خالی ہوں تو عمر بھر کا پچھتاوہ بن کر رہ جاتے ہیں. گویا دیگر عوامل کے ساتھ راقم کی دانست میں اس امر کا دھیان رکھنا بھی نہایت اہم ہے کہ عمر کے کس حصے میں آپ کون سا فیصلہ کرنے جارہے ہیں؟ دوسرے الفاظ میں ہر عمر کے کچھ تقاضے اور کچھ قیود ہوا کرتی ہیں. انہیں نظر انداز کر کے کوئی اقدام کرنا اکثر عقلمندی ثابت نہیں ہوتا. کون سے عمر کے حصے میں کون سے فیصلے کیئے جاسکتے ہیں؟ اس ضمن میں ظاہر ہے کہ نہ ہی کوئی حتمی بات کہی جاسکتی ہے اور نہ ہی کوئی قطعی فارمولہ تیار ہوسکتا ہے. البتہ تجربہ اور مشاہدے کی بنیاد پر کچھ محتاط اندازے ضرور قائم ہوسکتے ہیں، کچھ گزارشات ضرور رکھی جاسکتی ہیں. اسی بات کو ملحوظ رکھتے ہوئے ہمارا خیال کچھ یوں ہے 

.
 کم و بیش پچیس برس تک کی عمر تعلیم حاصل کرنے کیلئے ہے. ساتھ ہی کچھ پارٹ ٹائم کام بھی کیا جائے جو اپنی حقیقت میں حاصل کردہ تعلیم ہی کے اردگرد گھومتا ہو. اس دور میں کسی بھی کاروبار یا نوکری کی حیثیت ثانوی رہنی چاہیئے اور مرکزی حیثیت زندگی میں بہترین تعلیم و تربیت کا حصول ہونا چاہیئے. 
.
 کم و بیش پچیس سے تیس برس کی عمر بے خوفی سے تجربات کی ہے. ان پانچ برسوں میں آپ بڑے بڑے تجربے کر سکتے ہیں. جیسے اپنا ملک چھوڑ کر کسی دوسرے ملک جانا یا ایک کیرئیر چھوڑ کر دوسرے بلکل نئے کیرئیر میں چلے جانا وغیرہ
.
 کم و بیش تیس سے چالیس کی عمر محتاط طریق سے راستہ بنانے کی ہے. اس میں بڑے تجربات کے آپ شائد متحمل نہ ہوسکیں مگر وہ چھوٹے تجربات جو کیرئیر میں معاون ثابت ہوسکتے ہوں، انہیں اختیار کرسکتے ہیں. جیسے ایک ہی کیرئیر میں رہتے ہوئے تگڑی تنخواہ کیلئے کمپنیاں بدلتے رہنا یا ایک ہی کمپنی میں سیکھنے کیلئے رول اور ڈیپارٹمنٹ بدل لینا یا پھر جاب کے ساتھ ایسے کورسز کرنا جو ترقی کی راہ ہموار کرسکیں 
.
 کم و بیش چالیس برس کی عمر سے لے کر ریٹائرمنٹ تک آپ کو اب ایک ایسی پوزیشن پر ہونا چاہیئے، جس پر قائم رہتے ہوئے آپ آھستہ آھستہ خودرو پودے کی طرح ترقی کرتے رہیں. اس عمر میں بڑے تجربات کرنا اپنی زندگی سے جوا کھیلنے کے مترادف ہے، جس میں کبھی کامیابی اور اکثر مات ہوتی ہے. 
.
 جیسے پہلے ہی عرض کیا کہ یہ فقط محتاط اندازے ہیں کوئی حتمی فارمولہ نہیں. مگر شائد انہیں دھیان میں رکھ کر انسان اپنے کیرئیر میں جذبات کو کسی حد تک عقل کی لگام ڈال سکتا ہے. ایسے افراد کی کمی نہیں جو ایک مناسب نوکری اور زندگی ہونے کے باوجود چالیس پینتالیس برس کی عمر میں قسمت آزمانے یورپ آجاتے ہیں اور خود کو برباد کرلیتے ہیں. 
.
 ====عظیم نامہ====